Explained with ayahs 27–33
موت وحیات کی سرگزشت
جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57) 40۔ غافر :57) یعنی زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے اور جگہ ہے آیت (اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ ڲ بَلٰى ۤ وَهُوَ الْخَــلّٰقُ الْعَلِـيْمُ 81) 36۔ يس :81) کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کردیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ…
Read the full tafseer →سورة النّٰزِعٰت 17
چارہ سے مراد اس جگہ صرف جانوروں کا چارہ نہیں ہے بلکہ تمام نباتات مراد ہے جو انسان اور حیوان دونوں کی غذا کے کام آتے ہیں۔ رعی اور رتع اگرچہ بالعموم عربی زبان میں جانور کے چرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں مگر کبھی کبھی انسان کے لیے بھی استعمال کرلیے جاتے ہیں۔ مثلاً سورة یوسف میں آیا ہے کہ حضرت یوسف کے بھائیوں نے اپنے والد ماجد سے کہا ارسلہ معنا غدا یرتع و یلعب۔ " آپ کل یوسف کو ہمارے ساتھ بھیج دیں کہ کچھ چر چگ لے اور کھیلے "۔ (آیت 12)۔ یہاں بچے کے چرنے (رتع) کا لفظ جنگل میں چل پھر کر پھل توڑنے اور کھانے کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–36
فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى
نکال ایسے عذاب کو کہا جاتا ہے جس کو دیکھ کر دوسروں کو عبرت ہو اور سب سہم جائیں۔ نکال آخرت فرعون کے لئے آخرت کا عذاب ہے، اور نکال اولیٰ سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اس کی پوری قوم کے غرق دریا ہوجانے سے ان کو پہنچا۔ اگے پھر منکرین حشر ونشر کے اس استبعاد اور شبہ کا ازالہ ہے کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد کیسے دوبارہ زندہ کئے جاویں گے۔ اس میں حق تعالیٰ نے آسمان و زمین اور انکے اندر پیدا کی ہوئی عظیم مخلوقات کا ذکر کرکے انسان غافل کو اس پر متنبہ کیا ہے کہ جس ذات نے ایسی عظیم الشان مخلوقات کو ابتدائی وجود بغیر کسی مادہ و آلہ کے عظا فرمایا وہ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
آسمان کی نشانیوں کے بعد یہ زمین اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی اور مقصود اس سے بھی، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، خدا کی قدرت اور اس کی پروردگاری کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس خدا نے زمین کو ہمارے لیے بچھایا، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا، اس کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے اس کے اندر پہاڑوں کو گاڑا، کیا تم کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا؟ جب اس نے یہ سارے کام کیے اور اس کو کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو ایک ہی پیدا کی ہوئی مخلوق کو دوبارہ پیدا کر دینا کیوں دشوار ہو جائے گا!
ایک سوال اور اس کا جواب: ’وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحَاہَا‘ کے الفاظ سے ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–36
28۔ 1 ٹھیک ٹھاک کا مطلب اسے ایسی شکل صورت میں ڈھالنا ہے کہ جس میں کوئی تفاوت، کجی، شگاف اور خلل باقی نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–45
9: عرب کے کافر لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا جو انکار کرتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی مردے کے زندہ ہونے کو بہت مشکل سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کائنات کی دوسری چیزوں، مثلاً آسمان، کے مقابلے میں انسان کو پیدا کرنا زیادہ آسان ہے، اگر تم مانتے ہو کہ آسمان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
والارض ........................ ارسھا (32:79) ” اس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا ، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑ اس میں گاڑ دیئے “۔
