An-Naazi'aat 79:43

An-Naazi'aat · from ayah 43

79:43

فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَا ۟ؕفِيۡمَ اَنۡتَ مِنۡ ذِكۡرٰٮهَاؕ

سو تم اس کے ذکر سے کس فکر میں ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

In what [position] are you that you should mention it?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:43

تمہارا کیا کام کہ اس کا وقت بتاؤ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سو تم اس کے ذکر سے کس فکر میں ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

تمہارا یہ بات بیان کرنے میں کیا کام ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تمہیں اس کے بیان سے کیا تعلق

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو آپ کو اس کے (وقت کے) ذکر سے کیا غرض،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کے ذکر سے تو کس خیال میں ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ کو اس کے ذکر (وقت بتانے) سے کیا واسطہ ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم اس کو بحث میں کہاں پڑے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آپ کو کیا لگے اس کے (وقت کے) بیان سے

— مولانا اسحاق مدنی

سو اس کے بیان (کرنے) سے آپ کو کیا سروکار ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ کا کیا تعلق ہے اس کے بیان کرنے سے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سو تم اس کے ذکر سے کس فکر میں ہو ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

What concern do you have to speak about that?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

In which capacity are you to tell this?

— Muhammad Taqi Usmani

In which capacity are you to tell this?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

What do you have to mention of it.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Why (ask they)? What hast thou to tell thereof?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

In what [position] are you that you should mention it?

— Saheeh International

(Muhammad), you do not know (when and how) it will come.

— Muhammad Sarwar

About what! You are one to remind of it.

— Muhammad Habib Shakir

Wherein art thou concerred with the declaration thereof!

— Abdul Majid Daryabadi

Wherein art thou (concerned) with the declaration thereof?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 79:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–46

انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات طامتہ الکبریٰ سے مراد قیامت کا دن ہے اس لئے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہوگا، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ 46؀) 54۔ القمر :46) یعنی قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کرلے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى 23ۭ) 89۔ الفجر :23) یعنی اس دن آدمی نصیحت حاصل کرلے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 43–45

سورة النّٰزِعٰت 23 اس کی تشریح بھی ہم تفسیر سورة ملک حاشیہ 36 میں کرچکے ہیں۔ رہا یہ ارشاد کہ تم ہر اس شخص کو خبردار کردینے والے ہو جو اس کا خوف کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خوف نہ کرنے والوں کو خبردار کرنا تمہارا کام نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے خبردار کرنے کا فائدہ اسی کو پہنچے گا جو اس دن کے آنے کا خوف کرے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–46

پہلے اہل جہنم کی خاص علامات بیان کی گئی وہ دو ہیں فَاَمَّا مَنْ طَغٰى،ۙوَاٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا اول طغیان یعنی اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کے احکام کی پابندی کے بجائے سر کشی کرنا، دوسرے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینا یعنی جب ایسا کوئی کام سامنے آئے کہ اسکے اختیار کرنے سے دنیا میں تو آرام یا لذت ملتی ہے مگر آخرت میں اس پر عذاب مقرر ہے اس وقت وہ دنیا کی لذت کو ترجیح دے کر آخرت کی فکر کو نظر انداز کردے۔ جو شخص دنیا میں ان دو بلاؤں میں مبتلا ہے اس کے لئے فرمایا فان الجحیم ھی الماوی، یعنی جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے۔ اسکے بعد اہل جنت کی اسی طرح دو علامتیں بتلائی ہیں۔ وَاَمَّا مَنْ خَافَ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 43–44

فرمایا کہ تمہیں اس بحث سے کیا تعلق؟ اس کا سرا تو صرف تمہارے رب کے پاس ہے۔ تم ان لوگوں کو یہ بتانے نہیں آئے ہو کہ قیامت کس دن آئے گی۔ اس کا علم تمہارے رب کے سوا اور کسی کے پاس نہیں ہے تو جو سوال سرے سے تم سے معلق ہے ہی نہیں تمہیں اس سے کیا واسطہ اور تم اس کی کھوج کرید میں کیوں پڑو! اس کو اللہ کے حوالہ کرو جو اس کا حقیقی علم رکھنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 43–44

43۔ 1 یعنی آپ کو اس کی بابت یقینی علم نہیں ہے، اس لئے آپ کا اس کو بیان کرنے سے کیا تعلق ؟ اس کا یقینی علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–45

