Explained with ayahs 34–46
انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات
طامتہ الکبریٰ سے مراد قیامت کا دن ہے اس لئے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہوگا، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ 46) 54۔ القمر :46) یعنی قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کرلے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى 23ۭ) 89۔ الفجر :23) یعنی اس دن آدمی نصیحت حاصل کرلے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
سورة النّٰزِعٰت 23
اس کی تشریح بھی ہم تفسیر سورة ملک حاشیہ 36 میں کرچکے ہیں۔ رہا یہ ارشاد کہ تم ہر اس شخص کو خبردار کردینے والے ہو جو اس کا خوف کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خوف نہ کرنے والوں کو خبردار کرنا تمہارا کام نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے خبردار کرنے کا فائدہ اسی کو پہنچے گا جو اس دن کے آنے کا خوف کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
پہلے اہل جہنم کی خاص علامات بیان کی گئی وہ دو ہیں
فَاَمَّا مَنْ طَغٰى،ۙوَاٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا
اول طغیان یعنی اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کے احکام کی پابندی کے بجائے سر کشی کرنا، دوسرے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینا یعنی جب ایسا کوئی کام سامنے آئے کہ اسکے اختیار کرنے سے دنیا میں تو آرام یا لذت ملتی ہے مگر آخرت میں اس پر عذاب مقرر ہے اس وقت وہ دنیا کی لذت کو ترجیح دے کر آخرت کی فکر کو نظر انداز کردے۔ جو شخص دنیا میں ان دو بلاؤں میں مبتلا ہے اس کے لئے فرمایا فان الجحیم ھی الماوی، یعنی جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے۔ اسکے بعد اہل جنت کی اسی طرح دو علامتیں بتلائی ہیں۔ وَاَمَّا مَنْ خَافَ…
Read the full tafseer →جو لوگ قیامت کو دیکھ کر اس کو ماننا چاہتے ہیں ان کی ذمہ داری تمہارے اوپر نہیں ہے۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ تمہارا انذار صرف انہی پر کارگر ہو گا جو دلائل کی روشنی میں اس کو بن دیکھے ماننے اور اس سے ڈرنے کے لیے تیار ہوں۔
Read the full tafseer →45۔ 1 یعنی آپ کا کام صرف انذاز (ڈرانا) ہے، نہ کہ غیب کی خبریں دینا، جن میں قیامت کا علم بھی ہے جو اللہ نے کسی کو بھی نہیں دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–45
9: عرب کے کافر لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا جو انکار کرتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی مردے کے زندہ ہونے کو بہت مشکل سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کائنات کی دوسری چیزوں، مثلاً آسمان، کے مقابلے میں انسان کو پیدا کرنا زیادہ آسان ہے، اگر تم مانتے ہو کہ آسمان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟
Read the full tafseer →انما ................ یخشھا (45:79) ” تم صرف خبردار کرنے والے ہو۔ ہر اس شخص کو جو اس کا خوف کرے “۔ تمہارا فریضہ بس یہی ہے۔ تمہارے حدود بھی یہاں تک ہیں کہ جو شخص قیامت سے ڈرتا ہے اس کو ڈرائیں ۔ یعنی ایسے لوگ جو یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن ہم نے خدا کے سامنے پیش ہونا ہے۔ یہ دن ضرور آتا ہے اور اس کے وقت کا علم صرف اللہ کو ہے۔
ہاں وقت بتانے کے بجائے اس کی ہولناکیوں اور ہنگامہ خیزیاں بتادی جاتی ہیں۔ اور جب وہ برپا ہوگی تو اس وقت انسان کا شعور کیا ہوگا اور احساسات کیسے ہوں گے۔ اس کی عظمت کا اندازہ اسی سے لگا لو کہ اس وقت تم اس پوری دنیاوی زندگی کے بارے میں ان تاثرات کا اظہار کرو گے۔
