Explained with ayahs 1–16
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر
بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
سورة عبس 1
اس پہلے فقرے کا انداز بیان عجیب لطف اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگرچہ بعد کے فقروں میں براہ راست رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا گیا ہے جس سے یہ بات خود ظاہر ہوجاتی ہے کہ ترش روئی اور بےرخی برتنے کا یہ فعل حضور ہی سے صادر ہوا تھا لیکن کلام کی ابتدا اس طرح کی گئی ہے کہ گویا حضور نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہے جس سے اس فعل کا صدور ہوا ہے۔ اس طرز بیان سے ایک نہایت لطیف طریقے پر رسول اللہ ﷺ کو احساس دلایا گیا ہے کہ یہ ایسا کام تھا جو آپ کے کرنے کا نہ تھا۔ آپ کے اخلاق عالیہ کو جاننے والا اسے دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ یہ آپ نہیں ہیں بلکہ کوئی اور ہے جو اس رویے کا مرتکب ہو رہا ہے۔
جن نابینا کا یہاں ذکر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–12
(آیت) لَعَلَّهٗ يَزَّكّىٰٓ ۙاَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰى، یعنی آپ کو کیا معلوم کہ یہ صحابی جو بات دریافت کر رہے تھے اس کا فائدہ متیقن تھا کہ آپ ان کو تعلیم دیتے تو یہ اس کے ذریعہ اپنے نفس کا تذکیہ کرلیتے اور کمال حاصل کرلیتے اور یہ بھی نہ ہوتا تو کم از کم اس ذکر اللہ سے وہ ابتدائی نفع اٹھاتے کہ اس سے انکے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور خوف کی ترقی ہوجاتی۔ لفظ ذکریٰ کے معنے کثرت ذکر کے ہیں (کذافی الصحاح)
یہاں قرآن کریم نے دو جملے اختیار فرمائے یزکی اور یذکر، پہلے کے معنے پاک صاف ہوجانے کے ہیں اور دوسرے کے معنے نصیحت حاصل کرنے اور ذکر سے متاثر ہونے کے ہیں۔ پہلا مقام ابرار واتقیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
آنحضرت صلعم کو تنبیہ کی نوعیت:
اوپر کی آیات سے صرف ایک واقعہ کی خبر سامنے آئی ہے، نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کس کا ہے اور نہ یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کے ذکر سے مقصود کیا ہے لیکن یہاں ’یُدْرِیْکَ‘ کے خطاب سے یہ بات نکلتی ہے کہ واقعہ کا تعلق حضورؐ سے ہے اور آپ کو اس بات پر متنبہ فرمایا جا رہا ہے کہ آپ کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں بعض اوقات اتنی دور نکل جاتے ہیں کہ گلے کی بھیڑوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی ہو جاتی ہے۔
پہلے ٹکڑے میں خطاب کے نہ ہونے سے قاری کے ذہن میں یہ سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ معلوم کرے کہ کس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے لیکن چونکہ مخاطب واضح نہیں ہے اس وجہ سے اس کو اپنی ذات سے…
Read the full tafseer →3۔ 1 یعنی وہ نابینا تجھ سے دینی رہنمائی حاصل کر کے عمل صالح کرتا، جس سے اس کا اخلاق و کردار سنور جاتا، اس کے باطن کی اصلاح ہوجاتی اور تیری نصیحت سننے سے اس کو فائدہ ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1: یہ آیات ایک خاص واقعے میں نازل ہوئی تھیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک دن حضور سرور دو عالم ﷺ قریش کے کچھ بڑے بڑے سرداروں کو اسلام کی تبلیغ فرما رہے تھے، اور ان سے گفتگو میں مشغول تھے کہ اتنے میں آپ کے ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ وہاں آگئے، اور چونکہ وہ نابینا تھے، اس لیے یہ نہ دیکھ سکے کہ آپ کن کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہیں، چنانچہ انہوں نے آتے ہی آنحضرت ﷺ سے کچھ سکھانے کی درخواست شروع کردی۔ آنحضرت ﷺ کو ان کا یہ طریقہ پسند نہ آیا کہ دوسروں کی بات کاٹ کر انہوں نے بیچ میں مداخلت شروع کردی۔ اس لیے آپ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، اور آپ نے ان کی بات کا جواب دینے کے بجائے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
