An-Naazi'aat 79:41

An-Naazi'aat · from ayah 41

79:41

فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰی ۟ؕفَاِنَّ الۡجَـنَّةَ هِىَ الۡمَاۡوٰىؕ

اس کا ٹھکانہ بہشت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then indeed, Paradise will be [his] refuge.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:41

اس کا ٹھکانہ بہشت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تو جنت ہی اس کا ٹھکانا ہوگی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو بیشک جنت ہی ٹھکانا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو بیشک جنت ہی (اُس کا) ٹھکانا ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو بیشک جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو جنت ہی اس کا ٹھکانا ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اس کا ٹھکانا لاریب جنت ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو بلاشبہ جنت ہی ہوگی اس کا ٹھکانا

— مولانا اسحاق مدنی

تو ایسے کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو یقینااُس کا ٹھکانہ جنت ہی ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس کا ٹھکانا بہشت ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

most surely his abode shall be Paradise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the Paradise will be the abode.

— Muhammad Taqi Usmani

the Paradise will be the abode.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, Paradise will be his abode.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then indeed, Paradise will be [his] refuge.

— Saheeh International

Paradise will be the dwelling.

— Muhammad Sarwar

Then surely the garden-- that is the abode.

— Muhammad Habib Shakir

Verily the Garden! -that shall be his resort.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 79:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–46

انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات طامتہ الکبریٰ سے مراد قیامت کا دن ہے اس لئے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہوگا، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ 46؀) 54۔ القمر :46) یعنی قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کرلے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى 23ۭ) 89۔ الفجر :23) یعنی اس دن آدمی نصیحت حاصل کرلے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 40–42

سورة النّٰزِعٰت 22 کفار مکہ رسول اللہ سے یہ سوال بار بار کرتے تھے اور اس سے مقصود قیامت کی آمد کا وقت اور اس کی تاریخ معلوم کرنا نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کا مذاق اڑانا ہوتا تھا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد ششم، تفسیر سورة ملک، حاشیہ 35)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–46

پہلے اہل جہنم کی خاص علامات بیان کی گئی وہ دو ہیں فَاَمَّا مَنْ طَغٰى،ۙوَاٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا اول طغیان یعنی اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کے احکام کی پابندی کے بجائے سر کشی کرنا، دوسرے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینا یعنی جب ایسا کوئی کام سامنے آئے کہ اسکے اختیار کرنے سے دنیا میں تو آرام یا لذت ملتی ہے مگر آخرت میں اس پر عذاب مقرر ہے اس وقت وہ دنیا کی لذت کو ترجیح دے کر آخرت کی فکر کو نظر انداز کردے۔ جو شخص دنیا میں ان دو بلاؤں میں مبتلا ہے اس کے لئے فرمایا فان الجحیم ھی الماوی، یعنی جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے۔ اسکے بعد اہل جنت کی اسی طرح دو علامتیں بتلائی ہیں۔ وَاَمَّا مَنْ خَافَ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

البتہ وہ لوگ جو اپنے رب کے حضور پیشی سے ڈرتے رہے اور دنیا کے پیچھے بھاگنے کے بجائے جنھوں نے اپنے نفس کو خواہشوں کی پیروی سے روکا تو ان کا ٹھکانہ بس جنت ہی ہو گی وہ اس سے کبھی محروم نہ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 40–41

40۔ 1 کہ اگر میں نے گناہ اور اللہ کی نافرمانی کی تو مجھے اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، اس لئے وہ گناہوں سے اجتناب کرتا رہا ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–45