دحوالارض کے معنی ہیں زمین کو تیار کرنا اور اس کے چھلکے کو بچھانا ہے۔ اس طرح کہ انسان اس کے اوپر چل بھی سکیں۔ اس کے اوپر جمع ہونے والی مٹی نباتات اگانے کے قابل ہو۔ اور اس کے اوپر پہاڑوں کا جمانا ، یہ سب امور اسی طرح انجام پائے کہ اللہ سطح زمین کو اس اس طرح سکون وقرار عطا کیا اور اس کے اوپر درجہ حرارت اس مقدار میں پیدا کیا کہ یہاں حیوانی اور نباتاتی زندگی ممکن ہوئی۔ اور اللہ نے زمین سے پانی نکالا ، چاہے اس سے مراد وہ پانی ہو جو چشموں کی صورت میں…
Read the full tafseer →12 یعنی دریا اور چشمے جاری کئے۔ پھر پانی سے سبزہ پیدا کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
آیت 31{ اَخْرَجَ مِنْہَا مَآئَ ہَا وَمَرْعٰٹہَا۔ } ”اس میں سے نکالا اس کا پانی اور اس کا چارہ۔“
یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں جتنا پانی موجود ہے اس کا منبع خود زمین ہے۔ آج سائنسی معلومات کی روشنی میں ہم اس کی وضاحت یوں کرسکتے ہیں کہ ابتدا میں زمین آگ کا ایک گولا تھی۔ جوں جوں یہ ٹھنڈی ہوتی گئی اس کے بخارات نکل کر فضا میں جمع ہوتے رہے۔ اس طرح زمین کے ارد گرد مختلف گیسوں پر مشتمل ایک غلاف سا بن گیا ‘ جسے آج ہم فضا atmosphere کہتے ہیں۔ پھر کسی مرحلے پر فضا میں ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ملاپ سے پانی بنا۔ یہ پانی فضا سے بارش کی شکل میں سالہا سال تک زمین پر برستا رہا۔ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
22 دَحٰی کا معنی اور زمین کا گول ہونا :۔ دحیٰ اور طحٰی دونوں ہم معنی بلکہ ایک ہی لفظ ہے۔ صرف مختلف علاقوں کے الگ الگ تلفظ کی وجہ سے یہ دو لفظ بن گئے ہیں۔ قرآن میں یہ دونوں الفاظ صرف ایک ایک بار ہی استعمال ہوئے ہیں اور ایک ہی معنی میں آئے ہیں۔ کہتے ہیں دحی المطر الحصی یعنی بارش کنکریوں کو دور دور تک بہا کرلے گئی۔ گویا ان دونوں الفاظ کا معنی دور دور تک بچھا دینا یا پھیلادینا ہے نیز دحی ٰکے مفہوم میں گولائی کا تصور پایا جاتا ہے۔ دحوۃ شتر مرغ کے انڈہ کو کہتے ہیں۔ اس سے بعض لوگوں نے زمین کے گول ہونے پر استدلال کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
14۔ یعنی یہ سارے انتظامات انسان ہی کے لئے نہیں بلکہ اس کے خدمت گزار چوپایوں کی خدمت و سہولت کیلئے بھی ہیں۔ (آیت) ” بعد ذلک “۔ خوب خیال رکھا جائے کہ اس خاص آیت میں ذکر زمین کی آفرینش کا نہیں، صر اس کے بچھائے جانے کا ہے۔ (آیت) ” دحھا “۔ وحی کے معنی کسی چیز کو اس کے اصل مقر سے ہٹادینے کے ہیں۔ دحاھا اے ازالھا عن مقرھا (راغب) اس سے گویا اشارہ اس طبیعیاتی حقیقت کی طرف ہوگیا کہ کرۂ ارض کسی اور بڑے جرم سماوی کا ٹکڑا ہے جو اس سے کٹ کر ایک مستقل وجود میں آگیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–36
والارض بعد ذلک دحھا اس آیت میں زمین و پھیلانے اور ہموار کرنے کا ذکر ہے، خلق یعنی (پیدا کرنا) اور چیز ہے اور دحی (پھیلانا) اور چیز ہے، زمین کا مادہ تخلیق آسمان سے پہلے پیدا کیا البتہ زمین کو ہموار تخلیق آسمان کے بعد کیا اور پھیلانے کا مطلب صرف ہموار کرنا ہی نہیں ہے بلکہ زمین کو رہائش کے قابل بنانا اور اس پر رہنے بسنے والوں کے لئے تمام ضروریات زندگی کے اسباب مہیا کرنا ہے۔
Read the full tafseer →اخرج منھا ماء ھا . زمین سے اللہ نے اس کا پانی برآمد کیا ‘ زمین سے چشمے نکال دیئے۔
و مرعھا . اور زمین کی گھاس پیدا کردی۔ مرعٰی ‘ چراگاہ ‘ مرغزار۔ یہ ظرف مکان ہے۔ مجل بول کر
حال مراد لیا۔ مقام سبزہ سے مراد سبزہ ہے۔ یا مرعٰی مصدر ہے اور مراد اسم مفعول ہے (چرنا ‘ یعنی وہ شئے جو چری جائے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
(27۔ 33) اے مکہ والو ! بھلا تمہار دوسری دفعہ پیدا کرنا زیادہ سخت ہے یا آسمان کا بنانا، اللہ نے اس کی چھت کو بلند کیا۔
