An-Naazi'aat 79:32

An-Naazi'aat · from ayah 32

79:32

وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَا ۟ۙوَالۡجِبَالَ اَرۡسٰٮهَا

اور اس پر پہاڑوں کابوجھ رکھ دیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the mountains He set firmly

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:32

اور اس پر پہاڑوں کابوجھ رکھ دیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور پہاڑوں کو (مضبوط) گاڑ دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور پہاڑوں کو گاڑھ دیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور پہاڑوں کو جمایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اسی نے (بعض مادوں کو باہم ملا کر) زمین سے محکم پہاڑوں کو ابھار دیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور پہاڑ، اس نے انھیں گاڑ دیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور پہاڑوں کو اس میں گاڑا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اسی نے گاڑھ دیا اس کے اندر پہاڑوں (کے ان عظیم الشان لنگروں) کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور پہاڑوں کو اس میں گاڑ دیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا

— محترمہ رفعت اعجاز

and firmly fixed in it mountains;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and firmly fixed the mountains,

— Muhammad Taqi Usmani

and firmly fixed the mountains,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the mountains He has fixed firmly,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the mountains He set firmly

— Saheeh International

then set-up firmly the mountains.

— Muhammad Sarwar

And the mountains, He made them firm,

— Muhammad Habib Shakir

And the mountains! - He established them firm:

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 79:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–33

موت وحیات کی سرگزشت جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀) 40۔ غافر :57) یعنی زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے اور جگہ ہے آیت (اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ ڲ بَلٰى ۤ وَهُوَ الْخَــلّٰقُ الْعَلِـيْمُ 81؀) 36۔ يس :81) کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کردیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 32–33

سورة النّٰزِعٰت 18 ان آیات میں قیامت اور حیات بعد الموت کے لیے دو حیثیتوں سے استدلال کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ اس خدا کی قدرت سے ان کا برپا کرنا ہرگز بعید نہیں ہے جس نے یہ وسیع و عظیم کائنات اس حیرت انگیز توازن کے ساتھ اور یہ زمین اس سرد سامان کے ساتھ بنائی ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ کے مال حکمت کے جو آثار اس کائنات اور اس زمین میں صریحا نظر آرہے ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہاں کوئی کام بےمقصد نہیں ہو رہا ہے۔ عالم بالا میں بیشمار ستاروں اور سیاروں اور کہکشانوں کے درمیان جو توازن قائم ہے وہ شہادت دے رہا ہے کہ یہ سب کچھ الل ٹپ نہیں ہوگیا ہے بلکہ کوئی بہت سوچا سمجھا منصوبہ اس کے پیچھے کار فرما ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–36

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى نکال ایسے عذاب کو کہا جاتا ہے جس کو دیکھ کر دوسروں کو عبرت ہو اور سب سہم جائیں۔ نکال آخرت فرعون کے لئے آخرت کا عذاب ہے، اور نکال اولیٰ سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اس کی پوری قوم کے غرق دریا ہوجانے سے ان کو پہنچا۔ اگے پھر منکرین حشر ونشر کے اس استبعاد اور شبہ کا ازالہ ہے کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد کیسے دوبارہ زندہ کئے جاویں گے۔ اس میں حق تعالیٰ نے آسمان و زمین اور انکے اندر پیدا کی ہوئی عظیم مخلوقات کا ذکر کرکے انسان غافل کو اس پر متنبہ کیا ہے کہ جس ذات نے ایسی عظیم الشان مخلوقات کو ابتدائی وجود بغیر کسی مادہ و آلہ کے عظا فرمایا وہ اگر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 30–33

آسمان کی نشانیوں کے بعد یہ زمین اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی اور مقصود اس سے بھی، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، خدا کی قدرت اور اس کی پروردگاری کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس خدا نے زمین کو ہمارے لیے بچھایا، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا، اس کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے اس کے اندر پہاڑوں کو گاڑا، کیا تم کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا؟ جب اس نے یہ سارے کام کیے اور اس کو کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو ایک ہی پیدا کی ہوئی مخلوق کو دوبارہ پیدا کر دینا کیوں دشوار ہو جائے گا! ایک سوال اور اس کا جواب: ’وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحَاہَا‘ کے الفاظ سے ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 28–36

