80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 80:1

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

تیوری چڑھائی اور بےرخی برتی اس نے

(1) شان نزول اور درسہائے عبرت و بصیرت : ان آیات کریمہ کی شان نزول اور اس سے ملنے والے درسہائے عبرت و بصیرت کے بارے میں مختصر عرض ہے کہ تفسیر و حدیث اور سیرت و تاریخ کی روایات اس پر متفق ہیں کہ یہ آیات کریمہ حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم ؓ کے بارے میں نازل ہوئیں۔ چناچہ صحیح روایات میں وارد ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کے پاس صنادید قریش میں سے کچھ بڑے بڑے سردار آئے ہوئے تھے اور آپ ان کو دین کی دعوت دے رہے تھے کہ اتنے میں حضرت ابن ام مکتوم ؓ مشہور نابینا صحابی آگئے، اور انہوں نے بارگارہ رسالت میں عرض کیا " قرئنی یا رسول و علمنی مما علمک اللہ "۔ یعنی " اللہ کے رسول مجھے پڑھائیں اور جو کچھ اللہ نے آپ کو سکھایا ہے اس میں سے مجھے بھی سکھائیں "۔ حضور چونکہ اس وقت دین حق کے ایک اہم کام میں مشغول تھے اور آپ کا خیال تھا کہ قریش کے یہ سردار اگر اسلام لے آئیں تو اس سے اور کتنے ہی لوگ اس دین حق سے مشرف ہوجائیں گے، اور ان کا بھلا ہوجائے گا، وہ دوزخ کی آگ سے بچ جائیں گے، اور یہ امر ھق اور اہل حق کی تقویت کا بھی باعث بنے گا جبکہ ام مکتوم پکے مسلمان اور اپنے مخلص صحابی ہیں، اس لیے اپ نے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی۔ جبکہ ابن ام مکتوم اپنی معذوری کی بنا پر سے بیخبر تھے، اس لیے انہوں نے اپنا مطالبہ بار بار دہرایا جو کہ حضور ﷺ کو اچھا نہ لگا۔ تو آپ کے چہرہ انور پر ان کی بار بار کی اس مداخلت کی بنا پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، اور آپ نے ان سے اعراض فرمایا۔ تو اس پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں اور ان میں آنحضرت ﷺ سے یہ لطف آمیز عتاب فرمایا گیا، چناچہ اس کے بعد یہ صحابی جب بھی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ ﷺ ان الفاظ کے ساتھ ان کو خوش آمدید کہتے " مرحبا بمن عاتبنی فیہ ربی " یعنی " خوش آمدید اس شخص کو جس کے بارے میں میرے رب نے مجھ پر عتاب فرمایا " سو اس واقعے اور عتاب و خاطب سے ایک اہم اور بنیادی حقیقت یہ واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن مجید آنحضرت ﷺ کا خود ساختہ کلام نہیں ہے، جس طرح کہ دشمنان اسلام کا کہنا ہے، کیونکہ اگر ایسے ہوتا تو اس واقعے اور ان آیات کا ذکر اس میں نہ ہوتا، جس طرح کہ کئی مستشرقین وغیرہ انصاف پسند غیر مسلموں نے بھی اس کا اعتراف و اقرار کیا۔ اور دوسرا اہم درس اس سے یہ ملتا ہے کہ پیغمبر نہ عالم الغیب تھے نہ مختار کل، جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا ہے، ورنہ نہ تو یہ واقعہ پیش آتا اور نہ رب العالمین کی طرف سے آنحضرت ﷺ کو اس طرح تنبیہ فرمائی جاتی، تیسرے درس سے یہ ملت اس ہے کہ دین میں اصل وزن اور قدروقیمت اخلاص اور صدق باطن کی ہے، نہ کہ ظاہر حال اور دنیاوی مال و منال کی، یہاں پر بھی واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ نے خدانخواستہ کہیں تحقیر کے پہلو سے حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم ؓ سے اعراض نہیں فرمایا تھا کہ وہ کوئی غیر یا باہر کے شخص نہ تھے، بلکہ وہ حضور ﷺ کے اپنے ہی رشتہ دار اور آپ ﷺ کے برادر نسبتی تھے، کیونکہ وہ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری بن خویلد ؓ کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ بلکہ اس اعراض کی اصل وجہ حضور ﷺ کا وہی دینی جذبہ تھا جس کا اوپر بیان ہوا، اور یہی صحابی وہ مخلص شخص تھے جو تاریخ کے بیان کے مطابق بعد میں قادسیہ کی جنگ میں شریک ہوئے اور جام شہادت نوش فرمایا، اور حضور ﷺ نے اپنے سفر جہاد کے دوران دو مرتبہ ان کو مدینے پر اپنا خلیفہ فرمایا ( روح، وغیرہ) اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، اللھم کن لنا بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب۔
Ayahs 80:2–4

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

اس بات پر کہ ان کے پاس آگیا وہ نابینا

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

اور آپ کو کیا خبر کہ وہ پوری طرح سنور جائے

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا (کم از کم) وہ نصیحت پر کان دھرے (دل و جان سے) تو نصیحت کرنا اسے فائدہ پہنچائے

(2) اغراض و بےرخی کی شکایت بصورت لطف و عنایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے تیوری چڑھائی اور بےرخی برتی "۔ یہاں پر مخاطب کی بجائے غائب کا صیغہ سے تخاطب کا یہ انداز اپنے اندر بڑی بلاغت بھی رکھتا ہے اور لطف و کرم کا ایک خاص پہلو بھی۔ یعنی اس میں براہ راست خطاب کر کے " عبست " نہیں فرمایا گیا، بلکہ بصیغہ غائب " عبس " فرمایا گیا۔ سو اس طرح براہ راست آنحضرت ﷺ کو عتاب فرمانے کی بجائے غیب کا صیغہ اختیار فرمایا گیا، گویا کہ اس بےتوجہی اور بےالتفاتی کا صدور وقوع آنحضرت ﷺ سے نہیں کسی اور سے ہوا۔ نیز اس میں تلمیح بھی ہے کہ ایسا سلوک اور یہ رویہ آپ کے اخلاق عالیہ کے شایان شان نہ تھا۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی الہ وصحبہ و من والاہ، ومن دعا بدعوتہ و بھداہ اھتدی الی یوم الدین۔ واضح رہے کہ حضور ﷺ نے اس موقع پر حضرت ابن ام مکتوم ؓ سے جو معاملہ فرمایا تھا یہ کوئی گناہ نہیں تھا جس کا ارتکاب آپ نے کیا ہو، والعیاذ باللہ العظیم۔ بلکہ یہ ترک اولی کے قبیل سے تھا کہ جس کام میں آپ مشغول تھے وہ آپ کے نزدیک دینی مصلحت کے اعتبار سے بڑا اہم اور اولی تھا، لیکن حضرت حق جل مجدہ کے نزدیک اصل اور اولی یہ تھا کہ آپ اپنے اس مخلص ساتھی اور سچے صحابی کی رعایت زیادہ فرماتے، اسی لیے ارشاد میں آپ پر اس طرح عتاب فرمایا گیا۔ سو اس سے واضح فرما دیا کہ آپ کی توجہ کے اصل مستحق آپ کے وہ صحابی اور مخلص ساتھی ہیں جو صدق و اخلاص کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور اپنی اصلاح و تربیت کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ایسے مخلصین سے توجہ ہٹا کر آپ ان لوگوں کے زیادہ درپے نہ ہوں جو بےنیازی برتتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی زیادہ ناز برداری کی جائے کیونکہ مدار اصلاح کا اخلاص اور طلب صادق ہے پس توجہ اسی پر رہے۔ (3) معذور صحابی کے عذر کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سے بےرخی برتی اس بنا پر کہ اس کے پاس وہ نابینا آگیا "۔ سو اس میں حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم ؓ کے اس عذر کی طرف بھی اشارہ ہوگیا جس کی بنا پر انہوں نے بار بار مداخلت کی تھی، کہ آپ معذور تھے، اس لیے کہ آپ نگاہ سے محروم اور نابینا تھے، ؓ و عن سائر الصحابۃ الکرام، نیز اس میں اس طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا کہ ان کے اس عذر اور معذوری کی بنا پر وہ تو اپ کی توجہ اور حسن عنایت کے خاص طور پر زیادہ مستحق تھے، روایات میں وارد ہے کہ جب وہ چلے گئے تو حضور ﷺ نے ان کو واپس بلایا، اپنی چادر مبارک ان کے لیے بچھائی اور ان کو اس پر بٹھایا، اور اس کے بعد جب بھی وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ ان کو بطور خاص خوش آمدید کہتے، اور یہ ایسے جلیل القدر صحابی رسول تھے کہ نابینا اور معذور ہونے کے باوجود قادسیہ کی جنگ میں شریک ہوئے اور جام شہادت نوش فرمایا، چناچہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ان کو قادسیہ کی جنگ میں دیکھا کہ زرہ پہنی ہوئی ہے اور کالے رنگ کا جھنڈا اٹھائے شریک جہاد ہیں ( روح وغیرہ) سبحان اللہ۔ کیا ایمان اور کیسا جذبہ جہاد اور شوق شہادت تھا ان بندگان صدق و صفا کا کہ معذوری کے اس عالم میں بھی نذرانہ جان پیش کرنے کے لیے اس شوق و ذوق کے ساتھ میدان کا رزار میں شریک و شامل ہوتے ہیں، سو یہ بےمثال استاد کے وہ بےمثال شاگرد تھے جن کی نظیر و مثال چشم فلک نے نہ اس سے پہلے کبھی دیکھی ہوگی، اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی دیکھ سکے گی۔ ؓ وعنا معھم اجمعین۔ اللہ ہمیشہ ان کی سچی محبت اور قلبی تعلق نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، اللھم فکن لنا بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وانت العزیز الوھاب۔ (4) واقعے کی نوعیت اور اس سے اصل مقصود کی تعیین و وضاحت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کو کیا خبر کہ وہ پوری طرح سنور جائے، اور آپ سے علم و معرفت کی دولت پاکر وہ گناہوں کی ہر طرح کی آلائشوں سے پاک صاف ہوجائے ( ابن کثیر، صفوہ، محاسن وغیرہ) یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ معلم اور استاد کی نظر متعلم کے ظاہر اور اس کی شکل و صورت یا دنیاوی حیثیت اور مال و منال پر نہیں، بلکہ اس کے باطن اور صدق و اخلاص پر ہونی چاہیے، اور متعلم کا مقصد تعلم اور اخذ علم سے تزکیہ باطن ہی ہونا چاہئے ( روح، وغیرہ) بہرکیف اس ارشاد میں حضرت امام الانبیاء کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کو تو اس موقع پر اس نابینا کا آجانا اس لیے گراں گزرا کہ اس کے آجانے سے کہیں ان سرداران قریش کے پندار کو چوٹ نہ لگ جائے اور یہ بدک نہ جائیں حالانکہ اس سے ان متکبروں کی ناز برداری میں ایک طالب صادق کی حق تلفی ہورہی تھی، جبکہ ان متکبروں نے پھر بھی نہیں ماننا تھا، تو ایسے میں ان ناقدرے سرکشوں کے پیچھے لگ کر اس کو نظر انداز کرنا کیسے روا ہوسکتا ہے ؟ اوپر کی آیات کریمات سے صرف ایک واقعے کی خبر سامنے آئی اور بس۔ اس سے آگے ان سے نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کس کا ہے اور نہ ہی یہ کہ اس کے ذکر سے اصل مقصود کیا ہے، لیکن یہاں پر " یدریک " کے خطاب سے اس بات کو واضح فرمایا دیا گیا کہ اس واقعے کا تعلق خود حضور سے ہے۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور اس میں آپ کو اس بات پر تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ کہ آپ سچے طالبان حق سے صرف نظر کر کے ان منکرین کی نازوبرداری پر زیادہ توجہ نہ دیں، تاکہ ایسا نہ ہونے پائے کہ کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں اتنا دور نکل جائیں کہ گلے کی بھیڑوں کی خبر گیری اور ان کی دیکھ بھال میں کوتاہی واقع ہوجائے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء وانحراف، بکل حال من الاحوال، و فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، ھو الھادی الی الحق والرشاد، ملھم الصدق والصواب، والیہ المرجع والمآب، فعلیہ نتوکل و بہ نستعین، و فی کل ان و حین۔
Ayahs 80:5–6

