80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 80:1–2

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

تیوری2 چڑھائی اور منہ موڑ ا

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

اس بات سے کہ آیا اس کے پاس اندھا

2:۔ ” عبس وتولی “ تنبیہ برائے نبی کریم ﷺ ۔ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے پاس صنادید قریش عتبہ، شیبہ، ابو جہل، میہ اور ولید وغیرھم بیٹھے تھے آپ ان کو سمجھا رہے تھے اور اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔ آپ کو امید تھی کہ اگر یہ لوگ اسلام لے آئے تو ان کی وجہ سے بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اسی اثناء میں حضرت عبداللہ یا عمرو بن ام مکتوم ؓ جو ایک نابینا صحابی تھے اور حضرت خدیجہ ؓ کے ماموں زاد بھائی تھے، آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ چونکہ نابینا تھے اس لیے آپ کی اس نہایت ہی اہم مصروفیت کا اندازہ نہ کرسکے اور حضور ﷺ سے قرآن پڑھانے کی بار بار درخواست کرنے لگے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی بلکہ ان کی اس حرکت کو ناپسند فرمایا۔ اور چہرے سے ایک مخصوص کیفیت سے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور ان کی طرف سے رخ موڑ لیا، مگر اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناپسند ہوئی اور آپ کو تنبیہ فرمائی۔ ضمائر غائب آنحضرت ﷺ سے کنایہ ہیں۔ ترشروئی کی اور منہ پھیرلیا اس لیے کہ آپ کے پاس ایک نابینا آگیا۔ اس نابینا سے آپ کے اعراض میں بھی رضائے الٰہی کا جذبہ مضمر تھا اور یہ اعراض کبر و نفرت کی وجہ سے نہ تھا۔ آپ نے خیال فرمایا کہ یہ نابینا تو مخلص مومن ہے اور اسے ذرا ٹھہر کر بھی پڑھایا جاسکتا ہے لیکن صنادید قریش کو شاید اس طرح سمجھانے کا موقع پھر ہاتھ نہ لگ سکے نیز اگر وہ سمجھ گئے تو ان کی وجہ سے ہزاروں لوگ مسلمان ہوجائیں گے۔
Ayahs 80:3–4

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

اور3 تجھ کو کیا خبر ہے شاید کہ وہ سنورتا

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا سوچتا تو کام آتا اس کے سمجھانا

3:۔ ” وما یدریک “ آپ کو کیا معلوم شاید وہ نابینا آپ سے قرآن سن کر ہی پاک ہوجاتا اور ” یذکر “ یا نصیحت سن کر اس میں غور و فکر کرتا اور اس طرح اس سے فائدہ اٹھاتا۔ ” یزر کی “ میں قبول کا اعلی درجہ کا ذکر ہے یعنی سنتے ہی اس سے متاثر ہو کر برائیوں سے پاک ہوجاتا میں ادنی مرتبہ مذکور ہے کہ غور و تدبر کے بعد اسے سمجھ لیتا۔
Ayahs 80:5–10

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

وہ جو4 پروا نہیں کرتا

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

سو تو اس کی فکر میں ہے

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

اور تجھ پر کچھ الزام نہیں کہ وہ نہیں درست ہوتا

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

اور وہ جو آیا تیرے پاس دوڑتا

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور وہ ڈرتا ہے

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

سو تو اس سے تغافل کرتا ہے

4:۔ ” اما من استغنی “ جو ایمان سے اور آپ کی دعوت و تبلیغ سے مستغنی اور بےنیاز ہیں آپ ان کے درپے ہیں اور غور سے ان کی باتیں سنتے ہیں۔ اگر وہ ایمان نہ لائیں اور کفر و شرک سے پاک نہ ہوں تو اس سے آپ پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ آپ کا کام بتانا، سنان اور سمجھانا ہی منوانا آپ کا کام نہیں۔ اس سے مراد صنادید قریش ہیں جو آپ کی دعوت و تبلیغ میں کوئی حقیقی دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ واما من جاءک “ لیکن جو شخص یعنی ابن ام مکتوم بڑے شوق سے دوڑتا ہوا آپ کے پاس آتا ہے اور وہ خدا سے ڈرتا بھی ہے۔ ہدایت کا متمنی اور راہ حق کا جو یا بھی ہے آپ اس سے اعراض کرتے اور اس سے غفلت کا برتاؤ فرماتے ہیں۔
Ayahs 80:11–16

