Ayah 80:1(80:1) عبس وتولی : شان نزول :۔ حضرت ابن ام مکتوم (عبد اللہ بن ریح بن مالک بن ربیعہ فہری) حضرت خدیجہ ؓ کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ ان کیی والدہ ام مکتوم حضرت خدیجہ کے والد خویلد بہن بھائی تھے۔
ایک دن رسول کریم ﷺ اکابر مکہ عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبد المطلب۔ ابی بن خلف۔ امیہ بن خلف سے خاموشی کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے اور ان کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے کہ اسی دوران میں ابن ام مکتوم وہاں آئے (جو کہ نابینا تھے) اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! علمنی مما علمک اللہ (اے رسول اللہ ﷺ جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے اس میں سے مجھے بھی سکھا دیجئے) ان کو معلوم نہیں تھا کہ حضور ﷺ دوسری طرف متوجہ ہیں ان کی اس طرح قطع کلامی پر حضور انور ﷺ کے چہرہ مبارک پر کچھ کراہت کے آثار نظر آئے اور آپ نے ترش رو ہو کر ابن ام مکتوم کی طرف سے رخ انور موڑ لیا اور جن لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے ان کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اس پر یہ سورة مبارکہ نازل ہوئی۔
عبس ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب عبس وعبوس (باب ضرب) مصدر سے جس کے معنی ترش رو ہونا۔ منہ بنانا، تیوری چڑھانا کے ہیں۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ دل تنگی سے ماتھے پر بل آجائے ۔ نام عبوس ہے۔
تفسیر کبیر میں ہے :۔ عبس یعبس (باب ضرب) فھو عابس کا استعمال ماتھے پر بل ڈالنے کے لئے ہوتا ہے اور اگر اسی ترش روئی میں دانت بھی ظاہر ہوجائیں تو پھر کلح بولتے ہیں اور اگر منہ بنانے کا فکر و اہتمام بھی ہو تو اس کے لئے بسر آتا ہے اور اگر تیوری پر بل ڈالنے کے ساتھ غصہ بھی ہوجائے تو پھر بسل کہا جاتا ہے۔
وتولی۔ واؤ عاطفہ، تولی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر سے۔ اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیر دی۔ وہ پھر گیا۔ اور حاکم ہونا بھی اس کا معنی آتا ہے۔
Ayah 80:2(80:2) ان جاء ہ الاعمی : ان مصدریہ ہے۔ جاء ہ الاعمی علت ہے جملہ سابقہ کی یعنی مفعول لہ ہے۔ اعمی عمی سے (بمعنی بینائی کا مفقود ہوجانا) مصدر سے جملہ سابقہ کا صیغہ ہے۔ نابینا۔ یہاں مراد عبد اللہ بن ام مکتوم ؓ ہے۔
بینائی دل کی جاتی رہے یا آنکھوں کی دونوں کے لئے عمی کا لفظ بولا جاتا ہے۔ دل کے اندھا پن کے متعلق ارشاد ہے فاما ثمود فھدینھم فاستحبوا العمی علی الھدی (41:17) اور ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا راستہ رکھایا مگر انہوں نے ہدایت کے بجائے اندھا پن پسند کیا۔
Ayah 80:3(80:3) وما یدریک لعلم یزکی : ما استفہامیہ ہے بمعنی کون۔ یدری مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ادراء (افعال) مصدر۔ دری مادہ سے مجرد باب ضرب سے آتا ہے۔ جیسے ما کنت تدری ما الکتب (42:52) تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے۔ باب افعال سے بمعنی دے۔ یعنی تم کو کہاں معلوم۔ تم کو اس کے حال پر کون واقف بنائے۔ ما استفہامیہ انکاریہ ہے بمعنی نفی کے ہے۔
علامہ پانی پتی اپنی تفسیر مظہری میں رقمطراز ہیں :۔ بہرحال اس لفظ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ایک عذر مترشح ہے کہ تم واقف نہ تھے۔ اگر نابینا کے حال سے واقف ہوتے تو دوسروں کی طرف متوجہ اور اس کی طرف سے ردگرداں نہ ہوتے۔ آیت میں چند وجوہ سے رسول اللہ ﷺ کا اعزار موجود ہے۔
(1) آغار کلام میں ہی اعراض کے سبب کو بصیغہ ماضٰ بیان کیا۔ مخاطب کا صیغہ ذکر نہیں کیا گویا مخاطب کے ذہن کو اس طرف موڑا کہ اس فعل کا صدور تم سے نہیں کسی اور سے ہوا۔ تم ایسے نہیں کہ ایسا کام تم سے صادر ہو۔ اس کی توجیہ اس طرح ہوگی کہ اعمال کا مدرانیت پر ہے اور رسول اللہ ﷺ کی نیت اس کی طرف سے منہ موڑنے کی بالکل نہ تھی بلکہ آپ کا مقصد یہ تھا کہ یہ شخص تو مومن ہی ہے اگر اس کی تعلیم میں کچھ تاخیر بھی ہوجائے تو اس کا کچھ نقصان نہ ہوگا نہ اس کی طرف سے انحراف اور چلے جانے کا کوئی اندیشہ ہے۔ اور قریش کے سردار اپنی طرف سے میرے رخ کو پھرا دیکھ چلے جائیں گے انتظار نہیں کریں گے اور اگر یہ سردار مسلمان ہوگئے تو ان کے ساتھ بہت سے لوگ مسلمان ہوجائیں گے اور دائرہ اسلام وسیع ہوجائے گا۔