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

تو جو شخص بےپرواہی برتتا ہے

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

اس کے تو آپ پیچھے پڑتے ہیں

(6) اصل تنبیہ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو شخص لاپرواہی برتتا ہے اس کے تو آپ پیچھے لگتے ہیں " حالانکہ وہ نور حق و ہدایت سے لاپرواہی برتتا ہے، اپنے دنیوی مال و منال کی بنا پر، اور اس کے زعم و گھمنڈ میں مبتلا ہو کر ایسے لوگ غفلت و لاپرواہی برتتے ہیں اپنے اس خالق ومالک سے جس نے ان کو نیست سے ہست کیا، خلعت وجود سے نوازا اور جس کے طرح طرح کے انعامات و احسانات میں یہ سر سے پاؤں تک ڈوبے ہوئے ہیں، اور اسی کبر و غرور اور زعم و گھمنڈ میں یہ لوگ دین حق کی ان مقدس تعلیمات سے بھی روگردانی برتتے ہیں جن سے آپ ان کو نواز رہے ہیں اے پیغمبر اور جن کو اپنانے اور قبول کرنے میں خود ان کے لیے دراین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے۔ پس کلمہ " استغنی " کا عموم اعراض و روگردانی کی ان تمام صورتوں کو شامل اور ان سب پر حاوی و محیط ہے، پس حضرت حق جل مجدہ کی جناب اقدس و اعلی اور ان کی نازل فرمودہ تعلیمات مقدسہ سے اعراض و روگردانی خرابیوں کی خرابی اور سب سے بڑی محرومی اور شقاوت و بدبختی ہے۔ والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ھو۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس اصل تنبیہ کو ذکر وبیان فرمادیا گیا ہے جو پیغمبر کو اس موقع پر فرمائی گئی ہے۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ جس سے واضح فرما دیا گیا کہ جو آپ کے پاس اے پیغمبر اپنی اصلاح کے طالب بن کر آئیں اور وہ خدا سے ڈرتے بھی ہوں، وہی آپ کی توجہ کے اصل مستحق ہیں، اور جو اس سے لاپرواہی اور بےنیازی برتیں ان کے پیچھے لگنے کی ضرورت نہیں، کہ وہ نہ اصلاح کے طالب ہیں اور نہ اس کے حقدار و مستحق، اس لیے ایسوں کے پیچھے لگنا بےسود و لاحاصل ہے اور متاع وقت کا ضیاع ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال۔
Ayahs 80:7–10

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

حالانکہ آپ پر اس کی سرے سے کوئی ذمہ داری ہی نہیں کہ وہ نہیں سدھرتا

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

اور جو (طلب حق میں) آپ کے پاس آئے دوڑتا ہوا

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

جب کہ وہ ڈر رہا ہوتا ہے

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

تو آپ اس سے بےرخی برتتے ہیں

(7) پیغمبر کی اصل ذمہ داری انذار و تبلیغ اور بس : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بےنیازی اور لاپرواہی برتتا ہے آپ اس کے پیچھے لگتے ہیں حالانکہ آپ پر ایسے شخص کے سدھارنے کی کوئی ذمہ داری نہیں "۔ کہ آپ ﷺ کی اصل اور حقیقی ذمہ داری تو ابلاغ اور تبلیغ حق ہے اور بس، اس کے بعد حق کو منوانا اور قبول کرالینا نہ تو آپ کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ آپ کی ذمہ داری ہے، تو پھر ان متکبروں کے درپے ہونے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے ؟ سو پیغمبر کا کام اور ان کی ذمہ داری و شان یہ ہے اور یہی ہونی چاہیے کہ جو کوئی ان کے پاس اپنی اصلاح کا طالب بن کر آئے اور اس کے اندر خدا کے حضور پیشی کا خوف ہو تو اسی پر اپنی توجہ مبذول رکھیں، اور وہی آپ کی توجہ کا اصل مرکز اور اس کا مستحق قرار پائے۔ اور جو اعراض اور لاپرواہی برتے اس کے پیچھے نہ پڑا جائے، سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ پیغمبر کی اصل ذمہ داری انذار و تبلیغ ہے، اور بس۔ اس کے ادا کرچکنے کے بعد ان کا ذمہ فارغ۔ آگے ان کو راہ حق پر ڈال دینا اور ان کو مومن و مسلم بنادینا نہ پیغمبر کے ذمے ہے اور نہ ہی ان کے بس میں۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ما تبقی ھذہ الاحرف والکلمات۔
Ayah 80:11

