80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 80:1

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

منہ بنایا اور روگردانی کی

1۔ ابن الضریس نے ابو وائل ؓ سے روایت کیا کہ بنواسد کا ایک وفد نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا آپ نے پوچھا تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا ہم بنوالزینۃ۔ ہمیشہ گھوڑوں پر سوار رہنے والے لوگ ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم بنو رشدہ ہو یہ سن کر حضرمی بن عامر نے کہا اللہ کی قسم ! ہم بنی المحوسلہ کی طرح نہیں ہوں گے۔ اور ان سے مراد بنو عبداللہ بن عطفان ہیں۔ ان کو بنو عبدالعزی بن غطفان کہا جاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرمی سے فرمایا کیا تو قرآن میں سے کوئی چیز پڑھتا ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! آپ نے فرمایا اس کو پڑھ تو اس نے پڑھا آیت عبس وتولی۔ پیغمبر نے تیوی چڑھائی اور منہ موڑ لیا۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ نے اس کو پڑھانا چاہا وہاں تک اس نے پڑھا۔ پھر اس نے کہا۔ وہا الذی من علی الحبلی ماخرج منہا نسمۃ تسعی بین شرا سیف وحشا اور وہ ذات ہے جس نے حاملہ پر احسان فرمایا اور اس میں سے ایک روح کو نکالا جو وحشت ناک تکالیف کے درمیان دوڑ دھوپ کرتی۔ یہ سن کر نبی ﷺ نے فرمایا اس میں اضافہ نہ کیونکہ یہی کافی ہے۔ 2۔ ابن النجار نے انس ؓ سے روایت کیا کہ علاء بن یزید حضرمی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگی۔ اس کو اجازت دے دی گئی۔ دونوں نے لمبی باتیں کیں پھر آپ نے اس سے فرمایا۔ اے علاء کیا تو قرآن میں سے کچھ حسین انداز میں پڑھ سکتا ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! پھر اس نے آپ پر عبس والی سورت پڑھی یہاں تک کہ اس کو اس کے آخر تک ختم کیا اور اس کے آخر میں اپنے پاس سے یہ زیادہ کیا کہ وہ ذات ہے جس نے حامہ عورت پر احسان کیا اور اس نے ایک ذی روح کو نکالا جو وحشت ناک تکالیف کے درمیان دوڑتی ہے نبی ﷺ نے زور سے آواز دی اے علاء بس کر سورة ختم ہوچکی ہے۔ واللہ اعلم۔ 3۔ الترمذی وحسنہ وابن المنذر وابن حبان والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سورة عبس وتولی ابن ام مکتون نابینا کے بارے میں نازل ہوئی جو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنا شروع کیا یارسول اللہ ! مجھے ہدایت کیجیے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس مشرکین کے سرداروں میں ایک آدمی بیٹھا تھا۔ اس کے آنے سے آپ کو ناگواری ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے اعراض فرمایا اور دوسرے آدمی کی طرف توجہ دینے لگے اور اس سے فرمایا کیا تو کسی حرج کو دیکھتا ہے جو میں کہہ رہا ہے۔ اس نے کہا نہیں۔ تو اس کے بارے میں یہ سورة نازل ہوئی۔ سورت کی شان نزول 4۔ ابن المنذر وابن مردویہ عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قریش کے سرداروں میں سے کئی لوگوں کی مجلس میں تشریف فرما تھے۔ ان میں سے ابو جہل بن ہشام اور عتبہ بن ربیعہ تھے۔ آپ ان سے فرما رہے تھے۔ کیا یہ اچھا نہیں ہے کہ میں اس اس طرح کے ساتھ آیا انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ اللہ کی قسم ! اتنے میں ابن ام مکتوم ؓ آگئے اور آپ ان کے ساتھ مشغول تھے۔ اس نے سوال کیا آپ نے اس سے اعراض فرمایا تو اللہ تعلیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت اما من استغنی۔ فانت لہ تصدی وما علیک الا یزکی واما من جاءک یسعی۔ وہو یخشی فانت عنہ تلہی۔ لیکن وہ جو پروا نہیں کرتا سو آپ اس کے لیے توجہ کرتے ہیں اور جو لیکن آپ کے پاس دوڑتا ہوا آیا اور وہ ڈر رہا ہے تو آپ اس سے بےپروائی کرتے ہیں۔ یعنی ابن ام مکتوم ؓ۔ 5۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابو یعلی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ابن ام امکتوم ؓ ، نبی مکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ابی بن خلف سے باتیں فرما رہے تھے۔ اس لیے آپ نے ان سے اعراض فرمایا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا آیت عبس وتولی ان جاء ہ الاعمی۔ آپ نے تیوری چڑھائی اور منہ موڑ لیا کہ ان کے پاس ایک اندھا آیا اس کے بعد نبی اکرم ﷺ اس کا اکرام فرماتے تھے۔ 6۔ ابن جریر وابن المردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ رسول الہ ﷺ عتبہ بن ربیعہ، عباس بن عبدالمطلب اور ابو جہل بن ہشام سے گفتگو فرما رہے تھے۔ اور آپ ان کی طرف بہت زیادہ توجہ فرما رہے تھے۔ آپ چاہتے تھے کہ یہ ایمان لے آئیں اچانک ایک نابینا آدمی سامنے آیا جس کو عبداللہ بن ام مکتوم ؓ کہا جاتا تھا وہ آپ ﷺ کی طرف چل رہا تھا اور آپ ان لوگوں سے سرگوشی فرما رہے تھے عبداللہ ؓ نے آتے ہی نبی مکرم ﷺ سے قرآن مجید میں سے کسی آیت کا مطالبہ کرنے لگے۔ اور عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے اس میں سے سکھائیے جو آپ کو اللہ نے سکھایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے اعراض فرمایا اور اپنے چہرہ مبارک میں تیوری چڑھالی اور اس سے منہ پھیرلیا اور اس کی بات کو ناپسند فرمایا اور دوسروں کی طرف متوجہ رہے پھر جب رسول اللہ ﷺ پھر جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی بات کو پورا کرلیا اور اپنے اہل و عیال کی طرف جانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی کچھ بصارت کو روک لیا اور اونگ کے سبب آپ کا سر حرکت کرنے لگا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت عبس وتولی ان جاء ہ الاعمی جب اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تو اللہ کے نبی ﷺ اس کا اکرام فرماتے اور ان سے بات کرتے اور فرماتے تیری کیا حاجت ہے کیا تو کسی چیز کا ارادہ رکھتا ہے۔ 7۔ سعید بن منصور عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو مالک (رح) سے آیت عبس وتولی کے بارے میں روایت کیا کہ آپ ﷺ کے پاس عبداللہ بن ام مکتوب ؓ آئے تو آپ نے اپنے چہرے میں تیوری چڑھائی اور منہ پھیرلیا اور آپ امیہ بن خلف کی طرف توجہ فرما رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت اما من استغنی فانت لہ تصدی لیکن وہ جو پروا نہیں کرتا ہو آپ اس کے لیے توجہ کرتے ہیں۔ 8۔ ابن ابی حاتم نے حکم (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت کے بعد رسول اللہ ﷺ کو کسی مالدار کی طرف توجہ کرتے ہوئے اور کسی فقیر سے اعراض کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ 9۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید ؓ سے روایت کیا کہ اگر رسول اللہ ﷺ وحی میں سے کسی چیز کو چھپاتے تو اپنی ذات کے بارے میں تو اس آیت کو ضرور چھپاتے عبداللہ بن ام مکتوم کی فضیلت 10۔ طبرانی وابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ نابینا ابن ام مکتوم ؓ آئے اور یہ وہ صحابی ہے جن کے بارے میں آیت عبس وتولی ان جاء الاعمی نازل ہوئی۔ اس نے عرض کیا یارسول اللہ ! کہ آپ جانتے ہیں کہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور میر ہڈیا کمزور ہوگئی ہیں اور میری نظر چلی گئی۔ ایک شخص مجھ کو پکڑ کرلے جاتا ہے مگر اس کا میری رہنمائی کرنا مناسب نہیں لگتا۔ کیا آپ میرے لیے یہ رخصت دیتے ہیں کہ میں پانچوں نمازیں اپنے گھر میں ادا کرلوں ؟ آپ ﷺ نے پوچھا کیا تو موذن کی آواز کو سنتا ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! فرمایا میں تیرے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا۔ 11۔ ابن مردویہ نے کعب بن عجرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک نابینا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورة عبس وتولی نازل فرمائی۔ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! بیشک میں اذان کی آواز کو سنتا ہوں اور میں اپنے لیے کوئی لے جانے والا نہیں پاتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو اذان سنے تو اللہ کی دعوت کو قبول کر۔
Ayahs 80:2–12

