80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 80:1–16

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

(محمد) اتنی بات سے کہ ان کے پاس اندھا 1 ؎ آیا

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

ترش رو ہوگئے اور منہ موڑ لیا

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

اور آپ کو کیا خبر کہ شاید وہ سدھر ہی جاتا

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا نصیحت کی باتیں یاد کرتا یا وہ سوچتا سو اس کو نصیحت نفع دیتی

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

لیکن وہ جو پروا بھی نہیں کرتا

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

سو آپ اس کے لیے توجہ کرتے ہیں

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

حالانکہ آپ پر اس کے نہ سدھرنے کا کوئی الزام بھی نہیں

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

لیکن وہ جو آپ کے پاس ڈر کر دوڑتا ہوا آئے

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور دوڑ رہا ہو

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

سو اس سے آپ بےپروائی کرتے ہیں

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

ہرگز ایسا نہ کرو۔ یہ ایک نصیحت ہے۔

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

پھر جو چاہے اس کو یاد کرے۔

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

یہ (قرآن) مکرم ‘ بلند مرتبہ ‘

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

مقدس صحیفوں میں نیک بخت

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

لکھنے والوں کے

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

ہاتھوں میں رہتا ہے۔

1 ؎ مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ کفار کو سمجھا رہے تھے اور ان کے بےجا سوالات اور کم بختیوں سے ملول ہو رہے تھے کہ اتنے میں ایک اندھا جس کا نام عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تھا آیا اور آپ سے قرآن سننے کی التجا کی۔ آنحضرت ﷺ اس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور اشراف قریش ہی کی طرف مخاطب رہے اور اس کے بار بار سوال کرنے سے چیں بچیں ہوئے جس پر یہ سورة نازل ہوئی جس میں آنحضرت ﷺ پر قدرے تہدید ہے کہ ہمارے نزدیک طالب صادق مرغوب سے دولت مند اور مفلس کا کچھ لحاظ نہیں۔ آپ نے طالب صادق سے اعراض کیا اور منہ بنایا۔ آپ کو کیا معلوم کہ یہ اندھا سدھر جاتا اور اس کا تقربات میں مرتبہ بالا ہوجاوے اور دین کے بڑے بڑے ہادیوں میں سے ہوجاوے گا۔ گو بظاہر اندھا ہے مگر قلبی وروحی استعداد میں ممکن ہے کہ ہزار آنکھ والوں سے بڑھ کر ہو جس سے وہ خود بھی درست ہوجاوے اور درست ہو کر اور ان کی بھی اصلاح و تربیت کرنے لگے۔ 12 منہ ترکیب ¦ ان جاء ای لان جاء مفعول لاجلہ والع اس فیہ اماعبس او تولی علی الاختلاف بین البصریین والکوفیین فی التنازع والمختار مذہب البصریین لعدم لاضمار فی الثانی۔ اویذکر عطف علی یزکی داخل فی حکم الترجی معہ فتنفعہ قراً الجمھور برفع المضارع عطفا علی یذکر وقری بالنصب علی جواب التمنی فی المعنی تصدیٰ التصدی الاصغاء وقیل ھو تفعل من الصدی وھو الصوت ای لاینادیک الا احبتہ ویجوزان یکون الالف بدلا من دال ویکون من الصد وھوالناحیتہ والجانب۔ قرأ الجمھور بالتخفیف علی طرح احدالتائیں تخفیفا و قرانافع و ابن محیض بالتشدید علی الادغام وما علیک الخ ای لیس علیک باس فی ان لا یتزکی والجملۃ فی محل النصب علی الحال من الضمیر فی تصدی یسعیٰ حال من فاعل جاء وھو یخشی حال من فاعل یسعٰی علی التداخل اومن فاعل جاءک علی لترادف تلھٰی والتلھٰی التفاغل یقال لھیت من الامرآلھی ای تشاغلت عنہ وکذا تلھیت ولیس من اللھو۔ انھا الضمیر الی الموعظۃ والضمیر فی ذکرہ للقرآن فی صحف حال من الھاء وقیل الجارو المجرور نعت لتذکرۃ مابینھا اعتراض وکذلک بایدی الخ وقیل فی صحف خبرتان لانھا وماقبلھا اعتراض والاول تذکرہ سفرہ جمع سا فرمن السفارۃ وھوالسعی بین القوم اومن الکتابۃ قال الزجاج یقال للکاتب سفر بکسر السین وسافرلانہ یسفر ای یکتب والاصل ان معناہ الاظہار یقال اسفر الصبح اذا اضاء ویقال اسفرت المرءۃ اذا کشفت النقاب عن وجہاو فی السفارۃ والکتابتہ یوجد ذلک المعنی ولذایطلق علیھما۔ بررۃ جمع ھار تفسیر ¦ یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس میں بیالیس آیات ایک سو تیس کلمات پانچ سو پینتیس (535) حرف ہیں اور اس سورة کا نام سورة عبس اس لیے ہے کہ اس کے نزول کا باعث عبوس یعنی ترش روئی تھی۔ جملہ اولی لعلہ یزکی میں خود اس کی درستگی اور صلاحیت کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے جملہ اویذکر فتنفعہ الذکری میں اس کی ترقی اور مرتبہ ارشاد و تکمیل تک پہنچ جانے کی طرف اشارہ ہے کس لیے کہ یذکر تذکیر سے ہے اور یہ لفظ قرآن میں دوسروں کے سمجھانے کے معنی میں اکثر وارد ہوا ہے 1 ؎۔ پھر جب وہ اس مرتبہ میں پہنچ جاوے گا تو اے محمد ﷺ تیری نصیحت کا پورا نفع اس کو پہنچے گا۔ چونکہ اس کی استعداد کا پورا حال کہ کمال ہی کے مرتبہ تک ہے یا تکمیل کے مرتبہ تک آنحضرت ﷺ و صحابہ کو معلوم نہ تھا گو اتنی بات معلوم تھی کہ یہ ہونہار ہے۔ اس لیے لفظ او ان دونوں جملوں کو ذکر فرمایا جو مانعۃ الخلور ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ لعلہ کی ضمیر کافر کی طرف پھرتی ہے نہ اعمیٰ کی طرف تب اس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ اے محمد ﷺ تجھے کیا معلوم کہ وہ کافر (کہ جس کے سمجھانے کے لیے آپ اس قدر دردسری اور عرق ریزی کر رہے ہیں اور اس کی طرف ایسے متوجہ ہیں کہ اس اندھے کی بات کا جواب بھی نہیں دیتے بلکہ اس کے درمیانی سوال سے ترش رو ہوتے ہیں) سمجھ ہی جاوے گا۔ اس کی خباثت کفر اس سے دور ہوجاوے گی یا وہ سمجھا جاوے گا اور اس کو تیری نصیحت سے نفع پہنچے گا ؟ پھر جب یہ معلوم نہیں تو اس کی طرف اس قدر توجہ اور اس اندھے غریب سے کہ جس میں استعداد ہے ٗ بےاعتنائی کرنا کیا ! اس لیے فرماتا ہے امامن استغنی فانت لہ تصدی 2 ؎ کہ جو تیرے ارشاد و ہدایت سے بےپروائی کرتا ہے اور اس کے مقابلہ میں اپنے عقائد فاسدہ اور خیالات باطلہ اور حیات دنیا اور اس کے عیش و نشاط کو بہتر جانتا ہے۔ آپ اس کے درپے ہو رہے ہیں ٗ کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سمجھ کر کہ اس کی بےپروائی اس کو اس دریائے ضلالت میں غرق کر دے گی۔ اس کا پہلے تدارک کرنا چاہیے اور جو شوقین ہے اس کا شوق ضرور اس کو اس ورطہ ضلالت سے بچا لے گا۔ خلاصہ یہ کہ آنحضرت ﷺ مریض کی حالت موجودہ کو دیکھ کر سخت بیمار کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے تھے۔ کس لیے کہ رحمۃ للعالمین کا تقاضا یہی تھا اور حق سبحانہ عواقب امور کو دیکھتا تھا کہ جو مریض قابل علاج اور اس میں شفا پانے کی صلاحیت ہے۔ آپ اس کو چھوڑ کر اس لاعلاج مریض کی طرف کیوں اس قدر متوجہ ہوتے ہیں۔ اگر وہ مرجاوے تو مرجائے آپ کا ذمہ نہیں۔ 1 ؎ یہ اس تقدیر پر کہ یذکر بصیغہ مجہول پڑھا جاوے جیسا کہ بعض کی قرأت ہے۔ 12 منہ 2 ؎ تصدی کان رکھنا آواز جو خالی مکانوں اور خشک لکڑیوں سے سنی جاوے۔ پیاس بہرحال کوشش و سعی کے لیے یہ لفظ مستعمل ہوتا ہے اور اسی لیے محررون کو متصدی کہتے ہیں کہ وہ اپنے کام میں کوشش و ہوشیاری کرتے ہیں۔ 12 منہ اسی مضمون کو اس جملہ میں ادا فرمایا ہے وما علیکم الایز کی اور تجھ پر کوئی الزام نہیں۔ اگر وہ کافر بےپروا درست اور پاک نہ ہوجائے کس لیے کہ آپ کا کام تبلیغ ہے۔ اب سدھرنا یا نہ سدھرنا استعداد ازلی پر موقوف ہے اور تبلیغ کا مستحق یہ متکبر بےپروا منہ پھیرنے والا نہیں بلکہ واما من جاءک یسعٰی الخ وہ جو شوق میں تیرے پاس دوڑتا آوے اور خدا ترس بھی ہو جیسا کہ ابن ام مکتوم آپ کو ان سے متوجہ ہونا چاہیے مگر آپ کی رحمدلی اور شفقت اس کے برخلاف اس دوسرے گمراہ کی طرف متوجہ ہے جو جہنم کے کنارہ کھڑا آپ کو دکھائی دے رہا ہے۔ اس لیے آپ اس شوقین سے التفات نہیں کرتے فانت عنہ تلہیٰ بلکہ اس سے منہ موڑ کر دوسرے کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ کلا ہرگز ایسا نہ کرو کیونکہ حکمت الٰہی کا مقتضٰی یہ نہیں کس لیے کہ انہا تذکرہ یہ آیات تذکرہ ہیں یعنی خدا کے نام اور صفات و افعال و احکام اور اس کی جزاء و سزا اور محبت و معرفت و خوف ورجاء کو یاد دلاتی ہے اور خدا سے ملانے کا رستہ بتاتی ہے۔ سو یہاں خود طالب کی رغبت و ارادت درکار ہے۔ یہاں یہ چاپلوسی اور التجا اور سر ہونا مفید نہیں۔ من شاء ذکرہ جو چاہے اپنی رغبت اور شوق سے اس قرآن کو یاد کرے۔ قرآن مجید کلام الٰہی ہے۔ اس میں اس کی ذات وصفات و تہذیب نفس کے متعلق بہت کچھ ہے اور بالخصوص اس میں ایک تاثیر ہے کہ اس کی تلاوت کرنے والے پر ایک تجلی ہوتی ہے جس سے روح میں نورانیت اور بہیمیت کو شکستگی پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے حدیث شریف میں آیا ہے کہ القرآن حبل اللہ المتین کہ قرآن بندہ کے لیے خدا کی طرف سے ایک مضبوط رسہ ہے جس نے اس کو پکڑ لیا بام سعادت پر چڑھ گیا اور امام جعفر صادق (رح) نے فرمایا تجلی اللہ لعبادہ فی کلامہ ولکنھم لایبصرون کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں بندوں کے لیے متجلی ہوتا ہے لیکن بندے دیکھتے نہیں۔ اوصاف قرآن ¦ اب قرآن مجید کی چند خوبیاں بیان فرماتا ہے اور ضمنا کفار قریش پر تعریض بھی کرتا ہے جو نجاست کفر ‘ فسق و حب شہوات میں آلودہ تھے اور ان کو قرآن عظیم کی طرف التفات نہ تھا اور وہ تعریض یہ ہے کہ یہ قرآن ایسے پاک ہاتھوں کا لکھا ہوا بلند شان اوراق میں ہے کہ ناپاک ادردنی لوگ اگر اس سے تنفر کریں اور اس کی خوبیوں سے ان کی آنکھیں اندھی رہیں اور ان کے ناپاک ہاتھ اس کو تلاوت کرنے میں مس نہ کریں تو کچھ تعجب نہیں۔ اس لیے اے پیغمبر آپ ان کی طرف متوجہ نہ ہوں بلکہ ظاہر کا اندھا روشن دل ہے وہی اس کا مستحق ہے اور وہ اوصاف یہ ہیں۔ اول : فی صحف مکرمۃ مرفوعۃ کہ قرآن مجید گرامی قدر بلند شان صحیفوں میں ہے یعنی اوراق میں۔ اس سے بعض کے نزدیک یہ مراد ہے کہ کتب سابقہ میں جو معزز اور بلند مرتبہ ہیں قرآن مجید کے مطالب عالیہ موجود ہیں یا ان میں اس کا ذکر خیر ہے جیسا کہ فرمایا ان ھذا لفی الصحف الاولی صحف ابراھیم و موسیٰ اور ایک جگہ یہ آیا ہے وانہ لفی زبر الاولین اکثر مفسرین یہ فرماتے ہیں کہ صحف مکرمہ مرفوعۃ سے مراد وہ الواح نورانیہ ہیں جو آسمان ہفتم میں ہیں اور وہیں سے وقتاً فوقتاً قرآن مجید تھوڑا تھوڑا دنیا میں آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا کرتا تھا۔ مرفوعۃ کے معنی بلندی سو وہ بلند بھی ہیں اور رفیع القدر بھی ہیں اور مطہرۃ پاک بھی ہیں کہ وہاں کسی ناپاک کا ہاتھ نہیں پہنچتا۔ بعض کہتے ہیں صحف مکرمہ ایمانداروں کے قلوب میں ہیں جن میں قرآن مجید بطور حفظ کے مکتوب و منقوش ہے نہ تحریف کو گنجائش ہے نہ کسی آفت کو رسائی ہے اور وہ دل خدا کے نزدیک مکرم و معظم ہیں اور پاک بھی ہیں۔ نجاسات کفر و شرک و تلویثات ‘ حبّ شہوات ان تک چھو بھی نہیں گئی ہے۔ دوم : بایدی سفرۃ کرام بررۃ وہ قرآن ناپاک اور خیانت آمیز ہاتھوں سے نہیں لکھا گیا بلکہ کاتبوں کے ہاتھ سے جو کرام یعنی بزرگ اور مقدس اور بررہ نیک ہیں یا تو اس سے مراد ملائکہ ہیں۔ اگر صحف مکرمہ سے مراد الواح نورانیہ ہیں یا دنیا کے نیک اور باخدا لوگ جو قرآن کو حضرت نبی کریم ﷺ کے حکم سے لکھا کرتے تھے نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے کم و زیادہ کرتے تھے نہ کسی غرض سے اس میں ہیر پھیر کرتے تھے۔ خیانت اور خودغرضی ان کے پاس نہ پھٹکی تھی۔ یہ دو وصف ایسے ہیں کہ جن سے قرآن مجید جمیع کتب پر فوقیت رکھتا ہے اور انہیں کے سبب آج تک اسی اصلی چمک دمک سے باقی ہے۔ اس میں کوئی گرد و غبار پیدا نہیں ہوا نہ ہوگا۔ برخلاف اور کتابوں کے کہ ان میں ذلیل اور ناپاک اور ناخدا ترس ہاتھ بھی لگے ہیں۔ اس لیے کہ کوئی کتاب دنیا میں ایسی نہیں جس کی نسبت یہ کہا جاوے کہ یہ وہی ہے جیسی کہ تھی توریت وانا جیل و زبور میں جو کچھ تغرات ہوئے ان کا کوئی منصف مزاج اہل کتاب بھی انکار نہیں کرسکتا۔ رہی زندو استا اور ردساتیر پارسیوں کی آسمانی کتاب اور ہندوئوں کی کتاب چاروں وید۔ وہاں تو یہ بھی تحقیق نہیں کہ کس مصنف کی تصنیف ہیں اور وہ کہاں کے رہنے والے تھے۔ ان کے ماں باپ کا کیا نام تھا۔ کیا عمر تھی۔ کیا کیا کرتے تھے اور بعدہ کس نے ان سے لیا اور کس طرح محفوظ رکھا۔ ان اوصاف قرآنیہ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ دنیا میں کوئی کتاب نفیس کاغذوں پر مطلا حرفوں میں لکھے جانے اور عمدہ صندوقوں اور بلند طاقوں میں رکھے جانے سے معزز و محترم نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس میں یہ خوبیاں نہ ہوں۔
Ayahs 80:17–23

