Abasa 80:2

Abasa · from ayah 2

80:2

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰى ۟ؕاَنۡ جَآءَهُ الۡاَعۡمٰىؕ‏

کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Because there came to him the blind man, [interrupting].

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Abasa

All translations of 80:2

اِس بات پر کہ وہ اندھا اُس کے پاس آ گیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

(صرف اس لئے) کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس لیئے کہ ان کے پاس وہ نابینا آگیا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس پر کہ اس کے پاس وہ نابینا حاضر ہوا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس وجہ سے کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا (جس نے آپ کی بات کو ٹوکا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس لیے کہ اس کے پاس اندھا آیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہ ان کے پاس ایک اندھا آیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ آیا اس کے پاس نابینا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس بات پر کہ ان کے پاس آگیا وہ نابینا

— مولانا اسحاق مدنی

اس بات پر کہ ان کے پاس نابینا آیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس بات پر کہ آیا اس کے پاس نابینا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا

— محترمہ رفعت اعجاز

that the blind man came to him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

because the blind man came to him!

— Muhammad Taqi Usmani

because the blind man came to him!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Because there came to him the blind man.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Because there came to him the blind man, [interrupting].

— Saheeh International

from a blind man who had come up to him.

— Muhammad Sarwar

Because there came to him the blind man.

— Muhammad Habib Shakir

Because there came Unto him a blind man.

— Abdul Majid Daryabadi

Because there came to him the blind man (interrupting).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 80:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–16

تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 2–9

سورة عبس 1 اس پہلے فقرے کا انداز بیان عجیب لطف اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگرچہ بعد کے فقروں میں براہ راست رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا گیا ہے جس سے یہ بات خود ظاہر ہوجاتی ہے کہ ترش روئی اور بےرخی برتنے کا یہ فعل حضور ہی سے صادر ہوا تھا لیکن کلام کی ابتدا اس طرح کی گئی ہے کہ گویا حضور نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہے جس سے اس فعل کا صدور ہوا ہے۔ اس طرز بیان سے ایک نہایت لطیف طریقے پر رسول اللہ ﷺ کو احساس دلایا گیا ہے کہ یہ ایسا کام تھا جو آپ کے کرنے کا نہ تھا۔ آپ کے اخلاق عالیہ کو جاننے والا اسے دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ یہ آپ نہیں ہیں بلکہ کوئی اور ہے جو اس رویے کا مرتکب ہو رہا ہے۔ جن نابینا کا یہاں ذکر کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

خلاصہ تفسیر شان نزول ان آیات کے نزول کا قصہ یہ ہے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ بعض روسائے مشرکین کو سمجھا رہے تھے، بعض روایات میں ان میں سے بعض کے نام بھی آئے ہیں۔ ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، ابی بن خلف، امیہ بن خلف، شیبہ کہ اتنے میں حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحافی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھا، یہ قطع کلام آپ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہیں کیا، اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بجیں ہوئے، جب اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو آثار وحی کے نمودار ہوئے اور یہ آیتیں عبس وتولی الخ نازل ہوئیں، اس کے بعد جب وہ آپ کے پاس آتے آپ بڑی خاطر کرتے تھے ھذہ الروایات کلھا فی الدر المنثور غرض واقعہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–2

عبداللہ بن ام مکتوم کے واقعہ کی نوعیت: ’عَبَسَ‘ کا فاعل یہاں مذکور نہیں ہے لیکن آگے کی آیات سے واضح ہو جائے گا کہ فاعل نبی ﷺ ہیں۔ ’اَعْمٰی‘ سے یہاں اشارہ، تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ عبداللہ بن ام مکتومؓ کی طرف ہے۔ یہ ایک وفادار اور نابینا صحابی تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک دن نبی ﷺ قریش کے لیڈروں میں سے کسی سے یا ان کی کسی جماعت سے باتیں کر رہے تھے۔ آپ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تھا اور وہ اپنے اعتراضات و شکوک پیش کر رہے ہوں گے کہ اسی اثناء میں عبداللہ بن ام مکتومؓ تشریف لائے اور موقع کی نزاکت کا اندازہ نہ کر سکنے کے باعث وہ بھی مجلس میں پہنچ گئے۔ ان کا یہ بے موقع آ جانا حضورؐ کو ناگوار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

