اِلٰی رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَا ۟ؕاِلٰى رَبِّكَ مُنۡتَهٰٮهَاؕ
اس کا منتہا (یعنی واقع ہونے کا وقت) تمہارے پروردگار ہی کو (معلوم ہے)
— Fateh Muhammad Jalandhari
To your Lord is its finality.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz
اِلٰی رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَا ۟ؕاِلٰى رَبِّكَ مُنۡتَهٰٮهَاؕ
اس کا منتہا (یعنی واقع ہونے کا وقت) تمہارے پروردگار ہی کو (معلوم ہے)
— Fateh Muhammad Jalandhari
To your Lord is its finality.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz
Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat
اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے
اس کا منتہا (یعنی واقع ہونے کا وقت) تمہارے پروردگار ہی کو (معلوم ہے)
اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے
اس کا علم تو تمہارے پروردگار پر ختم ہے۔
تمہارے رب ہی تک اس کی انتہا ہے،
اس کی انتہا تو آپ کے رب تک ہے (یعنی ابتداء کی طرح انتہاء میں بھی صرف وحدت رہ جائے گی)،
تیرے رب ہی کی طرف اس (کے علم) کی انتہا ہے۔
اس کا علم تو آپ کے پروردگار پر ختم ہوتا ہے
یہ معاملہ تو تیرے رب کے حوالہ سے
آپ کے رب ہی کی طرف ہے اس (کے علم) کی انتہا
اس کا مدار تو (صرف) آپ کے پروردگار کی طرف سے ہے
اس کا انجام تو آپ کے رب ہی کی طرف ہے۔
اس کے آنے کا وقت تمہارے رب کو ہی معلوم ہے۔
Its knowledge rests with your Lord.
With your Lord is the final word about it.
With your Lord is the final word about it.
To your Lord it is limited.
Unto thy Lord belongeth (knowledge of) the term thereof.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
To your Lord is its finality.
This matter is in the hands of your Lord.
To your Lord is the goal of it.
Unto thy Lord is the Knowledge of the limit fixed therefor.
With thy Lord in the Limit fixed therefor.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 34–46
انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات طامتہ الکبریٰ سے مراد قیامت کا دن ہے اس لئے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہوگا، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ 46) 54۔ القمر :46) یعنی قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کرلے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى 23ۭ) 89۔ الفجر :23) یعنی اس دن آدمی نصیحت حاصل کرلے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
سورة النّٰزِعٰت 23 اس کی تشریح بھی ہم تفسیر سورة ملک حاشیہ 36 میں کرچکے ہیں۔ رہا یہ ارشاد کہ تم ہر اس شخص کو خبردار کردینے والے ہو جو اس کا خوف کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خوف نہ کرنے والوں کو خبردار کرنا تمہارا کام نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے خبردار کرنے کا فائدہ اسی کو پہنچے گا جو اس دن کے آنے کا خوف کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
پہلے اہل جہنم کی خاص علامات بیان کی گئی وہ دو ہیں فَاَمَّا مَنْ طَغٰى،ۙوَاٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا اول طغیان یعنی اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کے احکام کی پابندی کے بجائے سر کشی کرنا، دوسرے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینا یعنی جب ایسا کوئی کام سامنے آئے کہ اسکے اختیار کرنے سے دنیا میں تو آرام یا لذت ملتی ہے مگر آخرت میں اس پر عذاب مقرر ہے اس وقت وہ دنیا کی لذت کو ترجیح دے کر آخرت کی فکر کو نظر انداز کردے۔ جو شخص دنیا میں ان دو بلاؤں میں مبتلا ہے اس کے لئے فرمایا فان الجحیم ھی الماوی، یعنی جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے۔ اسکے بعد اہل جنت کی اسی طرح دو علامتیں بتلائی ہیں۔ وَاَمَّا مَنْ خَافَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
