80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 80:1

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

(محمد مصطفٰےﷺ) ترش رُو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے

عبس وتولی . محمد ﷺ ترش رو ہوگئے اور منہ پھیرلیا ‘
Ayah 80:2

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا

ان جاء ہ الاعمی اسلیے کہ انکے پاس اعمیٰ آیا تھا ‘ یعنی ابن ام مکتوم۔ اَنْ جَآءَ ہُ الْاَعْمٰی ‘ عَبَسَ اور تَوَلّٰی کی علت یعنی مفعول لہ ہے۔ ترمذی اور حاکم نے حضرت عائشہ کی روایت نقل کی ہے کہ الاعمیٰ سے مراد ابن ام مکتوم ہیں۔ اسی روایت میں ہے کہ ابن ام مکتوم نے عرض کیا : کیا میرے قول میں آپ ﷺ کو کوئی حرج محسوس ہو رہا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہیں۔ اسی طرح حضرت انس ﷺ سے بھی روایت آئی ہے۔ یونہی ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے ‘ اس روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ اس کے بعد جب رسول اللہ ﷺ ابن ام مکتوم کو دیکھتے تو عزت کرتے تھے اور فرماتے تھے ‘ مرحبا ! اس شخص کے لیے جس کے معاملہ میں مجھے میرے رب نے عتاب کیا اور ابن ام مکتوم سے فرماتے تھے ‘ کیا تمہارا کوئی کام ہے۔ ترمذی اور حاکم نے حضرت عائشہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن ام مکتوم کو دو بار مدینہ پر اپنی جگہ قائم کیا تھا جبکہ آپ ﷺ دونوں مرتبہ جہاد پر تشریف لے گئے تھے۔ الاعمیٰ کہنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بات کاٹنے کی جراءت کرنے میں ابن ام مکتوم ؓ معذور تھے ‘ (نابینا تھے) ۔
Ayah 80:3

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا

وما یدریک . مَا نافیہ ہے۔ یعنی تم کو اس کا حال نہیں معلوم ‘ یا استفہام انکاری بمعنی نفی ہے ‘ یعنی تم کو اس کے حال پر کون واقف بنائے۔ بہرحال اس لفظ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ایک عذر (مترشح) ہے کہ تم واقف نہ تھے ‘ اگر نابینا کے حال سے واقف ہوتے ‘ تو دوسروں کی طرف متوجہ اور اس کی طرف سے روگرداں نہ ہوتے۔ آیت میں چند وجوہ سے رسول اللہ ﷺ کا اعزاز موجود ہے۔ 1) آغاز کلام میں ہی اعراض کا سبب بصیغۂ ماضی بیان کیا ‘ مخاطب کا صیغہ نہیں ذکر کیا ‘ گویا مخاطب کے ذہن کو اس طرف موڑا کہ اس فعل کا صدور تم سے نہیں ‘ کسی اور سے ہوا۔ تم ایسے نہیں کہ ایسا کام تم سے صادر ہو۔ اس کی توجیہ اس طرح ہوگی کہ اعمال کا مدار نیت پر ہے اور رسول اللہ ﷺ کی نیت اس کی طرف سے بالکل منہ موڑنے کی نہیں تھی بلکہ آپ کا مقصد یہ تھا کہ یہ شخص تو مؤمن ہی ہے۔ اگر اس کی تعلیم میں کچھ تاخیر بھی ہوجائے تو اس کا کچھ نقصان نہ ہوگا ‘ نہ اس کی طرف سے انحراف اور چلے جانے کا کوئی اندیشہ ہے اور قریش کے سردار اپنی طرف سے میرے رخ کو پھرا دیکھ کر چلے جائیں گے ‘ انتظار نہیں کریں گے اور یہ سردار اگر مسلمان ہوگئے تو ان کے ساتھ بہت لوگ مسلمان ہوجائیں گے اور دائرۂ اسلام وسیع ہوجائے گا ‘ انہی مقاصد کے زیر اثر حضور ﷺ نے عبداللہ کی طرف سے منہ پھیرلیا ‘ گویا واقعی طور پر ان کی طرف سے روگردانی نہیں کی ‘ اگرچہ ظاہری طور پر اس فعل کا وقوع ہوگیا۔ 2) رسول اللہ ﷺ کی طرف سے معذرت بھیا شارۃً بتادی کہ آپ ﷺ ناواقف تھے ‘ ورنہ ایسا نہ کرتے۔ 3) صیغۂ غائب سے صیغۂ خطاب کی طرف کلام کا رخ پھیرنے سے رسول اللہ ﷺ کو مانوس بنانا اور آپ ﷺ کے دل سے ملال کو دور کرنا مقصود ہے اور صیغہ غائب سے جو وہم پیدا ہوتا تھا کہ خدا نے آپ کو ساقط الالتفات سمجھ لیا ہے صیغہ خطاب سے اس وہم کا ازالہ کردینا مقصود ہے۔ 4) موجب عذر (عدم علم) کی اسناد رسول اللہ ﷺ کی طرف صریحی تخاطب کے ساتھ بتارہی ہے کہ آپ ﷺ سے جو فعل سرزد ہوگیا اس میں آپ ﷺ معذور تھے۔ لعلہ یزکی . شاید وہ کامل طور پر پاک ہوجاتا۔ شرک ظاہر اور خفی سے ‘ عیوب نفسانی سے ‘ ہو یٰ و ہوس سے۔ اللہ کے علاوہ دوسروں کے ساتھ دل کو وابستہ کرنے سے (روح ‘ دل ! خفی ‘ اخفی ٰ وغیرہ) تمام لطائف کو ہوشیار بنانے سے اور عالم خلق (مادی قویٰ ) کو ہر مادے کے غلبہ سے اور یہ سب کچھ رسول اللہ ﷺ کی صحبت کی برکت ‘ انفاس قدسیہ کے فیض اور ظاہری و باطنی انوار نبوت کی شعاع اندوزی سے حاصل ہوتا۔
Ayah 80:4