Read the full tafseer →6 یعنی آپ کا کام قیامت کی خبر سنا کر لوگوں کو ڈرا دینا ہے۔ اب جس کے دل میں اپنے انجام کی طرف سے کچھ خوف ہوگا یا خوف آخرت کی استعداد ہوگی وہ سن کر ڈرے گا اور ڈر کر تیاری کرے گا۔ گویا آپ کا ڈرانا نتیجہ کے اعتبار سے صرف ان ہی لوگوں کے حق میں ہوا جو اس سے منتفع ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ورنہ نااہل لوگ تو انجام سے غافل ہو کر ان ہی فضول بحثوں میں پڑے ہوئے ہیں کہ قیامت کس تاریخ، کس دن، کس سن میں آئے گی۔
Read the full tafseer →آیت 45{ اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰٹہَا۔ } ”آپ ﷺ تو بس خبردار کرنے والے ہیں ‘ ہر اس شخص کو جو اس سے ڈرتا ہو۔“
جو لوگ قیامت کے تصور سے ڈرتے ہوں یا جو اس کے ذکر سے ڈر جائیں آپ ﷺ انہیں خبردار کرتے رہیں ‘ آپ ﷺ کے خبردار کرنے سے ایسے لوگوں کا خوف اور تقویٰ مزید بڑھے گا۔ ظاہر ہے جس شخص کی روح میں زندگی کی کوئی رمق موجود ہے اس کے دل میں قیامت کے ذکر سے ضرور خشیت پیدا ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
28 ان کافروں نے بھی عجیب مذاق بنا رکھا ہے کہ اکثر آپ سے یہی سوال پوچھتے رہتے ہیں کہ قیامت کب آنے والی ہے۔ حالانکہ یہ بات آپ کے احاطہ علم سے باہر ہے۔ یہ لوگ جتنا بھی اس سوال کے پیچھے پڑیں اور اس سلسلہ میں آپ کو پریشان کریں بالآخر اس کا یہی جواب سامنے آئے گا کہ اس بات کا علم صرف اللہ کو ہے اور اس بات کا جاننا عملی لحاظ سے کچھ مفید بھی نہیں۔ مثلاً ہر شخص کا یہ تصور ہوتا ہے کہ مرنے سے پہلے مجھے فلاں کام کر جانا چاہیے۔ حالانکہ اپنی موت کا علم اللہ کے سوا کسی کو بھی نہیں ہوتا۔ لہذا قیامت کے عقیدہ کا عملی پہلو یہی ہے کہ انسان اس دنیا کی زندگی میں جو دارالامتحان ہے ایسے کام کر جائے جو اس کے لیے مفید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
19۔ اور جن کے دلوں میں سرے سے قیامت کا عقیدہ اور اس کی طرف سے اندیشہ ہی نہیں، ان کے لئے آپ کی ساری تبلیغ بےاثر ہے۔ (آیت) ” یخشھا “۔ ضمیر ھا، الساعۃ کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
واما من خاف مقام ربہ الخ، اس آیت میں اہل جنت کی دو علامتوں کو بیان فرمایا، اول یہ کہ جس شخص کو دنیا میں ہر عمل کے کرنے کے وقت یہ خوف اور اندیشہ لگا رہا کہ مجھے ایک روز حق تعالیٰ کے حضور پیش ہو کر اپنے تمام اعمال کی جواب دہی کرنی ہے، دوسرے اپنے نفس کو ناجائز خواہشات سے قابو میں رکھا، جس نے دنیا میں یہ دو وصف حاصل کر لئے اس کے لئے قرآن کریم یہ خوشخبری دے رہا ہے کہ اس کا ٹھکانہ جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
بحمدتم اللہ
Read the full tafseer →انما انت منذر من یخشھا . یعنی آپ کو قیامت کا وقت بیان کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ اس لیے بھیجا
گیا ہے کہ اہل خشیت کو شدائد قیامت سے ڈرائیں تاکہ شدائد قیامت میں مبتلا کرنے والے اسباب سے وہ پرہیز کریں اور صرف اتنا یقین کرلینا کہ قیامت آئے گی ‘ دوسروں کو ڈرانے کے لیے کافی ہے ‘ قیامت کا تعینی وقت بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ( رسول اللہ ﷺ ہر شخص کے لیے منذر تھے کیونکہ بغیر تخصیص کے آپ : ﷺ کی نبوت عمومی تھی) مگر اہل خشیت ہی آپ ﷺ کے انذار سے فائدہ اٹھانے والے ہیں (جن کے دل میں خوف خدا اور اندیشۂ قیامت نہیں ان کو کچھ فائدہ نہیں) اسی لیے خاص طور پر اہل خشیت کا ذکر کیا۔
