Ayahs 80:1–4ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، ترش رو ہوئے محمد ﷺ یعنی منہ بنایا، اور اعراض کیا، اس وجہ سے کہ نابینا ان کے پاس آیا، عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ ، سو اس نے آپ ﷺ کے اس کام میں خلل ڈالا جس میں آپ ﷺ مشغول تھے ان لوگوں کے ساتھ اشراف قریش میں سے جن کے اسلام کی آپ ﷺ امید رکھتے تھے، اس لئے کہ آپ ﷺ ان کے اسلام کے بڑے حریص تھے، اور نابینا کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ آپ ﷺ کسی (اہم کام) میں مشغول ہیں، تو اس نے آپ ﷺ کو پکارنا شروع کردیا کہ مجھے اس میں سے کچھ سکھا دو جو اللہ نے آپ ﷺ کو سکھایا ہے پھر آپ ﷺ اپنے گھر تشریف لے گئے، اس بارے میں آپ ﷺ پر عتاب فرمایا گیا اس کے ذریعہ جو اس سورت میں نازل ہوا، تو اس کے بعد آپ ﷺ عبد اللہ ابن مکتوم ؓ سے فرمایا کرتے تھے جب وہ آیا کرتے تھے، اس شخص کے لئے مرحبا ہو جس کے بارے میں مجھ پر میرے رب نے عتاب فرمایا اور آپ ﷺ ان کے لئے اپنی چادر بچھا دیا کرتے تھے، اور آپ کو کیا معلوم شاید کہ وہ سنور جاتا یزکی میں تاء کا ادغام ہے اصل زاء میں یعنی گناہوں سے پاک ہوجاتا آپ ﷺ کی باتیں سن کر اور نصیحت قبول کرتا (یذکر) میں اصل میں تاء کا ادغام ہے ذال میں، یعنی نصیحت قبول کرتا، اور نصیحت اس کے لئے نافع ہوتی یعنی آپ ﷺ سے سنی ہوئی نصیحت اس کے لئے سود مند ہوتی اور ایک قرأت میں جواب ترجی کی وجہ سے تنفعہ نصب کے ساتھ ہے، جو شخص مال کی وجہ سے بےپرواہی کرتا ہے آپ ﷺ اس کی فکر میں تو پڑے ہیں اور ایک قرأت میں صاد کی تشدید کے ساتھ ہے، اصل میں تاء ثانیہ کو صاد میں ادغام کر کے (یعنی) توجہ کرتے ہیں اور فکر کرتے ہیں، حالانکہ اگر وہ نہ ایمان لائے تو آپ ﷺ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں، اور جو آپ ﷺ کے پاس دوڑا آتا ہے کہ فاعل سے حال ہے اور وہ اللہ سے ڈرتا بھی ہے یہ یسعی کے فاعل سے حال ہے اور وہ نابینا ہے سو آپ ﷺ اس سے بےرخی برتتے ہیں اس میں اصل میں تاء ثانیہ کا حذف ہے، یعنی آپ ﷺ اس سے بےاعتنائی کرتے ہیں، خبردار ! آپ ﷺ ایسا ہرگز نہ کریں، یہ سورت یا آیات تو نصیحت ہیں مخلوق کے لئے، جس کا جی چاہے اسے قبول کرے (یاد رکھے) اور نصیحت حاصل کرے، یہ ایسے صحیفوں میں درج ہیں جو عند اللہ مکرم ہیں (فی صحف) ان کی خبرثانی ہے اور اس کے ما قبل جملہ معترضہ ہے، آسمان میں بلند مرتبہ ہیں شیاطین کے مس کرنے سے پاکیزہ ہیں معزز اور نیک یعنی اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار کا بتوں کے ہاتھ میں رہتے ہیں، جو اس کو لوح محفوظ سے نقل کرتے ہیں، اور وہ ملائکہ ہیں، لعنت ہو کافر انسان پر کیسا سخت منکر حق ہے ؟ استفہام توبیخ کے لئے ہے یعنی کس نے اس کو کفر پر آمادہ کیا ؟ کیسی حقیر چیز سے (اللہ نے) اس کو پیدا کیا یہ استفہام تقریری ہے، پھر اس کو (خود ہی) بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا نطفہ سے، اس کی صورت بنائی پھر اس میں مختلف اطوار جاری فرمائے (اول) دم بستہ بنایا پھر گوشت کا لوتھڑا بنایا، اس کی تخلیق کے مکمل ہونے تک تغیرات کو جاری فرمایا پھر اس کی ماں کے پیٹ سے اس کے نکلنے کا راستہ آسان فرمایا، پھر اسے موت دی اور قبر میں پہنچایا یعنی اس کو ایسی قبر میں پہنچا دیا جس نے اس کو چھپالیا، پھر جب اللہ چاہے گا اسے بعث کے لئے زندہ کرے گا، ہرگز نہیں ! اس نے وہ فرض ادا نہیں کیا جس کا اس کو اس کے رب نے حکم دیا پھر انسان ذرا نظر عبرت سے اپنی خوراک کو دیکھے کہ کس طرح اس کو مقدر کیا اور اس کے لئے تدبیر ی، کہ ہم نے بادلوں سے خوب پانی برسایا پھر ہم نے نباتات کے ذریعہ زمین کو عجیب طریقہ سے پھاڑا پھر ہم نے اس میں غلہ مثلاً گندم، جو، اور انگور اور سبزہ اور وہ ہرا چارہ ہے زیتون اور کھجور اور گھنے باغ (یعنی) بکثرت درختوں والے باغات اور میوے اور چارہ پیدا کیا جس کو مویشی چرتے ہیں اور کہا گیا ہے، گھاس (پیدا کی) تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے کے لئے تاکہ فائدہ پہنچائے تم کو فائدہ پہنچانا، جیسا کہ اسی سورت میں اس سے پہلے گزر چکا ہے، (ولا نعامکم) کی تفسیر بھی ابل، بقر، غنم سے سابق میں گزر چکی ہے پھر آخر جب وہ کانوں کو بہرہ کردینے والی آواز آئے گی یعنی نفخہ ٔ ثانیہ، اس روز آدمی اپنے بھائی سے اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے اور اپنی اولاد سے بھاگے گا یوم، اذا سے بدل ہے اور اس کا جواب وہ ہے جس پر لکل امری دلالت کرتا ہے، اس دن میں ہر شخص کو ایسا مشغلہ ہوگا کہ جو اس کو کسی دوسری طرف متوجہ نہ ہونے دے گا، (یعنی) ایسا حال ہوگا جو اس کو دوسروں کے حال سے بیخبر کر دے گا یعنی ہر شخص اپنے حال میں مبتلا ہوگا، کچھ چہرے اس روز روشن ہشاش بشاش ہوں گے یعنی خوش و خرم ہوں گے اور وہ مؤ من ہیں، اور کچھ چہرے اس روز خاک آلود ہوں گے جن پر ظلمت چھائی ہوگی یعنی تاریکی اور سیاہی، یہی اس حالت والے کافر اور فاجر لوگ ہوں گے یعنی کفر و فجور کے جامع ہوں گے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : عبس و تولی (ض) عبسا، عبوسا، ترش رو ہونا، چیں بہ جبیں ہونا، اظہار ناگواری کرنا، ماتھے پر بل ڈالنا، اور اگر ماتھے پر بل ڈالنے کے ساتھ دانت بھی ظاہر ہوجائیں تو کلح کہتے ہیں اور اگر منہ بھی بنایا جائے تو بسر کہتے ہیں اور ساتھ میں غصہ بھی ہو تو بسل کہتے ہیں (لغات القرآن) عبس اور و تولی میں غائب کے صیغے استعمال فرمانا، انتہائی لطف و کرم کے اظہار کے طور پر ہے کہ عتاب کے وقت حاضر کے صیغے استعمال نہیں فرمائے، تاکہ ایسا معلوم ہو کہ جس کام پر عتاب کیا جا رہا ہے وہ آپ ﷺ نے نہیں کیا، بلکہ کسی اور نے کیا ہے، پھر آگے وما یدریک وما علیک الا یزکی میں حاضر کے صیغے سے خطاب فرمایا، اس میں بھی آپ ﷺ کی دل جوئی اور احترام ملحوظ ہے اگر بالکل خطاب کا صیغہ نہ فرماتے تو اس سے اعراض کا شبہ پیدا ہوسکتا تھا جس سے آپ ﷺ کو ناقابل برداشت رنج و غم ہوتا۔