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا سوچتا تو سمجھانا اسے فائدہ دیتا

او یذکر . یہ لفظ اصل میں یتذکر تھا ‘ یا وہ اللہ کی یاد میں مشغول ہوجاتا ‘ اس کا حضور قلب بڑھ جاتا ‘ خوف عذاب اور امید ثواب کا حصول ہوجاتا۔ فتنفعہ الذکری . صحاح میں ہے کہ ذکرٰی کا معنی ہے کثرت ذکر ‘ ذکر کے مفہوم سے اس کے مفہوم میں زیادتی ہے۔ لَعَلَہٗ یَزَّکّٰی میں تو مراتب ابرار کی انتہاء کی طرف اشارہ ہے اور اَوْ یَذَّکَّرُ میں اخیار (برگزیدگانِ الٰہی) کے آغاز حال کی طرف ایماء ہے۔ مقربین اور صدیقین کا حال یہاں نہیں بیان کیا کیونکہ یہ مقام ‘ انانیت کا مقام ہے (یعنی کسی اختیاری مراتب کے حصول کے بیان کا مقام ہے۔ ان مراتب کو بیان کرنے کا مقام نہیں ہے جو محض وہبی ہیں جو خالص عطیۂ الٰہی ہیں ‘ اعمال حسنہ سے ان مراتب تک پہنچنا ممکن نہیں اور اہل قرب کے امر کا مدار محض انتخاب خدواندی ہے ‘ انتخابِ الٰہی کا براہ راست تعلق تو انبیاء سے ہے (اللہ جس کو چاہتا ہے نبوت مرحمت فرماتا ہے) لیکن انبیاء کی وراثت کے طور پر ان کے طفیل میں اولیاء میں سے جن کو اللہ چاہتا ہے انتخاب فرما لیتا ہے۔ لفظ اَوْ کا یہ مطلب نہیں کہ تزکیہ اور تذکر دونوں کا مجموعہ ابن ام مکتوم کو حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ اس تردید کا مطلب یہ ہے کہ دونوں اوصاف میں سے کوئی وصف تو ضرور ہی اس کو حاصل ہوجاتا ہے (جیسے کہا جاتا ہے : جَالس الحسنَ او ابن سیرین۔ حسن بصری (رح) کے ہم نشین بنو یا ابن سیرین کے یعنی دونوں کے نہ بنو تو کم سے کم ایک کے ہم نشین تو ضرور بن جاؤ) پورا جملہ معترضہ ہے اور اپنے اندر مذکورۃ الصدر فوائد رکھتا ہے ‘ اس میں درپردہ اس امر کا بیان ہے کہ سرداران قریش اس قابل نہیں کہ آپ ﷺ ان سے تخاطب کریں۔ یہ نابینا تخاطب کے قابل ہے اور جس (اسلام) کا ان سے ارادہ کیا جا رہا ہے اس کی امید نہیں۔ جیسے کوئی شخص کسی کو کچھ پڑھا رہا ہو اور وہ سمجھتا نہ ہو اور اس کے پاس بیٹھا ہوا دوسرا آدمی سمجھ رہا ہو تو سمجھانے والے سے کہا جاتا ہے بلکہ یہ دوسرا شخص تمہاری بات سمجھتا ہے یعنی پہلا نہیں سمجھتا ‘ اس کو نہ سمجھاؤ۔ بعض علماء کا قول ہے کہ لَعَلَّہٗ کی ضمیر کافر کی طرف راجع ہے یعنی تم کو کافر کے پاک ہونے اور نصیحت پذیر بن جانے کی حرص ہے اور تم واقف نہیں کہ تمہاری تمنا پوری ہو ہی جائے۔ اس صورت میں . یُدْرِیْ کا مفعول اوّل ک ہوگا اور مفعول دوئم لَعَلَّہٗ یُزَکّٰی ‘ واللہ اعلم۔
Ayah 80:5

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

جو پروا نہیں کرتا

اما من استغنی . لیکن جو اپنے مال کے اعتماد پر اللہ اور ایمان باللہ سے لاپرواہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ۔
Ayah 80:6

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو

فانت لہ تصدی . آپ اسکے درپے ہیں ‘ اسکی طرف متوجہ ہیں تاکہ تزکیہ اور طہارت اسکے ہاتھ سے جاتی نہ رہے۔
Ayah 80:7

