Ayah 80:1(1) عبس وتولی : اس میں رسول اللہ ﷺ کو غائب کے صیغے سے ذکر فرمایا، اگرچہ بعد میں ”وما یدریک“ سے مخاطب فرما لیا۔ اس میں نکتہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نابینے صحابی سے بےتوجہی کی تو اللہ تعالیٰ نے بطور عتاب آپ کے خطاب سے بےتوجہی فرمائی۔ موضح القرآن میں ہے :”یہ کلام گویا اوروں کے پاس گلہ ہے رسول کا۔ آگے رسول کو خطاب فرمایا۔“ بعض اہل علم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اکرام کی وجہ سے آپ کو مخاطب کر کے اظہار ناراضی نہیں فرمایا۔
(2) بعض حضرات نے ”تیوری چڑھانے والا“ اس مشرک کو قرار دیا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا تھا، مگر اس کے بعد آنے والی آیات میں صاف رسول اللہ ﷺ کو مخطاب کر کے فرمایا :(فانت عنہ تلھی) یعنی آپ اس آنے والے (نابینے صحابی) سے بےتوجہی کرتے ہیں۔ اس لئے مذکورہ تفسیر درست نہیں۔
Ayah 80:2(ان جآہ الاعمی :(اس لئے تیوری چڑھائی) کہ اس کے پاس نابینا آیا، حالانکہ نابینا تو زیادہ لطف و کرم کا مستحق تھا۔ پھر اگر اس کے دین کی بات پوچھنے سے کسی چودھری کیساتھ کلام قطع ہوا ہے، جس کے اسلام لانے کی آپ کو امید تھی اور اس وجہ سے تیوری پڑی ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ؟ وہ تو نابینا ہے، اسے کیا پتا کہ آپ کس سے بات کر رہے ہیں ؟
Ayahs 80:3–4(وما یدریک لعلہ یزکی…: آپ نے جو یہ سمجھا کہ یہ نابینا تو مسلمان ہی ہے، کسی اور وقت مسئلہ پوچھ لے گا، مجھے کافر کو مسلمان بنانے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تو یہ بات اگرچہ ایک حد تک درست ہے، مگر آپ کو اس بات کا خیال بھی ضروری تھا کہ وہ کافر تو آپ کی ہدایت سے فائدہ اٹھانے پر تیار ہی نہیں۔ خوف ناک بیماری میں مبتلا شخص کا علاج مقدم ہونا چاہئیم گر وہ دوا لینے پر آمادہ ہی نہ ہو تو اس کی امید میں آپ اپنے ساتھیوں سے کیوں بےتوجہی کریں، جو دوائے دل کے طالب ہیں کہ آپ توجہ فرمایئں تو وہ جہل اور گناہ سے خوب پاک صاف ہوجائیں۔”یزکی“ میں مبالغہ ہے، یا آپ کی نصیحت سے انہیں نفع حاصل ہوجائے۔
Ayahs 80:5–10(اما من استغنی …:”تصدی“ اصل میں ”تنصدی ‘ اور ”تلھی“ اصل میں ”تتلھی“ فعل مضارع مخاطب ہیں۔ یعنی جسے اپنی دولت اور سرداری کی وجہ سے آپ کی پرواہی نہیں آپ اس کے پیچھے پڑ رہے ہیں، حالانکہ اگر وہ کفر کی نجاست سے پاک نہیں ہوتا تو آپ پر کچھ الزام نہیں اور جو کوشش کر کے آیا ہے اور وہ اللہ سے ڈرتا ہے تو آپ سے بےتوجہی کرتے ہیں، حالانکہ آپ کی توجہ کا اصل حق دار وہ ہے جو طلب رکھتا ہے گونادار ہے، وہ نہیں جو بےپروا ہے خواہ سرمایہ دار ہے۔
Ayahs 80:11–12کلا انھا تذکرہ…:”کلا“ ہرگز نہیں ، یعنی جو ہوا سو ہوا، آئندہ ہرگز اس طرح نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ قرآن تو ایک نصیحت ہے جو ہر خاص و عام کے لئے ہے، اس میں کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دی جانی چاہیے، پھر جو چاہے نصیحت قبول کرلے، اس کا اپنا فائدہ ہے اور کوئی متکبر اگر صنیحت سن لینے کے باوجود اسے قبول نہیں کرتا تو آپ کو بھی قبول کرنے والوں کو چھوڑ کر اس کے پیھچے پڑنے کی ضرورت نہیں۔
