80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة عبس سورة نمبر 80 کل رکوع 1 آیات 42 الفاظ و کلمات 130 حروف 533 مقام نزول مکہ مکرمہ تعارف۔ ۔ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں عقبہ، شیبہ، ابوجہل، امیہ ابن خلف اور ابی ابن خلف جیسے بڑے بڑے قریشی سردار بیٹھے ہوئے تھے جنہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دین اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش فرما رہے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دلی خواہش اور تمنا تھی کہ قریش کے سردار اسلام قبول کرلیں تو سارے عرب میں دین کا چرچا عام ہوجائے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان فرما رہے تھے کہ اچانک ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم (رض) آگئے انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ اس وقت رنگ محفل کیا ہے۔ عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے ہدایت دیجیے اور سیدھا راستہ دکھا دیجیے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ وہ قرآن کریم کی کسی آیت کا مطلب پوچھ رہے تھے۔ بہر حال نابینا ہونے کی وجہ سے انہیں معلوم نہ تھا کہ اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال پوچھنا مناسب تھا یا نہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شفقت سے فرمایا کہ میں ابھی بتا دیتا ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر سے سردران قریش سے خطاب شروع کردیا۔ کچھ دیر کے بعد نابینا صحابی (رض) نے پھر اپنے سوال کو دہرایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی یہ بات ناگوار گزری اور آپ کی پیشانی پر کچھ بل پڑگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بےرخی اختیار کی۔ سرداران قریش تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس سے اتھ کر چلے گئے اور کچھ انتظار کرکے حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم (رض) بھی واپس گھر لوٹ گئے اسی وقت حضرت جبرئیل وحی لے کر آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک سورة عبس کی آیات پہنچائیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کے چہرے پر بل پڑگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس نابینا کی طرف توجہ نہ کی جو بڑے شوق اور تڑپ کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیا معلوم ہے کہ اگر آپ اس کو نصیحت فرمادیتے تو وہ اس پر دھیان دیتا اور اس سے نفع حاصل کرتا ؟ جو شخص آپ کی باتوں کی طرف توجہ نہیں کرتا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف جھکے چلے جارہے ہیں حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی الزام نہیں ہے لیکن وہ شخص جو خود آپ کے پاس دوڑ کر اور لپک کر آرہا ہے اور وہ اپنے دل میں اللہ کا خوف بھی رکھتا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف سے بےرخی اختیار کررہے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ اللہ کا کلام ( قرآن مجید) تو سراسر نصیحت ہی نصیحت ہے۔ جس کا دل چہاے وہ قبول کرلے۔ جو ایسے صحیفوں میں موجود ہے جو قابل احترام، بلند مرتبہ، پاکیزہ اور مقدس ہین۔ معزز اور نیک کاتبوں کے ہاتھ سے لکھے ہوئے ہیں۔ وہ کیسے بدنصیب لوگ ہیں اور اپنے آپ کو تباہی میں ڈال رہے ہیں جو اس سچائی کا انکار کرکے ناشکری کرر ہے ہیں۔ کبھی انسان نے اس بات پر غور کیا ہے کہ اللہ نے اس کو کس چیز سے پیدا کیا ہے ۔ ایک منی کے قطرے سے۔ اس نے اس آدمی کی تقدیر مقرر کی پھر اس کے لیے زندگی کے راستوں کو آسان کیا۔ اسی نے زندگی کے بعد اس کو موت سے ہم کنار کیا اور قبر میں پہنچاد یا۔ پھر جب چاہے گا وہ اسے دوبارہ زندہ کرکے اٹھا کھڑا کرے گا۔ یہ کتنی بڑی بدنصیبی ہے کہ وہ اپنے اس فرض کو ادا نہیں کرتا جس کا اللہ نے اس کو حکم دیا تھا۔ حالانکہ اگر وہ غور کرے تو اس کو معلوم ہوگا کہ اللہ نے اس کو کتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ کبھی انسان نے اپنی اس خوراک پر غور کیا جسے وہ کھتا ہے فرمایا کہ ہم نے پہلے تو خوب بارشیں برسائیں پھر زمین کو عجیب طرح پھاڑا پھر اس کے اندر غلہ، انگور، ترکاریاں، زیتون، کھجوریں، گھنے باغات، طرح طرح کے لذیذ اور مزیدارپھل پید اکیے اور اسی سے جانوروں کی غذا چارہ کو پیدا کیا تاکہ تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کی زندگی کا سامان میسر آجائے۔ لیکن یہ سب چیزیں اس وقت تک تمہارے پاس رہیں گی جب تک کانوں کو بہرا کردینے والی ہیبت ناک آواز (صور) نہیں آجاتی۔ جب وہ آواز بلند ہوگی یعنی صور پھونکا جائے گا وہ دن بھی عجیب ہوگا۔ اس دن آدمی اپنے بھائی، اپنے ماں باپ، اپنی بیوی اور اپنی اولاد تک چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوگا اور اس وقت ہر شخص پر ایسی وحشت طاری ہوگی کہ اسے اپنے سوا کسی دوسرے کا ہوش تک نہ رہے گا یعنی کوئی کسی کو نہ پوچھے گا۔ اس دن کچھ چہرے تو ایسے ہوں گے جو چمک دمک رہے ہوں گے، ان کے چہرے شگفتہ اور خوش و خرم ہوں گے اور کچھ چہروں پر خاک اڑ رہی ہوگی اور غم کے مارے ان کے چہرے اداس اور تاریک ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے کفر اور ناشکری میں حد سے آگے بڑھ گئے ہوں گے۔