9: عرب کے کافر لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا جو انکار کرتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی مردے کے زندہ ہونے کو بہت مشکل سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کائنات کی دوسری چیزوں، مثلاً آسمان، کے مقابلے میں انسان کو پیدا کرنا زیادہ آسان ہے، اگر تم مانتے ہو کہ آسمان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

جواب یہ ہے۔ فیم انت من ذکرھا (43:79) ” تمہارا کیا کام ہے کہ اس کا وقت بتاﺅ“۔ یہ ایسا جواب ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑی عظیم بات ہوگی اور ایک عظیم حادثہ ہوگا اور ان لوگوں کا اس طرح سوال کرنا حماقت اور گھٹیا پن ہے۔ یہ بچگانہ سوال ہے اور اپنے حدود اور مقام سے آگے کی بات ہے۔ تو ان کو جواب دینے کے بجائے رسول اللہ کو جواب دیا جاتا ہے کہ ” تمہارا کیا کام کہ تم اس کا وقت بتاﺅ“۔ یہ تو اس سے بڑی چیز ہے کہ تم اس کے بارے میں پوچھو یا تم سے پوچھا جائے۔ اس کا وقت بتانا یا اس کا برپا کرنا میرے رب کا کام ہے ، میرا کام نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 43–44

5 یعنی اس کا وقت ٹھیک متعین کر کے بتلانا آپ کا کام نہیں کتنے ہی سوال جواب کرو۔ آخرکار اس کا علم خدا ہی پر حوالہ کرنا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " پوچھتے پوچھتے اسی تک پہنچنا ہے، پیچھے سب بیخبر ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 43{ فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِکْرٰٹہَا۔ } ”آپ ﷺ کا کیا تعلق ہے اس کے بیان کرنے سے ؟“ آپ ﷺ کو اس لیے تو نہیں بھیجا گیا کہ آپ ﷺ قیامت کے دن اور تاریخ کا تعین کر کے انہیں بتائیں ‘ بلکہ آپ ﷺ تو بشیر و نذیر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 41–43

27 یعنی اس دن ساری مخلوق دو گروہوں میں بٹ جائے گی۔ ایک وہ جو آخرت کے منکر تھے انہیں اللہ کے سامنے پیش ہونے اور اپنے اعمال کی جوابدہی کا نہ کوئی تصور تھا اور نہ خطرہ تھا۔ لہذا وہ دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ کر اس پر فریفتہ رہے اور آخرت سے بالکل بےفکر بنے رہے ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ وہ جب جہنم پر پہنچیں گے تو فوراً اس میں داخل کردیئے جائیں گے۔ دوسرے وہ جنہیں آخرت میں اپنے اعمال کی جوابدہی کا ہر وقت خطرہ لا حق رہتا تھا۔ لہذا انہوں نے اپنے اخروی مفاد کی خاطر ہر وقت اپنے نفس کی خواہشات کو دبائے رکھا اور اللہ سے ڈرتے ہوئے نہایت محتاط اور ذمہ دارانہ زندگی گزاری ہوگی۔ ایسے ہی لوگ جنت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 42–43

18۔ یعنی آپ (علیہ السلام) کو جب خود ہی اس کے وقت کا علم تعین کے ساتھ نہیں دیا گیا ہے تو آپ (علیہ السلام) انہیں کیا بتائیں گے۔ (آیت) ” یسئلونک “۔ یعنی یہ سوال، تعریض و انکار کی راہ سے کررہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 40–46

واما من خاف مقام ربہ الخ، اس آیت میں اہل جنت کی دو علامتوں کو بیان فرمایا، اول یہ کہ جس شخص کو دنیا میں ہر عمل کے کرنے کے وقت یہ خوف اور اندیشہ لگا رہا کہ مجھے ایک روز حق تعالیٰ کے حضور پیش ہو کر اپنے تمام اعمال کی جواب دہی کرنی ہے، دوسرے اپنے نفس کو ناجائز خواہشات سے قابو میں رکھا، جس نے دنیا میں یہ دو وصف حاصل کر لئے اس کے لئے قرآن کریم یہ خوشخبری دے رہا ہے کہ اس کا ٹھکانہ جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ بحمدتم اللہ