2۔ 1 ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اشراف قریش بیٹھے گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک ابن ام مکثوم جو نابینا تھے، تشریف لے آئے اور آ کر نبی کریم ﷺ سے دین کی باتیں پوچھنے لگے۔ نبی ﷺ نے اس پر کچھ ناگواری محسوس کی اور کچھ بےتوجہی سی برتی۔ چناچہ تنبیہ کے طور پر ان آیات کا نزول ہوا (ترندی، تفسیر سورة عبس)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–11

1: یہ آیات ایک خاص واقعے میں نازل ہوئی تھیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک دن حضور سرور دو عالم ﷺ قریش کے کچھ بڑے بڑے سرداروں کو اسلام کی تبلیغ فرما رہے تھے، اور ان سے گفتگو میں مشغول تھے کہ اتنے میں آپ کے ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ وہاں آگئے، اور چونکہ وہ نابینا تھے، اس لیے یہ نہ دیکھ سکے کہ آپ کن کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہیں، چنانچہ انہوں نے آتے ہی آنحضرت ﷺ سے کچھ سکھانے کی درخواست شروع کردی۔ آنحضرت ﷺ کو ان کا یہ طریقہ پسند نہ آیا کہ دوسروں کی بات کاٹ کر انہوں نے بیچ میں مداخلت شروع کردی۔ اس لیے آپ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، اور آپ نے ان کی بات کا جواب دینے کے بجائے ان…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–2

یہ ہدایات جو اس متعین واقعہ کے حوالے سے دی گئی ہیں بہت ہی اہم ہدایات ہیں ، بادی النظر میں انسان ان کو پڑھ کر جو کچھ سمجھتا ہے ، اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ یہ ایک معجزہ ہے ، یہ ایک حقیقت ہے جسے اس کرہ ارض پر ایک زندہ اور عملی حقیقت بنایا گیا ہے۔ یہ ایک عظیم معجزہ ہے۔ انسانی زندگی کو اس معجزے نے یکسر بدل دیا۔ اور یہ اسلام کا پہلا اور نمایاں معجزہ تھا۔ یہ ہدایات اگرچہ بظاہر ایک معمولی انفرادی اور جزوی واقعہ کے حوالے سے آئی ہیں لیکن اس سے ان کی اہمیت کم نہیں ہوتی ، کیونکہ یہ قرآن کریم کا ایک ربانی انداز ہے کہ وہ ایک لامحدود اور نہایت ہی گہری اور تمام حقیقت ایک محدود اور ظاہری واقعہ کے ضمن میں بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی پیغمبر نے ایک اندھے کے آنے پر چیں بجبیں ہو کر منہ پھیرلیا۔ حالانکہ اس کو اندھے کی معذوری، شکستہ حالی اور طلب صاق کا لحاظ زیادہ کرنا چاہیے تھا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ کلام گویا اوروں کے سامنے گلہ ہے رسول کا (اسی لئے بصیغہ غائب ذکر کیا) آگے خود رسول کو خطاب فرمایا ہے۔ " اور محقیقن کہتے ہیں کہ یہ غایت تکرم و استحیاء متکلم کا، اور غایت کرامت مخاطب کی ہے کہ عتاب کے وقت بھی رو در رو اس امر کی نسبت آپ ﷺ کی طرف نہیں فرمائی اور آگے خطاب کا صیغہ بطور التفات کے اس لئے اختیار کیا کہ شبہ اعراض کا نہ ہو۔ نیز وہ مضمون پہلے مضمون سے ہلکا ہے واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 1{ عَبَسَ وَتَوَلّٰیٓ۔ } ”تیوری چڑھائی اور منہ پھیرلیا۔“ یعنی حضرت عبداللہ کی بار بار خلل اندازی پر حضور ﷺ کے چہرئہ انور پر ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے اور آپ ﷺ نے چہرئہ مبارک دوسری طرف کرلیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 2–3