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

(ایسا) ہرگز نہیں بلاشبہ یہ (قرآن) ایک عظیم الشان نصیحت ہے

(9) پیغمبر کی اصل ذمہ داری کے لیے تنبیہ و توضیح : سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کی اصل ذمہ داری کی تحدید و توضیح کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں، یعنی ایسا ہرگز نہیں کرنے کا ایسے طالب صادق سے تو منہ موڑیں، اور ایسے لاپرواہ اور متکبر لوگوں کے پیچھے لگیں جو ہدایت چاہتے ہی نہیں۔ کیونکہ ہمارے یہاں اصل قدروقیمت صدق و اخلاص اور طلب صادق ہی کی ہے (جامع البیان وغیرہ) یہ قرآن بہرحال ایک عظیم الشان تذکیر اور یاد دہانی ہے، جو لوگوں کو آگاہ کرتی ہے ان کے مقصد حیات سے اور ان کو آگاہ کرتی ہے ان کے انجام اور طریق نجات و فلاح سے، اب جس کا جی چاہے اس کو مان کر اور اپنا کر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرے، اور جو ایسا نہ چاہے وہ اپنے اس ہولناک انجام کے لیے تیار ہوجائے جو منکرین و مکذبین کا مقدر ہے، اور جس سے یہ قرآن خبردار کررہا ہے، سو اس سے پیغمبر کی اصل ذمہ داری کے لیے تحدید و توضیح فرما دی گئی، اور اس حقیقت کو واضح فرمادیا گیا کہ ایسے ناقدروں کے پیچھے لگنے اور ان سے چمٹنے کی ضرورت نہیں، یہ قرآن تو ایک عظیم الشان تذکیر و یاد دہانی ہے جو انسان کو آگہی بخشتا ہے اس کے مبدا و معاد سے، اور اس کو یاددہانی کرتا ہے اس کی آخرت و انجام کی، اور آگہی اس کے مقصد حیات اور خالق و مخلوق کے حقوق سے، سو اس کی تعمیل میں انسان کا خود اپنا بھلا اور فائدہ ہے، پس اب جس کا جی چاہے اس کو اپناکر اس سے مستفید و فیضیاب اور بہرہ مند ہو۔ اور جس کا جی چاہے اس سے منہ موڑ کر اس ہولناک انجام کے لیے تیار ہوجائے، جس سے یہ دنیا کو خبردار کر رہا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، کیونکہ قبول حق پر نہ کوئی جبر واکراہ ہے اور نہ اس کی کوئی ضرورت۔ (10) قرآن حکیم ایک عظیم الشان اور بےمثال نصیحت : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور " ان " کے حرف تاکید کے ساتھ موکد کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ " بلا شبہ یہ قرآن ایک عظیم الشان تذکیر و یاددہانی ہے " اور ضمیر کی تانیث رعایت خبر کی بنا پر ہے کہ ایسے میں رعایت خبر اولی ہوتی ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا مرجع یہ آیات کریمہ ہوں ( خازن، مدارک وغیرہ) پس جو اس عظیم الشان اور کامل و بےمثال نصیحت کی طرف جھکے گا اور سچے دل سے اس کی تعلیمات کو قبول کرے گا وہ اپنا ہی بھلا کرے گا، اور جو اس سے منہ موڑے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا، پھر ان ناہنجاروں کے پیچھے پڑنے کی کیا ضرورت ؟ سو اس سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند و سرفرازی ہے، اور اس سے محرومی دارین کی خیر وبرکت اور سعادت سرخروئی سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو پیغمبر کی اصل ذمہ داری اس عظیم الشان نصیحت اور اس خزینہ نور و ہدایت اور منبع خیر وبرکت کو جوں کا توں پہنچا دینا ہے، تاکہ دنیا اس سے فیضیاب ہوسکے، اور وہ اپنی دنیا وآخرت کو بنانے سنوارنے کا سامان کرسکے، اور اس طرح دائمی ہلاکت و تباہی سے بچ سکے، پس پیغمبر کی ذمہ داری صرف اسی قدر ہے، آگے لوگوں کی اپنی مرضی، کہ وہ اس کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں، اور یہی تقاضا ہے آزادی ارادہ و اختیار کا، بہرکیف قرآن حکیم کی اصل حیثیت اور اس کی بےمثال عظمت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور حرف " ان " کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلا شبہ یہ ایک عظیم الشان نصیحت اور یاددہانی ہے "۔ یعنی " تذکرہ " کی تنوین تعظیم و تفخیم کی ہے، پس یہ کتاب حکیم ایسی عظیم الشان نصیحت اور بےمثال یاد دہانی ہے، اور ایسی کہ اس کی دوسری کوئی نظیر نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی ہے نہ آئندہ قیامت تک کبھی ہوسکے گی۔ اور یہ ایسی عظیم الشان نصیحت و یاددہانی دارین کی سعادتوں سے سرفرازی کی ضامن و کفیل ہے، اور یہ زندگی کے ہر گوشے اور ہر معاملے سے متعلق انسان کو ایسی تعلیمات مقدسہ سے نوازتی ہے جو عدل و انصاف، عقل و فطرت، اور علم و حکمت کے عین مطابق ہیں۔ والحمد للہ الذی شرفنا بھا بکرمہ واحسانہ۔ سو کتنے بدبخت اور کس قدر بدنصیب اور محروم ہیں وہ لوگ جو اس پر ایمان و یقین کی دولت سے محروم اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت بےنہایت اور کرم بےپایاں کی بنا پر بندوں کی ہدایت و راہنمائی اور ان کی تذکیر و یاددہانی کے لیے یہ عظیم الشان انتظام فرما دیا ہے، اب آگے لوگوں کی مرضی اور ان کا اپنا اختیار ہے، جو چاہے اس کو اپنا کر اپنے لیے سعادت دارین سے سرفرازی کا سامان کرے اور جو چاہے اس سے منہ موڑ کر ابدی شقاوت کی راہ کو اپنائے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا، اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا کی راہوں پر قائم رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین، و یار ارحم الرحمین۔
Ayah 80:12

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

اب جس کا جی چاہے اس نصیحت کو قبول کرے

(11) بندوں کے لیے آزادی ارادہ و اختیار کا حوالہ و ذکر : سو قرآن حکیم کی عظمت شان کو واضح فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا گیا کہ اب جس کا جی چاہے اس نصیحت کو اپنائے، کہ اس کا فائدہ بہرحال اسی کو پہنچے گا، اور جو اس سے منہ موڑے گا اس کا نقصان بھی خود اسی کا ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہ ارشاد عالی مقام ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّکُمْ فَمَن شَاء فَلْیُؤْمِن وَمَن شَاء فَلْیَکْفُرْ إِنَّا أَعْتَدْنَا للظَّالِمِیْنَ نَاراً أَحَاطَ بِہِمْ سُرَادِقُہَا وَإِن یَسْتَغِیْثُوا یُغَاثُوا بِمَاء کالْمُہْلِ یَشْوِیْ الْوُجُوہَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاء تْ مُرْتَفَقاً (الکہف 29 پ 15) یعنی " اب جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کرے، مگر یہ حقیقت واضح رہے کہ ہم نے بلا شبہ ظالموں کے لیے ایک ایسی ہولناک آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتوں نے ان کو اپنے گھیرے میں لے رکھا، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس میں نہ کسی پر کوئی جبر واکراہ ہے اور نہ کسی جبر کی کوئی ضرورت، بلکہ بات ہر کسی کے اپنے اختیار اور اس کی مرضی کی ہے، اور یہی تقاضا ہے ابتلاء و آزمائش کا، پس اصل دارومدار بندوں کے اپنے ارادہ و اختیار پر ہے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال۔
Ayah 80:13

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

(جو ثبت ہے) ایسے عظیم الشان صحیفوں میں جو بڑے ہی (معززو) مکرم ہیں

( 12) قرآن حکیم کی عظمت شان کے ایک اور پہلو کا ذکر وبیان : سو قرآن حکیم کی عظمت شان کے ایک اور پہلو کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ثبت و مندرج ہے بڑے عظیم الشان اور معزز صحیفوں میں "۔ پس ان صنادید قریش دوسرے منکرین و متکبرین کے ماننے سے نہ اس کی عزت و عظمت میں کوئی اضافہ ہوجائے گا، اور نہ ہی ان لوگوں کے انکار و اعراض سے اس میں کوئی فرق آجائے گا۔ بلکہ یہ سب کچھ خود ان لوگوں کے اپنے ہی بھلے کے لیے ہے، پس یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس کے لیے کسی کی منت سماجت کی ضرورت ہو، بلکہ یہ تو بڑی ہی پاکیزہ اور نہایت بالا و برتر چیز ہے۔ " صحف " جمع ہے " صحیفہ " کی، اور " صحیفہ " لکھے ہوئے ورق کو کہا جاتا ہے، اور جب یہ جمع کی صورت میں استعمال ہوتا ہے تو کبھی کتاب کے لیے بھی آتا ہے، یہاں پر اس سے مراد لوح محفوظ ہے اور " مکرمہ " کی صفت سے واضح فرمادیا گیا کہ یہ ایک نہایت ہی معزز، گرنمایہ، اور قیمتی خزانہ ہے، اس لیے اس کی حفاظت کا بھی خاص طور پر اہتمام کیا گیا، اور یہی ذریعہ و وسیلہ ہے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا، اور یہی وہ نور مبین ہے جو انسان کے لیے راہ حق و ہدایت کو روشن اور واضح کرتا ہے، سو اس سے اعراض و روگردانی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 80:14–15