سوال کرنے کی ممانعت کی علّت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(45۔ 46) آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈرانے والے ہیں جو اس سے ڈرتا ہو، جس روز قیامت کو دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا گو دنیا میں اور قبروں میں صرف ایک دن کے آخری حصہ میں یا اس کے اول حصہ میں رہے ہیں۔
Read the full tafseer →انما انت منذرمن یخشھا : یعنی آپ کا کام اس کا وقت بتانا نہیں ہے بلکہ اس سے ڈرانا ہے اور اگرچہ آپ کا فریضہ تمام دنیا کو اس سے ڈرانا ہے مگر اس کا فائدہ صرف اس کو ہوگا جس کے دل میں اس کا خوف ہے اور وہ آپ کی تبلیغ سن کر تیاری کرے گا۔ جس کے دل میں قیامت پر ایمان اور اس کا خوف ہی نہیں اسے آپ کے ڈرانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، وہ اس کا وقت ہی پوچھتا رہ جائے گا۔
Read the full tafseer →انما انت منذر من یخشھا۔ منذر کا معنی ڈرانے والا ہے، ڈرانے کو ڈرنے والے کے ساتھ خاص کیا کیونکہ وہی اس سے نفع حاصل کرتا ہے اگرچہ سروردوعالم ہر کسی کو خبردار کرنے والے ہیں یہ آیت بھی اسی طرح ہے جس طرح یہ ارشاد ہے، انما تنذر من اتبع الذکر وخشی الرحمن بالغیب۔ یاسین 11) آپ اسے خبر کرنے والے ہیں جو ذکر کی اتباع کرے اور بن دیکھے رحمن سے ڈرے، عام قراء کی قرات منذر تنوین کے بغیر اضافت کے ساتھ ہے مقصود تخفیف ہے ورنہ اصل میں تو اسکے آخر میں تنوین ہے کیونکہ یہ مستقبل کے معنی میں ہے کیونکہ جب یہ ماضی کا معنی دے تو اس پر تنوین نہیں آتی فراء نے کہا، تنوین اور اس کا ترک دونوں طرح جائز ہے جس طرح اسمیں دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
21۔ البزار وابن جریر وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ برابر قیامت کے بارے میں سوال کرتے رہے یہاں تک کہ ان پر یہ آیت فیم انت من ذکرہا الی ربک منتہہا۔ آپ کو اس کے ذکر سے کیا واسطہ اس کے علم کی انتہا آپ کے رب ہی کی طرف ہے۔ نازل ہوئی پھر آپ نے اس بارے میں سوال نہیں کیا۔
22۔ سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عروۃ (رح) سے مرسلاً اسی طرح روایت کیا۔
23۔ عبد بن حمید والنسائی وابن جریر والطبرانی وابن مردویہ نے طارق بن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قیامت کا ذکر اکثر فرمایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ یہ آیت فیم انت من ذکرہا الی…
Read the full tafseer →[انمَآ انتَ : آپ ﷺ تو بس ][ مُنْذِرُ مَنْ : اس کو خبردار کرنے والے ہیں جو ][ يَّخْشٰىهَا : ڈرتا ہے اس سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
﴿اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشٰىهَاؕ0045﴾ (آپ تو صرف ایسے شخص کے ڈرانے والے ہیں جو قیامت سے ڈرتا ہو) یعنی آپ کی بات مان کر ایمان لے آئے اور قیامت کے مواخذہ اور محاسبہ سے خوف زدہ ہو، جسے ماننا نہیں ہے آپ کا ڈرانا اس کے حق میں مفید نہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا (رح) 0046﴾ (جس دن وہ اس کو دیکھیں گے ایسا معلوم ہوگا کہ گویا صرف ایک دن کے آخری حصہ میں رہے ہوں یا اس کے اول حصہ میں) آج تو بار بار پوچھ رہے ہیں کہ قیامت کب آئے گی اور بطور استہزا اور تمسخر یوں کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا جب قیامت آئے گی اس وقت دنیا والی زندگی (جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
