80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 80:1–11

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

(پیغمبر نے) منہ بنایا، اور رخ پھیرلیا۔ (1)

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

اس لیئے کہ ان کے پاس وہ نابینا آگیا تھا۔

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تمہیں کیا خبر ؟ شاید وہ سدھر جاتا۔

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا وہ نصیحت قبول کرتا، اور نصیحت کرنا اسے فائدہ پہنچاتا۔

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

وہ شخص جو بےپروائی دکھا رہا تھا۔

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

اس کے تو تم پیچھے پڑتے ہو۔

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر کوئی ذمہ داری نہیں آتی۔

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

اور وہ جو محنت کر کے تمہارے پاس آیا ہے۔

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور وہ دل میں اللہ کا خوف رکھتا ہے۔

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

اس کی طرف سے تم بےپروائی برتتے ہو۔

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

ہرگزا یسا نہیں چاہیے۔ یہ قرآن تو ایک نصیحت ہے۔

1: یہ آیات ایک خاص واقعے میں نازل ہوئی تھیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک دن حضور سرور دو عالم ﷺ قریش کے کچھ بڑے بڑے سرداروں کو اسلام کی تبلیغ فرما رہے تھے، اور ان سے گفتگو میں مشغول تھے کہ اتنے میں آپ کے ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ وہاں آگئے، اور چونکہ وہ نابینا تھے، اس لیے یہ نہ دیکھ سکے کہ آپ کن کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہیں، چنانچہ انہوں نے آتے ہی آنحضرت ﷺ سے کچھ سکھانے کی درخواست شروع کردی۔ آنحضرت ﷺ کو ان کا یہ طریقہ پسند نہ آیا کہ دوسروں کی بات کاٹ کر انہوں نے بیچ میں مداخلت شروع کردی۔ اس لیے آپ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، اور آپ نے ان کی بات کا جواب دینے کے بجائے ان کافروں کے ساتھ اپنی گفتگو جاری رکھی۔ جب وہ لوگ چلے گئے تو یہ سورت نازل ہوئی جس میں آنحضرت ﷺ کے اس طریقے پر اللہ تعالیٰ نے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ منہ بنانے کو عربی میں ”عبس“ کہتے ہیں، چونکہ یہ سورت اسی لفظ سے شروع ہوئی ہے، اس لیے اس کا نام ”عبس“ ہے اور اس میں بنیادی تعلیم یہ دی گئی ہے کہ جو شخص دل میں حق کی طلب رکھتا ہو، اور سچے دل سے اپنی اصلاح چاہتا ہو، وہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کو وقت دیا جائے۔ اس کے برخلاف جن لوگوں کے دل میں حق کی طلب ہی نہیں ہے، اور وہ اپنی کسی اصلاح کی ضرورت نہیں سمجھتے، حق کے طلبگاروں سے منہ موڑ کر انہیں ترجیح نہیں دینی چاہیے۔
Ayah 80:12

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

اب جو چاہے، اسے یاد کرلے۔ (2)

2: یعنی قرآن کریم کی بات کو قبول کر کے اس پر عمل کرے۔
Ayahs 80:13–15

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

وہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو بڑے مقدس ہیں۔ (3)

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

اونچے رتبے والے ہیں، پاکیزہ ہیں۔

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

ان لکھنے والوں کے ہاتھ میں رہتے ہیں۔

3: اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ اس میں دوسری باتوں کے علاوہ قرآن کریم بھی لوح محفوظ میں ہے۔
Ayahs 80:16–18

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

جو خود بڑی عزت والے، بہت نیک ہیں۔ (4)

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

خدا کی مار ہو ایسے انسان پر، وہ کتنا ناشکرا ہے۔

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

(وہ ذرا سوچے کہ) اللہ نے اسے کس چیز سے پیدا کیا ؟

4: اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو لوح محفوظ پر مقرر ہیں۔
Ayah 80:19

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

نطفے کی ایک بوند سے، اسے پیدا بھی کیا، پھر اس کو ایک خاص انداز بھی دیا۔ (5)

5: یعنی ماں کے پیٹ میں اس کے ایسے اعضاء اور ایسی صورت بنائی جو حیرت انگیز توازن کی حامل ہے۔ نیز اس کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ اس کی تقدیر طے فرمائی۔
Ayahs 80:20–22

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر اس کے لیے راستہ بھی آسان بنادیا۔ (6)

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اسے موت دی، اور قبر میں پہنچا دیا۔

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر جب چاہے گا اسے دوربارہ اٹھا کر کھڑا کردے گا۔

6: اس کی ایک تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ منقول ہے کہ بچے کو ماں کے پیٹ سے باہر آنے کا راستہ اللہ تعالیٰ نے آسان بنادیا کہ وہ ایک تنگ جگہ سے بہ آسانی باہر آجاتا ہے۔ اور بعض حضرات نے اس کی یہ تفسیر فرمائی ہے کہ انسان کے دنیا میں جینے کا راستہ آسان بنادیا، اور اس کی ساری ضروریات دنیا میں مہیا فرما دیں۔
Ayahs 80:23–25

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! جس بات کا اللہ نے اسے حکم دیا تھا، ابھی تک اس نے وہ پوری نہیں کی۔ (7)

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

پھر ذرا انسان اپنے کھانے ہی کو دیکھ لے۔

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

کہ ہم نے اوپر سے خوب پانی برسایا۔

7: اس سے مراد کافر بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کی نافرمانی بالکل ظاہر ہے، اور اگر مسلمان مراد ہوں تب بھی یہ بات صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کا پورا پورا حق کون ادا کرسکتا ہے۔
Ayahs 80:26–32

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر ہم نے زمین کو عجیب طرح پھاڑا۔ (8)

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

پھر ہم نے اس میں غلے اگائے۔

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور انگور اور ترکاریاں۔

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کھجور۔

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور گھنے گھنے باغات۔

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور میوے اور چارہ۔

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

سب کچھ تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے کی خاطر۔

8: ایک ننھے سے پودے کی کونپل اتنی بھاری زمین کو پھاڑ کر جس طرح باہر نکل آتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان لانے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