80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 80:1–2

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

تیوری چڑھائی اور منہ موڑا

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

اس بات سے کہ آیا اس کے پاس اندھا

خلاصہ تفسیر شان نزول ان آیات کے نزول کا قصہ یہ ہے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ بعض روسائے مشرکین کو سمجھا رہے تھے، بعض روایات میں ان میں سے بعض کے نام بھی آئے ہیں۔ ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، ابی بن خلف، امیہ بن خلف، شیبہ کہ اتنے میں حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحافی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھا، یہ قطع کلام آپ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہیں کیا، اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بجیں ہوئے، جب اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو آثار وحی کے نمودار ہوئے اور یہ آیتیں عبس وتولی الخ نازل ہوئیں، اس کے بعد جب وہ آپ کے پاس آتے آپ بڑی خاطر کرتے تھے ھذہ الروایات کلھا فی الدر المنثور غرض واقعہ مذکر کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ) پیغمبر ﷺ چین بجیں ہوئے اور متوجہ نہ ہوگئے اس بات سے کہ ان کے پاس اندھا آیا (یہاں تو غائب کے صیغہ سے فرمایا اور یہ متکلم کے انتہائی لطف وکرم اور مخاطب کی تکریم ہے کہ رو در رو اس امر کی نسبت نہیں فرمائی) اور (آگے خطاب کا صیغہ بطور التفات کے اسلئے اختیار کیا کہ شبہ اعراض کا نہو ارشاد ہوتا ہے کہ) آپ کو کیا خبر شاید وہ (نابینا آپ کی تعلیم سے پورے طور پر) ستور جاتا یا (کم سے کم کسی خاص امر میں) نصیحت قبول کرتا سو اس کو نصیحت کرنا (کچھ نہ کچھ) فائدہ پہنچاتا، تو جو شخص (دین سے) بےپرواہی کرتا ہے آپ اس کی تو فکر میں پڑتے ہیں، حالانکہ آپ پر کوئی الزام نہیں کہ وہ نہیں سنورے (اس کی بےپرواہی ذکر کرکے اس کی طرف زیادہ توجہ نہ دینے کی ہدایت ہے) اور جو شخص آپ کے پاس (دین کے شوق میں) دوڑتا ہوا آتا ہے اور وہ (خدا سے) ڈرتا ہے آپ اس سے بےاعتنائی کرتے ہیں (ان آیات میں آپکی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کیا گیا ہے، منشا اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم کام کو مقدم کرنا چاہئے، آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا جیسے دو بیمار ہوں ایک کو ہیضہ ہے اور دوسرے کو زکام، تو ہیضے کے مریض کا علاج مقدم ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ مرض کی شدت اس وقت موجب اہمیت ہے جب دونوں مریض طالب علاج ہوں، لیکن اگر مرض شدید والا علاج کا طالب ہی نہیں بلکہ مخالف ہو تو پھر مقدم وہ ہوگا جو طالب علاج ہے اگرچہ مرض اس کا خفیف ہو آگے ان مشرکین کی طرف اس قدر توجہ ضرور نہ ہونے کو ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ آئندہ) ہرگز ایسا نہ کیجئے (کیونکہ) قرآن (محض ایک) نصیحت کی چیز ہے (اور آپ کے ذمہ صرف اس کی تبلیغ ہے) سو جسکا جی چاہے اس کو قبول کرے (اور جو قبول نہ کرے وہ جانے، آپ کا کوئی ضرر نہیں، پھر آپ اس قدر اہتمام کیوں فرماتے ہیں۔ آگے قرآن کے اوصاف بیان فرماتے ہیں کہ) وہ (قرآن لوح محفوظ کے) ایسے صحیفوں میں (ثبت) ہے جو (عنداللہ) مکرم ہیں (یعنی پسندیدہ و مقبول ہیں، اور) رفیع المکان ہیں (کیونکہ لوح محفوظ تحت العرش ہے کما فی الدر المنثور سورة البروج، اور وہ) مقدس ہیں (شیاطین خبیثہ کی وہاں تک رسائی نہیں، کقولہ تعالیٰ (آیت) لایمسہ الا المطھرون) جو ایسے لکھنے والوں (یعنی فرشتوں) کے ہاتھوں میں (رہتے) ہیں کہ وہ مکرم (اور) نیک ہیں (یہ سب صفات اسکے من جانب اللہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں جیسا کہ سورة واقعہ کی (آیت) لایمسہ الا المطھرون میں بیان ہوا ہے کہ اور لوح محفوظ سے بامر الٰہی نقل کرنیوالے ہیں۔ حاصل آیات کا یہ ہوا کہ قرآن من جانب اللہ نصیحت کے لئے ہے، آپ نصیحت کرکے اپنے فرض سے فارغ ہوجاویں گے خواہ کوئی ایمان لاوے یا نہ لاوے پس اس قسم کی تقدیم و تاخیر کی کوئی ضرورت نہیں، یہاں تک آداب تذکیر و تبلیغ کے ہوئے آگے کفار کے اس سے فائدہ نہ اٹھانے پر تشبیع ہے کہ منکر) آدمی پر (جو ایسے تذکرہ سے نصیحت حاصل نہ کرے جیسے ابوجہل وغیرہ جن کو آپ سمجھاتے تھے اور وہ نہیں سمجھے تو ایسے شخص پر) خدا کی مار کہ وہ کیسا ناشکرا ہے (وہ دیکھتا نہیں کہ) اللہ تعالیٰ نے اس کو کیسی (حقیر) چیز سے پیدا کیا (آگے جواب ہے کہ) نفطہ سے (پیدا کیا، آگے اس کی کیفیت مذکورہ ہے کہ بہت سے انقلابات اور تغیرات کے بعد) اس کی صورت بنائی پھر اس (کے اعضا) کو اندازے سے بنایا (جیسا کہ سورة القیامہ کی (آیت) فخلق فسوی میں گزرچکا ہے) پھر اس کو (نکلنے کا) راستہ آسان کردیا (چنانچہ ظاہر ہے کہ ایسے تنگ موقع سے اچھے خاصے تنو مند بچہ کا صحیح سالم نکل آنا صاف دلیل ہے اللہ کے قادر اور عبد کے مقدور ہونیکی) پھر (بعد عمر ختم ہونیکے) اس کو موت دی پھر اس کو قبر میں لے گیا (خواہ اول سے خاک میں رکھ دیا جائے یا بعد چندے خاک میں ملجائے) پھر جب اللہ چاہے گا اس کو دوبارہ زندہ کر دے گا (مطلب یہ کہ سب تصرفات دلیل ہیں انسان کے داخل قدرت الہیہ ہونے کی اور نعمت بھی ہے۔ بعضے حسی معنوی جس کا مقتضی تھا وجوب اطاعت و ایمان مگر اس نے) ہرگز (شکر) نہیں (ادا کیا اور اس کو جو حکم کیا تھا اس کو بجا نہیں لایا، سو انسان کو چاہیے کہ (اپنی خلیق کے ابتدائی حالات پر نظر کرنے کے بعد اسباب بقاء وتعیش پر نظر کرے مثلاً) اپنے کھانے کی طرف نظر کرے (تاکہ وہ باعث ہو حق شناسی اور اطاعت و ایمان کا اور آگے نظر کرنے کا طریقہ بتاتے ہیں وہ یہ) کہ ہم نے عجیب طور پر پانی برسایا، پھر عجیب طور پر زمین کو پھاڑا، پھر ہمنے اس میں غلہ اور انگور اور ترکاری اور زیتون اور کھجور اور گنجان باغ اور میوے اور چارہ پیدا کیا (بعض چیزیں) تمہارے اور (بعض چیزیں) تمہارے مواشی کے فائدہ کے لئے (اور یہ سب بھی نعمت اور دلیل قدرت ہیں، اور اس مجموع میں ہر جزو مقتضی ہے وجوب شکر ایمان کو، یہاں تک تشنیع ہوگئی نصیحت قبول نہ کرنے پر، آگے عدم تذکر پر سزا اور تذکر پر ثواب آخرت مذکور ہے۔ یعن یاب تو یہ لوگ ناشکری کا مزا معلوم ہوجائیگا، آگے اس دن کا بیان ہے کہ) جس روز (ایسا) آدمی (جسکا اوپر بیان ہوا) اپنے بھائی سے اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا (یعنی کوئی کسی کی ہمدردی نہ کریگا، کقولہ تعالیٰ لایسل حمیم حمیما وجہ یہ کہ) ان میں ہر شخص کو (اپنا ہی) ایسا مشغلہ ہوگا جو اس کو اور طرف متوجہ نہ ہونے دے گا (یہ تو کفار کا حال ہوگا، آگے مجموعہ مومنین اور کفار کی تفصیل ہے کہ) بہت سے چہرے اس روز (ایمان کی وجہ سے) روشن (اور مسرت سے) خنداں شاداں ہوں گے اور بہت سے چہروں پر اس روز (کفر کی وجہ سے) ظلمت ہوگی (اور اس ظلمت کیساتھ) ان پر (غمی کی) کدورت چھائی ہوگی یہی لوگ کافر فاجر ہیں (کافر سے اشارہ ہے فساد عقائد کی طرف اور فاجر سے فساد اعمال کی طرف) معارف و مسائل شان نزول میں جو واقعہ حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی کا نقل کیا گیا ہے اس میں بغوی نے یہ مزید روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ کو نابینا ہونے کے سبب یہ تو معلوم نہیں ہوسکا کہ آپ کسی دوسرے سے گفتگو میں مشغول ہیں، مجلس میں داخل ہو کر آنحضرت ﷺ کو آواز دینی شروع کی اور بار بار آواز دی۔ (مظہری) اور ابن کثیر کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے ایک آیت قرآن پڑھوانے کا سوال کیا اور اس سوال کے فوری جواب دینے پر اصرار کیا اور رسول اللہ ﷺ اس وقت مکہ کے کفار سرداروں کو دین کی تبلیغ کرنے اور سمجھانے میں مصروف تھے۔ یہ سردار عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل ابن ہشام اور آنحضرت ﷺ کے چچا حضرت بع اس تھے جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کو اس موقع پر عبداللہ ابن ام مکتوم کا اس طرح خطاب کرنا اور ایک آیت کے الفاظ درست کرنیکے معمولی سوال پر فوری جواب کے لئے اصرار کرنا ناگوار ہوا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ عبداللہ ابن ام مکتوم پکے مسلمان اور ہر وقت کے حاضر باش تھے دوسرے اوقات میں بھی سوال کرسکتے تھے۔ ان کے جواب کے موخر کرنے میں کسی دینی نقصان کا خطرہ نہ تھا بخلاف روسائے قریش کے کہ نہ یہ لوگ ہر وقت آپکی خدمت میں آتے ہیں اور نہ ہر وقت ان کو اللہ کا کلمہ پہنچایا جاسکتا ے، اس وقت یہ لوگ آپ کی بات سن رہے تھے جس سے انکے ایمان لانے کی توقع کی جاسکتی تھی اور ان کی بات کاٹ دی جاتی تو ایمان ہی سے محرومی انکی ظاہر ظاہر تھی۔ ان مجموعہ حالات کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے ابن ام مکتوم سے رخ پھیر کر اپنی ناگواری کا اظہار فرمایا اور جو گفتگو تبلیغ حق کی روسائے قریش کے ساتھ جاری تھی اس کو جاری رکھا، اس پر مجلس سے فارغ ہونے کے وقت سورة عبس کی آیات مذکورہ نازل ہوئیں جس میں آپ کے اس طرز عمل کو ناپسندیدہ قرار دے کر آپ کو ہدایت کی گئی۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ طرز عمل اپنے اجتہاد پر مبنی تھا کہ جو مسلمان آداب مجلس کیخلاف طرز گفتگو اختیار کرے اس کو کچھ تنبہ ہونی چاہئے تاکہ آئندہ وہ آداب مجلس کی رعایت کرے اس کے لئے تو آپ نے حضرت ابن ام مکتوم سے رخ پھیرلیا، اور دوسری بات یہ تھی کہ بظاہر حال کفر و شرک سب سے بڑے گناہ ہیں انکے ازالہ کی فکر مقدم ہونا چاہئے بمقابلے دین کے فروعی احکام کی تعلیم کے جو عبداللہ ابن ام مکتوم چاہتے تھے مگر حق تعالیٰ جل شانہ نے آپ کے اس اجتہاد کو درست قرار نہیں دیا اور اس پر متنبہ فرمایا کہ یہاں قابل غور یہ بات تھی کہ ایک شخص جو آپ سے دینی تعلیم کا طلب ہو کر سوال کر رہا ہے اسکے جواب کا فائدہ تو یقینی ہے اور جو آپکا مخالف ہے آپ کی بات سننا بھی پسند نہیں کرتا اس سے گفتگو کا فائدہ موہوم ہے، موہوم کو یقینی پر ترجیح ہونا چاہئے اور عبداللہ بن ام مکتوم سے جو آدام مجلس کیخلاف بات سرزد ہوئی ان کا عذر قرآن نے لفظ عمی کہ کر بتلادیا کہ وہ نابینا تھے اس لئے ان کو نہ دیکھ سکتے تھے کہ آپ اس وقت کس شغل میں ہیں، کن لوگوں سے گفتگو چل رہی ہے اسلئے وہ معذور تھے، مستحق اعراض نہیں تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی معذور آدمی سے بیخبری میں کوئی بات آداب مجلس کے خلاف ہوجائے تو وہ قابل عتاب نہیں ہوتا۔ عبس وتولی، عبس کے معنے تر شروی اختیار کرنا یعنی چہرہ سے اظہار ناگواری کرنا اور تولی کے معنے رخ پھیر لینے ہیں۔ اس جگہ موقع اس کا تھا کہ یہ الفاظ آپ کو بصیغہ خطاب کہے جاتے کہ آپ نے ایسا کیا۔ لیکن قرآن کریم نے صیغہ خطاب کے بجائے صیغہ غائب اختیار کیا جس میں عتاب کی حالت میں بھی رسول اللہ ﷺ کا اکرام محلوظ رکھا گیا اور صیغہ غائب اختیار کرکے یہ ایہام کیا کہ جیسے یہ کام کسی اور نے کیا ہو اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کام آپ کے شایان شان نہیں اور دوسرے جملے میں خود رسول اللہ ﷺ کے عذر کی طرف اشارہ فرمادیا وما یدریک (یعنی آپ کو کیا خبر) اس میں بتلا دیا کہ اعراض کی وجہ یہ پیش آئی ہے کہ آپ کا دھیان اس طرف نہیں گیا کہ یہ صحابی کو کچھ دریافت کر رہے ہیں اس کا اثر یقینی ہے اور غیروں سے گفتگو کا اثر موہوم۔ اور اس دوسرے جملے میں صیغہ غائب چھوڑ کر صیغہ خطاب کا اختیار فرمانے میں بھی رسول اللہ ﷺ کی تکریم اور دلجوئی ہے کہ اگر بالکل خطاب کا صیغہ استعمال نہ ہوتا تو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ اس طرز عمل کی ناپسندیدگی ترک خطاب کا سبب بن گئی جو آنحضرت ﷺ کے لئے ایک ناقابل برداشت رنج والم ہوتا، اسلئے جس طرح پہلے جملہ میں خطاب کے بجائے غائب کا صیغہ استعمال کرنا رسول اللہ ﷺ کی تکریم ہے اسی طرح دوسرے جملے میں خطاب کرنا بھی آپ کی تکریم اور دلجوئی ہے۔
Ayahs 80:3–12

