An-Naazi'aat 79:42

An-Naazi'aat · from ayah 42

79:42

یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا ۟ؕيَسۡــٴَــلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰٮهَا

(اے پیغمبر، لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

They ask you, [O Muhammad], about the Hour: when is its arrival?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:42

یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ "آخر وہ گھڑی کب آ کر ٹھیرے گی؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے پیغمبر، لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ لوگ تم سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب قائم ہوگی ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کے لیے ٹھہری ہوئی ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(کفّار) آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ تجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ وہ کب قائم ہوگی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ کب آئے کھڑی ہوگی ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پوچھتے ہیں یہ لوگ آپ سے (اے پیغمبر !) قیامت کے بارے میں (تعجب و انکار کے طور پر) کہ آخر کب آکر ٹھہرے گی وہ ؟

— مولانا اسحاق مدنی

یہ لوگ آپ سے قیامت کی بابت سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں قیامت کے بارے میں کہ وہ کب آکرٹھہرے گی ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے پیغمبر ! لوگ تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب آئے گی ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

They ask you about the Hour: “When will it be?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They ask you (O Prophet,) about the Hour (the Day of Judgment) as to when it will take place.

— Muhammad Taqi Usmani

They ask you (O Prophet,) about the Hour (the Day of Judgment) as to when it will take place.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They ask you about the Hour when will be its appointed time

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They ask thee of the Hour: when will it come to port?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They ask you, [O Muhammad], about the Hour: when is its arrival?

— Saheeh International

(Muhammad), they ask you, "When will the Hour of Doom come?"

— Muhammad Sarwar

They ask you about the hour, when it will come.

— Muhammad Habib Shakir

They question thee of the Hour:'when will its arrival be?

— Abdul Majid Daryabadi

They ask thee about the Hour,-'When will be its appointed time?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 79:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–46

انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات طامتہ الکبریٰ سے مراد قیامت کا دن ہے اس لئے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہوگا، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ 46؀) 54۔ القمر :46) یعنی قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کرلے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى 23ۭ) 89۔ الفجر :23) یعنی اس دن آدمی نصیحت حاصل کرلے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 40–42

سورة النّٰزِعٰت 22 کفار مکہ رسول اللہ سے یہ سوال بار بار کرتے تھے اور اس سے مقصود قیامت کی آمد کا وقت اور اس کی تاریخ معلوم کرنا نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کا مذاق اڑانا ہوتا تھا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد ششم، تفسیر سورة ملک، حاشیہ 35)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–46

پہلے اہل جہنم کی خاص علامات بیان کی گئی وہ دو ہیں فَاَمَّا مَنْ طَغٰى،ۙوَاٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا اول طغیان یعنی اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کے احکام کی پابندی کے بجائے سر کشی کرنا، دوسرے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینا یعنی جب ایسا کوئی کام سامنے آئے کہ اسکے اختیار کرنے سے دنیا میں تو آرام یا لذت ملتی ہے مگر آخرت میں اس پر عذاب مقرر ہے اس وقت وہ دنیا کی لذت کو ترجیح دے کر آخرت کی فکر کو نظر انداز کردے۔ جو شخص دنیا میں ان دو بلاؤں میں مبتلا ہے اس کے لئے فرمایا فان الجحیم ھی الماوی، یعنی جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے۔ اسکے بعد اہل جنت کی اسی طرح دو علامتیں بتلائی ہیں۔ وَاَمَّا مَنْ خَافَ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نبی صلعم کو تسلی: یہ اور اس کے بعد خاتمۂ سورہ کی آیات ہیں جن میں نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم ان لوگوں کی پروا نہ کرو جو تمہیں زچ کرنے کے لیے قیامت کے ظہور کا وقت پوچھتے ہیں۔ تمہارا کام اس سے لوگوں کو آگاہ کر دینا ہے تاکہ جو متنبہ ہونا چاہیں وہ متنبہ ہو جائیں۔ رہے وہ جو اس کو دیکھ کر ماننا چاہتے ہیں اور اس کے ظہور کا وقت معلوم کرنے کے درپے ہیں ان کو مطمئن کرنا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ انھوں نے محض اس کی تکذیب کے لیے ایک بہانہ بنایا ہے۔ ’اَیَّانَ مُرْسَاہَا‘۔ یعنی یہ اس کے ظہور کے وقت سے متعلق سوال کرتے ہیں۔ ’اَیَّانَ‘ وقت مستقبل سے متعلق سوال کے لیے آتا ہے اس وجہ سے اس کا ترجمہ میرے نزدیک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