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

حالانکہ اگر وہ نہ سنورے تو تم پر کچھ (الزام) نہیں

وما علیک الا یزکی . حالانکہ اس کے پاکیزہ نہ بننے سے آپ کا کوئی حرج نہ تھا (اگر اس کے پاکیزہ نہ بننے سے آپ ﷺ کا کچھ حرج ہوتا) تو اس کے مسلمان بن جانے کی حرص آپ ﷺ کو اس کی طرف توجہ اور مسلمانوں سے اعراض کرنے پر آمادہ کرسکتی (اور اس وقت آپ ﷺ مسلمان سے روگردانی کرنے میں معذور ہوتے) آپ ﷺ کے ذمہ تو صرف پہنچا دینا ہے (کسی کے نہ ماننے سے آپ ﷺ کا کوئی نقصان نہیں) یعنی کسی کو پاک کردینا آپ ﷺ کا فرض نہیں ‘ صرف پہنچا دینا آپ ﷺ کا فرض ہے۔
Ayah 80:8

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا آیا

واما من جاءک یسعی لیکن جو دوڑتا ہوا ‘ آپ سے ہدایت طلب کرتا ہوا
Ayah 80:9

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور (خدا سے) ڈرتا ہے

وھو یخشی . اور (اللہ کے عذاب سے) ڈرتا ہوا آپ کے پاس آتا ہے۔ یسعٰی حال ہے اور وھو یخشٰی بھی حال مرادف یا حال متداخل ہے۔
Ayah 80:10

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

اس سے تم بےرخی کرتے ہو

فانت عنہ تلھی . تو آپ اس کی طرف سے غافل ہو کر دوسروں کے ساتھ مشغول ہوتے ہیں۔ عَبَسَ اور تَوَلّٰی میں جس مضمون کو مجمل بیان کیا تھا یہ اس کی تفصیل ہے اور اس قصور کا بیان ہے جس پر عتاب ہوا ‘ یعنی طالب کو یونہی چھوڑ دینا اور غافل کے لیے پوری کوشش صرف کرنا ‘ حالانکہ اس کے برعکس کرنا اولیٰ تھا۔
Ayah 80:11

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

دیکھو یہ (قرآن) نصیحت ہے

کلا . گزشتہ فعل سے بازداشت ہے یعنی آئندہ کبھی ایسا نہ کرنا۔ انھا تذکرۃ . بلاشبہ قرآن یا آیات قرآن نصیحت ہیں اور یاد خداوندی کا موجب ہیں۔ اِنَّھَا کی ضمیر کا قرآن کی طرف راجع ہونا اس لیے درست ہوگا کہ اس کی خبر مؤنث ہے۔
Ayah 80:12

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

پس جو چاہے اسے یاد رکھے

فمن شاء ذکرہ . جو نصیحت پذیر ہونا اور اللہ کو یاد کرنا چاہے اس کو یاد رکھے۔ حفظ قرآن کو مشیت انسانی سے وابستہ کرنا صیغہ کے لحاظ سے تو تفویض اختیار ہے (جو چاہے یاد کرے ‘ نہ چاہے نہ کرے) لیکن معنوی حیثیت سے حفظ قرآن نہ کرنے والوں کے لیے زجر اور ذکر قرآن میں مشغول رہنے والوں کی ثناء ہے۔
Ayah 80:13

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا)

فی صحف . یہ تذکرۃٌ کی صفت یا اِنّھا کی دوسری خبر یا مبتداء محذوف کی خبر ہے یعنی وہ تذکرہ صحیفوں میں لکھا ہوا ہے ‘ صحیفوں سے مراد ہے لوح محفوظ یا لوح محفوظ کی نقلیں جو ملائکہ لکھ لیتے ہیں یا انبیاء کے صحیفے کیونکہ اللہ نے فرمایا : وانّہ لفی زبر الاوّلین . ان ھذا لفی الصحف الاولٰی . صحف ابراھیم و موسیٰ ۔ 1 ؂ یا وہ صحیفے مراد ہیں جو صحابہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر لکھ رکھے تھے۔ .......... حاشیہ اگلے صفحہ پر مکرمۃ
Ayah 80:14

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں

مرفوعۃ . اللہ کے ہاں عزت والے ‘ عالی قدر یا ساتویں آسمان میں اٹھائے ہوئے۔ مطھرۃ . جنب اور بےوضو اور حائضہ و نفساء کے چھونے سے پاک۔
Ayah 80:15

