80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsمدارک التنزیل

Ayahs 80:1–2

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

(محمد مصطفے ﷺ ترش رو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

کہ انکے پاس ایک نابینا آیا

عبداللہ بن امّ مکتوم کا واقعہ : 1، 2 : عَبَسَ وَتَوَ لّٰی۔ اَنْ جَآ ئَ ھُ الْاَعْمٰی (پیغمبر چیں بجبیں ہوگئے اور متوجہ نہ ہوئے۔ اس بات سے کہ ان کے پاس ایک اندھا آیا) ۔ عَبَسَ نبی اکرم اترش رو ہوگئے۔ وَتَوَ لّٰی اور اعراض فرمایا اَنْ جَآ ئَ ھُ یہ اصل میں لان جاء ہٗ ہے اس لئے کہ ان کے پاس آیا۔ نحو : محلاً منصوب ہے کیونکہ مفعول لہ ہے اس کا عامل عبس یا تولی ہے بصریین و کو فیین کے اختلاف کے مطابق۔ الْاَعْمٰی عبداللہ بن ام مکتوم اور ام مکتوم ان کی دادی ہیں۔ ان کے والد کا نام شریح بن مالک ہے۔ یہ نبی اکرم ا کی خدمت میں اس وقت آئے جب آپ اشراف قریش کو اسلام کی طرف دعوت دے رہے تھے۔ آتے ہی عرض کیا یارسول اللہ علمنی مماعلمک اللہ اور یہ سوال باربار دھرایا۔ ان کو معلوم نہیں تھا کہ آپ اشراف قریش کو سمجھا رہے ہیں پس آپ نے ان کی بات کاٹنے کو ناپسند کیا اور ان سے رخ موڑتے ہوئے ترش روئی اختیار فرمائی۔ پس یہ آیات نازل ہوئیں رسول اللہ ﷺ اس کے بعد ان کا بڑا خیال فرماتے اور فرماتے مرحبًا بمن عاتبنی فیہ ربی ] اسباب النزول واحدی : ص 297 [ آپ نے ان کو مدینہ منورہ پر دو مرتبہ اپنا نائب مقرر فرمایا (بعض نے کہا چودہ مرتبہ نائب بنایا)
Ayah 80:3

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا

3 : وَمَا یُدْرِیْکَ (اور آپ کو کیا خبر) اور کو نسی چیز آپ کو اس کے حال سے واقف بنائے ؟ (یہ استفہام انکاری بمعنی نفی ہے) لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰی (شاید وہ سنور جاتا) شاید وہ نابینا آپ کے کلام کو سن کر جہالت کی میل سے پاک ہوجاتا۔ یزکیؔ اصل میں یتزکی ہے۔ تاء کو زاء میں ادغام کردیا۔ اسی طرح یذکر میں تاء کو دال میں ادغام کیا گیا ہے۔
Ayah 80:4

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا سوچتا تو سمجھنا اسے فائدہ دیتا

4 : اَوْ یَذَّکَّرُ فَتَنْفَعَہُ الذِّکْرٰی (یا نصیحت قبول کرتا پس اس کو نصیحت کرنا فائدہ پہنچاتا) یَذَّکَّرُ نصیحت حاصل کرنا۔ نحو : فتنفعہٗ عاصم نے عین پر نصب پڑھا اور اس کو لَعَلَّ کا جواب قرار دیا اور دیگر قراء نے اس کو یذکر پر عطف کرتے ہوئے رفع دیا ہے۔ الذکری : آپ کی نصیحت یعنی آپ کا وعظ۔ یعنی آپ کو معلوم نہیں کہ وہ اس نصیحت سے تذکر یا تزکیہ میں سے کس بات کا متمنی تھا۔ اگر آپ جان لیتے تو آپ کی طرف سے یہ بات پیش نہ آتی۔
Ayah 80:5

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

جو پروا نہیں کرتا

بےپروائی والے کافر : 5 : اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰی (تو جو شخص بےپروائی کرتا ہے) جو مالدار ہے۔
Ayah 80:6