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

اس وجہ سے کہ ان کے پاس نابینا آیا

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

اور آپ کو کیا خبر شایدوہ سنورجاتا

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا نصیحت قبول کرتا، سو نصیحت اسے فائدہ دیتی

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

لیکن جس نے بےپرواہی کی

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

سو آپ اس کے لیے پیش آجاتے ہیں

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

حالانکہ اس بات کا آپ پر کوئی الزام نہیں کہ وہ نہ سنورے

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

اور جو شخص آپ کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور ڈرتا ہے

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

سو آپ اس کی طرف سے بےتوجہی برتتے ہیں

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

ہر گز ایسا نہ کیجیے، بیشک یہ قرآن نصیحت کی چیز ہے

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

سو جس کا جی چاہے اس کو قبول کرلے

12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت ان جاء ہ الاعمی کے بارے میں روایت کیا کہ بنو فہیر میں سے ایک آدمی آیا جس کا نام عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تھا آیت اما من استغنی لیکن وہ جو پرواہ نہیں کرتا اس سے مراد عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف ہے۔ 13۔ ابن سعد وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے آیت عبس وتولی کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش کے سرداروں میں سے ایک آدمی سے ملاقات فرمائی اور اس کو اسلام کی طرف بلایا اس درمیان آپ کے پاس عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آگئے۔ اور احکام اسلام کے بارے میں آپ ﷺ سے سوال کرنے لگے۔ تو آپ نے اپنے چہرے پر تیوری چڑھائی تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو عتاب فرمایا جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ابن ام مکتوم کو بلایا اور ان کا اکرام فرمایا اور ان کو مدینہ منورہ میں دو مرتبہ اپنا نائب بنایا۔ 14۔ الحاک وصححہ وابن مردویہ نے شعب الایمان میں مسروق (رح) سے روایت کیا کہ میں عائشہ ؓ کے پاس آیا ان کے پاس ایک نابینا آدمی بیٹھا ہوا تھا انہوں نے اس کے لیے لیموں اٹا اور شہد کے ساتھ ان کو کھلانے لگیں۔ میں نے عرض کیا اے ام المومنین یہ کون ہے ؟ فرمایا یہ ابن ام مکتوم ؓ ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو عتاب فرمایا اور فرمایا کہ اللہ کے نبی ﷺ کے پاس یہ اس وقت آئے جب آپ ﷺ کے پاس عتبہ اور شیبہ بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ ان دونوں کی طرف متوجہ تھے۔ اور ان کی طرف توجہ نہ فرمائی تو یہ آیت نازل ہوئی آیت عبس وتولی ان جاء ہ الاعمی یعنی ابن ام مکتوم 15۔ اعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ قریش کے سرداروں میں سے ایک سردار کے ساتھ علیحدگی میں باتیں فرما رہے تھے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے رہے تھے اور آپ اس کے اسلام قبول کرنے آرزو مند تھے۔ اچانک عبداللہ بن ام مکتوم نابینا آگئے۔ جب نبی ﷺ نے ان کو دیکھا تو ان کے آنے کو ناپسند فرمایا۔ اور اپنے دل میں کہا کہ یہ قریشی سردار کہے گا کہ آپ کا اباع اندھے فقیر اور غلام ہی کرتے ہیں تو آپ ترشرو ہوئے و اس پر وحی نازل ہوئی آیت عبس وتولی آیت کے آخرتک۔
Ayahs 80:13–14

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

وہ ایسے صحیفوں میں ہے جو مکرم ہیں

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

بلند ہیں، مقدس ہیں

16۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی صفح مکرمہ مرفوعۃ مطہرۃ کہ وہ عزت والے صحیفوں میں ہے جو بلند مرتبہ اور پاک ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے آیت بایدی سفرۃ ان لکھنے والوں کے ہاتھوں میں اور یہ قرآن ہے۔
Ayahs 80:15–16