28۔ 1 ٹھیک ٹھاک کا مطلب اسے ایسی شکل صورت میں ڈھالنا ہے کہ جس میں کوئی تفاوت، کجی، شگاف اور خلل باقی نہ رہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–45

9: عرب کے کافر لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا جو انکار کرتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی مردے کے زندہ ہونے کو بہت مشکل سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کائنات کی دوسری چیزوں، مثلاً آسمان، کے مقابلے میں انسان کو پیدا کرنا زیادہ آسان ہے، اگر تم مانتے ہو کہ آسمان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 30–32

والارض ........................ ارسھا (32:79) ” اس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا ، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑ اس میں گاڑ دیئے “۔ دحوالارض کے معنی ہیں زمین کو تیار کرنا اور اس کے چھلکے کو بچھانا ہے۔ اس طرح کہ انسان اس کے اوپر چل بھی سکیں۔ اس کے اوپر جمع ہونے والی مٹی نباتات اگانے کے قابل ہو۔ اور اس کے اوپر پہاڑوں کا جمانا ، یہ سب امور اسی طرح انجام پائے کہ اللہ سطح زمین کو اس اس طرح سکون وقرار عطا کیا اور اس کے اوپر درجہ حرارت اس مقدار میں پیدا کیا کہ یہاں حیوانی اور نباتاتی زندگی ممکن ہوئی۔ اور اللہ نے زمین سے پانی نکالا ، چاہے اس سے مراد وہ پانی ہو جو چشموں کی صورت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

13 جو اپنی جگہ سے جنبش نہیں کھاتے اور زمین کو بھی بعض خاص قسم کے اضطرابات سے محفوظ رکھنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 30–34

آیت 31{ اَخْرَجَ مِنْہَا مَآئَ ہَا وَمَرْعٰٹہَا۔ } ”اس میں سے نکالا اس کا پانی اور اس کا چارہ۔“ یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں جتنا پانی موجود ہے اس کا منبع خود زمین ہے۔ آج سائنسی معلومات کی روشنی میں ہم اس کی وضاحت یوں کرسکتے ہیں کہ ابتدا میں زمین آگ کا ایک گولا تھی۔ جوں جوں یہ ٹھنڈی ہوتی گئی اس کے بخارات نکل کر فضا میں جمع ہوتے رہے۔ اس طرح زمین کے ارد گرد مختلف گیسوں پر مشتمل ایک غلاف سا بن گیا ‘ جسے آج ہم فضا atmosphere کہتے ہیں۔ پھر کسی مرحلے پر فضا میں ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ملاپ سے پانی بنا۔ یہ پانی فضا سے بارش کی شکل میں سالہا سال تک زمین پر برستا رہا۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 30–32

22 دَحٰی کا معنی اور زمین کا گول ہونا :۔ دحیٰ اور طحٰی دونوں ہم معنی بلکہ ایک ہی لفظ ہے۔ صرف مختلف علاقوں کے الگ الگ تلفظ کی وجہ سے یہ دو لفظ بن گئے ہیں۔ قرآن میں یہ دونوں الفاظ صرف ایک ایک بار ہی استعمال ہوئے ہیں اور ایک ہی معنی میں آئے ہیں۔ کہتے ہیں دحی المطر الحصی یعنی بارش کنکریوں کو دور دور تک بہا کرلے گئی۔ گویا ان دونوں الفاظ کا معنی دور دور تک بچھا دینا یا پھیلادینا ہے نیز دحی ٰکے مفہوم میں گولائی کا تصور پایا جاتا ہے۔ دحوۃ شتر مرغ کے انڈہ کو کہتے ہیں۔ اس سے بعض لوگوں نے زمین کے گول ہونے پر استدلال کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 30–33