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فِیْمَ میں مَ (جو اصل میں مَا تھا) استفہام انکاری کے لیے ہے اور مِنْ ذِکْرٰھَا اس کا بیان ہے۔ یعنی آپ ﷺ قیامت کے کس ذکر میں پڑے ہیں ‘ اس کے وقت کا بیان جائز نہیں کیونکہ آپ ﷺ کو اسکا علم نہیں اور نہ علم ہوسکتا ہے۔ اس کو پوشیدہ رکھنے میں مصلحت ہے یا یہ مطلب ہے کہ قیامت کا علم خود آپ کو نہیں (اس وقت ذِکْرٰی بمعنی علم ہوگا) محاورہ میں بولا جاتا ہے : لیس فلان فی العلم من شئی یعنی فلاں شخص کو بالکل علم نہیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ فِیْمَ خبر ہو اور مبتداء محذوف ہو ‘ یعنی یہ سوال کس غرض سے ہے ‘ اس کا کیا فائدہ ؟ اس کے بعد اَنْتَ مِنْ ذِکْرٰھَا سے نیا کلام شروع کیا کہ آپ ﷺ تو خود قیامت کی علامات میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 43–44

(43۔ 44) ان کے سامنے اس کے بیان کرنے سے آپ کا کیا تعلق بلکہ قیامت کا علم صرف آپ کے رب کو ہے۔ شان نزول : فِيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَا (الخ) طبرانی اور ابن جریر نے طارق بن شہاب سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم قیامت کا بہت زیادہ ذکر کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ پر یہ آیت نازل ہوئی، اور ابن ابی حاتم نے اسی طرح عروہ سے روایت نقل کی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 42–43

یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا :”مرسھا“ ارسی یرسی“ (افعال) سے مصدر ہو تو معنی ہوگا ”اس کا وقوع یا قیام“ اور اگر ظرف ہو تو معنی ہے ”اس کے قیام کا وقت۔“ کافر لوگ یہ سوال بار بار کرتے تھے، اس سے ان کا مقصد قیامت کا وقتا ور تاریخ معلوم کرنا نہیں تھا بلکہ اسے جھٹلانا اور اس کا مذاق اڑانا ہوتا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 42–44

یسئلونک عن الساعۃ۔۔۔ تا۔۔۔۔ اوضحھا۔ یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا۔ حضرت ابن عباس نے کہا، مکہ مکرمہ کے مشرکوں نے رسول اللہ سے مذاق کے انداز میں سوال کیا قیامت کب برپا ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا، حضرت عروہ بن زبیر نے اس آیت کی تفسیر میں روایت نقل کی ہے رسول اللہ لگاتار قیامت کے بارے میں سوال کرتے رہے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی فیم انت من ذکراھا، الی ربک من تھا۔ مرسھا کا معنی اس کا قائم ہونا ہے فراء نے کہا، سوھا کا معنی اس کا قیام ہے جس طرح کشتی ٹھہرتی ہے ابوعبید نے کہا، اس کا معنی اس کی انتہا ہے کیونکہ مرسی السفینہ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کشی لنگر انداز ہوتی ہے یہی حضرت ابن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 43–45

21۔ البزار وابن جریر وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ برابر قیامت کے بارے میں سوال کرتے رہے یہاں تک کہ ان پر یہ آیت فیم انت من ذکرہا الی ربک منتہہا۔ آپ کو اس کے ذکر سے کیا واسطہ اس کے علم کی انتہا آپ کے رب ہی کی طرف ہے۔ نازل ہوئی پھر آپ نے اس بارے میں سوال نہیں کیا۔ 22۔ سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عروۃ (رح) سے مرسلاً اسی طرح روایت کیا۔ 23۔ عبد بن حمید والنسائی وابن جریر والطبرانی وابن مردویہ نے طارق بن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قیامت کا ذکر اکثر فرمایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ یہ آیت فیم انت من ذکرہا الی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فِيْمَ انتَ : اس میں کیا ہے آپ ﷺ کو ][ مِنْ ذِكْرٰىهَا : اس کے ذکر میں سے ] (آیت۔ 43) فِیْمَ اصل میں فِیْ مَا ہے اور یہ مَا استفہامیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 40–44