ان ہی مقاصد کے زیر اثر حضور ﷺ نے حضرت عبد اللہ کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ گویا واقعی طور پر ان کی طرف سے روگردانی نہیں کی اگرچہ ظاہری طور پر اس فعل کا وقوع ہوگیا۔
(2) رسول اللہ ﷺ کی طرف سے معذرت بھی اشارہ بتادی کہ آپ ناواقف تھے ورنہ ایسا نہ کرتے۔
(3) صیغہ غائب سے صیغہ خطاب کی طرف کلام کا رخ پھیرنے سے رسول اللہ ﷺ کو مانوس بنانا اور آپ کے دل سے ملال دور کرنا مقصود ہے اور صیغہ غائب سے جو وہم پیدا ہوتا تھا کہ خدا نے آپ کو ساقط الالتفات سمجھ لیا ہے صیغہ خطاب سے اس وہم کا ازالہ کردینا مقصود ہے۔
(4) موجب عذر (عدم علم) کی اسناد رسول اللہ ﷺ کی طرف صریحی تخاطب کے ساتھ بتارہی ہے کہ آپ سے جو فعل سرزد ہوگیا اس میں آپ معذور تھے۔
مختلف علماء نے اپنی اپنی تاویلات کی ہیں جن کا ما حاصل یہ ہے کہ آپ کا فعل نیک نیتی پر مبنی تھا۔
لعلم یزکی : لعل حرف مشبہ بالفعل ہے ترجی (امید یا خوف) پر دلدلت کرنے کے لئے اس کی وضع ہے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ جیسے لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا (65:1) (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے بعد کوئی (رجعت کی) سبیل پیدا کر دے۔ (نیز ملاحظہ ہو 11:12) ہ ضمیر فاعل واحد مذکر غائب الاعلمی کے لئے ہے۔
یزکی مضارع معروف صیغہ واحد مذکر غائب تزکی (تفعل) مصدر۔ اصل میں یتزکی تھا۔ ت کو ز میں مدغم کیا گیا ہے معنی پاکیزگی حاصل کرنا۔ پاک ہوجانا ۔ لعل حرف مشبہ بالفعل ہ اس کا اسم اس کا مرجع الاعمی ہے۔ یتزکی اس کی خبر۔ شاید کہ وہ کامل طور پر پاک ہوجاتا۔
Ayah 80:4(80:4) او یذکر : او بمعنی یا۔ یذکر مضارع مرفوع کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ تذکر (تفعل) مصدر، اصل میں یتذکر تھا۔ ت کو ذ میں مدغم کیا گیا۔ اس کا عطف یزکی پر ہے۔ اور یہ بھی ترجی ۔ لعل کے حکم میں داخل ہے۔
فتنفعہجواب تمنی کے لئے ہے اورکے عمل سے مضارع منصوب ہے۔ ہ کی ضمیر الاعمی کی طرف راجع ہے۔ تنفع مضارع واحد مؤنث غائب نفع مصدر (باب فتح) وہ اس کو نفع پہنچائے گی۔ اس میں ضمیر فاعل واحد مؤنث غائب ہے جس کا مرجع الذکری ہے۔ الذکری تنبیہ ، نصیحت، یاد، ذکر یذکر کا مصدر بھی ہے۔ کثرت ذکر کے لئے بھی ذکری بولا جاتا ہے۔ یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔
آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ یا وہ نصیحت کی باتیں یاد کرتا اور غور و فکر کرتا سو اس کو نصیحت نفع دیتی (یعنی اس کثرت ذکر سے اس کا حضور قلب بڑھ جاتا اور قرب الٰہی کے درجات حاصل ہوتے۔
Ayah 80:5(80:5) اما من استغنی : اما۔ لیکن۔ یا ۔ سو ۔ حرف شرط ہے۔ اور اکثر حالات میں تفصیل کے لئے آتا ہے اس صورت میں اما کا تکرار ضروری ہے اس کے شرط ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد حرف فاء کا آنا لازم ہے۔ یہاں اس آیت میں یہ تفصیل کے لئے استعمال ہوا ہے۔
من شرطیہ ہے۔ استغنی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب استغناء (استفعال) مصدر لاپروائی کرنا۔ لیکن جس نے لا پروائی کی۔ جملہ شرطیہ ہے۔ اس شرط کا جواب فانت لہ تصدی ہے۔
Ayah 80:6(80:6) فانت لہ تصدی :جواب شرط کے لئے ہے تصدی مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تصدی تفعل مصدر سے۔ جس کے معنی کسی شے کے درپے ہونے کے ہیں۔ یا آمنے سامنے ہونے کے۔ صدی آواز بازگشت کو کہتے ہیں ۔ ا عتبار سے تصدی کے معنی ہوئے کسی چیز کے اس طرح مقابل ہونے کے جس طرح صدائے بازگشت مقابل ہوتی ہے۔
تصدی اصل میں تتصدی تھا۔ ایک تاء حذف کردی گئی ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ آپ اس کی طرف تو متوجہ ہیں آپ اس کے درپے ہیں کہ طہارت اور تزکیہ کا موقع ہاتھ سے نہ جاتا رہے۔
Ayah 80:7(80:7) وما علیک الا یزکی۔ جملہ حالیہ ہے۔ حالانکہ اس کے پاکیزہ نہ بننے سے آپ کا کوئی حرج نہیں۔ واؤ حالیہ ما نافیہ ہے۔ الا مرکب ہے ان شرطیہ اور لا نافیہ سے۔ یزکی مضارع واحد مذکر غائب۔ وہ پاک ہوجاتا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو 80:3 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 80:8(80:8) واما من جاءک یسعی۔ واؤ عاطفہ ہے : اما ملاحظہ ہو 80:3 ۔ متذکرۃ الصدر۔ من شرطیہ یسعی مجارع کا صیغہ مذکر غائب سعی (باب فتح) تیزی سے چلتا ہوا۔ دوڑتا ہوا۔ یہ من شرطیہ سے حال ہے۔ اور جو آپ کے پاس دوڑتا ہوا آیا۔ یا آئے۔
Ayah 80:9(80:9) وھو یخشی۔ جملہ حالیہ ہے من سے۔ اور وہ ڈر رہا ہے۔ یخشی مضارع واحد مذکر غائب۔ خشیۃ (باب سمع) مصدر سے