9: عرب کے کافر لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا جو انکار کرتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی مردے کے زندہ ہونے کو بہت مشکل سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کائنات کی دوسری چیزوں، مثلاً آسمان، کے مقابلے میں انسان کو پیدا کرنا زیادہ آسان ہے، اگر تم مانتے ہو کہ آسمان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فان ................ الماوی (41:79) ” جنت اس کا ٹھکانا ہوگی “۔ کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ نفس کے ساتھ جہاد ، جہاد اکبر ہے اور اس کی قیمت یہ ہے کہ یہ نفس سیدھا ہوکر بلند مقام و مرتبہ تک پہنچ جائے۔ انسان ، انسان تب ہوگا کہ وہ اس نہی پر عمل کرے۔ نفس کے خلاف جہاد کرے اور اس طرح گری ہوئی سطح سے اپنے آپ کو بلند کرے۔ انسان اس طرح انسان نہیں بن جاتا کہ وہ اپنے نفس کو خواہشات نفسانیہ کے حوالے کردے اور جہاں تک ممکن ہوسکے خواہشات نفسانیہ کی پیروی کرے ، اور دلیل یہ دے کہ اللہ نے اس کی فطرت میں یہ خواہشات رکھ دی ہیں ، کیونکہ جس ذات نے نفس انسانی کے اندر خواہشات نفسانیہ کا وبال رکھا ہے ، اسی نے انسان کو یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 39–41

3 یعنی جو اس بات کا خیال کر کے ڈرا کہ مجھے ایک روز اللہ کے سامنے حساب کے لئے کھڑا ہونا ہے اور اسی ڈر سے اپنے نفس کی خواہش پر نہ چلا بلکہ اسے روک کر اپنے قابو میں رکھا اور احکام الہٰی کے تابع بنایا تو اس کا ٹھکانا بہشت کے سوا کہیں نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 41–42

آیت 41{ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاْوٰی۔ } ”تو یقینااُس کا ٹھکانہ جنت ہی ہے۔“ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ‘ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔ آمین !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 41–43

27 یعنی اس دن ساری مخلوق دو گروہوں میں بٹ جائے گی۔ ایک وہ جو آخرت کے منکر تھے انہیں اللہ کے سامنے پیش ہونے اور اپنے اعمال کی جوابدہی کا نہ کوئی تصور تھا اور نہ خطرہ تھا۔ لہذا وہ دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ کر اس پر فریفتہ رہے اور آخرت سے بالکل بےفکر بنے رہے ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ وہ جب جہنم پر پہنچیں گے تو فوراً اس میں داخل کردیئے جائیں گے۔ دوسرے وہ جنہیں آخرت میں اپنے اعمال کی جوابدہی کا ہر وقت خطرہ لا حق رہتا تھا۔ لہذا انہوں نے اپنے اخروی مفاد کی خاطر ہر وقت اپنے نفس کی خواہشات کو دبائے رکھا اور اللہ سے ڈرتے ہوئے نہایت محتاط اور ذمہ دارانہ زندگی گزاری ہوگی۔ ایسے ہی لوگ جنت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 40–41

17۔ اب ذکر فرمانبرداروں کا ہورہا ہے۔ ان کا ٹھکانا جنت کے سوا اور کہیں نہیں۔ (آیت) ” ھی الماوی “۔ میں ھی کلمہ تخصیص ہے۔ ونھی النفس عن الھوی، ھوی سے مراد حرام خواہش ہے، تو جس نے نفس کو حرام خواہشوں سے روکا رکھا “۔ کے معنی یہ ہوئے کہ جس نے عقیدہ صحیح کے ساتھ عمل صالح کو بھی جمع رکھا۔ عن الھوی۔ ھوی کے عموم میں ایسی خواہش داخل ہے جسے نفس محبوب رکھے، اور اس میں رضاء حق و خشیت الہی کا کوئی لحاظ نہ ہو، محققین اہل سنت کہتے ہیں۔ کہ ہر ذکر و عبادت و مجاہدہ بھی، جو کتاب وسنت سے ماخوذ نہ ہو، لذات نفس ہی کے لیے کیا جاتا ہے۔ اور ھوی کے حکم میں داخل ہے، اور اسی لئے باطل فرقوں کو اہل بدعت کی طرح اہل ہوی کہنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 40–46

واما من خاف مقام ربہ الخ، اس آیت میں اہل جنت کی دو علامتوں کو بیان فرمایا، اول یہ کہ جس شخص کو دنیا میں ہر عمل کے کرنے کے وقت یہ خوف اور اندیشہ لگا رہا کہ مجھے ایک روز حق تعالیٰ کے حضور پیش ہو کر اپنے تمام اعمال کی جواب دہی کرنی ہے، دوسرے اپنے نفس کو ناجائز خواہشات سے قابو میں رکھا، جس نے دنیا میں یہ دو وصف حاصل کر لئے اس کے لئے قرآن کریم یہ خوشخبری دے رہا ہے کہ اس کا ٹھکانہ جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ بحمدتم اللہ