اعلان خداوندی بقدرت کاملہ وعاجزی و پستی کائنات پیش عظمت الہی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء ........ الی ........... الا عشیۃ اوضحہا “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں خداوندعالم نے اپنی شان حاکمیت عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہوئے قیامت اور قیامت کے احوال بیان فرمائے تھے، اور یہ کہ کائنات کا یہ سارا نظام دم کے دم میں درہم برہم ہوجائے گا، زمین و آسمان اور پہاڑ چاند سورج اور ستارے غرض سب ہی ختم کردیئے جائیں گے اور دلوں کا اضطراب وبے چینی کا عالم ناقابل تصور ہوگا تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کاملہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اور یہ کہ کائنات کی کوئی طاقت اور قوت خداوند عالم کی…
Read the full tafseer →17:۔ ” انما انت “ یہ مشرکین کے سوال کا جواب ہے آپ تو قیامت کے اہوا و شدائد سے ڈرنے والوں کو ڈرانے والے اور خبردار کرنے والے ہیں یہی آپ کا فریضہ ہے آپ قیامت کا وقت معین بتانے کے لیے نہیں آئے۔ اسی لیے آپ کو اس کا علم بھی نہیں دیا گیا۔ لم تبعث لتعلمہم بوقت الساعۃ وانما بعثت لتنذر من اھوالہا من یخاف شدائدھا (مدارک) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
(گذشتہ سے پیوستہ)
اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر حکماء کے نظریہ کے مطابق بیان کیا ۔ اور اس ضمن میں ماننے والے اور انکار کرنے والے دونوں گروہوں کے نتائج بھی بیان کردیے ہیں ۔ پہلے منکرین کے حالات بیان ہوئے کہ کہتے ہیں ” ء اذاکنا عظاما نخرۃ “ جب ہم مرکر بوسیدہ ہدیاں ہوجائیں گے۔ تو پھر کیسے زندہ ہوجائیں گے ، اللہ جل شانہ نے دو بار ہ زندگی کی دلیل کے طور پر فرمایاء انتم اشد خلقا ام السماء بنھا “ کیا تمہارے جیسی چھوٹی چیز کا پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان جیسی بڑی چیز کا بنانا ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ۔ اس نے پہلی دفعہ تم کو پیدا کردیا تھا ، تو دوبارہ زندہ کرنا کیسے مشکل ہے ۔ اس نے…
Read the full tafseer →اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشٰىہَا 45 ۭ
نذر
وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14]
والنَّذِيرُ :
المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2]
( ن ذ ر ) النذر
الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کردیا ۔
النذ یر
کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
ترکیب ¦ ایان ظرف زمانی مبنی علی الفتح مبتداء مرسہا خبرہ ای منتھی قیامھا قال ابو عبیدۃ مرسی السفینۃ مستقرباء الجملۃ بیان السوال۔ فیم اصلہ فیما ای فی ای شیء خبرو المبتداء انت من ذکراھا بیان لای شیء والمعنی لست فی شیء من ذکر وقت القیامۃ انما یعلمھا اللہ تعالیٰ خاصۃ والاستفھام انکاری وردلسوال المشرکین عنھا الی ربک متعلق بثابت خبر منتھاھا مبتداء ای منتھی علمھا لا یعلم تعین وقتھا الاہو والجملۃ تاکید الجملۃ الاولی فی ردسوالھم وکذا انما انت منذر مضاف الی من وھذا قراۃ الجمہور وقریٔ بالتنوین قال الفراء کلاھما صواب کقولہ بالغ امرہ وموھن کید الکافرین وقال صاحب الکشاف الاصل ھو النتوین والا ضافۃ تخفیف وکلا…
Read the full tafseer →اِنَّمَـآ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰھَا۔ (النازعات : 45)
(آپ تو صرف ان لوگوں کو اس سے آگاہ کرنے والے ہیں جو اس سے ڈریں۔ )
جو لوگ قیامت کو دیکھ کر ماننا چاہتے ہیں آپ پر ان کی ذمہ داری نہیں، آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے، آپ کسی کے ایمان کے ذمہ دار نہیں، آپ کی حیثیت خبردار کرنے والے کی ہے۔ اور یہ خبردار کرنا اور یہ انذار صرف ان لوگوں پر اثرانداز ہوتا ہے جو قیامت کو دیکھے بغیر صرف آپ کی اطلاع پر یقین لا کر اسے تسلیم کریں اور اس سے ڈریں۔ اور ان کے اندر یہ فکرمندی پیدا ہو کہ اگر آج ہم نے اپنی زندگی میں قیامت کے دن کی جوابدہی کی تیاری نہ کی تو وہاں ہمیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کون بچا سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