Ayah 80:10(8:10) فانت عنہ تلہی۔ جملہ شرطیہ ہے اور اما من جاءک یسعی کا جواب ہے۔ آپ اس سے لاپرواہی برتتے ہیں۔ تلہی مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تلہی (تفعل) مصدر سے جس کے معنی کھیلنے اور کسی چیز میں وقت گزارنے اور مشغول ہونے کے ہیں۔ اور جب اس کے صلہ میں عن آتا ہے تو اس کے معنی تغافل کرنے کے ہوتے ہیں۔
تلہی اصل میں تتلہی تھا۔ ایک تاء گرگئی۔ ترجمہ ہوگا :۔ سو آپ اس سے لاپروائی کرتے ہیں۔
Ayah 80:11(8:11) کلا انھا تذکرۃ : کلا حرف ردع وزجر ہے۔ ایسا ہرگز نہ کرنا چاہیے آئندہ کبھی ایسا نہ کرنا۔ (نیز ملاحظہ ہو 74:32)
انھا : ان حرف مشبہ بالفعل ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اسم ان۔ تذکرۃ اس کی خبر۔ ھا کا مرجع القرآن ہے تانیث خبر کے اعتبار سے ہے۔ بیشک قرآن ایک نصیحت ہے۔
تذکرۃ نصیحت ، یاد دہانی۔ موعظۃ، یاد کرنے کی چیز۔
Ayah 80:12(80:12) فمن شاء ذکرہ : من شرطیہ ہے۔ ذکر ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ذکر (باب نصر) مصدر۔ بمعنی یاد کرنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع قرآن ہے آیت 11 متذکرہ بالا میں ھا کی تانیث بطور خبر کے تھی (دونوں ضمیریں قرآن کے لئے ہیں) ۔ (بیضاوی)
یعنی جو نصیحت پذیر ہونا اور اللہ کی یاد کرنا چاہے اس کو یاد کرے۔
جملہ فمن شاء ذکرہ جملہ سابقہ انھا تذکرۃ اور جملہ فی صحف مکرمۃ کے مابین جملہ معترضہ ہے۔
Ayah 80:13(80:13) فی صحف مکرمۃ۔ یہ تذکرۃ کی صفت ہے صحف مکرمۃ موصوف و صفت، مکرم صحیفوں میں لکھا ہوا۔
صحف بمعنی صحیفے۔ کتابیں ۔ اور اق۔ صحیفۃ کی جمع۔ واضح رہے کہ یہ جمع نادر ہے کیونکہ فعیلۃ کی جمع صحف نہیں آتی۔ ندرت اور قیاس می اس کی مثال سفینۃ اور سفن ہے۔
مکرمۃ ، تکریم (تفعیل) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مؤنث ہے ۔ عزت والے۔ قابل ادب۔ معزز۔
علامہ پانی پتی (رح) نے صحف مکرمۃ کی تشریح یوں کی ہے :۔ صحیفوں سے مراد ہے لوح محفوظ ، یا لوح محفوظ کی نقلیں جو فرشتے لکھ لیتے ہیں ۔ یا انبیاء کے صحیفے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے وانہ لفی زبر الاولین (96:196) اور اس کی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے۔
اور ان ھذا لفی الصحف الاولی۔ صحف ابراہیم و موسیٰ (87:18-19) یہی بات پہلے صحیفوں میں بھی مرقوم ہے (یعنی) ابراہیم اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں۔ یا وہ صحیفے مراد ہیں جو کہ صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر لکھ رکھے تھے۔
Ayah 80:14(80:14) موفوعۃ مطھرۃ۔ یہ بھی تذکرۃ کی صفات ہیں۔ مرفوعۃ رفع ورفاعۃ (باب فتح) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مؤنث ، بلند مرتبہ ، عالی قدر۔ اللہ کے ہاں عزت والے۔
مطھرۃ۔ یہ بھی تذکرۃ کی صفت ہے تطھیر (تفعیل) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مؤنث ، ہر طرح کی نسوانی، جسمانی اور نفسانی کثافتوں سے پاک کی ہوئی۔ یا جنب۔ بےوضو۔ حائضہ اور نفساء (نفاس والی عورتوں) کے چھونے سے پاک، جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے لا یمسہ الا المطھرون (56:79) اس کو نہیں چھوتے مگر جو پاک کئے گئے ہیں۔ اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو کہ پاک ہیں۔
Ayah 80:15(80:15) بایدی سفرۃ : ای ھذہ کنبۃ ینسخرنھا من اللوح المحفوظ (السیر التفاسیر) یہ وہ تحریر ہے جسے لوح محفوظ سے نقل کیا ایسے کاتبوں کے ہاتھوں نے جو بڑے بزرگ اور نیکوکار ہیں۔ (ضیاء القرآن)
بایدی جار مجرور۔ ایدی سفرۃ مضاف مجاف الیہ، کاتبوں کے ہاتھوں سے سفرۃ جمع سافر کی۔ جیسے کتبۃ جمع ہے کاتب کی۔ سفرۃ ، سفر (باب ضرب) مصدر سے بمعنی لکھنا۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ اسی مناسبت سے کتاب کو سفر کہتے ہیں۔ جس کی جمع اسفار ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :۔
کمثل الحمار یحمل اسفارا (62:5) مثل اس گدھے کے جو اٹھائے پھرتا ہے کتابیں۔
ابن عباس اور مجاہد کا قول ہے کہ :۔ سفرۃ سے مراد ہیں اعمال لکھنے والے فرشتے، یا انبیاء یا وحی کو لکھنے والے لوگ۔
دوسرے علماء کا قول ہے کہ :۔ سفرۃ سفیر کی جمع ہے سفیر وہ درمیانہ آدمی جو قوم میں باہمی صلح کرانے کے درپے ہوتا ہے۔ یہاں مراد ہیں فرشتے اور انسانوں میں اللہ کے پیغمبر۔
علامہ پانی پتی فرماتے ہیں :۔ کہ وحی کے کاتب اور علمائے امت بھی اسی طرح کے سفیر ہیں۔ رسول اور امت کے درمیان ان میں سے ہر ایک سفیر ہے۔
