80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 80:1

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

(پیغمبر، ) ترش رو ہوا اور بےرخی برتی۔

Ayahs 80:2–10

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

(اس بات پر) کہ (ایک) نابینا اس کے پاس آیا۔

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تمہیں کیا معلوم شاید (تمہاری تعلیم سے) وہ سدھر جاتا۔

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا نصیحت قبول کرلیتا اور نصیحت کرنا اسے فائدہ پہنچاتا۔

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

جو شخص (دین سے) بےپروائی کرتا ہے۔

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

اس کی طرف تو تم خوب توجہ کرتے ہو۔

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر کچھ الزام نہیں۔

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

اور جو تمہارے پاس دوڑ کر آتا ہے۔

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور وہ (اللہ سے) ڈرتا بھی ہے۔

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

تو تم اس سے بےاعتنائی برتتے ہو۔

[1] رسول اللہ ﷺ بعض سرداران قریش کو دین اسلام کے متعلق کچھ سمجھا رہے تھے۔ اتنے میں نابینا صحابی عبداللہ ابن مکتوم ؓ حاضر خدمت ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ یارسول اللہ ﷺ فلاں آیت کیونکر ہے اس کے بارے میں مجھے کچھ سکھائیے۔ آپ ﷺ کو ان کا بےوقت پوچھنا ناگوار گزرا۔ آپ کو یہ خیال ہوا ہوگا کہ میں ایک بڑے اہم کام میں مشغول ہوں۔ قریش کے یہ بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت سے لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے۔ ابن مکتوم بہرحال مسلمان ہے۔ اسے سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے کے ہزار مواقع حاصل ہیں۔ اس لئے آپ ترش رو ہوئے اور ان کی طرف التفات نہ کیا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
Ayahs 80:11–13

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

ہرگز نہیں، یہ (قرآن) تو (سراپا) نصیحت ہے،۔

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

پس جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

یہ (لوح محفوظ کے ایسے) ورقوں میں (ثبت) ہے جو لائق تعظیم ہیں۔

[2] یعنی ایسے ناقدروں کو اہمیت دینے کی ہرگز ضرورت نہیں۔
Ayah 80:14

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں۔

[3] یعنی کیا ان مغرور سرپھروں کے ماننے سے قرآن کی عزت و وقعت ہوگی ؟ قرآن تو وہ ہے جس کی آیتیں آسمان پر لوح محفوظ کے بلند مرتبہ اور پاکیزہ اوراق میں لکھی ہوئی ہیں۔
Ayahs 80:15–18

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

ایسے کاتبوں کے ہاتھوں میں (رہتے) ہیں،

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

جو معزز ہیں، پاک باز ہیں

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

ستیاناس ہو انسان کا، کتنا ناشکرا ہے یہ !۔

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

کس (حقیر) چیز سے (اللہ نے) اس کو پیدا کیا ؟۔

[4] یہ اوصاف ان فرشتوں کے بیان ہوئے جو قرآن کو لوح محفوظ سے نقل کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو کام فرشتوں کے سپرد کیا گیا ہے اس میں ذرہ برابر خیانت کا امکان نہیں اور وہ اپنی ذمہ داری پوری دیانت کے ساتھ پوری کرتے ہیں۔ قرآن اور اس کے کاتبین کی صفات کے ذکر سے مقصود رسول اکرم ﷺ کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ قرآن ایسی چیز نہیں ہے کہ متکبر لوگوں کے سامنے منت و سماجت کر کے پیش کیا جائے اور ان سے یہ چاہا جائے کہ وہ اسے شرف قبولیت عطا کریں۔ یہ ان کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہ اس کے محتاج ہیں۔ اگر وہ اپنی بھلائی چاہتے ہیں تو اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیں ورنہ جس قدر وہ اس سے بےنیاز بنتے ہیں اس سے بہت زیادہ یہ ان سے بےنیاز ہے۔
Ayah 80:19

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

نطفے (کی ایک بوند) سے ( اللہ نے اس کو پیدا کیا) پھر اس کی تقدیر مقرر کی۔

[5] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فرقان حاشیہ 2 صفحہ 856۔
Ayahs 80:20–22

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر اس (کے لئے زندگی) کی راہ آسان کی۔

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اسے موت دی اور قبر میں پہنچایا،

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر جب چاہے گا اسے (دوبارہ) اٹھا کھڑا کرے گا۔

[6] یعنی اس کی فطرت کی ہر مانگ پوری کی اور وہ تمام اسباب و وسائل فراہم کئے جو زندگی بسر کرنے کے لئے ضروری تھے۔
Ayahs 80:23–25

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

ہر گز نہیں، (حق تو یہ ہے کہ) اس ( اللہ) نے جو کچھ حکم اسے دیا تھا اس نے اس کی تعمیل ہی نہیں کی۔

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

پس انسان کو چاہیے کہ (اور نہیں تو) اپنے کھانے ہی کی طرف نظر کرے۔

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

ہم (ہی) نے خوب پانی برسایا،۔

[7] حکم سے مراد وہ حکم بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے فطری ہدایت کی صورت میں ہر انسان کے اندر ودیعت کردیا ہے اور وہ حکم بھی جو ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور کتابوں کے ذریعے سے بھیجا ہے۔
Ayahs 80:26–32

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر ہم (ہی) نے زمین کو پھاڑا۔

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

پھر ہم (ہی) نے اگائے اس میں غلے۔

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور انگور اور ترکاریاں۔

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کھجوریں،۔

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور گھنے باغات،۔

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور میوے اور چارا۔

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

(یہ سب) تمہاری اور تمہارے مویشیوں کی نفع رسانی کے لئے۔

[8] زمین کو پھاڑنے کی دو صورتیں ہیں، ایک تو جوتنا دوسرے بیج کا پھوٹنا۔ کیونکہ دونوں کام اللہ کے حکم سے ہوتے ہیں اس لئے فرمایا کہ ہم نے پھاڑا۔
Ayahs 80:33–36

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ Open ayah 80:33 in the Quran reader

پھر جس وقت کان بہرا کردینے والی (قیامت) برپا ہوگی۔

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ Open ayah 80:34 in the Quran reader

اس دن (ایسی نفسا نفسی ہوگی کہ) آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے

وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ Open ayah 80:35 in the Quran reader

اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے۔

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ Open ayah 80:36 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔

[9] مراد ہے صور کی ہولناک آواز جس کے بلند ہوتے ہی تمام مرے ہوئے انسان جی اٹھیں گے۔