وما یدریک ............ الذکری (4:80) ”” تمہیں کیا خبر ، شاید وہ سدھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لئے نافع ہو “۔ آپ کو کیا معلوم کہ یہ عظیم بھلائی وقوع پذیر ہوجائے ، یہ کہ یہ اندھا فقیر پاک وصاف ہوجائے جو نہایت شوق سے آپ کے پاس آیا ہے ، ہدایت چاہتا ہے اور جب آپ اس کو ہدایت دیں تو اس کے لئے نفع بخش ہوجائے اور اس کے دل میں نور ربانی روشن ہوجائے اور زمین پر وہ اس طرح ہوجائیں جس طرح منارہ نور ہوتا ہے۔ اگر ایک دل میں ایمان بیٹھ جائے اور پوری طرح بیٹھ جائے تو اللہ کے نزدیک یہ ایک عظیم کام ہے۔
اب اس عتاب کا لہجہ ذرا اور تیز ہوتا ہے۔ بات کے اندر بھی ذرا سختی آجاتی ہے۔ اور یہ اظہار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
10 یعنی وہ اندھا طالب صادق تھا۔ تمہیں کیا معلوم کہ تمہارے فیض توجہ سے اس کا حال سنور جاتا اور اس کا نفس مزکی ہوجاتا۔ یا تمہاری کوئی بات کان میں پڑتی، اس کو اخلاص سے سوچتا سمجھتا اور آخر وہ بات کسی وقت اس کے کام آجاتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
آیت 3{ وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰیٓ۔ } ”اور اے نبی ﷺ آپ کو کیا معلوم شاید کہ وہ تزکیہ حاصل کرتا۔“
ممکن ہے آپ ﷺ کی گفتگو سے استفادہ کر کے وہ بلند درجات تک پہنچ جاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 یعنی پیغمبر نے ایک اندھے کے آنے پر چیں بجبیں ہو کر منہ پھیرلیا۔ حالانکہ آپ کو اندھے کی معذوری، شکستہ حالی اور طلب صادق کا زیادہ لحاظ رکھنا چاہیے تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
2۔ یعنی کسی جزئیہ میں تو انہیں رہنمائی ہو ہی جاتی، اور روشنی مل جاتی، (آیت) ” یزکی “۔ صیغہ مبالغہ۔ یعنی تزکیہ پورا پورا ہوجاتا۔ اور تصفیہ ظاہری وباطنی دونوں ہوجاتا۔ (آیت) ” لعلہ “۔ لعل زور دینے کے لئے ہے۔ یعنی نفع کا اگر ظن ہوتا، جب بھی توجہ اسی طرف پوری کرنا تھی، چہ جائیکہ جب تزکیہ یا تذکیر یقینی تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، ترش رو ہوئے محمد ﷺ یعنی منہ بنایا، اور اعراض کیا، اس وجہ سے کہ نابینا ان کے پاس آیا، عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ ، سو اس نے آپ ﷺ کے اس کام میں خلل ڈالا جس میں آپ ﷺ مشغول تھے ان لوگوں کے ساتھ اشراف قریش میں سے جن کے اسلام کی آپ ﷺ امید رکھتے تھے، اس لئے کہ آپ ﷺ ان کے اسلام کے بڑے حریص تھے، اور نابینا کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ آپ ﷺ کسی (اہم کام) میں مشغول ہیں، تو اس نے آپ ﷺ کو پکارنا شروع کردیا کہ مجھے اس میں سے کچھ سکھا دو جو اللہ نے آپ ﷺ کو سکھایا ہے پھر آپ ﷺ اپنے گھر تشریف لے گئے، اس بارے میں آپ ﷺ پر عتاب فرمایا گیا اس کے…
Read the full tafseer →وما یدریک . مَا نافیہ ہے۔ یعنی تم کو اس کا حال نہیں معلوم ‘ یا استفہام انکاری بمعنی نفی ہے ‘ یعنی تم کو اس کے حال پر
کون واقف بنائے۔ بہرحال اس لفظ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ایک عذر (مترشح) ہے کہ تم واقف نہ تھے ‘ اگر نابینا کے حال سے واقف ہوتے ‘ تو دوسروں کی طرف متوجہ اور اس کی طرف سے روگرداں نہ ہوتے۔ آیت میں چند وجوہ سے رسول اللہ ﷺ کا اعزاز موجود ہے۔