14۔ یعنی یہ سارے انتظامات انسان ہی کے لئے نہیں بلکہ اس کے خدمت گزار چوپایوں کی خدمت و سہولت کیلئے بھی ہیں۔ (آیت) ” بعد ذلک “۔ خوب خیال رکھا جائے کہ اس خاص آیت میں ذکر زمین کی آفرینش کا نہیں، صر اس کے بچھائے جانے کا ہے۔ (آیت) ” دحھا “۔ وحی کے معنی کسی چیز کو اس کے اصل مقر سے ہٹادینے کے ہیں۔ دحاھا اے ازالھا عن مقرھا (راغب) اس سے گویا اشارہ اس طبیعیاتی حقیقت کی طرف ہوگیا کہ کرۂ ارض کسی اور بڑے جرم سماوی کا ٹکڑا ہے جو اس سے کٹ کر ایک مستقل وجود میں آگیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–36

والارض بعد ذلک دحھا اس آیت میں زمین و پھیلانے اور ہموار کرنے کا ذکر ہے، خلق یعنی (پیدا کرنا) اور چیز ہے اور دحی (پھیلانا) اور چیز ہے، زمین کا مادہ تخلیق آسمان سے پہلے پیدا کیا البتہ زمین کو ہموار تخلیق آسمان کے بعد کیا اور پھیلانے کا مطلب صرف ہموار کرنا ہی نہیں ہے بلکہ زمین کو رہائش کے قابل بنانا اور اس پر رہنے بسنے والوں کے لئے تمام ضروریات زندگی کے اسباب مہیا کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 27–33

(27۔ 33) اے مکہ والو ! بھلا تمہار دوسری دفعہ پیدا کرنا زیادہ سخت ہے یا آسمان کا بنانا، اللہ نے اس کی چھت کو بلند کیا۔ اور زمین پر درست کیا اور اس کی رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور اس کے دن اور اس کے سورج کو روشن بنایا اور اس کے ساتھ زمین کو پانی پر بچھایا، یا یہ کہ اس کے دو ہزار سال بعد بچھایا اور زمین سے اس کا جاری اور غیر جاری پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑوں کو اس کی میخیں بنایا، اور یہ پانی اور گھاس تمہارے اور تمہارے مویشیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 30–33

والارض بعد ذلک دحھا…: یہاں ایک سوال ہے کہ اس جگہ آسمان بنانے کے بعد زمین بچھانے کا ذکر فرمایا ہے، جب کہ سورة بقرہ کی آیت (29) اور رحم سجدہ کی آیات (9 تا 12) سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے زمین پیدا کی گئی پھر آسمان، ان دونوں کے درمیان تطبیق کیا ہوگی ؟ اہل علم نے اس کے متعدد جوابات ذکر فرمائے ہیں :(1) بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ پہلے زمین بنی پھر آسمان، البتہ زمین کو بچھانے۔ اس کا پانی اور چارہ نکالنے اور اس میں پہاڑ گاڑنے کا کام بعد میں ہوا۔ گویا زمین کی خلق (پیدائش) آسمان سے پہلے، البتہ ”حو“ (چھانا) بعد میں ہے۔ طبری نے یہ تفسیر علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے اور اسے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

والجبال ارساھا۔ عام لوگوں کی قرات والجبال ہے معنی ہوگا پہاڑوں کو گاڑھا اور انہیں زمین میں اس کی میخوں کے طور پر ثبت کیا ہے حضرت حسن بصری، عمرو بن میمون، عمرو بن عبید، اور نصر بن عاصم نے والجبال پڑھا ہے، کیونکہ یہ مبتدا ہے یہ سوال کیا جائے گا، اخرج سے پہلے حرف عطف کیوں نہ داخل کیا گیا ؟ تو اس کا جواب یہ دیا جائے گا، یہ قد کے مضمر ہونے کے ساتھ حال ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، حصرت صدورھم۔ النساء 90) تنگ ہوچکے ہوں ان کے سینے یہاں بھی قد مضمر ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–32

9۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت اخرج منہا ماء ہا اس سے اس کا پانی نکالا۔ یعنی اس سے نہریں جاری کیں آیت ومرعہا۔ اور اس کا چارا نکالا سے مراد ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا نباتاتت یا دوسری چیزوں میں سے۔ 10۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت دحا ھا۔ یعنی زمین کو بچھانے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں سے پانی اور نباتات یعنی سبزے کو نکالا اور اس میں سے نہروں کو جاری کردیا۔ اور اس میں پہاڑوں کو، صحراؤں کو راستوں کو اور ٹیلوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان چیزیں ہیں سب کو دونوں میں بنایا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–33