Ayahs 80:13–14(فی صحف مکرمۃ…: ان آیات میں قرآن مجید کی عظمت بیان کی گئی ہے کہ یہ ایسے اوراق میں لکھا ہوا ہے جن کی عزت کی جاتی ہے، جو بلند شان والے اور پاک ہیں۔ اس سے قرآن مجید کے وہ اوراق مراد ہیں جن میں سے فرشتوں نے لوح محفوظ سے نقل کر کے لکھا، وہ بھی جن میں قرآن کے کاتب صحابہ کرام ؓ عنہمانے رسول اللہ ﷺ سے سن کر لکھا اور وہ بھی جن میں ان سے نقل کر کے لکھا گیا اور قیامت تک لکھا جائے گا۔ قرآن مجید کی جس طرح تکریم کی جاتی ہے اور جس طرح یہ شیاطین اور ملحدوں کی دخل اندازی سے محفوظ، ہر قسم کی تحریف اور رد و بدل سے مامون اور ہر قسم کے خلاف عقل اور خلاف حیا مضامین سے مطہر ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ اس کی ان خصوصیات کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کا موازنہ دوسری آسمانی یا غیر آسمانی کتابوں سے کیا جائے۔ ہمیں بھی قرآن مجید کی زیادہ سے زیادہ تکریم کرنی چاہیے اور اس ی اٹھاتے وقت، رکھتے وقتا ور تلاوت کرتے وقت، غرض ہر موقع پر اس کا بےحد ادب محلوظ رکھنا چاہیے اور اسے اٹھاتے وقت، رکھتے وقت اور تلاوت وقت اور تلاوت کرتے وقت، غرض ہر موقع پر اس کا بےحد ادب محلوظ رکھنا چاہیے۔ اس کی بات آجائے تو پھر کسی کی بات اس پر مقدم نہیں کرنی چاہیے۔
Ayahs 80:15–16(1) بایدی سفرۃ…:”سفرۃ“”سافر“ کی جمع ہے، لکھنے والا۔”سفر“ کتاب، اس کی جمع ”اسفار“ ہے، جیسا کہ فرمایا :(کمثل الحمار یحمل اسفاراً (الحجمۃ : 5)”(بےعمل یہود کی مثال) گدھے کی طرح ہے جو کتابیں اٹھائے ہوئے ہو۔“ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید لکھنے والوں کی تعریف فرمائی ہے، خواہ وہ فرشتے ہوں یا کاتبین وحی، صحابہ ہوں یا دوسرے، فرمایا یہ لوگ اللہ کے ہاں بہت عزت والے اور نہایت نیک ہیں۔ اس طرح کتابت کے علاوہ اس کا پڑھنا پڑھانا بھی سب سے بہتر اور نیک ہونے کی دلیل ہے، عثمان ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (خیر کم من تعلم القرآن وعلمہ) (بخاری، فضائل القرآن، باب خیر کم من تعلم…: 5028)”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔“
(2)”سفرۃ“ ”سفارۃ“ (سفارت) سے بھی مشتق ہوسکتا ہے، تو اس سے مراد فرشتے ہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیانس فیر کی حیثیت رکھتے ہیں کہ ان کے پاس وحی الٰہی لے کر آتے ہیں۔
Ayah 80:17(1) قتل الانسان ما اکفرہ : پچھلی آیات میں ان متکبر کا ذکر گزرا ہے جو حق بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں، اب انھی کافروں پر بد دعا کی گئی ہے، فرمایا :(قتل الانسان)”انسان مارا جائے“ یہ سخت سے سخت بد دعا ہے جو کسی کے لئے کی جاسکتی ہے، کیونکہ دنیا میں سب سے آخری سزا یہ ہے کہ کسی کو ختم ہی کردیا جائے۔ (زمخشری)
(2) سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو توبددعا کرنے کی ضرورت ہی نہیں، تو اس طرح کیوں فرمایا ؟ جواب یہ ہے کہ یہ عرب کے اسلوب پر فرمایا ہے جو ان الفاظ میں بد دعا کرتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اتنی نعمتوں کے باوجود یہ انسان جس طرح ناشکیر کر رہا ہے اس پر کوئی بھی غور کرے گا تو اس کے منہ سے یہ بد دعا نکلے گی۔