1) آغاز کلام میں ہی اعراض کا سبب بصیغۂ ماضی بیان کیا ‘ مخاطب کا صیغہ نہیں ذکر کیا ‘ گویا مخاطب کے ذہن کو اس طرف موڑا کہ اس فعل کا صدور تم سے نہیں ‘ کسی اور سے ہوا۔ تم ایسے نہیں کہ ایسا کام تم سے صادر ہو۔ اس کی توجیہ اس طرح ہوگی کہ اعمال کا مدار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1۔ 4) رسول اکرم قریش کے سرداروں یعنی حضرت عباس بن عبدالمطلب، امیہ بن خلف اور صفوان بن امیہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ان کو نصیحت فرما رہے تھے اور اسلام کی دعوت دے رہے تھے، اتنے میں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم تشریف لے آئے اور بولے یا رسول اللہ جس چیز کی اللہ تعالیٰ نے آپ کو تعلیم دی ہے اس میں سے مجھے بھی بتلایئے۔ ان لوگوں کے ساتھ مشغولیت کی بنا پر آپ کو ان کا یہ قطع کلام ناگوار گزرا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اسی کے بارے میں یہ ابتدائی آیات نازل فرمائیں کہ محمد آپ کو کیا معلوم شاید ابن ام مکتوم قرآن سے نیکی حاصل کرتے اور نصیحت حاصل قبول کرتے اور ان کو قرآن کے ذریعے سے نصیحت کرنا فائدہ پہنچاتا ہے، یا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(وما یدریک لعلہ یزکی…: آپ نے جو یہ سمجھا کہ یہ نابینا تو مسلمان ہی ہے، کسی اور وقت مسئلہ پوچھ لے گا، مجھے کافر کو مسلمان بنانے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تو یہ بات اگرچہ ایک حد تک درست ہے، مگر آپ کو اس بات کا خیال بھی ضروری تھا کہ وہ کافر تو آپ کی ہدایت سے فائدہ اٹھانے پر تیار ہی نہیں۔ خوف ناک بیماری میں مبتلا شخص کا علاج مقدم ہونا چاہئیم گر وہ دوا لینے پر آمادہ ہی نہ ہو تو اس کی امید میں آپ اپنے ساتھیوں سے کیوں بےتوجہی کریں، جو دوائے دل کے طالب ہیں کہ آپ توجہ فرمایئں تو وہ جہل اور گناہ سے خوب پاک صاف ہوجائیں۔”یزکی“ میں مبالغہ ہے، یا آپ کی نصیحت سے انہیں نفع حاصل ہوجائے۔
Read the full tafseer →ومایدریک لعلہ یزکی۔ کس چیز نے آپ کو آگاہ کیا ممکن ہے ابن مکتوم اس چیز کے ذریعے جس کی انہوں نے تم سے استدعا کی کہ وہ آپ سے قرآن ودین کی تعلیم سیکھیں وہ اپنے دین میں طبیعت کی زیادتی اور اپنے آپ سے جہالت کی تاریکی کو دور کرنا چاہتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ لعلہ کی ضمیر کافر کے لیے ہو یعنی جب آپ نے یہ طمع کیا کہ وہ اسلام قبول کرکے پاکیزہ ہوجائے یا وہ نصیحت حاصل کرے اور یہ نصیحت اسے قبول حق تک لے جائے آپ کو کس نے آگاہ کردیا کہ آپ نے جو طمع کی ہے وہ ہوکررہنے والی ہے، حمزہ نے اسے ان جاءہ الاعمی۔ پر محمول کیا ہے یہ فعل محذوف کے متعلق ہے جس پر عبس وتولی۔ دلالت کرتا ہے تقدیر کلام یوں ہوگی، ان جاءہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–12
12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت ان جاء ہ الاعمی کے بارے میں روایت کیا کہ بنو فہیر میں سے ایک آدمی آیا جس کا نام عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تھا آیت اما من استغنی لیکن وہ جو پرواہ نہیں کرتا اس سے مراد عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف ہے۔
13۔ ابن سعد وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے آیت عبس وتولی کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش کے سرداروں میں سے ایک آدمی سے ملاقات فرمائی اور اس کو اسلام کی طرف بلایا اس درمیان آپ کے پاس عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آگئے۔ اور احکام اسلام کے بارے میں آپ ﷺ سے سوال کرنے لگے۔ تو آپ نے اپنے چہرے پر تیوری چڑھائی تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو عتاب فرمایا…
Read the full tafseer →[وَمَا يُدْرِيْكَ : اور آپ ﷺ کو کیا خبر ][ لَعَلَهٗ يَزَّكّىٰٓ: شاید کہ وہ ؓ پاکیزگی حاصل کرتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