قولہ : عبس و تولی ان دونوں فعلوں نے ان جاءہ الاعمی میں تنازع کیا، دونوں اس کو مفعول لا جلہ بنانا چاہتے ہیں، ایک کو عمل دے کر، دوسرے کے لئے ضمیر کو حذف کردیا فضلہ ہونے کی وجہ سے۔
قولہ : عبد اللہ ابن ام مکتوم، ای ابن شریح بن مالک بن ربیعۃ الفھری من بنی عامر بن لؤی، اپنی دادی کی کنیت سے مشہور ہیں، قدیم الاسلام ہیں، حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ حضرت خدیجہ ؓ بنت خویلد کے خالہ زاد بھائی ہیں، آپ ﷺ نے حضرت عبد اللہ ؓ کو تیرہ مرتبہ مدینہ طیبہ پر نائب مقرر فرمایا، آپ ؓ جنگ قادسیہ میں شہید ہوئے۔
قولہ : وما یدریک اس میں غیبت سے خطاب کی طرف التفات ہے ما استفہامیہ مبتداء ہے یدریک فعل متعدی بدو مفعول ہے، کاف مفعول اول ہے اور لعلہ یزکی جملہ ہو کر قائم مقام دوسرے مفعول کے ہے۔
قولہ : فتنفعہ مرفوع ہے یذکر پر عطف کی وجہ سے اور منصوب ہے جواب ترجی ہونے کی وجہ سے۔
قولہ : فانت لہ تصدی جار مجرور تصدی کے متعلق ہے، فواصل کی رعایت کی وجہ سے مقدم کردیا گیا ہے۔
قولہ : تصدی اصل میں تصدد تھا دوسری دال کو حرف علت یاء سے بدل دیا گیا۔
قولہ : وما علیک، ما نافیہ ہے اور علیک مبتداء محذوف کی خبر ہے اور الا یزکی مبتداء محذوف کے متعلق ہے، تقدیر عبارت یہ ہے، لیس علیک باس فی عدم تزکیتہ۔
قولہ : وما قبلہ اعتراض یعنی ان کی دونوں خبروں کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔
قولہ : بایدی سفرۃ بمعنی کاتبین، سفرۃ جمع سافر جیسا کہ کتبۃ جمع کاتب۔
قولہ : لعن الکافر اس میں اشارہ ہے کہ انسان سے مطلق انسان مراد نہیں ہے بلکہ انسان کافر مراد ہے۔
قولہ : قتل الانسان اس آیت میں دو طریقہ سے اشکال ہے۔
پہلا اشکال :
یہ کہ اس سے بددعاء کا وہم ہوتا ہے اور دعاء یا بددعا عاجز کیا کرتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ؟ لہٰذا یہ اس کی شایان شان نہیں۔
دوسرا اشکال :
تعجب اس امر عظیم سے ہوا کرتا ہے جس کا سبب مخفی ہو، اور یہ معنی اللہ تعالیٰ کے لئے محال ہے ؟ اس لئے کہ وہ تو علم کی تمام اشیاء سے اجمالاً اور تفصیلاً واقف ہے ؟
اشکال اول کا پہلا جواب :
یہ کلام، عرب کے کلام کے اسلوب پر ہے گویا کہ اس میں استحقاق عذاب عظیم کی طرف اشارہ ہے ان کے عظیم ترین جرم کے ارتکاب کرنے کی وجہ سے، عرب جب کسی چیز سے تعجب کرتے ہیں تو کہتے ہیں، قاتلہ اللہ ما اخبثہ اللہ اس کو ہلاک کرے کس قدر خبیث ہے۔
دوسرا جواب : قتل الانسان بددعا نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کی خبر دینا ہے کہ اللہ نے اس کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے۔
دوسرے اشکال کا جواب :
یہ استفہام تعجب نہیں ہے بلکہ استفہام توبیخ ہے اور مفسر علام نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔
قولہ : فقدرہ یہ من نطفۃ خلقہ کی تفصیل ہے ای قدر طارہ یعنی اس کے مراحل تخلیق کو بیان فرمایا ہے۔
قولہ : ثم السبیل یسرہ یہ باب اشتغال سے ہے، ای یسر السبیل یسرہ۔
قولہ : اذا شاء انشرہ مشیت کا مفعول محذف ہے، ای اذ شاء انشارہٗ انشرہ۔
قولہ : ھو القت الرطب جانوروں کا ہرا چارا، ہرے چارے کو قضبا کہا ہے، اس لئے کہ قضبا کے معنی کاٹنے کے ہیں اور چارا چونکہ بار بار کاٹا جاتا ہے، اس لئے اس کو قضب کہتے ہیں۔
قولہ : علیا یہ اغلب و غلباء کی جمع ہے جیسے احمر، حمراء کی جمع حمر آتی ہے، گھنے درختوں کو کہتے ہیں۔
قولہ : وابا، اب بھی جانوروں کے چارے کو کہتے ہیں، مگر قضب اور اب میں فرق یہ ہے کہ قضب ہرے چارے کو کہتے ہیں اور اب عام ہے خواہ ہرا ہو یا خشک۔
قولہ : قیل التبن یہ ابا کے دوسرے معنی کا بیان ہے، تبن کے معنی خشک گھاس کے ہیں، اس معنی کے اعتبار سے اب… کی ضد ہوگی۔
قولہ : متعۃ او تمتیع، متاعا کی تفسیر متعۃ اور تمتیعا سے کر کے اشارہ کردیا کہ یہ مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے اور مفعول مطلق بھی۔
قولہ : والصاخۃ، صاخہ زوردار آواز جو کانوں ک بہرا کر دے۔
قولہ : لکل امری بھاگنے کے سبب کو بیان کرنے کے لئے جملہ مستانفہ ہے۔
قولہ : اشغل کل واحد بنفسہ یہ اذا کا جواب محذوف ہے۔
تفسیر و تشریح
شان نزول :
مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ عبس و تولیٰ الخ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ قریش کے سرداروں کی ایک جماعت، جن کے ناموں کی مختلف روایات میں یہ صراحت ملتی ہے کہ وہ عتبہ، شیبہ، ابوجہل، امیہ بن خلف، ابی بن خلف جیسے اسلام کے بدترین دشمن تھے، جو ایک روز آپ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ﷺ ان کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش فرما رہے تھے، اتنے میں عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ صحابی جو کہ نابینا تھے، حضور ﷺ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے اسلام کے متعلق آپ ﷺ سے کچھ پوچھنا چاہا، حضور ﷺ کو ان کی اس مداخلت پر نا گواری ہوئی اور آپ ﷺ نے ان سے بےرخی برتی، اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سورت نازل ہوئی۔ (ترمذی شریف)
عبس و تولی، اس فقرہ کا انداز بیان، اپنے اندر عجیب لطف رکھتا ہے اگرچہ بعد کے فقروں میں براہ راست آپ ﷺ کو خطاب ہے، جس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ ترش روئی اور بےاعتنائی برتنے کا فعل آپ ﷺ ہی سے صادر ہوا تھا لیکن کلام کی ابتداء اس طرح کی گئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نہیں بلکہ اور کوئی شخص ہے جس سے یہ فعل صادر ہوا ہے، اس طرز بیان سے ایک نہایت لطیف طریقہ پر رسول اللہ ﷺ کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ یہ ایسا کام تھا جو آپ ﷺ کے کرنے کا نہ تھا، گویا کہ یہ حسنات الابرار، سیئات المقربین کے قاعدہ کے مطابق خلاف اولیٰ کے اختیار پر تنبیہ تھی، مقصد یہ ہے کہ خلاف اولیٰ کا ارتکاب بھی آپ ﷺ کی شایان شان نہیں ہے۔