2 یعنی پیغمبر نے ایک اندھے کے آنے پر چیں بجبیں ہو کر منہ پھیرلیا۔ حالانکہ آپ کو اندھے کی معذوری، شکستہ حالی اور طلب صادق کا زیادہ لحاظ رکھنا چاہیے تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ ایک صحابی عبداللہ بن ام مکتوم ؓ نامی نابینا تھے۔ رسول ﷺ کی بعثت اور تبلیغ کا ابھی ابتدائی زمانہ تھا کہ ایسے وقت آپ ﷺ کے پاس آئے، اور کوئی مسئلہ دریافت کرنے لگے، جب آپ ﷺ کے پاس قریش کے بڑے بڑے سردار بیٹھے ہوئے تھے، جاہلی تہذیبوں میں اونچ نیچ کا فرق (SociAl StAtus) ہمیشہ بہت ہی مبالغہ آمیز رہا ہے، برہمن کے برابر شودر بھلا کہیں بیٹھ سکتا ہے ؟ لارڈز کے ساتھ (Commoner) کھانے کی ایک میز پر کہیں جمع ہوسکتا ہے۔ ؟ قریش کے جاہلی تمدن میں بھی ایک غریب آدمی کی جسارت بڑی بدتہذیبی میں داخل تھی، اور رسول اللہ ﷺ کو تبلیغ و اشاعت دین کی دھن میں ان لوگوں کی تالیف قلب خاص طور پر مد نظر تھی، ایسے موقع پر ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–4

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، ترش رو ہوئے محمد ﷺ یعنی منہ بنایا، اور اعراض کیا، اس وجہ سے کہ نابینا ان کے پاس آیا، عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ ، سو اس نے آپ ﷺ کے اس کام میں خلل ڈالا جس میں آپ ﷺ مشغول تھے ان لوگوں کے ساتھ اشراف قریش میں سے جن کے اسلام کی آپ ﷺ امید رکھتے تھے، اس لئے کہ آپ ﷺ ان کے اسلام کے بڑے حریص تھے، اور نابینا کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ آپ ﷺ کسی (اہم کام) میں مشغول ہیں، تو اس نے آپ ﷺ کو پکارنا شروع کردیا کہ مجھے اس میں سے کچھ سکھا دو جو اللہ نے آپ ﷺ کو سکھایا ہے پھر آپ ﷺ اپنے گھر تشریف لے گئے، اس بارے میں آپ ﷺ پر عتاب فرمایا گیا اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان جاء ہ الاعمی اسلیے کہ انکے پاس اعمیٰ آیا تھا ‘ یعنی ابن ام مکتوم۔ اَنْ جَآءَ ہُ الْاَعْمٰی ‘ عَبَسَ اور تَوَلّٰی کی علت یعنی مفعول لہ ہے۔ ترمذی اور حاکم نے حضرت عائشہ کی روایت نقل کی ہے کہ الاعمیٰ سے مراد ابن ام مکتوم ہیں۔ اسی روایت میں ہے کہ ابن ام مکتوم نے عرض کیا : کیا میرے قول میں آپ ﷺ کو کوئی حرج محسوس ہو رہا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہیں۔ اسی طرح حضرت انس ﷺ سے بھی روایت آئی ہے۔ یونہی ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے ‘ اس روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ اس کے بعد جب رسول اللہ ﷺ ابن ام مکتوم کو دیکھتے تو عزت کرتے تھے اور فرماتے تھے ‘ مرحبا ! اس شخص کے لیے جس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) رسول اکرم قریش کے سرداروں یعنی حضرت عباس بن عبدالمطلب، امیہ بن خلف اور صفوان بن امیہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ان کو نصیحت فرما رہے تھے اور اسلام کی دعوت دے رہے تھے، اتنے میں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم تشریف لے آئے اور بولے یا رسول اللہ جس چیز کی اللہ تعالیٰ نے آپ کو تعلیم دی ہے اس میں سے مجھے بھی بتلایئے۔ ان لوگوں کے ساتھ مشغولیت کی بنا پر آپ کو ان کا یہ قطع کلام ناگوار گزرا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اسی کے بارے میں یہ ابتدائی آیات نازل فرمائیں کہ محمد آپ کو کیا معلوم شاید ابن ام مکتوم قرآن سے نیکی حاصل کرتے اور نصیحت حاصل قبول کرتے اور ان کو قرآن کے ذریعے سے نصیحت کرنا فائدہ پہنچاتا ہے، یا یہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ان جآہ الاعمی :(اس لئے تیوری چڑھائی) کہ اس کے پاس نابینا آیا، حالانکہ نابینا تو زیادہ لطف و کرم کا مستحق تھا۔ پھر اگر اس کے دین کی بات پوچھنے سے کسی چودھری کیساتھ کلام قطع ہوا ہے، جس کے اسلام لانے کی آپ کو امید تھی اور اس وجہ سے تیوری پڑی ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ؟ وہ تو نابینا ہے، اسے کیا پتا کہ آپ کس سے بات کر رہے ہیں ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–2