42۔ 1 یعنی قیامت کب واقع اور قائم ہوگی ؟ جس طرح کشتی اپنے آخری مقام پر پہنچ کر لنگر انداز ہوتی ہے اسی طرح قیامت کے واقع کا صحیح وقت کیا ہے ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–45

9: عرب کے کافر لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا جو انکار کرتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی مردے کے زندہ ہونے کو بہت مشکل سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کائنات کی دوسری چیزوں، مثلاً آسمان، کے مقابلے میں انسان کو پیدا کرنا زیادہ آسان ہے، اگر تم مانتے ہو کہ آسمان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب اس سورت میں عقل وخرد کی تاروں پر ایک شدید چوٹ لگائی جاتی ہے جس سے ایک طویل نغمہ بلند ہوتا ہے۔ یسئلونک ................................ اوضحھا ہٹ دھرمی میں ڈوبے ہوئے مشرکین جب حضور اکرم ﷺ کی زبانی روز قیامت کی یہ ہولناکیاں سنتے اور قرآن میں قیامت کے برپا ہونے کے عظیم واقعات اور افراتفری اور ہنگامہ عظیم کی بات سنتے کہ وہ اں حساب و کتاب ہوگا اور جزاء وسزا ہوگی تو وہ فوراً سوال کردیتے۔ ایان مرسھا (42:79) ” آخر وہ گھڑی کب آکر ٹھہرے گی ؟ “۔ یہ تو تھا ان کا سوال۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 41–42

آیت 41{ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاْوٰی۔ } ”تو یقینااُس کا ٹھکانہ جنت ہی ہے۔“ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ‘ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔ آمین !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 41–43

27 یعنی اس دن ساری مخلوق دو گروہوں میں بٹ جائے گی۔ ایک وہ جو آخرت کے منکر تھے انہیں اللہ کے سامنے پیش ہونے اور اپنے اعمال کی جوابدہی کا نہ کوئی تصور تھا اور نہ خطرہ تھا۔ لہذا وہ دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ کر اس پر فریفتہ رہے اور آخرت سے بالکل بےفکر بنے رہے ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ وہ جب جہنم پر پہنچیں گے تو فوراً اس میں داخل کردیئے جائیں گے۔ دوسرے وہ جنہیں آخرت میں اپنے اعمال کی جوابدہی کا ہر وقت خطرہ لا حق رہتا تھا۔ لہذا انہوں نے اپنے اخروی مفاد کی خاطر ہر وقت اپنے نفس کی خواہشات کو دبائے رکھا اور اللہ سے ڈرتے ہوئے نہایت محتاط اور ذمہ دارانہ زندگی گزاری ہوگی۔ ایسے ہی لوگ جنت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 42–43

18۔ یعنی آپ (علیہ السلام) کو جب خود ہی اس کے وقت کا علم تعین کے ساتھ نہیں دیا گیا ہے تو آپ (علیہ السلام) انہیں کیا بتائیں گے۔ (آیت) ” یسئلونک “۔ یعنی یہ سوال، تعریض و انکار کی راہ سے کررہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 40–46

واما من خاف مقام ربہ الخ، اس آیت میں اہل جنت کی دو علامتوں کو بیان فرمایا، اول یہ کہ جس شخص کو دنیا میں ہر عمل کے کرنے کے وقت یہ خوف اور اندیشہ لگا رہا کہ مجھے ایک روز حق تعالیٰ کے حضور پیش ہو کر اپنے تمام اعمال کی جواب دہی کرنی ہے، دوسرے اپنے نفس کو ناجائز خواہشات سے قابو میں رکھا، جس نے دنیا میں یہ دو وصف حاصل کر لئے اس کے لئے قرآن کریم یہ خوشخبری دے رہا ہے کہ اس کا ٹھکانہ جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ بحمدتم اللہ