آپ ﷺ کا اجتہاد اور اس کی اصلاح :
سرداران قریش کی طرف توجہ کرنے اور عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ کی طرف توجہ نہ کرنے میں آپ ﷺ کا خیال یہ تھا کہ میں اس وقت جن لوگوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کر رہا ہوں، ان میں سے اگر کوئی ایک شخص بھی ہدایت پالے تو وہ اسلام کی تقویت کا بڑا ذریعہ بن سکتا ہے، بخلاف ابن ام مکتوم ؓ کے کہ وہ تو ایمان لا ہی چکے ہیں اور جو کچھ ان کو معلوم کرنا ہے وہ بعد میں بھی معلوم کرسکتے ہیں، اسی اجتہادی خطاء پر گرفت فرماتے ہوئے فرمایا وما یدریک لعللہ یزکی الخ آپ ﷺ کو کیا معلوم کہ یہ صحابی ؓ جو بات دریافت کر رہے تھے اس کا فائدہ متیقن تھا کہ آپ ان کو تعلیم دیتے، تو یہ اس کے ذریعے اپنے نفس کا تزکیہ کرلیتے یا کم از کم ذکر اللہ سے ابتدائی نفع حاصل کرتے۔
تبلیغ وتعلیم کا ایک اہم قرآنی اصول :
یہ بات تو ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کے سامنے دو کام بیک وقت آگئے ایک مسلمانوں کی تعلیم اور ان کی دل جوئی، دوسرے غیر مسلموں کو اسلام کی طرف لانے کے لئے ان کی طرف توجہ، قرآن کریم کے اس ارشاد نے یہ واضح کردیا کہ پہلا کام دوسرے کام پر مقدم ہے، دوسرے کام کی وجہ سے پہلے کام میں تاخیر کرنا یا کوئی خلل ڈالنا درست نہیں، اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مسلمانوں کی تعلیم اور ان کی اصلاح کی فکر غیر مسلموں کے شبہات کے ازالے اور ان کو اسلام سے مانوس کرنے کی خاطر ایسے کام کرنے کہ جس سے عام مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات یا شکایات پیدا ہوجائیں مناسب نہیں ہیں، بلکہ ان قرآنی ہدایات کے مطابق مسلمانوں کی تعلیم و تربیت اور حفاظت کو مقدم رکھنا چاہیے، اکبر مرحوم نے خوب فرمایا ہے۔ ؎
بےوفا سمجھیں تمہیں اہل حرم اس سے بچو دیر والے کج ادا کہہ دیں یہ بدنامی بھلی
Ayahs 80:5–6اما من استغنی فانت لہ تصدی، یعنی ایسا ہرگز نہ کرو، خدا وکو بھولے ہوئے اور اپنی دنیوی وجاہت پر پھولے ہوئے لوگوں کو بےجا اہمیت نہ دو اور نہ اسلامی تعلیم ایسی چیز ہے کہ جو اس سے منہ موڑے اس کے سامنے اسے بالحاح پیش کیا جائے اور نہ آپ ﷺ کی یہ شان ہے کہ ان مغرور لوگوں کو اسلام کی طرف لانے کے لئے کسی ایسے انداز سے کوشش کرو کہ جس سے یہ اس غلط فہمی میں پڑجائیں کہ تمہاری کوئی غرض ان سے اٹکی ہوئی ہے، حق ان سے اس سے زیادہ بےنیاز ہے جتنے یہ حق سے بےنیاز ہیں۔
Ayahs 80:7–9وما علیک الایز کی، اگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو آپ ﷺ کا کام تو صرف تبلیغ ہے اس لئے اس قسم کے کفار کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔
Ayahs 80:10–16فانت عنہ تلھی، یعنی ایسے شخص کی جن کے دل میں خدا کا خوف ہو جس کی وجہ سے یہ امید ہے کہ وہ آپ ﷺ کی باتوں پر عمل کرے گا اور آپ کی نصیحت اس کیلئے مفید ثابت ہوگی، قدر کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ ان سے بےرخی برتنے کی، ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ دعوت و تبلیغ میں کسی کو خاص نہیں کرنا چاہیے بلکہ اصحاب حیثیت اور بےحیثیت، امیر اور غریب آقا و غلام، مرد و عورت چھوٹے اور بڑے سب کو یکساں حیثیت دی جائے اور سب کو مشترکہ خطاب کیا جائے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا اپنی حکمت بالغہ کے تحت ہدایت سے نواز دے گا۔ (ابن کثیر)
Ayah 80:17قتل الانسان ما اکفرہ، یہاں سے عتاب کا رخ براہ راست ان کفار کی طرف پھرتا ہے جو حق سے بےنیازی برت رہے تھے۔ اس سے پہلے ابتداء سورت سے آیت 16 تک خطاب نبی ﷺ سے تھا اور تعاب در پردہ کفار پر، اس کا انداز بیان یہ تھا کہ اے نبی ایک طالب حق کو چھوڑ کر آپ ﷺ یہ کن لوگوں پر اپنی توجہ صرف کر رہوے ہیں، جو دعوت حق کے نقطہ نظر سے بالکل بےقدر و قیمت ہیں ؟ اور جن کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ آپ ﷺ جیسا عظیم القدر پیغمبر قرآن جیسی بلند مرتبہ چیز کو ان کے آگے پیش کرے۔
Ayah 80:18من ای شیء خلقہ اس آیت میں سرکش اور خدا کے باغی انسان کو یہ بات یاد دلائی گئی ہے کہ پہلے وہ ذرا اپنی حقیقت پر غور کرے کہ وہ کس چیز سے وجود میں آیاڈ کس جگہ اس نے پرورش پائی ؟ اور کس راستے سے وہ دنیا میں آیا ؟ اور رحم مادر میں اس نے کیا غذا کھائی ؟ اور کس بےبسی کی حالت میں اس کی زندگی کی ابتدا ہوئی ؟ اپنی اس اصل اور حقیقت کو بھول کر ” ہمچومن دیگرے نیست “ کی غلط فہمی میں کیسے مبتلاء ہوجاتا ہے۔
Ayahs 80:19–20خلقہ فقدرہ، یعنی یہی نہیں کہ نطفہ سے ایک جاندار کا وجود بنادیا بلکہ اس کو ایک خاص اندازہ اور بڑی حکمت سے بنایا، اس کے قد و قامت اور جسامت اور شکل و صورت اور اعضاء کا طول و عرض اور جوڑ و بند، آنکھ، ناک وغیرہ کی تخلیق میں ایسا اندازہ قائم کیا کہ ذرا اس کے خلاف ہوجائے تو انسان کی صورت بگڑ جائے۔
Ayahs 80:21–36ثم اماتہ فاقبرہ تخلیق انسانی کی ابتداء بیان کرنے کے بعد اس کی انتہاء کو بیان فرمایا کہ اس کی انتہاء موت اور قبر ہے، اس کا ذکر بسلسلہ انعامات فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی موت درحقیقت کوئی مصیبت نہیں، نعمت ہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا ’ تحفۃ المئومن الموت “ کہ مومن کا تحفہ موت ہے اور اس میں مجموعہ عالم کے اعتبار سے بڑی حکمتیں ہیں فاقبرہ پھر اس کو قبر میں داخل کیا یہ بھی ایک انعام ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ نے عام جانوروں کی طرح نہیں رکھا کہ مرگیا تو وہیں زمین پر پڑا سڑتا اور پھولتا پھٹتا رہے، بلکہ اس کا اکرام یہ کیا گیا کہ اس کو نہلا کر نئے اور پاک صاف کپڑوں میں ملبوس کر کے احترام کے ساتھ قبر میں دفن کرنا واجب ہے۔