80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 80:1

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

ف 8 تیوری چڑھائی اور منہ موڑ ا

8 آنحضرت ﷺ بعض سرداران قریش کو مذہب اسلام کے متعلق کچھ سمجھا رہے تھے، اتنے میں ایک نابینا مسلمان (جن کو ابن ام مکتوم کہتے ہیں) حاضر خدمت ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ فلاں آیت کیونکر ہے یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے اس میں سے کچھ سکھائیے جو اللہ نے آپ ﷺ کو سکھلایا ہے۔ حضرت ﷺ کو ان کا بےوقت کا پوچھنا گراں گزرا۔ آپ ﷺ کو خیال ہوا ہوگا کہ میں ایک بڑے مہم کام میں مشغول ہوں۔ قریش کے یہ بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے۔ ابن ام مکتوم بہرحال مسلمان ہے اس کو سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے کے ہزار مواقع حاصل ہیں، اس کو دکھائی نہیں دیتا کہ میرے پاس ایسے با اثر اور بارسوخ لوگ بیٹھے ہیں جن کو اگر ہدایت ہوجائے تو ہزاروں اشخاص ہدایت پر آسکتے ہیں، میں ان کو سمجھا رہا ہوں، یہ اپنی کہتا چلا جاتا ہے۔ اتنا بھی نہیں سمجھتا کہ اگر ان لوگوں کی طرف ہٹ کر گوشہ التفات اس کی طرف کروں گا تو ان لوگوں پر کس قدر شاق ہوگا۔ شاید پھر وہ میری بات سننا بھی پسند نہ کریں۔ غرض آپ ﷺ منقبض ہوئے اور انقباض کے آثار چہرے پر ظاہر ہونے لگے۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ روایات میں ہے کہ اس کے بعد جب وہ نابینا آپ ﷺ کی خدمت میں آتے، آپ ﷺ بہت تعظیم و تکریم سے پیش آتے اور فرماتے " مرحبابمن عاتبنی فیہ ربی "۔
Ayah 80:2

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

اس بات سے کہ آیا اس کے پاس اندھا9

9 یعنی پیغمبر نے ایک اندھے کے آنے پر چیں بجبیں ہو کر منہ پھیرلیا۔ حالانکہ اس کو اندھے کی معذوری، شکستہ حالی اور طلب صاق کا لحاظ زیادہ کرنا چاہیے تھا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ کلام گویا اوروں کے سامنے گلہ ہے رسول کا (اسی لئے بصیغہ غائب ذکر کیا) آگے خود رسول کو خطاب فرمایا ہے۔ " اور محقیقن کہتے ہیں کہ یہ غایت تکرم و استحیاء متکلم کا، اور غایت کرامت مخاطب کی ہے کہ عتاب کے وقت بھی رو در رو اس امر کی نسبت آپ ﷺ کی طرف نہیں فرمائی اور آگے خطاب کا صیغہ بطور التفات کے اس لئے اختیار کیا کہ شبہ اعراض کا نہ ہو۔ نیز وہ مضمون پہلے مضمون سے ہلکا ہے واللہ اعلم۔
Ayahs 80:3–4

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

اور تجھ کو کیا خبر ہے شاید کہ وہ سنورتا

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا سوچتا تو کام آتا اس کے سمجھانا10

10 یعنی وہ اندھا طالب صادق تھا۔ تمہیں کیا معلوم کہ تمہارے فیض توجہ سے اس کا حال سنور جاتا اور اس کا نفس مزکی ہوجاتا۔ یا تمہاری کوئی بات کان میں پڑتی، اس کو اخلاص سے سوچتا سمجھتا اور آخر وہ بات کسی وقت اس کے کام آجاتی۔
Ayahs 80:5–7

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

وہ جو پروا نہیں کرتا

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

سو تو اس کی فکر میں ہے

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

اور تجھ پر کچھ الزام نہیں کہ وہ نہیں درست ہوتا11

11 یعنی جو لوگ اپنے غرور اور شیخی سے حق کی پروا نہیں کرتے اور ان کا تکبر اجازت نہیں دیتا کہ اللہ و رسول کے سامنے جھکیں آپ ﷺ ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ یہ کسی طرح مسلمان ہوجائیں تاکہ ان کے اسلام کا اثر دوسروں پر پڑے۔ حالانکہ اللہ کی طرف سے آپ ﷺ پر کوئی الزام نہیں کہ یہ مغرور اور شیخی باز آپ ﷺ کی ہدایت سے درست کیوں نہ ہوئے۔ آپ ﷺ کا فرض دعوت و تبلیغ کا تھا، وہ ادا کرچکے اور کر رہے ہیں۔ آگے ان لا پروا متکبروں کی فکر میں اس قدر انہماک کی ضرورت نہیں کہ سچے طالب اور مخلص ایماندار توجہ سے محروم ہونے لگیں۔ یا معاملہ کی ظاہری سطح دیکھ کر بےسوچے سمجھے لوگوں میں یہ خیال پیدا ہوجائے کہ پیغمبر صاحب کی توجہ امیروں اور تونگروں کی طرف زیادہ ہے۔ شکستہ حال غریبوں کی طرف نہیں اس مہمل خیال کے پھیلنے سے جو ضرر دعوت اسلام کے کام کو پہنچ سکتا ہے، وہ اس نفع سے کہیں بڑھ کر ہے جس کی ان چند متکبرین کے مسلمان ہونے سے توقع کی جاسکتی ہے۔
Ayahs 80:8–9