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یسئلونک عن الساعۃ ایان مرساھا . مُرْسٰی ‘ راس سے مصدر ہے۔ کھڑا ہونا ‘ جمنا ‘ بپا ہونا۔ یعنی کفار قریش قیامت کے متعلق آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہوگا ؟ (وہ کب بپا ہوگی ؟ ) حاکم اور ابن جریر ؓ نے حضرت عائشہ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ (لوگوں کے سوال کا جواب دینے کیلئے) قیامت کے متعلق (جبرئیل سے یا بوقت مناجات اللہ سے) سوال کرتے تھے اس پر آیت : یسئلونک عن الساعۃ .... نازل ہوئی۔ طبرانی اور ابن جریر نے طارق بن شہاب کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ قیامت کا ذکر بکثرت کرتے تھے ‘ اس پر فیم انت من ذکرھا . نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم نے حضرت عروہ کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی ہے۔ حاصل کلام یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے محمد کفار مکہ آپ سے بطور تعریض کے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ کب قائم ہوگی۔ شان نزول : يَسْـــَٔــلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ (الخ) حاکم اور ابن جریر نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا جاتا تھا یہاں تک کہ آپ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن ابی حاتم، ضحاک عن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ مشرین مکہ نے نبی اکرم سے بطور استہزاء کے دریافت کیا کہ قیامت کب قائم ہوگی اس پر اللہ تعالیٰ نے اخیر تک آپ پر یہ آیت نازل فرمائی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 42–43

یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا :”مرسھا“ ارسی یرسی“ (افعال) سے مصدر ہو تو معنی ہوگا ”اس کا وقوع یا قیام“ اور اگر ظرف ہو تو معنی ہے ”اس کے قیام کا وقت۔“ کافر لوگ یہ سوال بار بار کرتے تھے، اس سے ان کا مقصد قیامت کا وقتا ور تاریخ معلوم کرنا نہیں تھا بلکہ اسے جھٹلانا اور اس کا مذاق اڑانا ہوتا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 42–44

یسئلونک عن الساعۃ۔۔۔ تا۔۔۔۔ اوضحھا۔ یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا۔ حضرت ابن عباس نے کہا، مکہ مکرمہ کے مشرکوں نے رسول اللہ سے مذاق کے انداز میں سوال کیا قیامت کب برپا ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا، حضرت عروہ بن زبیر نے اس آیت کی تفسیر میں روایت نقل کی ہے رسول اللہ لگاتار قیامت کے بارے میں سوال کرتے رہے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی فیم انت من ذکراھا، الی ربک من تھا۔ مرسھا کا معنی اس کا قائم ہونا ہے فراء نے کہا، سوھا کا معنی اس کا قیام ہے جس طرح کشتی ٹھہرتی ہے ابوعبید نے کہا، اس کا معنی اس کی انتہا ہے کیونکہ مرسی السفینہ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کشی لنگر انداز ہوتی ہے یہی حضرت ابن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

18۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا جاءت الطامۃ سو جب وہ بڑا حادثہ آئے گا یعنی جب دوزخی دوزخ کے داروغہ مالک کی طرف بھیجے جائیں گے آیت فاما من طغی سو جس نے سرکشی کی یعنی نافرمانی کی یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسٰہا آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہوگا یعنی اس کا وقت کب ہوگا۔ آیت فیم انت من ذکرٰہا آپ کو اس کے ذکر سے کیا واسطہ یعنی قیامت سے۔ 19۔ ابن مردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ سے قیامت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا تو یہ آیت فیم انت من ذکرہا نازل ہوئی۔ 20۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَسْـــَٔــلُوْنَكَ : یہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ][ عَنِ السَّاعَةِ : اس گھڑی (قیامت) کے بارے میں ][ اَيَّان مُرْسٰـىهَا : کب ہے اس کے قائم ہونے کا وقت ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 40–44