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

جو مکرم ہیں نیک ہیں

17۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایدی سفرۃ سے مراد ہے لکھنے والے کتابت کرنے والے۔ 18۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایدی سفرۃ کرام بررۃ ان لکھنے والوں کے ہاتھوں میں جو بڑے بزرگ نیکو کار ہیں اس سے مراد محمد ﷺ کے اصحاب ہیں۔ 19۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سفرۃ سے مراد ہے فرشتوں میں سے لکھنے والے۔ 20۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بایدی سفرۃ سے مراد ہے لکھنے والے۔ 211۔ الخطیب نے اپنی تاریخ میں عطاء بن ابی رباح (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 22۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سفرۃ سے مراد ہے قراء نبطی زبان میں۔ 23۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کرام بررہ سے فرشتے مراد ہیں۔ 24۔ احمد والائمۃ الستہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس میں ماہر ہے وہ ان فرشتوں کے ساتھ ہوگا جو لکھنے والے اور بزرگ اور نیکو کار ہیں۔ اور جو شخص قرآن کو پڑھتا ہے اور اس میں دقت اٹھاتا ہے اس کے لیے دہرا اجر ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 80:17–19

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

انسان پر خدا کی مار ہو وہ کیا ہی ناشکرا ہے

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

اسے کس چیز سے پیدا فرمایا

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

نطفہ سے اسی کو پیدا فرمایا سو اسے ایک انداز سے بنایا

1۔ ابن المنذرنے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قتل الانسان ما اکفرہ۔ انسان پر خدا کی مار وہ کیسا ناشکرا ہے یہ آیت عتبہ بن ابی لہب کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے کہا میں ستارے کے رب کا انکار کرتا ہوں جب وہ اوپر سے نیچے گرتا ہے۔ نبی ﷺ نے اس پر بددعا فرمائی تو شام کے راستے میں ایک شیر اس پر حملہ آور ہوا اور اسے نگل گیا۔ 2۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں جو آیت قتل الانسان ہے۔ اس سے مراد کافر ہے۔ 3۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما اکفرہ یعنی کتنا شدید ہے اس کا کفر۔ آیت فقدرہ۔ پھر اس کا اندازہ مقرر فرمایا یعنی نطفہ سے پھر علقہ پھر مضغہ پھر اس طرح مختلف مراحل سے گذار کر اس کی پیدائش پوری فرمائی۔ 4۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت خلقہ فقدرہ۔ اس کو بنایا پھر اس کا اندازہ ٹھہرا یا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی ہر چیز اس کی ماں کے رحم میں اندازے سے بنائی جس طرح اللہ نے چاہا۔
Ayahs 80:20–22

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر اس کا راستہ آسان فرما دیا

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اس کو موت دے دی، اس کے بعد اسے قبر میں چھپادیا

