Ayahs 80:1–6حضرت ابن ام مکتوم ؓ ایک صحابی تھے، جو نابینا تھے ان کا نام عبداللہ بن ام مکتوم معروف و مشہور ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان کا نام عمرو تھا اور والد کا نام قیس تھا، وہ مہاجرین اولین میں سے تھے۔ مشہور قول کے مطابق رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے سے پہلے مدینہ منورہ میں ہجرت کر کے آگئے تھے، ایک مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا کہ مشرکین کے سرداروں میں سے بعض لوگ موجود تھے رسول اللہ ﷺ ان سے باتیں کر رہے تھے اور اسلام کی تبلیغ فرما رہے تھے، اسی اثناء میں حضرت ابن ام مکتوم حاضر خدمت ہوگئے (چونکہ وہ نابینا تھے اس لیے انہیں آنحضرت سرور عالم ﷺ کی مشغولیت کا پتہ نہ چلا) اور بار بار عرض کرتے رہے کہ مجھے بھی کچھ سکھا دیجئے، آپ کو اس وقت ان کا آجانا اچھا نہ لگا کیونکہ وہ گفتگو کے درمیان بیچ میں آگئے جس سے ایسی صورت حال پیدا ہوگئی کہ ان کا جواب دیں تو حاضرین سے جو بات ہو رہی تھی وہ کٹ جاتی، آپ نے ابن ام مکتوم کی طرف سے اعراض فرمایا اور سرداران قریش میں سے جس سے بات ہو رہی تھی اس کی طرف متوجہ رہے آپ کے خیال مبارک میں یہ بات تھی کہ یہ تو اپنا ہی آدمی ہے کبھی بھی میرے پاس آسکتا ہے اور سوال کرسکتا ہے لیکن ان قریش کے سرداروں میں سے کوئی شخص اسلام قبول کرلے تو سارے قریش پر اس کا اثر پڑے گا اور اس کا فائدہ زیادہ ہوگا، اس وقت ابن ام مکتوم پر توجہ دیتا ہوں تو یہ لوگ یوں کہیں گے کہ ان کے ساتھی یہ ہی نابینا اور نیچے درجہ کے لوگ (غلام باندی) ہیں۔ سنن ترمذی میں یوں ہے کہ وعند رسول اللہ ﷺ رجل من عظماء المشرکین۔ لیکن معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ جس وقت ابن مکتوم حاضر ہوئے اس وقت آپ کی خدمت میں عتبہ بن ربیعہ اور ابو جہل اور عباس بن عبدالمطلب اور ابی بن خلف اور امیہ بن خلف موجود تھے۔ اور تفسیر بیضاوی میں ہے وعندہ صنادید قریش کہ آپ کے پاس سرداران قریش موجود تھے۔
بہرحال رسول اللہ ﷺ کو اس وقت ابن ام مکتوم کا آنا اور بات کرنا ناگوار ہوا اور اس کا اثر چہرہ انور پر ظاہر ہوا، اس پر اللہ جل شانہ نے عتاب فرمایا اور سورة ٴ عبس نازل فرمائی، ارشاد فرمایا ﴿ عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ001﴾ (منہ بنایا اور روگردانی کی) ﴿ اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ002﴾ (یعنی رخ پھیرلیا اس وجہ سے کہ ان کے پاس نابینا آگیا) پہلے تو غائب کا صیغہ استعمال فرمایا اس میں آپ کا اکرام ہے۔ پھر صیغہ خطاب ارشاد فرمایا :﴿ وَ مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰۤىۙ003﴾ (اور آپ کو کیا خبر شاید وہ سنور جاتا) ۔ ﴿ اَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ004﴾ (یا وہ نصیحت قبول کرتا سو نصیحت اسے فائدہ دیتی) یعنی وہ نابینا جو آیا وہ پہلے سے مومن تھا اس نے آپ سے دینی باتیں معلوم کرنا چاہیں آپ اسے کچھ بتاتے سمجھاتے تو وہ اپنی حالت کو سنوار لیتا اور نصیحت حاصل کرتا اور اسے کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچتا۔ آپ کو اس کے سنورنے اور سدھرنے اور نصیحت سے نفع حاصل کرنے کی امید رکھنا چاہیے۔ لفظ لعل جو ترجی کے لیے آتا ہے اسی مفہوم کے ظاہر کرنے کے لیے استعمال فرمایا۔
﴿اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ005 فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ006﴾ (لیکن جس نے بےپروائی کی اس کے لیے آپ پیش آجاتے ہیں) ۔