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فان الجنۃ ھی الماوی . اور بدی کا حکم دینے والے نفس کو خواہشات سے اس نے روکا تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے ‘ صحاح میں ہے کہ ہویٰ کا معنی ہے اپنی پسندیدہ چیزوں کی طرف نفس کا جھکاؤ ‘ ہویٰ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ہویٰ صاحب ہویٰ کو دنیا میں مصیبت میں لے کر گرتی ہے اور آخرت میں ہاویہ کے اندر۔ ہویٰ کا معنی ہے نشیب کی طرف اترنا اور بلندی سے پستی کی طرف گرنا۔ ہویٰ تمام ممنوعات کا سرچشمہ اور حرام چیزوں کی بنیاد ہے۔ ابوبکر وراق کا قول ہے کہ اللہ نے کوئی مخلوق ہویٰ سے زیادہ گندی نہیں پیدا کی۔ ہویٰ ازروئے عقل بھی بری ہے اور ازروئے شرع بھی ‘ عقلی برائی تو یہ ہے کہ اشیاء کی حقیقتیں واقع میں موجود ہیں۔ خصوصاً مبدء…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 40–41

(40۔ 41) اور جس شخص نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈر کر معصیت کو ترک کردیا اور اپنے نفس کو حرم خواہش سے روکا ہوگا جیسا کہ حضرت مصعب بن عمیر سو جنت ایسے حضرات کے لیے ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 36–41

(وبرزت الجحیم لمن یری : یعنی گمراہ لوگوں کیلئے جہنم سامنے کردی جائے گی کہ یہ تمہارا ٹھکانا ہے، البتہ متقی لوگوں کے لئے جنت قریب کی جائے گی، جیسا کہ فرمایا :(وازلفت الجنۃ للمتقین، وبرزت الجحیم للغوین) (الشعرائ : 90، 91)”جنت متقی لوگوں کے قریب کردی جائے گی اور جہنم گمراہوں کے لئے ظاہر کردی جائے گی۔“ یہ معنی بھی درست ہے کہ مومن ہو یا کافر جہنم ہر دیکھنے والے کے سامنے ہوگی، مومن اس سے بچائے جانے پر اللہ کا شکر ادا کریں گے اور کافر شدید حسرت و افسوس میں مبتلا ہوں گے۔ میدان محشر میں جہنم لائے جانے کے متعلق دیکھیے سورة فجر (23) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فان الجنۃ ھی الماوی۔ ماوی سے مراد منزل ہے، یہ دونوں آیتیں حضرت مصعب بن عمیر اور ان کے بھائی کے حق میں نازل ہوئیں ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے، جس نے سرکشی کی اس سے مراد حضرت مصعب بن عمیر کا بھائی ہے جو غزوہ بدر کے موقع پر گرفتا ہوا انصار نے اسے پکڑلیا، انصار نے اس سے پوچھا تو کون ہے ؟ اس نے جواب دیا میں مصعب بن عمیر کا بھائی ہوں صحابہ نے اس کی مشکیں نہ باندھیں اس کی عزت کی اور اپنے ہاں رات ٹھہرایا جب صبح ہوئی تو صحابہ نے حضرت مصعب بن عمیر سے اس کا ذکر کیا تو حضرت مصعب نے کہا، وہ میرا بھائی نہیں اپنے قیدی سے سختی کرو کیونکہ وادی میں اس کی والدہ کے پاس سب سے زیادہ زیور اور مال ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 36–41

جہنم ظاہر کردی جائے گی 17۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وبرزت الجیحم لمن یری اور ہر دیکھنے والے کے لیے دوزخ سامنے لائی جائے گی۔ یعنی ہر دیکھنے والے کے لیے جہنم ظاہر کردی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَان الْجَنَّةَ : تو (اس کے لیے) یقینا جنت ][ ھِيَ الْمَاوٰى: ہی ٹھکانہ ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 40–44