اور زمین پر درست کیا اور اس کی رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور اس کے دن اور اس کے سورج کو روشن بنایا اور اس کے ساتھ زمین کو پانی پر بچھایا، یا یہ کہ اس کے دو ہزار سال بعد بچھایا اور زمین سے اس کا جاری اور غیر جاری پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑوں کو اس کی میخیں بنایا، اور یہ پانی اور گھاس تمہارے اور تمہارے مویشیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
والارض بعد ذلک دحھا…: یہاں ایک سوال ہے کہ اس جگہ آسمان بنانے کے بعد زمین بچھانے کا ذکر فرمایا ہے، جب کہ سورة بقرہ کی آیت (29) اور رحم سجدہ کی آیات (9 تا 12) سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے زمین پیدا کی گئی پھر آسمان، ان دونوں کے درمیان تطبیق کیا ہوگی ؟ اہل علم نے اس کے متعدد جوابات ذکر فرمائے ہیں :(1) بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ پہلے زمین بنی پھر آسمان، البتہ زمین کو بچھانے۔ اس کا پانی اور چارہ نکالنے اور اس میں پہاڑ گاڑنے کا کام بعد میں ہوا۔ گویا زمین کی خلق (پیدائش) آسمان سے پہلے، البتہ ”حو“ (چھانا) بعد میں ہے۔ طبری نے یہ تفسیر علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے اور اسے…
Read the full tafseer →اخرج منھا ماء ھا ومرعاھا۔ ھا ضمیر سے مراد زمین ہے ماء ھا، سے مراد چشمے ہیں جو پانی سے پھوٹتے ہیں مرعا سے مراد وہ نباتات ہیں جن کو چرا جاتا ہے، قتبی نے کہا، ان دوچیزوں کے ساتھ ان تمام چیزوں پر دلالت ہوگی جن کو زمین نکالتی ہے خواہ وہ انسانوں کی خوراک ہو یا چوپاؤں کا چارہ ہو جیسے گھاس، درخت، دانا، کھجور، بھوسہ، ایندھن، لباس، آگ اور نمک کیونکہ آگ لکڑیوں سے ہوتی ہے اور نمک پانی سے ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
9۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت اخرج منہا ماء ہا اس سے اس کا پانی نکالا۔ یعنی اس سے نہریں جاری کیں آیت ومرعہا۔ اور اس کا چارا نکالا سے مراد ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا نباتاتت یا دوسری چیزوں میں سے۔
10۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت دحا ھا۔ یعنی زمین کو بچھانے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں سے پانی اور نباتات یعنی سبزے کو نکالا اور اس میں سے نہروں کو جاری کردیا۔ اور اس میں پہاڑوں کو، صحراؤں کو راستوں کو اور ٹیلوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان چیزیں ہیں سب کو دونوں میں بنایا۔
Read the full tafseer →[اَخْرَجَ مِنْهَا مَاۗءَهَا : اس نے نکالا اس سے اس کا پانی ][ وَمَرْعٰىهَا : اور اس کا چارا ]
(آیت۔ 31 ۔۔ 32) دَمٰچھَا۔ مِنْھَا۔ مَائَ ھْا ۔ مَرْعٰچھَا۔ اَرْسٰچھَا۔ ان سب میں ھا کی ضمیریں اَلْاَرْضَ کے لیے ہیں۔ فعل اَرْسیٰ دو مفعولوں کا تقاضہ کرتا ہے کس کو جمایا۔ کس میں جمایا۔ یہاں اَلْجِبَالَ فعل اَرْسیٰ کا مفعول مقدم اول ہے اور اس کے ساتھ ھَا کی ضمیر مفعولی مفعول ثانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
﴿ اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪0031﴾ (زمین سے اس کا پانی نکالا اور اس کا چارہ نکالا) جو جانوروں کے کام آتا ہے۔ ﴿وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ0032﴾ (اور پہاڑوں کو جما دیا) ﴿ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ0033﴾ (تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے فائدہ کے لیے) یعنی رات اور دن کا وجود اور زمین کا پھیلاؤ اور زمین میں پانی کا ہونا اور چارہ پیدا ہونا اور بہت وزنی پہاڑوں کا زمین پر جما رہنا تاکہ حرکت نہ کریں یہ سب چیزیں انسانوں کے لیے اور ان کے مویشیوں کے لیے بڑے نفع کی چیزیں ہیں، انسان پر لازم ہے کہ اپنے رب کا شکر گزار ہو اور اس کے نبیوں اور کتابوں کی خبروں کے مطابق وقوع قیامت کا اقراری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