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو

6 : فَاَنْتَ لَہٗ تَصَدّٰی (آپ اس کی تو فکر میں پڑتے ہیں) اس کے ایمان لانے کی حرص میں آپ اس کی طرف توجہ فرماتے ہیں۔ قراءت : تصدی میں تاء کو صاد میں ادغام کیا (حجازی)
Ayah 80:7

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

حالانکہ اگر وہ نہ سنورے تو تم پر کچھ الزام نہیں

7 : وَمَا عَلَیْکَ اَلَّا یَزَّکّٰی (حالانکہ آپ پر کوئی الزام نہیں اگر وہ نہ سنورے) آپ پر کوئی پکڑ نہ ہوگی اگر وہ اسلام قبول کر کے پاک نہ ہو۔ آپ کے ذمہ پہنچا دینے کی ڈیوٹی ہے۔
Ayah 80:8

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا آیا

8 : وَاَمَّا مَنْ جَآ ئَ کَ یَسْعٰی (اور جو شخص آپ کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے) خیر و بھلائی کی طلب میں وہ جلدی کرنے والا ہے۔
Ayah 80:9

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور (خدا سے) ڈرتا ہے

9 : وَھُوَیَخْشٰی (اور وہ ڈرتا ہے) اللہ تعالیٰ سے یا کفار سے۔ نمبر 3۔ لڑکھڑانے سے جیسا کہ اندھوں کی عادت ہوتی ہے۔
Ayah 80:10

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

اس سے تم بےرخی کرتے ہو

10 : فَاَنْتَ عَنْہُ تَلَھّٰی (آپ اس سے بےاعتنائی کرتے ہیں) بتکلف دوسروں میں مشغول ہوتے ہیں۔ تلٰہی اصل میں تتلٰہی ہے۔ روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اس کے بعد کبھی کسی سائل کے سلسلہ میں ترشروئی اختیار نہیں فرمائی۔ اور نہ ہی غنی کی طرف میلان اختیار کیا۔ روایت میں ہے کہ ثوری (رح) کی مجلس میں فقراء امراء ہوتے تھے۔
Ayah 80:11

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

دیکھو یہ (قرآن) نصحیت ہے

11 : کَلَّآ اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ ( ہرگز ایسا نہ کیجئے قرآن نصیحت کی چیز ہے) کلاؔ یہ ردع کیلئے ہے ایسا دوبارہ مت کریں۔ اِنَّھَا (بیشک یہ) سورت یا آیات تَذْکِرَۃٌ (نصیحت ہے) جس سے نصیحت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اور اس کے مطابق عمل کرنا لازم ہے۔
Ayah 80:12

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

پس جو چاہے اسے یاد رکھے

12 : فَمَنْ شَآ ئَ ذَکَرَہٗ (پس جس کا جی چاہے اس کو قبول کرے) پس جس کے متعلق اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس نصیحت کو قبول کرے گو منؔ کی وجہ سے ضمیر مذکر ہے یا التذکرۃ وعظ وذکر کے معنی میں ہونے کی وجہ سے ضمیر مذکر لائے۔ معنی یہ ہے جو نصیحت چاہے اللہ تعالیٰ اس کے دل میں بات ڈال دیں گے۔
Ayah 80:13

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا)

13 : فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ (وہ ایسے صحیفوں میں ہے جو مکرم ہیں) نحو : فی صحفٍ یہ تذکرہ کی صفت ہے ای انھا مثبتۃ فی صحف منتسخۃ من اللوح۔ یعنی بیشک وہ ثابت شدہ ہے ایسے صحائف میں جو لوح محفوظ سے لکھے گئے ہیں۔ نمبر 2۔ یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے ایھی فی صحف۔ وہ صحائف میں ہے۔ مُّکَرَّمَۃٍ جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مکرم ہیں۔
Ayah 80:14