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

لکھنے والوں کے ہاتھوں میں

بایدی سفرۃ . سفرۃٌ جمع ہے سافرٌ کی۔ سافر کا معنی لکھنے والا۔ اسی مناسبت سے کتاب کو سفرٌ کہتے ہیں۔ سَفر کی جمع اسفارٌ ہے۔ ابن عباس ؓ اور مجاہد کا یہی قول ہے۔ سفرۃٌ سے مراد ہیں اعمال لکھنے والے فرشتے یا انبیاء یا وحی کو لکھنے والے لوگ ‘ دوسرے علماء کا قول ہے کہ سفرۃٌ سفیرٌ کی جمع ہے۔ سفیر وہ درمیانی آدمی جو قوم میں باہم صلح کرانے کے در پے ہوتا ہے۔ یہاں مراد ہیں ملائکہ اور انسانوں میں اللہ کے پیغمبر۔ میں کہتا ہوں کہ وحی کے کاتب اور علماء امت بھی اسی طرح کے سفیر ہیں۔ رسول اور امت کے درمیان ان میں سے ہر ایک سفیر ہے۔ رسول اللہ : ﷺ نے فرمایا : جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ قرآن کا ماہر بھی ہے وہ السفرۃ ‘ الکرام الابرار (معزز ‘ پاک سفیروں) کے ساتھ ہوگا اور جو قرآن پڑھتا اور اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور یہ فعل اس کے لیے دشوار بھی ہے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔ (بخاری و مسلم) بروایت حضرت عائشہ۔ یعنی اس کو دو ثواب ملیں گے ‘ ایک قرآن پڑھنے کا دوسرا دشواری اٹھانے کا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماہر کے لیے غیر متناہی ثواب ہے۔ کرام سے مراد ہے اللہ کی نظر میں معزز جو مؤمنوں پر مہربان ہیں کہ ان کی تکمیل بھی کرتے ہیں اور ان کے لیے دعاء مغفرت بھی کرتے ہیں۔ بررۃ یعنی متقی۔ یہ سفرۃ کی دوسری صفت ہے ‘ علماء کی یہی حالت ہوتی ہے۔ حاشیہ بر صفحہ گزشتہ : 1 ؂ صحف انبیاء میں قرآن کے موجود ہونے کا یہ معنی نہیں کہ قرآن صرف معانی کا نام ہے۔ الفاظ و عبارت قرآن کا جزء نہیں کیونکہ قرآن کا صحف انبیاء میں موجود ہونا بتایا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ عبارت موجود نہ تھی لامحالہ قرآن کے معانی ہی قرآن ہوئے اور الفاظ قرآن الٰہی کے جزء نہ ہوئے بلکہ یہ الفاظ جبرئیل یا نبی ﷺ کے ساختہ پرداختہ ہیں جیسا کہ فرقۂ قرآنیہ قائل ہے اور قدماء میں سے بھی بعض لوگوں نے عبارت کو قرآن قرار دینے سے انکار کیا ہے ‘ وجہ یہ ہے کہ کسی ایک سورت یا دس سورتوں کو پیش کر کے دعوت مقابلہ دینا اور بلسان عربی مبین اس قرآن کو کہنا اور انالہ لحافظون کہہ کر اسکی بعینہٖ حفاظت کا وعدہ کرنا ثابت ہے کہ قرآن الٰہی مجموعہ الفاظ و معانی کا نام نہیں ہے۔ علم کلام میں کلام نفسی کی تحقیق کے موقع پر یہ بحث مفصل موجود ہے۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں۔ صحف انبیاء میں وجود قرآن کا یہ مطلب ہے کہ قرآن کی بنیادی تعلیم مثلاً توحید ‘ الوہیت و ربوبیت اور اللہ کی صفات کمالیہ اور وجود ملائکہ اور خیر و شر کا مقدر من اللہ ہونا اور مبدء و معاد کے متعلق قرآن بیان اور وحی و رسالت اور اصول حسنات کا امر اور اصول سیئات سے بازداشت ان میں سے کوئی چیز نئی نہیں۔ ہر پیغمبر کے صحیفہ میں اور ہر آسمانی کتاب میں یہ تعلیم مشترک ہے۔ رہیں خصوصیات شریعت اور وہ ضوابط و آئین جن میں قرآن منفرد ہے وہ گزشتہ صحف انبیاء میں موجود نہ تھے اور نہ الزبر الاوّلین اور صحف ابراہیم و موسیٰ میں قرآن کے موجود ہونے کا یہ معنی ہے۔ بعض علماء نے آیت کی تشریح اس طرح بھی کی ہے کہ پیغمبر آخر الزمان ﷺ اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب کا ذکر تمام صحف انبیاء میں تھا۔ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ پر نازل شدہ صحیفے بھی اس ذکر سے خالی نہ تھے۔ انہ لفی زبر الاولین اور ان ھذا الفی الصحف الاولٰی کا مطلب یہی ہے۔ 12
Ayah 80:16

