Explained with ayahs 34–46
انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات
طامتہ الکبریٰ سے مراد قیامت کا دن ہے اس لئے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہوگا، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ 46) 54۔ القمر :46) یعنی قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کرلے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى 23ۭ) 89۔ الفجر :23) یعنی اس دن آدمی نصیحت حاصل کرلے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
سورة النّٰزِعٰت 22
کفار مکہ رسول اللہ سے یہ سوال بار بار کرتے تھے اور اس سے مقصود قیامت کی آمد کا وقت اور اس کی تاریخ معلوم کرنا نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کا مذاق اڑانا ہوتا تھا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد ششم، تفسیر سورة ملک، حاشیہ 35)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
پہلے اہل جہنم کی خاص علامات بیان کی گئی وہ دو ہیں
فَاَمَّا مَنْ طَغٰى،ۙوَاٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا
اول طغیان یعنی اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کے احکام کی پابندی کے بجائے سر کشی کرنا، دوسرے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینا یعنی جب ایسا کوئی کام سامنے آئے کہ اسکے اختیار کرنے سے دنیا میں تو آرام یا لذت ملتی ہے مگر آخرت میں اس پر عذاب مقرر ہے اس وقت وہ دنیا کی لذت کو ترجیح دے کر آخرت کی فکر کو نظر انداز کردے۔ جو شخص دنیا میں ان دو بلاؤں میں مبتلا ہے اس کے لئے فرمایا فان الجحیم ھی الماوی، یعنی جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے۔ اسکے بعد اہل جنت کی اسی طرح دو علامتیں بتلائی ہیں۔ وَاَمَّا مَنْ خَافَ…
Read the full tafseer →البتہ وہ لوگ جو اپنے رب کے حضور پیشی سے ڈرتے رہے اور دنیا کے پیچھے بھاگنے کے بجائے جنھوں نے اپنے نفس کو خواہشوں کی پیروی سے روکا تو ان کا ٹھکانہ بس جنت ہی ہو گی وہ اس سے کبھی محروم نہ ہوں گے۔
’مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ‘ سے مراد خدا کے حضور پیشی سے ڈرنا ہے۔ سورۂ مطففین میں اس کی وضاحت یوں آئی ہے:
أَلَا یَظُنُّ أُولٰٓئِکَ أَنَّہُمۡ مَّبْعُوْثُوْنَ ۵ لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ ۵ یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ (المطففین ۸۳: ۴-۶)
’’کیا وہ یہ گمان نہیں رکھتے کہ وہ ایک بھاری دن کی حاضری کے لیے اٹھائے جانے والے ہیں؟ جس دن لوگ خداوند عالم کے حضور پیشی کے لیے اٹھیں گے!‘‘
اسی پیشی کا ڈر ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
40۔ 1 کہ اگر میں نے گناہ اور اللہ کی نافرمانی کی تو مجھے اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، اس لئے وہ گناہوں سے اجتناب کرتا رہا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–45
9: عرب کے کافر لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا جو انکار کرتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی مردے کے زندہ ہونے کو بہت مشکل سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کائنات کی دوسری چیزوں، مثلاً آسمان، کے مقابلے میں انسان کو پیدا کرنا زیادہ آسان ہے، اگر تم مانتے ہو کہ آسمان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟
Read the full tafseer →واما من .................... الماوی (41:79) ” اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے بازرکھا تھا ، جنت اس کا ٹھکانہ ہوگی۔ “ جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا ہے ، وہ کبھی بھی کسی معصیت کا ارتکاب نہیں کرتا۔ اگر کبھی بشری کمزوری سے اس سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو یہ خوف اسے ندامت اور استغفار پر مجبور کردیتا ہے اور وہ توبہ کرتا ہے اور اس طرح وہ اطاعت کے دائرے میں دوبارہ داخل ہوجاتا ہے۔