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

جو بڑے ہی بلند مرتبہ انتہائی پاکیزہ ہیں

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

ایسے عظیم الشان لکھنے والوں کے ہاتھوں میں

(13) کلام حکیم کی دو خاص صفتوں کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلام حکیم کے مکرم ہونے کی دو خاص صفتوں کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بڑے بلند اور انتہائی پاکیزہ ہیں "۔ پس یہ صحیفے ہر قسم کی دست درازی اور ہر طرح کی تحریف و تغییر سے پاک اور محفوظ ہے، اس لیے کسی تحریف و سند کی ان تک نہ کسی طرح کی رسائی ممکن ہوسکتی ہے اور نہ کسی طرح کی کوئی تبدیلی ان تک راہ پاسکتی ہے۔ اور ان دو میں سے پہلی صفت یعنی " مرفوعہ " سے اس کے معنی اور درجہ بندی دونوں قسم کی بلندیوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ وَإِنَّہُ فِیْ أُمِّ الْکِتَابِ لَدَیْْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیْمٌ (الزخرف 4 پ 25) یعنی " یہ اصل کتاب میں ہمارے پاس ہے، نہایت بلند، اور پر حکمت "۔ اور دوسری صفت یعنی " مطھرۃ " سے واضح فرمایا دیا گیا کہ یہ کتاب حکیم شیاطین اور ارواح خبیثہ کی دسترس سے بالکل محفوظ ہے، اور یہ خالص اللہ کا کلام اور وحی خداوندی ہے اس میں کسی طرح کی کسی آمیزش کا کوئی سوال و امکان نہیں، نہ اس سے پہلے کبھی ایسے ہوا ہے، اور نہ آئندہ کبھی ہوسکے۔ والحمدللہ رب العالمین، جل وعلا۔
Ayah 80:16

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

جو بڑے ہی عزت والے اور نیکوکار ہیں

(14) اس کتاب حکیم کے حاملین کی صفات کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اس کتاب حکیم کے حاملین کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ بڑے ہی معزز اور باوفا کا تبوں کے ہاتھوں میں ہے "۔ یعنی " سفرہ " جمع ہے، " سافر " کی، جس کے معنی کاتب کے آتے ہیں، جیسے " کتبتہ " جمع ہے کاتب کی، اور اسی سے " سفر " بمعنی کتاب کے آتا ہے، جس کی جمع " اسفار " آتی ہے، اور دوسرا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ " سافر " بمعنی " سفیر " کی جمع ہو کہ فرشتے بھی دراصل اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر اور واسطے ہوتے ہیں۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ البیان، مراغی، خازن وغیرہ) سو جو کلام حکیم ایسی عظمتوں کا مالک ہے اس کے لیے کسی منت سماجت کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ پس اس کی ان عظمتوں کا تقاضا ہے کہ اس کو اسی اجلال و اکرام کے ساتھ اپنایا جائے جس کا یہ مستحق ہے، لفظ " کرام " جو کہ جمع ہے " کریم " کی اس میں ان کی عالی مقامی اور بلند کرداری کی طرف اشارہ ہے، پس نہ تو وہ اس میں خود کسی طرح کی کوئی کمی بیشی کرسکتے ہیں، اور نہ اس کا کوئی امکان ہے کہ وہ جنات اور شیاطین کو اس کا کوئی موقع دیں۔ اور " بررۃ " جمع ہے " بار " کی، جس کے معنی " نیکوکار "، " فرمانبردار "، " باوفا " اور اپنی ذمہ داری کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنیوالے کے ہیں، سو یہ صفت ان کی امانتداری کی صٖت کو مزید نمایاں کرتی ہے، سو اس سے کلام حکیم کی عظمت شان مزید واضح ہوجاتی ہے۔ والحمدللہ جل وعلا۔
Ayahs 80:17–18

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

خدا کی مار ( اور پھٹکار ہو) اس انسان پر کیسا ناشکرا ( اور کس قدر بےانصاف) ہے یہ ؟

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

کس چیز سے پیدا کیا اس کو اس (قادر مطلق) نے ؟

(15) انسان کی ناشکری پر اظہار تعجب و افسوس : چناچہ ارشاد فرمایا گیا انسان کی ناشکری اور اس کی بد دماغی پر اظہار تعجب و افسوس کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ خدا کی مار ہو اس انسان پر کیسا ناشکرا ہے ؟ کہ یہ اپنے اس خالق ومالک جل جلالہ کے حقوق سے ہی غافل و لاپروا ہے جس کے انعامات و احسانات میں اس کے جسم و جان کا رواں رواں ڈوبا ہوا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ انسان کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن اس سے مراد وہی منکر اور متکبر انسان ہے جو اس کلام حکیم سے اعراض اور روگردانی برتتا ہے، جس کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے، یعنی اس کو کس قدر عظیم الشان کلام اور بےبہا رحمت سے نوازا گیا اور اس کی عظمت شان اور بےمثال حفاظت سے اس کو اس طرح آگاہی بخشی گئی، مگر یہ پھر بھی اس سے اعراض و روگردانی برتتا ہے، حالانکہ اس میں اس کے لیے سعادت دارین سے سرفرازی کا سامان ہے، اور اس سے اعراض و انکار میں اس کے لیے دنیا وآخرت کی محرومی اور ہلاکت ہے، مگر یہ پھر بھی غفلت و لاپرواہی میں مستغرق و مبتلا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین۔
Ayah 80:19

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

ایک (حقیر سی) بوند سے پیدا کیا اس کو پھر اس کو (نہایت ہی حکمتوں بھرے) انداز پر رکھا

(16) منکرین کے کبر و غرور پر ایک ضرب : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور مغرور و متکبر انسان کے کبر و غرور پر ایک ضرب کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کو اس سے کس چیز سے پیدا کیا ؟ ایک حقیر سی بوند سے اس نے پیدا کیا "۔ سو کہاں مادہ تولید کی وہ حقیر سی بوند اور کہاں اس سے بننے والا اتنی خوبیوں اور ایسی قوتوں کا مالک یہ انسان جو ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی فکر میں ہے، اس قادر مطلق جل جلالہ نے اپنی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور اپنی بےپایاں رحمتوں اور عنایتوں سے اس کو کیا سے کیا بنایا اور کہاں سے کہاں پہنچایا۔ مگر یہ پھر بھی اس کے احسان بےکراں اور انعام بےنہایت کا منکر، اس کے حقوق و فرائض سے غافل، اپنے مقصد حیات سے لاپروا اور اپنے انجام سے بےفکر محض ایک حیوان بن کر رہ گیا ہے، اس سے بڑا ظلم اور خسارہ اور کیا ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین (17) انسان کو اس کے مراحل تخلیق و تکمیل کی تذکیر و یاد دہانی : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ " اس قادر مطلق خالق مالک نے اس انسان کو ایک حقیر بوند سے پیدا کیا، اور پھر اس نے اس کو نہایت ہی حکمتوں بھرے اندازے پر رکھا "۔ اور ماں کے پیٹ کے اندر تین اندھیروں میں وہ اس کو نہایت حکمت اور لطف و عنایت کے ساتھ ایک سے دوسری حالت میں بدلتا اور تبدیل کرتا گیا۔ " نطفہ " سے " علقہ " اور " مضغۃ " وغیرہ مختلف تبدیلیوں سے اس کو نوازا گیا۔ یہاں تک کہ اس کی یہ حکمت بھری تخلیق نطفہ کمال کو پہنچ گئی، اور یہ ایک بشر سوی یعنی کامل انسان کی صورت میں ظہور پذیر ہوا، نیز اس نے اس کے اعضاء وجوارح کو بھی نہایت باریک تناسب اور انداز سے تخلیق فرمایا۔ پھر بطن مادر میں اور اس کے بعد پیدا ہونے پر اس کی غذا و خوراک کے لیے ایسا حکمتوں بھرا انتظام فرمایا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے، پھر اس کے جسم و جان کے اندر کی ہر چیز کو اور اس کے وجود کے باہر اس سے تعلق رکھنے والے مختلف امور کو ایسے نہایت باریک تناسب اور دقیق و عمیق توازن پر رکھا کہ اگر ان میں سے کسی ایک میں بھی کمی بیشی ہوجائے تو سارا نظام بگڑ جائے، پھر اس دنیا میں اس کی حیات و بقا اور بود و باش کو بھی نہایت حکمتوں بھرے انداز سے رکھا جو اس کی عظیم الشان قدرت اور بےپایاں رحمت و عنایت کا عظیم الشان مظہر ہے۔ فسبحانہ من الہ خالق عظیم قادر قیوم لطیف خبیر جل و علا شانہ۔ سو انسان کو اس اصل حقیقت سے واقف و آگاہ کرنے کے لیے اور اس کی خود اس کی اپنی ذات میں دعوت غور و فکر کے طور پر ارشاد فرمایا۔ " من ای شیء خلقہ " کہ " کس چیز سے اللہ نے پیدا کیا اس کو ؟ " سو اپنی حقیقت میں غور و فکر کے طور پر رب تک پہنچ سکتا ہے، بشرطیکہ یہ غور صحیح طور پر اور صحیح نقطہ نگاہ سے ہو، اسی مضمون کو اس طرح بیان فرمایا گیا " من عرف نفسہ فقد عرف ربہ " یعنی جس نے اپنی ذات کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ فباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، جل جلالہ، وعم نوالہ۔
Ayah 80:20