اب دوسرا رخ لیجئے، ارشاد فرمایا : ﴿ وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى ۙ0040 فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰىؕ0041﴾ (اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا یعنی وہاں کے حساب سے خوف زدہ ہوا اور اپنے نفس کو خواہشوں سے روکا تو اس کا ٹھکانہ جنت ہے) ۔ بات یہ ہے کہ انسان گناہوں کو چھوڑنا چاہتا ہے۔ حرام سے بچنے کا ارادہ کرتا ہے فرائض و واجبات کا اہتمام کرنا چاہتا ہے تو اس کا نفس آڑے آجاتا ہے، نفس کو آرام چاہیے مزہ اور لذت چاہیے اسے ہری بھری دنیا محبوب ہے، آخرت میں کیا بنے گا اسے اس کی فکر ہی نہیں لہٰذا وہ گناہوں میں منہمک رہنے ہی کو پسند کرتا ہے، جو لوگ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–46

اعلان خداوندی بقدرت کاملہ وعاجزی و پستی کائنات پیش عظمت الہی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء ........ الی ........... الا عشیۃ اوضحہا “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں خداوندعالم نے اپنی شان حاکمیت عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہوئے قیامت اور قیامت کے احوال بیان فرمائے تھے، اور یہ کہ کائنات کا یہ سارا نظام دم کے دم میں درہم برہم ہوجائے گا، زمین و آسمان اور پہاڑ چاند سورج اور ستارے غرض سب ہی ختم کردیئے جائیں گے اور دلوں کا اضطراب وبے چینی کا عالم ناقابل تصور ہوگا تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کاملہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اور یہ کہ کائنات کی کوئی طاقت اور قوت خداوند عالم کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 40–41

ف 15:۔ واما من خاف یہ بشارت اخرویہ ہے لیکن جو لوگ قیامت کے دن اللہ رب العزۃ کی بارگاہ میں کھڑے ہونے سے ڈر گئے اور نفس کو خواہشات سے روک کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہے تو ان کا ٹھکانا جنت میں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–46

(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر حکماء کے نظریہ کے مطابق بیان کیا ۔ اور اس ضمن میں ماننے والے اور انکار کرنے والے دونوں گروہوں کے نتائج بھی بیان کردیے ہیں ۔ پہلے منکرین کے حالات بیان ہوئے کہ کہتے ہیں ” ء اذاکنا عظاما نخرۃ “ جب ہم مرکر بوسیدہ ہدیاں ہوجائیں گے۔ تو پھر کیسے زندہ ہوجائیں گے ، اللہ جل شانہ نے دو بار ہ زندگی کی دلیل کے طور پر فرمایاء انتم اشد خلقا ام السماء بنھا “ کیا تمہارے جیسی چھوٹی چیز کا پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان جیسی بڑی چیز کا بنانا ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ۔ اس نے پہلی دفعہ تم کو پیدا کردیا تھا ، تو دوبارہ زندہ کرنا کیسے مشکل ہے ۔ اس نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِيَ الْمَاْوٰى۝ 41 ۭ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 34–41

ترکیب ¦ فاذا اشرط الطامۃ قال المبردھی عند العرب الداھیۃ طمم طمم درانپا شتن (ععاض 2) یقال فوق کل ذی طامۃ طامۃ و بریدن والطامۃ قیامت صراح قال المبردھی من قولھم طم افرس طمیما اذا استفرغ جھدہ فی الجری وطم الماء اذا ملاء النھر کا وقال اللیث الطم طم البئیریا بالتراب وھوا لکبس ویقال للشیء الذی یکبر حتی یعلوطم والطامۃ الحاوثۃ تطم علی ماسواھا کبیر۔ والعامل فی اذا جوا بھا وھو معنی قولہ یوم یتذکر قال الواحدی جواب اذا محذوف والتقدیر اذا جاءت الطامۃ الکبرٰی دخل اھل النار النار واھل الجنۃ الجنۃ وقیل جو ابھا قولہ فان الجھیمھی الماویٰ وکانہ جزاء مرکب علی شرطین یوم یتذکر الظرف بدل من اذا وقیل من الطامۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 37–41