Ayah 80:16(80:16) کرام بررۃ۔ ہر دو سفرۃ کی صفات ہیں اور اسی مناسبت سے منصوب ہیں۔ کرام، کریم کی جمع ہے۔ باعزت۔ بزرگ۔
بررۃ، بر کی جمع ہے۔ نیکوکار۔ بررۃ ابرار کی نسبت زیادہ بلیغ ہے کیونکہ ابرابر باز کی جمع ہے۔ اور بررۃ بر کی۔ اور جس طرح عدل (یعنی سرتاپا انصاف) عادل سے زیادہ بلیغ ہے اسی طرح بربار سے زیادہ بلیغ ہے۔ قرآن مجید میں یہ فرشتوں کی صفت میں استعمال ہوا ہے۔
Ayah 80:17(80:17) قتل الانسان ما اکفرہ : لفظی ترجمہ ۔ مارا گیا انسان، غارت ہوا انسان۔ لعنت ہو انسان پر۔ یہ اللہ کی طرف سے انسان کے لئے برترین بددعا ہے۔
(مجاہد کہتے ہیں قرآن مجید میں جہاں بھی قتل الانسان آیا ہے وہاں انسان سے مراد کافر ہے۔ ضیاء القرآن ۔ یہ جملہ قرآن مجید میں صرف اسی جگہ آیا ہے) ۔ ما اکفرہ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔
(1) یہ استفہام توبیخی ہے۔ ای ای شیء حملہ علی الکفر۔ مرادک التنزیل، خازن (السیر التفاسیر) کسی شے نے اس کو اس کفر پر ابھارا۔
(2) یہ صیغہ تعجب ہے : ای ما اشد کفرہ وہ (انسان ) کیسا ناشکرا ہے۔ (مدارک التنزیل)
ما اشد کفرہ باللہ مع کثرۃ احسانہ الیہ (الخازن) باوجود اللہ کے احسانات کی کثرت کے (انسان) کتاب ناشکرا ہے اللہ کا۔ علامہ پانی پتی لکھتے ہیں :۔
یہ (آیت) انسان کے لئے بدترین بددعا ہے۔ اور تعجب ہے کہ شکر گزاری اور ایمان کے تمام اسباب موجود ہونے کے بعد بھی انسان انتہائی ناشکری کرتا ہے یہ الفاظ انتہائی مختصر ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے انتہائی غضب اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے پوری پوری مذمت پر دلالت کر رہے ہیں۔
Ayah 80:18(80:18) من ای شیء خلقہ صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں :۔ اللہ نے اس کا کس چیز سے بنایا۔ یہاں سے ایمان و شکر کے دواعی (اسباب مقتضی) کا بیان ہے۔ مبدأ تخلیق کا ذکر سب سے پہلے اس لئے کیا کہ تمام نعمتوں سے پہلے اسی کا درجہ (یا زمانہ) ہے۔
یہ استفہام تقریری ہے یعنی مخاطب کو آمادہ کیا گیا ہے کہ وہ اقرار کرے کہ اللہ نے اس کو نطفہ سے بنایا ہے۔ ما اکفرہ میں جو استفہام ہے اس کا بیان من ای شیء سے کیا۔ اس طرح کلام کا اثر زیادہ دل نشین ہوگیا۔ پھر نطفہ سے تخلیق کو بیان کرکے انسان کی حقارت کو ظاہر فرمایا ہے اور یہ خلقی تحقیر تکبر کے منافی ہے۔ (اس لئے انسان کا تکبر بےبنیاد اور نازیبا ہے) ۔
Ayah 80:19(80:19) من نفطۃ : من ای شیء خلقہ (آیت سابقہ) کے استفہام کا جواب ہے یعنی انسان کی قطرہ منی سے پیدا کیا۔
خلقہ فقدرہ۔ ہ ضمیر واحد مزکر غائب الانسان کے لئے ہے۔ قدر ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب تقدیر (تفعیل) مصدر۔ جس کا معنی ہے :۔ سوچ کر ، سمجھ کر، غور کرکے اندازہ کرنا۔ ہر پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر چیز کا اندازہ کرنا۔
ترجمہ ہوگا :۔ اللہ نے اسے پیدا کیا۔ پھر اس کو ہر چیز اندازہ سے بنائی پھر اس کی تقدیر مقرر کی۔
صاحب تفہیم القرآن یوں تشریح فرماتے ہیں۔ یہ ابھی ماں کے پیٹ میں بن ہی رہا تھا کہ اس کی تقدیر طے کردی گئی۔ اس کی جنس کیا ہوگی۔ اس کا رنگ کیا ہوگا ؟ اس کا قد کتنا ہوگا۔ اس کی جسامت کیسی اور کس قدر ہوگی۔ اس کے اعضاء کس حد تک صحیح و سالم اور کس حد تک ناقص ہوں گے اس کی شکل و صورت کیسی ہوگی اور آواز کیسی ہوگی۔ اس کے جسم کی طاقت کتنی ہوگی اس کے ذہن کی صلاحیتیں کیسی ہونگی ، کس سرزمین ، کس خاندان، کن حالات اور کس ماحول میں پیدا ہوگا۔ پرورش اور تربیت پائے گا اور کیا بن کر اٹھے گا۔ اس کی شخصیت کی تعمیر میں موروثی اثرات، ماحول کے اثرات اور اس کی اپنی خودی کا کیا کرنے کے لئے دیا جائیگا اس تقدیر سے یہ بال برابر بھی ہٹ نہیں سکتا۔ نہ اس میں ذرہ برابر ردوبدل کرسکتا ہے۔ پھر یہ کیسی اس کی جراءت ہے کہ جس خالق کی بنائی ہوئی تقدیر کے آگے یہ اتنا بےبس ہے اس کے مقابلے میں کفر کرتا ہے۔ (تفہیم القرآن جلد ششم آیت 19 حاشیہ 12)
علامہ پانی پتی لکھتے ہیں :۔ اول اس (انسان) کو ماں کے رحم کے اندر نیست سے ہست کیا۔ اس کے بعد اس کے لئے ایک اندازہ مقرر کیا۔ یعنی اللہ کے حخم سے مؤکل فرشتوں نے اس کے لئے چار باتیں لکھ دیں :۔
(1) مقدار عمل۔ (2) مدر زندگی۔ (3) رزق۔
(4) شقی یا سعید ہونا۔ جیسا کہ ہم سورة المرسلت میں حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت کردہ نقل کرچکے ہیں ۔ اور مسلم و بخاری اس کے ناقل ہیں۔ (ملاحظہ ہو تفسیر مظہری سورة المرسلت کی آیات 20 تا 32)
