80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 80:1–4

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

(محمد مصطفے ﷺ ترش رو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

کہ انکے پاس ایک نابینا آیا

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا سوچتا تو سمجھنا اسے فائدہ دیتا

(1۔ 4) رسول اکرم قریش کے سرداروں یعنی حضرت عباس بن عبدالمطلب، امیہ بن خلف اور صفوان بن امیہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ان کو نصیحت فرما رہے تھے اور اسلام کی دعوت دے رہے تھے، اتنے میں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم تشریف لے آئے اور بولے یا رسول اللہ جس چیز کی اللہ تعالیٰ نے آپ کو تعلیم دی ہے اس میں سے مجھے بھی بتلایئے۔ ان لوگوں کے ساتھ مشغولیت کی بنا پر آپ کو ان کا یہ قطع کلام ناگوار گزرا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اسی کے بارے میں یہ ابتدائی آیات نازل فرمائیں کہ محمد آپ کو کیا معلوم شاید ابن ام مکتوم قرآن سے نیکی حاصل کرتے اور نصیحت حاصل قبول کرتے اور ان کو قرآن کے ذریعے سے نصیحت کرنا فائدہ پہنچاتا ہے، یا یہ مطلب ہے کہ آپ کو کیا معلوم کہ وہ نیکی نہ حاصل کرتے اور نصیحت قبول نہ کرتے اور ان کو یہ نصیحت فائدہ نہ پہنچاتی۔ شان نزول : عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ۔ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى (الخ) امام ترمذی اور حاکم نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ سورة عبس حضرت ابن ام مکتوم کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ مجھے نیکی کا راستہ بتلایئے اور آپ کے پاس روسائے مشرکین بیٹھے ہوئے تھے، چناچہ رسول اکرم ان سے اعراض کر رہے تھے اور دوسروں کی طرف متوجہ ہورہے تھے اور اس سے فرما رہے تھے کیا میں جو تجھ سے کہہ رہا ہوں تجھے اس میں کوئی خدشہ ہے وہ کہہ رہا تھا نہیں۔ چناچہ اس بارے میں سورة عبس کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں، اور ابو یعلی نے اسی طرح حضرت انس سے روایت نقل کی ہے۔
Ayahs 80:5–16

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

جو پروا نہیں کرتا

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

حالانکہ اگر وہ نہ سنورے تو تم پر کچھ الزام نہیں

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا آیا

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور (خدا سے) ڈرتا ہے

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

اس سے تم بےرخی کرتے ہو

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

دیکھو یہ (قرآن) نصحیت ہے

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

پس جو چاہے اسے یاد رکھے

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا)

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

(ایسے) لکھنے والے کے ہاتھوں میں

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

جو سردار اور نیکوکار ہیں

(5۔ 16) سو جو شخص اللہ تعالیٰ سے بےپروائی کرتا ہے آپ اس کی طرف توجہ کرتے ہیں حالانکہ ان کے موحد نہ بننے کا آپ پر کوئی الزام نہیں اور جو شخص نیکی کے شوق میں آپ کے پاس دوڑ کر آتا ہے اور وہ اللہ سے ڈرتا ہے تو آپ اس پر توجہ نہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ آپ کو ایسا نہ کرنا چاہیے اور حضرت ابن ام مکتوم پہلے ہی سے مشرف بااسلام ہوچکے تھے، چناچہ اس کے بعد جب حضرت ابن ام مکتوم آپ کے پاس آتے تو آپ ان کی بڑی خاطر و احترام کرتے، امیر ہو یا غریب یہ سورت سب کے لیے اللہ کی طرف سے ایک نصیحت کی چیز ہے لہذا جس کا دل چاہے نصیحت قبول کرے اور یہ قرآن ایسے صحیفوں میں ثبت ہے جو عنداللہ مکرم ہیں۔ رفیع المکان ہیں اور وہ شرک و برائی سے پاک ہیں جو ایسے لکھنے والوں یعنی فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں کہ وہ مکرم ہیں اور نیک کار ہیں۔
Ayahs 80:17–22