فَاَمَّا مَنْ طَغٰی۔ وَاٰ ثَرَالْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ فَاِنَّ الْجَحِیْمَ ھِیَ الْمَاْوٰی۔ وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی۔ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْوٰی۔ (النازعات : 37 تا 41) (تو جس نے سرکشی کی۔ اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ تو بیشک جہنم ہی اس کا ٹھکانہ ہوگا۔ اور وہ جو اپنے رب کے حضور پیشی سے ڈرا اور جس نے اپنے نفس کو خواہش کی پیروی سے روکا۔ تو جنت اس کا ٹھکانہ ہوگا۔ ) جنت و جہنم میں جانے کے اسباب اللہ تعالیٰ کا بےحد کرم ہے کہ ہر انسان کا آخرت میں جو انجام ہونے والا ہے اس کے اسباب و نتائج کو نہایت اختصار کے ساتھ اس طرح سمیٹ کر بیان کردیا ہے کہ اس میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 34–41

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والے قیامت کی ہولناکیوں اور ان کی کیفیت کو نہیں جانتے اس لیے قیامت کا انکار اور اس سے لاپرواہی کرتے ہیں۔ ان کی لاپرواہی کو دور کرنے کے لیے قیامت کی ہولناکیوں اور اس کی ہیبت کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس قیامت کا لوگ انکار کرتے ہیں اس کی ابتدا ہی ایسے زور دار دھماکے سے ہوگی کہ جو ہر چیز کو ہلا کے رکھ دے گا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا زمین آسما نوں میں کوئی چیز باقی نہیں رہے گی اس کے لیے یہاں دو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ” اَلطَّآمَّۃُ الْکُبْرٰی “ کا معنٰی کسی چیز کا لبالب بھرا ہونا ہے۔ ” الکبریٰ “ یعنی قیامت سب سے بڑی آفت ہوگی اور وہ اپنی حولناکیوں کے اعتبار سے ہمہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

41 : فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْوٰی (پس جنت اس کا ٹھکانہ ہوگا) الماویؔ لوٹنے کا مقام

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

40 ۔” واما من خاف مقام ربہ ونہی النفس عن الھویٰ “ ان محارم سے جن کی اس کو خواہش ہوتی ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں وہ آدمی جو معصیت کا پختہ ارادہ کرلے۔ پس اپنے حساب کے لئے کھڑا ہونے کو یاد کرے تو اس کو چھوڑ دے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 34–41

34۔ 41۔ دنیا کی موجودات ایک دن اجڑ کر اس کے بعد سزا و جزا کا دوسرا نظام قائم ہوگا جس کا نام قیامت ہے طامہ اس آفت کو کہتے ہیں جس کی برداشت نہ ہو سکے۔ یہاں طامہ سے مطلب قیامت ہے۔ اس دن دوزخ کو لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لایا جائے گا سورج ایک میل کے فاصلہ کی بلندی پر آجائے گا۔ ادھر سورج کی گرمی اور ادھر دوزخ کی آگ کی گرمی۔ اس لئے پسینہ کی وہ حالت ہوگی کہ ہوش و حواس ٹھکانے نہ رہیں گے۔ نیکی بدی کے تولے جانے کا ‘ پل صراط پر گزرنے کا جدا خوف لگا ہوگا غرض ایسی ایسی خوفناک آفتیں اس دن آدمی کو پیش آنے والی ہیں جس کی برداشت اس قدر مشکل ہے کہ جس کو خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے والساعۃ ادھیٰ وامر جس کا مطلب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَاِنَّ الْجَنَّةَ ) تو بیشک جنت۔ جو ہر بھلائی سرور اور نعمت پر مشتمل ہے ( ھِيَ الْمَاْوٰى) مذکورہ اوصاف کے حامل شخص کو ٹھکانا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 39–41

(29) دوزخیوں کی تعیین و تشخیص کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور دوزخیوں کی تعیین و تشخیص اور ان کی نشاندہی کی طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں کی سرکشی ہوگی اور دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیں دی ہوگی ان کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا "۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس سلسلے میں یہ ہے وہ بنیادی نقطہ اور فیصلہ کن مرحلہ کہ انسان اپنی اس دنیاوی زندگی میں ترجیح کس کو دیتا ہے ؟ دنیا کو یا آخرت کو ؟ پس جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اسی کو انہوں نے اپنا اصل مقصد قرار دے دیا، وہ اسی کے لیے جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں، وہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تمیز اٹھا کر دنیا سمیٹنے میں لگ جاتے ہیں کہ ان کا مطمع…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 27–46