(2) ”ما اکفرہ“ کا معنی ہے ”وہ کس قدر ناشکرا ہے !“ دوسرا معنی ہے ”(اتنی نعمتوں کے باوجود) وہ کون سی چیز ہے جس نے اسے ناشکرا بنادیا ہے ؟“ (ابن جریر)
Ayahs 80:18–19من ای شیء خلفہ…: یعنی اس شخص کو تکبر اور ناشکری کس طرح زیب دیتی ہے جسے اس کے بنانے والے نے مٹی کے ایک حقیر قطرے سے پیدا فرمایا ؟ پیدا کرنے کے دوران اس کی ہر چیز کا اندازہ مقرر فرمایا کہ اتنی مدت نطفہ رہے گا، پھر علقہ، پھر مضغہ بےروح، پھر جاندار اور خبوصورت انسان بنے گا۔ پھر اس کی ہر چیز اندازے کے ساتھ بنائی، کوئی چیز بےڈھب نہیں۔ پھر ماں کے شکم ہی میں وہ سب کچھ فرشتے کو لکھوا دیا جو اس نے زندگی بھر کرنا تھا۔”فقدرہ“ میں تینوں چیزیں شامل ہیں۔
Ayah 80:20ثم السبیل یسرہ : پھر اس کے لئے راستہ آسان کردیا۔ اس کے تین معانی ہوسکتے ہیں، پہلا یہ کہ ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا، ورنہ ان تنگ ہڈیوں کے حصار سے نکل ہی نہ سکتا اور وہیں خود بھی مرجاتا اور ماں کی موت کا بھی باعث بنتا، دوسرا یہ کہ خیر و شر میں سے جس راستے پر چلنا چاہے ، وہی اس کے لئے آسان کردیا اور تیسرا یہ کہ صحیح راستے کی پہچان اس کے لئے آسان کردی، جس سے وہ اپنے پیدا کرنے والے پر ایمان لاسکتا ہے۔ تینوں معانی دسرت ہیں، مگر ”من نطفۃ خلقہ فقدرہ“ کی مناسبت سے پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔ (التسہیل)
Ayah 80:21(ثم اماتہ فاقبرہ : پھر اسے موت دی جو آخرت کی مصلحت کے تحت ضروری تھی، پھر اسے قبر میں رکھوایا، اگر وہ یہ احسان نہ کرتا تو یہ جانوروں کیطرح زمین پر پڑا رہتا، متعفن ہو کر اللہ کی مخلوق کے لئے باعث آزار بنتا۔ اس کی بےحرمتی ہوتی، بےپردہ ہوتا اور اسے درندے نوچتے۔ ”قبرہ“ قبر میں رکھا اور ”اقبرہ“ قبر میں رکھوایا۔ کوئی جل جائے، غرق ہوجائے یا اسے درندے کھا جائیں تو اس کے اجزا جہاں بھی ہیں وہ اس کے لئے قبر ہے۔ اگر کسی کو دفن نہ کیا جاسکے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے قبر نہیں ملی۔
Ayah 80:22ثم اذا شآء انشرہ : ان تمام قدرتوں کو دیکھ کر کیا یہ تمہاری سمجھ میں نہیں اتنا کہ دنیا میں آدمی جو بھی کام کرتا ہے اس کا کوئی نہ کوئی انجام ضرور سوچتا ہے، تو پروردگار نے اتنا بڑا سلسلہ کیا اس لئے پیدا فرمایا ہے کہ کوئی اس اکیلے کی پرستش کرے، کوئی اس کی نعمتوں کو بھول کر بتوں کی پرستش کرتا رہے اور کوئی ظلم کرے یا کسی پر ظلم ہو، مرنے کے بعد سب برابر ہوجائیں ؟ نہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کر کے باز پرس فرمائے اور نہ کسی کو اس کے عمل کا بدلا ملے۔ نہیں، اللہ کے بارے میں یہ سوچنا ہی بےادبی اور کفران نعمت ہے۔ ان آیات میں اس بےادبی پر اللہ تعالیٰ نے ”قتل الانسان ما اکفرہ“ کہہ کر خشکی کا اظہار فرمایا اور سورة مومنوں میں فرمایا :(افحسبتم انما خلقنکم عبشا وانکم الینا لاترجعون، فتعلی اللہ الملک الحق لا الہ الا ھو رب العرش الکریم) (المومنون : 115، 116)”تو کیا تم نے سمجھ لیا کہ ہم نے تمہیں بےمقصد ہی پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے ؟ پس اللہ بہت بلند ہے جو سچا بادشاہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں عزت والے عرش کا رب ہے۔“