اب دوسرا رخ لیجئے، ارشاد فرمایا : ﴿ وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى ۙ0040 فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰىؕ0041﴾ (اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا یعنی وہاں کے حساب سے خوف زدہ ہوا اور اپنے نفس کو خواہشوں سے روکا تو اس کا ٹھکانہ جنت ہے) ۔ بات یہ ہے کہ انسان گناہوں کو چھوڑنا چاہتا ہے۔ حرام سے بچنے کا ارادہ کرتا ہے فرائض و واجبات کا اہتمام کرنا چاہتا ہے تو اس کا نفس آڑے آجاتا ہے، نفس کو آرام چاہیے مزہ اور لذت چاہیے اسے ہری بھری دنیا محبوب ہے، آخرت میں کیا بنے گا اسے اس کی فکر ہی نہیں لہٰذا وہ گناہوں میں منہمک رہنے ہی کو پسند کرتا ہے، جو لوگ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–46

اعلان خداوندی بقدرت کاملہ وعاجزی و پستی کائنات پیش عظمت الہی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء ........ الی ........... الا عشیۃ اوضحہا “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں خداوندعالم نے اپنی شان حاکمیت عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہوئے قیامت اور قیامت کے احوال بیان فرمائے تھے، اور یہ کہ کائنات کا یہ سارا نظام دم کے دم میں درہم برہم ہوجائے گا، زمین و آسمان اور پہاڑ چاند سورج اور ستارے غرض سب ہی ختم کردیئے جائیں گے اور دلوں کا اضطراب وبے چینی کا عالم ناقابل تصور ہوگا تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کاملہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اور یہ کہ کائنات کی کوئی طاقت اور قوت خداوند عالم کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 42–44

16:۔ ” یسئلونک “ یہ شکوی ہے۔ ” مرسی “ مصدر ہے بمعنی ” ارساء “ یعنی اقامت۔ مشرکین آپ سے بطور استہزاء سوال کرتے ہیں کہ قیامت کب آئیگی اور کب اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر فرمائے گا۔ یریدون متی یقیمہا اللہ تعالیٰ ویکونہا الخ (روح) ۔ ” فیم انت من ذکریھا “ یہ مشرکین کے سوال کا رد اور اس پر انکار ہے آپ کس بنیاد پر ان کے سامنے قیامت کا وقت معین بیان کریں گے اس کا وقت معین تو خود آپ کو بھی معلوم نہیں اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف راجع اور منتہی ہے اور اس کے سوا کسی کو اس کا علم نہیں، تو پھر یہ لوگ آپ سے کیوں سوال کرتے ہیں۔ الیہ عز وجل انتھاء علمہا لیس لاحد منہ شتی کائنا ما کان فلای شیء یسئلونک عنہا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–46

(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر حکماء کے نظریہ کے مطابق بیان کیا ۔ اور اس ضمن میں ماننے والے اور انکار کرنے والے دونوں گروہوں کے نتائج بھی بیان کردیے ہیں ۔ پہلے منکرین کے حالات بیان ہوئے کہ کہتے ہیں ” ء اذاکنا عظاما نخرۃ “ جب ہم مرکر بوسیدہ ہدیاں ہوجائیں گے۔ تو پھر کیسے زندہ ہوجائیں گے ، اللہ جل شانہ نے دو بار ہ زندگی کی دلیل کے طور پر فرمایاء انتم اشد خلقا ام السماء بنھا “ کیا تمہارے جیسی چھوٹی چیز کا پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان جیسی بڑی چیز کا بنانا ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ۔ اس نے پہلی دفعہ تم کو پیدا کردیا تھا ، تو دوبارہ زندہ کرنا کیسے مشکل ہے ۔ اس نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 43–44

فِيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىہَا۝ 43 اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَہٰىہَا۝ 44 ۭ ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، وقوله تعالی: وَهذا ذِكْرٌ مُبارَكٌ أَنْزَلْناهُ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 42–46