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

اور وہ جو آیا تیرے پاس دوڑتا

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور وہ ڈرتا ہے1

1 یعنی اللہ سے ڈرتا ہے یا ڈر لگا ہے کہ آپ ﷺ کی ملاقات میسر ہو یا نہ ہو۔ پھر اندھا ہے کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ اندیشہ ہے کہیں راستہ میں ٹھوکر لگے یا کسی چیز سے ٹکرا جائے یا یہ سمجھ کر کہ آپ ﷺ کے پاس جا رہا ہے دشمن ستانے لگیں۔
Ayah 80:10

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

سو تو اس سے تغافل کرتا ہے2

2 حالانکہ ایسے ہی لوگوں سے امید ہوسکتی ہے کہ ہدایت سے منتفع ہوں گے۔ اور اسلام کے کام آئیں گے۔ کہتے ہیں کہ یہ ہی نابینا بزرگ زرہ پہنے اور جھنڈا ہاتھ میں لئے جنگ قادسیہ میں شریک تھے۔ آخر اسی معرکہ میں شہید ہوئے۔ ؓ ۔
Ayahs 80:11–12

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

یوں نہیں یہ تو نصیحت ہے

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

پھر جو کوئی چاہے اس کو پڑھے3

3 یعنی متکبر اغنیاء اگر قرآن کو نہ پڑھیں اور اس نصیحت پر کان نہ دھریں تو اپنا ہی برا کریں گے۔ قرآن کو ان کی کچھ پروا نہیں۔ نہ آپ کو اس درجہ ان کے درپے ہونے کی ضرورت ہے۔ ایک عام نصیحت تھی سو کردی گئی جو اپنا فائدہ چاہے اس کو پرکھے اور سمجھے۔
Ayahs 80:13–15

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

لکھا ہے عزت کے ورقوں میں

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

اونچے رکھے ہوئے

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

نہایت ستھرے4 ہاتھوں میں لکھنے والوں کے

4 یعنی کیا ان مغرور سر پھروں کے ماننے سے قرآن کی عزت و وقعت ہوگئی ؟ قرآن تو وہ ہے جس کی آیتیں آسمان کے اوپر نہایت معزز، بلند مرتبہ اور صاف ستھرے ورقوں میں لکھی ہوئی ہیں اور زمین پر مخلص ایماندار بھی اس کے اوراق نہایت عزت و احترام اور تقدیس و تطہیر کے ساتھ اونچی جگہ رکھتے ہیں۔
Ayah 80:16

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

جو بڑے درجہ والے نیک کار ہیں5

5 یعنی وہاں فرشتے اس کو لکھتے ہیں اسی کے موافق وحی اترتی ہے۔ اور یہاں بھی اوراق میں لکھنے اور جمع کرنے والے دنیا کے بزرگ ترین پاکباز نیکوکار اور فرشتہ خصلت بندے ہیں جنہوں نے ہر قسم کی کمی بیشی اور تحریف و تبدیل سے اس کو پاک رکھا ہے۔
Ayah 80:17

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

مارا جائیو آدمی کیسا ناشکرا ہے6

6 یعنی قرآن جیسی نعمت عظمیٰ کی کچھ قدر نہ کی اور اللہ کا حق کچھ نہ پہچانا۔
Ayahs 80:18–19

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

کس چیز سے بنایا اس کو

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

ایک بوند سے7 بنایا اس کو پھر اندازہ پر رکھا اس کو8

7 یعنی ذرا اپنی اصل پر تو غور کیا ہوتا کہ وہ پیدا کس چیز سے ہوا ہے۔ ایک ناچیز اور بےقدر قطرہ آب سے جس میں حس و شعور، حسن و جمال اور عقل و ادراک کچھ نہ تھا۔ سب کچھ اللہ نے اپنی مہربانی سے عطا فرمایا۔ جس کی حقیقت کل اتنی ہو کیا اسے یہ طمطراق زیبا ہے کہ خالق و منعم حقیقی ایسی عظیم الشان نصیحت اتارے اور یہ بےشرم اپنی اصل حقیقت اور مالک کی سب نعمتوں کو فراموش کر کے اس کی کچھ پروا نہ کرے۔ اور احسان فراموش ! کچھ تو شرمایا ہوتا۔ 8 یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ سب اعضاء وقویٰ ایک خاص اسلوب اور اندازے سے رکھے۔ کوئی چیزیوں ہی بےتکی اور بےڈھنگی خلاف حکمت نہیں رکھ دی۔
Ayah 80:20