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

اور تجھ کو کیا خبر ہے شاید کہ وہ سنورتا

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا سوچتا تو کام آتا اس کے سمجھانا

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

وہ جو پروا نہیں کرتا

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

سو اس کی فکر میں ہے

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

اور تجھ پر کچھ الزام نہیں کہ وہ نہیں درست ہوتا

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

اور وہ جو آیا تیرے پاس دوڑتا

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور وہ ڈرتا ہے

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

سو تو اس سے تغافل کرتا ہے

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

یوں نہیں یہ تو نصیحت ہے

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

پھر جو کوئی چاہے اس کو پڑھے

(آیت) لَعَلَّهٗ يَزَّكّىٰٓ ۝ ۙاَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰى، یعنی آپ کو کیا معلوم کہ یہ صحابی جو بات دریافت کر رہے تھے اس کا فائدہ متیقن تھا کہ آپ ان کو تعلیم دیتے تو یہ اس کے ذریعہ اپنے نفس کا تذکیہ کرلیتے اور کمال حاصل کرلیتے اور یہ بھی نہ ہوتا تو کم از کم اس ذکر اللہ سے وہ ابتدائی نفع اٹھاتے کہ اس سے انکے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور خوف کی ترقی ہوجاتی۔ لفظ ذکریٰ کے معنے کثرت ذکر کے ہیں (کذافی الصحاح) یہاں قرآن کریم نے دو جملے اختیار فرمائے یزکی اور یذکر، پہلے کے معنے پاک صاف ہوجانے کے ہیں اور دوسرے کے معنے نصیحت حاصل کرنے اور ذکر سے متاثر ہونے کے ہیں۔ پہلا مقام ابرار واتقیاء کا ہے جو اپنے نفس کو ظاہری اور باطنی ہر قسم کی گندگیوں سے پاک صاف کرلیں اور دوسرا مقام طریق دین پر چلنے کے ابتدائی حال کا ہے کہ مبتدی کو اللہ کی یاد دلائی جاتی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت وخوف اسکے دل میں مستحضر ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو تعلیم دینا نفع سے کسی حال خالی نہیں تھا خواہ نفع کامل ہوجا تاکہ تزکیہ نفس مکمل حاصل کرلیتے یا ابتدائی نفع حاصل ہوتا کہ اللہ کی یاد اور عظمت وخوف انکے دل میں بڑھ جاتا اور دونوں جملے بحرف تردید یعنی او کے ساتھ استعمال کئے گئے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک حال ضرور حاصل ہوتا اس میں اصطلاحی مانعتہ الخلو ہے یعنی احتمال یہ بھی ہے کہ دونوں نفع جمع ہوجائیں کہ ابتدائی تذکرہ اور اسکے بعد تزکیہ، مانعتہ الجمع نہیں کہ دونوں جمع نہ ہوسکیں (مظہری) تبلیغ وتعلیم کے لئے ایک اہم اصولی قرآنی اس موقع پر یہ تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے وہ کام بیک وقت آگئے، ایک مسلمان کو تعلیم اور اس کی تکمیل اور دلجوئی، دوسرے غیر مسلموں کی ہدایت کے لئے ان کی طرف توجہ۔ قرآن کریم کے اس ارشاد نے یہ واضح کردیا کہ پہلا کام دوسرے کام پر مقدم ہے۔ دوسرے کام کی وجہ سے پہلے کام میں تاخیر کرنا یا کوئی خلل ڈالنا درست نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی تعلیم اور ان کی اصلاح کی فکر غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرنے کی فکر سے اہم اور مقدم ہے۔ اس میں ان علما کے لئے ایک اہم ہدایت ہے جو غیر مسلموں کے شبہات کے ازالے اور ان کو اسلام سے مانوس کرنے کی خاطر بعض ایسے کام کر بیٹھے ہیں جن سے عام مسلمانوں کے دلوں میں شوک شبہات یا شکایات پیدا ہوجاتی ہے ان کو اس قرآنی ہدایت کے مطابق مسلمانوں کی حفاظت اور اصلاح حال کو مقدم رکھنا چاہیے۔ اکبر مرحوم نے خوب فرمایا بے وفا سمجھیں تمہیں اہل حرم اس سے بچو دیر والے کحج ادا کہہ دیں یہ بدنامی بھلی بعد کی آیتوں میں قرآن کریم نے اسی بات کو پوری وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰى ۝ ۙفَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰى، یعنی جو شخص آپ سے اور آپ کے دین سے استغناء اور بےرخی برت رہا ہے آپ اس کے تو درپے ہیں کہ کسی طرح یہ مسلمان ہوجائے حالانکہ یہ آپ کے کے ذمہ نہیں اور اگر وہ مسلمان نہ ہو تو آپ پر کوئی الزام نہیں، اور جو شخص دوڑتا ہوا طلب علم دین کے لئے آیا اور خدا تعالیٰ سے ڈرنے والا بھی ہے آپ اس کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ اس میں واضح طور پر آنحضرت ﷺ کو یہ ہدایت دی گئی کہ مسلمانوں کی تعلیم اور اصلاح و تربیت کرکے ان کو پکا مسلمان اور قومی مومن بنانا یہ غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرنے کی فکر سے زیادہ اہم اور مقدم ہے اس کی فکر زیادہ چاہیے۔ واللہ اعلم۔ اس کے بعد قرآن مجید کا اللہ کی طرف تذکرہ نصیحت ہونا اور اس کا مکرم عالیشان ہونا بیان فرمایا۔
Ayahs 80:13–14

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

لکھا ہے عزت کے ورقوں میں

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

اونچے رکھے ہوئے نہایت ستھرے

فِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ ، مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ صفت سے مراد لوح محفوظ ہے وہ اگرچہ ایک ہی ہے مگر اس کو بصیغہ جمع صحف سے تعبیر اس لئے کیا گیا کہ اس میں سب صحائف آسمانی لکھے ہوتے ہیں یا اس لئے کہ فرشتے اپنے صحیفے اس سے نقل کرتے ہیں۔ مرفوعہ سے مراد ان صحیفوں کا عنداللہ عالیشان ہونا ہے اور مطہرہ سے مراد یہ ہے کہ جنابت والے آدمی اور حیض نفاس والی عورت اور بےوضو کے لئے ان کا چھونا جائز نہیں۔
Ayahs 80:15–17