فہم القرآن
ربط کلام : سورت کی ابتدائی آیات میں قیامت کے ثبوت دئیے گئے ہیں اس کا اختتام بھی انہیں دلائل پر کیا گیا ہے۔
نبی معظم ﷺ سے اہل مکہ مختلف موقعوں پر مختلف الفاظ اور انداز میں سوال کرتے کہ قیامت کب آئے گی۔ اس سوال کے انہیں کئی جواب دیئے گئے جن کے بنیادی طور پر دو مفہوم ہیں۔
1۔ کوئی اقرار کرے یا انکار کرے قیامت ہر صورت واقع ہوگی۔ 2۔ قیامت کے بارے میں سوال کرنے والوں کو اس کا وقت جاننے کی بجائے اس کے احتساب کا فکر کرنا چاہیے۔ کفار کے سوال کا جہاں یہ جواب دیا گیا ہے کہ اے رسول ! لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کے کا وقت پوچھتے ہیں کہ وہ کب اور کس وقت واقع ہوگی ان سے فرمائیں ! کہ قیامت کا وقت…
Read the full tafseer →45 : اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرُمَنْ یَّخْشٰہَا (آپ صرف اس شخص کو ڈرانے والے ہیں جو اس سے ڈرتا ہو) یعنی آپ کی بعثت اس لئے نہیں ہوئی کہ قیامت کی ہولناکی سے ان لوگوں کو خبردار کریں جو اس کے شدائد سے بچنا چاہتے ہیں۔
قراءت : منذرٌ یزید و عیاش نے تنوین سے پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →44 ۔” الی ربک من تھا ھا “ یعنی اس کے علم کی انتہا اللہ کے پاس ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
42۔ 46۔ نسائی ‘ مستدرک 4 ؎ حاکم مسند بزار مسند عبد بن حمید وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب تک یہ آیتیں نازل نہیں ہوئی تھیں اس وقت تک ٹھٹھے کے طور پر اکثر مشرکین آنحضرت ﷺ سے قیامت کا حال پوچھا کرتے تھے جب یہ آیتیں نازل فرما کر اللہ تعالیٰ نے جتلایا کہ قیامت کے آنے کا وقت سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں تو مشرکنا مکہ اور ٹھٹھے کی باتیں کرتے تھے مگر عاجز آ کر قیامت کا حال پوچھنا انہوں نے کم کردیا تھا۔ ان روایتوں میں بعض صحیح ہیں اور باقی کی تقویت صحیح روایتوں سے ہوجاتی ہے۔ صحیح 5 ؎ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے سائل کی صورت بن کر آنحضرت ﷺ سے دین کے چند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشٰىهَا) یعنی آپ کی تنبیہ کا فائدہ صرف اسی شخص کو ہوتا ہے جو اس گھڑی کی آمد سے ڈرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے سے خائف ہے پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے سب سے اہم چیز اس کے لیے تیاری اور اس کے لیے عمل ہے جو کوئی قیامت پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ اس کی پروا نہیں کرتا اور نہ وہ اس تکلیف میں پڑتا ہے کیونکہ یہ ایسا تعنت ہے جو تکذیب اور عناد پر مبنی ہے اور جب سائل اس حال کو پہنچ جائے تو اس کے بارے میں جواب دینا عبث ہے احکم الحاکمین اس عبث کام سے منزہ ہے۔
Read the full tafseer →(34) پیغمبر (علیہ السلام) کے کام انذار و تبلیغ اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ﷺ کا کام تو خبردار کردینا ہے اور بس، تاکہ لوگ اپنی اصلاح کی فکر و سعی کرسکیں۔ اور آپ کا یہ انذار ہے تو سب لوگوں کے لیے عام، لیکن اس سے مستفید و فیضیاب وہی ہوسکے گا جو ڈرتا ہو اپنے رب کی گرفت و پکڑ سے، کہ ایسے ہی لوگ حق بات پر کان دھرتے اور اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، رہ گئے وہ لوگ جو غائبانہ اور بن دیکھے ڈرنے کی بجائے قیامت کو دیکھ کر ہی ماننا چاہتے ہیں، تو ان پر ایسے انذار کا نہ کوئی اثر ہوسکتا ہے اور نہ ہی ان کو سنانا اور منوانا آپ ﷺ کی ذمہ داری ہے، سو ان کا معاملہ اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