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر جب چاہے اسے اٹھالے

5۔ ابن جریر نے عورفی کے طریق سے ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا کہ آیت ثم السبیل یسرہ پھر اس پر راستہ آسان کردیا۔ یعنی اس کی ماں کے پیٹ سے اس کے نکلنے کا راستہ آسان کردیا۔ 6۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم السبیل یسرہ یعنی اس کا رحم سے نکلنا آسان کردیا۔ 7۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم السبیل یسرہ سے مراد ہے کہ اس کی ماں کے پیٹ سے اس کا نکلنا آسان کردیا۔ 8۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 9۔ ابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم السبیل یسرہ یعنی اس کا رحم سے نکلنا آسان کردیا۔ 10۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم السبیل یسرہ سے مراد ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول آیت انا ہدیناہ السبیل اما شاکرا واما کفورا۔ (الدہر آیت 2) بیشک ہم نے اسے راستہ دکھادیا۔ یا تو وہ شکر گذار ہے اور یا ناشکرا ہے یعنی شقاوت اور سعادت کی راہ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے مراتب 11۔ ابو نعیم نے الحلیہ میں محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے تورات میں پڑھا یا فرمایا مصحف ابراہیم میں پڑھا میں نے اس میں پایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے ابن آدم ! تو نے میرے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ میں نے تجھ کو پیدا کیا اور تو کچھ بھی نہ تھا۔ اور میں تجھے درست آدمی بنایا اور میں نے تجھ کو مٹی کیچڑ سے پیدا کیا، پھر میں نے نطفہ کو حفاظت کی جگہ یعنی رحم میں رکھا۔ پھر میں نے نطفہ سے لوتھڑا بنایا۔ پھر لوتھڑے سے گوشت کی بوٹی بنایا۔ پھر میں نے بوٹی میں ہڈیاں بنائی۔ پھر میں نے ہڈیوں گوشت پہنایا۔ پھر ہم نے تجھے ایک دوسری تخلیق کے ساتھ پیدا فرمایا اے آدم کے بیٹے ! کیا میرے علاوہ کوئی اس کام پر قادر ہے ؟ پھر میں نے تیرے بوجھ کو تیری ماں پر ہلکا کردیا۔ یہاں تک کہ وہ تیری وجہ سے نہ بیمار ہوئی اور نہ اس کو تکلیف ہوئی۔ پھر میں نے آنتوں کو حکم دیا کہ وہ پھیل جائیں اور دوسرے اعضاء کو حکم دیا کہ وہ آپس میں جدا ہوجائیں۔ چناچہ آنتیں پھیل گئیں حالانکہ اس سے پہلے وہ تنگ تھیں۔ اور اعضا جدا جدا ہوگئے حالانکہ اس سے پہلے وہ جڑے ہوئے تھے۔ پھر میں نے اس فرشتے کو القا کیا جو رحموں پر مقرر ہے کہ وہ تجھ کو تیری ماں کے پیٹ سے نکالے اور اس نے اپنے پر کے ایک بال کے ساتھ تجھے نجات دلائی اور اس نے تجھ پر واضح کردیا کہ جب تو کمزور مخلوق ہے تیرے پاس نہ کاٹنے والے دانت ہیں نہ چبانے والی داڑھ ہے پھر اس نے تیرے لیے تیری ماں کے سینے میں تیرے ایسی رگ رکھ دی ہے کہ تیرے لیے گرمی کے موسم میں ٹھنڈا دودھ پاتی ہے اور گرم دودھ پاتی ہے سردی کے موسم میں۔ اور اس نے اس جلد، گوشت خون اور رگوں کے درمیان سے تیرے لیے چن رکھا ہے۔ پھر میں نے تیری لیے تیری ماں کے دل میں رحم کو ڈال دیا۔ اور تیرے باپ کے دل میں شفقت اور پیار کو ڈال دیا ہے پس یہ دونوں تیرے لیے سرتوڑ کوشش کرتے ہیں اور مشقت اٹھاتے ہیں ار تجھے پالتے ہیں اور تجھے غذا دیتے ہیں اور خود نہیں سوتے یہاں تک کہ تجھ کو نہ سلائیں اے آدم کے بیٹے میں نے تیرے ساتھ اس طرح کیا ہے کسی خاص مقصد اور شے کے لیے نہیں کہ میں نے اسے پورا کرنے کے لیے اس سے مدد لی ہو۔ اے ابن آدم جب تیرے دانت کاٹنے لگے اور اور تیر داڑیں چبانے لگیں تو میں نے تجھ کو گرمی کے پھل کھلائے اس کے وقت میں ار سردی کے پھل کھلائے اس کے وقت میں جب تو نے پہچان لیا کہ بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو نے میری نافرمانی کی۔ اور جب تو نے میری نافرمانی کی تو تو مجھ سے دعا مانگ۔ بیشک میں تیرے قریب ہوں اور دعا کو قبول کرنے والا ہوں۔ اور مجھ کو پکار کیونکہ میں غفور اور رحیم بھی ہوں۔
Ayah 80:23

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

خبردار اس کو جو حکم دیا، اسے بجا نہیں لایا

12۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لما یقض ما امرہ اس نے تعمیل نہیں کی جو اس کو حکم دیا تھا یعنی کسی نے ہمیشہ ہر اس عمل کی کماحقہ تعمیل نہیں کی جو اس پر فرض کیا گیا۔
Ayah 80:24

