80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsسراج البیان

Ayahs 80:1–9

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

تیوری چڑھائی اور منہ موڑا

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

اس سے کہ اس کے پاس اندھا آیا

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

اور تجھے کیا معلوم کہ شاید وہ پاک ہوجاتا

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا نصیحت سنتا اور وہ نصیحت اسے مفید ہوتی

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

وہ جو پرواہ نہیں کرتا

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

تو اس کی فکر میں ہے

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

اگر وہ پاک نہ ہو تو تجھ پر کچھ گناہ نہیں

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

اور وہ تیرے پاس دوڑتا آیا

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور وہ ڈرتا ہے

سورة عبس اور مقام نبوت 1: یہاں اس بات کو بطور اصل اور حقیقت کے ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ مقام نبوت اس سے کہیں بلند وارفع ہے کہ اس کی جانب گناہ یا معصیت کو منسوب کیا جائے ۔ کیونکہ نبوت کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ ایک سیرت ہے جو عام انسانوں سے ممتاز اور برتر ہے اور ایک ایسا کیرکٹر ہے جو عصمت اور عفت کے زیور سے آراستہ ہے ۔ انبیاء (علیہم السلام) کی ساری زندگی بےداغ اور سراسر پاک ہوتی ہے ۔ ان سے اگر بتقاضائے بشریت لغزش کا صدور ہوتا ہے تو محض دوران اجتہاد کے ایسے پہلو اختیار کرلیتے ہیں ۔ جو اولیٰ تو ہوتا ہے ۔ مگر اولیٰ تر نہیں ہوتا اور ان کے مرتبہ ومقام کی بلندی اور رفعت کی وجہ سے اتنی سی بات بھی اللہ کو ناگوار ہوتی ہے اور اس پر ان کو تادیبا مطلع کردیا جاتا ہے ۔ سورة عبس میں بھی بالکل اسی قسم کا ایک واقعہ مذکور ہے ۔ کہ کیونکر حضور ﷺ سے اجتہاد میں سہو ہوا اور کیونکر اللہ کی جانب سے متنبہ کیا گیا ۔ بات یہ تھی کہ ایک دن صنادید قریش کا ایک گروہ جناب رسالت مآب ﷺ سے معروف کلام تھا اور آپ ﷺ بکمال توجہ ان کو اسلام کی طرف مائل کرنے کی کوشش کررہے تھے ۔ کہ اتنے میں ابن ام مکتوم جو نابینا تھے ۔ شوق اور وارفتگی کے عالم میں آئے اور آپ ﷺ سے مسائل پوچھنے لگے ۔ اور یہ نہ دیکھ سکے کہ آپ پہلے کن لوگوں کو شرف مکالمہ بخش رہے ہیں ۔ آپ ﷺ نے اس خیال سے کہ یہ لوگ جذبہ تنفر سے کہیں نفس اسلام کی دعوت کو نہ ٹھکرا دیں ، یہ موزوں خیال کیا کہ اس وقت ان کو قدرے تنفض کے ساتھ روک دیا جائے اور ان سرداران قریش سے گفتگو کو برابر جاری رکھا جائے ۔ شاید اس التفات اور توجہ سے ان لوگوں کے دلوں میں اسلام کی محبت پیدا ہوجائے ۔ مگر اللہ تعالیٰ کو یہ ادا ناگوار معلوم ہوئی ۔ کیونکہ یہ بات وہی علام الغیوب خوب جانتا ہے کہ نتائج کے اعتبار سے کون چیز بہتر تھی ۔ یعنی ان قریش کے بڑے بڑے آدمیوں کے ساتھ بحث ومکاملہ کو جاری رکھنا یا ایک مخلص مسلمان کے ساتھ علم ورافت کے ساتھ گفتگو کرنا ۔ اس پر ان آیات کا نزول ہوا ۔ حل لغات :۔ مرسھا ۔ قیام ۔ وقوع عبس ۔ اظہار تنفض فرمایا ۔
Ayahs 80:10–13

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

توُ تو اس سے تغافل (ف 1) ( بےپرواہی) کرتا ہے

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

ہرگز نہیں یہ تو نصیحت ہے

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

سو جو چاہے اسے یاد کرے

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

اور یہ ان ورقوں میں (لکھی) ہے جن کی تعظیم کی جاتی ہے

ف 1: غور کیجئے ۔ واقعہ کے لحاظ سے یہاں کوئی نافرمانی یا معصیت نہیں ہے ۔ بلکہ معاملہ صرف یہ ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ حضور ﷺ ان باتوں میں کہ کون توجہ اور التفات کا زیادہ مستحق ہے ۔ مکہ والے یا یہ نابینا صحابی صحیح اور اولیٰ فیصلہ نہیں کرپائے اور مسئلہ کے ایسے پہلو کو اختیار کرلیا جو عنداللہ معقول تھا ، افضل نہیں تھا ۔ قرآن کی یہ آیات حضور ﷺ کے صادق اور مامور من اللہ ہونے پر بہترین دال ہے ۔ کیونکہ معاذ اللہ اگر آپ اپنے دعویٰ میں سچے نہ ہوتے تو ان آیتوں کو جس میں آپ کو متنبہ کیا گیا ہے کبھی قرآن کے اوراق میں درج نہ فرماتے ۔ یہ واقعہ بجائے خوددعویٰ نبوت میں پیش کیا جاسکتا ہے ۔ کہ اتنی بڑی تنبیہ کہ حضور ﷺ نے بغیر کسی تشریحی نوٹ کے ابد تک باقی رکھا اور اپنے عقیدت مندوں کو بتایا کہ مجھے اس مقام پر ٹھوکر لگی ہے ۔
Ayahs 80:14–36