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں

14 : مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَہَّرَۃٍ (رفیع المکان ہیں مقدس ہیں) مَّرْفُوْعَۃٍ یعنی آسمان میں بلند ہیں یا قدرومنزلت کے لحاظ سے بلند ہیں۔ مُّطَہَّرَۃٍ ملائکہ کے علاوہ دوسروں کے چھونے سے پاک ہیں۔ نمبر 2۔ وہ اس سے پاک ہیں جو کلام اللہ میں سے نہیں ہے۔
Ayah 80:15

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

(ایسے) لکھنے والے کے ہاتھوں میں

15 : بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ (ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں) سَفَرَۃٍ جمع سافر لکھنے والے۔ مراد وہ ملائکہ جو لوح محفوظ سے کتابیں نقل کرتے ہیں۔
Ayah 80:16

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

جو سردار اور نیکوکار ہیں

16 : کِرَامٍ (وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہیں) نمبر 2۔ گناہوں سے محفوظ ہیں۔ بَرَرَۃٍ (نیک) یہ بارٌ کی جمع ہے یعنی متقی۔
Ayah 80:17

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے

17 : قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَکْفَرَہٗ (آدمی پر اللہ تعالیٰ کی مار وہ کیسا ناشکرا ہے) الْاِنْسَانُ اس میں کافر پر لعنت کی گئی ہے۔ نمبر 2۔ امیہ قریشی مراد ہے۔ نمبر 3۔ عتبہ۔ مَآ اَکْفَرَہٗ یہ استفہام تو بیخ کیلئے ہے یعنی (اس کو کس بات نے کفر پر آمادہ کیا) نمبر 2۔ استفہام تعجبی ہے یعنی اس پر تعجب ہے کہ اس کا کفر کس قدر سخت ہے۔
Ayah 80:18

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

اسے (خدا نے) کس چیز سے بنایا ؟

18 : مِنْ اَیِّ شَیْ ئٍ خَلَقَہٗ (اللہ تعالیٰ نے اس کو کیسی چیز سے پیدا کیا) کیسی حقیر سے حقیر ترین شئی سے اس کو بنایا یہ بظاہر استفہام ہے اور تقریرکیلئے آیا ہے۔ یعنی انسان کو اقرار کرنا چاہیے کہ اس کو نطفہ سے بنایا ہے۔ پھر اگلی آیت میں اس کی وضاحت فرمائی۔
Ayah 80:19

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

نطفے سے بنایا پھر اس کا اندازہ مقرر کیا

19 : مِنْ نُّطْفَۃٍ خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ (نطفہ سے اس کی صورت بنائی پھر اس کو اندازہ سے بنایا) جیسا اس کو بنانا چاہا تخلیق کردی۔
Ayah 80:20

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر اس کے لئے راستہ آسان کردیا

20 : ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ (پھر اس کا راستہ آسان کردیا) نحو : السبیل یہ یسَّر مضمر کی وجہ سے منصوب ہے ای ثم سہل لہٗ سبیل الخروج من بطن امہ یعنی پھر اس کے لئے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا۔ یا اس کے سامنے خیرو شر کو کھول کر بیان کردیا۔
Ayah 80:21

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اس کو موت دی پھر قبر میں دفن کرایا

21 : ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقْبَرَہٗ (پھر اس کو موت دی پھر اس کو قبر میں لے گیا) اس کو قبر والا بنایا جس میں اس کو چھپایا جاتا ہے۔ حیوانات کی طرح نہیں کہ کھلا چھوڑ دیا جائے یہ اس کی تکریم کی گئی۔ قبرا لمیتؔ : اس کو دفن کا مقام۔ اقبرہٗ اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کو قبر میں رکھا جائے اور اس کو اس پر قدرت و اختیار بھی دیا۔
Ayah 80:22

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر جب چاہے گا اسے کھڑا کرے گا

22 : ثُمَّ اِذَا شَآ ئَ اَنْشَرَہٗ (پھرجب اللہ تعالیٰ چاہے گا اس کو دوبارہ زندہ کردے گا) اس کی موت کے بعد زندہ کرے گا۔
Ayah 80:23