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

سو انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے

13۔ ابن المنذر نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلینظر الانسان الی طعامہ۔ پس انسان کو اپنے کھانے کی طرف غور کرنا چاہیے۔ یعنی انسان کو اپنے داخل ہوں اور نکلنے کی جگہ کے بارے میں غور وفکر کرنا چاہیے۔ 14۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 15۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب التواضع میں کلبی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت فلینظر الانسان الی طعامہ کے بارے میں روایت کیا یعنی انسان کو اپنے پاخانے کے بارے میں غورفکر کرنا چاہیے۔ 16۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلینظر الانسان الی طعامہ۔ سے وہ فرشت مراد ہے جو ابن آدم کی گردن کو موٹ کر کہتا ہے جب وہ بیت الخلاء میں بیٹھتا ہے جو خار ہورہا ہے اسے دیکھ۔ 17۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو قلابہ (رح) سے روایت کیا کہ تورات میں لکھا ہے اے ابن آدم تو دیکھ اس چیز کی طرف جو تو نے اس کے ساتھ بخل کیا کہ وہ کیا ہوگیا۔ دنیا کی نعمتیں فانی ہیں 18۔ ابن المنذر نے بشیر بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے فرمایا کرتے تھے جب وہ اپنی بات سے فارغ ہوتے کہ تم میرے ساتھ چلو یہاں تک کہ میں تم کو دنیا دکھاؤ۔ پھر وہ آتے اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر کھڑے ہو کر فرماتے دیکھو اپنے شہد کی طرف اور اپنے گھی کی طرف اور اپنی بطخوں کی طرف اور اپنی مرغیوں کی طرف کہ وہ کیا ہوگئی ہیں۔ یعنی گندگی کیا ایک ڈھیر بن چکا ہے۔
Ayahs 80:25–29

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

ہم نے خوب اچھی طرح پانی برسایا

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر ہم نے زمین کو عجیب طریقہ پر پھاڑدیا

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

سو ہم نے اس میں غلہ اگایا

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور انگور اور ترکاریاں

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کھجوریں

19۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انا صببنا الماء صبا کہ ہم نے اوپر سے مینہ برسایا۔ یعنی بارش آیت ثم شققنا الرض شقا پھر ہم نے زمین کو چیر کر پھاڑا یعنی نباتات کے ساتھ۔ 20۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وقضبا۔ اور ترکاریاں یعنی سبز گھاس اگائی آیت وحدائق غلبا۔ اور گھنے باغ یعنی لمبے باغ آیت وفاکۃ وابا۔ اور میوے اور گھاس یعنی تازہ پھل اگائے۔ 21۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حدائق سے مراد ہے گھنے اور جڑے ہوئے باغات اور غلب سے مراد ہے جو موٹے ہوں اور الاب سے مراد ہے جو زمین اگاتی ہے ان چیزوں میں سے جو جانور کھاتے ہیں اور لوگ اس کو نہیں کھاتے۔
Ayah 80:30

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور گنجان باغ

22۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وحدائق غلبا سے مراد ہے جڑے ہوئے آیت وفاکہۃ وابا وہ پھل جو لوگ کھاتے ہیں آیت وابا جو جانور کھاتے ہیں۔ 23۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ” الغلب “ سے مراد ہے کھجو رکی بیلی۔ ، 24۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ” غلبا “ سے مراد ہے موٹے تنے والے 25۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وحدائق غلبا سے جنت میں وہ درخت مراد ہے جس سے سایہ حاصل کیا جائے گا مگر اس میں سے کسی چیز کو نہیں اٹھائے گا یعنی وہ پھل نہیں دیتے۔ 26۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الاب “ سے مراد ہے جانوروں کے لیے خشک گھاس۔ 27۔ ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الاب “ سے مراد ہے گھاس اور چارہ۔ 28۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” وابا “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا الاب سے مراد ہے ہر وہ چیز جو چوپائے چرتے ہیں۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا تری بہ الاب والیقطین مختلطا علی الشریعۃ یجری تحتہا العذب ترجمہ : تو اس کے سبب ایک گھاٹ پر چارہ اور بیلوں کو ملاجلا دیکھتا ہے جس کے یچے میٹھا پانی جاری رہتا ہے۔
Ayahs 80:31–32

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور میوے اور چارہ پید ا کردیا