عبس وتولی۔۔ تا۔۔۔ الذکری۔ اس میں چھ مسائل ہیں : ان آیات کا شان نزول۔ مسئلہ نمبر 1۔ عبس وتولی، ان جاءہ الاعمی۔ اس نے چہرے پر تیوری چڑھائی یہ جملہ بولا جاتا ہے : عبس وبسر اس پر گفتگو پہلے ہوچکی ہے اس نے چہرے کو دوسری طرف کرلیا ان جاء یہ محل نصب میں ہے کیونکہ یہ مفعول لہ ہے معنی یہ ہوگا اس لیے کہ اس کے پاس اندھا آیا یعنی اپنی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، علماء تفسیر نے یہ روایت نقل کی ہے کہ قریش کے سردار نبی کریم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جب کہ رسول اللہ ان کے مسلمان ہونے کی خواہش رکھتے تھے، حضرت عبداللہ بن ام مکتوم حاضر ہوئے رسول اللہ نے ان کی قطع کلامی کو ناپسند کیا اور ان سے رخ انور پھیرلیا تو یہ آیات…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–12

12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت ان جاء ہ الاعمی کے بارے میں روایت کیا کہ بنو فہیر میں سے ایک آدمی آیا جس کا نام عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تھا آیت اما من استغنی لیکن وہ جو پرواہ نہیں کرتا اس سے مراد عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف ہے۔ 13۔ ابن سعد وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے آیت عبس وتولی کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش کے سرداروں میں سے ایک آدمی سے ملاقات فرمائی اور اس کو اسلام کی طرف بلایا اس درمیان آپ کے پاس عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آگئے۔ اور احکام اسلام کے بارے میں آپ ﷺ سے سوال کرنے لگے۔ تو آپ نے اپنے چہرے پر تیوری چڑھائی تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو عتاب فرمایا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–6

حضرت ابن ام مکتوم ؓ ایک صحابی تھے، جو نابینا تھے ان کا نام عبداللہ بن ام مکتوم معروف و مشہور ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان کا نام عمرو تھا اور والد کا نام قیس تھا، وہ مہاجرین اولین میں سے تھے۔ مشہور قول کے مطابق رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے سے پہلے مدینہ منورہ میں ہجرت کر کے آگئے تھے، ایک مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا کہ مشرکین کے سرداروں میں سے بعض لوگ موجود تھے رسول اللہ ﷺ ان سے باتیں کر رہے تھے اور اسلام کی تبلیغ فرما رہے تھے، اسی اثناء میں حضرت ابن ام مکتوم حاضر خدمت ہوگئے (چونکہ وہ نابینا تھے اس لیے انہیں آنحضرت سرور عالم ﷺ کی مشغولیت کا پتہ نہ چلا) اور بار بار عرض کرتے رہے کہ مجھے بھی کچھ سکھا دیجئے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–42

ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” عبس وتولی “ تنبیہ برائے نبی کریم ﷺ ۔ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے پاس صنادید قریش عتبہ، شیبہ، ابو جہل، میہ اور ولید وغیرھم بیٹھے تھے آپ ان کو سمجھا رہے تھے اور اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔ آپ کو امید تھی کہ اگر یہ لوگ اسلام لے آئے تو ان کی وجہ سے بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اسی اثناء میں حضرت عبداللہ یا عمرو بن ام مکتوم ؓ جو ایک نابینا صحابی تھے اور حضرت خدیجہ ؓ کے ماموں زاد بھائی تھے، آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ چونکہ نابینا تھے اس لیے آپ کی اس نہایت ہی اہم مصروفیت کا اندازہ نہ کرسکے اور حضور ﷺ سے قرآن پڑھانے کی بار بار درخواست کرنے لگے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–16