حضرت ابن ام مکتوم ؓ ایک صحابی تھے، جو نابینا تھے ان کا نام عبداللہ بن ام مکتوم معروف و مشہور ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان کا نام عمرو تھا اور والد کا نام قیس تھا، وہ مہاجرین اولین میں سے تھے۔ مشہور قول کے مطابق رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے سے پہلے مدینہ منورہ میں ہجرت کر کے آگئے تھے، ایک مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا کہ مشرکین کے سرداروں میں سے بعض لوگ موجود تھے رسول اللہ ﷺ ان سے باتیں کر رہے تھے اور اسلام کی تبلیغ فرما رہے تھے، اسی اثناء میں حضرت ابن ام مکتوم حاضر خدمت ہوگئے (چونکہ وہ نابینا تھے اس لیے انہیں آنحضرت سرور عالم ﷺ کی مشغولیت کا پتہ نہ چلا) اور بار بار عرض کرتے رہے کہ مجھے بھی کچھ سکھا دیجئے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3:۔ ” وما یدریک “ آپ کو کیا معلوم شاید وہ نابینا آپ سے قرآن سن کر ہی پاک ہوجاتا اور ” یذکر “ یا نصیحت سن کر اس میں غور و فکر کرتا اور اس طرح اس سے فائدہ اٹھاتا۔ ” یزر کی “ میں قبول کا اعلی درجہ کا ذکر ہے یعنی سنتے ہی اس سے متاثر ہو کر برائیوں سے پاک ہوجاتا میں ادنی مرتبہ مذکور ہے کہ غور و تدبر کے بعد اسے سمجھ لیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
(پس منظر)
اکثرمفسرین کرام (ب 1 روح المعانی ص 39 ج 30 و تفسیر کبیرص 54 ج 31 تفسیر ابن کثیر ص 470 ج 4 دغیرہ ) فرماتے ہیں کہ اس سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تنبیہ فرمائی ہے ۔ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ مکی زندگی میں حضور ﷺ ایک موقع پر صنادید اور سرداران قریش کو اسلام کی باتیں سمجھا رہے تھے ۔ درمنثور (ب 2 درمثورص 314 ج 6 وروح المعانی ص 39 ج 30) والے نے ان کے نام ابوجہل عتبہ ، شیبہ وغیرہ بتائے ہیں ۔ اس دوران حضور ﷺ کا ایک نابینا صحابی حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ آگیا ۔ وہ قرآن کریم کی تعلیم کرنا چاہتا تھا ۔ چناچہ اس شخص نے حضور ﷺ کو آواز دینی شروع کی کہ اے اللہ کے رسول ! علمنی…
Read the full tafseer →وَمَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّہٗ يَزَّكّٰٓي 3 ۙ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] .
الثاني :
نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1 ؎ مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ کفار کو سمجھا رہے تھے اور ان کے بےجا سوالات اور کم بختیوں سے ملول ہو رہے تھے کہ اتنے میں ایک اندھا جس کا نام عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تھا آیا اور آپ سے قرآن سننے کی التجا کی۔ آنحضرت ﷺ اس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور اشراف قریش ہی کی طرف مخاطب رہے اور اس کے بار بار سوال کرنے سے چیں بچیں ہوئے جس پر یہ سورة نازل ہوئی جس میں آنحضرت ﷺ پر قدرے تہدید ہے کہ ہمارے نزدیک طالب صادق مرغوب سے دولت مند اور مفلس کا کچھ لحاظ نہیں۔ آپ نے طالب صادق سے اعراض کیا اور منہ بنایا۔ آپ کو کیا معلوم کہ یہ اندھا سدھر جاتا اور اس کا تقربات میں مرتبہ بالا ہوجاوے اور دین کے بڑے بڑے ہادیوں میں سے ہوجاوے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
عَبَسَ وَتَوَلّٰیٓ۔ اَنْ جَآئَ ہُ الْاَعْمٰی۔ وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّـہٗ یَزَّکّٰـٓی۔ اَوْیَذَّکَّرُ فَتَنْفَعَہُ ۔ (عبس : 1 تا 4)
(تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا۔ اس بات پر کہ آیا اس کے پاس ایک اندھا۔ تمہیں کیا خبر شاید وہ اپنی اصلاح کرے۔ یا نصیحت سنے تو نصیحت اس کو نفع پہنچائے۔ )
پہلی دو آیتوں میں آنحضرت ﷺ سے خطاب نہ کرنے کی وجہ
پہلی آیت میں دونوں فعلوں کا فاعل مذکور نہیں۔ البتہ تیسری آیت میں آنحضرت ﷺ سے براہ راست خطاب فرمایا گیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس کے فاعل آنحضرت ﷺ ہیں، لیکن کلام کے ابتداء میں براہ راست آنحضرت ﷺ سے خطاب نہ کرنا دو باتوں کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک تو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