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

انسان غارت ہوجائے ٗ کیسا ناشکر ہے۔

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

اس کو کس چیز سے بنایا ؟

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

ایک بوند سے۔ اس کو بنایا پھر اس کا اندازہ کیا۔

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر اس کے لیے راہ آسان کردی۔

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اس کو موت دی

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر اس کو قبر میں رکھوایا پھر جب چاہے گا اس کو الٹا کھڑا کرے گا۔

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

جس چیز کا اس کو حکم دیا تھا اس نے اس کو پورا ہی نہیں کیا۔

ترکیب ¦ قتل الانسان الجملۃ فی الظاھر خبرو فی المعنی انشاء وھی دعاء علیہ وھی من اشنع دعوات العرب لان القتل اشد مصائب الدنیا۔ والدعاء علی الانسان یلیق بالعاجز واللہ سبحانہ قادر فوجھم انما اور دہ علی اسلوب کلام العرب ومحاوراتھم ما اکفرہ صیغۃ التعجب۔ والجملۃ انشایۃ انما اور دھا علی مح اور تھم من ای شی خلقہ استفھام والغرض زیادۃ التقریر فی التحقیر ومن تتعلق بخلق من نطفہ جواب الاستفھام والوقف علی جید من تتعلق بخلق خلقہ الخ کلام مبتداء لبیان خلقۃ الانسان السبیل منصوب بفعل مضمر یدل علیہ المذکور ای یسر السبیل یسرہ کلا۔ روع وزجر للانسان الکافر عما ھو علیہ من التکبر والاصرار علی الکفر۔ لما بمعنی لم وفاعل یقض عند الجمھور ھوالانسان وقیل اللہ تعالیٰ وفاعل امر بالاتفاق ھواللہ جل ذکرہ۔ تفسیر ¦ کفار قریش کے بڑے بڑے متکبر و مغرور آنحضرت ﷺ کی محفل میں حاضر تھے جبکہ ابن ام مکتوم ؓ آئے تھے اور اسی وجہ سے آنحضرت ﷺ کو ابن ام مکتوم ؓ کا سوال ان کے اثنائِ وعظ میں برا معلوم ہوا تھا کہ اس غریب کی طرف متوجہ ہونے میں ان متکبروں کو برا معلوم ہوگا اور اسی لیے یہ ہدایت پانے سے محروم رہ جاویں گے۔ سو اس بات پر اول تو حق سبحانہ نے آنحضرت ﷺ کو تنبیہ کی ایسے طالب صادق اور غریب آدمی کی خاطر شکنی نہ چاہیے تھی اور اب ان متکبروں کے مایہ غرور کو باطل کرتا ہے۔ فقال قتل الانسان ما اکفرہ کہ مارا جائے انسان کیا ہی ناشکر ہے۔ ہم نے تندرستی ‘ دولت ‘ مال و اولاد اس لیے عطا کیا تھا کہ اس کا شکریہ ادا کرے اور ہماری طرف متوجہ ہو اور اس کو ہمارا عطیہ سمجھے نہ کہ اور غرور میں آکر ہمارے سامنے سرکشی کرے۔ میرے فرستادوں کا کہنا نہ مانے غریب ‘ مفلس ‘ خدا پرستوں کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھے یہاں تک کہ ان کے ساتھ مجامع خیر 1 ؎ وعظ و پند و عبادت میں بھی شریک ہونا عار جانے۔ 1 ؎ آج کل یورپین عیسائی دیندار عبادتگاہوں میں بھی دیسی لوگوں کو اپنے ساتھ اپنے تکبر سے شریک ہونا پسند نہیں کرتے چہ جائیکہ ساتھ کھانا اور بیٹھنا۔ یہ دعوائے دینداری اور یہ غرور اس سے موجود مذہب عیسوی کے پیرو وں کا انداز ہوسکتا ہے کہ اب کہاں تک ان میں مذہب عیسوی کا اثر تام باقی ہے اور یہی حال رحمدلی عفت ‘ پرہیزگاری ‘ پابندی عہد ‘ ادائے حقوق ہمسائیگی کا ہے۔ خوشبو چلی گئی اس کا دھبہ باقی ہے۔ 12 منہ فائدہ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ انسان سے مراد خاص اشخاص ہیں۔ پھر بعض کہتے ہیں کہ عموماً کفار مراد ہیں اور بعض کہتے ہیں ان میں سے خاص عتبہ بن ابی لہب مراد ہے جو بڑا متکبر تھا اور گویا یہ آیت خاص اسی کے لیے ہے مگر اکثر مفسدین کہتے ہیں کہ کسی کی خصوصیت نہیں جو کوئی دولت مند متکبر ہو۔ فائدہ۔ خدائے پاک بددعا خاص محاورہ عرب اور ان کے اسلوب کلام کے لحاظ سے کرتا ہے ورنہ وہ خود غارت کرسکتا ہے اور یہی حالت تعجب کا ہے۔ وہ خود جانتا ہے مگر یہ بھی اور اسی قسم کے جمیع الفاظ و جملے محاورہ کے لحاظ پر ہیں۔ کس لیے کہ جس زبان میں کلام کیا جاتا ہے۔ اس کے محاورات استعمال میں لانا فصاحت و بلاغت ہے۔ اس کے بعد انسان کا تکبر باطل کرنے کے لیے آپ ہی پوچھتا ہے کہ من ای شئی خلقہ کہ انسان کو خدا نے کس چیز سے بنایا ہے ؟ پھر آپ ہی جواب دیتا ہے من نطفہ کہ ایک بوند یعنی منی کے ناپاک قطرہ سے۔ یہ حضرت کی اصل ہے جو بدن پر یا کپڑے پر لگ جائے تو دھوئے بغیر چارہ نہ ہو۔ پھر اس پر یہ غرور یہ فوں فاں کہ ہمچومن دیگرے نیست۔ پھر اس قطرہ میں کیا کاریگری کرکے انسان کو بنایا۔ خلقہ فقدرہ اس منی کے قطرہ سے انسان کی آفرنیش کی۔ اس میں سے اعضائِ بدن مناسب بنائے ‘ جان ڈالی ‘ رحم میں حیض مادر سے جو وہ بھی بےحس چیز ہے غذا پہنچائی۔ اے واہ آفرنیش ایسی چیز سے کہ پیشاب کی راہ سے نکلی اور دوسری پیشاب گاہ کے رستہ سے رحم میں گئی۔ یہ ہے حضرت انسان کے وجود دنیاوی کی اصل ‘ جس پر یہ غرور ہے۔ پھر پیدا کرکے یوں ہی بیکار ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ فقدرہ اس کا اندازہ کیا عمر کا اندازہ ‘ رزق کا اندازہ ‘ جو کچھ دنیا میں نیک و بد کام کرے گا سب کا اندازہ کیا۔ رحم میں رہنے کا اندازہ کیا۔ فائدہ : تعقیب بیان کے لیے ہے نہ کہ تعقیب تقدیر کے لیے کس لیے کہ جب پیدا کیا تھا جب ہی بلکہ اس کے پہلے ہی اس کی سب باتوں کا اندازہ علم ازلی میں ہوچکا تھا۔ ابو دردا ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل ہر ایک بندے کے پیدا ہونے سے پہلے پانچ چیزوں سے فارغ ہو چکتا ہے۔ اس کی اجل اور اس کے عمل (خیر و شر) اور اس کے سکون وقرار اور اس کی حرکت و اضطرار اور اس کے رزق سے یعنی یہ سب باتیں پہلے ہی سے اندازہ ہو چکتی ہیں۔ (رواہ احمد) یہاں تک کہ انسان جو پیدا ہو کر بڑھتا ہے خواہ جسم میں ترقی کرے جیسا کہ لڑکا یا علوم و معارف میں ترقی کرے یا کسب اموال میں سب کچھ پہلے ہی سے مقدر ہو چکتا ہے۔ جسمانی حرکت میں کیا ممکن ہے کہ لڑکی لڑکے کے رستہ کو طے کرے جہاں جہاں بال برآمد ہونے قضاء و قدر نے مقرر کردیے ہیں وہیں سے برآمد ہوتے ہیں۔ پھر اعضائے جسم کی بالیدگی میں ذرا بھی تناسب میں فرق نہیں ہونے پاتا۔ کیا ممکن ہے کہ قوائے نامیہ ناک کو ٹانگ کے برابر بڑھا دیں۔ یہ اندازہ ماں کے پیٹ میں رہنے سے پہلے ہو چکتا ہے۔ پھر جب اپنی عمر طبعی کا ایک زمانہ اس تنگ و تاریک مکان میں پورا کر چکتا ہے اور اب وہ مکان اس کی آیندہ ترقیوں کے قابل نہیں رہتا تو قضاء و قدر اس کو اس تنگ رستہ سے باہر لاتی ہے۔ ثم السبیل یسرہ اور اس تنگ رستہ کو اس پر سہل کردیتی ہے۔ نو مہینے کے پورے پاٹھے بچے کو خیال کرو اور عورت کے اندام نہانی کو خیال کرو کہ کیسا تنگ رستہ ہوتا ہے مگر پھر کس حکمت سے باہر نکالتے ہیں۔ اول تو اندام نہانی میں نرمی اور قدرے وسعت رطوبات کے ذریعہ سے کردیتے ہیں۔ پھر بچہ بوقت ولادت ملہم غیبی کے کہنے سے پہلے سر باہر نکالتا ہے اور جہاں ایسا نہیں ہوتا بڑی مشکلیں پیش آتی ہیں۔ اختیار قضاء و قدر ثابت کرنے کے لیے کبھی ایسا بھی کردکھاتے ہیں۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ سبیل سے مراد بالخصوص عضو مخصوص ہی نہیں بلکہ عام ہے اس کو بھی شامل اور پیدا ہونے کے بعد اور سب رستوں کو شامل چناچہ پیدا ہوتے ہی اس کو ماں کی پستانوں سے دودھ پینے کا رستہ آسان کردیتے ہیں ٗ ہاتھ سے پستان پکڑ کے چوستا ہے اور بھوک کا اظہار اپنے رونے سے کرتا ہے اور منہ میں پستان کو کس انداز سے دباتا ہے کہ دودھ نکل آوے ٗ پھر اس کے اور غذائوں کا رستہ آسان ہوتا ہے کہ دانت برآمد کردیتے ہیں جس سے روٹی ٹکڑا کھانا آسان ہوجاتا ہے۔ پھر اس کو معاش کے رستے آسان کردیتے ہیں۔ حرفت ٗ صنعت ٗ زراعت ٗ تجارت میں کیسی کیسی ایجادیں کرتا ہے۔ اسی طرح تندرستی ‘ بیماری ‘ سفر و حضر ‘ مقابلہ اعداء ‘ بنائے مکان و دیگر اسبابِ آسائش کے طریقے اس کے لیے تازیست آسان کئے جاتے ہیں یہاں تک کہ بری سفر کی آسانی کے لیے ریل اور بحری کے لیے دخانی جہاز بنا دیے یعنی ان کے بنانے کے علوم اس کے دل میں القاء کئے۔ الغرض اس کے ہر ایک کمال تک پہنچنے کے رستے آسان کئے۔ خیر و شر نفع و نقصان میں امتیاز کرنے کی عقل عطا کی یہاں تک کہ راہ آخرت کو اور راہ وصول الی اللہ کو بھی (کتابیں اور انبیاء (علیہم السلام) بھیج کر اور مرشدوں اور ہادیوں کو قائم کرکے) آسان کردیا اور اسی طرح شقاوت کے رستے بھی بدنصیبوں کے لیے آسان کردیے۔ کسی نے شراب ایجاد کی ٗ کسی نے اشعار اور مزامیر سے قوائے شہوانیہ کو حرکت دی۔ فواحش کے گلے میں بدکاری کا طوق ڈالا۔ دینیات سے غفلت کے پردے ڈاے نادیدہ امور آخرت پر توہمات کے پتھر برسائے۔ شبہات کے عمیق گڑھوں میں گرے۔ یہ سب رستے شقاوت کے ہیں۔ ان کو بھی قضاء و قدر نے آسان کردیا۔ زانیؔ کو جس طرح عورت فاحشہ کا ملنا آسان کردیا۔ اسی طرح باخدا کو رات میں جاگنا اور تہجد پڑھنا آسان کردیا۔ بخیل کو پیٹ پر پتھر باندھ کر مال و زر جمع کرنا آسان کیا تو سخی کے لیے صرف کرنا ‘ نامرد کو بھاگنا تو شجاع کو میدان جنگ میں کود پڑنا۔ پارسا کو پارسائی تو فاحشہ کو بےحیائی۔ یہ تمامی حیات دنیا کا مختصر سا نقشہ اس مختصر جملہ میں ختم کردیا۔ اس کے بعد دوسرے عالم کا حال بیان فرماتا ہے فقال ثم اماتہ۔ پھر اس انسان کو موت دی۔ جیسا پیدا ہونا بےاختیاری تھا ویسا ہی مرنا بھی بےاختیاری ہے۔ لاکھ تدبیر کرے کہ نہ مرے یا ضعف و پیری و مرض وغیرہ اسباب کو آنے نہ دے یا آئے ہوئوں کو دفع کر دے ہرگز نہیں کرسکتا۔ دنیا میں بڑے بڑے حکیم و دانش مند آئے ٗ کلیں ایجاد کیں کہربائی قوتیں دریافت کیں۔ بڑے بڑے علوم ایجاد کئے مگر موت دفع نہ کرسکے۔ یہ بھی اس کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا نمونہ ہے اور یہ موت دوسرے جہان میں پہنچانے کا دروازہ ہے تاکہ جو کچھ اس دنیا کے کھیت میں اس نے بویا تھا اس کو کاٹے اور جو کچھ ان کمالات کے حاصل کرنے میں محنت و مشقت کی تھی۔ ان کا ثمرہ پاوے اور جو کچھ برے کام کئے تھے تن پروری و شہوت پرستی میں عمر گرانمایہ برباد کی تھی۔ اب دیکھئے اس کا وہ محبوب جسم اور وہ لذائذِ جسمانیہ کس طرح سے اس سے چھوٹتے ہیں اور پھر وہاں اس فعلِ بد کا کیا برا نتیجہ پاتا ہے۔ درحقیقت موت بھی ایک بڑی نعمت ہے اگر مدتوں جئے تو پھر زیست کی تلخی بھی ایسی دیکھے کہ الٰہی توبہ ! چہ جائیکہ کبھی نہ مرے اور نیز پہلوں کی وراثت پچھلوں کو نہ پہنچے۔ آیندہ آنے والوں کے لیے دنیا تنگ ہوجاوے اور بالخصوص اہل سعادت کے لیے تو موت بہت ہی بڑی نعمت ہے۔ یہی دنیا کی کشاکش اور مشقت عمل سے ان کو رہائی دیتی ہے اور اسی لیے یہ لوگ موت کے آرزو مند رہا کرتے ہیں کیونکہ دنیا ان کے لیے سخت قید خانہ ہے۔ چند برسوں رہ کر اس عالم جاودانی کو دیکھنے والوں یا یقین کرنے والوں کو اس سے نفرت ہوجاتی ہے۔ دل بھر جاتا ہے ؎ دلا تا کے دریں کا خِ مجازی کنی مانند طفلاں خاکبازی الغرض جس طرح ماں کے پیٹ کی منزل سے ترقی کرنے کے لیے باہر آتا ہے اسی طرح اس منزل تنگ و تاریک سے بڑی ترقی کرنے کے لیے جاتا ہے۔ یہ موت وہاں کی ولادت ہے۔ پھر اس کو موت دے کر نیست و نابود ہی نہیں کر ڈالتے بلکہ فاقبرہ اس کو قبر میں داخل کرتے ہیں۔ قبر کی کیفیت : قبر شرع میں عالم برزخی کا نام ہے خواہ کوئی دریا میں ڈوب جاوے یا آگ میں جل جاوے یا اس کی لاش ہوا میں لٹکتی رہے۔ بہرحال اس کو قبر میں جانا ہوتا ہے۔ وہاں اس کو ثواب و عذاب بھگتنا پڑتا ہے۔ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ مرنے کے بعد قبر میں رکھتا ہے۔ تناسخ کے طور یا اور کسی طرح سے پھر کر اس جہان میں نہیں آتا جیسا کہ ماں کے پیٹ سے نکل کر باردگر اس میں نہیں جاتا۔ عرف میں قبر اس گڑھے کو کہتے ہیں کہ جس میں لاش دفنائی جاتی ہے۔ یہ بھی بندے کے لیے نعمت ہے جس کی تعلیم قابیل کے عہد میں ہوئی۔ اس سے پہلے جانوروں کی طرح لاش پڑی سڑا کرتی تھی۔ کتے گیدڑ چیل کوے کھایا کرتے تھے۔ مرنے والے کی کمال بےحرمتی ہوتی تھی اور نفرت ہوتی تھی اور لوگوں کو تکلیف پہنچتی تھی۔ امراض پھیلتے تھے۔ لوگ گھن کھاتے تھے۔ پھر جب اس کو دفنا دیا تو یہ سب باتیں جاتی رہیں۔ پردہ ڈھک گیا۔ یہ تعلیم بھی ایک انعامِ الٰہی ہے جس کے لیے فاقبرہ کے جملے میں یاد دلایا۔ پارسی یعنی مجوسی تو اب تک اپنے مردوں کی لاش کو اسی جاہلانہ دستور کے موافق یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ صرف اتنی بات کرتے ہیں کہ ان لاشوں کے لیے ایک مکان بنا رکھتے ہیں۔ کنوئیں کی طرح کا اور اس میں ایک دروازہ ہوتا ہے اور لاش کو دھر کر وہاں چلے آتے ہیں۔ گدھ اور چیل کوے اس کو کھاتے ہیں اور اس مکان کو یہ وخمہ کہتے ہیں اور اکثر ہنود آگ میں جلا دیتے ہیں۔ باقی اور تمام اقوام مسلمان عیسائی یہودی و دیگر اقوام خاک میں دباتے ہیں۔ جلانا اچھا نہیں دفنانا بہتر ہے ¦ ہنود کہتے ہیں دفنانے سے جلانا بہتر ہے۔ اول یوں کہ آگ پاک کردیتی ہے اور زمین کو ناپاک کرنا وہاں مردے کو سڑانا بےجا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آگ پاک نہیں کرتی بلکہ فنا کرتی ہے اور جلانے میں مردے کی لاش کی بڑی بےحرمتی ہے۔ دیکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ دور دور بدبو پھیلتی ہے اور پھر راکھ پائوں میں روندی جاتی ہے۔ اڑتی پھرتی ہے۔ ناپاک چیزوں پر بھی اڑ کر جاتی ہے اور پھر مردے کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا۔ نہ دوستوں عزیزوں کو اس کی یادگار دیکھنے اور عبرت حاصل کرنے کا موقع رہتا ہے نہ محبوں کو قبر دیکھ کر دل ٹھنڈا کرنے کی جگہ رہتی ہے اور اسی لیے قبر میں دفنائی ہوئی میت کو اپنی لاش سے ایک روحانی تعلق باقی رہتا ہے اور یہی سبب ہے کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) و اولیائِ کرام کی قبروں سے برکات و فیوض مشاہدہ ہوتے ہیں۔ برخلاف جلا دینے کے کہ جسم سے بالکل تعلق منقطع ہوجاتا ہے اور دھوئیں اور آگ سے ارواح کو آمیزش ہو کر شیاطین و جنات سے مشابہت ہوجاتی ہے اور دفنانے میں اور بھی مصالح ہیں۔ اول یہ کہ انسان کا مادہ خاک ہو تو اس کو اس کی اصل خاک ہی طرف پھیر لانا چاہیے جیسا کہ فرمایا منہا خلقنا کم وفیہا نعید کم و منہا نخرجکم تارۃ اخریٰ ۔ یہ آگ سے نہیں بنا تھا کہ اس کو آگ کے حوالے کیا جاتا ہے۔ دوم اس دفنانے میں انسان کے فطرتی سفر اور اس کے منازل اور ان کی مشابہت کو باقی اور برقرار رکھنا ہے۔ برخلاف جلا دینے کے کیونکہ ماں کا پیٹ اس کی ایک منزل تھی جس کے بعد وہ اس عالم میں آیا ہے۔ اب یہاں کا سفر تمام کرنے کے بعد جب قبر میں دفنایا تو گویا دوسرے جہان کی رستخیز کے لیے ایک اور نئے حمل میں آیا۔ اس جہاں کی سو پچاس برس کی عمر کے لیے حمل مادری نو مہینے کو کافی تھا مگر اس جہان کی زندگی ابدی ہے۔ اس کے لیے حمل بھی ایسا ہی طویل و دراز مدت ہونا چاہیے۔ پس نفخ صور ایک دروازہ ہے جس کے بعد حمل قبری سے لوگ پیدا ہو کر ایک ابدی جہاں میں آویں گے اور اسی لیے اس حمل قبری کے زمانہ کو برزخ کہتے ہیں جو حیات دنیا اور حیات آخرت کے درمیان ہے اور اسی لیے کبھی اس کو خواب سے اور قبر کو خوابگاہ سے تعبیر کرتے ہیں اور قبر کو مرقد کہتے ہیں۔ سوم جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو گویا حق سبحانہ اپنی ایک امانت ودیعت رکھتا ہے۔ پھر جس طرح اس کو پالا پرورش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح روح نکلنے کے بعد اس کو دفنانا اور زمین کے سپرد کرنا گویا امانت کو مالک کے حوالے کردینا ہے اور امانات و خزائن کے لیے زمین ہی موزوں ہے نہ آگ۔ انہیں معانی کو خیال کرکے ایک شاعر کہتا ہے ؎ مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم تو نے یہ گنجہائے گرانمایہ کیا کئے چہارم اپنے دوست یا بزرگ کی لاش کو آپ دہکتی آگ میں جلانا اور لاٹھیوں سے اس کی ہڈیوں کو چورا چورا کرنا علاوہ بےادبی کے انسانی رحمدلی و مروت و محبت کے بھی برخلاف ہے۔ برخلاف اس کے باعزت و شان اس کو ایک شائستہ طور پر زمین میں دفن کرنا گویا اس کو ایک مکان یا تہ خانے میں پہنچانا ہے۔ پنجم دفنانے میں بسا اوقات بہت سی جانیں جو حکماء کے اشتباہ سے مردہ سمجھ کر دفن کردی گئیں کسی وجہ سے جلد قبر کھل جانے پر زندہ نکل آئے اور پھر برسوں جئے۔ جلا دینے میں یہ احتمال بھی باقی نہیں رہتا۔ اس کے سوائے جو ظالموں نے کسی کو زہر دے کر یا گلا گھونٹ کر یا قتل کرکے دفن کیا تھا۔ موقع پر مطلع ہوجانے کے بعد لاش سے ملاحظہ جرم بھی ممکن ہے مگر جلا دینے میں تو پورا پورا اخفائِ واردات ہے جس میں ستمگاروں کو اپنی اس وحشیانہ حرکت پر پورا اطمینان ہوتا ہے اور بھی بہت سی وجوہ ہیں۔ پھر اس حمل قبر کے بعد جو ایک اور نئی زندگانی کی ولادت ہوگی اس کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ثم اذا شاء انشرہ کہ پھر جب چاہے گا اللہ تعالیٰ اس مردہ کو اس کی قبر سے زندہ کرکے کھڑا کر دے گا تاکہ اس جہان میں اس جہان کے اعمال خیر و شر کا پورا بدلہ پاوے گا۔ گویا یہاں آکر اتنی الٹی پلٹیوں کے بعد انسان اپنی منزل مقصود کو پہنچ گیا اور اب یہاں سے اس کو اور کہیں نہیں جانا۔ اسی لیے اس جہان کے کارآمد افعال و اعمال و عقائد تعلیم کرنے کے لیے حضرات انبیاء (علیہم السلام) بھیجے گئے کہ ان سے خبر پا کر وہاں کے لیے بڑی سرگرمی سے تیاری کریں لیکن کلا لما یقض ما امرہ کہ بیشک انسان نے پورا نہیں کیا جس کا اس کو حق سبحانہ نے بمعرفت انبیاء (علیہم السلام) اسی کی بھلائی کے لیے حکم دیا تھا یا یوں کہو کہ انسان اس جہاں کی نعمتوں کو دیکھ کر جو اس کو بےسابقہ عمل عطا ہوئیں۔ یہ قیاس کرتا ہے کہ وہاں بھی بغیر عمل و ایمان یوں ہی نعمتیں ملیں گی۔ اس لیے اس کے جواب میں فرماتا ہے کلا ہرگز نہیں۔ ایسا کبھی نہ ہوگا کس لیے کہ پہلے یہ مامور نہ تھا ٗ اب مامور ہوا۔ نیک و بد کی تمیز دی گئی۔ تعمیل احکام کی طاقت دی گئی۔ اس پر جو اس نے نافرمانی کی مضر چیزوں اور برے کاموں کو عمل میں لایا ٗ عمدہ کو چھوڑا جن کا اثر اس کی روح پر پہنچا۔ ضرور سزاء و جزا پاوے گا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں آیت کے یہ معنی ہیں ہرگز نہیں اللہ نے کبھی وہ قضاء و قدر میں مقرر نہیں کیا ہے جو انسان اپنی خواہش سے اپنے لیے آپ تجویز کرتا ہے اور امر کرتا ہے کہ مجھے یوں ملے گا اور یہ پائوں گا جیسا کہ ہنود و یہود عیسائی من گھڑت باتیں بتایا کرتے ہیں۔ انسان کی ابتداء و انتہا کن مختصر الفاظ میں بیان فرما دی۔
Ayahs 80:24–32