فرمایا کہ تمہیں اس بحث سے کیا تعلق؟ اس کا سرا تو صرف تمہارے رب کے پاس ہے۔ تم ان لوگوں کو یہ بتانے نہیں آئے ہو کہ قیامت کس دن آئے گی۔ اس کا علم تمہارے رب کے سوا اور کسی کے پاس نہیں ہے تو جو سوال سرے سے تم سے معلق ہے ہی نہیں تمہیں اس سے کیا واسطہ اور تم اس کی کھوج کرید میں کیوں پڑو! اس کو اللہ کے حوالہ کرو جو اس کا حقیقی علم رکھنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
43۔ 1 یعنی آپ کو اس کی بابت یقینی علم نہیں ہے، اس لئے آپ کا اس کو بیان کرنے سے کیا تعلق ؟ اس کا یقینی علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–45
9: عرب کے کافر لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا جو انکار کرتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی مردے کے زندہ ہونے کو بہت مشکل سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کائنات کی دوسری چیزوں، مثلاً آسمان، کے مقابلے میں انسان کو پیدا کرنا زیادہ آسان ہے، اگر تم مانتے ہو کہ آسمان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟
Read the full tafseer →الی ربک منتھھا (44:79) ” اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے “۔ اس کا معاملہ اللہ پر آکر رک جاتا ہے اسی کو اس کے برپا ہونے کے وقت کا علم ہے۔ اور وہی اس کا مجاز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
5 یعنی اس کا وقت ٹھیک متعین کر کے بتلانا آپ کا کام نہیں کتنے ہی سوال جواب کرو۔ آخرکار اس کا علم خدا ہی پر حوالہ کرنا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " پوچھتے پوچھتے اسی تک پہنچنا ہے، پیچھے سب بیخبر ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 44{ اِلٰی رَبِّکَ مُنْتَہٰٹہَا۔ } ”اس کا انجام تو آپ کے رب ہی کی طرف ہے۔“ یہ معاملہ تو آپ ﷺ کے رب ہی کے حوالے ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
28 ان کافروں نے بھی عجیب مذاق بنا رکھا ہے کہ اکثر آپ سے یہی سوال پوچھتے رہتے ہیں کہ قیامت کب آنے والی ہے۔ حالانکہ یہ بات آپ کے احاطہ علم سے باہر ہے۔ یہ لوگ جتنا بھی اس سوال کے پیچھے پڑیں اور اس سلسلہ میں آپ کو پریشان کریں بالآخر اس کا یہی جواب سامنے آئے گا کہ اس بات کا علم صرف اللہ کو ہے اور اس بات کا جاننا عملی لحاظ سے کچھ مفید بھی نہیں۔ مثلاً ہر شخص کا یہ تصور ہوتا ہے کہ مرنے سے پہلے مجھے فلاں کام کر جانا چاہیے۔ حالانکہ اپنی موت کا علم اللہ کے سوا کسی کو بھی نہیں ہوتا۔ لہذا قیامت کے عقیدہ کا عملی پہلو یہی ہے کہ انسان اس دنیا کی زندگی میں جو دارالامتحان ہے ایسے کام کر جائے جو اس کے لیے مفید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
19۔ اور جن کے دلوں میں سرے سے قیامت کا عقیدہ اور اس کی طرف سے اندیشہ ہی نہیں، ان کے لئے آپ کی ساری تبلیغ بےاثر ہے۔ (آیت) ” یخشھا “۔ ضمیر ھا، الساعۃ کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
واما من خاف مقام ربہ الخ، اس آیت میں اہل جنت کی دو علامتوں کو بیان فرمایا، اول یہ کہ جس شخص کو دنیا میں ہر عمل کے کرنے کے وقت یہ خوف اور اندیشہ لگا رہا کہ مجھے ایک روز حق تعالیٰ کے حضور پیش ہو کر اپنے تمام اعمال کی جواب دہی کرنی ہے، دوسرے اپنے نفس کو ناجائز خواہشات سے قابو میں رکھا، جس نے دنیا میں یہ دو وصف حاصل کر لئے اس کے لئے قرآن کریم یہ خوشخبری دے رہا ہے کہ اس کا ٹھکانہ جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ بحمدتم اللہ