بعض اہل تفسیر نے اس آیت کی تشریح اس طرح کی ہے کہ تقدیر سے اعضاء و شکل بنانا مراد ہے یا حالت نطفہ سے تکمیل تخلیق تک جتنے احوال جنین پر گزرتے ہیں وہ مراد ہیں۔ ہماری تشریح ان اقوال سے اولیٰ ہے۔
حدیث مذکورہ تفسیر مظہری میں یوں منقول ہے :۔ حضرت ابن مسعود کی روایت ہے کہ :۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ تم میں ہر ایک کا تخلیقی قوام ماں کے پیٹ کے اندر چالیس روز تک (بصورت) نطفہ رہتا ہے پھر اتنی ہی مدت میں بستہ خون رہتا ہے پھر اتنی ہی مدت میں بصورت لوتھڑا رہتا ہے پھر اللہ اس کے پاس فرشتہ کو چار باتوں کے لئے بھیجتا ہے۔
فرشتہ اس کا (آئندہ) عمل اور مدت زندگی اور رزق اور شقی یا سعید ہونا لکھتا ہے پھر اس میں جان پھونکتا ہے۔ پس قسم ہے خدا کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ تم میں سے بعض لوگ جنت والوں کا کام کرتے ہیں یہاں تک کہ ان کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور وہ دوزخیوں کا عمل کرتے ہیں اور دوزخ میں چلے جاتے ہیں۔
” بخاری، مسلم، نافع، کسائی کے علاوہ دوسروں نے فقدرنا پڑھا ہے :۔ فقدرنا فنعم القدرون (77:23) سورة المرسلت) یعنی ہم اس کو ہست کرنے، نیست کرنے کے علاوہ پیدا کرنے پر قادر ہیں “۔ تفسیر مظہری 77:23)
Ayah 80:20(80:20) ثم السبیل یسرہ : ثم تراخی زمان کے لئے ہے۔ پھر۔ اس کے بعد ۔ السبیل فعل محذوف کا مفعول ہے لہٰذا منصوب ہے۔ تقدیر کلام یوں ہوگی :۔ ثم یسرا السبیل یسرہ : ثم تراخی وقت کے لئے ۔ پھر۔ ازاں بعد۔ السبیل۔ راستہ، راہ، سبیل اصل میں اس راہ کو کہتے ہیں جو واضح ہو اور اس میں سہولت ہو۔
امام راغب (رح) لکھتے ہیں :۔ سبیل کا استعمال ہر اس شے کے لئے ہوتا ہے جس کے ذریعے کسی شے تک پہنچا جاسکے۔ خواہ وہ شے شر ہو یا خیر۔ نیز واضح راستہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے یہ لفظ مذکر بھی استعمال ہوتا ہے اور مؤنث بھی۔
اس کا تذکیر ارشاد الٰہی ہے :۔ وان یروا سبیل الرشد لا یتخذوہ سبیلا (7:146) اور اس کی تانیث : ارشاد الٰہی ہے :۔ قل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ علی بصیرۃ (12:108) میں ظاہر ہے۔
یسرہ : یسر مضارع واحد مذکر غائب تیسیر (تفعیل) مصدر۔ اس نے آسان بنادیا۔ ای سہل لہ (اس کے لئے سہل کردیا) اس صورت میں ہ کا مرجع الانسان ہے اور اگر ہ کا مرجع سبیل ہے تو ترجمہ ہوگا :۔ اس نے راستہ کو آسان کردیا۔
ثم السبیل یسرہ کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں :۔
(1) ا۔ سبیل الخروج من بطن امہ۔ اپنی ماں کے پیٹ میں سے نکلنے کا راستہ (جننے کے وقت) (السیر التفاسیر)
ب۔ طریق خروجہ من طبن امہ۔ (ترجمہ ایضا) (الخازن)
ج۔ سبیل الخروج من بطن امہ۔ (ترجمہ ایضا) (مدارک التنزیل)
(2) ا۔ العلم بطریق الحق والباطل (حق و باطل کے راستہ کا علم) ۔ (خازن)
ب۔ بین لہ سبیل الخیر والشر۔ خیر اور شر کا راستہ اس کے لئے واضح کردیا۔ (مدارک التنزیل)
ج۔ پیغمبر بھیج کر اور کتابیں بھیج کر اللہ نے راہ حق اور اپنے تک پہنچنے کی راہ آسان کردی تاکہ تکمیل حجت ہوجائے۔
اسی مضمون پر دلالت کر رہی ہے یہ آیت :۔ فاما من اعطی واتقی وصدق بالحسنی فسنیسرہ للیسری (92:5-6- 7) تو جس نے (خدا کے راستہ میں مال) دیا۔ اور پرہیزگاری کی اور نیک بات کو سچ جانا ہم اس کو آسان طریقہ کی توفیق دیں گے۔
(3) وقیل یسر علی کل احد ما خلق لہ وقدر علیہ۔ اللہ نے جو چیز انسان کے لئے پیدا کی اور جس پر اس کو اختیار دیا اس پر عمل کرنا اس کے لئے آسان کردیا۔ (خازن)
(4) وقیل السبیل ای الدین فی وضوحہ ویسر العمل بہ۔ اور السبیل سے مراد الدین ہے جو واضح اور سہل العمل ہے کقولہ تعالیٰ : انا ھدینہ السبیل اما شاکرا واما کفورا۔ (76:3) تحقیق ہم نے اسے راستہ بھی دکھا دیا۔ اب وہ خود شکر گزار ہو خواہ ناشکرا۔
جہاں تک نطفہ قرار پانے سے لے کر شکم مادر سے باہر نکلنے تک کے اندازوں کا تعلق ہے اس میں انسان کی ذات ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ حیوانات میں بھی تقریبا یہی عمل کار فرما ہوتا ہے اس لئے السبیل سے مراد سبیل الدین ہے یعنی دنیاوی زندگی کا وہ زمانہ جب انسان احکام شریعت کا مکلف ہوتا ہے اس مدت العمر میں راہ ہدایت کی نشان دہی خدا نے اپنے فرستادہ پیغمبروں اور آسمانی کتابوں کے ذریعے واضح کردی۔ سیدھے راستہ پر چلنے والے کے لئے وہ راستہ آسان فرما دیا اور کجرو اور گمارہ کے لئے گواہی کا راستہ آسان کردیا۔ زانی کو جس طرح عورت فاحشہ کا ملنا آسان کردیا۔ بخیل کو پیٹ پر پتھر باندھ کر مال و زر جمع کرنا آسان کردیا۔ اسی طرح باخدا کو رات میں جاگنا اور تہجد پڑھنا آسان کردیا اور سخی کے لئے مال کا راہ خدا میں خرچ کرنا آسان کردیا۔ بزدل کو بھاگنا اور بہادر کو میدان جنگ میں کود پڑنا۔ پارسا کو پارسائی تو فاحشہ کو بےحیائی یہ حیات دنیا کا تمام نقشہ اس مختصر جملہ میں ختم کردیا۔ (تفسیر حقانی)