Ayahs 80:1–42

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ نے) ناگوار محسوس کیا اور منہ پھیر لیا

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

اس وجہ سے کہ آپ کے پاس ایک نابینا (اندھا) آگیا تھا۔

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

آپ کو کیا معلوم کہ شاید وہ سنور جاتا۔

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا وہ بات کو قبول کرلیتا تو نصیحت اسے فائدہ دیتی۔

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

جو شخص بےنیازی دکھاتا ہے (پرواہ نہیں کرتا)

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

آپ اس کی طرف جھکے چلے جارہے ہیں۔

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کی کوئی ذمہ داری نہیں کہ وہ کیوں نہیں سنورتا۔

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

اور جو شخص آپ کے پاس دوڑا چلا آرہا ہے

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور وہ اللہ سے ڈرتا ہے

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

تو آپ اس سے بےپروائی کر رہے ہیں۔

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

ہرگز نہیں۔ یہ (قرآن حکیم تو) ایک نصیحت ہے

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

جس کا دل چاہے اس کو قبول کرلے۔

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

وہ محترم صحیفوں میں ہے

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

جو بلند مقام والے اور مقدس ہیں

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

جو ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

جو نہایت نیک اور پاکیزہ ہیں۔

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

غارت ہوجائے انسان کہ وہ کیسا ناشکرا ہے۔

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

(کبھی اس نے غور کیا کہ ) اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

ایک گندے پانی کے قطرے (نطفے) سے پیدا کیا ۔ پھر ایک اندازہ مقرر کیا گیا ہے۔

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر (اس کی زندگی کا) راستہ آسان کردیا ہے۔

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اس نے موت دے کر اسے قبر میں پہنچایا۔

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر جب اللہ چاہے گا تو اس کو دوبارہ پیدا کردے گا۔

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

ہرگز نہیں۔ انسان کو جو حکم دیا اس نے پورا نہ کیا۔

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے (پینے) کی چیزوں کی طرف نظر دوڑائے۔

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

کہ بیشک ہم نے خوب پانی برسایا۔

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑا (پیداوار کے قابل بنایا)

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

پھر ہم نے اس میں دانہ (غلہ) اگایا ۔

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

انگور، ترکاریاں،

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

زیتون، کھجور،

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

گھنے گنجان باغ (طرح طرح کے)