Ayah 80:7﴿ وَ مَا عَلَيْكَ اَلَّا يَزَّكّٰىؕ007﴾ (اور آپ پر اس بات کا کوئی الزام نہیں کہ وہ نہ سنورے) یعنی جس نے آپ کا دین قبول نہیں کیا اگر وہ اپنی حالت کو نہ سدھارے یعنی ایمان قبول نہ کرے تو اس بارے میں آپ سے کوئی مواخذہ نہیں۔
Ayahs 80:8–10﴿ وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ يَسْعٰىۙ008 وَ هُوَ يَخْشٰىۙ009 فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ0010﴾ (اور جو شخص آپ کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے اور وہ ڈرتا ہے سو آپ اس کی طرف سے بےتوجہی برتتے ہیں) ۔
علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا مقصد نیک تھا مشرکین کے اسلام قبول کرنے کی امید پر ان سے باتیں کرتے رہے اور حضرت ابن ام مکتوم ؓ کی طرف توجہ نہ دی لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تاکہ اصحاب صفہ کے دل نہ ٹوٹیں اور یہ معلوم ہوجائے کہ فقیر مومن غنی کافر سے بہتر ہے اور مومن کا خیال کرنا اولیٰ ہے اگرچہ فقیر ہو۔ مزید فرماتے ہیں کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے سورة الانعام میں ﴿ وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِيِّ ﴾ اور سورة الکہف میں ﴿ وَ لَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ 1ۚ تُرِيْدُ زِيْنَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ﴾ فرمایا ہے۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ حضرت ابن مکتوم ؓ کا خاص اکرام فرماتے تھے اور جب ان کو آتا ہوا دیکھتے تھے تو فرماتے تھے مرحبا بمن عاتبنی فیہ ربی (مرحبا ہے اس شخص کے لیے جس کے بارے میں میرے رب نے مجھے عتاب فرمایا) اور ان سے بار بار دریافت فرماتے تھے کہ کیا تمہاری کوئی حاجت ہے۔ الاستیعاب اور الاصابہ میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پیچھے غزوات میں تیرہ مرتبہ خلیفہ بنایا یعنی جب آپ جہاد کے لیے تشریف لے جاتے تھے تو امامت اور امارت ان کے سپرد کر کے جاتے تھے۔
Ayahs 80:11–16اس کے بعد فرمایا ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ0011 ﴾ آپ ہرگز ایسا نہ کیجیے کہ جو شخص آپ کے پاس دینی باتیں معلوم کرنے آئے اس کی طرف سے بےتوجہی کریں کیونکہ قرآن ایک نصیحت کی چیز ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے آپ کے ذمہ صرف پہنچانا ہے جو قرآن اور اس کی نصیحت قبول نہ کرے اس کا وبال اسی پر ہے، آپ پر کوئی ضرر نہیں اس کے بعد قرآن کے اوصاف بیان فرمائے کہ وہ ایسے صحیفوں میں ہے جو اللہ کے یہاں مکرم ہیں اور بلند اور مقدس ہیں، کیونکہ شیاطین وہاں تک نہیں پہنچ سکتے اور یہ صحیفے ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں جو باعزت اور نیک ہیں (فرشتے چونکہ لوح محفوظ سے قرآن مجید کو نقل کرتے ہیں اس لیے ﴿ بِاَيْدِيْ سَفَرَةٍۙ0015 كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ0016﴾ فرمایا۔
Ayah 80:17ان آیات میں انسان کی ناشکری کا اور اس کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا : ﴿قُتِلَ الْاِنْسَانُ﴾ (انسان پر خدا کی مار ہو) یعنی وہ اس لائق ہے کہ ذلیل ہو اور اس پر اللہ کی لعنت ہو (قال فی معالم التنزیل ای لعن الکافر) ﴿ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ0017﴾ (وہ کتنا بڑا ناشکرا ہے) اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا فرمایا کتنی نعمتوں سے نوازا۔ نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا اور سب سے بڑی ناشکری یہ ہے کہ ایمان کے بجائے کفر اختیار کیا۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور یہ بھی معلوم ہے کہ کس چیز سے پیدا کیا ہے، لیکن نافرمانی پر تلا ہوا ہے۔