Ayah 80:21(80:21) ثم امانۃ فاقبرہ : ثم حرف عطف ہے پھر۔ اماتہ ، امات ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اماتہ (افعال) مصدر۔ بمعنی موت دینا۔ مار ڈالنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب الانسان کے لئے ہے۔
ترجمہ :۔ پھر اس (خدا) نے اسے (انسان کو) موت دی۔
فاقبر :تعقیب کا۔ اقبر : ماضی واحد مذکر غائب اقبار (افعال) بمعنی قبر میں رکھوانا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب پھر اس کو قبر میں رکھوایا۔ یعنی امر ان یقبر حکم دیا کہ اس کو قبر میں دفن کیا جائے۔
Ayah 80:22(80:22) ثم اذا شاء انشرہ : انشر ماضی واحد مذکر غائب انشاء (افعال) مصدر۔ بمعنی زندہ کرنا۔ اٹھا کھڑا کرنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب الانسان مصدر سے۔ مشیئۃ (ش ی ء مادہ) سے شاء اصل میں شیء تھا۔ ی متحرک ماقبل مفتوح ی کو الف سے بدلا۔ اس نے چاہا۔ اس نے ارادہ کیا۔ پھر جب وہ چاہے گا اس کو دوبارہ زندہ کر دے گا۔
Ayah 80:23(80:23) کلا۔ حرف ردع وزجر ہے۔ کافر انسان کے لئے ڈانٹ ہے کہ اسے ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے تھا۔ یعنی خدا کی متذکرہ بالا قدرتوں اور اس کی گونا گوں نعمتوں کے باوجود اسے متکبر نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اور نہ ہی کفر پر اصرار کرنا چاہیے تھا۔
بعض کے نزدیک کلا بمعنی حقا ہے۔ یعنی حق یہ ہے کہ لما یقض ما امرہ جو اللہ نے اسے حکم دیا وہ اسے بجانہ لایا۔
لما یقض : لما حرف جازم ہے لم کی طرح فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اس کو جزم دیتا ہے ۔ اور مضارع کو ماضی منفی میں کردیتا ہے۔ لما سے جس نفی کا حصول ہوتا ہے وہ زمانہ حال تک مبتداء مسلسل اور مستمر ہوتی ہے ۔ (نیز ملاحظہ ہو 2:214)
یقض مضارع مجزوم واحد مذکر غائب، قضاء (باب ضرب) مصدر سے بمعنی پورا کرنا۔ ادا کرنا۔ اصل میں یقضی تھا۔ لما کے داخل ہونے پر یقض ہوگیا۔ لما یقض اس نے پوری طرح ادا نہیں کیا۔ اس نے پورا نہیں کیا۔ اس نے ادا نہیں کیا۔ ضمیر فاعل الانسان کے لئے ہے۔
ما امرہ : ما موصولہ، امرہ اس کا صلہ، صلہ اور موصول مل کر لما یقض کا مفعول۔ جس چیز کا اس کو حکم دیا گیا تھا۔ اس نے اس کو پورا نہیں کیا۔ امرہ میں امر کی ضمیر فاعل اللہ کے لئے ہے۔ اور ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب الانسان کے لئے ہے۔
Ayah 80:24(80:24) فلینظر الانسان الی طعامہ (قرآن مجید کا اسلوب بیان یہ ہے کہ کسی مقصد کے لئے دلائل انفسی کے بعد دلائل آفاقی بیان فرمایا کرتا ہے تاکہ دل میں زیادہ اثر پیدا کرے۔ یہاں غرور انسان کا ابطال کیا تھا اور زیادہ تر مقصود اپنی قدرت کاملہ کا اظہار تھا کہ جس میں کسی کو بھی شرکت نہیں جس سے رد شرک اور اثبات توحید ظاہر و عیاں تھا۔ اور اس مقصود کے اثبات سے یہ مطلوب تھا کہ وہی خدائے قادر وحدہ لاشریک انسان کو مارنے کے بعد بھی دوبارہ زندہ کرسکتا ہے اور اس کے اعمال نیک و بد کی جزا و سزا بھی دے سکتا ہے۔
اس مقصود کے اثبات کے لئے پہلے پہلے وہ دلائل بیان فرمائے تھے کہ جن سے خود انسان کی پیدائش اور اس کے حالات کا تعلق تھا۔
اب بیرونی دلائل بیان فرماتا ہے۔ فقال : فلینظر الانسان الی طعامہ کہ آدمی اپنے کھانے کی طرف نظر کرے کہ ہم نے اس کو کس طرح پیدا کیا ہے۔ (تفسیر حقانی)
آیت کا کلام سابق کے مفہوم پر عطف ہے یعنی انسان کو اول آغاز خلقت سے آخر حیات تک اپنے اوپر غور کرنا چاہیے۔ پھر اپنی غذا کو دیکھنا چاہیے کہ ہم نے اس کی غذا کا کیسے بندوبست کیا اور کس طرح اس کو لطف اندوز ہونے کا موقع دیا۔
فلینظر :فاعطہ لینظر امر واحد مذکر غائب نظر (باب نصر) مصدر سے چاہیے کہ وہ دیکھے۔
Ayah 80:25(80:25) انا صببنا الماء صبا : جملہ مستانفہ ہے انا تحقیق ہم نے صببنا ماضٰ کا صیغہ جمع متکلم صب (باب نصر) مصدر سے بمعنی اوپر سے بہانا۔ متعدی ہے۔ اسی مصدر سے باب ضرب سے بمعنی اوپر سے بہنا (فعل لازم) آیا ہے ۔ لیکن قرآن مجید میں یہ متعدی آیا ہے۔ صبا مفعول مطلق۔ مبالغہ کے لئے ۔ ہم نے آسمان سے خوب (مینہ) برسایا۔