فہم القرآن
ربط سورت : النّازعات کے آخر میں بتلایا ہے کہ قیامت کے دن مجرم محسوس کریں گے کہ ہم دنیا میں چند گھڑیاں ٹھہرے تھے۔ آخرت کے انکار کے پیچھے دنیا کا مفاد اور عجلت پسندی کا عنصر شامل ہوتا ہے اس لیے سورة عبس میں ایک مخصوص واقعہ کی طرف اشارہ فرما کر عجلت پسندی سے منع کیا گیا ہے۔
تمام مفسرین نے اس سورت کے نازل ہونے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک دن سرور دو عالم ﷺ کی مجلس میں چند قریشی سردار حاضر ہو کر آپ سے اسلام کے بارے میں گفتگو کررہے تھے اسی دوران حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آئے اور انہوں نے آپ کی گفتگو میں مداخلت شروع کردی۔ آپ ﷺ نے ناصرف بےتوجہگی اختیار کی بلکہ اس مداخلت کو…
Read the full tafseer →3 : وَمَا یُدْرِیْکَ (اور آپ کو کیا خبر) اور کو نسی چیز آپ کو اس کے حال سے واقف بنائے ؟ (یہ استفہام انکاری بمعنی نفی ہے) لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰی (شاید وہ سنور جاتا) شاید وہ نابینا آپ کے کلام کو سن کر جہالت کی میل سے پاک ہوجاتا۔ یزکیؔ اصل میں یتزکی ہے۔ تاء کو زاء میں ادغام کردیا۔ اسی طرح یذکر میں تاء کو دال میں ادغام کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →عبداللہ بن ام مکتوم کے متعلق آیات کا نزول
2 ۔” ان جاء ہ الا عمیٰ “ اور وہ ابن ام مکتوم ہیں اور ان کا نام عبداللہ بن شریح بن مالک بن ربیعہ الفہری ہے۔ بنو عامر بن لئوی سے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ (علیہ السلام) عتبہ بن ربیعہ اور ابوجہل بن ہشام اور عباس بن عبدالمطلب اور ابی بن خلف اور اس کے بھائی امیہ سے سرگوشی کررہے تھے اور ان کو اللہ کی طرف بلا رہے تھے۔ آپ ﷺ کو ان کے اسلام کی امید تھی تو ابن ام مکتوم ؓ نے کہا یارسول اللہ مجھے پڑھائیں اور مجھے اس میں سے سکھائیں جو آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہے تو وہ آپ (علیہ السلام) کو بار بار آواز دینے لگے اور وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ آپ ﷺ کسی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ ترمذی 2 ؎ صحیح ابن حبان مستدرک حاکم تفسیر عبد الرزاق وغیرہ میں حضرت عائشہ اور حضرت انس ؓ سے جو روایتیں ہیں جن کو ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح قرار 3 ؎ دیا ہے۔ حاصل ان روایتوں کا یہ ہے کہ ابن خلف ایک شخص مشرک کو ایک روز آنحضرت ﷺ کچھ اسلام کی خوبی کی باتیں سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبد اللہ بن ام مکتوم صحابی نے آ کر آنحضرت ﷺ سے قرآن شریف کی ایک آیت پوچھی۔ آنحضرت ﷺ کو عبد اللہ بن ام مکتوم کا یہ قطع کلام ذرا شاق گزرا اور آپ ﷺ نے تیوری چڑھائی۔ اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ان آیتوں کے نازل ہونے کے بعد سے جب عبد اللہ بن ام مکتوم آنحضرت ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے تو آنحضرت ﷺ ان کی خاطر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی اکرم کی خدمت میں آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر تھا آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے چناچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پالے اور اس کا تزکیہ ہوجائے تو اللہ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا چناچہ فرمایا (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ) یعنی آپ ترش رو ہوگئے اور اپنے جسم کو موڑ لیا۔ اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(2) اغراض و بےرخی کی شکایت بصورت لطف و عنایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے تیوری چڑھائی اور بےرخی برتی "۔ یہاں پر مخاطب کی بجائے غائب کا صیغہ سے تخاطب کا یہ انداز اپنے اندر بڑی بلاغت بھی رکھتا ہے اور لطف و کرم کا ایک خاص پہلو بھی۔ یعنی اس میں براہ راست خطاب کر کے " عبست " نہیں فرمایا گیا، بلکہ بصیغہ غائب " عبس " فرمایا گیا۔ سو اس طرح براہ راست آنحضرت ﷺ کو عتاب فرمانے کی بجائے غیب کا صیغہ اختیار فرمایا گیا، گویا کہ اس بےتوجہی اور بےالتفاتی کا صدور وقوع آنحضرت ﷺ سے نہیں کسی اور سے ہوا۔ نیز اس میں تلمیح بھی ہے کہ ایسا سلوک اور یہ رویہ آپ کے اخلاق عالیہ کے شایان شان نہ تھا۔ صلوات اللہ وسلامہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