ترکیب ¦ ایان ظرف زمانی مبنی علی الفتح مبتداء مرسہا خبرہ ای منتھی قیامھا قال ابو عبیدۃ مرسی السفینۃ مستقرباء الجملۃ بیان السوال۔ فیم اصلہ فیما ای فی ای شیء خبرو المبتداء انت من ذکراھا بیان لای شیء والمعنی لست فی شیء من ذکر وقت القیامۃ انما یعلمھا اللہ تعالیٰ خاصۃ والاستفھام انکاری وردلسوال المشرکین عنھا الی ربک متعلق بثابت خبر منتھاھا مبتداء ای منتھی علمھا لا یعلم تعین وقتھا الاہو والجملۃ تاکید الجملۃ الاولی فی ردسوالھم وکذا انما انت منذر مضاف الی من وھذا قراۃ الجمہور وقریٔ بالتنوین قال الفراء کلاھما صواب کقولہ بالغ امرہ وموھن کید الکافرین وقال صاحب الکشاف الاصل ھو النتوین والا ضافۃ تخفیف وکلا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 43–44

فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِکْرٰھَا۔ اِلٰی رَبِّکَ مُنْتَھٰـھَا۔ (النازعات : 43، 44) (آپ کو کیا کام اس کے ذکر سے۔ اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے۔ ) فِیْمَ … اصل میں فِیْمَاہے۔ یہ پورا جملہ عربی کے ایک خاص اسلوب کی عکاسی کر رہا ہے، جس کا معنی ہے کہ آپ کا اس بحث سے کیا تعلق، آپ کا اس سے کیا کام۔ یعنی یہ بات یکسر آپ کے منصب سے غیرمتعلق ہے۔ آپ دنیا میں لوگوں کی ہدایت کے لیے تشریف لائے ہیں اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ انھیں ایک ایسے دن سے ڈرائیں جہاں ان کے اعمال کا حساب ہوگا۔ اچھے یا برے اعمال کے حوالے سے جزاء یا سزا ہوگی۔ رہی یہ بات کہ وہ دن کب آئے گا اس کا آپ کے انذار اور آپ کے منصب سے کیا تعلق ؟ یہ بالکل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–46

فہم القرآن ربط کلام : سورت کی ابتدائی آیات میں قیامت کے ثبوت دئیے گئے ہیں اس کا اختتام بھی انہیں دلائل پر کیا گیا ہے۔ نبی معظم ﷺ سے اہل مکہ مختلف موقعوں پر مختلف الفاظ اور انداز میں سوال کرتے کہ قیامت کب آئے گی۔ اس سوال کے انہیں کئی جواب دیئے گئے جن کے بنیادی طور پر دو مفہوم ہیں۔ 1۔ کوئی اقرار کرے یا انکار کرے قیامت ہر صورت واقع ہوگی۔ 2۔ قیامت کے بارے میں سوال کرنے والوں کو اس کا وقت جاننے کی بجائے اس کے احتساب کا فکر کرنا چاہیے۔ کفار کے سوال کا جہاں یہ جواب دیا گیا ہے کہ اے رسول ! لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کے کا وقت پوچھتے ہیں کہ وہ کب اور کس وقت واقع ہوگی ان سے فرمائیں ! کہ قیامت کا وقت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

43 : فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِکْرٰھَا (اس کے بیان کرنے سے آپ کا کیا تعلق) آپ کس فکر میں پڑے ہیں کہ ان کے سامنے اس کا وقت ذکر کریں اور ان کو بتلائیں یعنی آپ اس کے وقت کے تذکرے اور تعیین وقت کے سلسلے میں کس بات میں پڑے ہیں اس کو چھوڑیے۔ یہ اسی طرح ہے جیسا کہتے ہیں۔ لیس فلان من العلم شیٔ۔ یعنی فلان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ (اس وقت ذکرٰی علم کے معنی میں ہوگا۔ کہ آپ کو اس کا علم نہیں) رسول اللہ ﷺ قیامت کا تذکرہ فرماتے رہے اور اس کے متعلق پوچھتے رہے۔ یہاں تک یہ آیت نازل ہوئی اس صورت میں یہ قیامت کے کثرت ذکر پر تعجب کا اظہار ہے۔ یعنی وہ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں پس آپ ان کے جواب پر حرص کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 42–46