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا نے اسے جو حکم دیا اس نے اس پر عمل نہیں کیا

23 : کَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ ( ہرگز نہیں اس کو جو حکم کیا تھا اس کو بجا نہیں لایا) اس میں انسان کو کفر سے روکا گیا کہ اس کو ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے۔ لما یقض ما امرہ اس کافر انسان نے جو اس کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کا حکم دیا اس کو پورا نہیں کیا۔
Ayah 80:24

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

تو انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے

قدرتِ باری تعالیٰ : 24 : فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖ (پس انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے) نحو : جب ان نعمتوں کو شمار کردیا جو انسان کی ابتدائے حدوث سے انتہاء تک اس کے وجود میں پائی جاتی تھیں اب اس کے بعد ان نعمتوں کا ذکر کیا جن کی انسان کو زندگی میں ضرورت پڑتی ہے۔ فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖ پس انسان کو اپنا وہ کھانا دیکھنا اور اس پر غور کرنا چاہیے جو وہ کھاتا اور جس سے زندگی گزارتا ہے۔ کہ ہم نے اس کا انتظام کس طرح فرمایا ہے۔
Ayah 80:25

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

بیشک ہم ہی نے پانی برسایا

25 : اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآ ئَ صَبًّا (ہم نے عجیب طور پر پانی برسایا) نحو، قراءت : اَنَّا فتحہ کے ساتھ کوفی قراء نے پڑھا اور اس کو طعامؔ سے بدل الا شتمال قرار دیا۔ نمبر 2۔ اِنَّا دیگر قراء نے پڑھا اور جملہ مستانفہ قرار دیا۔ صَبَبْنَا الْمَآ ئَ صَبًّا یعنی بادلوں سے بارش برسائی۔
Ayah 80:26

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر ہم ہی نے زمین کو چیرا پھاڑا

26 : ثُمَّ شَقَقْنَاالْاَرْضَ شَقًّا (پھرعجیب طور پر زمین کو پھاڑا) نباتات سے پھاڑا۔
Ayah 80:27

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

پھر ہم ہی نے اس میں اناج اگایا

27 : فَاَنْچبَتْنَا فِیْھَا حَبًّا (پھر ہم نے اس میں غلہ اگایا) مثلاً گندم، جو وغیرہ جو انسانی غذاء میں کام آتا ہے۔
Ayah 80:28

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور انگور اور ترکاری

28 : وَّعِنَبًا وَّقَضْبًا (اور انگور اور ترکاری) عنباًؔ انگورکا پھل یہ طعام اور میوہ دونوں ہیں۔ قضباؔ ترکاری۔ یہ قضب یقضب کا مصدر ہے۔ جس کو بطور تسمیہ استعمال فرمایا۔ اس کو قضب کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کو بار بار کاٹا جاتا ہے۔
Ayah 80:29

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کجھوریں

29 : وَّزَیْتُوْنًا وَّنَخْلًا ( اور زیتون اور کھجور)
Ayah 80:30

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور گھنے باغ

30 : وَّحَدَآئِقَ غُلْبًا (اور گنجان باغ) حدائق : باغات۔ غلباؔ گھنے درختوں والے۔ یہ غلباء کی جمع ہے۔
Ayah 80:31

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور میوے اور چارا

31 : وَّفَا کِھَۃً وَّاَبًّا ( اور میوے اور چارہ پیدا کیا) فاکھۃؔ میوے تمہاری خاطر واباًؔ یعنی چارہ تمہارے چوپایوں کیلئے۔
Ayah 80:32

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

(یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے لیے بنایا

32 : مَّتَاعًا لَّکُمْ وَلِاَ نْعَامِکُمْ (تمہارے اور تمہارے مواشی کے فائدہ کیلئے) متاعاًؔ یہ مصدر ہے فائدہ پہنچانے کیلئے تمہیں اور تمہارے جانوروں کو۔
Ayah 80:33