اعلان خداوندی بقدرت کاملہ وعاجزی و پستی کائنات پیش عظمت الہی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء ........ الی ........... الا عشیۃ اوضحہا “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں خداوندعالم نے اپنی شان حاکمیت عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہوئے قیامت اور قیامت کے احوال بیان فرمائے تھے، اور یہ کہ کائنات کا یہ سارا نظام دم کے دم میں درہم برہم ہوجائے گا، زمین و آسمان اور پہاڑ چاند سورج اور ستارے غرض سب ہی ختم کردیئے جائیں گے اور دلوں کا اضطراب وبے چینی کا عالم ناقابل تصور ہوگا تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کاملہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اور یہ کہ کائنات کی کوئی طاقت اور قوت خداوند عالم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
12:۔ ” والارض “ اور پھر اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو بچھا دیا۔ زمین سے پانی کے چشمے جاری کردئیے اور اس میں سے ہر قسم کا سبزہ پیدا کیا اور اس پر پہاڑ رکھ دئیے۔ یہ ساری چیزیں تمہارے لیے اور تمہارے چوپایوں کے مفاد کے لیے ہیں۔ کل ذلک متاعا لخلقہ ولما یحتاجون الیہ من الانعام التی یاکلونھا و یرکبونہا مدۃ احتیاجہم الیھا الخ (ابن کثیر ج 4 ص 469) ۔ جس قادر و توانا اور قیوم و دانا نے یہ ساری کائنات پیدا فرما لی۔ اس کے لیے تمہیں دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں۔ ” والارض بعد ذلک دحہا “ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں کو پہلے اور زمین کو اس کے بعد پیدا کیا گیا حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
(بعث بعد الموت )
اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا ہے ۔ اور منکر ین قیامت کا رد فرمایا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہء انا لمردودون فی الحافرۃ کیا ہم الٹے پاؤں پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے یعنی کیا ہمیں دنیا والی ویسی ہی زندگی مل جائے گی ۔ جو جسم اور روح سے مرکب ہوتی ہے ۔ حالانکہ ہماری یہ حالت ہوچکی ہوگی ” کنا عظاما نخرۃ کہ بوسیدہ ہڈیاں ہوچکے ہونگے۔ تو ان حالات میں دوبارہ لوٹنا تو بڑا خسارے کا سود اہوگا ۔ حالا ن کہ مشرکین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انسانوں اور باقی مخلوق سب کو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے ۔ جب انہیں انسان کی پہلی دفعہ پیدائش کا انکار نہیں ہے۔ آسمان کے پیدا کرنے کا بھی…
Read the full tafseer →اَخْرَجَ مِنْہَا مَاۗءَہَا وَمَرْعٰىہَا 31 ۠
خرج
خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ،
( خ رج ) خرج ۔ ( ن)
خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔
ماء
قال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
ترکیب ¦ انتم مبتداء اشد خبرہ خلقا تمیز منہ السماء مبتداء والخبر محذوف ای اشدو التردید بین الجملتین بالھمزۃ وام بناھا الجملۃ مستانفۃ وقیل حال من المحذوف قال الزجاج والفراء ولکسائی تم الکلام عند قولہ بناھا لاتہ من صلۃ السماء والتقدیر ام السماء التی بناھا بحذف التی رفع سمکہا مستانف لبیان البناء۔ او صفۃ سمک بر داشتن وسقف خانہ (وعع اض 2) یقال سمک اللہ السماء سمکا سموک بلند شدن یقال سنام سامک ای عال مرتفع۔ سمک بالتحریک ماہی۔ سماک سموک ج۔ از صراح۔ اغطش اغطاش تاریک کردن شب راو تاریک شدن متعدی و لازم۔ ص۔ والارض منصوب بفعل محذوف ای وحی الارض وکذا الجبال ای وارسی الجبال قریٰ بالرفع علی الابتداء متاعا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحٰھَا۔ اَخْرَجَ مِنْھَا مَـآئَ ھَا وَمَرْعٰھَا۔ وَالْجِبَالَ اَرْسٰھَا۔ مَتَاعًا لَّـکُمْ وَ لِاَنْعَامِکُمْ ۔ (النازعات : 30 تا 33)