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے

29۔ ابو عبید نے اپنے فضائل میں اور عبد بن حمید نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق ؓ آیت ” وابا “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کون سا آسمان جو مجھ کو سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھ کو اٹھائے گی۔ جب کہ میں اللہ کی کتاب کے بارے میں ایسی بات کہوں جس کو میں نہیں جانتے۔ 30۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن سعد وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان والخطیب والحاکم وصححہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے منبر پر یہ آیت پڑھی آیت فانبتنا فیہا حبا وعنبا وقضبا سے لے کر ” وابا “ تک پھر فرمایا یہ سب وہ ہے جس کو ہم پہچانتے ہیں مگر ” اب “ کیا ہے۔ پھر آپ نے لاٹھی کو اٹھایا جو ان کے ہاتھ میں تھی اور فرمایا یہ اللہ کی قسم ! یہ تکلف ہے اور تجھ پر یہ لازم نہیں کہ تو جانے کہ ” الاب “ کیا ہے۔ کتاب اللہ کی اتباع کرو جو ہدایت تمہارے لیے واضح ہو اور اس کے مطابق عمل کرو اور جس کو تم نہ جانو تو اس کو اپنے رب کے سپرد کردو۔ 31۔ ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” الحدائق “ سے مراد ہے باغات اور ” الغلب “ سے مراد ہے موٹے تنوں والے درخت اور ” الاب “ سے مراد ہے سبز گھاس ” متاعا لکم ولانعامکم “ تمہارے لیے اور تمہارے جانوروں کے لیے سامان حیات ہے۔ یعنی پھل ہے تمہارے لیے اور گھاس ہے تمہارے جانوروں کے لیے۔ 32۔ عبد بن حمید (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقضبا سے مراد ہے سبز گھاس اور آیت وحدائق غلبا سے مراد ہے گھنی کھجوریں آیت وفاکہۃ یعنی پھل تمہارے لیے آیت وابا یعنی گھاس تمہارے جانوروں کے لیے۔ 33۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت غلبا سے مراد ہے مشقت۔ 34۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وفاکہۃ سے مراد وہ پھل ہیں جو انسان کھاتے ہیں اور الاب سے مرد ہے چراگاہ۔ 35۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ پھل وہ ہے جو لوگ کھاتے ہیں آیت وابا جو جانور کھاتے ہیں۔ 36۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جو چیز اچھی اور میٹھی ہے وہ تمہارے لیے ہے اور ” والاب “ اور گھاس یہ تمہارے جانوروں کے لیے ہے 37۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ” وابا “ سے مراد ہے گھاس۔ 38۔ عبد بن حمید نے ابورزین (رح) سے روایت کیا کہ آیت وفاکہۃ وابا سے مراد ہے نباتا۔ 39۔ عبد بن حمید نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” الاب “ سے مراد ہے بھوسہ۔ 40۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ الاب سے مراد ہے انجیر۔ 41۔ عبد بن حمید نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ ہر چیز جو زمین پر اگتی ہے وہ ” الاب “ ہے۔ 42۔ عبد بن حمید عبد الرحمن بن یزید (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے عمر ؓ سے آیت وابا کے بارے میں سوال کیا جب آپ نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا تو آپ ان پر درہ کے ساتھ متوجہ ہوئے۔ 43۔ عبد بن حمید وابن الانباری نے المصاحف میں انس ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے یہ آیت وفاکہۃ وابا پڑھی اور فرمایا اس پھل کو تو ہم نے پہچان لیا اور الاب کیا ہے۔ پھر فرمایا ٹھہرجاؤ ہمیں تکلف سے منع کیا گیا۔ 4۔ ابن مردویہ نے ابو وائل (رح) سے روایت کیا کہ عمر ؓ سے اللہ تعالیٰ کے س قول آیت وابا کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ” الاب “ کیا ہے فرمایا ہم کو اس بات کو مکلف نہیں بنایا گیا فرمایا ہم کو اس کے ساتھ حکم نہیں دیا گیا۔
Ayah 80:33

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ Open ayah 80:33 in the Quran reader

سو جب خوب زور دار آواز والی آجائے گی

1۔ ابن جریر وابن المنذر نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الصاخۃ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ہے۔ قیامت کے میدان میں جسم پر لباس نہ ہوگا 2۔ عبد بن حمید والترمذی والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ اکٹھے کیے جاؤ گے۔ آپ کی بیوی نے عرض کیا کیا ہمارے بعض، بعض کی شرم گاہ کو دیکھے گا ؟ آپ نے فرمایا اے فلانی آیت لکل امری منہم یومئذ شان یغنیہ ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی۔ جو اوروں کی طرف سے بےپرواہ کردے گی۔