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

جو بلند قدر مقدس (ف 2) (پاک) ہیں

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

وہ ورق لکھنے والوں کے ہاتھ میں ہیں

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

جو بزرگ اور نیکوکار ہیں

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

آدمی پر خدا کی مار وہ کیسا کچھ ناشکرگزار ہے

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

خدا نے اسے کس چیز سے پیدا کیا

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

نطفہ سے اسے پیدا کیا ۔ پھر اس کا اندازہ رکھا

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر اس کے لئے راہ آسان کی

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اسے مردہ کیا ۔ پھر اسے قبر میں رکھوایا

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر جب چاہے گا اسے اٹھائے گا

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

کوئی نہیں جو اسے حکم ملا ہے اس نے اسے پورا نہیں کیا

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

سو چاہئے کہ انسان اپنے کھانے کی طرف دیکھے

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

کہ ہم نے بڑے زور سے پانی برسایا

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر ہم نے زمین کو پھاڑ کر چیرا

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

پھر ہم نے اس میں دانہ اگایا

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور ترکاری

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کھجوریں

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور گھنے باغ

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور میوے اور چارہ

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے نفع کے لئے

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ Open ayah 80:33 in the Quran reader

پھر جب کان پھوڑنے والی آئے گی

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ Open ayah 80:34 in the Quran reader

اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا

وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ Open ayah 80:35 in the Quran reader

اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ Open ayah 80:36 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنے بٹیوں سے

ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔
Ayahs 80:37–40

لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ Open ayah 80:37 in the Quran reader

اس دن ان میں سے ہر آدمی ایک حال میں مشغول ہوگا جو اس کو کافی ہوگا

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌۙ Open ayah 80:38 in the Quran reader

کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے

ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ Open ayah 80:39 in the Quran reader

ہنستے خوشی کرتے

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌۙ Open ayah 80:40 in the Quran reader

اور کتنے منہ اس دن ایسے ہوں گے جن پر غبار پڑا ہوگا

آپا دھاپی اور نفسا نفسی 1: غرض یہ ہے کہ آج تو یہ مادیت میں پھنسے ہوئے لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بوقلموں نعمتوں سے استفادہ کررہے ہیں اور ان چیزوں کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ مگر ایک وقت آنے والا ہے جب کانوں کو بہرہ کردینے والی آواز کا دھماکہ ہوگا اور یہ محسوس کریں گے کہ اب احتساب کی گھڑی قریب تر ہورہی ہے ۔ اس وقت یہ تعلقات جو یہاں گناہ اور معصیت کا سبب بن جاتے ہیں ، منقطع ہوجائیں گے اور ہر شخص آپا دھاپی اور نفسانفسی میں کچھ ایسا منہمک ہوگا کہ دوسروں کی ہمدردی کا خیال بھی اس کے دل میں پیدا نہیں ہوگا ۔ جس بھائی پر وہ جان دیتا تھا اور جن کی وجہ سے کئی ہنگامے اور لڑائیاں اس نے مول لی تھیں ۔ آج ان سے بھاگے گا اور ان کا سامنا نہیں کرے گا ۔ وہ مال اور باپ جن کے پیار اور جن کی محبتوں پر اس کو نازز تھا اور جن کی بےجا محبت اور نازبرداری کی وجہ سے اس کے اخلاق بگڑے تھے ۔ ان کو چھوڑ دے گا ۔ وہ بیوی اور بچے جن کے لئے رات دن سرگردان رہتا تھا اور جن کی آسودگی اور آسائش کے لئے اس نے حلال اور حرام کی تمیز بھی اٹھا رکھی تھی ۔ آج اس کو یہ اپنے دشمن نظر آئیں گے ۔ آج صرف اپنی ذات اور اس کی فکر ہوگی ۔ اپنا معاملہ اور اس کے متعلق تشویش ہوگی جس کی وجہ سے ہر آدمی حیران اور پریشان ہوگا ۔ پھر اعمال کی تقسیم کا تقاضا یہ ہوگا کہ کچھ لوگ تو خوش وخرم ہوں گے ۔ ان کے چہروں پر مسرت کھیل رہی ہوگی اور کچھ ایسے ہوں گے کہ بداعمالیوں کی وجہ سے روسیاہ ہوں گے ۔ حل لغات :۔ فاقبرہ ۔ یعنی عالم قبر می پہنچایا ۔ جس کا آغاز موت کے بعد ہوتا ہے قضبا ۔ ترکاری