جس نے کائنات بنائی وہ تمہیں بھی بنا سکتا ہے
تشریح : یہاں ایک تو انسان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا خود اس کو بھی اللہ نے ہی بنایا ہے اور اس کے رہن سہن کے لیے پوری کائنات بنائی ہے۔ جو یقینا انسان کی پیدائش سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام ہے اگر وہ اللہ کی قدرت حکمت اور بڑائی پر غور کرے تو وہ اللہ کی دی گئی اس خبر کو ہرگز معمولی یا جھوٹ نہ سمجھے کہ '' قیامت آنے والی ہے۔ قیامت کے بعد حساب کا دن ضرور آئے گا ''۔
ان آیات میں اس یقین دہانی کے علاوہ فطرت اور کائنات کے مضبوط ' معقول اور بہترین انتظامات کا ذکر بھی بڑی خوبصورتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
آیات 27 تا 46۔
اسرار ومعارف۔
اگر انہیں دوبارہ زندہ ہونے کا اعتبار نہیں آتا اور اسے مشکل جانتے ہیں تو موجودہ حیات پہ غورکریں کہ بندہ کو دوبارہ بنانامشکل ہے یا آسمانوں کی تخلیق جن کو ان کے بیشمار امور اور مخلوق کے ساتھ بنادیا اور ایسا بنایا کہ کہیں کوئی خامی باقی نہ رہی بلکہ وہ شب وروز کی آمدورفت اور سورج کے طلوع و غروب کے باعث پورے نظام حیات کو چلانے کا سبب بن گیا اس کے بعد زمین کو بچھادیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ برابر بچھی ہوئی ہے اور اس میں زندگی کے اسباب نہریں دریا اور سبزہ پیدا کردیے ہیں اور اس بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیے جو بیشمار نعمتوں کا سبب ہیں اور جن سب امور کے نتیجے میں تم…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی آپ ﷺ کا کام اس کا وقت بتانا نہیں ہے بلکہ اس سے ڈرانا ہے جس کے دل میں اس کا ڈر ہوگا وہ اس کے لئے تیاری کرے گا اور جس کے دل میں ڈر نہیں ہوگا وہ اس کا وقت ہی پوچھتا رہ جائے گا۔
Read the full tafseer →(79:45) انما انت منذر من یخشھا۔ سوال کرنے کی ممانعت جو پہلے کلام سے مستفاد ہوتی تھی اس کی یہ جملہ تاکید کرتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ :۔ لوگ فضول آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی آپ کو تو اس کا علم ہی نہیں یعنی آپ کو تو اس کے متعلق بتایا ہی نہیں گیا۔ (نہ آپ اس کا دعوی کرتے ہیں) اس کا علم تو صرف تیرے اللہ کے پاس ہے آپ کو تو محض اہل خشیت کو شدائد قیامت سے ڈرانے کے لئے بھیجا گیا ہے۔
انما : تحقیق، بےشک، سوائے اس کے نہیں۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور ما کافہ ہے جو حصر کے لئے آتا ہے اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے۔ منذر : انذار (افعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے ذرانے والا۔ مضاف من موصولہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن
النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →(ف 3) یعنی آپ کا کام قیامت کی خبر سنا کر لوگوں کو ڈرادینا ہے ، اب جس کے دل میں اپنے انجام کی طرف سے کچھ خوف ہوگا یہ خوف آخرت کی استعداد ہوگی وہ سن کر ڈرے گا اور ڈر کرتیاری کرے گا، گویا آپ کا ڈرانا نتیجہ کے اعتبار سے صرف ان ہی لوگوں کے حق میں ہوا جو اس سے منتفع ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں ، ورنہ ناہل لوگ تو انجام سے غافل ہوکران ہی فضول بحثوں میں پڑے ہوئے ہیں کہ قیامت کس تاریخ کس دن کس ماہ میں آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
[14] یعنی جب خود آپ کو اس کے وقت کا علم تعین کے ساتھ نہیں دیا گیا ہے تو آپ انہیں کیا بتائیں گے۔ لہذا آپ اس بحث میں نہ پڑیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–46