نفس کو خواہشات سے باز رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ انسان دائرہ اطاعت سے باہر نہ نکلے ، کیونکہ خواہشات نفسانیہ ہی انسانوں کو نافرمانی ، طغیانی اور سرکشی پر آمادہ کرتی ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
3 یعنی جو اس بات کا خیال کر کے ڈرا کہ مجھے ایک روز اللہ کے سامنے حساب کے لئے کھڑا ہونا ہے اور اسی ڈر سے اپنے نفس کی خواہش پر نہ چلا بلکہ اسے روک کر اپنے قابو میں رکھا اور احکام الہٰی کے تابع بنایا تو اس کا ٹھکانا بہشت کے سوا کہیں نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 40{ وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ } ”اور جو کوئی ڈرتا رہا اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہونے کے خیال سے“
سورة الحاقہ میں اس پیشی کی کیفیت یوں بیان کی گئی ہے : { یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰی مِنْکُمْ خَافِیَۃٌ۔ } ”جس دن تم پیش کیے جائو گے تمہاری کوئی مخفی سے مخفی شے بھی چھپی نہیں رہے گی۔“
{ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی۔ } ”اور اس نے روکے رکھا اپنے نفس کو خواہشات سے۔“
اس نے اپنی زندگی میں اپنے نفس کی باگیں ہمیشہ کھینچ کر رکھیں اور غلط خواہشات کے معاملے میں اسے منہ زوری نہ کرنے دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
26 بُرّزَت : بَرَزَ بمعنی کسی چیز کا نکل کر کھلے میدان میں آجانا۔ سامنے آنا۔ گم نامی اور پوشیدگی کے بعد ظاہر ہونا۔ اور برز کے معنی فضا اور کھلا میدان اور دعوت مبارزت بمعنی کسی شخص کا میدان جنگ میں آگے بڑھ کر دشمن کے کسی آدمی کو مقابلہ کے لیے للکارنا ہے اور برز بمعنی کسی چھپی ہوئی چیز کو نکال کر سامنے کھلے میدان میں لے آنا۔ یعنی اس دن جہنم کو سب لوگوں کے سامنے لے آیا جائے گا خواہ وہ نیک لوگ ہوں یا بدکردار۔ اسی مضمون کو ایک دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا : ( وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا 71ۚ ) 19 ۔ مریم :71) یعنی تم میں سے ہر شخص جہنم پر پہنچنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
17۔ اب ذکر فرمانبرداروں کا ہورہا ہے۔ ان کا ٹھکانا جنت کے سوا اور کہیں نہیں۔ (آیت) ” ھی الماوی “۔ میں ھی کلمہ تخصیص ہے۔ ونھی النفس عن الھوی، ھوی سے مراد حرام خواہش ہے، تو جس نے نفس کو حرام خواہشوں سے روکا رکھا “۔ کے معنی یہ ہوئے کہ جس نے عقیدہ صحیح کے ساتھ عمل صالح کو بھی جمع رکھا۔ عن الھوی۔ ھوی کے عموم میں ایسی خواہش داخل ہے جسے نفس محبوب رکھے، اور اس میں رضاء حق و خشیت الہی کا کوئی لحاظ نہ ہو، محققین اہل سنت کہتے ہیں۔ کہ ہر ذکر و عبادت و مجاہدہ بھی، جو کتاب وسنت سے ماخوذ نہ ہو، لذات نفس ہی کے لیے کیا جاتا ہے۔ اور ھوی کے حکم میں داخل ہے، اور اسی لئے باطل فرقوں کو اہل بدعت کی طرح اہل ہوی کہنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
واما من خاف مقام ربہ الخ، اس آیت میں اہل جنت کی دو علامتوں کو بیان فرمایا، اول یہ کہ جس شخص کو دنیا میں ہر عمل کے کرنے کے وقت یہ خوف اور اندیشہ لگا رہا کہ مجھے ایک روز حق تعالیٰ کے حضور پیش ہو کر اپنے تمام اعمال کی جواب دہی کرنی ہے، دوسرے اپنے نفس کو ناجائز خواہشات سے قابو میں رکھا، جس نے دنیا میں یہ دو وصف حاصل کر لئے اس کے لئے قرآن کریم یہ خوشخبری دے رہا ہے کہ اس کا ٹھکانہ جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
بحمدتم اللہ