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

پھل اور جانوروں کے لیے) چارہ پیدا کیا۔

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

یہ سب چیزیں تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے (فائدے پہنچانے کا) سامان ہیں۔

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ Open ayah 80:33 in the Quran reader

پھر جب کانوں کو پھاڑ دینے والی آواز آئے گی (صور پھونکا جائے گا )

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ Open ayah 80:34 in the Quran reader

اس دن آدمی اپنے بھائی،

وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ Open ayah 80:35 in the Quran reader

اپنے ماں باپ ،

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ Open ayah 80:36 in the Quran reader

اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا۔

لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ Open ayah 80:37 in the Quran reader

اس دن ہر شخص اس حالت میں ہوگا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا۔

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌۙ Open ayah 80:38 in the Quran reader

اس دن بعض چہرے چمک دمک رہے ہوں گے۔

ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ Open ayah 80:39 in the Quran reader

ہنستے مسکراتے اور خوشی و مسرت کا اظہار کررہے ہوں گے

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌۙ Open ayah 80:40 in the Quran reader

اور کچھ چہروں پر خاک اڑ رہی ہوگی۔

تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌؕ Open ayah 80:41 in the Quran reader

ان پر سیاہی چھارہی ہوگی

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ۠ Open ayah 80:42 in the Quran reader