Read the full tafseer →الی ربک منتھھا . یعنی مدت دنیا جس کے ختم ہونے پر قیامت بپا ہوگی ‘ خدا ہی کے سپرد ہے ‘ اس کے علاوہ کسی کو اسکا علم نہیں۔ یہ کلام انکار سابق کی علت ہے۔ جواب نما لیکن اگر فیم انت من ذکرٰھا کو سوال کا تتمہ قرار دیا جائے تو یہ جواب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
(43۔ 44) ان کے سامنے اس کے بیان کرنے سے آپ کا کیا تعلق بلکہ قیامت کا علم صرف آپ کے رب کو ہے۔ شان نزول : فِيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَا (الخ) طبرانی اور ابن جریر نے طارق بن شہاب سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم قیامت کا بہت زیادہ ذکر کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ پر یہ آیت نازل ہوئی، اور ابن ابی حاتم نے اسی طرح عروہ سے روایت نقل کی ہے۔
Read the full tafseer →الی ربک منتھھا :”منتھھا“ اس کی انتہا، جہاں جا کر بات ختم ہوتی ہے وہ رب تعالیٰ ہے، یعنی جس کسی سے قیامت کے متعلق پوچھو وہ بیخبر ہوگا، کسی دوسرے سے پوچھنے کو کہے گا تو وہ بھی بیخبر ہوگا، پوچھتے پوچھتے آخر میں جہاں بات ختم ہوگی اور جو بتاسکتا ہے وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے، درمیان میں سب بیخبر ہیں۔ (موضح القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
یسئلونک عن الساعۃ۔۔۔ تا۔۔۔۔ اوضحھا۔ یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا۔ حضرت ابن عباس نے کہا، مکہ مکرمہ کے مشرکوں نے رسول اللہ سے مذاق کے انداز میں سوال کیا قیامت کب برپا ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا، حضرت عروہ بن زبیر نے اس آیت کی تفسیر میں روایت نقل کی ہے رسول اللہ لگاتار قیامت کے بارے میں سوال کرتے رہے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی فیم انت من ذکراھا، الی ربک من تھا۔ مرسھا کا معنی اس کا قائم ہونا ہے فراء نے کہا، سوھا کا معنی اس کا قیام ہے جس طرح کشتی ٹھہرتی ہے ابوعبید نے کہا، اس کا معنی اس کی انتہا ہے کیونکہ مرسی السفینہ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کشی لنگر انداز ہوتی ہے یہی حضرت ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
21۔ البزار وابن جریر وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ برابر قیامت کے بارے میں سوال کرتے رہے یہاں تک کہ ان پر یہ آیت فیم انت من ذکرہا الی ربک منتہہا۔ آپ کو اس کے ذکر سے کیا واسطہ اس کے علم کی انتہا آپ کے رب ہی کی طرف ہے۔ نازل ہوئی پھر آپ نے اس بارے میں سوال نہیں کیا۔ 22۔ سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عروۃ (رح) سے مرسلاً اسی طرح روایت کیا۔ 23۔ عبد بن حمید والنسائی وابن جریر والطبرانی وابن مردویہ نے طارق بن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قیامت کا ذکر اکثر فرمایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ یہ آیت فیم انت من ذکرہا الی…
Read the full tafseer →[اِلٰى رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کی طرف ہیں ][ مُنْتَهٰهَا : اس کے ٹھہرنے کا وقت ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
اب دوسرا رخ لیجئے، ارشاد فرمایا : ﴿ وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى ۙ0040 فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰىؕ0041﴾ (اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا یعنی وہاں کے حساب سے خوف زدہ ہوا اور اپنے نفس کو خواہشوں سے روکا تو اس کا ٹھکانہ جنت ہے) ۔ بات یہ ہے کہ انسان گناہوں کو چھوڑنا چاہتا ہے۔ حرام سے بچنے کا ارادہ کرتا ہے فرائض و واجبات کا اہتمام کرنا چاہتا ہے تو اس کا نفس آڑے آجاتا ہے، نفس کو آرام چاہیے مزہ اور لذت چاہیے اسے ہری بھری دنیا محبوب ہے، آخرت میں کیا بنے گا اسے اس کی فکر ہی نہیں لہٰذا وہ گناہوں میں منہمک رہنے ہی کو پسند کرتا ہے، جو لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