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر اس نے آسان فرما دیا اس کے لیے (زندگی کا) راستہ

(18) تیسیر سبیل اپنے وسیع مفہوم میں : سو ارشاد فرمایا گیا اور تیسیر سبیل کی نعمت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اس نے آسان فرمادیا اس کے لیئے اس کے راستے کو " سب سے پہلے اس کے لیے بطن مادر سے اس عالم ہست و بود میں آنے کی راہ کو آسان فرمایا۔ اسی لیے حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ جو دو پیشاب گاہوں یعنی مرد اور عورت کے ذریعے اس دنیا میں آیا ہو اس کو اکڑنے اور تکبر کرنے کا حق پہنچتا ہے ؟ (ابن کثیر، قرطبی وغیرہ) نیز اس کے لیے اس نے ہدایت کا وہ عظیم الشان راستہ بھی آسان فرما دیا جو دارین کی سعادتوں اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفرازی کا ذریعہ ہے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا إِنَّا ہَدَیْْنَاہ السَّبِیْلَ إِمَّا شَاکِراً وَإِمَّا کَفُوراً (الدھر 3 پ 29) یعنی ہم نے اس کو ہدایت کردی سیدھی راہ کی، پھر یا تو وہ شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا، نیز فرمایا گیا وَہَدَیْْنَاہ النَّجْدَیْْنِ (البلد 10 پ 30) یعنی " ہم نے اس کو خیر و شر اور بھلائی و برائی کے دونوں راستے واضح طور پر بتا دیئے " تاکہ یہ خیر اور بھلائی کو اپنائے اور شر و برائی سے بچ سکے۔ اور اس طرح یہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور ہوسکے۔ سو ہم نے اس کے لیے بطن ام سے فضائے دنیا میں آنے اور اس دنیائے فانی کی حیات مستعار کی بچپن سے لیکر آخر عمر تک کی تمام منازل طے کرنے اور اس کے بعد قبر و برزخ اور عالم آخرت تک کی طویل راہ آسان کردی، اور امر واقعہ یہی ہے، کہتے ہیں بچہ ماں کے پیٹ میں اس طرح ہوتا ہے کہ اس کا سر اوپر اور پاؤں نیچے کی طرف ہوتے ہیں، جیسا کہ آج کل کی سائنس کی ترقی کے اس دور میں سامنے دیکھا اور دکھایا جاتا ہے، لیکن جب وہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا سر پہلے باہر آتا ہے اور باقی حصہ بعد میں، آخر انسان کی بہتری کے لیے رحم مادر کے اس تنگ و تاریک ماحول میں یہ سب کچھ کون کرتا ہے ؟ اور کون کرسکتا ہے ؟ سوائے اس وحدہ لاشریک قادر مطلق مالک کل کے سبحانہ وتعالی۔ سو ذرا دیکھھو تو سہی کہ یہ قدرت کی کس قدر عظیم الشان اور حیرت انگیز صناعی کاریگری اور اس کی رحمت ہے۔ سبحانہ وتعالی۔ پھر بھی اس سے منہ موڑنا اور لاپرواہی برتنا کس قدر بےقدری اور کتنی بڑی ناشکری ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو تیسیر سبیل کا یہ عنوان اپنے وسیع مفہوم میں ہے جو انسان کے آغاز سے لے کر اس کے انجام تک کے سب مراحل کو عام اور شامل ہے، بچہ بطن مار میں قدرت ہی کی تدبیر و تیسیر اور اسی کی رحمت و عنایت سے نشوونما پاتا ہے، اور اسی کی قدرت وحکمت اور رحمت و عنایت سے مہد سے لحد تک کے تمام نشیب و فراز طے کرتا ہے، اور اس کی زندگی کا ہر ہر مرحلہ اور اس کا ایک ایک لمحہ اسی وحدہ لاریک کی رحمت و عنایت، اور اسی کی تسہیل و تیسیر میں گزرتا ہے، ماں کے پیٹ کے اندر اس کی خوراک کا قدرت کی طرف سے ایک نہایت ہی پر حکمت طریقے سے انتظام کیا جاتا ہے، پھر جب یہ قدرت ہی کی تیسیر سے ایک بچے کی شکل میں دنیا میں آتا ہے تو اس کے تغذیہ کے لیے قدرت کی حکمت و عنایت کا ایک اور مرحلہ سامنے آتا ہے کہ اس کی ماں کی چھاتیوں میں دودھ کی ایک ایسی بےمثال خوراک کا انتظام کردیا جاتا ہے، جو اس کی زندگی کے اس مرحلے کے عین مطابق ہوتی ہے، پھر یہ قدرت ہی کی طرف سے ملنے والی فطری رہنمائی اور جبلی ہدایت کی بنا پر اس کو چوسنا شروع کردیتا ہے، حالانکہ زندگی کے اس مرحلے میں یہ محض گوشت کے ایک لوتھڑے کی طرح ہوتا ہے، جس کو نہ کچھ پتہ ہوتا ہے نہ کسی طرح کا کوئی علم و آگہی، نہ یہ بول سکتا ہے، اور نہ ہی کسی کی بات کو کسی بھی درجے میں سمجھ سکتا ہے، مگر قدرت کی حکمت و عنایت اور اس کی تیسیرے سے یہ چوسنے کا مفہوم سے ناصرف یہ کہ واقف و آگاہ ہوتا ہے، بلکہ خود چیخ کر اپنی خوراک کا مطالبہ کرتا ہے اور ماں کی چھاتی سے دودھ چوسنے لگتا ہے، پھر بڑھتے بڑھتے جب یہ اپنی جوانی کے دور میں پہنچتا ہے اور مختلف میدانوں میں اپنی طرح طرح کی سرگرمیاں دکھاتا اور فتوحات حاصل کرتا ہے تو ان میں بھی یہ خدا ہی کے دیے بخشے اعضاء و اسلحے اور اسی کی عطا کردہ عقل و فکر اور اسی کی بخشی ہوئی ہدایت و رہنمائی سے فائدہ اٹھاتا ہے، اسی کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوَّی۔ وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَہَدَی ( الاعلی 2, 3 پ 30) یعنی جس نے پیدا کیا پھر سب اعضاء وجوارح کو برابر کیا، اور جس نے ہر معاملے میں ایک اندازہ مقرر فرمایا پھر اس کو ( اس کے لیے) ہدایت و رہنمائی سے نوازا۔ فلہ الحمد ولہ الشکر جل وعلا بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب جل وعلا۔
Ayahs 80:21–22

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر وہی اس کو موت کے گھاٹ اتار کر قبر میں پہنچا دیتا ہے

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر وہی جب چاہے گا اسے دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا

(19) زندگی کے آخری مرحلے کی تذکیر ویاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور خاتمۃ المطاف یعنی زندگی کے آخری مرحلے کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہی اس کو موت کے گھاٹ اتار کر قبر میں پہنچا دیتا ہے، تاکہ اس کا اس دنیا سے کوچ بھی عزت و احترام اور تعظیم و تکریم سے ہو، ورنہ ذرا سوچو کہ اگر ایسے نہ ہوتا اور باضابطہ تجہیز و تکفین کے بغیر اس کی لاش کو یونہی باہر ڈال دیا جاتا، جہاں درندو پرند اس کی لاش کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہوتے جس طرح کہ وہ دوسرے مردہ جانوروں کو کھاتے ہیں تو اس کا کیا حال ہوتا ؟ نیز اس میں یہ بڑا عظیم الشان درس بھی ہے کہ انسان اپنی پیدائش اور زندگی اور موت سب ہی مراحل میں قدرت کے ارادے کے سامنے سراسر عاجز و بےبس ہے۔ وہ جب چاہے اور جیسے چاہے اس کو پیدا فرمادے، اور نیست سے ہست کردے، اور جب اور جیسے چاہے اس کو موت کی نیند سلا دے۔ اور جہاں اور جیسی قبر میں چاہے اس کو ڈال دے، خواہ وہ زمین کا پیٹ ہو یا سمندروں کی کوئی گہرائی یا آگ کا کوئی الاؤ یا کسی درندے کا پیٹ انسان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اپنے اس طرح کے کسی بھی انجام سے انکار کرسکے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اس مشیت اور اس کی قضا و قدر کے سامنے یہ سراسر عاجز و بےبس ہے، اور اللہ تعالیٰ کی اس مشیت اور قضاء و قدر کو کوئی انسان تو کیا ساری دنیا مل کر بھی نہیں بدل سکتی، سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو جو انسان اپنی زندگی کے ان تمام مراحل میں سراسر اس کے حکم و مشیت اور اس کی قضاء قدر کا پابند اور اس کے سامنے اس طرح عاجز و بےبس ہے وہ کل اس کے حکم سے دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے سے کس طرح انکار کرسکتا ہے ؟ جل جلالہ وعز برھانہ۔ سو نہ تو اس انسان کا وجود اور اس کی تخلیق عبث و بیکار ہوسکتی ہے اور نہ ہی قدرت کے لیے اس کا دوبارہ پیدا کرنا کچھ مشکل ہوسکتا ہے۔ اقبر کے معنی ہوتے ہیں کسی کو قبر میں رکھوانا یا دفن کرانا، سو اس سے جہاں ایک طرف اس کی عنایت و حکمت سامنے آتی ہے، وہیں اس میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی پایا جاتا ہے کہ جس مرتا ہے وہ فنا نہیں ہوجاتا، بلکہ قدرت اپنی عنایت و حکمت سے اس کو زمین کی تحویل میں دے دیتی ہے، اور جو شے کسی کی تحویل میں دی جاتی ہے وہ لازما ایک دن واپس لی جاتی ہے، پس اس لفظ سے یہ عظیم الشان درس بھی پایا جاتا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب اللہ تعالیٰ اس امانت کو زمین سے واپس لے لے گا، سو وہی دن قیامت اور حساب کتاب کا دن ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، وسوء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب۔
Ayah 80:23