Read the full tafseer →واما من خاف مقام ربہ . اور جو قیامت کے دن حساب کے لیے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا۔
و نھی النفس عن الھوی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
(40۔ 41) اور جس شخص نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈر کر معصیت کو ترک کردیا اور اپنے نفس کو حرم خواہش سے روکا ہوگا جیسا کہ حضرت مصعب بن عمیر سو جنت ایسے حضرات کے لیے ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
(وبرزت الجحیم لمن یری : یعنی گمراہ لوگوں کیلئے جہنم سامنے کردی جائے گی کہ یہ تمہارا ٹھکانا ہے، البتہ متقی لوگوں کے لئے جنت قریب کی جائے گی، جیسا کہ فرمایا :(وازلفت الجنۃ للمتقین، وبرزت الجحیم للغوین) (الشعرائ : 90، 91)”جنت متقی لوگوں کے قریب کردی جائے گی اور جہنم گمراہوں کے لئے ظاہر کردی جائے گی۔“ یہ معنی بھی درست ہے کہ مومن ہو یا کافر جہنم ہر دیکھنے والے کے سامنے ہوگی، مومن اس سے بچائے جانے پر اللہ کا شکر ادا کریں گے اور کافر شدید حسرت و افسوس میں مبتلا ہوں گے۔ میدان محشر میں جہنم لائے جانے کے متعلق دیکھیے سورة فجر (23) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
فان الجحیم ھی الماوی۔ الماوی میں الف لام مضاف الیہ ھاء کے عوض میں ہے۔
واما من خاف مقام ربہ، وہ اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا، ربیع نے کہا، مراد ہے قیامت کے روز اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے دڑا۔ قتادہ کہا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک ایسا مقام ہے مومن جس سے ڈرتے ہیں مجاہد نے کہا، اس سے مراد وہ دنیا میں ذنب کے مواقع پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور گناہوں کا قلع قمع کرتا ہے، اس کی مثل ولمن خاف مقام ربہ جنتان۔ الرحمن) جو اپنے رب کے حضور کے کھڑا ہونے سے ڈر اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔
ونھی النفس عن الھوی۔ جس نے معاصی اور محارم سے اپنے نفس کو روکا رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، خواہش نفس کو ترک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
جہنم ظاہر کردی جائے گی
17۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وبرزت الجیحم لمن یری اور ہر دیکھنے والے کے لیے دوزخ سامنے لائی جائے گی۔ یعنی ہر دیکھنے والے کے لیے جہنم ظاہر کردی جائے گی۔
Read the full tafseer →[وَاَمَا مَنْ خَافَ : اور وہ جو ہے جس نے خوف کیا ][ مَقَامَ رَبِهٖ : اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کے وقت کا ][ وَنَهَى النَّفْسَ : اور اس نے روکا (اپنے) جی کو ][ عَنِ الْهَوٰى: (من کی) چاہت سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
اب دوسرا رخ لیجئے، ارشاد فرمایا : ﴿ وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى ۙ0040 فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰىؕ0041﴾ (اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا یعنی وہاں کے حساب سے خوف زدہ ہوا اور اپنے نفس کو خواہشوں سے روکا تو اس کا ٹھکانہ جنت ہے) ۔
بات یہ ہے کہ انسان گناہوں کو چھوڑنا چاہتا ہے۔ حرام سے بچنے کا ارادہ کرتا ہے فرائض و واجبات کا اہتمام کرنا چاہتا ہے تو اس کا نفس آڑے آجاتا ہے، نفس کو آرام چاہیے مزہ اور لذت چاہیے اسے ہری بھری دنیا محبوب ہے، آخرت میں کیا بنے گا اسے اس کی فکر ہی نہیں لہٰذا وہ گناہوں میں منہمک رہنے ہی کو پسند کرتا ہے، جو لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