جس نے کائنات بنائی وہ تمہیں بھی بنا سکتا ہے تشریح : یہاں ایک تو انسان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا خود اس کو بھی اللہ نے ہی بنایا ہے اور اس کے رہن سہن کے لیے پوری کائنات بنائی ہے۔ جو یقینا انسان کی پیدائش سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام ہے اگر وہ اللہ کی قدرت حکمت اور بڑائی پر غور کرے تو وہ اللہ کی دی گئی اس خبر کو ہرگز معمولی یا جھوٹ نہ سمجھے کہ '' قیامت آنے والی ہے۔ قیامت کے بعد حساب کا دن ضرور آئے گا ''۔ ان آیات میں اس یقین دہانی کے علاوہ فطرت اور کائنات کے مضبوط ' معقول اور بہترین انتظامات کا ذکر بھی بڑی خوبصورتی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–46

آیات 27 تا 46۔ اسرار ومعارف۔ اگر انہیں دوبارہ زندہ ہونے کا اعتبار نہیں آتا اور اسے مشکل جانتے ہیں تو موجودہ حیات پہ غورکریں کہ بندہ کو دوبارہ بنانامشکل ہے یا آسمانوں کی تخلیق جن کو ان کے بیشمار امور اور مخلوق کے ساتھ بنادیا اور ایسا بنایا کہ کہیں کوئی خامی باقی نہ رہی بلکہ وہ شب وروز کی آمدورفت اور سورج کے طلوع و غروب کے باعث پورے نظام حیات کو چلانے کا سبب بن گیا اس کے بعد زمین کو بچھادیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ برابر بچھی ہوئی ہے اور اس میں زندگی کے اسباب نہریں دریا اور سبزہ پیدا کردیے ہیں اور اس بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیے جو بیشمار نعمتوں کا سبب ہیں اور جن سب امور کے نتیجے میں تم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 41–42

ف 4 لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اس کا وقوع (یاقیام) کب ہوگا ؟ “ متعدد آیات میں گزرچکا ہے کہ کافر یہ سوال معلومات کے لئے نہیں بلکہ ازراہ مذاق کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:41) فان الجنۃ ہی الماوی۔ تو بیشک جنت اس کے لوٹنے کی جگہ ہوگی (ملاحظہ ہو 79:39 متذکرۃ الصدر) ماوی۔ مصدر اور اسم ظرف مکان۔ قیام کرنا۔ سکونت پذیر ہونا۔ مقام سکونت۔ ٹھکانا۔ اوی یاوی (ماضی و مضارع) باب ضرب سے۔ اوی بھی مصدر ہے۔ اگر صلہ میں الی ہو تو پناہ پکڑنے ، ٹھکانا بنانے اور فروکش ہونے کے معنی ہوں گے۔ جیسے قال ساوی الی جبل یعصمنی من الماء (11:43) اس نے کہا میں ابھی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا۔ وہ مجھے پانی سے بچا لے گا۔ اگر اس کے بعد لام آئے تو مہربانی اور رحم کرنے کے معنی ہوں گے مثلاً اویت لہ میں نے اس پر رحم کھایا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–41

روز قیامت کی مشکلات۔ (ف 5) دنیا کے موجودات کے ذکر کے بعد قیامت کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ موجودات ہمیشہ رہنے والی چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ سب موجودات ایک دن اجڑ کر اس کے بعد سزا وجزا کا دوسرا انتظام قائم ہوگا جس کا نام قیامت ہے۔ الطامہ اس آفت کو کہتے ہیں جس کی برداشت نہ ہوسکے، یہاں الطامہ سے مطلب قیامت ہے ، اس دن دوزخ کو لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لایاجائے گا، سورج ایک میل کے فاصلہ کی بلندی پر آجائے گا ادھر سے سورج کی گرمی اورادھر دوزخ کی گرمی، اس لیے پسینہ کی وہ حالت ہوگی کہ ہوش و حواس ٹھکانے نہ رہیں گے نیکی وبدی کے تولے جانے کا، پل صراط پر گذرنے کا جداخوف لگا ہوگا، غرض ایسی ایسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 33–42