(پس منظر) اکثرمفسرین کرام (ب 1 روح المعانی ص 39 ج 30 و تفسیر کبیرص 54 ج 31 تفسیر ابن کثیر ص 470 ج 4 دغیرہ ) فرماتے ہیں کہ اس سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تنبیہ فرمائی ہے ۔ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ مکی زندگی میں حضور ﷺ ایک موقع پر صنادید اور سرداران قریش کو اسلام کی باتیں سمجھا رہے تھے ۔ درمنثور (ب 2 درمثورص 314 ج 6 وروح المعانی ص 39 ج 30) والے نے ان کے نام ابوجہل عتبہ ، شیبہ وغیرہ بتائے ہیں ۔ اس دوران حضور ﷺ کا ایک نابینا صحابی حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ آگیا ۔ وہ قرآن کریم کی تعلیم کرنا چاہتا تھا ۔ چناچہ اس شخص نے حضور ﷺ کو آواز دینی شروع کی کہ اے اللہ کے رسول ! علمنی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَنْ جَاۗءَہُ الْاَعْمٰى۝ 2 ۭ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–16

1 ؎ مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ کفار کو سمجھا رہے تھے اور ان کے بےجا سوالات اور کم بختیوں سے ملول ہو رہے تھے کہ اتنے میں ایک اندھا جس کا نام عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تھا آیا اور آپ سے قرآن سننے کی التجا کی۔ آنحضرت ﷺ اس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور اشراف قریش ہی کی طرف مخاطب رہے اور اس کے بار بار سوال کرنے سے چیں بچیں ہوئے جس پر یہ سورة نازل ہوئی جس میں آنحضرت ﷺ پر قدرے تہدید ہے کہ ہمارے نزدیک طالب صادق مرغوب سے دولت مند اور مفلس کا کچھ لحاظ نہیں۔ آپ نے طالب صادق سے اعراض کیا اور منہ بنایا۔ آپ کو کیا معلوم کہ یہ اندھا سدھر جاتا اور اس کا تقربات میں مرتبہ بالا ہوجاوے اور دین کے بڑے بڑے ہادیوں میں سے ہوجاوے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–4

عَبَسَ وَتَوَلّٰیٓ۔ اَنْ جَآئَ ہُ الْاَعْمٰی۔ وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّـہٗ یَزَّکّٰـٓی۔ اَوْیَذَّکَّرُ فَتَنْفَعَہُ ۔ (عبس : 1 تا 4) (تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا۔ اس بات پر کہ آیا اس کے پاس ایک اندھا۔ تمہیں کیا خبر شاید وہ اپنی اصلاح کرے۔ یا نصیحت سنے تو نصیحت اس کو نفع پہنچائے۔ ) پہلی دو آیتوں میں آنحضرت ﷺ سے خطاب نہ کرنے کی وجہ پہلی آیت میں دونوں فعلوں کا فاعل مذکور نہیں۔ البتہ تیسری آیت میں آنحضرت ﷺ سے براہ راست خطاب فرمایا گیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس کے فاعل آنحضرت ﷺ ہیں، لیکن کلام کے ابتداء میں براہ راست آنحضرت ﷺ سے خطاب نہ کرنا دو باتوں کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک تو یہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–10

فہم القرآن ربط سورت : النّازعات کے آخر میں بتلایا ہے کہ قیامت کے دن مجرم محسوس کریں گے کہ ہم دنیا میں چند گھڑیاں ٹھہرے تھے۔ آخرت کے انکار کے پیچھے دنیا کا مفاد اور عجلت پسندی کا عنصر شامل ہوتا ہے اس لیے سورة عبس میں ایک مخصوص واقعہ کی طرف اشارہ فرما کر عجلت پسندی سے منع کیا گیا ہے۔ تمام مفسرین نے اس سورت کے نازل ہونے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک دن سرور دو عالم ﷺ کی مجلس میں چند قریشی سردار حاضر ہو کر آپ سے اسلام کے بارے میں گفتگو کررہے تھے اسی دوران حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آئے اور انہوں نے آپ کی گفتگو میں مداخلت شروع کردی۔ آپ ﷺ نے ناصرف بےتوجہگی اختیار کی بلکہ اس مداخلت کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 1–2