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

ہرگز نہیں اس نے تو ابھی تک وہ فرض پورا نہیں کیا جس کا اللہ نے اس کو حکم دیا تھا

(21) منکرین کی کج فہمی پر زجر و ملامت کا ذکرو بیان : سو اس سب کے باوجود جو لوگ بعث بعد الموت کا انکار کرتے ہیں، ان کی کج فہمی پر ان کی زجر و توبیخ اور ان کی ملامت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " ہرگز نہیں "۔ یعنی ایسا ہرگز نہیں جیسا کہ ان منکرین آخرت نے سمجھ رکھا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ انسان یونہی مرکھپ کر ختم ہوجائے گا، اور اس سے قدرت کی ان نعمتوں کے بارے میں کبھی پوچھ نہیں ہوگی جن سے اس نے اس کو طرح طرح سے نوازا اور مالا مال فرمایا ہے، اور یہ کہ ہم یونہی مر مٹ کر ختم ہوجائیں گے، جیسے کہ برسات کے مینڈک اور زمین پر رینگنے والے کیڑے مکوڑے ختم ہوجاتے ہیں، سو کلا کے حرف ردع سے اس کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا سو نہیں ایسے نہیں ہوگا اور ہرگز نہیں ہوگا، بلکہ تم سب کو اپنے مقرر وقت پر بہرحال دوبارہ اٹھنا ہے اور اپنی زندگی بھر کے کیے کرائے کا جواب دینا اور اس کا پھل پانا ہے، سو جس انسان کے لیے خدائے مہربان نے اپنی رحمت و عنایت سے یہ عظیم الشان خوان نعمت بچھایا ہے، جس سے یہ انسان دن رات کے ہر حصے میں مستفید و فیضیاب ہوتا ہے، اور طرح طرح سے اور مسلسل و لگاتار مستفید و فیضیاب ہوتا ہے، کس طرح ہوسکتا ہے کہ اس سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھ نہ ہو، پس روز حساب قائم ہوگا اور ہر حال قائم ہوگا اور اس میں اس انسان سے پوچھ ہوگی، رب رحیم و قدیر کے اس پر حکمت نظام رحمت و ربوبیت کا تقاضا یہی ہے کہ یوم حساب بپا ہو، تاکہ ہر ایک سے اس کی زندگی بھر کے کیے کرائے کے بارے میں پوچھ ہو۔ اور وہ اس کا صلہ اور بدلہ پائے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور علی وجہ التمام والکمال پورے ہوں، اور اس طرح اس کارخانہ ہست و بود کے مقصد وجود تخلیق کی تکمیل ہوسکے، سو انسان کے ارد گرد ہر چہار سو پھیلے بکھرے اس اہتمام رحمت و ربوبیت اور نظام پرورش و تربیت کا بدیہی تقاضا اور اس کی کھلی شہادت یہ ہے کہ یوم جزا و سزا واقع ہو، اور اس کو ضرور واقع ہونا چاہیے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور علی وجہ الکمال پورے ہوں، ورنہ یہ سارا کارخانہ قدرت عبث و بیکار قرار پائے گا جو کہ حضرت خالق حکیم جل جلالہ کی قدرت کاملہ و حکمت بالغہ و رحمت شاملہ اور اس کی شان عدل و انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ (22) منکرین کے رویے پر اظہار تعجب و افسوس : سو اس سے منکر انسان کی غفلت و لاپرواہی اور اس کے عمومی رویے پر اظہار تعجب و افسوس کے طور پر فرمایا گیا ہے کہ ہر چہار سو پھیلے بکھرے دلائل قدرت و حکمت کے باوجود منکر انسان کس طرح انکار حق پر اڑا ہوا ہے، نہ یہ ان دلائل میں غور و فکر سے کام لیتا ہے نہ حق کے آگے جھکتا ہے، سو ایسے معاند اور ہٹ دھرم انسان کی غفلت و لاپرواہی پر اظہار تعجب و افسوس کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے ابھی تک وہ فرض پورا نہیں کیا جس کا حکم اس کو اللہ نے دیا تھا، کہ یہ آثار و شواہد قدرت میں غور و فکر سے کام لے، تاکہ اس حق اور حقیقت تک رسائی نصیب ہوسکے، اور یہ ہدایت و ایمان کی اس روشنی سے مستنیر اور بہرہ ور ہوسکے جو سب سے بڑی دولت اور کامل وبے مثال روشنی ہے، جس سے نوازنے کے لیے قدرت نے اپنی رحمت کاملہ اور عنایت شاملہ سے حضرات انبیائے کرام (علیہم السلام) کو مبعوث فرمایا۔ اور وحی کا سلسلہ جاری فرمایا، اور آسمان سے کتابیں نازل فرمائیں، اور دوسری طرف انسان کو عقل کی روشنی سے نواز کر کائنات کی حکمتوں بھری یہ کھلی کتاب اس کے سامنے رکھ دی اور اس کو اس میں غور و فکر سے کام لینے کی دعوت دی گئی، مگر غفلت میں ڈوبے انسان نے نہ اس کا حق ادا کیا اور نہ اس طرف توجہ ہی کی، بلکہ خواہشات نفس کی پیروی میں لگ کر اس نے اپنے آپ کو انسانیت کے منصہ شرف سے گرا کر حیوانیت محضہ کے ہولناک گڑھے میں ڈال دیا، اور اس میں بری طرح سے ڈال دیا گیا کہ یہ سماع حق سے اندھا بہرہ بن کر رہ گیا۔ والعیاذ باللہ۔ سو " ما امرہ " کے عموم میں وہ تمام اوامر واحکام بھی داخل ہیں جو فطرت کی بدیہیات میں سے ہیں، اور وہ تمام اوامرو احکام بھی جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے اپنے انبیاء و رسل کے ذریعے نازل فرمائے ہیں۔ اور ہر وہ حکم بھی جس کی طرف آسمان سے لے کر زمین تک کی اس حکمتوں بھری کائنات کا ہر ذرہ اور قدرت الہی کا ہر مظہر اشارہ کررہا ہے اور اپنی زبان حال سے پکار پکار کر دعوت غور و فکر دے رہا ہے، اور جس کی دعوت خود انسان کا اپنا وجود بھی دے رہا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَفِیْ أَنفُسِکُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ( الذریات 21 پ 26) یعنی " خود تمہاری جانوں کے اندر بھی قدرت کی عظیم الشان نشانیاں موجود ہیں، کیا تم لوگ آنکھیں نہیں کھولتے " ؟ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، فبہ ثقتنا وعلیہ الاعتماد۔
Ayahs 80:24–25