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

جو سردار اور نیکو کار ہیں

کرم بررۃ
Ayah 80:17

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

انسان ہلاک ہو جائے کیسا ناشکرا ہے

قتل الانسان ما اکفرہ . انسان پر لعنت ہو کہ یہ کیسا سخت ناشکرا ہے۔ لفظ قتل انسان کے لیے بدترین بددعا ہے اور تعجب ہے کہ شکر گزاری اور ایمان کے تمام اسباب موجود ہونے کے بعد بھی انسان انتہائی ناشکری کرتا ہے یہ الفاظ انتہائی مختصر ہونے کے باوجود اللہ کے انتہائی غضب اور خدا تعالیٰ کی طرف سے پوری پوری مذمت 1 ؂ پر دلالت کر رہے ہیں۔ مقاتل کا قول ہے اور ....... 1 ؂ یعنی لفظ قُتِلَ ضرور بددعا کا کلمہ ہے اور ما اکفرہٗ کا صیغہ تعجب ہے مگر بددعا وہ شخص کرتا ہے جو انتقام سے عاجز ہو اور تعجب وہ کرتا ہے جس کی نظر کے سامنے اس سے زیادہ تعجب انگیز چیزیں نہ ہوں اور خدا نہ عاجز ہے ‘ نہ جاہل اس لیے محاورۂ عربیہ کے مطابق صیغہ ہذا دعا سے مراد ہے اظہار مذمت اور صیغۂ تعجب سے یہ مراد ہے کہ یہ چیز لوگوں کے لیے بہت بڑی تعجب انگیز ہونی چاہیے کیونکہ واقع میں تعجب آفریں ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے اظہار تعجب نہیں ہے بلکہ انسان کی ناشکری کی تعجب انگیزی کا اظہار ہے۔ بروایت ابن المنذر نے بھی یہی کہا ہے کہ اس آیت کا نزول ابولہب کے بیٹے عتبہ کے حق میں ہوا تھا جس نے کَفَرْتُ بِرَبِّ النَّجْمِ کہا تھا۔ سیر کی کتابوں میں یہ قصہ اس طرح آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت امّ کلثوم ؓ اور ان کی بہن کا نکاح ابولہب کے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے کردیا تھا۔ جب سورة تبت یدا ابی لھب وتبّ نازل ہوئی تو ابولہب نے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا : اگر تم محمد ﷺ کی بیٹیوں کو طلاق نہ دو تو تم عاق ہو ‘ دونوں نے طلاق دے دی۔ یہ واقعہ رخصت سے پہلے کا ہے۔ حضرت ام کلثوم کو عتبہ نے جب طلاق دے دی تو پھر حضور کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا میں نے تیرے دین کا انکار کردیا اور تیری بیٹی کو چھوڑ دیا اور حضور ﷺ پر بھی حملہ کیا اور قمیص مبارک پھاڑ ڈالی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے کتوں میں سے کسی کتے کو تجھ پر مسلط فرما دے۔ ایک بار عتبہ قریش کے کچھ لوگوں کے ساتھ بغرض تجارت شام کو جا رہا تھا (جنگل میں) ایک مقام پر جس کا نام زوراء تھا ‘ پڑاؤ کیا۔ رات کو ایک شیر آیا اور ان لوگوں کے آس پاس اس نے چکر لگایا۔ عتبہ کہنے لگا : وائے مصیبت مجھے محمد ﷺ کی بددعا سے اندیشہ ہے ‘ لوگوں نے اپنے تمام پالان اور سامان لا کر ایک اونچا ڈھیر کردیا۔ عتبہ کو اسکے اوپر کردیا اور خود اسکے گرداگرد سو گئے ‘ شیر جا چکا تھا ‘ جب لوگ سو گئے اور عتبہ سب کے وسط میں تھا کہ شیر آگیا ‘ ہر شخص کے اوپر سے چھلانگ لگاتا اور ہر شخص کو سونگھتا عتبہ تک پہنچا اور اس کو پھاڑ دیا۔ میں کہتا ہوں کہ عتیبہ اور معتیب ابولہب کے دونوں بیٹے اس کے بعد مسلمان ہوگئے اور جنگ حنین میں (ہنگامی طور پر بھاگنے کے بعد) جو لوگ حضور اقدس ﷺ کی طرف پھر لوٹ آئے تھے ‘ ان میں سے یہ دونوں بھی تھے۔
Ayah 80:18

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

اُسے (خدا نے) کس چیز سے بنایا؟

من ای شی ءٍ خلقہ اللہ نے اس کو کس چیز سے بنایا ‘ یہاں سے ایمان و شکر کے دواعی (اسباب مقتضی) کا بیان ہے ‘ مبدء تخلیق کا سب سے پہلے ذکر اس لیے کیا کہ تمام نعمتوں سے پہلے اسی کا درجہ (اور زمانہ) ہے ‘ استفہام تقریری ہے یعنی مخاطب کو آمادہ کیا ہے کہ وہ اقرار کرے کہ اللہ نے اس کو نطفہ سے بنایا ہے۔ ما اکفرہٗ میں مَا استفہامیہ ہے اس کا بیان من ای شی ءٍ سے کیا ‘ اس طرح کلام کا اثر زیادہ دل نشین ہوگیا ‘ پھر نطفہ سے تخلیق کو بیان کر کے انسان کی حقارت کو ظاہر فرمایا ہے اور یہ خلقی تحقیر تکبّر کے منافی ہے (اس لیے انسان کا تکبّر بےبنیاد اور نازیبا ہے) ۔
Ayah 80:19

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

نطفے سے بنایا پھر اس کا اندازہ مقرر کیا

من نطفۃ . من ای شی ءٍ میں جو مضمون مبہم تھا ‘ یہ اس کی تشریح ہے یعنی اللہ نے انسانوں کو نطفہ سے بنایا ‘ اس کے بعد آغاز تخلیق سے لے کر انتہاء حیات تک تمام احوال انسانی کو بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا۔ خلقہ . اوّل اس کو رحم کے اندر نیست سے ہست کیا۔ فقدرہ . اس کے بعد اس کے لیے ایک اندازہ مقرر کردیا یعنی اللہ کے حکم سے مؤکل فرشتے نے اس کے لیے چار باتیں لکھ دیں : 1) مقدار عمل ‘ 2) مدت زندگی ‘ 3) رزق ‘ 4) اور شقی یا سعید ہونا جیسا کہ ہم سورة المرسلات میں حضرت ابن مسعود کی روایت کردہ حدیث نقل کرچکے ہیں اور مسلم و بخاری اس کے ناقل ہیں۔ بعض اہل تفسیر نے آیت کی تشریح اس طرح کی ہے کہ تقدیر سے اعضاء و شکل بنانا مراد ہے یا حالت نطفہ سے تکمیل تخلیق تک جتنے احوال جنین پر گزرتے ہیں وہ مراد ہیں۔ ہماری تشریح ان اقوال سے اولیٰ ہے۔
Ayah 80:20