Ayahs 80:18–19﴿ مِنْ اَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهٗؕ0018﴾ (اسے کس چیز سے پیدا فرمایا) ﴿مِنْ نُّطْفَۃٍ﴾ (نطفہ سے پیدا فرمایا) جو حقیر اور ذلیل مادہ ہے اگر اپنی اصل کو دیکھے تو شرم سے آنکھیں نیچی ہوجائیں اور خالق کائنات جل مجدہ کی طرف سچے دل سے متوجہ ہو جس نے ذلیل پانی سے ایسی اچھی جیتی جاگتی گوشت اور ہڈی اور بال اور کھال والی مورتی بنا دی۔ ﴿خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ﴾ انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا پھر اس کے اعضاء کو ایک خاص انداز سے بنایا اور ترتیب سے لگایا (كما فی سورة القیامة ثم کان علقة فلق فسوی) ۔
Ayah 80:20﴿ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهٗۙ0020﴾ (پھر اس کے نکلنے کا راستہ آسان کردیا) ماں کے رحم میں نطفہ سے خون کے لوتھڑے سے شکل و صورت بنتی ہے پھر اس میں جان ڈالی جاتی ہے یہ جاندار بچہ جس کا اچھا خاصا جسمانی وجود ہوتا ہے ایک تنگ راستہ سے باہر آجاتا ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظاہرہ ہے اسی نے اندر مادر رحم میں تخلیق فرمائی اور اسی نے باہر آنے کا راستہ بنایا اور باوجود تنگ راستہ ہونے کے بچہ کے باہر آنے میں آسانی فرما دی۔
Ayah 80:21﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ0021﴾ (پھر اسے موت دی پھر اسے قبر میں چھپا دیا) مرنا اور جینا انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے اور موت کے بعد تو بالکل ہی بےبس ہوجاتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ کے دوسرے بندے بحکم الٰہی تشر یعا وتکوینا قبر میں پہنچا دیتے ہیں، چونکہ عموماً بنی آدم مردوں کو دفن ہی کرتے ہیں اس لیے لفظ اقبرہ فرمایا انسان کے دفن کیے جانے میں اس کا اکرام ہے اگر میدان میں پڑا رہے اور جانور کھاتے رہیں اور ادھر ادھر ہڈیاں پڑی رہیں اس کی بجائے اس کی نعش کو زمین کے حوالے کردیا جاتا ہے وہ اسے سنبھال لیتی ہے۔ یہ ظاہری اکرام ہے اس کے بعد قبر میں کیا ہوتا ہے اس کا تعلق مرنے والے کے ایمان اور کفر اور اچھے برے اعمال سے ہے۔ بعض قومیں اپنے مردوں کو جلا دیتی ہیں اور بعض گدھوں کو کھلا دیتی ہیں لیکن جو لوگ دین سماوی کے مدعی ہیں وہ اپنے مردوں کو دفن ہی کرتے ہیں، جو لوگ دفن نہیں کرتے وہ بالآخر راکھ بن کر یا جانور کی غذا بن کر زمین ہی کے حوالے ہوجاتے ہیں کیونکہ جانور بھی مر کر مٹی ہی میں جاتے ہیں۔ اسی کو سورة ٴ مرسلات میں فرمایا ﴿اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ0025 اَحْيَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ0026﴾ (کیا ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کو سمیٹنے والا نہیں بنایا) ۔
Ayahs 80:22–23﴿ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ0022﴾ (پھر جب چاہے گا اسے دوبارہ زندہ فرما دے گا) یعنی دنیا میں جینا اور مرجانا اسی پر بس نہیں ہے اس کے بعد پھر زندہ ہونا ہے اور دنیا والی زندگی کے اعمال کا حساب دینا ہے۔ ﴿ كَلَّا ﴾ (انسان نے ہرگز شکر ادا نہیں کیا) (قال صاحب الروح : ردع للانسان عما ھو علیہ من کفران النعم البالغ نھایتہ) ۔