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

اسے (خدا نے) کس چیز سے بنایا ؟

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

نطفے سے بنایا پھر اس کا اندازہ مقرر کیا

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر اس کے لئے راستہ آسان کردیا

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اس کو موت دی پھر قبر میں دفن کرایا

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر جب چاہے گا اسے کھڑا کرے گا

(17۔ 22) عتبہ بن ابی لہب کافر پر اللہ کی مار وہ اللہ تعالیٰ کا کیسا ناشکرا ہے، یا یہ کہ اس کا کفر کیسا سخت ہے اسے اپنے وجود پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کیسی حقیر چیز سے پیدا کیا۔ آگے بیان ہے کہ نطفہ سے پیدا کیا پھر اس کے ہاتھ، پیر، کان اور تمام اعضاء بنائے پھر خیر اور شر کا راستہ اس کو بیان کردیا یا یہ کہ رحم مادر سے اس کے نکلنے کا راستہ آسان کردیا، پھر اس کے بعد اس کو موت دی اور پھر قبر میں لے گیا پھر اس کو قبر سے دوبارہ زندہ کردے گا۔ شان نزول : قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَكْفَرَهٗ (الخ) ابن منذر نے عکرمہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کی گئی ہے کہ یہ عتبہ بن ابی لہب کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس نے کہا تھا کہ میں ستاروں کے رب کا انکار کرتا ہوں۔
Ayahs 80:23–24

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا نے اسے جو حکم دیا اس نے اس پر عمل نہیں کیا

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

تو انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے

(23۔ 24) اللہ تعالیٰ نے جو اسے توحید کا حکم دیا تھا ہرگز اس نے اس کی بجا آوری نہیں کی سو اس کافر کو اپنے کھانے ہی میں ذرا غور کرنا چاہیے کہ کیسے ایک حالت سے وہ دوسری حالت اختیار کرتا ہے پھر اس کے بعد اسے کھاتا ہے۔
Ayahs 80:25–32

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

بیشک ہم ہی نے پانی برسایا

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر ہم ہی نے زمین کو چیرا پھاڑا

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

پھر ہم ہی نے اس میں اناج اگایا

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور انگور اور ترکاری

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کجھوریں

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور گھنے باغ

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور میوے اور چارا

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

(یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے لیے بنایا

(25۔ 32) اب اس تحویل کو بیان کرتا ہے کہ ہم نے عجیب طور سے زمین پر پانی برسایا اور پھر نباتات کے ذریعے سے پھاڑا پھر ہم نے اس زمین میں ہمہ قسم کے غلے اور انگور اور ترکاریاں اور زیتون اور کھجور اور گنجان باغ اور میوے اور چارہ پیدا کیا، غلے تمہارے فائدے کے لیے اور چارہ تمہارے جانوروں کے لیے۔
Ayahs 80:33–36

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ Open ayah 80:33 in the Quran reader

تو جب (قیامت کا غل مچے گا)

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ Open ayah 80:34 in the Quran reader

اس دن بھائی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا

وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ Open ayah 80:35 in the Quran reader

اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ Open ayah 80:36 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے

(33۔ 36) پھر جس وقت قیامت قائم ہوگی اور اس کا شور برپا ہوگا جس کا ہر ایک چیز جواب دے گی اور جان لیں گے کہ یقینا قیام قائم ہورہی ہے، اب وہ کب قائم ہوگی تو جس دن مومن اپنے کافر بھائی سے اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے اور اپنی اولاد سے بھاگے گا۔ یا یہ کہ ہابیل قابیل سے اور محمد حضرت آمنہ سے اور ابراہیم اپنے باپ سے اور لوط اپنی بیوی سے اور نوح اپنے بیٹے کنعان سے بھاگیں گے۔