﴿ اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪0031﴾ (زمین سے اس کا پانی نکالا اور اس کا چارہ نکالا) جو جانوروں کے کام آتا ہے۔ ﴿وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ0032﴾ (اور پہاڑوں کو جما دیا) ﴿ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ0033﴾ (تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے فائدہ کے لیے) یعنی رات اور دن کا وجود اور زمین کا پھیلاؤ اور زمین میں پانی کا ہونا اور چارہ پیدا ہونا اور بہت وزنی پہاڑوں کا زمین پر جما رہنا تاکہ حرکت نہ کریں یہ سب چیزیں انسانوں کے لیے اور ان کے مویشیوں کے لیے بڑے نفع کی چیزیں ہیں، انسان پر لازم ہے کہ اپنے رب کا شکر گزار ہو اور اس کے نبیوں اور کتابوں کی خبروں کے مطابق وقوع قیامت کا اقراری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–46

اعلان خداوندی بقدرت کاملہ وعاجزی و پستی کائنات پیش عظمت الہی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء ........ الی ........... الا عشیۃ اوضحہا “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں خداوندعالم نے اپنی شان حاکمیت عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہوئے قیامت اور قیامت کے احوال بیان فرمائے تھے، اور یہ کہ کائنات کا یہ سارا نظام دم کے دم میں درہم برہم ہوجائے گا، زمین و آسمان اور پہاڑ چاند سورج اور ستارے غرض سب ہی ختم کردیئے جائیں گے اور دلوں کا اضطراب وبے چینی کا عالم ناقابل تصور ہوگا تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کاملہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اور یہ کہ کائنات کی کوئی طاقت اور قوت خداوند عالم کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 30–33

12:۔ ” والارض “ اور پھر اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو بچھا دیا۔ زمین سے پانی کے چشمے جاری کردئیے اور اس میں سے ہر قسم کا سبزہ پیدا کیا اور اس پر پہاڑ رکھ دئیے۔ یہ ساری چیزیں تمہارے لیے اور تمہارے چوپایوں کے مفاد کے لیے ہیں۔ کل ذلک متاعا لخلقہ ولما یحتاجون الیہ من الانعام التی یاکلونھا و یرکبونہا مدۃ احتیاجہم الیھا الخ (ابن کثیر ج 4 ص 469) ۔ جس قادر و توانا اور قیوم و دانا نے یہ ساری کائنات پیدا فرما لی۔ اس کے لیے تمہیں دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں۔ ” والارض بعد ذلک دحہا “ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں کو پہلے اور زمین کو اس کے بعد پیدا کیا گیا حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–36

(بعث بعد الموت ) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا ہے ۔ اور منکر ین قیامت کا رد فرمایا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہء انا لمردودون فی الحافرۃ کیا ہم الٹے پاؤں پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے یعنی کیا ہمیں دنیا والی ویسی ہی زندگی مل جائے گی ۔ جو جسم اور روح سے مرکب ہوتی ہے ۔ حالانکہ ہماری یہ حالت ہوچکی ہوگی ” کنا عظاما نخرۃ کہ بوسیدہ ہڈیاں ہوچکے ہونگے۔ تو ان حالات میں دوبارہ لوٹنا تو بڑا خسارے کا سود اہوگا ۔ حالا ن کہ مشرکین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انسانوں اور باقی مخلوق سب کو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے ۔ جب انہیں انسان کی پہلی دفعہ پیدائش کا انکار نہیں ہے۔ آسمان کے پیدا کرنے کا بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالْجِبَالَ اَرْسٰىہَا۝ 32 ۙ جبل الجَبَل جمعه : أَجْبَال وجِبَال، وقال عزّ وجل : أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] ( ج ب ل ) قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا " ۔ اور پہاڑوں کو ( اس کی میخیں ) نہیں ٹھہرایا ؟ رسا يقال : رَسَا الشیء يَرْسُو : ثبت، وأَرْسَاهُ غيره، قال تعالی: وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] ، وقال تعالی: ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها وَمُرْساها من : أجریت، وأَرْسَيْتُ ، فالمُرْسَى يقال للمصدر، والمکان، والزمان، والمفعول، وقرئ : ( مجريها…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–33