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر راہ آسان کردی اس کی9

9 یعنی ایمان و کفر اور بھلے برے کی سمجھ دی یا ماں کے پیٹ میں سے نکالا آسانی سے۔
Ayah 80:21

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اس کو مردہ کیا پھر قبر میں رکھوا دیا اس کو10

10 یعنی مرنے کے بعد اس کی لاش کو قبر میں رکھنے کی ہدایت کردی۔ تاکہ زندوں کے سامنے یوں ہی بےحرمت نہ ہو۔
Ayah 80:22

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر جب چاہا اٹھا نکالا اس کو11

11 یعنی جس نے ایک مرتبہ جلایا اور مارا۔ اسی کو اختیار ہے کہ جب چاہے دوبارہ زندہ کر کے قبر سے نکالے۔ کیونکہ اس کی قدرت اب کسی نے سلب نہیں کرلی۔ (العیاذ باللہ) بہرحال پیدا کر کے دنیا میں لانا، پھر مار کر برزخ میں لے جانا، پھر زندہ کر کے میدان حشر میں کھڑا کردینا، یہ امور جس کے قبضہ میں ہوئے کیا اس کی نصیحت سے اعراض وانکار اور اس کی نعمتوں کا استحقار کسی آدمی کے لئے زیبا ہے۔
Ayah 80:23

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

ہرگز نہیں پورا نہ کیا جو اس کو فرمایا12

12 یعنی انسان نے ہرگز اپنے مالک کا حق نہیں پہچانا اور جو کچھ حکم ہوا تھا ابھی تک اس کو بجا نہیں لایا (تنبیہ) ابن کثیر نے " کلا لما یقض ما امرہ " کو " ثم اذا شاء انشرہ " سے متعلق رکھا ہے یعنی جب چاہے گا زندہ کر کے اٹھائے گا۔ ابھی ایسا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ دنیا کی آبادی کے متعلق اس کا جو حکم کونی و قدری ہے وہ ابھی تک اس نے ختم نہیں کیا۔
Ayah 80:24

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

اب دیکھ لے آدمی اپنے کھانے کو13

13 پہلے انسان کے پیدا کرنے اور مارنے کا ذکر تھا۔ اب اس کی زندگی اور بقاء کے سامان یاد دلاتے ہیں۔
Ayahs 80:25–26

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

کہ ہم نے ڈالا پانی اوپر سے گرتا ہوا

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر چیرا زمین کو پھاڑ کر14

14 یعنی ایک گھاس کے تنکے کی کیا طاقت تھی کہ زمین کو چیر پھاڑ کر باہر نکل آتا، یہ قدرت کا ہاتھ ہے جو زمین کو پھاڑ کر اس سے طرح طرح کے غلے، پھل اور سبزے، ترکاریاں وغیرہ باہر نکالتا ہے۔
Ayahs 80:27–32

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

پھر اگایا اس میں اناج

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور انگور اور ترکاری

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کھجوریں

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور گھن کے باغ

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور میوہ اور گھاس

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

کام چلانے کو تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے15

15 یعنی بعض چیزیں تمہارے کام آتی ہیں اور بعض تمہارے جانوروں کے۔
Ayah 80:33

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ Open ayah 80:33 in the Quran reader

پھر جب آئے وہ کان پھوڑنے والی16

16 یعنی ایسی سخت آواز جس سے کان بہرے ہوجائیں۔ اس سے مراد نفخہ صور کی آواز ہے۔
Ayahs 80:34–37

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ Open ayah 80:34 in the Quran reader

جس دن کہ بھاگے مرد اپنے بھائی سے

وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ Open ayah 80:35 in the Quran reader

اور اپنی ماں اور اپنے باپ

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ Open ayah 80:36 in the Quran reader

اور اپنی ساتھ والی سے اور اپنے بیٹوں سے

لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ Open ayah 80:37 in the Quran reader

ہر مرد کو ان میں سے اس دن ایک فکر لگا ہوا ہے جو اس کے لیے کافی ہے1

1 یعنی اس وقت ہر ایک کو اپنی فکر پڑی ہوگی احباب و اقارب ایک دوسرے کو نہ پوچھیں گے بلکہ اس خیال سے کہ کوئی میری نیکیوں میں سے نہ مانگنے لگے یا اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے لگے ایک دوسرے سے بھاگے گا۔
Ayahs 80:38–39

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌۙ Open ayah 80:38 in the Quran reader

کتنے منہ اس دن روشن ہیں

ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ Open ayah 80:39 in the Quran reader

ہنستے خوشیاں کرتے2

2 یعنی مومنین کے چہرے نور ایمان سے روشن اور غایت مسرت سے خنداں وفرحاں ہوں گے۔