42۔ 46۔ نسائی ‘ مستدرک 4 ؎ حاکم مسند بزار مسند عبد بن حمید وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب تک یہ آیتیں نازل نہیں ہوئی تھیں اس وقت تک ٹھٹھے کے طور پر اکثر مشرکین آنحضرت ﷺ سے قیامت کا حال پوچھا کرتے تھے جب یہ آیتیں نازل فرما کر اللہ تعالیٰ نے جتلایا کہ قیامت کے آنے کا وقت سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں تو مشرکنا مکہ اور ٹھٹھے کی باتیں کرتے تھے مگر عاجز آ کر قیامت کا حال پوچھنا انہوں نے کم کردیا تھا۔ ان روایتوں میں بعض صحیح ہیں اور باقی کی تقویت صحیح روایتوں سے ہوجاتی ہے۔ صحیح 5 ؎ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے سائل کی صورت بن کر آنحضرت ﷺ سے دین کے چند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فِيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَا) پس تم اس کے ذکر کی فکر میں ہو ؟ یعنی اس کے ذکر اور اس کی آمد کے وقت کی معرفت حاصل کرنے میں آپ کو اور ان کو کیا فائدہ ؟ پس اس کا کوئی نتیجہ نہیں۔ اس لیے کہ قیامت کے وقت کے بارے میں بندوں کو علم میں کوئی دینی مصلحت ہے نہ دنیاوی مصلحت، بلکہ قیامت کے وقت کے اخفا ہی میں مصلحت ہے اس لیے اس کے علم کو تمام مخلوق سے مخفی رکھا اور اس کے علم کو صرف اپنے لیے مخصوص رکھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(32) قیامت کے وقت وقوع کی خبر دینا پیغبر کا کام نہیں : سو منکرین کے اس سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ کو کیا لگے اس کے ذکر سے " کہ یہ نہ تو آپ کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی آپ کے بس اور اختیار میں، کہ اس کا علم تو من جملہ ان غیوب کے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ خاص فرما رکھا ہے، اور سلف سے لے کر خلف تک علماء مفسرین کا کہنا ماننا یہی ہے کہ قیامت کا علم ان علوم غیب سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا، بطور نمونہ چندہ حوالے ملاحظہ ہوں۔ " لانھا من الغیوب التی استاثر اللہ بعلمہ لیس لاحد منہ شی کائنا من کانا "۔ ( صفوۃ التفاسیر) یعنی قیامت کے وقت کا علم ان غیب میں سے جن کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 27–46

جس نے کائنات بنائی وہ تمہیں بھی بنا سکتا ہے تشریح : یہاں ایک تو انسان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا خود اس کو بھی اللہ نے ہی بنایا ہے اور اس کے رہن سہن کے لیے پوری کائنات بنائی ہے۔ جو یقینا انسان کی پیدائش سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام ہے اگر وہ اللہ کی قدرت حکمت اور بڑائی پر غور کرے تو وہ اللہ کی دی گئی اس خبر کو ہرگز معمولی یا جھوٹ نہ سمجھے کہ '' قیامت آنے والی ہے۔ قیامت کے بعد حساب کا دن ضرور آئے گا ''۔ ان آیات میں اس یقین دہانی کے علاوہ فطرت اور کائنات کے مضبوط ' معقول اور بہترین انتظامات کا ذکر بھی بڑی خوبصورتی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–46

آیات 27 تا 46۔ اسرار ومعارف۔ اگر انہیں دوبارہ زندہ ہونے کا اعتبار نہیں آتا اور اسے مشکل جانتے ہیں تو موجودہ حیات پہ غورکریں کہ بندہ کو دوبارہ بنانامشکل ہے یا آسمانوں کی تخلیق جن کو ان کے بیشمار امور اور مخلوق کے ساتھ بنادیا اور ایسا بنایا کہ کہیں کوئی خامی باقی نہ رہی بلکہ وہ شب وروز کی آمدورفت اور سورج کے طلوع و غروب کے باعث پورے نظام حیات کو چلانے کا سبب بن گیا اس کے بعد زمین کو بچھادیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ برابر بچھی ہوئی ہے اور اس میں زندگی کے اسباب نہریں دریا اور سبزہ پیدا کردیے ہیں اور اس بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیے جو بیشمار نعمتوں کا سبب ہیں اور جن سب امور کے نتیجے میں تم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 43–44