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

پھر یہ (حضرت) انسان ذرا اپنی خوراک (کے نظام) ہی میں غور کرلے

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

کہ ہم نے (اس کی ضرورتوں کے لیے کیسے طرح طرح سے) پانی لنڈھایا

(23) اپنی خوراک میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا اور انسان کے دل و دماغ پر ایک دستک کے طور پر اور اس کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " انسان ذرا اپنے نظام خوراک ہی میں غور کرلے "۔ تاکہ اس میں کارفرما اس قادر مطلق کی قدرت کاملہ، عنایت شاملہ اور رحمت بےنہایت کے عظیم الشان آثار و نشان دیکھ کر یہ عبرت حاصل کرسکے، اور اس کے نتیجہ میں یہ اپنے اس خالق ومالک اور رب رحمن و رحیم کے حضور دل و جان سے جھک جائے، اور اس طرح خود اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکے۔ وباللہ التوفیق وھو الھادی الی سواء الصراط۔ سو نور حق و ہدایت سے سرفرازی کے لیے دلائل ڈھونڈنے کی غرض سے انسان کو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے لیے یہ اپنی غذا کے اس حکمتوں بھرے نظام ہی میں غور کرلے جس پر اس کی زندگی کا مدارو انحصار ہے کہ اللہ تعالیٰ کس قدر پر حکمت طریقے سے اس کے لیئے اس کا سامان کرتا اور انتظام فرماتا ہے، اور پھر کس طرح اس کو انسانی ضروریات کے مطابق ایسی وسعت دیتا اور اس کو کس قدر مختلف اور متنوع انواع و اقسام کی شکل میں پیدا کرتا ہے جس سے انسان طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتا ہے، تو کیا یہ سب کچھ بےمقصد اور عبث و بیکار ہوسکتا ہے ؟ سو دلائل کی کمی نہیں، وہ تو کائنات میں ہر طرف پھیلے بکھرے ہیں، اور اس قدر پر حکمت طریقے سے کہ انسان اپنے آگے پیچھے، اپنے دائیں بائیں، اور اپنے اوپر نیچے جدھر بھی نگاہ عبرت ڈالے اس کو حضرت خالق حکیم جل مجدہ کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کے عجائب نظر آئیں گے، سو وہ اگر اسی روٹی میں صحیح طریقے سے غور کرلے جو صبح و شام اس کی تن پروری اور اس کی شکم پری کے لیے اس کے سامنے آتی ہے کہ یہ کن کن مراحل سے گزر کر اس کے سامنے آتی ہے، اور یہ قدرت کی کن کن عنایتوں اور رحمتوں کا ثمرہ و نتیجہ ہے، تو یہ دل و جان سے اپنے اس رب خالق و رزاق کے آگے جھک جائے جو اس کے لیے اس روٹی کا انتظام فرماتا ہے، اور اس طرح یہی روٹی اس کے لیے شکم سیری کے ساتھ ساتھ اس کے لیے نور معرفت و حکمت سے سرفرازی کا ذریعہ بھی بن جائے، مگر مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہ ہے کہ انسان اس زاویہ نگاہ سے سوچتا ہی نہیں، الا ما شاء اللہ۔ سو دلائل کی کمی نہیں، اس سے تو یہ پوری کائنات بھری ہوئی ہے، اصل کمی نگاہ عبرت و بصیرت کی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب۔
Ayahs 80:26–28

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر ہم نے کس عجیب و غریب طریقے سے پھاڑا زمین کو

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

پھر ہم ہی نے اگائے اس میں (اپنی قدرت کاملہ اور عنایت شاملہ سے) طرح طرح کے غلے

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور انگور اور ترکاریاں

(24) غور و فکر کے لیے صحیح طریقے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا اور غور و فکر کے صحیح طریقے کی تعلیم و تلقین کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " انسان دیکھے کہ کس طرح ہم نے پانی برسایا، پھر کس عجیب و غریب طریقے سے ہم نے پھاڑا زمین کو " جس سے کمزور قسم کی انگوری کی سوئی باہر نکل آتی ہے، اور وہ اپنی زبان حال سے اپنے خالق ومالک کی وحدانیت ویکتائی کی نغمہ سرائی کرتی ہوئی دنیا کو توحید و وحدانیت خداوندی کا سبق سکھاتی ہے۔ اور اپنی زبان بےزبانی سے انسان کو ایسا درس عبرت و بصیرت دیتی ہے کہ اگر وہ اس میں صحیح معنوں میں اور صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے تو کفر و شرک کے تمام اندھیرے چھٹ جائیں، مگر مشکل اور مشکلوں کی مشکل جیسا کہ ابھی اوپر والے حاشیے میں بھی گزرا، یہی ہے کہ وہ غور و فکر سے کام لیتا ہی نہیں، اور وہ غور و فکر کے اسی گوہر مقصود سے منہ موڑ کر اسی دنیائے دوں کی فانی منفعتوں اور عارضی لذتوں کی تحصیل و تکمیل میں لگ گیا، اور اسی کو اس نے اپنا اصل مقصد بنا لیا، اور وہ مادہ معدہ کے تقاضوں میں ایسا الجھ اور پھنس کر رہ گیا کہ انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر حیوانیت محضہ کے کے قعر مذلت میں پہنچ گیا، یہاں تک کہ اس نے اپنے جوہر عقل کو بھی اپنی خواہشوں کی تحصیل و تکمیل میں لگا دیا۔ الا ماشاء اللہ، والعیاذ باللہ جل و علا، سو تم ذرا دیکھو اور زمین سے نکلنے والی اس ننھی منھی انگوری کے بارے میں ہی غور کرو تو دیکھو گے کہ اگر ہماری مشیت اور قدرت کی یہ پر حکمت کارگزاری نہ ہوتی اے لوگو ! تو ان کمزور انگوریوں کی کیا جان تھی کہ یہ اس طرح زمین کو پھاڑ کر اس شان کے ساتھ اس سے سر نکالتیں۔ اور انسان کے لیے طرح طرح کے فائدوں کا ذریعہ بنتیں ؟ " افلا تبصرون " کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو۔ بہر کیف صرف غور و فکر کی دعوت ہی پر اکتفا نہیں فرمایا گیا بلکہ غور و فکر کی لائن بھی مقرر فرما دی گئی کہ غور و فکر اس طرح اور ان خطوط پر کرو۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ذرا دیکھو کہ کس پر حکمت طریقے کے ساتھ ہم آسمان سے مینہ برساتے ہیں، پھر کیسی حکمت و عنایت کے ساتھ اس کے لیے زمین کے مسامات کھول دیتے ہیں، جس سے وہ اس پانی کو اپنے اندر جذب کرلیتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ ابھر اور پھول پڑتی ہے اور اس کی قوت انبات و روئیدگی حرکت میں آجاتی ہے، اور اس کے نتیجے میں مردہ اور سونی پڑی ہوئی یہ زمین گل و گلزار بن جاتی ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا وَتَرَی الْأَرْضَ ہَامِدَۃً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَیْْہَا الْمَاء اہْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن کُلِّ زَوْجٍ بَہِیْجٍ (الحج 5 پ 17) یعنی " تم اس زمین کو (مردہ اور) خشک پڑی ہوئی دیکھتے ہو، پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو یہ ابھر اٹھتی ہے، اور پھول پڑتی ہے، اور ہر قسم کی عمدہ نباتات اگانے لگتی ہے، سو نہ آسمان سے پانی برسانا کسی کے بس میں ہوسکتا ہے اور نہ زمین کے ان مسامات کو کھولنا کسی کے امکان میں ہوسکتا ہے، حالانکہ یہی وہ دو بنیادی عوامل ہیں جن پر زمین کی تمام فیض بخشی منحصر و موقوف ہے، پس انسان اگر اسی ایک حقیقت پر صحیح طریقے سے غور کرے تو اس کے لیے حضرت حق جل مجدہ کے وجود باوجود، اس کی قدرت و حکمت، اس کی رحمت و عنایت، اور اس کی وحدانیت ویکتائی، جیسے تمام حقائق پوری طرح روشن اور واضح ہوجائیں، اور اسی سے اس کے لیے یہ بھی واضح ہوجائے کہ آخرت و قیامت قائم ہوگی، اور قائم ہونی چاہے، اور یہ کہ بعث بعد الموت عقل سلیم اور نقل صحیح دونوں کا تقاضا ہے پس ضرورت صحیح طور پر غور و فکر سے کام لینے کی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل، اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین، و یا ارحم الرحمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayah 80:29

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کھجوریں

(25) زمین سے اگنے والے طرح طرح کے غلوں کا ذکر وبیان : سو قدرت کی رحمت و عنایت کے ایک اور مظہر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ہم ہی نے اس میں اگائے طرح طرح کے غلے قسما قسم کے انگور، رنگا رنگ ترکاریاں، اور زیتون اور کھجوریں "۔ تاکہ اس سے انسان کی طرح طرح کی ضروریات کی تکمیل ہوسکے، اور یہ پر لطف اور پرسکون طور پر نعمت زندگی سے بہرہ ور ہوسکے، مگر یہ انسان ایسا ظلوم و جہول اور ناشکرا وکفور واقع ہوا ہے کہ یہ ہم ہی کو بھول جاتا ہے، اور خود ہمارے ہی خلاف حجت بازی کرتا اور ہمارے ہی مقابلے میں جھگڑا لو بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہاں پر اس ضمن میں بعض ایسی چیزوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو زمین سے لگی ہوئی، یا اس پر بچھی ہوئی پیدا ہوتی ہیں اور جن کو دیکھنے کے لیے نظر اٹھانے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ جیسے مختلف قسم کے غلے، انگور، اور ترکاریاں وغیرہ۔ اور ان میں چونکہ غلہ بنیادی اہمیت رکھنے والا ہے، دوسری تمام چیزیں اس کے تحت اور اس کے بعد آتی ہیں، اس لیے اس کا ذکر سب سے پہلے فرمایا گیا اور اس کے بعد پھلوں کا اور پھر ترکاریوں کا، سو انسان اگر اس بارے میں سوچے اور غور و فکر سے کام لے تو اس کو قدرت کی رحمت و عنایت کے عظیم الشان نمونے نظر آئیں گے۔ سو " انبتنا " کے اس فعل ماضی سے اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ بارش کے اترنے سے یہ سب کچھ از خود نہیں اگ آتا بلکہ اس کے بعد بھی معاملہ ہمارے ہی کرم کا محتاج ہوتا ہے۔
Ayahs 80:30–31