اعلان خداوندی بقدرت کاملہ وعاجزی و پستی کائنات پیش عظمت الہی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء ........ الی ........... الا عشیۃ اوضحہا “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں خداوندعالم نے اپنی شان حاکمیت عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہوئے قیامت اور قیامت کے احوال بیان فرمائے تھے، اور یہ کہ کائنات کا یہ سارا نظام دم کے دم میں درہم برہم ہوجائے گا، زمین و آسمان اور پہاڑ چاند سورج اور ستارے غرض سب ہی ختم کردیئے جائیں گے اور دلوں کا اضطراب وبے چینی کا عالم ناقابل تصور ہوگا تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کاملہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اور یہ کہ کائنات کی کوئی طاقت اور قوت خداوند عالم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ف 15:۔ واما من خاف یہ بشارت اخرویہ ہے لیکن جو لوگ قیامت کے دن اللہ رب العزۃ کی بارگاہ میں کھڑے ہونے سے ڈر گئے اور نفس کو خواہشات سے روک کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہے تو ان کا ٹھکانا جنت میں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
(گذشتہ سے پیوستہ)
اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر حکماء کے نظریہ کے مطابق بیان کیا ۔ اور اس ضمن میں ماننے والے اور انکار کرنے والے دونوں گروہوں کے نتائج بھی بیان کردیے ہیں ۔ پہلے منکرین کے حالات بیان ہوئے کہ کہتے ہیں ” ء اذاکنا عظاما نخرۃ “ جب ہم مرکر بوسیدہ ہدیاں ہوجائیں گے۔ تو پھر کیسے زندہ ہوجائیں گے ، اللہ جل شانہ نے دو بار ہ زندگی کی دلیل کے طور پر فرمایاء انتم اشد خلقا ام السماء بنھا “ کیا تمہارے جیسی چھوٹی چیز کا پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان جیسی بڑی چیز کا بنانا ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ۔ اس نے پہلی دفعہ تم کو پیدا کردیا تھا ، تو دوبارہ زندہ کرنا کیسے مشکل ہے ۔ اس نے…
Read the full tafseer →وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَى النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰى 40 ۙ
خوف
الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57]
( خ و) الخوف ( س )
کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
ترکیب ¦ فاذا اشرط الطامۃ قال المبردھی عند العرب الداھیۃ طمم طمم درانپا شتن (ععاض 2) یقال فوق کل ذی طامۃ طامۃ و بریدن والطامۃ قیامت صراح قال المبردھی من قولھم طم افرس طمیما اذا استفرغ جھدہ فی الجری وطم الماء اذا ملاء النھر کا وقال اللیث الطم طم البئیریا بالتراب وھوا لکبس ویقال للشیء الذی یکبر حتی یعلوطم والطامۃ الحاوثۃ تطم علی ماسواھا کبیر۔ والعامل فی اذا جوا بھا وھو معنی قولہ یوم یتذکر قال الواحدی جواب اذا محذوف والتقدیر اذا جاءت الطامۃ الکبرٰی دخل اھل النار النار واھل الجنۃ الجنۃ وقیل جو ابھا قولہ فان الجھیمھی الماویٰ وکانہ جزاء مرکب علی شرطین یوم یتذکر الظرف بدل من اذا وقیل من الطامۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
فَاَمَّا مَنْ طَغٰی۔ وَاٰ ثَرَالْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ فَاِنَّ الْجَحِیْمَ ھِیَ الْمَاْوٰی۔ وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی۔ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْوٰی۔ (النازعات : 37 تا 41)
(تو جس نے سرکشی کی۔ اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ تو بیشک جہنم ہی اس کا ٹھکانہ ہوگا۔ اور وہ جو اپنے رب کے حضور پیشی سے ڈرا اور جس نے اپنے نفس کو خواہش کی پیروی سے روکا۔ تو جنت اس کا ٹھکانہ ہوگا۔ )
جنت و جہنم میں جانے کے اسباب