Ayah 80:23کلا لما یقض ما امرہ :”کلا“ ہرگز نہیں۔ ابن جریر ؒ نے فرمایا کہ یہ کافر انسان جو سمجھتا ہے کہ اس کے مال و جان پر اللہ کا جو حق تھا وہ اس نے ادا کردیا ہے، یہ ہرگز درست نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان نے بھی ابھی تک وہ فرئاض ہی پورے ادا نہیں کئے جن کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا تھا، حق کا ادا کرنا تو بہت دور ہے۔ ”لم یقض“ پورا نہیں کای۔”لما یقض“ ابھی تک پورا نہیں کیا۔ مجاہد ؒ نے فرمایا :”لا یقضی احد ماامربہ“ (بخاری، التفسیر، باب سورة عبس، بعد ج : 3936)”کوئی بھی شخص وہ کام پورا نہیں کرتا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے (کمی رہ ہی جاتی ہے۔)“
Ayahs 80:24–25(فلینظر الانسان…: پہلے آیت (17) سے (22) تک ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جو انسان کی پیدائش اور اس کی ذات سے تعلق رکھتی تھیں، اب ان نعمتوں کا ذکر ہے جو اس کی ذات سے تو تعلق نہیں رکھتیں مگر ان کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ فرمایا اپنی قریب ترین چیز کھانے ہی کو دیکھ لو کہ اس کی تیاری کے لئے ہم نے کائنات کی کتنی قوتوں کو مصروف کار کر رکھا ہے۔”انا صببنا المآء صباً“ میں مصدر کے ساتھ فعل کی تاکید فرمائی۔ ترجمہ میں اس تاکید کو ”خوب برسانا“ کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔
Ayah 80:26(ثمشققنا الارض شقاً :”شقاً“ ایک قسم کا پھاڑنا ، یعنی زمین کو ہم نے عجیب طریقے سے پھاڑا۔ دانے سے نمودار ہونے والی کو پنل خود کبھی زمین سے باہر نہیں نکل سکتی تھی، زمین میں ضرورت کے مطابق نرمی و نمی اور بیج میں یہ طاقت وہم نے رکھی کہ وہ زمین پھاڑ کر باہر نکل آیا۔
Ayahs 80:27–28(فانبتنا فیھا حباً …:”قضباً“ ”قضب یقضب“ (ض) (کاٹنا) کا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی زمین کی وہ پیدا وار جو سال میں کئی مرتبہ کاٹی جاتی ہے، مراد ترکاری ہے۔ وہ چاریبھی اس میں آجاتے ہیں جو بار بار کاٹے جاتے ہیں۔
Ayah 80:29(وزیتوناً و نحلاً :”نخلاً“ کھجور کے درخت۔ کھجور کے پھل کے لئے دوسرے الفاظ ہیں، مثلاً ”تمر“ وغیرہ۔
Ayah 80:30وحآئق غلباً :”حذدآئق“ ”حیقۃ“ کی جمع ہے، پھل دار درختوں کا باغ جس کے گرد دیوار ہو۔”حدق یحدق“ (ض) گھیرنا۔”غلباً“ ”اغلب“ اور ”غلباًئ“ کی جمع ہعے۔ ”غلب یغلب“ (س) مٹوی گردن والا ہونا، مراد گھنے باغ۔
Ayah 80:31(وفاکھۃ واباً :”ابا“ زمین سے اگنے والی وہ نباتات جسے جانور کھاتے ہیں، لوگ نہیں کھاتے۔ (طبری عن ابن عباس وغیرہ) یہ ”اب“ (ن) (قصد کرنا) سے مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی ”قصد کیا ہوا“ کیونکہ جانور اس کی طرف لکپتے ہیں۔
Ayah 80:32متاعاً لکم ولا نعامکم : کائنات کا یہ عظیم الشان سلسلہ اور یہ تمام چیزیں تمہاری اور تمہارے ہی کام آنے والے جانوروں کی زندگی کے سامان کے لئے بنائی گئی ہیں۔ اب اپنے کفران نعمت کو دیکھو کہ میں تمہاری خاطر یہ سب کچھ بنا سکتا ہوں مگر تمہارے خیال میں تمہیں مرنے کے بعد زندہ نہیں کرسکتا۔ نہیں، میں تمہیں ضرور دوبارہ زندہ کروں گا۔ آگے قیامت کا ذکر فرمایا۔