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

ہاتھوں میں لکھنے والوں کے

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

جو بڑے درجہ والے نیک کار ہیں

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

مارا جائیو آدمی کیسا ناشکر ہے

ۙبِاَيْدِيْ سَفَرَةٍ 15؀ۙكِرَامٍۢ بَرَرَة۔ بفتحتین سافر کی جمع بھی ہوسکتی ہے جس کے معنی کاتب کے ہیں، اس صورت میں اس سے مراد فرشتے، کرام کاتبین یا انبیا (علیہم السلام) اور ان کی وحی کو لکھنے والے حضرات ہوں گے۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد سے یہی تفسیر منقول ہے۔ اور لفظ سفرہ، سفیر بمعنے قاصد کی جمع بھی ہوسکتے ہے، اس صورت میں اس سے مراد ملائیکہ اور انبیا (علیہم السلام) اور وحی کی کتابت کرنے والے حضرات صحابہ ہوں گے، اور علمائے امت بھی اس میں داخل ہیں، کیونکہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ اور امت کے درمیان سفیر اور قاصد ہیں۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ قرات میں بھی ماہر ہے تو وہ سفرہ کرام ابرار کے ساتھ ہے اور جو شخص ماہر نہیں مگر تکلف کے ساتھ مشقت اٹھا کر قرات صحیح کرلیتا ہے اس کے لئے دوہرا اجر ہے (رواہ ایشخان عن عائشہ۔ مظہری) اس سے معلوم ہوا کہ غیر ماہر کو دواجر ملتے ہیں ایک قرارت قرآن کا دوسرا مشقت اٹھانے کا۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ماہر کو بیشمار اجر ملیں گے (مظہری)
Ayah 80:18

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

کس چیز سے بنایا اس کو

سابقہ آیات میں قرآن کریم کا عالیشان واجب الایمان ہونا بیان کرنے کے بعد کافر انسان جو قرآن کے منکر ہیں ان پر لعنت اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کی تنبیہ ہے اور قرآن کا منجاب اللہ ایک نعمت عظیم ہونا تو ایک معنوی چیز ہے جس کو اہل علم وفہم ہی سمجھ سکتے ہیں آگے ان انعامات الہیہ کا ذکر ہے جو انسان کی تخلیق سے آخر تک انسان پر مبذول ہوتے رہتے ہیں۔ یہ مادی اور محسوس چیز ہے جسکو ادنی شعور والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے۔ اسی سلسلے میں تخلیق انسانی کا ذکر فرمایا مِنْ اَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ 18؀ۭ مِنْ نُّطْفَةٍ پہلے تو اس میں ایک سوال کیا گیا کہ اے انسان تو غور کر تجھے اللہ نے کس چیز سے پیدا کیا ہے اور چونکہ اس کا جواب متعین ہے، اس کے سوا کوئی دوسرا جواب ہو ہی نہیں سکتا، اس لئے پھر خود ہی فرمایا من نطفة یعنی انسان کو نطفہ سے پیدا کیا، پھر فرمایا خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗ یعنی یہی نہیں کہ نطفہ سے ایک جاندار کا وجود بنادیا بلکہ اس کو ایک خاص اندازہ اور بڑی حکمت سے بنایا، اس کے قد و قامت اور جسامت اور شکل و صورت اور اعضا کے طول وعرض اور جوڑ بند اور آنکھ ناک کان وغیرہ کی تخلیق میں ایسا اندازہ قائم فرمایا کہ ذرا اس کے خلاف ہوجائے تو انسان کی صورت بگڑ جائے اور کام کاج مصیبت بن جائے۔
Ayah 80:19

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

ایک بوند سے بنایا اس کو پھر اندازہ پر رکھا اس کو

اور لفظ قدرہ سے یہاں یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ انسان جس وقت بطن مادر میں زیر تخلیق ہوتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ اس کی چار چیزوں کی مقدار لکھ دیتے ہیں وہ یہ کہ وہ کیا کیا اور کیسے کیسے عمل کریگا، اس کی عمر کتنی ہوگی، اس کو رزق کتنا ملے گا، اور انجام کار سعید ونیک بخث ہوگا یا شقی بدبخث (کمافی حدیث ابن مسعود عندالشیخین)
Ayah 80:20