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

پھر آدمی اپنی خورش ہی کو دیکھے کہ ہم نے اس کو کس طرح پیدا کیا

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

کہ ہم نے اوپر سے پانی برسایا۔

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر ہم نے زمین کو چیر پھاڑ کر

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

اس میں اناج اگایا

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور انگور اور ترکاری

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کھجور

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور گھن کے باغ اور میوے

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور چارہ (اگایا)

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے برتنے کے لیے۔

ترکیب ¦ انا قرء الجمہور بالکسر علی الاستیناف والکوفیوں بالفتح علی انہ بدل من طعامہ الاشتمال لان نزول المطر سبب لحصول الطعام فھو کالمشتمل علیہ او بتقدیر اللام ای لانہ والمعنی فلینظر الانسان الی اناصببنا الماء صباء وعنبا معطوف علی حباء وابنات العنب باعتبار شجرتہ وکذا قضبا فیہ قولان الاول انہ الرطبۃ وھی التی اذایبست سمیت بالقت واھل مکۃ یسمونھا بالقضب واصلہ من القطع وذلک لانہ یقضب مرۃ بعد اخرٰی وھذا قول ابن عباس ؓ والثانیؔ ھو قول المبردانہ العلف بعینہ وبہ قال الحسن البصری (رح) قضیب اقتضاب بریدن واقتصاب الکلام ارتجالہ وقضبہ ای قطعہ قضب وقضبہ سپت مقبضہ سپست زار۔ قضیب شاخ درخت قضبان جمع و نرہ خرد غیر آں۔ تقضیب شاخ بریدن از درخت در بہار۔ قضا بہ بالضم شاخ ریزہائے بریدہ افتادہ صراح ونخلا معطوف علیہ جمع نخلۃ وکذا حدائق جمع حدیقۃ وھی البستان غلباء جمع اغلب وغلباء کما یجمع احمر وحمراء علی حمر یقال حدیقۃ غلباء ای غلیظۃ الشجر ملتفۃ ویقال رجل اغلب اذا کان عظیم الرقبۃ ویقال اسد اغلب لانہ مصمت العنق وابا۔ الاب ھوالمرعٰی قال صاحب الکشاف لانہ یوب ای یوم وقیل الاب الفا کھۃ الیا بستہ لانھاء تؤب للشتاء ای تعد متاعا منصوب لانہ مفعول لہ لانبتنا وقال الزجاج ھو منصوب لانہ مصدر موکد لقولہ فانتبنا لان انبات ھذہ الاشیاء امتاع للانسان والحیوان۔ تفسیر ¦ قرآن مجید کی عادت ہے کہ کسی مقصد پر دلائلِ انفس کے بعد دلائلِ آفاق بیان فرمایا کرتا ہے تاکہ دل میں زیادہ اثر پیدا کرے۔ یہاں غرور انسان کا ابطال کیا تھا اور مقصود تر اپنی قدرت کاملہ کا اظہار تھا کہ جس میں کسی کو بھی شرکت نہیں جس سے رد شرک و اثبات توحید ہویدا تھا اور اس مقصود کے اثبات سے یہ مطلوب تھا کہ وہی خدائے قادر واحد لا شریک انسان کو مرنے کے بعد زندہ بھی کرسکتا ہے اور اس کے اعمال نیک و بد کی جزاء و سزا بھی دے سکتا ہے۔ اس مقصود کے اثبات کے لیے پہلے پہلے وہ دلائل بیان فرمائے تھے کہ جن کا خود انسان کی پیدائش اور اس کے حالات سے تعلق تھا۔ اب بیرونی دلائل بیان فرماتا ہے فقال فلینظر الانسان الی طعامہ کو آدمی اپنے کھانے کی طرف نظر کرے کہ ہم نے اس کو کس طرح پیدا کیا ہے ؟ انا صببنا الماء صبا کہ ہم نے اوپر سے پانی برسایا۔ بادل اٹھا اور بادلوں میں سے کس لطف کے ساتھ پانی برسایا۔ بادلوں کا پیدا کرنا اور پھر ان میں سے پانی برسوانا کیا اے بنی آدم ! تمہارے کسی علم و حکمت کا اثر ہے ؟ ہرگز نہیں۔ ثم شققنا الارض شقا۔ پھر ہم نے حکمت بالغہ سے زمین کو پھاڑا کہ اس میں سے سہولت سے گھانس اور جڑی بوٹیاں برآمد ہوتی ہیں۔ ان جڑی بوٹیوں کا وجود آسمانی پانی سے ہے۔ وہ بمنزلہ نطفہ انسانی کے ہے اور زمین بمنزلہ رحم کے ہے اور یہ نباتات بمنزلہ مولود کے ہیں۔ پھر زمین کو پھاڑ کر فانبتنا فیہا حبا ہم نے اس زمین میں سے اناج نکالا یعنی جن سے دانہ پیدا ہوتا ہے جیسا گیہوں چنا جوار باجرہ جو انسان کے کھانے میں آتے ہیں اور اسی پر بس نہیں بلکہ وعنبا انگور بھی اگائے یعنی اس کی بیل بھی اگائی۔ انگور میں غذایت بھی ہے کہ صرف اسی کو کھا کر پیٹ بھر سکتا ہے اور میوہ پن بھی ہے اور پھر انگور سے سینکڑوں کارآمد چیزیں بنتی ہیں اور اس پر بھی بس نہیں کی بلکہ وقضبا یعنی جن کو بغیر پکانے کے یوں بھی توڑ توڑ کر کھا جاتے ہیں جیسا مولی ٗ گاجر ٗ شلغم ٗ پیاز ٗ کھیرا ٗ ککڑی ٗ خربوزہ ٗ تربوز وغیرہ اور پھر اسی پر بس نہیں بلکہ وزیتونا یعنی زیتون بھی پیدا کیا کہ جس کا تیل بہت سے کام آتا ہے اور اس کی لکڑی سے بڑے بڑے فائدے حاصل ہوتے ہیں اور ایسے بھی میوے پیدا کئے جو مہینوں رہ سکیں اور دور دراز ملکوں تک جاسکیں اور جن کو کھا کر انسان مدتوں زندہ رہ سکے یعنی ونخلا کھجور یہ بھی بہت کام آتی ہے۔ اس کا بھی کھانے کے سوا عمدہ سرکہ اور شراب بنتی ہے اور سال بھر تک اس کو رکھ کر کھا سکتے ہیں۔ اس کی مٹھائی عمدہ عمدہ کھانوں میں پڑتی ہے اور پھر بس نہیں بلکہ وحدائق باغ پیدا کئے جن میں طرح طرح کے پھل اور پھول اور کارآمد میوے ہوتے ہیں اور باغ بھی کیسے ؟ غلباء گھن کے کہ جن کے سایہ میں سرور اور دل کو نور پیدا ہوتا ہے اور ان میں بڑے بڑے موٹے درخت پیدا کئے کہ میوے دینے کے علاوہ ان کی لکڑی عمارت اور دیگر اشیاء میں کارآمد ہوتی ہے۔ گاڑیاں بنتی ہیں۔ صندوق بنتے ہیں اور پلنگ اور کرسیاں اور کیا کیا آرائش و راحت کے سامان تیار ہوتے ہیں اور باغ کے سوا وفاکہتہ اور بھی صحرائی میوے پیدا کئے۔ جنگلوں اور پہاڑوں میں کیسے کیسے خود رو درخت میوے دار ہیں اور کیسے کیسے عمدہ پیڑ اور جھاڑیں۔ صحرائی شریفہ اور کیلا اور بہت سی چیزیں ہیں جن کو وہاں کے لوگ جانتے ہیں اور ان کے سواء دابا خود رو گھانس اور چارہ بھی پیدا کیا۔ یہ سب چیزیں کس لیے پیدا کیں متاعالکم تمہارے فائدے اٹھانے کو ولانعامکم اور تمہارے چارپایوں گائے بیل بھیڑ بکری ٗبھینس گھوڑے اونٹ کے لیے کہ وہ جانور ان چیزوں کو کھا کر زندہ رہیں اور تم ان سے فائدہ اٹھائو۔ کسی کا دودھ پیو ٗ بچے لو ٗ کسی کے بالوں کو کام میں لائو۔ عمدہ عمدہ شالیں اور دو شالے بناؤ اور کسی کو فربہ کرکے اس کا گوشت کھائو اور کسی پر سواری کرو اور کسی پر بوجھ لادو۔ اب ہر ایک بات کو غور کرو تو آپ معلوم ہوجائے گا کہ یہ کارخانہ خود بخود نہیں بن گیا ہے جیسا کہ دہریہ اور طبیعیہ کہتے ہیں۔ ضرور تمہارا نور عقل تم کو رہنمائی کرے گا کہ ضرور بالضرور ان سب چیزوں کا خالق جس نے ہر ایک میں ایک کیا ہزاروں مصلحتیں اور قدرت کاملہ کے نمونہ رکھے ہیں۔ ان سب سے نرالا بڑا قادر و حکیم ہے اور اس کے سواء وہ اے بنی آدم ! تم پر رحیم بھی ہے کہ اس نے صرف تمہارے پیٹ بھرنے کے لیے کیسے کیسے سامان پیدا کئے ؎ ابرو باد و مہ و خورشید و فلک درکارند تاتونانے بکف آری و بغفلت نخوری ہمہ ازبہرِ تو سرگشتہ و فرمانبردار شرط انصاف نباشد کہ تو فرماں نبری پھر جس قادر مطلق نے آسمانی بوند سے یہ چیزیں بنائیں اور ایک بوند سے تم کو بنایا اور عرصہ وجود میں کیسی کیسی پلٹیئیں دیں۔ ہر دن ہر ایک نیا روپ اس کا بدلا اس کی ابتداء میں کچھ اور ہی قدرت کا جلوہ دکھایا اور اس کے شباب میں اور ہی شان نمایاں کی اور اس کے اخیر میں جبروت کی اور ہی تجلی دکھائی۔ اس شے کو قدرت کا گھوڑا بنا کر اس کو میدان وجود میں کیسا دوڑایا۔ ہر شے پر قدرت کو سوار کیا کیا وہ انسان کو جو اشرف المخلوقات ہے اسی میدان میں ٹکرا کر نیست و نابود کر دے گا یا اس کو کسی اور جہان میں نہ لے جائے گا ؟ ضرور لے جائے گا انسان کی اندرونی اور بیرونی ساخت بتا رہی ہے کہ یہ تیز رو کہیں اور جانے والا ہے اور یہ دانہ قبر میں سے ضرور پھر اگے گا۔