(اور اس کے بعد زمین کو بچھایا۔ اس زمین سے پانی نکالا اور چارہ نکالا۔ اور اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں۔ سامان تمہارے لیے اور تمہارے چارپایوں کے لیے۔ )
فیضانِ ربوبیت سے قیامت پر استدلال
اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے مظاہر ذکر فرمانے کے بعد اب اپنے فیضانِ ربوبیت کا ذکر فرما رہا ہے۔ مظاہرقدرت سے کائنات کو بالعموم اور انسان کو بالخصوص ازسرنو زندہ کرنے پر استدلال کیا گیا ہے یعنی جس پروردگار کی قدرت کے یہ مظاہر ہیں جنھیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے منکرین کی سب سے بڑی دلیل کا جواب۔
قیامت کا انکار کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل یہ رہی ہے کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتا ہے تو پھر اسے کس طرح زندہ کیا جاسکتا ہے ان کے نزدیک یہ بات ناممکنات میں سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی سوچ رکھنے والے اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں پر توجہ نہیں دیتے ؟ ان کی سوچ صرف اپنی حد تک رہتی ہے اور وہ دنیا کے اسباب پر ہی نظر رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ساری دنیا کے انسان مل کر بھی چھوٹی سے چھوٹی جاندار چیز پیدا نہیں کرسکتے اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں پر توجہ دیں تو انہیں یقین آجائے گا کہ واقعی اللہ تعالیٰ کا فرمان برحق ہے کہ…
Read the full tafseer →31 : اَخْرَجَ مِنْھَا مَآ ئَ ھَا وَمَرْعٰھَا (اور اس سے اس کا پانی اور چارہ نکالا) چشمے بہا کر پانی نکالا۔ مرعٰی : چارہ۔
نحو : اس لئے عاطف کو اخرج پر داخل نہیں فرمایا۔ نمبر 2۔ اخرج یہ قد کے اضمار کے ساتھ حال ہے۔
Read the full tafseer →30 ۔” والارض بعد ذلک “ آسمان کے پیدا کرنے کے بعد۔ ” دحاھا “ اس کو بچھایا اور دحوبچھانا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کے تمام رزقوں کے ساتھ پیدا کیا لیکن آسمان کے پیدا کرنے سے پہلے اس کو بچھایا نہیں تھا۔ پھر آسمان کی طرف استواء کیا۔ پس ان کو ٹھیک ٹھیک سات آسمان بنائے، پھر زمین کو اس کے بعد بچھایا اور کہا گیا ہے اس کا معنی جب زمین اس کے ساتھ اس کو بچھایا جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” عتل بعد ذلک زنیم “ یعنی مع ذلک ہے ایسے ہی بعد ذلک مع ذلک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
27۔ 33۔ سورة عم یتساء لون میں جس طرح حشر کے منکر لوگوں کے قائل کرنے کو ان کی آنکھوں کے سامنے کی چند چیزوں کا ذکر فرمایا تھا حشر کے ذکر کے بعد یہاں بھی چند عجائبات کا ذکر اسی غرض سے فرمایا ہے کہ ان عجائبات کو آنکھوں سے دیکھنے کے بعد کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس قدرت سے انکار کرے کہ ایک دفعہ ان سب عجائبات کو پیدا کرکے دوسری دفعہ ان میں سے جو کچھ وہ چاہے اس کا پیدا کرنا اس کی قدرت سے کچھ بعید ہے۔ ان آیتوں کو سورة حم السجدہ کی آیتوں سے ملا کر پڑھنے سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ پہلے زمین کو بنایا پھر آسمان کو پیدا کیا پھر زمین پھیلائی اور پر آسمان کو یکساں اور برابر کیا۔ سمک کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر بیان کی (اَخْرَجَ مِنْهَا مَاۗءَهَا وَمَرْعٰىهَا۔ وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَا) اسی نے اس میں اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔ یعنی انہیں زمین پر مضبوطی سے جمایا، آسمانوں کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمینکو پھیلایا اور ہموار کیا جیسے کہ ان آیات کریمہ میں منصوص ہے اور رہی خودزمین کی تخلیق تو یہ آسمان کی تخلیق سے متقدم ہے جیسا کہ اللہ تعایل نے فرمایا (قل ائنکم لتکفرون۔۔۔ تا۔۔۔۔ فی یومین۔ حم السجدہ۔ 