اب دوسرا رخ لیجئے، ارشاد فرمایا : ﴿ وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى ۙ0040 فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰىؕ0041﴾ (اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا یعنی وہاں کے حساب سے خوف زدہ ہوا اور اپنے نفس کو خواہشوں سے روکا تو اس کا ٹھکانہ جنت ہے) ۔ بات یہ ہے کہ انسان گناہوں کو چھوڑنا چاہتا ہے۔ حرام سے بچنے کا ارادہ کرتا ہے فرائض و واجبات کا اہتمام کرنا چاہتا ہے تو اس کا نفس آڑے آجاتا ہے، نفس کو آرام چاہیے مزہ اور لذت چاہیے اسے ہری بھری دنیا محبوب ہے، آخرت میں کیا بنے گا اسے اس کی فکر ہی نہیں لہٰذا وہ گناہوں میں منہمک رہنے ہی کو پسند کرتا ہے، جو لوگ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–46

اعلان خداوندی بقدرت کاملہ وعاجزی و پستی کائنات پیش عظمت الہی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء ........ الی ........... الا عشیۃ اوضحہا “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں خداوندعالم نے اپنی شان حاکمیت عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہوئے قیامت اور قیامت کے احوال بیان فرمائے تھے، اور یہ کہ کائنات کا یہ سارا نظام دم کے دم میں درہم برہم ہوجائے گا، زمین و آسمان اور پہاڑ چاند سورج اور ستارے غرض سب ہی ختم کردیئے جائیں گے اور دلوں کا اضطراب وبے چینی کا عالم ناقابل تصور ہوگا تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کاملہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اور یہ کہ کائنات کی کوئی طاقت اور قوت خداوند عالم کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 42–44

16:۔ ” یسئلونک “ یہ شکوی ہے۔ ” مرسی “ مصدر ہے بمعنی ” ارساء “ یعنی اقامت۔ مشرکین آپ سے بطور استہزاء سوال کرتے ہیں کہ قیامت کب آئیگی اور کب اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر فرمائے گا۔ یریدون متی یقیمہا اللہ تعالیٰ ویکونہا الخ (روح) ۔ ” فیم انت من ذکریھا “ یہ مشرکین کے سوال کا رد اور اس پر انکار ہے آپ کس بنیاد پر ان کے سامنے قیامت کا وقت معین بیان کریں گے اس کا وقت معین تو خود آپ کو بھی معلوم نہیں اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف راجع اور منتہی ہے اور اس کے سوا کسی کو اس کا علم نہیں، تو پھر یہ لوگ آپ سے کیوں سوال کرتے ہیں۔ الیہ عز وجل انتھاء علمہا لیس لاحد منہ شتی کائنا ما کان فلای شیء یسئلونک عنہا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–46

(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر حکماء کے نظریہ کے مطابق بیان کیا ۔ اور اس ضمن میں ماننے والے اور انکار کرنے والے دونوں گروہوں کے نتائج بھی بیان کردیے ہیں ۔ پہلے منکرین کے حالات بیان ہوئے کہ کہتے ہیں ” ء اذاکنا عظاما نخرۃ “ جب ہم مرکر بوسیدہ ہدیاں ہوجائیں گے۔ تو پھر کیسے زندہ ہوجائیں گے ، اللہ جل شانہ نے دو بار ہ زندگی کی دلیل کے طور پر فرمایاء انتم اشد خلقا ام السماء بنھا “ کیا تمہارے جیسی چھوٹی چیز کا پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان جیسی بڑی چیز کا بنانا ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ۔ اس نے پہلی دفعہ تم کو پیدا کردیا تھا ، تو دوبارہ زندہ کرنا کیسے مشکل ہے ۔ اس نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَسْـــَٔــلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَۃِ اَيَّانَ مُرْسٰـىہَا۝ 42 ۭ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 42–46