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

یوں نہیں5 یہ تو نصیحت ہے

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

پھر جو کوئی چاہے اس کو پڑھے

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

لکھا ہے عزت کے ورقوں میں

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

اونچے رکھے ہوئے

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

نہایت ستھرے4 ہاتھوں میں لکھنے والوں کے

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

جو بڑے درجہ والے نیک کار ہیں

5:۔ ” کلا “ حرف ردع ہے۔ یوں تو نہیں چاہئے تھا۔ یہ بمعنی ” حقا “ ہے اور ما بعد سے متعلق ہے یعنی یقیناً ۔ یہ آیت قرآنیہ ہر ایک کے لیے عبرت و نصیحت ہیں جو بھی چاہے انہیں پڑھ سن کر ان سے نصیحت حاصل کرے۔ ” فی صحف “ اس سے مراد وہ صحیفے اور تختیاں ہیں جن پر فرشتے لوح محفوظ سے کلام اللہ کو نقل کرتے ہیں وہ صحیفے اللہ کے نزدیک قابل تکریم ہیں، قدر و منزلت میں بہت بلند اور پاکیزہ ہیں کہ فرشتوں کے سوا کسی کا ہاتھ ان کو نہیں لگا۔ وہ صحیفے ایسے فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت والے ہیں اور گناہوں سے پاک اور اللہ تعالیٰ کے نہایت فرمانبردار ہیں۔ اکثر مفسرین کے نزدیک ” سفرۃ “ سے صحابہ کرام ؓ مراد ہیں جو قرآن کی آیتوں کو صحیفوں اور تختیوں میں لکھ لیا کرتے تھے۔ حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) کے فوائد سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک ” سفرۃ “ سے فرشتے اور کاتبان صحابہ دونوں مراد ہیں۔
Ayah 80:17

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

مارا جائیو6 آدمی کیسا ناشکرا ہے

6:۔ ” قتل الانسان “ یہ زجر ہے۔ ” الانسان “ سے انسان کافر مراد ہے اور یہ اس پر بد دعاء ہے۔ ” قتل “ ای لعن، خدا کی رحمت سے دور ہو۔ یہ سب سے بڑی بد دعا ہے۔ ” ما اکفرہ “ فعل تعجب ہے یا استفہام برائے توبیخ ہے۔ ایمان و تسلیم کے اس قدر اسباب و دواعی کے باوجود اس کا کفر نہایت ہی قابل تعجب ہے۔ دعاء علیہ باشنع الدعوات و تعجب من افراطہ فی الکفر بعد ھجوم الدواعی علی التشکر والایمان (مظہری ج 10 ص 200) ۔ استفہام توبیح ای ای شیء حملہ علی الکفر او ھو تعجب ای ما اشد کفرہ (مدارک) ۔
Ayahs 80:18–23

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

کس7 چیز سے بنایا اس کو

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

ایک بوند سے بنایا اس کو پھر اندازہ پر رکھا اس کو

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر راہ آسان کردی اس کی

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اس کو مردہ کیا پھر قبر میں رکھوا دیا اس کو