اللہ تعالیٰ کا بےحد کرم ہے کہ ہر انسان کا آخرت میں جو انجام ہونے والا ہے اس کے اسباب و نتائج کو نہایت اختصار کے ساتھ اس طرح سمیٹ کر بیان کردیا ہے کہ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والے قیامت کی ہولناکیوں اور ان کی کیفیت کو نہیں جانتے اس لیے قیامت کا انکار اور اس سے لاپرواہی کرتے ہیں۔ ان کی لاپرواہی کو دور کرنے کے لیے قیامت کی ہولناکیوں اور اس کی ہیبت کا ذکر کیا گیا ہے۔
جس قیامت کا لوگ انکار کرتے ہیں اس کی ابتدا ہی ایسے زور دار دھماکے سے ہوگی کہ جو ہر چیز کو ہلا کے رکھ دے گا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا زمین آسما نوں میں کوئی چیز باقی نہیں رہے گی اس کے لیے یہاں دو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ” اَلطَّآمَّۃُ الْکُبْرٰی “ کا معنٰی کسی چیز کا لبالب بھرا ہونا ہے۔ ” الکبریٰ “ یعنی قیامت سب سے بڑی آفت ہوگی اور وہ اپنی حولناکیوں کے اعتبار سے ہمہ…
Read the full tafseer →فرمانبرداری کا نتیجہ :
40 : وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ (اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا ہوگا) یعنی اس کو معلوم ہوا کہ اس نے حساب کیلئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی ( اور نفس کو خواہش سے روکا ہوگا) النفس سے نفس امارہ جو برائیوں کی طرف لے جانے والا ہے۔ الھویؔ پستی و ہلاکت کی جگہ یعنی اس نے شہوات کی اتباع سے نفس کو روک لیا۔ ھوٰی یعنی نفس کا شہوات کی طرف مائل ہونا۔ ایک قول یہ ہے کہ نہی نفس یہ ہے کہ آدمی معصیت کا خیال کرے پھر مقام حساب یاد آنے پر برائی کے میلان کو بھی چھوڑ دے۔
Read the full tafseer →39 ۔” فان الجحیمھی الماویٰ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
34۔ 41۔ دنیا کی موجودات ایک دن اجڑ کر اس کے بعد سزا و جزا کا دوسرا نظام قائم ہوگا جس کا نام قیامت ہے طامہ اس آفت کو کہتے ہیں جس کی برداشت نہ ہو سکے۔ یہاں طامہ سے مطلب قیامت ہے۔ اس دن دوزخ کو لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لایا جائے گا سورج ایک میل کے فاصلہ کی بلندی پر آجائے گا۔ ادھر سورج کی گرمی اور ادھر دوزخ کی آگ کی گرمی۔ اس لئے پسینہ کی وہ حالت ہوگی کہ ہوش و حواس ٹھکانے نہ رہیں گے۔ نیکی بدی کے تولے جانے کا ‘ پل صراط پر گزرنے کا جدا خوف لگا ہوگا غرض ایسی ایسی خوفناک آفتیں اس دن آدمی کو پیش آنے والی ہیں جس کی برداشت اس قدر مشکل ہے کہ جس کو خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے والساعۃ ادھیٰ وامر جس کا مطلب…
Read the full tafseer →(وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ ) یعنی جو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے اور عدل و انصاف پر مبنی اس کی جزا سے ڈر گیا اور اس ڈرنے اس کے دل کو متاثر کیا اور اپنے نفس کو ان خواہشات سے روک لیا جو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روکتی ہیں اور اس کی خواہشات اس چیز کے تابع ہوگئیں جو رسول لے کر آئے ہیں اور ان خواہشات کے خلاف جدوجہد کی جو بھلائی سے روکتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
(29) دوزخیوں کی تعیین و تشخیص کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور دوزخیوں کی تعیین و تشخیص اور ان کی نشاندہی کی طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں کی سرکشی ہوگی اور دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیں دی ہوگی ان کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا "۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس سلسلے میں یہ ہے وہ بنیادی نقطہ اور فیصلہ کن مرحلہ کہ انسان اپنی اس دنیاوی زندگی میں ترجیح کس کو دیتا ہے ؟ دنیا کو یا آخرت کو ؟ پس جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اسی کو انہوں نے اپنا اصل مقصد قرار دے دیا، وہ اسی کے لیے جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں، وہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تمیز اٹھا کر دنیا سمیٹنے میں لگ جاتے ہیں کہ ان کا مطمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