اعلان خداوندی بقدرت کاملہ وعاجزی و پستی کائنات پیش عظمت الہی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء ........ الی ........... الا عشیۃ اوضحہا “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں خداوندعالم نے اپنی شان حاکمیت عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہوئے قیامت اور قیامت کے احوال بیان فرمائے تھے، اور یہ کہ کائنات کا یہ سارا نظام دم کے دم میں درہم برہم ہوجائے گا، زمین و آسمان اور پہاڑ چاند سورج اور ستارے غرض سب ہی ختم کردیئے جائیں گے اور دلوں کا اضطراب وبے چینی کا عالم ناقابل تصور ہوگا تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کاملہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اور یہ کہ کائنات کی کوئی طاقت اور قوت خداوند عالم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
16:۔ ” یسئلونک “ یہ شکوی ہے۔ ” مرسی “ مصدر ہے بمعنی ” ارساء “ یعنی اقامت۔ مشرکین آپ سے بطور استہزاء سوال کرتے ہیں کہ قیامت کب آئیگی اور کب اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر فرمائے گا۔ یریدون متی یقیمہا اللہ تعالیٰ ویکونہا الخ (روح) ۔ ” فیم انت من ذکریھا “ یہ مشرکین کے سوال کا رد اور اس پر انکار ہے آپ کس بنیاد پر ان کے سامنے قیامت کا وقت معین بیان کریں گے اس کا وقت معین تو خود آپ کو بھی معلوم نہیں اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف راجع اور منتہی ہے اور اس کے سوا کسی کو اس کا علم نہیں، تو پھر یہ لوگ آپ سے کیوں سوال کرتے ہیں۔ الیہ عز وجل انتھاء علمہا لیس لاحد منہ شتی کائنا ما کان فلای شیء یسئلونک عنہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر حکماء کے نظریہ کے مطابق بیان کیا ۔ اور اس ضمن میں ماننے والے اور انکار کرنے والے دونوں گروہوں کے نتائج بھی بیان کردیے ہیں ۔ پہلے منکرین کے حالات بیان ہوئے کہ کہتے ہیں ” ء اذاکنا عظاما نخرۃ “ جب ہم مرکر بوسیدہ ہدیاں ہوجائیں گے۔ تو پھر کیسے زندہ ہوجائیں گے ، اللہ جل شانہ نے دو بار ہ زندگی کی دلیل کے طور پر فرمایاء انتم اشد خلقا ام السماء بنھا “ کیا تمہارے جیسی چھوٹی چیز کا پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان جیسی بڑی چیز کا بنانا ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ۔ اس نے پہلی دفعہ تم کو پیدا کردیا تھا ، تو دوبارہ زندہ کرنا کیسے مشکل ہے ۔ اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
فِيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىہَا 43 اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَہٰىہَا 44 ۭ ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، وقوله تعالی: وَهذا ذِكْرٌ مُبارَكٌ أَنْزَلْناهُ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
ترکیب ¦ ایان ظرف زمانی مبنی علی الفتح مبتداء مرسہا خبرہ ای منتھی قیامھا قال ابو عبیدۃ مرسی السفینۃ مستقرباء الجملۃ بیان السوال۔ فیم اصلہ فیما ای فی ای شیء خبرو المبتداء انت من ذکراھا بیان لای شیء والمعنی لست فی شیء من ذکر وقت القیامۃ انما یعلمھا اللہ تعالیٰ خاصۃ والاستفھام انکاری وردلسوال المشرکین عنھا الی ربک متعلق بثابت خبر منتھاھا مبتداء ای منتھی علمھا لا یعلم تعین وقتھا الاہو والجملۃ تاکید الجملۃ الاولی فی ردسوالھم وکذا انما انت منذر مضاف الی من وھذا قراۃ الجمہور وقریٔ بالتنوین قال الفراء کلاھما صواب کقولہ بالغ امرہ وموھن کید الکافرین وقال صاحب الکشاف الاصل ھو النتوین والا ضافۃ تخفیف وکلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِکْرٰھَا۔ اِلٰی رَبِّکَ مُنْتَھٰـھَا۔ (النازعات : 43، 44) (آپ کو کیا کام اس کے ذکر سے۔ اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے۔ ) فِیْمَ … اصل میں فِیْمَاہے۔ یہ پورا جملہ عربی کے ایک خاص اسلوب کی عکاسی کر رہا ہے، جس کا معنی ہے کہ آپ کا اس بحث سے کیا تعلق، آپ کا اس سے کیا کام۔ یعنی یہ بات یکسر آپ کے منصب سے غیرمتعلق ہے۔ آپ دنیا میں لوگوں کی ہدایت کے لیے تشریف لائے ہیں اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ انھیں ایک ایسے دن سے ڈرائیں جہاں ان کے اعمال کا حساب ہوگا۔ اچھے یا برے اعمال کے حوالے سے جزاء یا سزا ہوگی۔ رہی یہ بات کہ وہ دن کب آئے گا اس کا آپ کے انذار اور آپ کے منصب سے کیا تعلق ؟ یہ بالکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
فہم القرآن ربط کلام : سورت کی ابتدائی آیات میں قیامت کے ثبوت دئیے گئے ہیں اس کا اختتام بھی انہیں دلائل پر کیا گیا ہے۔ نبی معظم ﷺ سے اہل مکہ مختلف موقعوں پر مختلف الفاظ اور انداز میں سوال کرتے کہ قیامت کب آئے گی۔ اس سوال کے انہیں کئی جواب دیئے گئے جن کے بنیادی طور پر دو مفہوم ہیں۔ 1۔ کوئی اقرار کرے یا انکار کرے قیامت ہر صورت واقع ہوگی۔ 2۔ قیامت کے بارے میں سوال کرنے والوں کو اس کا وقت جاننے کی بجائے اس کے احتساب کا فکر کرنا چاہیے۔ کفار کے سوال کا جہاں یہ جواب دیا گیا ہے کہ اے رسول ! لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کے کا وقت پوچھتے ہیں کہ وہ کب اور کس وقت واقع ہوگی ان سے فرمائیں ! کہ قیامت کا وقت…
Read the full tafseer →قیامت کا حقیقی علم اللہ تعالیٰ کو : 44 : اِلٰی رَبِّکَ مُنْتَھٰھَا (اس کا مدار صرف تیرے رب کی طرف ہے) اس کا انتہائی علم کہ وہ کب واقع ہوگی اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ یا فیم یہ ان کے قیامت پر سوال کا انکار ہے۔ مطلب یہ ہے یہ سوال کیوں ہے ؟ پھر فرمایا انت من ذکرٰھا۔ تمہارا بھیجنا اس حالت میں کہ آپ آخر الانبیاء ہیں۔ یہ علامات قیامت میں سے ایک علامت ہے پس ان کے سوال کا کوئی مطلب نہیں ہے ؟ (ان کا سوال بےمعنی ہے جبکہ نشان قیامت موجود ہے) قراءت : اس صورت میں فیم پر وقف کرنا بھی درست ہے۔ ایک اور قول فیم انت من ذکرٰھا یہ سوال سے متصل ہے تقدیر کلام یہ ہے یسئلونک عن الساعۃ ایان مرساھا۔ وہ آپ…
Read the full tafseer →43 ۔” فیم انت من ذکراھا “ تو اس کے عمل اور ذکر سے کسی چیز میں نہیں ہے یعنی تو اس کو نہیں جانتا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
42۔ 46۔ نسائی ‘ مستدرک 4 ؎ حاکم مسند بزار مسند عبد بن حمید وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب تک یہ آیتیں نازل نہیں ہوئی تھیں اس وقت تک ٹھٹھے کے طور پر اکثر مشرکین آنحضرت ﷺ سے قیامت کا حال پوچھا کرتے تھے جب یہ آیتیں نازل فرما کر اللہ تعالیٰ نے جتلایا کہ قیامت کے آنے کا وقت سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں تو مشرکنا مکہ اور ٹھٹھے کی باتیں کرتے تھے مگر عاجز آ کر قیامت کا حال پوچھنا انہوں نے کم کردیا تھا۔ ان روایتوں میں بعض صحیح ہیں اور باقی کی تقویت صحیح روایتوں سے ہوجاتی ہے۔ صحیح 5 ؎ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے سائل کی صورت بن کر آنحضرت ﷺ سے دین کے چند…
Read the full tafseer →چناچہ فرمایا (اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا) یعنی اس کا علم اللہ تعالیٰ پر منتہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا۔۔۔ تا۔۔۔ لا یعلمون۔ الاعراف 187) یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا ؟ آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے اس کو اس کے وقت پر صرف وہی ظاہر کرے گا وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری ہوگا۔ وہ تم پر محض اچانک آپڑے گی وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں فرمادیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