عبداللہ بن امّ مکتوم کا واقعہ : 1، 2 : عَبَسَ وَتَوَ لّٰی۔ اَنْ جَآ ئَ ھُ الْاَعْمٰی (پیغمبر چیں بجبیں ہوگئے اور متوجہ نہ ہوئے۔ اس بات سے کہ ان کے پاس ایک اندھا آیا) ۔ عَبَسَ نبی اکرم اترش رو ہوگئے۔ وَتَوَ لّٰی اور اعراض فرمایا اَنْ جَآ ئَ ھُ یہ اصل میں لان جاء ہٗ ہے اس لئے کہ ان کے پاس آیا۔ نحو : محلاً منصوب ہے کیونکہ مفعول لہ ہے اس کا عامل عبس یا تولی ہے بصریین و کو فیین کے اختلاف کے مطابق۔ الْاَعْمٰی عبداللہ بن ام مکتوم اور ام مکتوم ان کی دادی ہیں۔ ان کے والد کا نام شریح بن مالک ہے۔ یہ نبی اکرم ا کی خدمت میں اس وقت آئے جب آپ اشراف قریش کو اسلام کی طرف دعوت دے رہے تھے۔ آتے ہی عرض کیا یارسول…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–16

1۔ 16۔ ترمذی 2 ؎ صحیح ابن حبان مستدرک حاکم تفسیر عبد الرزاق وغیرہ میں حضرت عائشہ اور حضرت انس ؓ سے جو روایتیں ہیں جن کو ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح قرار 3 ؎ دیا ہے۔ حاصل ان روایتوں کا یہ ہے کہ ابن خلف ایک شخص مشرک کو ایک روز آنحضرت ﷺ کچھ اسلام کی خوبی کی باتیں سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبد اللہ بن ام مکتوم صحابی نے آ کر آنحضرت ﷺ سے قرآن شریف کی ایک آیت پوچھی۔ آنحضرت ﷺ کو عبد اللہ بن ام مکتوم کا یہ قطع کلام ذرا شاق گزرا اور آپ ﷺ نے تیوری چڑھائی۔ اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ان آیتوں کے نازل ہونے کے بعد سے جب عبد اللہ بن ام مکتوم آنحضرت ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے تو آنحضرت ﷺ ان کی خاطر کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی اکرم کی خدمت میں آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر تھا آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے چناچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پالے اور اس کا تزکیہ ہوجائے تو اللہ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا چناچہ فرمایا (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ) یعنی آپ ترش رو ہوگئے اور اپنے جسم کو موڑ لیا۔ اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 2–4

(2) اغراض و بےرخی کی شکایت بصورت لطف و عنایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے تیوری چڑھائی اور بےرخی برتی "۔ یہاں پر مخاطب کی بجائے غائب کا صیغہ سے تخاطب کا یہ انداز اپنے اندر بڑی بلاغت بھی رکھتا ہے اور لطف و کرم کا ایک خاص پہلو بھی۔ یعنی اس میں براہ راست خطاب کر کے " عبست " نہیں فرمایا گیا، بلکہ بصیغہ غائب " عبس " فرمایا گیا۔ سو اس طرح براہ راست آنحضرت ﷺ کو عتاب فرمانے کی بجائے غیب کا صیغہ اختیار فرمایا گیا، گویا کہ اس بےتوجہی اور بےالتفاتی کا صدور وقوع آنحضرت ﷺ سے نہیں کسی اور سے ہوا۔ نیز اس میں تلمیح بھی ہے کہ ایسا سلوک اور یہ رویہ آپ کے اخلاق عالیہ کے شایان شان نہ تھا۔ صلوات اللہ وسلامہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