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر اس کے لیے رستہ آسان کر دیا

ثم السبیل یسرہ . السبیل فعل محذوف کا مفعول ہے اور یَسَّرَہٗ اس کی تشریح ہے یعنی پھر اللہ نے پیٹ سے نکلنے کا راستہ اس کے لیے آسان کردیا۔ سدی اور مقاتل نے یہی معنی بیان کیے یا پیغمبر اور کتابیں بھیج کر اللہ نے راہ حق اور خدا تک پہنچنے کی سبیل آسان کردی تاکہ تکمیل حجت ہوجائے ‘ اسی مضمون پر دلالت کر رہی ہے یہ آیت : فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی وَ صَدَّقَ بالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی وَاَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی وَ کَذَّبَ بالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی ‘ یا اللہ نے انسان کے لیے دنیوی زندگی اور وہ (مآل و نتیجہ) جو دنیوی زندگی پر موقوف ہے ‘ آسان کردیا کیونکہ دنیا یا جنت کا راستہ ہے یا دوزخ کا ‘ قرار گاہ نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دنیا میں پردیسی یا راہ گیر کی طرح رہو۔ (رواہ البخاری من حدیث ابن عمر) امام احمد ‘ ترمذی اور ابن ماجہ نے بھی یہ حدیث نقل کی ہے۔ ان کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : اپنے آپ کو اصحاب قبور میں سے شمار کرو ‘ اس آخری تفسیر کے مناسب ہے آیت۔
Ayah 80:21

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اس کو موت دی پھر قبر میں دفن کرایا

ثم اماتہ فاقبرہ . چونکہ موت دارالقرار تک پہنچانے والی ہے ‘ اس لیے اماتت کا شمار نعمتوں میں کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : موت مؤمن کے لیے تحفہ ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے یہ حدیث طبرانی اور بیہقی نے شعب الایمان میں اور حاکم نے اور ابو نعیم نے حلیہ میں نقل کی ہے ‘ دنیا کا راہ جہنم ہونا صرف اس وجہ سے ہوتا ہے کہ انسان (راہ زندگی کا) انتخاب خراب کرتا ہے ‘ جبر تو بہرحال نہیں ہے (ہر انسان راہ زندگی کو اختیار کرنے میں آزاد ہے) ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھ سے کہا گیا کہ کسی سردار قوم نے ایک مکان بنایا ‘ اس میں دستر خوان چنا اور ایک پکارنے والے کو (عمومی دعوت کا اعلان کرنے کے لیے) بھیج دیا۔ اب جس نے پکارنے والے کی دعوت قبول کرلی وہ گھر کے اندر آگیا اور دستر خوان پر کھانا کھالیا اور وہ سردار اس سے خوش ہوگیا اور جس نے دعوت کرنے والے کا کہنا نہ مانا وہ گھر کے اندر نہیں آیا اور نہ دستر خوان سے کچھ کھایا اس پر وہ سردار ناراض ہوا۔ پس سردار تو اللہ ہے اور داعی محمد ﷺ ہے اور مکان اسلام ہے اور دسترخوان جنت ہے۔ یہ حدیث دارمی نے ربیعہ جرشی کی روایت سے اور بخاری نے جابر کی روایت سے بیان کی ہے۔ اَقْبَرَہٗ کا معنی یہ ہے کہ جنازہ کو درندوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ نے لوگوں کو حکم دیا کہ میت کو قبر میں دفن کریں (یعنی قَبَرَ مجرد سے بمعنی ادخل فی القبر کے آتا ہے اوراقبر مزید سے امر ان یقبروا کے معنی میں آتا ہے) قبر ‘ قبر میں داخل کیا۔ اقبَرَ ‘ قبر میں داخل کرایا (قبر میں داخل کرنے کا حکم دیا) قبر میں دفن کرنے کا حکم اللہ کی مزید نعمت ہے کہ اللہ نے انسان کو اتنی عزت عطا فرمائی کہ اس کی لاش کو دوسرے جانوروں کی لاشوں کی طرح پھینکنے کا حکم نہیں دیا۔
Ayah 80:22

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا

ثم اذا شاء انشرہ . پھر جب اللہ اس کو قبر سے اٹھانا چاہے گا تو موت کے بعد زندگی عطا فرما دے گا کیونکہ جو خدا اوّل تخلیق کی قدرت رکھتا ہے وہ قبر سے زندہ اٹھانے کی بھی قدرت رکھتا ہے۔ اس کی اطلاع پیغمبروں کی زبانی اللہ دے چکا ہے۔ اگر حشر اور جزاء نہ ہو تو شاکر بھی کافر کی طرح ہوجائے گا (نہ شاکر کو جزا ‘ نہ کافر کو سزا) اور یہ (عقلاً ) قبیح ہے۔
Ayah 80:23

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا نے اسے جو حکم دیا اس نے اس پر عمل نہ کیا

کلا . ایسا ہرگز نہ کرنا چاہیے ‘ موجب ایمان دلائل اور موجب شکر نعمتوں کے ہوتے ہوئے ناشکری اور انکار کرنے سے کافر کو بازداشت کی گئی۔ لما یقض ما امرہ . عظیم الشان نعمتوں اور روشن دلائل کو جانے کے بعد بھی اللہ کے حکم کو اس نے ابھی تک پورا نہیں کیا ‘ نہ ایمان لایا ‘ نہ شکر کیا۔
Ayah 80:24