9 تا 12) کہہ دیجئے کیا تم اس ہستی کا انکار کرتے ہو، جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور تم ہو کہ اس کے ہم سر بناتے ہو وہ تمام جہانوں کا رب ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(24) بچھونہ ارضی میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی نے بچھایا زمین کو اس قدر پر حکمت طریقے سے، اور اسی نے زمین کے اندر سے اس کا پانی بھی نکالا اور اس کا چارہ بھی " قسما قسما کے، اور طرح طرح کے حیرت بیکراں اور عنایت بےنہایت کا، سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس یہ سب کچھ نہ تو از خود ہوسکتا ہے اور نہ ہی یہ مختلف خداؤں کی کارگزاریوں کا نتیجہ ہوسکتا ہے، نہ ہی یہ بےمقصد اور حکمت سے خالی ہوسکتا ہے، سو اس طرح ان نشانہائے قدرت سے اس وحدہ لاشریک کے وجود باوجود، اس کی وحدانیت ویکتائی، حکمت و رحمت کی بیکرانی، اور امکان و ضرورت قیامت سب کا بیک وقت ثبوت مل جاتا ہے۔ سبحان اللہ۔ کیا کہنے اس کلام معجز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
جس نے کائنات بنائی وہ تمہیں بھی بنا سکتا ہے
تشریح : یہاں ایک تو انسان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا خود اس کو بھی اللہ نے ہی بنایا ہے اور اس کے رہن سہن کے لیے پوری کائنات بنائی ہے۔ جو یقینا انسان کی پیدائش سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام ہے اگر وہ اللہ کی قدرت حکمت اور بڑائی پر غور کرے تو وہ اللہ کی دی گئی اس خبر کو ہرگز معمولی یا جھوٹ نہ سمجھے کہ '' قیامت آنے والی ہے۔ قیامت کے بعد حساب کا دن ضرور آئے گا ''۔
ان آیات میں اس یقین دہانی کے علاوہ فطرت اور کائنات کے مضبوط ' معقول اور بہترین انتظامات کا ذکر بھی بڑی خوبصورتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
آیات 27 تا 46۔
اسرار ومعارف۔
اگر انہیں دوبارہ زندہ ہونے کا اعتبار نہیں آتا اور اسے مشکل جانتے ہیں تو موجودہ حیات پہ غورکریں کہ بندہ کو دوبارہ بنانامشکل ہے یا آسمانوں کی تخلیق جن کو ان کے بیشمار امور اور مخلوق کے ساتھ بنادیا اور ایسا بنایا کہ کہیں کوئی خامی باقی نہ رہی بلکہ وہ شب وروز کی آمدورفت اور سورج کے طلوع و غروب کے باعث پورے نظام حیات کو چلانے کا سبب بن گیا اس کے بعد زمین کو بچھادیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ برابر بچھی ہوئی ہے اور اس میں زندگی کے اسباب نہریں دریا اور سبزہ پیدا کردیے ہیں اور اس بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیے جو بیشمار نعمتوں کا سبب ہیں اور جن سب امور کے نتیجے میں تم…
Read the full tafseer →ف 17 یعنی زمین میں دریا اور چشمے جاری کئے اور کھانے کے لئے درخت اور میوے آگائے اور جانوروں کے لئے گھاس اگائی۔
Read the full tafseer →(79:31) اخرج منھا مآء ھا ومرعھا : مرعھا مضاف مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الارض کے لئے ہے مرعی اسم ظرف مکان ہے۔ رعی ورعایۃ (باب فتح مصدر سے بمعنی چراگاہ جانوروں اور انسانوں کی خوراک یعنی گھاس۔ غلہ۔ پھل وغیرہ کو بھی مرعی کہتے ہیں۔ اصل میں رعی کا معنی ہے جاندار کی حفاظت اور اس کو باقی رکھنا۔ حفاظت کی تین صورتیں ہیں :۔
(1) خوراک کے ذریعہ سے۔
(2) دشمنوں سے حفاظت کرنا۔
(3) مناسب انتظام کرکے۔ اچھی سیاست کرکے۔ حق دار کو اس کا حق دے کر۔ ہر چیز کا اس کے مناسب لحاظ کرکے۔ انہی معانی کا لحاظ رکھتے ہوئے راعی چروا ہے کو بھی کہتے ہیں اور حاکم کو بھی اور ہر نگران کو بھی۔ یہاں آیت میں مراد زمین میں پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن
النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →(ف 2) زمین کا پانی نکالنے سے مطلب یہ ہے کہ دریا اور ندیاں اور چشمے جاری کیے پھر پانی سے سبزہ پیدا کیا۔
(ف 3) یعنی اپنی جگہ سے جنبش نہیں کھاتے اور زمین کو بعض خاص قسم کے اضطرابات سے محفوظ رکھنے والے ہیں پہاڑوں کا ذکر مفصل اوپر کئی جگہ گذرچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