ترکیب ¦ ایان ظرف زمانی مبنی علی الفتح مبتداء مرسہا خبرہ ای منتھی قیامھا قال ابو عبیدۃ مرسی السفینۃ مستقرباء الجملۃ بیان السوال۔ فیم اصلہ فیما ای فی ای شیء خبرو المبتداء انت من ذکراھا بیان لای شیء والمعنی لست فی شیء من ذکر وقت القیامۃ انما یعلمھا اللہ تعالیٰ خاصۃ والاستفھام انکاری وردلسوال المشرکین عنھا الی ربک متعلق بثابت خبر منتھاھا مبتداء ای منتھی علمھا لا یعلم تعین وقتھا الاہو والجملۃ تاکید الجملۃ الاولی فی ردسوالھم وکذا انما انت منذر مضاف الی من وھذا قراۃ الجمہور وقریٔ بالتنوین قال الفراء کلاھما صواب کقولہ بالغ امرہ وموھن کید الکافرین وقال صاحب الکشاف الاصل ھو النتوین والا ضافۃ تخفیف وکلا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰھَا۔ (النازعات : 42) (وہ قیامت کے بارے میں آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کب ہوگا اس کا قیام ؟ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی کفارِ مکہ رسول اللہ ﷺ سے بار بار یہ سوال کرتے تھے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی جس کا آپ ہمیں بار بار ڈراوا دے رہے ہیں۔ آخر اس کا سفینہ کہاں رک کر رہ گیا ہے، وہ ہمارے ساحل پر کب لنگرانداز ہوگا۔ کیونکہ اَیَّانَ مستقبل کے وقت کے متعلق سوال کے لیے آتا ہے۔ اور مُرْسیٰ جہاز کے لنگرانداز ہونے کو کہتے ہیں۔ کھڑے ہونے اور قائم ہونے پر بھی بولا جاتا ہے۔ وہ یہ سوال پوچھنے کے لیے نہیں بلکہ طنز کے لیے کرتے تھے کہ ایک عرصہ گزر گیا آپ ہمیں قیامت کی خبر دے رہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–46

فہم القرآن ربط کلام : سورت کی ابتدائی آیات میں قیامت کے ثبوت دئیے گئے ہیں اس کا اختتام بھی انہیں دلائل پر کیا گیا ہے۔ نبی معظم ﷺ سے اہل مکہ مختلف موقعوں پر مختلف الفاظ اور انداز میں سوال کرتے کہ قیامت کب آئے گی۔ اس سوال کے انہیں کئی جواب دیئے گئے جن کے بنیادی طور پر دو مفہوم ہیں۔ 1۔ کوئی اقرار کرے یا انکار کرے قیامت ہر صورت واقع ہوگی۔ 2۔ قیامت کے بارے میں سوال کرنے والوں کو اس کا وقت جاننے کی بجائے اس کے احتساب کا فکر کرنا چاہیے۔ کفار کے سوال کا جہاں یہ جواب دیا گیا ہے کہ اے رسول ! لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کے کا وقت پوچھتے ہیں کہ وہ کب اور کس وقت واقع ہوگی ان سے فرمائیں ! کہ قیامت کا وقت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

42 : یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰہَا (یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا) اس کا برپا ہونا کب ہے ؟ اور کب قائم ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ اس کو کب قائم کریں گے ؟

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 42–46

42۔ 46۔ نسائی ‘ مستدرک 4 ؎ حاکم مسند بزار مسند عبد بن حمید وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب تک یہ آیتیں نازل نہیں ہوئی تھیں اس وقت تک ٹھٹھے کے طور پر اکثر مشرکین آنحضرت ﷺ سے قیامت کا حال پوچھا کرتے تھے جب یہ آیتیں نازل فرما کر اللہ تعالیٰ نے جتلایا کہ قیامت کے آنے کا وقت سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں تو مشرکنا مکہ اور ٹھٹھے کی باتیں کرتے تھے مگر عاجز آ کر قیامت کا حال پوچھنا انہوں نے کم کردیا تھا۔ ان روایتوں میں بعض صحیح ہیں اور باقی کی تقویت صحیح روایتوں سے ہوجاتی ہے۔ صحیح 5 ؎ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے سائل کی صورت بن کر آنحضرت ﷺ سے دین کے چند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