جہنمی اور جنتی
2: ان آیتوں میں اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ قیامت کے بعد جہنم سے بچنے اور جنت میں داخل ہونے کیلئے کن باتوں کی ضرورت ہے ۔ فرمایا ۔ جن لوگوں نے سرکشی اختیار کی ۔ حدود مذہبی سے جاوز کیا اور اس دنیائے حقیر کی زندگی کو زیادہ اہمیت دی اور یہ سمجھا کہ جو کچھ بھی ہے ، یہی چند روزہ حیات ہے ۔ انہوں نے اپنی جگہ جہنم میں بنائی ۔ جو لوگ اللہ کے سامنے پیش ہونے سے ڈرے کہ مبادا کہیں اعمال کی گرفت نہ ہو اور نفس کو ناجائز خواہشات سے روکا ۔ وہی جنت اور اس کی نعمتوں کے مستحق قرار دیئے جائیں گے
حل لغات :۔ سمکھا ۔ بلندی وبرزت الجحیم میں اس طرف اشارہ ہے کہ منکرین تو یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ان کو…
Read the full tafseer →(45) بس آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈرانے والے ہیں جو اس سے ڈرتا ہو۔ یعنی آپ تو صرف اسی شخص کو ڈرانے والے ہیں جو علم اجمالی کی وجہ سے مجازات کو جانتا ہے اور جس میں بالقوہ استعداد موجود ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ ڈرتے کو کیوں ڈراتے ہیں مطلب یہ ہے کہ آپ اخبار اجمالی سے اس شخص کو ڈراتے ہیں جو ڈرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور ڈر کر ایمان لانے والا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
ف 2۔ کفار بقصد انکار قیامت کا معین وقت پوچھا کرتے تھے، آگے اس کا جواب ہے کہ اس کے بیان کرنے سے آپ کا کیا تعلق کیونکہ بیان کا موقوف علیہ علم ہے اور وہ منتفی ہے اور انتفاء موقوف علیہ مستلزم ہے انتفاء موقوف کو۔
Read the full tafseer →تو تو صرف اس کو جو اس سے ڈرتا ہے خبردار کرنے والا ہے
۔ 45 (یخشھا) واحد مذکر غائب مضارع خشیۃ ” ھا “ ضمیر مفعول وہ اس سے ڈرتا ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اے ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ آپ کو اس لئے نہیں بھیجا گیا کہ آپ ان لوگوں کو قیامت کا تعین کر کے واضح کروا دیں کہ اسکی آمد کس وقت ہوگی ؟ یہ سوال آپ کے لئے درست نہیں ہے کیونکہ آپ کا کام فقط ڈرانا ہے ، اس شخص کو جو اس سے ڈرے اور ڈرنا چاہے۔ اگر کوئی شخص ڈرنا نہیں چاہتا تو اس کا معاملہ اس کے رب کے ساتھ ہے ، آپ کا مقصد صرف ڈرانا ہے وہ آپ ڈرا رہے ہیں جو کام ان کا ہے وہ ان ہی کے لئے آپ رہنے دیں ، ڈریں گے اور اپنی اصلاح کرلیں گے تو ان کا اپنا فائدہ ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
Thereafter, the special marks of the inmates of Paradise are described. They too have two characteristics:
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ (whereas for the one who feared to stand before his Lord, and restrained his self from the [ evil ] desire, 79:40). In other words, [ 1] the first characteristic of a God-fearing person is that, in this life, he shudders at the thought of appearing before Allah to account for his deeds on the Day of Reckoning; and [ 2] forbids the baser self from its evil desires. Those who are characterised by these two qualities…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
23 This also we have explained in E.N. 36 of Surah Al-Mulk above. As for the words "you are only a Warner to him who fears it", they do not mean that it is not your duty to warn those who do not fear, but it means: "Your warning will benefit only him who fears the coming of that Day."
Read the full tafseer →