رویہ درست رکھنے کا حکم اور فضیلت قرآن
تشریح : ہم لوگ کیونکہ خدائے واحد ' قھار و جبار اور رحمن و رحیم کے بندے ہیں ' ہمیں ڈر ہے تو صرف اس سے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ہم لوگ دنیوی جاہ و جلال ' عزت اور دولت سے بالکل مرعوب نہیں ہوتے۔ ہم لوگ اللہ پر پورا بھروسہ کرتے ہوئے زندگی کا ہر مرحلہ گزارتے ہیں اور ہمارا فرض سب سے پہلا اور آخری یہی ہے کہ احکامات الٰہی کو سمجھیں عمل کریں اور دوسروں کو سکھائیں۔ یہ احکامات اللہ عزوجل کی طرف سے انتہائی مقدس فرشتے کے ذریعہ انتہائی مقدس نبی کے ذریعے ہمیں پہنچائے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کتاب مقدس قرآن پاک کا کس درجہ تک احترام ہم سب پر لازم ہے تو اس کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
سورة عبس۔
آیات 1 تا 42۔
اسرار ومعارف۔
چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔
نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔
اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی گناہوں سے پاک ہوجانا۔
Read the full tafseer →(80:3) وما یدریک لعلم یزکی : ما استفہامیہ ہے بمعنی کون۔ یدری مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ادراء (افعال) مصدر۔ دری مادہ سے مجرد باب ضرب سے آتا ہے۔ جیسے ما کنت تدری ما الکتب (42:52) تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے۔ باب افعال سے بمعنی دے۔ یعنی تم کو کہاں معلوم۔ تم کو اس کے حال پر کون واقف بنائے۔ ما استفہامیہ انکاریہ ہے بمعنی نفی کے ہے۔
علامہ پانی پتی اپنی تفسیر مظہری میں رقمطراز ہیں :۔ بہرحال اس لفظ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ایک عذر مترشح ہے کہ تم واقف نہ تھے۔ اگر نابینا کے حال سے واقف ہوتے تو دوسروں کی طرف متوجہ اور اس کی طرف سے ردگرداں نہ ہوتے۔ آیت میں چند وجوہ سے رسول اللہ ﷺ کا اعزار موجود ہے۔
(1)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
لغات القرآن
الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
(ف 1) شان نزول :
سورة عبس میں ایک سوتیس کلمے ، پانچ سو تینتیس حروف ہیں نبی ﷺ عتبہ بن ربیعہ ، ابوجہل ہشام اور عباس بن عبدالمطلب اور ابی بن خلف اور امیہ بن خلف اشراف قریش کو اسلام کی دعوت فرما رہے تھے اس درمیان عبداللہ بن ام مکتوم ؓ نابینا صحابی حاضر ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ فلاں آیت کیونکر ہے یارسول اللہ مجھے اس میں سے تعلیم فرمائیے، جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے حضور کو ان کا بےوقت کا پوچھنا گراں گذرا، آپ کو خیال ہوا ہوگا کہ یہ قریش کے بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت سے لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے ابن ام مکتوم بہرحال مسلمان ہیں ان کو سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