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

تو انسان کو چاہیئے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے

فلینظر الانسان الی طعامہ . کلام سابق کے مفہوم پر عطف ہے۔ یعنی انسان کو اوّل آغاز خلقت سے آخر حیات تک اپنے اوپر غور کرنا چاہیے۔ پھر اپنی غذا کو دیکھنا چاہیے کہ ہم نے اس کی غذا کیسے پیدا کی اور کس طرح اس کو بہرہ اندوز ہونے کا موقع دیا۔
Ayah 80:25

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

بے شک ہم ہی نے پانی برسایا

انا صببنا الماء صبا . ہم نے ہی آسمان سے خوب پانی برسایا۔
Ayah 80:26

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر ہم ہی نے زمین کو چیرا پھاڑا

ثم شققنا الارض شقا . پھر ہم نے ہی دانہ میں سوئی نکالی یا ہل وغیرہ سے زمین کو پھاڑا۔ مؤخر الذکر صورت میں اللہ کی طرف زمین کو پھاڑنے کی نسبت اس لیے کی گئی کہ اللہ ہر فعل کا مسبب ہے۔
Ayah 80:27

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

پھر ہم ہی نے اس میں اناج اگایا

فانبتنا فیھا حبا . پھر ہم نے زمین میں اگائے دانے جیسے گیہوں ‘ جو وغیرہ۔
Ayah 80:28

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور انگور اور ترکاری

واغبا و قضبا . اور انگور اور ساگ۔ قَضْبٌ اصل میں مصدر ہے کاٹنا۔ قَضَبَہٗ اس کو کاٹ دیا۔ ساگ بھی بار بار کاٹا جاتا ہے اس لیے اس کو قضب کہا جاتا ہے۔ صحاح جوہری میں ہے کہ قضب کا استعمال سبزی میں ہوتا ہے۔ قاموس میں ہے قضب وہ درخت ہے جس کی شاخیں لمبی اور پھیلی ہوئی ہوں۔ کوئی درخت ہو۔
Ayah 80:29

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کھجوریں

و زیتونا و نخلا و حدائق غلبا . اور زیتون اور کھجور کے درخت اور گھنے باغ۔
Ayah 80:30

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور گھنے گھنے باغ

حَدَائق جمع حدیقۃ۔ واحد غُلْبٌ گھنے درختوں والا۔ قاموس۔
Ayah 80:31

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور میوے اور چارا

و فاکھۃ اور وہ پھل جن کو مزہ کے لیے کھایا جاتا ہے اسی جگہ سے فقہاء نے کہا ہے کہ اگر کسی نے فاکہہ نہ کھانے کی قسم کھا لی تو کھجور ‘ انگور اور زیتون کھانے سے اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی (کیونکہ یہ پھل طاقت کے لیے کھائے جاتے ہیں ‘ تنہا مزہ کے لیے نہیں کھائے جاتے) اسی طرح اس پھل کو کھانے سے بھی قسم نہیں ٹوٹے گی جس سے مقصود غذائیت اور دوائیت دونوں ہوتے ہیں جیسے انار۔ اس کے علاوہ فاکہہ کا عطف حَبًّا وَّ عِنَبًا وغیرہ پر ہے اور عطف مغایرت کو چاہتا ہے (معطوف علیہ اور چیز ہو اور معطوف اور چیز) وابا . اور گھاس ‘ چراگاہ۔ (قاموس)
Ayah 80:32

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

(یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے لیے بنایا

متاعا لکم ولانعامکم . یہ اَنْبَتْنَا کی علت ہے۔ ان چیزوں کو ہم نے تمہارے لیے اگایا ہے جیسے گیہوں اور دوسرا غلہ اور تمہارے چوپایوں کے لیے جیسے گھاس۔
Ayah 80:33

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ Open ayah 80:33 in the Quran reader

تو جب (قیامت کا) غل مچے گا

فاذا جاءت الصاخۃ . سخت چیخ ‘ قاموس۔ مراد صور پھونکنے کی آواز۔ صحاح میں ہے کہ ناطق کی سخت چیخ کو صاخۃٌ کہتے ہیں۔ اس صورت میں نفخۂ صور پر صاخۃٌ کا اطلاق مجازی ہوگا۔ یعنی صور کی آواز سے لوگ سخت چیخ پکار مچائیں گے۔ جب صور پھونکنے کی آواز آئے گی تو اس شرط کی جزاء محذوف ہے اور پورا جملہ شرطیہ انھا تذکرۃ سے مربوط ہے یا قتل الانسان مَا اکفرہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اوّل صورت میں پورا معنی اس طرح ہوگا کہ قرآن ایک یادداشت اور نصیحت ہے جب صور کی آواز آئے گی۔ اس وقت نصیحت قبول کرنے والوں کا حال نصیحت نہ قبول کرنے والوں کے حال سے جدا ہوگا۔ اختلاف حال کیا ہوگا ‘ اس کا بیان آئندہ آیات وُجُوْہٌ یَّوْمَءِذٍ.... میں کیا گیا ہے ‘ یہ بھی احتمال ہے کہ اس صورت میں جزا محذوف نہ ہو بلکہ وُجُوْہٌ یَّوْمَءِذٍ..... جزای ہو۔ دوسری صورت میں یہ معنی ہوگا کہ انسان پر لعنت ہو یہ کیسا ناشکرا ہے جب صور کی آواز آئے گی اس وقت اس کو اپنی ناشکری کا نتیجہ کہے گا۔
Ayah 80:34