Ayah 80:33فاذا جآء ت الضاحۃ : ”الضآختہ“ یعنی کانوں کو بہرا کردینے والی نفخ صور کی ہولناک آواز جس سے قیامت قائم ہوجائے گی۔
Ayahs 80:34–36(1) یوم یفر المرء من اخیہ…: اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن آدمی کے ان لوگوں سے بھگانے کا ذدکر فرمایا جن سے محبت ہوتی ہے اور ترتیب میں محبت کے درجات کو محلوظ رکھا، پہلے اس کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ کم محبت ہوتی ہے، بڑھتے بڑھتے آخر میں بیٹوں کا ذکر فرمایا جن کے ساتھ مقدم الذکر تمام لوگوں سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔ (التسہیل) جب اپنے پیاروں سے بھاگے گا تو دوسروں کا کیا ذکر ؟
(2) سورة معارج میں اس کے برعکس بیٹوں سے شروع کیا اور فرمایا کہ مجرم کی دلی خواہش ہوگی کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنے بیٹوں کو، اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو اور اپنے پناہ دینے والے قبیلے بلکہ تمام دنیا کے لوگوں کو فدیہ میں دے کر اپنی جان بچا لے۔ دیکھیے سورة معارج (10 تا 14)۔
(3) بھاگنے کی وجہ وقوع قیامت کی وجہ سے پیدا ہونے والی گھبراہٹ اور بد حواسی ہے، حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر باقی انبیاء (علیہم السلام) بھی ”نفسی نفسی“ کہیں گے۔ اس کے علاوہ یہ خوف ہوگا کہ رشتہ دار کوئی حق نہ مانگ لے، اس کے خلافک وئی شہادت نہ پیش کر دے اور ظلم کے بدلے میں اس کے گناہ نہ اٹھانے پڑجائیں وغیرہ۔
Ayah 80:37(لکل امری منھم یومئذ…: عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(تحشرون حفاۃ عراۃ غرلاً ، قالت عائشۃ فقلت یا رسول اللہ ! الرجال والنساء ینظر بعضھم الی بعض ؟ فقال الامر اشد من ان یھمھم ذاک) (بخاری، الرقاق، باب کیف الحشر : 6528)”تم ننگے پاؤں، ننگے جسم، بغیر ختنہ کی حالت میں اٹھائے جاؤ گے۔“ عائشہ ؓ فرماتی ہیں، میں نے کہا :”اے اللہ کے رسول ! پھر تو مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”معاملہ اس سے سخت ہوگا کہ یہ بات ان کی سوچ میں بھی آئے۔“ ترمذی میں عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی اس حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے اس موقع پر یہ آیت پڑھی :(لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ) (عباس : 38)”اس دن ان میں سے ہر آدمی کی ایک ایسی حالت ہوگی جو اسے دوسروں سے بےپروا بنا دے گی۔“ (ترمذی ، تفسیر القرآن، باب ومن سورة عباس : 3332، قال الشیخ الالبانی حسن صحیح)
Ayahs 80:38–39(وجوہ یومئذ مسفرۃ…: چہروں کی یہ روشنی اور خوشی اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دیئے جانے کے بعد ہوگی، جیسا کہ فرمایا :(فاما من اوتی کتبہ بیمینہ، فسوف بحاسب حساباً یسیراً ، وینقلب الی اھلہ مسروراً ، (الانشقاق : 8 تا 9)”تو اس وقت جس شخص کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اس کا حساب آسان لیا جائے گا اور وہ خوش خوش اپنے گھر والوں کی طرف واپس آئے گا۔“