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر راہ آسان کردی اس کو

ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهٗ ، یعنی حق تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے انسان کی تخلیق بطن مادر کی تین اندھیریوں اور ایسے محفوظ مقام میں فرمائی کہ جس کے پیٹ میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے اس کو بھی اس کی تخلیق کی تفصیل کی کچھ خبر نہیں، پھر یہ زندہ تمام اعضاء وجوارح سے مکمل انسان جس جگہ میں بنا ہے وہاں سے اس دنیا میں آنے کا راستہ بھی باوجود تنگ ہونیکے حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہی نے آسان فرمادیا کہ چار پانچ پونڈ کا وزنی جسم صحیح سالم برآمد ہوجاتا ہے اور ماں کے وجود کو بھی اس سے کوئی خاص نقصان نہیں پہنچتا۔ فتبرک اللہ احسن الخلقین
Ayahs 80:21–22

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اس کو مردہ کیا پھر قبر میں رکھوا دیا اس کو

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر جب چاہا اٹھا نکالا اس کو

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗ ، تخلیق انسانی کی ابتدا بیان کرنے کے بعد اس کی انتہا موت اور قبر پر ہے اس کا ذکر بسلسلہ انعامات فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی موت درحقیقت کوئی مصیبت نہیں نعمت ہی ہے۔ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تحفتہ المومن الموت کو مومن کا تحفہ موت ہے اور اس میں مجموعہ عالم کے اعتبار سے بڑی حکمتیں ہیں اور فاقبرہ کے معنی پھر اس کو قبر میں داخل کیا یہ بھی ایک انعام ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ نے عام جانوروں کی طرح نہیں رکھا کہ مر گیا تو وہیں زمین پر سڑتا اور پھولتا پھٹتا ہے، بلکہ اس کا اکرام یہ کیا گیا کہ اس کہ نہلا کر نئے اور پاک صاف کپڑوں میں ملبوس کرکے احترام کے ساتھ قبر میں دفن کردیا جاتا ہے۔ مسئلہ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مردہ انسان کو دفن کرنا واجب ہے۔
Ayahs 80:23–32

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

ہرگز نہیں پورا نہ کیا جو اس کو

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

فرمایا اب دیکھ لے آدمی اپنے کھانے کو

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

کہ ہم نے ڈالا پانی اوپر سے گرتا ہوا

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر چیرا زمین کو پھاڑ کر

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

پھر اگایا اس میں اناج

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور انگور اور ترکاری

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کھجوریں

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور گھن کے باغ اور میوہ

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور گھاس کام چلانے کو

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے

كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَهٗ ، اس میں تخلیق انسانی کی ابتدا و انتہا اور ان میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور انعامات کا ذکر کرنے کے بعد منکر انسان کو تنبیہ کی گئی کہ ان آیات الیہہ اور انعامات کا تقاضا تھا کہ انسان ان میں غور کرکے اللہ پر ایمان لاتا اور اسکے احکام کی تعمیل کرتا مگر اس بدنصیب نے ایسا نہیں کیا، آگے پھر ان انعامات الیہہہ کا تذکر ہے جو تخلیق انسانی کی ابتداء و انتہا کے درمیانی زمانے میں انسانی پر مبذول ہوتے ہیں کہ انسان کا رزق کس طرح پیدا کیا جاتا ہے کہ آسمان سے پانی برستا ہے، بیج اور دانہ جو زمین میں مدفون ہے یہ بارش اس میں ایک حیات نباتی پیدا کرتی ہے جس کے ذریعہ ایک نحیف وصیعف کونپل زمین کو شق کرکے اوپر نکلتی ہے اور پھر اس سے انواع و اقسام کے غلے میوے اور باغات وجود میں آتے ہیں۔ ان سب انعامات الہیہ پر انسان کو مکرر سکرر تنبیہ کے بعد آخر سورت میں پھر قیامت کا ذکر ہے۔
Ayah 80:33

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ Open ayah 80:33 in the Quran reader

پھر جب آئے وہ کان پھوڑنے والی

فَاِذَا جَاۗءَتِ الصَّاۗخَّةُ ، صاخہ ایسے شور اور شخت آواز کو کہتے ہیں جس سے انسان کے کان بہرے ہوجائیں مراد اس سے شور قیامت یعنی نفخ صور ہے۔