Ayah 80:26(80:26) ثم شققنا الارض شقا : ثم تراخی وقت کے لئے ہے۔ پھر، ازاں بعد۔ شققنا ماضی جمع متکلم۔ شق (باب نصر) مصدر۔ بمعنی پھاڑنا۔ چیرنا۔ شقا مفعول مطلق پھر ہم نے زمین کو خوب چیرا۔ پھاڑا۔ مطلب یہ ہے کہ زمین کو ہل وغیرہ سے تیار کیا۔ چیرنے پھاڑنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اس لئے کی ہے کہ ہر فعل کا وہی مسبب ہے۔
Ayah 80:27(80:27) فانبتنا فیہا حبا۔تعقیب کا ہے۔ انبتنا ماضی جمع متکلم انبات (افعال) مصدر سے۔ پھر ہم نے اگایا۔ فیہا میں ضمیر واحد مؤنث کا مرجع الارض ہے۔ حبا۔ انبتنا کا مفعول ہے۔ اناج، غلہ، گندم، جو وغیرہ۔ اناج کے دانہ کو حب اور حبۃ کہتے ہیں۔ پھر ہم نے زمین میں سے اناج اگایا۔
Ayah 80:28(80:28) عنبا وقضبا۔ واؤ عاطفہ، عنبا معطوف، واؤ عاطفہ قضبا معطوف ہر دو عنبا، قضبا کا عطف حیا پر ہے۔ عنب بمعنی انگور۔
امام راغب لکھتے ہیں :۔ عنب انگور کو بھی کہتے ہیں اور اس کے درخت کو بھی۔ اس کا واحد وعنبۃ ہے اور جمع اعناب ہے۔
قضبا کھیرا، یا عام سبز ترکاری۔ قضب وقضیب دونوں کے معنی تروتازہ ، لیکن درخت کی تروتازہ شاخوں کو بھی قضیب کہا جاتا ہے۔
Ayah 80:29(80:29) وزیتونا و نخلا۔ اور زیتون اور کھجور کے درخت۔
Ayah 80:30(80:30) وحدائق غلبا : اور گھنے باغ۔ زیتون ، نخل (کھجور کے درخت) اور گھنے باغ سب کا عطف حبا پر ہے۔
حدائق جمع حدایقۃ واحد۔ وہ باغ جس کی چار دیواری ہو، موصوف۔ غلبا : حمر ، حمراء حمر کے وزن پر اغلب غلباء کی جمع ہے صفت بمعنی گھنے۔ غلیظۃ الشکر، ملتفۃ : گھنے درختوں والا جن کی شاخیں ایک دوسرے پر چڑھی ہوئی ہوں۔
Ayah 80:31(80:31) وفاکہۃ وابا۔ اور پھل (جن کو مزہ کے لئے کھایا جاتا ہے) فقہاء نے کہا ہے کہ اگر کسی نے فاکھۃ نہ کھانے کی قسم کھالی تو کھجور۔ انگور زیتون کھانے سے قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ یہ پھل طاقت کے لئے کھائے جاتے ہیں۔ تنہا مزے کے لئے نہیں کھائے جاتے۔ اسی طرح اس پھل کو کھانے سے بھی قسم نہیں ٹوٹے گی جس سے مقصود غذا اور دواء دونوں ہوتے ہیں۔ جیسے انار۔
ابا۔ گھاس۔ چراگاہ۔ جانوروں کے کھانے کی گھاس اور چارہ : فاکھۃ وابا کا عطف بھی حبا پر ہے۔ اور ہم نے پھل اور چارہ (بھی) اگائے۔
Ayah 80:32(80:32) متاعا لکم ولانعامکم یہ انبتنا کی علت ہے۔ ان چیزوں کو ہم نے تمہارے لئے اور تمہارے چوپاؤں کے لئے اگایا۔
متاعا منصوب ہے کیونکہ :۔
(1) یہ انبتنا کا مفعول لہ ہے۔
(2) یہ انبتنا کے لئے بطور مؤکدہ آیا ہے۔ کیونکہ اشیاء کا پیدا کرنا انسان اور حیوان دونوں کے لئے متاع حیات ہے۔
انعامکم : مضاف مضاف الیہ، تمہارے مویشی، بھیڑ، بکری، گائے، اونٹ مویشی کو اس وقت انعام نہیں کہا جاسکتا جب تک ان میں اونٹ داخل نہ ہوں۔ یہ نعم کی جمع ہے جس کے معنی اصل میں تو اونٹ کے ہیں مگر بھیڑ بکری اور گائے بھینس پر بھی بولا جاتا ہے۔
Ayah 80:33(80:33) فاذا جاءت الصاخۃ :ترتیب کا۔ مابعد کی ماقبل پر ترتیب کی دلالت کرتا ہے اذا ظرف زمان ہے زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے گو کبھی زمانہ ماضی کے لئے بھی آتا ہے۔ جیسے واذا رأوا تجارۃ او لھوا ن انفضوا الیہا (62:11) اور جب انہوں نے سودا بکتا دیکھا یا تماشہ ہوتا دیکھا تو جھٹک کر اسی طرف چل دئیے۔ اذا اکثر و بیشتر شرط ہی ہوتا ہے۔ مفاجات کے لئے بھی آتا ہے۔
آیت ہذا میں بطور ظرف زمان آیا ہے بمعنی جب (شرطیہ)
الصاخۃ : (ص خ خ مادہ) یہ صخ یصخ صخا فھو صاخ سے ہے جس کے معنی کسی ذی نطق کی آواز کی سختی اور کرخت پن کے ہیں۔ پھر جب قیامت کا غل مچے گا۔ غل۔ کان پھوڑ دینے والی چیخ۔
ابو اسحاق نے کہا ہے کہ :۔ صاخہ وہ شور ہے جس میں قیامت برپا ہوگی اور جو کانوں کو پھوڑ ڈالے گا اور بہرا کر دے گا کہ بجز اس آواز کے جو زندہ ہونے کے لئے دی جائے گی اور کوئی چیز سنائی نہ دے گی۔ (تاج العروس) ۔ الصاخۃ :
(1) کان بہرا کردینے والا شور۔ (ضیاء القرآن)
(2) ای النفخۃ الثانیۃ۔ صور میں دوسری بار پھونک مارنا۔ (السیر التفاسیر)
(3) کان بہرہ کردینے والی آواز۔ (تفہیم القرآن)
(4) کانوں کو بہرا کردینے والا شور۔ (بیان القرآن)
(5) صیحۃ القیامۃ (قیامت کی چیخ) ۔ (الخازن)
(6) الصاخۃ الصحیۃ وسمیت بھا لشدید صو تھا کانھا تصخ الاذان الصاخۃ کو الصیحۃ اس کی آواز کی شدت کی وجہ سے کہتے ہیں کہ کانوں کو بہرہ کئے دیتی ہے۔
فاذا جاءت الصاخۃ۔ جملہ شرطیہ ہے اس کی جزاے محذوف ہے پورا جملہ شرطیہ انھا تذکرۃ (آیت 80:11) سے مربوط ہے