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر جب چاہا اٹھا نکالا اس کو

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

ہرگز نہیں پورا نہ کیا جو اس کو فرمایا

7:۔ ” من ای شیء خلقہ “ استفہام بمعنی تقریر ہے اور ” ای شیء “ سے مراد بیان تحقیر ہے یعنی نہایت حقیر چیز سے اللہ نے اس کو پیدا فرمایا ہے ” من نطفۃ “ یہ اس حقیر چیز کا بیان ہے۔ نطفہ سے اس کو رحم مادر میں پیدا کیا اور اس کی اجل، اس کے عمل، اس کے رزق اور اس کی سعادت و شقاوت کا فیصلہ کیا پھر ایام حمل گذر جانے کے بعد رحم مادر سے اس کے باہر نکلنے کا راستہ آسان فرمایا پھر اس کو موت دی اور قبر میں اتروا دیا پھر جب چاہے گا اسے دوبارہ زندہ فرما لے گا۔ ” کلا “ بمعنی ” حقا “ ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ انسان کافر نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل نہیں کی۔ حالانکہ اس کا فرض تھا کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات جلیلہ کے پیش نظر وہ اس پر ایمان لاتا اور اس کے تمام اوامرو نواہی کی تعمیل کرتا۔ ” فاقبرہ “ غالب امر کی بناء پر ارشاد فرمایا، کیونکہ مردوں کی غالب اکثریت کو قبروں ہی میں دفن کیا جاتا ہے اس لیے اس آیت سے قبر کے لیے حفر (کھودنے) کی فرضیت ثابت کرنا صحیح نہیں۔
Ayahs 80:24–32

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

اب دیکھ8 لے آدمی اپنے کھانے کو

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

کہ ہم نے ڈالا پانی اوپر سے گرتا ہوا

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر چیرا زمین کو پھاڑ کر

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

پھر اگایا اس میں اناج

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور انگور اور ترکاری

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کھجوریں

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور گھن کے باغ

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور میوہ اور گھاس

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

کام چلانے کو تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے

8:۔ ” فلینظر الانسان “ یہ ثبوت قیامت پر عقلی دلیل ہے۔ ” قضبا “ ترکاریاں۔ ” غلبا “ گنجان۔ ” ابا “ گھاس۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے پینے کی اشیاء کو دیکھئے کس طرح ہم نے ان کو پیدا کیا ہے ہم نے آسمان سے مینہ برسایا، پھر زمین کو شق کردیا اور اس میں غلے انگور، ترکاریاں، زیتون، کھجوریں، ہر قسم کے گنجان باغات، میوہ جات اور گھاس پیدا کی۔ یہ تمام چیزیں تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے لیے سامان زندگی ہیں۔ یہ سارے انعامات کس نے عطاء کیے ہیں ذرا غور تو کرو اور بتاؤ جو مردہ زمین کو زندہ کر کے اس میں انواع و اقسام نبات پیدا کرسکتا ہے کیا وہ مردوں کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ضرور کرسکتا ہے اور کرے گا اور جب وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا اس دن لوگوں کا جو حال ہوگا اس کی کیفیت بھی سن لو۔
Ayahs 80:33–37

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ Open ayah 80:33 in the Quran reader

پھر جب9 آئے وہ کان پھوڑنے والی

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ Open ayah 80:34 in the Quran reader

جس دن کہ بھاگے مرد اپنے بھائی سے

وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ Open ayah 80:35 in the Quran reader

اور اپنی ماں اور اپنے باپ

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ Open ayah 80:36 in the Quran reader

اور اپنی ساتھ والی سے اور اپنے بیٹوں سے

لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ Open ayah 80:37 in the Quran reader

ہر مرد کو ان میں سے اس دن ایک فکر لگا ہوا ہے جو اس کے لیے کافی ہے

9:۔ ” فاذا جاءت “ یہ تخویف اخروی ہے اور اس میں سورت کا دعوی مذکور ہے علی سبیل الترقی۔ یہاں قیامت کی شدت اور ہولناکی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ہر شخص کو صرف اپنی جان کی فکر ہوگی یہاں تک آدمی اپنے بھائی، اپنے باپ اور اپنے بیوی بچوں سے بھی دور بھاگے گا اور کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا۔ ہر شخص کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوں گے اور وہ اپنے انجام کی فکر میں دوسروں سے بالکل بیخبر اور غافل ہوگا۔