[10] یعنی سورج غروب ہونے کے بعد رات کی تاریکی اس طرح زمین پر چھا جاتی ہے جیسے اوپر سے زمین پر پردہ ڈال کر اسے ڈھانک دیا گیا ہو۔
[11] رات اور دن کو آسمان کی طرف اس لئے منسوب کیا گیا ہے کہ ان کا دار و مدار آفتاب کے طلوع و غروب پر ہے اور آفتاب کا تعلق آسمان سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–38
زمین کب پیدا ہوئی ؟
1: بعد ذلک دحھا سے نظام لیل ونہار کو پیدا کرنے کے بعد زمین کو پیدا کیا گیا ہے ۔ حالانکہ دوسرے مقامات میں بالتصریح فرمایا ہے کہ آسمان کی تخلیق زمین کی تخلیق کے آخر میں ہوئی ہے ۔ جواب یہ ہے کہ پیدا کرنے میں اور دحو میں لغتہ ایک باریک فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ دخو کے منی یہ ہیں کہ زمین کو اس طرح پاؤں تلے بچھادیا جائے کہ اس میں افادہ کی قابلیت اور استعداد ہو ۔ اس لئے معنی یہ ہوں گے کہ گو زمین کو پیدا تو پہلے کیا گیا ہے ۔ مگر مفید بعد میں بنایا گیا ہے ۔ جیسا کہ علم الحیات کے ماہرین کا خیال ہے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعد یہاں تربیت کے لئے نہ ہو ۔ بلکہ تربیت وتعقیب بیان کے لئے ہو ۔…
Read the full tafseer →(31) زمین کو بچھا کر اس سے اس کا پانی اور چارا نکالا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–39
ف 7۔ رات اور دن کو آسمان کی طرف اس لئے منسوب کیا کہ رات اور دن آفتاب کے طلوع اور غروب سے ہوتے ہیں اور آفتاب آسمان میں ہے۔
Read the full tafseer →اور اس سے اس کا پانی اور سبزہ نکالا
۔ 31 لاریب زمین ایک ٹھوس چیز ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے اوپر زندگی کو قائم رکھنے کے لئے اس کے اندر اس کی شریانوں میں پانی بھر دیا ہے جو اس کے اندر ہی اندر چلتا رہتا ہے اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ وہ کہیں کڑوا ہے اور کہیں کھاری اور اسی طرح کہیں میٹھا ہے اور کہیں بہت ہی ٹھنڈا بھی اور میٹھا بھی۔ زمین کے اندر اگر اللہ تعالیٰ اس پانی کو نہ روکتا تو شاید یہ آگ کا گولا بن جاتی اور اپنے رہنے والوں کی بود و باش کے یہ کام نہ آتی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر نباتات اگنے اور بڑھنے کی جو صلاحیتیں رکھی ہیں وہ اس لئے موجود ہیں کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–36
فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ (So, Allah seized him for the deterrent punishment in the Hereafter and the present world....79:25). The word nakal means an 'exemplary punishment' or 'an extremely severe punishment given to an offender to deter others against committing a similar offence or sin'. The phrase 'punishment of the 'akhirah' refers to the punishment of the Hereafter that will be meted out to Fir'aun (the Pharaoh). The phrase 'punishment of the 'al a' refers to the punishment meted out to Fir'aun (the Pharaoh) and his army in this world whereby they were…
Read the full tafseer →17 "Pasture" here dces not only imply pasture and fodder for the animals but all kinds of herbal produce suitable for consumption both by man and by animal. An example of the use of rat'. which is generally used in Arabic for the grazing animals, is found in Surah Yusuf: 12, signifying that this word is sometimes used for man also. The brothers of Joseph said to their father: "Send Joseph with us tomorrow that he may frcely graze and enjoy sport. " Here, the word grace (rat`) for the child has been used in the meaning that he thay move about freely in the jungle and pluck and eat fruit.
Read the full tafseer →