جس نے کائنات بنائی وہ تمہیں بھی بنا سکتا ہے
تشریح : یہاں ایک تو انسان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا خود اس کو بھی اللہ نے ہی بنایا ہے اور اس کے رہن سہن کے لیے پوری کائنات بنائی ہے۔ جو یقینا انسان کی پیدائش سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام ہے اگر وہ اللہ کی قدرت حکمت اور بڑائی پر غور کرے تو وہ اللہ کی دی گئی اس خبر کو ہرگز معمولی یا جھوٹ نہ سمجھے کہ '' قیامت آنے والی ہے۔ قیامت کے بعد حساب کا دن ضرور آئے گا ''۔
ان آیات میں اس یقین دہانی کے علاوہ فطرت اور کائنات کے مضبوط ' معقول اور بہترین انتظامات کا ذکر بھی بڑی خوبصورتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
آیات 27 تا 46۔
اسرار ومعارف۔
اگر انہیں دوبارہ زندہ ہونے کا اعتبار نہیں آتا اور اسے مشکل جانتے ہیں تو موجودہ حیات پہ غورکریں کہ بندہ کو دوبارہ بنانامشکل ہے یا آسمانوں کی تخلیق جن کو ان کے بیشمار امور اور مخلوق کے ساتھ بنادیا اور ایسا بنایا کہ کہیں کوئی خامی باقی نہ رہی بلکہ وہ شب وروز کی آمدورفت اور سورج کے طلوع و غروب کے باعث پورے نظام حیات کو چلانے کا سبب بن گیا اس کے بعد زمین کو بچھادیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ برابر بچھی ہوئی ہے اور اس میں زندگی کے اسباب نہریں دریا اور سبزہ پیدا کردیے ہیں اور اس بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیے جو بیشمار نعمتوں کا سبب ہیں اور جن سب امور کے نتیجے میں تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ف 3 یعنی اس نے اپنی زندگی اس سے ڈرتے ہوئے بسر کی۔
Read the full tafseer →(79:40) واما من خاف مقام ربہ واؤ عاطفہ ہے جملہ کا عطف کلام سابقہ پر ہے۔ یہ جملہ شرطیہ ہے۔ مقام مضاف ربہ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ ۔ مقام مصدر میمی واسم ظرف مکان ہے۔ کھڑا ہونا۔ کھڑے ہونے کی جگہ خاف ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ خوف (باب فتح) مصدر۔ اور (قیامت کے دن حساب کے لئے) اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا۔
ونھی النفس عن الھوی۔ اس جملہ کا عطف بھی جملہ سابقہ پر ہے۔ نہی ماضی واحد مذکر غائب نہی (باب فتح) مصدر سے۔ اس نے روکا۔ اس نے باز رکھا الھوی اسم مصدر۔ (باب سمع) ناجائز نفسانی خواہش ، ناجائز (رغبت) اور اس نے نفس کو ناجائز خواہشات سے روکے رکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن
النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
روز قیامت کی مشکلات۔
(ف 5) دنیا کے موجودات کے ذکر کے بعد قیامت کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ موجودات ہمیشہ رہنے والی چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ سب موجودات ایک دن اجڑ کر اس کے بعد سزا وجزا کا دوسرا انتظام قائم ہوگا جس کا نام قیامت ہے۔ الطامہ اس آفت کو کہتے ہیں جس کی برداشت نہ ہوسکے، یہاں الطامہ سے مطلب قیامت ہے ، اس دن دوزخ کو لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لایاجائے گا، سورج ایک میل کے فاصلہ کی بلندی پر آجائے گا ادھر سے سورج کی گرمی اورادھر دوزخ کی گرمی، اس لیے پسینہ کی وہ حالت ہوگی کہ ہوش و حواس ٹھکانے نہ رہیں گے نیکی وبدی کے تولے جانے کا، پل صراط پر گذرنے کا جداخوف لگا ہوگا، غرض ایسی ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