رویہ درست رکھنے کا حکم اور فضیلت قرآن تشریح : ہم لوگ کیونکہ خدائے واحد ' قھار و جبار اور رحمن و رحیم کے بندے ہیں ' ہمیں ڈر ہے تو صرف اس سے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ہم لوگ دنیوی جاہ و جلال ' عزت اور دولت سے بالکل مرعوب نہیں ہوتے۔ ہم لوگ اللہ پر پورا بھروسہ کرتے ہوئے زندگی کا ہر مرحلہ گزارتے ہیں اور ہمارا فرض سب سے پہلا اور آخری یہی ہے کہ احکامات الٰہی کو سمجھیں عمل کریں اور دوسروں کو سکھائیں۔ یہ احکامات اللہ عزوجل کی طرف سے انتہائی مقدس فرشتے کے ذریعہ انتہائی مقدس نبی کے ذریعے ہمیں پہنچائے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کتاب مقدس قرآن پاک کا کس درجہ تک احترام ہم سب پر لازم ہے تو اس کتاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–42

سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–2

ف 9 تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ آنحضرت ﷺ کے پاس قریش کے کچھ سردار بیٹھے تھے آپ ﷺ چاہتے تھے کہ یہ مسلمان ہوجائیں تو اسلام کو قوت نصیب ہو۔ اس لئے آپ ﷺ انہیں سمجھا رہے تھے۔ اتنے میں حضرت عبداللہ ؓ ابن ام مکتوم جو نابینا تھے آپہنچے اور دین کو سمجھنے کے لئے کچھ سوالات کرنے لگے۔ آنحضرت ﷺ پر ان کا قطع کلامی کرنا ناگوار گزرا، اس لئے آپ ﷺ نے ان کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ اسی پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(80:2) ان جاء ہ الاعمی : ان مصدریہ ہے۔ جاء ہ الاعمی علت ہے جملہ سابقہ کی یعنی مفعول لہ ہے۔ اعمی عمی سے (بمعنی بینائی کا مفقود ہوجانا) مصدر سے جملہ سابقہ کا صیغہ ہے۔ نابینا۔ یہاں مراد عبد اللہ بن ام مکتوم ؓ ہے۔ بینائی دل کی جاتی رہے یا آنکھوں کی دونوں کے لئے عمی کا لفظ بولا جاتا ہے۔ دل کے اندھا پن کے متعلق ارشاد ہے فاما ثمود فھدینھم فاستحبوا العمی علی الھدی (41:17) اور ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا راستہ رکھایا مگر انہوں نے ہدایت کے بجائے اندھا پن پسند کیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–42

لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–16

(ف 1) شان نزول : سورة عبس میں ایک سوتیس کلمے ، پانچ سو تینتیس حروف ہیں نبی ﷺ عتبہ بن ربیعہ ، ابوجہل ہشام اور عباس بن عبدالمطلب اور ابی بن خلف اور امیہ بن خلف اشراف قریش کو اسلام کی دعوت فرما رہے تھے اس درمیان عبداللہ بن ام مکتوم ؓ نابینا صحابی حاضر ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ فلاں آیت کیونکر ہے یارسول اللہ مجھے اس میں سے تعلیم فرمائیے، جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے حضور کو ان کا بےوقت کا پوچھنا گراں گذرا، آپ کو خیال ہوا ہوگا کہ یہ قریش کے بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت سے لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے ابن ام مکتوم بہرحال مسلمان ہیں ان کو سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–10

[1] رسول اللہ ﷺ بعض سرداران قریش کو دین اسلام کے متعلق کچھ سمجھا رہے تھے۔ اتنے میں نابینا صحابی عبداللہ ابن مکتوم ؓ حاضر خدمت ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ یارسول اللہ ﷺ فلاں آیت کیونکر ہے اس کے بارے میں مجھے کچھ سکھائیے۔ آپ ﷺ کو ان کا بےوقت پوچھنا ناگوار گزرا۔ آپ کو یہ خیال ہوا ہوگا کہ میں ایک بڑے اہم کام میں مشغول ہوں۔ قریش کے یہ بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت سے لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے۔ ابن مکتوم بہرحال مسلمان ہے۔ اسے سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے کے ہزار مواقع حاصل ہیں۔ اس لئے آپ ترش رو ہوئے اور ان کی طرف التفات نہ کیا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–9