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ Open ayah 80:33 in the Quran reader

تو جب (قیامت کا غل مچے گا)

33 : فَاِذَا جَآ ئَ تِ الصَّآخَّۃُ (پھر جس وقت کانوں کا بہرہ کردینے والاشور برپا ہوگا) اس سے قیامت کی چیخ مراد ہے کیونکہ وہی کانوں کو پھاڑ ڈالے گی یعنی بہرہ کردے گی۔ اذاؔ کی شرط کا جواب ظاہر ہونے کی وجہ سے محذوف ہے (اس وقت انسان کو اپنی ناشکری کا نتیجہ ملے گا)
Ayah 80:34

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ Open ayah 80:34 in the Quran reader

اس دن بھائی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا

احوالِ قیامت : 34 : یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ (جس روز ایسا آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا) ۔
Ayah 80:35

وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ Open ayah 80:35 in the Quran reader

اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے

35 : وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ (اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے) نمبر 1۔ اس لئے کہ اس کے اور ان کے مابین حقوق اور تاوان ہونگے۔ نمبر 2۔ اپنے نفس میں شدید مشغولیت کی وجہ سے۔
Ayah 80:36

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ Open ayah 80:36 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے

36 : وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ (اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا) صاحبہؔ بیوی۔ بنیہؔ اور قرآن مجید نے بھائی سے ابتداء کی اور پھر والدین کا ذکر کیا۔ کیونکہ وہ دونوں قریب تر ہیں۔ پھر بیوی اور اولاد کو لایا گیا کیونکہ وہ اس کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ ایک قول : یہ ہے سب سے پہلا شخص جو اپنے بھائی سے بھاگے گا وہ ہابیل ہوگا اور سب سے پہلے والدین سے بھاگنے والے ابراہیم (علیہ السلام) اور بیوی سے بھاگنے والے نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) ہونگے۔ اور بیٹے سے بھاگنے والے نوح (علیہ السلام) ہونگے۔
Ayah 80:37

لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ Open ayah 80:37 in the Quran reader

ہر شخص اس روز ایک فکر میں ہوگا جو اسے (مصروفیت کے لئے) بس کریگا

37 : لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْھُمْ یَوْمَپذٍ شَاْنٌ یُّغنِیْہِ (ان میں سے ہر شخص کو ایسا مشغلہ ہوگا جو اس کو اور طرف متوجہ نہ ہونے دے گا) شانؔ ایسی حالت جو اس کی اپنی ذات سے متعلق ہوگی۔ یغنیہؔ جو اس کو غیر سے مشغول کر کے اپنے اہتمام میں مگن کردے گی۔
Ayah 80:38

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌۙ Open ayah 80:38 in the Quran reader

اور کتنے منہ اس روز چمک رہے ہوں گے

38 : وُجُوْہٌ یَّوْمَپذٍ مُّسْفِرَۃٌ (بہت سے چہرے اس روز روشن وخنداں) روشن، چمکدار رات کے قیام کی وجہ سے۔ نمبر 2۔ آثار وضوء سے چمکدار ہونگے۔
Ayah 80:39

ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ Open ayah 80:39 in the Quran reader

خنداں و شاداں (یہ مومنان نیکوکار ہیں)

39 : ضَاحِکَۃٌ مُّسْتَبْشِرَۃٌ (شاداں ہونگے) ان چہروں والے شاداں ہونگے یہ مومن ہیں جو مسرور وخوش باش ہونگے۔
Ayah 80:40

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌۙ Open ayah 80:40 in the Quran reader

اور کتنے منہ ہوں گے جن پر گرج پڑ رہی ہوگی

40 : وَوُجُوْہٌ یَّوْمَپذٍ عَلَیْھَا غَبَرَۃٌ (اور بہت سے چہروں پر اس روز ظلمت ہوگی) غبرۃؔ یعنی غبار۔