[1] رسول اللہ ﷺ بعض سرداران قریش کو دین اسلام کے متعلق کچھ سمجھا رہے تھے۔ اتنے میں نابینا صحابی عبداللہ ابن مکتوم ؓ حاضر خدمت ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ یارسول اللہ ﷺ فلاں آیت کیونکر ہے اس کے بارے میں مجھے کچھ سکھائیے۔ آپ ﷺ کو ان کا بےوقت پوچھنا ناگوار گزرا۔ آپ کو یہ خیال ہوا ہوگا کہ میں ایک بڑے اہم کام میں مشغول ہوں۔ قریش کے یہ بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت سے لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے۔ ابن مکتوم بہرحال مسلمان ہے۔ اسے سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے کے ہزار مواقع حاصل ہیں۔ اس لئے آپ ترش رو ہوئے اور ان کی طرف التفات نہ کیا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة عبس اور مقام نبوت
1: یہاں اس بات کو بطور اصل اور حقیقت کے ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ مقام نبوت اس سے کہیں بلند وارفع ہے کہ اس کی جانب گناہ یا معصیت کو منسوب کیا جائے ۔ کیونکہ نبوت کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ ایک سیرت ہے جو عام انسانوں سے ممتاز اور برتر ہے اور ایک ایسا کیرکٹر ہے جو عصمت اور عفت کے زیور سے آراستہ ہے ۔ انبیاء (علیہم السلام) کی ساری زندگی بےداغ اور سراسر پاک ہوتی ہے ۔ ان سے اگر بتقاضائے بشریت لغزش کا صدور ہوتا ہے تو محض دوران اجتہاد کے ایسے پہلو اختیار کرلیتے ہیں ۔ جو اولیٰ تو ہوتا ہے ۔ مگر اولیٰ تر نہیں ہوتا اور ان کے مرتبہ ومقام کی بلندی اور رفعت کی وجہ سے اتنی سی بات بھی اللہ…
Read the full tafseer →(3) اور آپ کو کیا خبر کہ شاید وہ نابینا سنور جاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–42
ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
آیت 1 تا 16
یہ واقعہ جس طرح بھی ہوا اس کا ٹھیک ٹھیک بیان اللہ پاک کا نام لے کر پڑھ جو کہ اپنی ذات میں قائم اور عام و خاص سے مناسب پیار کرتا ہے اور اس کی رحمت بہت بڑی وسیع ہے جسے اس نے سب کے لئے مقدر کر رکھا ہے اور فرشتوں کے بیان میں بھی اس کی وسعت عام ظاہر ہے اور امام راغب نے فرمایا ہے کہ اس کی رحمانیت دنیا میں مومن و کافر سب پر حاوی ہے کوئی اس سے باہر نہیں اور اس کی رحیمیت مومنوں کے لئے آخرت میں مخصوص ہوگی۔ اور امام بخاری نے اپنی صحیح میں فرمایا ہے کہ یہ دونوں اسم رحمت سے مشتق ہیں اور رحیم فعیل کا وزن ہے جو کہ اس جگہ اسم فاعل ( راحم) کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اسم مفعول ( مرحوم) کے معنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–12
لَعَلَّهُ يَزَّكَّىٰ أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ الذِّكْرَىٰ (May be, [ if you had attended him properly,] he would have attained purity, or have taken to the advice, and the advice would have benefited him....80:3-4).
In other words, because Sayyidna ` Abdullah Ibn Umm Maktum ؓ was a genuine believer, any advice given to him would have benefited him and served to purify him. The companion sought enlightenment and its benefit was certain. If the Holy Prophet ﷺ enlightened him on the topic, he would have purified himself and attained perfection. If that did not happen, he would have at…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
1 The style of this first sentence is elegant and subtle. Although in the following sentences the Holy Prophet (upon whom be peace) has been directly addressed, which by itself shows that the act of frowning and turning aside had issued forth from him, the discourse has been opened in a manner as though it was not he but some one else who had so acted. By this style the Holy Prophet (upon whom be peace) , by a subtle method, has been made to realize that it was an act unseemly for him. Had somebody familiar with his high morals witnessed it, he would have thought that it was not he but some…
Read the full tafseer →