قیامت کے جھٹلانے والے اور لغزش کے خواہاں لوگ آپ سے پوچھتے ہیں (عَنِ السَّاعَةِ ) قیامت کے متعلق۔ کہ اس کا وقوع اور (اَيَّانَ مُرْسٰـىهَا) اس کا قیام کب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(30) جنتیوں کی تعیین و تشخیص کا ذکر وبیان : سو دوزخیوں کے مقابلے میں جنتیوں کے بارے میں واضح فرما دیا گیا کہ جنت سے سرفرازی کے لیے دو بنیادی شرطیں ہیں۔ یعنی خوف خدا اور ترک ھوی۔ کہ راستے اصل میں دو ہی ہیں۔ ایک اتباع ھدی کا راستہ، جو کہ مومن مخلص کا اور اللہ والوں کا راستہ ہے، اور دوسرا اتباع ھوی یعنی خواہش پرستی کا راستہ، پس اصل دنیا میں جن لوگوں نے اس بات کا خیال رکھا اور احتیاط برتی کہ ہمارا رب ہم سے ناراض نہ ہوجائے، اور انہوں نے خواہشات نفس کی پیروی کرنے اور متاع دنیا کے پیچھے دوڑنے کی بجائے نفس کو کنٹرول میں رکھا اور آخرت کی کامیابی کو اپنا اصل مقصد بنایا، اور اتباع ھوی کی بجائے اتباع ھدی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 27–46

جس نے کائنات بنائی وہ تمہیں بھی بنا سکتا ہے تشریح : یہاں ایک تو انسان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا خود اس کو بھی اللہ نے ہی بنایا ہے اور اس کے رہن سہن کے لیے پوری کائنات بنائی ہے۔ جو یقینا انسان کی پیدائش سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام ہے اگر وہ اللہ کی قدرت حکمت اور بڑائی پر غور کرے تو وہ اللہ کی دی گئی اس خبر کو ہرگز معمولی یا جھوٹ نہ سمجھے کہ '' قیامت آنے والی ہے۔ قیامت کے بعد حساب کا دن ضرور آئے گا ''۔ ان آیات میں اس یقین دہانی کے علاوہ فطرت اور کائنات کے مضبوط ' معقول اور بہترین انتظامات کا ذکر بھی بڑی خوبصورتی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–46

آیات 27 تا 46۔ اسرار ومعارف۔ اگر انہیں دوبارہ زندہ ہونے کا اعتبار نہیں آتا اور اسے مشکل جانتے ہیں تو موجودہ حیات پہ غورکریں کہ بندہ کو دوبارہ بنانامشکل ہے یا آسمانوں کی تخلیق جن کو ان کے بیشمار امور اور مخلوق کے ساتھ بنادیا اور ایسا بنایا کہ کہیں کوئی خامی باقی نہ رہی بلکہ وہ شب وروز کی آمدورفت اور سورج کے طلوع و غروب کے باعث پورے نظام حیات کو چلانے کا سبب بن گیا اس کے بعد زمین کو بچھادیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ برابر بچھی ہوئی ہے اور اس میں زندگی کے اسباب نہریں دریا اور سبزہ پیدا کردیے ہیں اور اس بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیے جو بیشمار نعمتوں کا سبب ہیں اور جن سب امور کے نتیجے میں تم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 41–42

ف 4 لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اس کا وقوع (یاقیام) کب ہوگا ؟ “ متعدد آیات میں گزرچکا ہے کہ کافر یہ سوال معلومات کے لئے نہیں بلکہ ازراہ مذاق کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:42) یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ رسول کریم ﷺ کے لئے ہے۔ یعنی اے محمد ﷺ لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں ۔ پوچھتے ہیں۔ دریافت کرتے ہیں۔ الساعۃ۔ یعنی قیامت۔ ایان۔ اسم ظرف زمان مبنی برفتح۔ مبتدا۔ مرسھا مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا کی خبر۔ یہ جملہ سوال کا بیان ہے۔ ایان : منی کے قریب المعنی ہے اور کسی شے کا وقت معلوم کرنے کے لئے آتا ہے۔ بعض لوگ اس کی اصل ای اوان بمعنی ” کونسا وقت “ بتاتے ہیں۔ الف کو حذف کرکے واؤ کو یاء کیا گیا پھر ی کو ی میں ادغام کیا گیا ایان ہوگیا۔ مرسی مصدر میمی ہے اور ارساء (افعال) مصدر (لام و متعدی) سے اسم ظرف زمان و مکان کی ہے۔ ارسا ارساء بمعنی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 33–42