﴿لَمَّا يَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ0023﴾ (اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کا حکم دیا انسان اس حکم کو نہیں بجالایا) ۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اس سے عہد ﴿اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ﴾ کی خلاف ورزی مراد ہے، اللہ تعالیٰ کے رب ماننے کا اقرار کیا پھر دنیا میں آئے تو خلاف ورزی کی اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ دنیا میں آنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور کتابوں کے ذریعہ جو ہدایت آئی اور احکام نازل ہوئے ان کے مطابق عمل نہ کیا (عام طور سے انسانوں کا مزاج اور رواج اور چال چلن اسی طرح سے ہے)
Ayahs 80:24–31ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ نے انسان کو غور و فکر کرنے کا حکم دیا ہے، ارشاد فرمایا کہ انسان اپنے کھانے کی چیزوں میں غور کرے، یہ چیزیں زمین سے نکلتی ہیں۔ ان میں غلے بھی ہیں اور پھل بھی، انگور بھی ہیں اور زیتون بھی، کھجوریں بھی ہیں اور سبزیاں ترکاریاں بھی، نیز فواکہ بھی ہیں جنہیں بطور تفکہ کھاتے ہیں اور گھاس پھوس بھی ہے جو جانوروں کا چارہ بن جاتا ہے، جن درختوں پر پھل آتے ہیں وہ صرف یہی نہیں کہ اکا دُكا کوئی درخت کہیں نکل آیا بلکہ ان کے باغ ہیں جن میں بڑے بڑے درخت ہیں، ان میں خوب کثرت سے پھل پیدا ہوتے ہیں، لفظ حدائق حدیقہ کی جمع ہے جس باغ کی چار دیواری بنا دی گئی ہو وہ حدیقہ ہے اور جس کی چار دیواری نہ ہو وہ باغ تو ہے حدیقہ نہیں اور عنبا کے بارے میں مفسرین فرماتے ہیں عظاما شجرھا یعنی ان کے درخت بڑے بڑے ہوتے ہیں اس میں تن آور ہونا پھیلنا شاختوں کا گنجان ہونا سب داخل ہیں۔ کھیتیاں ہوں یا باغ ان کا ظاہری سبب اللہ نے یہ بنایا کہ اللہ تعالیٰ شانہ زمین پر پانی برساتا ہے وہ پانی زمین کے اندر جاتا ہے جو بیج گٹھلی کے ابھرنے کا سبب بن جاتا ہے اور پودے نکلتے ہیں۔ اسی کو فرمایا : ﴿اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ0025 ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ0026﴾ (ہم نے خوب اچھی طرح پانی برسایا پھر ہم نے زمین کو عجیب طریقہ پر پھاڑ دیا) ۔
Ayah 80:32﴿مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ0032﴾ اوپر جن چیزوں کا بیان ہوا انہیں تمہارے لیے اور تمہارے جانوروں کے فائدہ کے لیے پیدا فرمایا ہے، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں ان کے ذریعہ انسان جیتا ہے زندگی گزارتا ہے اس پر لازم ہے کہ ان چیزوں میں غور کرے اور ان کے اور اپنے خالق کی طرف رجوع ہو۔
قولہ تعالیٰ ﴿وَّ اَبًّا ﴾ اختلف فی معناہ علٰی اقوال کثیرة فقیل ھو ماتا کلہ البھائم من العشب قال ابن عباس والحسن الابُّ كل ما انبتت الارض ممالا یاکلہ الناس ومایا کلہ الادمیون ھو الحصید، وعن ابن عباس ایضا وابن ابی طلحة الاب الثمار الرطبة، وقال الضحاک ھو التین خاصة وھو محکی عن ان عباس ایضا، وقال ابراھیم التیمی سئل ابوبکر الصدیق ؓ عن تفسیر الفاکھة والاب فقال ای سماء تظلنی وای ارض تقلنی اذا قلت فی کتاب اللہ ما لا اعلم وقال انس ؓ سمعت عمر بن الخطاب ؓ قرا ھذہ الایة ثم قال کل ھذا قد عرفناہ فما الاب ؟ ثم رفع عصا کانت بیدہ وقال ھذا لعمر اللہ التکلف وما علیک یا ابن ام عمر الا تدری ما الاب ثم قال اتبعوا مابین لکم من ھذا الکتاب وما لافدعوہ۔ (راجع تفسیر القرطبی الجزء التاسع عشر صفحہ 222، 223)