ف 5 یعنی وہی جانتا ہے اور کوئی نہیں جانتا۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : یعنی پوچھتے پوچھتے اسی تک پہنچتا ہے بیچ میں سب بیخبر ہیں۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:43) فیم انت من ذکرھا : فیم میں فی حرف جر ہے اور ما استفہامیہ ہے۔ حرف جر کے آنے کی وجہ سے اس کے آخر سے الف حذف کردیا گیا ہے اور فتح کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ ما موصولہ اور ما استفہامیہ میں امتیاز ہوسکے کیونکہ ما موصولہ میں الف کو حذف نہیں کیا جاتا۔ فیما ای فی ای شیء اور یہ خبر ہے مبتداء انت کی۔ ذکرھا مضار مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الساعۃ کے لئے ہے۔ من ذکرھا بیان ہے ای شیء کا۔ سارا جملہ استفہام انکاری ہے بمعنی لست فی شیء من ذکر وقت القیامۃ (آپ کو قیامت کے آنے کے وقت کا بالکل علم نہیں ہے ذکری بمعنی علم ہے جیسا کہ محاورہ ہے :۔ لیس فلان فی العلم شیء یعنی فلاں شخص کو بالکل علم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 43–46

[14] یعنی جب خود آپ کو اس کے وقت کا علم تعین کے ساتھ نہیں دیا گیا ہے تو آپ انہیں کیا بتائیں گے۔ لہذا آپ اس بحث میں نہ پڑیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 39–46

جہنمی اور جنتی 2: ان آیتوں میں اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ قیامت کے بعد جہنم سے بچنے اور جنت میں داخل ہونے کیلئے کن باتوں کی ضرورت ہے ۔ فرمایا ۔ جن لوگوں نے سرکشی اختیار کی ۔ حدود مذہبی سے جاوز کیا اور اس دنیائے حقیر کی زندگی کو زیادہ اہمیت دی اور یہ سمجھا کہ جو کچھ بھی ہے ، یہی چند روزہ حیات ہے ۔ انہوں نے اپنی جگہ جہنم میں بنائی ۔ جو لوگ اللہ کے سامنے پیش ہونے سے ڈرے کہ مبادا کہیں اعمال کی گرفت نہ ہو اور نفس کو ناجائز خواہشات سے روکا ۔ وہی جنت اور اس کی نعمتوں کے مستحق قرار دیئے جائیں گے حل لغات :۔ سمکھا ۔ بلندی وبرزت الجحیم میں اس طرف اشارہ ہے کہ منکرین تو یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ان کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 43–45

ف 2۔ کفار بقصد انکار قیامت کا معین وقت پوچھا کرتے تھے، آگے اس کا جواب ہے کہ اس کے بیان کرنے سے آپ کا کیا تعلق کیونکہ بیان کا موقوف علیہ علم ہے اور وہ منتفی ہے اور انتفاء موقوف علیہ مستلزم ہے انتفاء موقوف کو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تجھے اس کے آنے کے ذکر سے کیا تعلق ہے ؟ ۔ 43 یہ ان کے سوال کا جواب دیا جا رہا ہے جو گزشتہ آیت میں انہوں نے اٹھایا تھا کہ ” بتائو قیامت کب ہوگی ؟ “ آپ سے کہا جا رہا ہے کہ عقل کے ادھو اس سوال کا میرے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ کیا میں نے کہا ہے کہ قیامت میں لائوں گا یا لاتا ہوں۔ جب اس کے لانے کا تعلق میرے ساتھ نہیں ہے بلکہ اسی ذات کے ساتھ ہے جو اس کائنات کا بنانے والا ہے ، کائنات کا نظام چلانے والا ہے لہٰذا اگر تم کو یہ پوچھنا ہی ہے تو اس سے پوچھو جس کو قیامت بپا کرنا ہے۔ میں تو محض خبر دینے والا ہوں اور میں اتنی ہی خبر دے سکتا ہوں کہ جتنی مجھے بتائی گئی ہے۔ جو چیز مجھے بتائی نہیں گئی اس کو میں تم سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–46

Thereafter, the special marks of the inmates of Paradise are described. They too have two characteristics: وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَ‌بِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ (whereas for the one who feared to stand before his Lord, and restrained his self from the [ evil ] desire, 79:40). In other words, [ 1] the first characteristic of a God-fearing person is that, in this life, he shudders at the thought of appearing before Allah to account for his deeds on the Day of Reckoning; and [ 2] forbids the baser self from its evil desires. Those who are characterised by these two qualities…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–45

23 This also we have explained in E.N. 36 of Surah Al-Mulk above. As for the words "you are only a Warner to him who fears it", they do not mean that it is not your duty to warn those who do not fear, but it means: "Your warning will benefit only him who fears the coming of that Day."

Read the full tafseer →