[13] یعنی زمین کی ہر چیز اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ وہ بڑی حکمت کے ساتھ کسی نہ کسی مقصد کو پورا کرنے کے لئے بنائی گئی ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو اور وہ کھائے پیئے اور ختم ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–46
جہنمی اور جنتی
2: ان آیتوں میں اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ قیامت کے بعد جہنم سے بچنے اور جنت میں داخل ہونے کیلئے کن باتوں کی ضرورت ہے ۔ فرمایا ۔ جن لوگوں نے سرکشی اختیار کی ۔ حدود مذہبی سے جاوز کیا اور اس دنیائے حقیر کی زندگی کو زیادہ اہمیت دی اور یہ سمجھا کہ جو کچھ بھی ہے ، یہی چند روزہ حیات ہے ۔ انہوں نے اپنی جگہ جہنم میں بنائی ۔ جو لوگ اللہ کے سامنے پیش ہونے سے ڈرے کہ مبادا کہیں اعمال کی گرفت نہ ہو اور نفس کو ناجائز خواہشات سے روکا ۔ وہی جنت اور اس کی نعمتوں کے مستحق قرار دیئے جائیں گے
حل لغات :۔ سمکھا ۔ بلندی وبرزت الجحیم میں اس طرف اشارہ ہے کہ منکرین تو یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ان کو…
Read the full tafseer →(40) اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا ہوگا اور اس نے اپنے نفس کو ناجائز خواہشات سے روکا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
ف 1۔ یعنی اعتقاد کے ساتھ عمل بھی صالح ہوگا اور عمل صالح طریق جنت ہے، اس کا موقوف علیہ نہیں۔
Read the full tafseer →جس نے اپنے رب کی شان سے خوف کھایا اور نفس کو گری ہوئی خواہشات سے روکا
۔ 40 (الھوی) اسم مصدر۔ ناجائز نفسانی خواہش۔ ناجائز رغبت۔ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی دنیوی زندگی گم شدگی کی حالت میں گزار دی لیکن اس کی طرف انہوں نے آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا نہ کبھی اس کی رنگینوں کی طرف ان کی توجہ ہوئی اور ان سے جو کچھ بن پڑا انہوں نے اپنی آخرت کے لئے کیا اور اس طرح دنیا کے لوگوں نے ان کی جو مخالفتیں کیں اور جو جو زیادتیاں ان کے ساتھ روا رکھیں وہ انہوں نے سرما تھے پر قبول کیں اور اللہ کی رضا کے لئے اس معاملہ میں کبھی انہوں نے اف تک نہ کی۔ ان پر اللہ تعالیٰ کا ایسا خوف طایر رہا کہ ساری زندگی انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
Thereafter, the special marks of the inmates of Paradise are described. They too have two characteristics:
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ (whereas for the one who feared to stand before his Lord, and restrained his self from the [ evil ] desire, 79:40). In other words, [ 1] the first characteristic of a God-fearing person is that, in this life, he shudders at the thought of appearing before Allah to account for his deeds on the Day of Reckoning; and [ 2] forbids the baser self from its evil desires. Those who are characterised by these two qualities…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
21 Here, in a few words, it has been told briefly what shall be the criterion of the final judgement in the Hereafter. One kind of the conduct of life in the world is that transgressing all bounds of service man should rebel against his God and should make up his mind that he would seek only the benefits and pleasures of this world in whatever way they could be sought and achieved. The other kind of conduct is that while man passes life in the world he should constantly keep in view the truth that ultimately one day he has to stand before his Lord, and should refrain from fulfilling the evil…
Read the full tafseer →