اس طرح پورا معنی یوں ہوگا :۔ یہ قرآن ایک یا دداشت اور نصیحت ہے۔ جب صور کی آواز آئے گی اس وقت نصیحت قبول کرنے والوں کو حال قبول نہ کرنے والوں کے حال سے جدا ہوگا۔
اختلاف حال کیا ہوگا ؟ اس کا بیان آئندہ آیات : وجوہ یومئذ ۔۔ الخ میں کیا گیا ہے۔ (80:40)
Ayah 80:34(80:34) یوم یفر المرء من اخیہ ، یوم ، اذا جاءت سے بدل ہے۔ (جلالین و تفسیر حقانی) ۔ بمعنی جس دن کہ ۔۔ یفر مضارع واحد مذکر غائب۔ فرار (ضرب) مصدر سے وہ بھاگے گا۔ جس دن کہ انسان اپنے بھائی سے (دور) بھاگے گا۔
Ayah 80:35(80:35) وامہ وابیہ۔ اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے (بھی دور بھاگے گا) امہ وابیہ کا عطف اخیہ پر ہے۔
Ayah 80:36(80:36) وصاحبتہ وبنیہ اس کا عطف بھی اخیہ پر ہے۔ صاحبتہ مضاف مضاف الیہ۔ صاحبۃ، صحبۃ (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ ساتھ رہنے والی، بیوی، جورو۔ بنیہ مضاف مضاف الیہ ۔ اس کے بیٹے۔
ترجمہ :۔ اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں (یعنی اولاد) سے بھی دور بھاگے گا۔
بھاگنے کی یا تو یہ وجہ ہوگی کہ اس کو اپنا خوف پڑا ہوگا یا ان کے کفر یا ان کی بدحالی کی وجہ سے ہر شخص کو اپنے اقرباء سے نفرت اور عداوت ہوجائے گی۔
حضرت علی ؓ کی روایت ہے کہ :۔ حضرت خدیجہ ؓ نے اپنے دو بچوں کی کیفیت جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ دونوں دوزخ میں ہوں گے۔ حضرت خدیجہ ؓ کو یہ سن کر ناگواری ہوئی۔
حضور ﷺ نے ان کے چہرہ پر ناگواری کا اثر دیکھ کر فرمایا اگر تم بھی ان کے مقام کو دیکھ لو تو تم کو بھی ان سے نفرت ہوجائے گی ! (الحدیث رواہ احمد)
Ayah 80:37(80:37) لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ : یہ جملہ سبب ہے قیامت کے روز انسان کے اپنے عزیزو اقارب سے دور بھاگنے کا
لکل امری منھم۔ خبر۔ شان یغنیہ مبتدا۔ یومئذ اس کا ظرف۔ (تفسیر حقانی)
ہر شخص کی اس روز ایسی حالت ہوگی جو اس کو اوروں کی طرف سے بےپرواہ کر دے گی ۔ (ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہوگی)
لکل امری میں لام حرف جر ہے علت کے لئے آیا ہے۔ کل امری مضاف مضاف الیہ۔ امرء بمعنی مرد۔ انسان ، شخص۔
امرئ۔ کی ہمزہ بحالت رفع واؤ کی شکل میں اور بحالت نصب الف کی شکل میں اور بحالت جری کی شکل میں آتی ہے۔ امری چونکہ بحالت جر ہے اس لئے ہمزہ کو ی کی شکل میں لایا گیا ہے۔
منھم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب جملہ مذکورین کے لئے ہے یعنی کہ اخیہ ، امہ ، ابیہ ، صاحبتہ و بنیہ۔
یومئذ۔ یوم اسم ظرف منصوب۔ اذا مضاف الیہ، اس دن۔ ایسے واقعات کے دن۔ شان۔ دھندا۔ فکر، حال، کسی اہم معاملہ کو خواہ برا ہو یا بھلا شان کہتے ہیں۔ اس کی جمع شئرون ہے۔
یغنیہ : یغنی : مضارع واحد مذکر غائب اغناء (افعال) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب وہ اس کو مشغول رکھے گا۔ یعنی دوسرے کی خبر نہ لینے دے گا۔ بےپرواہ کر دے گا۔ یغنی میں ضمیر فاعل شان ہے۔
Ayah 80:38(80:38) وجوہ یومئذ مسفرۃ : وجوہ مبتداء مسفرۃ خبر، یومئذ متعلق بمفسرۃ۔
وجوہ : وجہ کی جمع ۔ چہرے ، کئی چہرے، کتنے ہی چہرے، اکثر چہرے۔ یومئذ ملاحظہ ہو آیت نمبر 37 متذکرۃ الصدر۔
مسفرۃ : اسفار (افتعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ چمک دار۔ روشن ۔ سفر کا معنی ہے سرپوش یا پردہ ہٹانا۔ جیسے سفر العمامۃ عن الرأس : سر سے عمامہ ہٹا دیا۔ سفر باب ضرب، سفر کرنا۔ سفر حقائق کو کھول دینے والی کتاب۔ سفرۃ (اسفار جمع) ایلچی۔ سفیر۔ جو مرسل کی حقیقت اور غرض کو کھول دیتا ہے۔ سفرۃ اعمال نامے لکھنے والے فرشتے۔
Ayah 80:39(80:39) ضاحکۃ : ضحک (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ جس کا مرجع وجوہ ہے۔ ضاحکۃ وجوہ کی خبر ثانی ہے۔ مسفرۃ خبر اول ہنستے ہوئے۔ خنداں۔
مستبشرۃ۔ استبشار (اسفتعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث شگفتہ، شاداں۔ خوش۔ ایسی چیز پانیوالے جس سے شگفتگی اور خوشی پیدا ہوجائے یہ وجوہ کی خبر ثالث ہے۔
ترجمہ آیات 38 تا 39:۔ کتنے ہی چہرے اس روز دمکتے ، ہنستے ، شاداں ہوں گے۔
Ayah 80:40(80:40) ووجوہ یومئذ علیہا غبرۃ : واؤ عاطفہ۔ وجوہ (جمع وجہ کی) بمعنی چہرے۔ مبتدائ۔
یومئذ (ملاحظہ ہو آیت 37 مذکورہ بالا) متعلق خبر علیہا غبرۃ خبر۔ بمعنی خاک، اور وہ اثر جو کسی چیز پر جمی ہوئی خاک دور ہونے کے بعد باقی رہ جاتا ہے۔ مراد یہ کہ غم کے سبب چہروں کا رنگ بگڑ جائے گا۔
ترجمہ ہوگا :۔ اور کتنے ہی چہروں پر خاک اس دن پڑی ہوگی۔