سورة عبس اور مقام نبوت 1: یہاں اس بات کو بطور اصل اور حقیقت کے ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ مقام نبوت اس سے کہیں بلند وارفع ہے کہ اس کی جانب گناہ یا معصیت کو منسوب کیا جائے ۔ کیونکہ نبوت کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ ایک سیرت ہے جو عام انسانوں سے ممتاز اور برتر ہے اور ایک ایسا کیرکٹر ہے جو عصمت اور عفت کے زیور سے آراستہ ہے ۔ انبیاء (علیہم السلام) کی ساری زندگی بےداغ اور سراسر پاک ہوتی ہے ۔ ان سے اگر بتقاضائے بشریت لغزش کا صدور ہوتا ہے تو محض دوران اجتہاد کے ایسے پہلو اختیار کرلیتے ہیں ۔ جو اولیٰ تو ہوتا ہے ۔ مگر اولیٰ تر نہیں ہوتا اور ان کے مرتبہ ومقام کی بلندی اور رفعت کی وجہ سے اتنی سی بات بھی اللہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا۔ یعنی اس کی جانب توجہ نہ فرمائی نابینا سے مراد وہی عبداللہ بن مکتوم ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت ایک کافر کو سمجھاتے تھے اس میں ایک مسلمان آیا نابینا وہ اپنی طرف مشغول کرنے لگا کہ وہ آیت کیوں کررہے اس کے معنی کیا ہیں حضرت پر گراں گزرا بےوقت کا پوچھنا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ آیتیں نازل کیں۔ پھر شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ کلام اوروں پاس گلہ ہے رسول کو آگے رسول کو خطاب فرمایا۔ شاہ صاحب (رح) نے کیا خوب فرمایا لطف آمیز خفگی اسی کو کہتے ہیں کہ یہاں غائب کے ضیفے سے تعبیر فرمایا رسول کو خطاب نہیں فرمایا کہ گراں نہ گزرے آگے خطاب فرمایا کہ اعراض کا شبہ نہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–42

ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 1–16

آیت 1 تا 16 یہ واقعہ جس طرح بھی ہوا اس کا ٹھیک ٹھیک بیان اللہ پاک کا نام لے کر پڑھ جو کہ اپنی ذات میں قائم اور عام و خاص سے مناسب پیار کرتا ہے اور اس کی رحمت بہت بڑی وسیع ہے جسے اس نے سب کے لئے مقدر کر رکھا ہے اور فرشتوں کے بیان میں بھی اس کی وسعت عام ظاہر ہے اور امام راغب نے فرمایا ہے کہ اس کی رحمانیت دنیا میں مومن و کافر سب پر حاوی ہے کوئی اس سے باہر نہیں اور اس کی رحیمیت مومنوں کے لئے آخرت میں مخصوص ہوگی۔ اور امام بخاری نے اپنی صحیح میں فرمایا ہے کہ یہ دونوں اسم رحمت سے مشتق ہیں اور رحیم فعیل کا وزن ہے جو کہ اس جگہ اسم فاعل ( راحم) کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اسم مفعول ( مرحوم) کے معنوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

Commentary Circumstance of Revelation Sayyidna ` Abdullah Ibn Umm Maktum ؓ ، the companion of the Holy Prophet ﷺ was a blind man. It once happened that the Holy Prophet ﷺ was engaged in a talk with the leaders of Quraish about some matters of belief. Sayyidna ` Abdullah Ibn Umm Maktum ؓ arrived there. Imam Baghawi adds that being blind and unable to see the surroundings, he did not realise that the Holy Prophet ﷺ was occupied with the others. He, therefore, burst into the circle and called the Holy Prophet repeatedly. [ Mazhari ]. According to Ibn Kathir, he requested the Holy Prophet ﷺ to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–9

1 The style of this first sentence is elegant and subtle. Although in the following sentences the Holy Prophet (upon whom be peace) has been directly addressed, which by itself shows that the act of frowning and turning aside had issued forth from him, the discourse has been opened in a manner as though it was not he but some one else who had so acted. By this style the Holy Prophet (upon whom be peace) , by a subtle method, has been made to realize that it was an act unseemly for him. Had somebody familiar with his high morals witnessed it, he would have thought that it was not he but some…

Read the full tafseer →