Read the full tafseer →(33) وقوع قیامت کا وقت اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ کے رب ہی کی طرف سے ہے اس کی انتہا " یعنی وہی اس کے وقت کو جانتا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کا علم آپ کے رب ہی کے پاس ہے۔ یہ بات نہ تو اپ کے علم میں ہے اور نہ ہی آپ کے بس میں، اور نہ یہ اپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ لوگوں کو بتائیں کہ قیامت کی وہ ہولناک گھڑی کب اور کتنے عرصے کے بعد آئے گی، کہ یہ غیب کے ان علوم میں سے ہے جن کو آپ کے رب کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ تو جس سوال کا آپ سے تعلق ہی نہ ہو وہ آپ سے کرنے کی آخر تک ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ اور آپ کو اس کی کھود کرید میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
جس نے کائنات بنائی وہ تمہیں بھی بنا سکتا ہے تشریح : یہاں ایک تو انسان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا خود اس کو بھی اللہ نے ہی بنایا ہے اور اس کے رہن سہن کے لیے پوری کائنات بنائی ہے۔ جو یقینا انسان کی پیدائش سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام ہے اگر وہ اللہ کی قدرت حکمت اور بڑائی پر غور کرے تو وہ اللہ کی دی گئی اس خبر کو ہرگز معمولی یا جھوٹ نہ سمجھے کہ '' قیامت آنے والی ہے۔ قیامت کے بعد حساب کا دن ضرور آئے گا ''۔ ان آیات میں اس یقین دہانی کے علاوہ فطرت اور کائنات کے مضبوط ' معقول اور بہترین انتظامات کا ذکر بھی بڑی خوبصورتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
آیات 27 تا 46۔ اسرار ومعارف۔ اگر انہیں دوبارہ زندہ ہونے کا اعتبار نہیں آتا اور اسے مشکل جانتے ہیں تو موجودہ حیات پہ غورکریں کہ بندہ کو دوبارہ بنانامشکل ہے یا آسمانوں کی تخلیق جن کو ان کے بیشمار امور اور مخلوق کے ساتھ بنادیا اور ایسا بنایا کہ کہیں کوئی خامی باقی نہ رہی بلکہ وہ شب وروز کی آمدورفت اور سورج کے طلوع و غروب کے باعث پورے نظام حیات کو چلانے کا سبب بن گیا اس کے بعد زمین کو بچھادیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ برابر بچھی ہوئی ہے اور اس میں زندگی کے اسباب نہریں دریا اور سبزہ پیدا کردیے ہیں اور اس بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیے جو بیشمار نعمتوں کا سبب ہیں اور جن سب امور کے نتیجے میں تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 5 یعنی وہی جانتا ہے اور کوئی نہیں جانتا۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : یعنی پوچھتے پوچھتے اسی تک پہنچتا ہے بیچ میں سب بیخبر ہیں۔ (موضح)
Read the full tafseer →(79:44) الی ربک منتھھا۔ منتھی۔ ن ھ ی مادہ سے باب افتعال سے اسم ظرف زمان ہے یا اسم طرف مکان ہے بمعنی آخری وقت یا آخری حد۔ مضاف ھا ضمیر واحد مؤنث مضاف الیہ جس کا مرجع الساعۃ ہے۔ اس کے علم کی آخری حد (بغوی) یعنی قیامت کے بپا ہونے کے متعلق آخری یعنی فائنل وقت یا حد کا علم تیرے پروردگار پر ختم ہے۔ وہ جب چاہے گا قیامت برپا ہوجائے گی۔ (ضیاء القرآن) ای منتھی علمھا الی اللہ وحدہ لا یعلمھا سواہ (السیر التفاسیر) قیامت کے بپا ہونے کا حتمی علم اللہ کے پاس ہے اس کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا۔ یہ جملہ انکار سابقہ کی علت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →(ف 2) یعنی اس کا وقت ٹھیک معین کرکے بتلانا آپ کا کام نہیں اس کا علم خدا ہی پر حوالہ کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