[13] یعنی زمین کی ہر چیز اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ وہ بڑی حکمت کے ساتھ کسی نہ کسی مقصد کو پورا کرنے کے لئے بنائی گئی ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو اور وہ کھائے پیئے اور ختم ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 39–46

جہنمی اور جنتی 2: ان آیتوں میں اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ قیامت کے بعد جہنم سے بچنے اور جنت میں داخل ہونے کیلئے کن باتوں کی ضرورت ہے ۔ فرمایا ۔ جن لوگوں نے سرکشی اختیار کی ۔ حدود مذہبی سے جاوز کیا اور اس دنیائے حقیر کی زندگی کو زیادہ اہمیت دی اور یہ سمجھا کہ جو کچھ بھی ہے ، یہی چند روزہ حیات ہے ۔ انہوں نے اپنی جگہ جہنم میں بنائی ۔ جو لوگ اللہ کے سامنے پیش ہونے سے ڈرے کہ مبادا کہیں اعمال کی گرفت نہ ہو اور نفس کو ناجائز خواہشات سے روکا ۔ وہی جنت اور اس کی نعمتوں کے مستحق قرار دیئے جائیں گے حل لغات :۔ سمکھا ۔ بلندی وبرزت الجحیم میں اس طرف اشارہ ہے کہ منکرین تو یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ان کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(42) یہ منکر آپ سے پیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ اس کا قیام اور وقوع کب ہوگا۔ یعنی جب قیامت کا ذکر کریں تو بطور استہزاء اور انکار دریافت کرتے ہیں کہ یہ کب واقع ہوگی اور اس وعدہ قیامت کا وقت کب ہے آگے اس کا جواب ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 40–42

ف 1۔ یعنی اعتقاد کے ساتھ عمل بھی صالح ہوگا اور عمل صالح طریق جنت ہے، اس کا موقوف علیہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ وہ کب قائم ہوگی ؟ ۔ 42 (ایان) کب متی کے قریب المعنی ہے اور کسی شے کا وقت دریافت کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ بعض لوگ اس کی اصل ا ی اوان بمعنی کونسے وقت کے بتاتے ہیں اور الف کو حذف کر کے وائو کو یا کیا گیا ہے اور پھر یا کا یا میں ادغام کردیا اور اس طرح (ایان) ہوگیا۔ قرآن کریم میں یہ لفظ چھ بار آیا ہے (7 : 781) ، (61 : 12) ، (72 : 56) ، (15 : 21) ، (57 : 6) اور ایک بار اس جگہ سورة النازعات میں (مرسھا) مرسا مضاف ھا ضمیر مضاف الیہ۔ مصدر میمی ٹھہرانا ، جمانا۔ (سراغ ، راغب ، آلوسی) اس کا اصل مادہ ر س و ہے اورر س ا یر سوار سوا کے معنی ٹھہرنا۔ جگہ پر جم جانا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–46

Thereafter, the special marks of the inmates of Paradise are described. They too have two characteristics: وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَ‌بِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ (whereas for the one who feared to stand before his Lord, and restrained his self from the [ evil ] desire, 79:40). In other words, [ 1] the first characteristic of a God-fearing person is that, in this life, he shudders at the thought of appearing before Allah to account for his deeds on the Day of Reckoning; and [ 2] forbids the baser self from its evil desires. Those who are characterised by these two qualities…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

22 The disbelievers of Makkah asked this question of the Holy Prophet over and over again. By this they did not mean to know the time and date of the coming of Resurrection but to mock it. (For further explanation, see E.N. 35 of Surah Al-Mulk) .

Read the full tafseer →