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ Open ayah 80:34 in the Quran reader

اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا

یوم یفر المرء من اخیہ ... و بنیہ . جس روز آدمی اپنے بھائی ‘ …. یا تو بھاگنے کی یہ وجہ ہوگی کہ اس کو خود ہی اپنی پڑی ہوگی اور اس کو معلوم ہوگا کہ ان اقرباء میں سے کوئی میرے کام آنے والا نہیں یا اقرباء کے کفر اور ان کی بدحالی کی وجہ سے ہر شخص کو اپنے اقرباء سے نفرت اور عداوت ہوجائے گی۔ حضرت علی کی روایت ہے کہ حضرت خدیجہ ؓ نے اپنے دو بچوں کی کیفیت رسول اللہ ﷺ سے دریافت کی جن کا انتقال اسلام سے پہلے ہوگیا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : وہ دوزخ میں ہوں گے (حضرت خدیجہ کو سن کر کچھ ناگواری ہوئی) حضور ﷺ نے ان کے چہرہ پر ناگواری کا اثر دیکھ کر فرمایا : اگر تم ان کے مقام کو دیکھ لو تم کو بھی ان سے نفرت ہوجائے گی۔ (الحدیث رواہ احمد) آیت میں ترتیب وار زیادہ محبوب کو مؤخر اور کم کو مقدم ذکر کیا ہے اور اس سے کلام میں زور پیدا کرنا مقصود ہے۔ گویا یوں فرمایا کہ اس روز آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا بلکہ ماں ‘ باپ سے بھی بھاگے گا بلکہ بیوی اور اولاد سے بھی بھاگے گا۔
Ayah 80:35

وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ Open ayah 80:35 in the Quran reader

اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے

ماں ‘ باپ ‘
Ayah 80:36

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ Open ayah 80:36 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے

بیوی اور لڑکوں سے بھاگے گا ‘
Ayah 80:37

لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ Open ayah 80:37 in the Quran reader

ہر شخص اس روز ایک فکر میں ہو گا جو اسے (مصروفیت کے لیے) بس کرے گا

لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ . لوگوں میں سے ہر شخص کا حال اس روز ایسا ہوگا کہ دوسرے کے حال سے اس کو لاپرواہ بنا دے گا۔ امّ المؤمنین حضرت سودہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ لوگوں کو برہنہ پا ‘ ننگے بدن ‘ بےختنہ اٹھائے گا۔ لوگوں کے منہ پر پسینہ کی لگام ہوگی اور کانوں کی لَو تک پسینہ پہنچا ہوگا (یعنی قدم سے لے کر منہ اور کانوں کی جڑوں تک آدمی پسینہ میں غرق ہوگا) حضرت سودہ کہتی ہیں ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ پردہ کے اعضاء ایک دوسرے کے دیکھے گا ؟ فرمایا : لوگوں کو اس کا ہوش ہی نہیں ہوگا۔ ہر شخص کا حال اس روز ایسا ہوگا کہ اس کو دو سروں سے لاپروا کر دے گا۔ اس حدیث کو طبرانی ‘ بیہقی اور بغوی نے نقل کیا ہے۔ صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت بھی اسی طرح ہے۔ اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ اس روز لوگوں کا معاملہ اس سے زیادہ سخت ہوگا یعنی کوئی کسی کو دیکھے (اس کی فرصت کسی کو کہاں ہوگی) بیہقی نے حضرت ابن عباس کی روایت بھی اسی طرح نقل کی ہے۔
Ayah 80:38

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌۙ Open ayah 80:38 in the Quran reader

اور کتنے منہ اس روز چمک رہے ہوں گے

وجوہٌ . مؤمنوں کے چہرے اس روز روشن (تنوین عوض مضاف الیہ) یا بہت چہرے (تنوین تکثیر) یا بعض لوگوں کے چہرے (تنوین بعض) یومئذ مسفرۃ مُسْفِرَۃٌ (اسم فاعل) اسفار الصبح سے مشتق ہے۔ اسفار الصبح یعنی صبح نکل آنا ‘ روشن ہوجانا۔
Ayah 80:39

ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ Open ayah 80:39 in the Quran reader

خنداں و شاداں (یہ مومنان نیکو کار ہیں)

ضاحکۃ مستبشرۃ ہنستے ہوئے اور شگفتہ ہوں گے۔ یہ تینوں صفات وُجُوْہٌ کی ہیں۔ اصل میں فرحت ‘ شگفتگی تو چہروں والوں کو ہوگی۔ مجازاً ان کو چہروں کی صفت قرار دیا۔
Ayah 80:40

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌۙ Open ayah 80:40 in the Quran reader

اور کتنے منہ ہوں گے جن پر گرد پڑ رہی ہو گی

ووجوہ یومئذ علیھا غبرۃ . غبرۃ ‘ غبار یا کدورت ‘ بہت چہروں پر یا کچھ چہروں پر یا کافروں کے چہروں پر اس روز غبار یا کدورت ہوگی۔