( کہا جائے گا کہ ) یہی وہ بدکار ہیں جو (اللہ و رسول کو ) انکار کیا کرتے تھے۔

لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ گار تشریح : اللہ کی طرف سے وحی آنے کے بعد نبی کریم ﷺ دن رات دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے جدوجہد فرمایا کرتے تھے۔ اس عظیم مقصد میں آپ کے شغف اور شوق کا یہ عال تھا جب دشمنان اسلام کی طرف سے شدید مخالفت ہوتی اور دین اسلام اور آپ کی شخسیت پر کیچڑا اچھا جاتا تو آپ کو شدید افسوس ہوا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی جگہ فرمایا کہ ” اے نبی ﷺ “ آپ تو اس غم میں اپنی جان گھلا ڈالیں گے کہ وہ ایمان کیوں نہیں لاتے (سورۃ الکہف) ۔ ارشاد فرمایا گیا کہ آپ صبرو تحمل سے کام لے کر اللہ کا دین ہر شخص تک پہچانے کی جدوجہد کرتے رہیے۔ اللہ جس کو ہدایت دینا چاہے گا اس کو ہدایت دیدی جائے گی۔ نبی کریم ﷺ ہر قبیلے میں تشریف لے جاتے اور دین کی سچائیوں کا اظہار فرماتے۔ آپ کا گمان یہ تھا کہ اگر عرب کے تمام قبیلوں کے سردار دین اسلام کو قبول کرلیں تو پھر دین اسلام کے پھیلنے کی ہر رکاوٹ دور ہوجائے گی۔ چناچہ ایک مرتبہ آپ نے قریش کے تمام سرداروں کو دعوت دی۔ جب وہ آگئے تو آپ نے نہایت موثر انداز سے ان پر اس بات کو ثابت کردیا کہ ان کی اور ساری کائنات کی کامیابی صرف اللہ کا دین اختیار کرنے میں ہے۔ گفتگو اس سطح تک پہنچ گئی تھی جہاں آپ کو اس بات کا کچھ اندازہ ہو رہا تھا کہ شاید ان قریشی سرداروں میں سے کچھ سردار دین اسلام قبول کرلیں گے کہ اچانک ایک نابینا صحابی حضرت عبد اللہ ؓ ابنام مکتوم ؓ تشریف لے آئے۔ چونکہ نبی کریمو ان کے آنکھوں سے معذور ہونے کی وجہ سے بہت شفقت فرمایا کرتے تھے اس لئے انہوں نے حسب معمول آپ سے آتے ہی عرض کیا ”……“ (ابن جریر۔ ابن ابی حاتم) یعنی اے اللہ کے رسول ﷺ آپ کو اللہ نے جو کچھ سکھایا ہے اس میں سے مجھے بھی سکھا دیجئے۔ حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم ان لوگوں میں سے تھے جو مکہ مکرمہ میں بہت پہلے ایمان لا چکے تھے اور ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ کے پھوپھی زاد بھائی اور بنو قریش کے معزز لوگوں میں سے تھے چونکہ وہ نابینا (اندھے ) تھے تو انہیں یہ معلوم ہی نہ تھا کہ آپ اس وقت بنو قریش کے سرداروں سے کلام فرما رہے ہیں جن کے اسلام قبول کرنے سے سارے عرب میں ایک عظیم انقلاب آجانے کا امکان تھا۔ اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اس وقت آپ کا جذبہ تبلیگ دین کس قدر عروج پر ہوگا۔ عین اسی وقت حضرت ابن ام مکتوم کا آکر سوال کرنا آپ کو اچھا نہیں لگا۔ آپ نے شفقت سے فرمایا کہ عبد اللہ بیٹھو میں ابھی بتاتا ہوں مگر کچھ دیر بعد انہوں نے پھر وہی سوال کیا اور کئی مرتبہ کیا تو آپ کی پیشانی پر کچھ بل پڑگئے اور آپ کو ناگوار گزرا۔ آپ ﷺ نے جواب دینے کے بجائے منہ پھیرلیا۔ حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم یہ سمجھے ہوں گے شاید رسول اللہ ﷺ آپ سے کسی بات پر ناراض ہیں وہ کچھ دیر اتنظار کرکے اپنے گھر تشریف لے گئے۔ ادھر قریشی سرداروں نے آپ کی باتیں سنیں اور پہلے کی طرح دامن جھاڑ کر اٹھ گئے اور اپنے گھروں کو چل دئیے لیکن نبی کریم ﷺ اس بات پر بہت خوش تھے کہ قریش کے سرداروں تک آپ نے اللہ کے دین کی دعوت پہنچا دی ہے جو کسی طرح بھی آپ کی بات سننے کے لئے تیار نہ تھے۔ اس واقعہ کو بہت دیر نہ گزری تھی کہ آپ پر سورٔ عبس کی آیات نازل ہونا شروع ہوئیں جن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک اصولی بات کی طرف متوجہ فرمایا۔ ارشاد ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ نے اپنی پیشانی پر بل ڈال لئے، ناگوار محسوس کیا اور منہ پھیرلیا اس بات سے کہ آپ کے پاس ایک نابینا (اندھا) آگیا تھا آپ کو کیا معلوم کہ وہ آپ کی بات سن کر اپنا تزکیہ کرلیتا ( اپنے دل کو مانجھ لیتا) یا وہ اس سے کوئی فائدہ ہی اٹھا لیتا۔ جو شخص دین کی سچائیوں کو سن کر بھی بےنیازی اور بےرخی برت رہا ہے آپ اس کی طرف تو جھکے چلے جا رہے ہیں حالانکہ اس کو سنوارنے اور ہدایت دینے کی ذمہ داری آپ کی نہیں ہے ہدایت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اور وہ شکص جو اپنے دل میں اللہ کا خوف لئے آپ کے پاس دوڑا ہوا چلا آرہا ہے آپ اس سے منہ پھر رہے ہیں اور اس کی پرواہ نہیں کر رہے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ یہ قرآن تو سراسر ہدایت اور نصیحت ہے۔ یہ وہ قرآن ہے جو محرم صحیفوں میں بلند اور مقدس مقام رکھنے والا ہے وہ ایسے لکھنے والے ہاتھوں میں ہے جو نہایت نیک اور پاکیزہ ہیں۔ اب جس کا دل چاہے اس کلام پر ایمان لانے کی سعادت حاصل کرلے۔ اللہ نے کائنات میں جو بیشمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان میں سے یہ قرآن ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی اور ان نعمتوں کی آدمی کو قدر کرنا چاہیے جو اس کے چاروں طرف قدرت نے بکھیر رکھی ہیں۔ لیکن انسان ان نعمتوں کے باوجود ناشکرا پن کرکے اپنی بدبختیوں اور بد نصیبیوں میں لگا رہتا ہے۔ وہ اس بات کو بھول جاتا ہے کہ اس کی پیدائش ناپاک پانی کے ایک قطرے سے ہوئی ہے۔ وہ پانی کا قطرہ (نطفہ) جب تک اللہ نے چاہا ماں کے پیٹ میں پرورش کراتا اور بڑھاتا رہا جب اس کے تمام اعضائے بن گئے اور اس نے انسانی شکل اختیار کرلی اور وہ کئی پونڈ کا ہوگیا تو تنگ راستہ ہونے کے باوجود اللہ اس کو کس طرح اس دنیا میں لے آیا کہ وہ اس دنیا میں بھی آگیا اور اس سے اس کی ماں کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اس نعمت پر تو اس کو اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے تھا گر وہ اس پر غور ہی نہیں کرتا اور اللہ کی ناشکری میں لگا رہتا ہے۔ فرمایا کہ کبھی انسان نے اس بات پر بھی غور کیا کہ دنیا میں آنے کے بعد وہ اللہ کی کتنی نعمتوں سے فائدے حاصل کرتا ہے۔ دنیا میں رہتا اور بستا ہے جتنی اس کی زندگی کے لمحات ہیں ان کو گزار کر آخر کار موت کی آغوش میں جا کر سو رہتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ جب چاہیں گے اس کو قیامت کے دن زندہ کرکے اٹھا لیں گے اور پھر زندگی بھر کئے ہوئے کاموں کا حساب لے کر اس کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دیدیں گے۔ فرمایا کہ آدمی کو ان نعمتوں پر غور کرنا چاہیے جو کھانے، پینے کی چیزیں اور اسباب پیدا کئے گئے ہیں مثلاً اللہ بلندی سے پانی برستا ہے جو زمین پر برستا ہے۔ اللہ نے اس زمین کو ایسا نرم اور کھیتی کے قابل بنا دیا ہے کہ اس میں دانہ، غلہ، انگور، ترکاریاں، زیتون، کھجور، گھنے گنجان باغات، پھل وغیرہ پیدا ہوتے ہیں جو انسانی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ اس کی قدرت یہ ہے کہ اس نے غذائیں اس طرح بنائیں کہ وہ انسان کے کام آتی ہیں ان سے بچے ہوئے بھوسے اور چھلکے جانورون کی غذا بن جاتے ہیں یعنی غذا انسان کھاتا ہے اور اس کا بھوسا جانور کھاتے ہیں۔ پھل اور فروت انسان کھاتا ہے اور ان کے پتے اور چھلکے جانوروں کی غا بنا دی گئی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ اس وقت تک کے لئے ہے جب تک کانوں کو پھاڑ دینے والی چیز یعنی صور نہیں پھوناک جاتا۔ جب صور پھونکا جائے گا تو انسان اور اس کائنات کی ہر چیز فنا کردی جائے گی۔ دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اللہ کی ساری مخلوق زندہ ہر کر میدان حشر میں جمع ہوجائے گی۔ یہ ایسا دن ہوگا جب ہر شخص کو اپنے سوا دوسرے کا ہوش تک نہ ہوگا۔ ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ دنیا میں محبت کے وہ رشتے جو ایک دوسرے کے کام آتے ہیں وہاں کام نہ آئیں گے ۔ بھائی بھائی سے بھاگے گا، شفقت و محبت کرنے والی ماں، اولاد کے ہر دکھ کو اٹھان والا باپ، زندگی بھر ساتھ دینے والی بیوی اور اس کی اپنی اولاد ایک دوسرے سے بھاگیں گے۔ وہاں کام آنے والی چیز انسان کے نیک اور بہتر اعمال ہی ہوں گے جو اس کے کام آئیں گے۔ چناچہ اس دن بعض چہرے تو خوشی اور مسرت سے چمک دمک رہے ہوں گے لیکن کچھ لوگ وہ ہوں گے جن کے چہروں پر خاک اڑ رہی ہوگی ان کے چہرے اس طرح سیاہ پڑجائیں گے جیسے کوئی دور دے گردوغبار میں اٹا چلا آرہا ہے۔ یہ کون لوگ ہوں گے ؟ یقینا یہ وہی لوگ ہوں گے جو زندگی بھر اللہ و رسول کا انکار کرتے رہے ہوں گے اور جو برے اعمال کرتے رہے ہوں گے۔ ان آیات سے متعلق چند باتیں۔ 1۔ حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوب نابینا تھے مگر دین سیکھنے بہت دور سے آتے تھے۔ وہ یہ سمجھ کر اپنے گھر تشریف لے گئے کہ شاید میرے آقا مجھ سے ناراض ہیں۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپو فوراً اٹھے اور حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم کے گھر تشریف لے گئے اور ان کو ساتھ لے کر واپس آئے۔ آپ نے اپنی چادر مبارک بچھا دی اور فرمایا کہ عبد اللہ اس پر بیٹھو۔ حکم کی تعمیل میں حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم بیٹھ گئے پھر آپ نے شفقت سے فرمایا کہ اب تم پوچھو میں تمہارے ہر سوال کا جواب دوں گا۔ اس واقعہ کے بعد آپ کی شفقت و محبت میں اور بھی اضافہ ہوگیا اور جب بھی حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم تشریف لاتے تو سردار انبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ان کو اپنے پاس اپنی چادر پر بٹھایا کرتے تھے۔ 2۔ حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم کا پورا نام عبد اللہ ابن شریح ابن مالک ابن ربعہ زھری تھا۔ مکتوم اس شخص کو کہتے ہیں جو آنکھوں سے محروم ہر چونکہ وہ اندھے تھے اس لئے ان کی والدہ کو ” ام مکتوم “ (نابینا کی ماں) کہا جاتا تھا۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ نے سفر پر جاتے ہوئے مسجد نبوی میں اپنی جگہ حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم کو امام مقرر فرمایا۔ جنگ قادسیہ کے موقع پر وہ بھی نابینا ہونے کے باوجود جہاد میں شریک ہوئے اور اسی جنگ میں آپ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ 3۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس بات کی تعلیم دی ہے کہ اہل ایمان مسلمانوں کی اصلاح و تربیت کرکے ان کو سچا پکا مسلمان بنانا غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرنے کی فکر سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے بعض حضرات کو دیکھا ہے کہ وہ اس کی فکر تو بہت کرتے ہیں کہ فلاں بات کو اس طرح ہونا چاہیے تاکہ غیر مسلم اس پر اعتراض نہ کریں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں غیر مسلموں میں تبلیغ کی زیادہ ضرورت ہے جو مسلمان ہیں ان کے درمیان تبلیغ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ تصور بنیادی طور پر غلط ہے کیونکہ ہمیں غیر مسلموں کی فکر تو ہونی چاہیے مگر اپنی ساری صلاحیتوں کو اسی پر لگانا نہیں چاہیے۔ آج دنیا میں مسلمانوں کی تعداد دو سو کروڑ کے قریب ہے ان کی اپنی پچاس ساٹھ حکومتیں اور سلطنتیں ہیں۔ اگر ان پر محنت کی جائے اور ان کو سچا پکا مومن بنا لیا جائے تو آپ دیکھیں کے کہ ساری دنیا ان کے قدموں پر جھکنے کے لئے مجبور ہوجائے گی۔ ہماری کمزوری یہ ہے کہ ہم اسلام کا نام تو لیتے ہیں مگر دنیا ہم پر اس طرح غالب آچکی ہے کہ ہم اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود ساری دنیا میں ذلیل و رسوا ہو کر رہ گئے ہیں۔