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور قسما قسم کے گھنے (اور خوشنما) باغ

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور طرح طرح کے (لذیذ) پھل اور چارے

(26) گھنے باغوں کی نعمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور قسما قسم کے گھنے باغ بھی، جن میں تمہارے لیے طرح طرح کے فوائد اور قسما قسم کے منافع ہیں " سو سوچو اور اندازہ کرو اے لوگو کس قدر کریم اور رحمن و رحیم اور مہربان ہے تمہارا وہ رب جس نے تم کو اور ان عظیم الشان نعمتوں سے اس کثرت اور پر حکمت طریقے سے نوازا ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ ۔ " غلب " جمع ہے " اغلب " کی جس کے اصل معنی موٹی گردنوں والے کے ہوتے ہیں، اور جب یہ باغ کی صفت کے طور پر آتا ہے تو اس سے مقصود درختوں کی شادابی کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے، اور ایسا باغ چونکہ گھنا اور گنجان ہوتا ہے اس لیے اس کا معنی ہوگیا " گھنے باغ " اور ان طرح طرح کی عظیم الشان نعمتوں میں یہ پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان اس سلسلے میں جو عظیم الشان اور پر حکمت توافق و تعامل پایا جاتا ہے اس سے یہ عظیم الشان اور اہم بنیادی حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ آسمان و زمین کا خالق ومالک اور ان میں حاکم و متصرف ایک ہی ذات ہے اور ان دونوں میں ایک ہی ارادہ کارفرما ہے، ورنہ ان کے درمیان یہ کامل توافق اور اس قدر پر حکمت تعامل ممکن نہیں تھا، سو وہی ہے اللہ وحدہ لا شریک، خالق کل اور مالک مطلق، پس معبود برحق وہی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayahs 80:32–36

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

(اور یہ سب کچھ) فائدہ پہنچانے کے لیے تمہیں اور تمہارے مویشیوں کو

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ Open ayah 80:33 in the Quran reader

پھر جب آپہنچے گی کانوں کو بہرا کردینے والی وہ سب سے بڑی (ہولناک) آواز

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ Open ayah 80:34 in the Quran reader

تو اس روز آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے

وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ Open ayah 80:35 in the Quran reader

اپنی ماں اور باپ سے

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ Open ayah 80:36 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور بیٹوں سے

(27) سب چیزیں انسان کے بھلے اور فائدہ کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سب کچھ ہم نے تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے کے لیے کیا "۔ سو ان تمام چیزوں سے تم لوگ طرح طرح کے فوائد و منافع حاصل کرتے ہو، اور دن رات حاصل رکتے، اور ان سے مستفید و فیضیاب ہوتے ہو، مگر اس کے باوجود تم اپنے منعم سے غافل ہو، سو کیسی بےانصافی اور کتنی بڑی ناشکری ہے یہ جس کا ارتکاب تم لوگ کرتے ہو ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس قدر مطلق رب رحمن سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ اور عنایت شاملہ سے تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے جانوروں کی خوراک کا بھی ایسا حکمتوں بھرا انتظام فرمایا ہے، سو یہ بھی اس کا ایک عظیم الشان کرم اور احسان ہے جس سے تم لوگ بالواسطہ طور مستفید و فیضیاب ہوتے ہو، پس جس نے تمہارے لیے ان طرح طرح کے اور عظیم الشان فوائد و منافع کا انتظام کیا جن سے تم لوگ بالواسطہ اور بلا واسطہ دونوں طریقوں سے مستفید و فیضیاب ہوتے ہو، اور لگاتار دن رات مستفید ہوتے ہو، تو کیا اس رب رحیم و کریم کا تم لوگوں پر کوئی حق واجب نہیں ہوتا ؟ اور کیا تم لوگ اسی طرح چھوٹے پھرتے رہو گے ؟ تمہاری کوئی پوچھ نہیں ہوگی ؟ کیا یہ عدل و انصاف اور عقل ونقل کا تقاضا ہے کہ یہ سب عظیم الشان اور گوناگوں نعمتیں تو ہوں تمہارے لیے اور تم لوگ بیکار رہو ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور جب ایسا نہیں اور یقینا نہیں تو پھر تم لوگ قیامت کا انکار کس طرح کرتے ہو ؟ اور اس حقیقت کبری کا یہ انکار آخر کس طرح اور کیونکر درست اور حق بجانب ہوسکتا ہے ؟
Ayahs 80:37–38

لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ Open ayah 80:37 in the Quran reader

ان میں سے ہر ایک پر اس روز ایک ایسی حالت طاری ہوگی جو اسے کسی اور کا ہوش نہ رہنے دے گی

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌۙ Open ayah 80:38 in the Quran reader

کچھ چہرے تو اس روز چمک رہے ہوں گے

(30) اس روز ہر کسی کو اپنی ہی پڑی ہوگی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز ہر کسی پر ایسی حالت طاری ہوگی کہ اس کو اور کسی کا ہوش تک نہ رہے گا "۔ والعیاذ باللہ۔ سنن ترمذی وغیرہ میں حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے مروی و منقول ہے کہ اس روز لوگ ننگے جسم محشور ہوں گے، عرض کیا گیا کہ پھر تو وہ ایک دوسرے کے ننگیز کو دیکھیں گے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ موقع ایسا ہولناک اور اس قدر ہوشربا ہوگا کہ اس طرح ننگے ہونے کے باوجود کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کا ہوش نہیں ہوگا۔ اور پھر آپ ﷺ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی ( روح، ابن کثیر، قرطبی اور خازن وغیرہ) فصلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی الہ وصحبہ اجمعین۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ دن کس قدر ہولناک دن ہوگا، مگر لوگ ہیں کہ اس سب کے باوجود ان کی اکثریت اس سے غافل ہو لاپرواہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس عقل و نقل کا تقاضا یہ ہے کہ اس یوم مہیب اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھا جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، و فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayahs 80:39–40

ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ Open ayah 80:39 in the Quran reader

وہ ہنستے ہوں گے اور ان پر خوشیاں کھیلتی ہوں گی

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌۙ Open ayah 80:40 in the Quran reader

جب کہ کچھ چہروں پر اس روز خاک اڑ رہی ہوگی

(31) کامیاب اور فائز المرام لوگوں کے اثرات ان کے چہروں پر : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " کچھ چہرے اس روز چمکتے اور ہنستے مسکراتے ہوں گے "۔ یعنی ان کے اپنے اس نور ایمان اور عمل صالح کی برکت سے، اور اس کے نتیجے میں جس سے وہ اپنی دنیاوی زندگی میں سرفراز رہے ہوں گے۔ اللھم اجعلنا منھم بمحض منک وکرمک، یا ارحم الرحمین۔ سو ان چمکتے دمکتے اور ہنستے مسکراتے چہروں سے ان خوش نصیبوں کے باطن کی کیفیت کا کسی قدر اندازہ ہوسکے گا۔ اللہ نصیب فرمائے آمین۔ " مسفرہ " کا لفظ " اسفر الصبح "۔ " صبح روشن ہوگئی " کے محاورے سے ماخوذ ہے، سو ان خوش نصیبوں کے چہرے اس روز روشن و تابناک ہوں گے، سو اس سے ان کے چہروں کی چمک دمک کو ظاہر فرمایا گیا ہے۔ " ضاحکۃ "، " ضحک " سے ماخوذ و مشتق ہے، جس کے معنی ہنسنے کے آتے ہیں، سو ان کے چہرے اس دن ہنستے مسکراتے ہوں گے اور " مستبشرۃ " کے معنی خوش باش اور ہشاش باش کے ہیں۔ سو یہ الفاظ و کیفیات ان کے چہروں کے حال اور ان کی خوشی و مسرت کی عکاسی کے لیے ہیں، پس اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان خوش نصیبوں کی کامیابی اور فائز المرامی کے آثار اس روز ان کے چہروں پر واضح اور عیاں ہوں گے جیسا کہ خوشی کے ہر موقع پر ہمیشہ ایسے ہوتا ہے، جبکہ آخرت کی وہ کامیابی اور فائز المرامی دنیا بھر کی تمام خوشیوں سے کہیں بڑھ کر اور اعلی وارفع ہوگی، اللہ پاک نصیب فرمائے۔ اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین۔