[14] یعنی جب خود آپ کو اس کے وقت کا علم تعین کے ساتھ نہیں دیا گیا ہے تو آپ انہیں کیا بتائیں گے۔ لہذا آپ اس بحث میں نہ پڑیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–46
جہنمی اور جنتی 2: ان آیتوں میں اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ قیامت کے بعد جہنم سے بچنے اور جنت میں داخل ہونے کیلئے کن باتوں کی ضرورت ہے ۔ فرمایا ۔ جن لوگوں نے سرکشی اختیار کی ۔ حدود مذہبی سے جاوز کیا اور اس دنیائے حقیر کی زندگی کو زیادہ اہمیت دی اور یہ سمجھا کہ جو کچھ بھی ہے ، یہی چند روزہ حیات ہے ۔ انہوں نے اپنی جگہ جہنم میں بنائی ۔ جو لوگ اللہ کے سامنے پیش ہونے سے ڈرے کہ مبادا کہیں اعمال کی گرفت نہ ہو اور نفس کو ناجائز خواہشات سے روکا ۔ وہی جنت اور اس کی نعمتوں کے مستحق قرار دیئے جائیں گے حل لغات :۔ سمکھا ۔ بلندی وبرزت الجحیم میں اس طرف اشارہ ہے کہ منکرین تو یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ان کو…
Read the full tafseer →(44) اس کے علم کا مدار اور اس کے علم کی پہنچ آپ کے پروردگار کی طرف - یعنی اس کے قوت کا بیان کرنے سے آپ کا کیا واسطہ ہے اور اس کا حقیقی علم تو پروردگار ہی کے پاس ہے۔ خلاصہ : یہ کہ اس کے وقت کو بیان کرنے سے آپ کا کیا تعلق اس کا موقوف علیہ علم ہے اور وہ ہے نہیں کیونکہ وہ آپ کو بتایا نہیں گیا اور موقوف علیہ کا انتفا مستلزم ہے موقوف کے انتفا کو لہٰذا اس کی ذکر سے آپ کا کوئی واسطہ نہیں بلکہ اس کے وقوع کے علم کی پہنچ آپ کے پروردگار کی طرف ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
ف 2۔ کفار بقصد انکار قیامت کا معین وقت پوچھا کرتے تھے، آگے اس کا جواب ہے کہ اس کے بیان کرنے سے آپ کا کیا تعلق کیونکہ بیان کا موقوف علیہ علم ہے اور وہ منتفی ہے اور انتفاء موقوف علیہ مستلزم ہے انتفاء موقوف کو۔
Read the full tafseer →اس کے وقت کی انتہا تو تیرے رب سے متعلق ہے ۔ 44 (منتھھا) منتھی اسم ظفر زمان مضاف ھا مضاف الیہ۔ اس کا آخری وقت یا ظرف مکان۔ اس کی آخری حد۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ان سے واضح الفاظ میں فرما دیں کہ اس کی انتہا کو تمہارا رب ہی جانتا ہے اس نے کسی انسان کو اس کا علم نہیں دیا اور نہ ہی اس کا علم دیا جاسکتا ہے اور اسی طرح یہ بھی یاد رہے کہ علم اذن دینے سے نہیں آتا بلکہ سیکھنے سے آتا ہے اور جن لوگوں کو بغیر سیکھے علم حاصل ہوتا ہے وہ صرف اور صرف انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہم السلام) ہیں اور ان کے سکھانے کے لئے جبریل (علیہ السلام) کا بھینچنا ہے جس کی قوت و برداشت بھی نبی و رسول ہی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
Thereafter, the special marks of the inmates of Paradise are described. They too have two characteristics: وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ (whereas for the one who feared to stand before his Lord, and restrained his self from the [ evil ] desire, 79:40). In other words, [ 1] the first characteristic of a God-fearing person is that, in this life, he shudders at the thought of appearing before Allah to account for his deeds on the Day of Reckoning; and [ 2] forbids the baser self from its evil desires. Those who are characterised by these two qualities…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
23 This also we have explained in E.N. 36 of Surah Al-Mulk above. As for the words "you are only a Warner to him who fears it", they do not mean that it is not your duty to warn those who do not fear, but it means: "Your warning will benefit only him who fears the coming of that Day."
Read the full tafseer →