[13] یعنی زمین کی ہر چیز اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ وہ بڑی حکمت کے ساتھ کسی نہ کسی مقصد کو پورا کرنے کے لئے بنائی گئی ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو اور وہ کھائے پیئے اور ختم ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 39–46

جہنمی اور جنتی 2: ان آیتوں میں اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ قیامت کے بعد جہنم سے بچنے اور جنت میں داخل ہونے کیلئے کن باتوں کی ضرورت ہے ۔ فرمایا ۔ جن لوگوں نے سرکشی اختیار کی ۔ حدود مذہبی سے جاوز کیا اور اس دنیائے حقیر کی زندگی کو زیادہ اہمیت دی اور یہ سمجھا کہ جو کچھ بھی ہے ، یہی چند روزہ حیات ہے ۔ انہوں نے اپنی جگہ جہنم میں بنائی ۔ جو لوگ اللہ کے سامنے پیش ہونے سے ڈرے کہ مبادا کہیں اعمال کی گرفت نہ ہو اور نفس کو ناجائز خواہشات سے روکا ۔ وہی جنت اور اس کی نعمتوں کے مستحق قرار دیئے جائیں گے حل لغات :۔ سمکھا ۔ بلندی وبرزت الجحیم میں اس طرف اشارہ ہے کہ منکرین تو یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ان کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(41) تو اس کا ٹھکانا جنت ہوگا - یعنی اپنے پروردگار کے روبرو پیش ہونے سے ڈرا ہوگا جو آخرت پر ایمان لانے کی نشانی ہے اور اعتقاد صحیح کے ساتھ عمل بھی اس کا صالح ہوگا، تو ایسے مومن کا ٹھکانا جنت ہوگا اور اس کو ہمیشہ کے لئے جنت میں بھیج دیاجائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 40–42

ف 1۔ یعنی اعتقاد کے ساتھ عمل بھی صالح ہوگا اور عمل صالح طریق جنت ہے، اس کا موقوف علیہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس بلاشبہ جنت ہی ان کا ٹھکانا ہے ۔ 41 فرمایا دنیا کی زندگی گزرتے کتنی دیر لگی ؟ اگر کوئی بہت دیر تک زندہ رہا تو ایک سو سال اس نے جی لیا ہوگا اور اس میں زیادہ سے زیادہ پچاس ساٹھ سال اس کو مل گئے ہوں گے کہ وہ ظاہری شوں شاں میں رہا ہوگا پھر غور کرو کہ وہ لوگ کتنے سمجھدار نکلے جنہوں نے اس دنیائے دوں کی زندگی پر لات ماری اور آخرت کو اس پر ہزار بار ترجیح دی اور اللہ تعالیٰ کے قانون سے متصادم ہوتے ہی انہوں نے اپنے آپ کو سختی سے باز رکھا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج جنت کی بہاریں ان کے لئے چشم براہ ہیں اور جتنی مخلوق جو ان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی وہ ان کے اتنظار میں ہیں اور اب میدان حشر سے فراغت پا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–46

Thereafter, the special marks of the inmates of Paradise are described. They too have two characteristics: وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَ‌بِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ (whereas for the one who feared to stand before his Lord, and restrained his self from the [ evil ] desire, 79:40). In other words, [ 1] the first characteristic of a God-fearing person is that, in this life, he shudders at the thought of appearing before Allah to account for his deeds on the Day of Reckoning; and [ 2] forbids the baser self from its evil desires. Those who are characterised by these two qualities…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 36–41

21 Here, in a few words, it has been told briefly what shall be the criterion of the final judgement in the Hereafter. One kind of the conduct of life in the world is that transgressing all bounds of service man should rebel against his God and should make up his mind that he would seek only the benefits and pleasures of this world in whatever way they could be sought and achieved. The other kind of conduct is that while man passes life in the world he should constantly keep in view the truth that ultimately one day he has to stand before his Lord, and should refrain from fulfilling the evil…

Read the full tafseer →