ترکیب ¦ انتم مبتداء اشد خبرہ خلقا تمیز منہ السماء مبتداء والخبر محذوف ای اشدو التردید بین الجملتین بالھمزۃ وام بناھا الجملۃ مستانفۃ وقیل حال من المحذوف قال الزجاج والفراء ولکسائی تم الکلام عند قولہ بناھا لاتہ من صلۃ السماء والتقدیر ام السماء التی بناھا بحذف التی رفع سمکہا مستانف لبیان البناء۔ او صفۃ سمک بر داشتن وسقف خانہ (وعع اض 2) یقال سمک اللہ السماء سمکا سموک بلند شدن یقال سنام سامک ای عال مرتفع۔ سمک بالتحریک ماہی۔ سماک سموک ج۔ از صراح۔ اغطش اغطاش تاریک کردن شب راو تاریک شدن متعدی و لازم۔ ص۔ والارض منصوب بفعل محذوف ای وحی الارض وکذا الجبال ای وارسی الجبال قریٰ بالرفع علی الابتداء متاعا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 30–33

وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحٰھَا۔ اَخْرَجَ مِنْھَا مَـآئَ ھَا وَمَرْعٰھَا۔ وَالْجِبَالَ اَرْسٰھَا۔ مَتَاعًا لَّـکُمْ وَ لِاَنْعَامِکُمْ ۔ (النازعات : 30 تا 33) (اور اس کے بعد زمین کو بچھایا۔ اس زمین سے پانی نکالا اور چارہ نکالا۔ اور اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں۔ سامان تمہارے لیے اور تمہارے چارپایوں کے لیے۔ ) فیضانِ ربوبیت سے قیامت پر استدلال اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے مظاہر ذکر فرمانے کے بعد اب اپنے فیضانِ ربوبیت کا ذکر فرما رہا ہے۔ مظاہرقدرت سے کائنات کو بالعموم اور انسان کو بالخصوص ازسرنو زندہ کرنے پر استدلال کیا گیا ہے یعنی جس پروردگار کی قدرت کے یہ مظاہر ہیں جنھیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–33

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکرین کی سب سے بڑی دلیل کا جواب۔ قیامت کا انکار کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل یہ رہی ہے کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتا ہے تو پھر اسے کس طرح زندہ کیا جاسکتا ہے ان کے نزدیک یہ بات ناممکنات میں سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی سوچ رکھنے والے اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں پر توجہ نہیں دیتے ؟ ان کی سوچ صرف اپنی حد تک رہتی ہے اور وہ دنیا کے اسباب پر ہی نظر رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ساری دنیا کے انسان مل کر بھی چھوٹی سے چھوٹی جاندار چیز پیدا نہیں کرسکتے اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں پر توجہ دیں تو انہیں یقین آجائے گا کہ واقعی اللہ تعالیٰ کا فرمان برحق ہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

32 : وَالْجِبَالَ اَرْسٰھَا (اور پہاڑوں کو قائم کردیا) جما دیا۔ نحو : دحا اور ارسیٰ کو تفسیر کی شرط پر مضمرماننے کی وجہ سے الارض اور الجبال کو منصوب پڑھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–33

27۔ 33۔ سورة عم یتساء لون میں جس طرح حشر کے منکر لوگوں کے قائل کرنے کو ان کی آنکھوں کے سامنے کی چند چیزوں کا ذکر فرمایا تھا حشر کے ذکر کے بعد یہاں بھی چند عجائبات کا ذکر اسی غرض سے فرمایا ہے کہ ان عجائبات کو آنکھوں سے دیکھنے کے بعد کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس قدرت سے انکار کرے کہ ایک دفعہ ان سب عجائبات کو پیدا کرکے دوسری دفعہ ان میں سے جو کچھ وہ چاہے اس کا پیدا کرنا اس کی قدرت سے کچھ بعید ہے۔ ان آیتوں کو سورة حم السجدہ کی آیتوں سے ملا کر پڑھنے سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ پہلے زمین کو بنایا پھر آسمان کو پیدا کیا پھر زمین پھیلائی اور پر آسمان کو یکساں اور برابر کیا۔ سمک کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 31–33

پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر بیان کی (اَخْرَجَ مِنْهَا مَاۗءَهَا وَمَرْعٰىهَا۔ وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَا) اسی نے اس میں اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔ یعنی انہیں زمین پر مضبوطی سے جمایا، آسمانوں کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمینکو پھیلایا اور ہموار کیا جیسے کہ ان آیات کریمہ میں منصوص ہے اور رہی خودزمین کی تخلیق تو یہ آسمان کی تخلیق سے متقدم ہے جیسا کہ اللہ تعایل نے فرمایا (قل ائنکم لتکفرون۔۔۔ تا۔۔۔۔ فی یومین۔ حم السجدہ۔ 9 تا 12) کہہ دیجئے کیا تم اس ہستی کا انکار کرتے ہو، جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور تم ہو کہ اس کے ہم سر بناتے ہو وہ تمام جہانوں کا رب ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 32–33

(25) پہاڑوں کے عظیم الشان لنگروں میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا ’ اور اسی نے گاڑ دیا اس کے اندر پہاڑوں کے ان عظیم الشان لنگروں کو "۔ اور نہایت پر حکمت اور پر عظمت طریقے سے، تاکہ زمین کو قرار ملے اور انسان کو اس پر زندگی گزارنے کے لیے ضروری سکون وقرار میسر آسکے۔ ورنہ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والے اور ہر طرف سے پانی میں گھرے ہوئے اس کرہ ارضی میں انسان کی زندگی کیسے ممکن ہوتی ؟ فسبحانہ ما اعظم شانہ وما اجل احسانہ۔ سو تم ذرا سوچو کہ ان دیوہیکل پہاڑوں کو اور ان کے ان طویل سلسلوں کو اگر وہ اس زمین میں اس طرح گاڑ دینے پر قادر ہے تو آخر تم لوگوں کو دوبارہ زندہ کیوں نہیں کرسکتا ؟…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 27–46

جس نے کائنات بنائی وہ تمہیں بھی بنا سکتا ہے تشریح : یہاں ایک تو انسان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا خود اس کو بھی اللہ نے ہی بنایا ہے اور اس کے رہن سہن کے لیے پوری کائنات بنائی ہے۔ جو یقینا انسان کی پیدائش سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام ہے اگر وہ اللہ کی قدرت حکمت اور بڑائی پر غور کرے تو وہ اللہ کی دی گئی اس خبر کو ہرگز معمولی یا جھوٹ نہ سمجھے کہ '' قیامت آنے والی ہے۔ قیامت کے بعد حساب کا دن ضرور آئے گا ''۔ ان آیات میں اس یقین دہانی کے علاوہ فطرت اور کائنات کے مضبوط ' معقول اور بہترین انتظامات کا ذکر بھی بڑی خوبصورتی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–46

آیات 27 تا 46۔ اسرار ومعارف۔ اگر انہیں دوبارہ زندہ ہونے کا اعتبار نہیں آتا اور اسے مشکل جانتے ہیں تو موجودہ حیات پہ غورکریں کہ بندہ کو دوبارہ بنانامشکل ہے یا آسمانوں کی تخلیق جن کو ان کے بیشمار امور اور مخلوق کے ساتھ بنادیا اور ایسا بنایا کہ کہیں کوئی خامی باقی نہ رہی بلکہ وہ شب وروز کی آمدورفت اور سورج کے طلوع و غروب کے باعث پورے نظام حیات کو چلانے کا سبب بن گیا اس کے بعد زمین کو بچھادیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ برابر بچھی ہوئی ہے اور اس میں زندگی کے اسباب نہریں دریا اور سبزہ پیدا کردیے ہیں اور اس بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیے جو بیشمار نعمتوں کا سبب ہیں اور جن سب امور کے نتیجے میں تم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 32–33

(79:32) والجبال ارسھا : ارسی ارساء (افعال) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے ارسی کے معنی ٹھیرانے اور استوا کرنے کے ہیں۔ لنگر باندھنا، ثابت رکھنا۔ (کھونٹے کا زمین میں) گاڑنا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور اس نے (زمین کو ٹھیرانے کے لئے اور استوار رکھنے کے لئے) پہاڑوں کو (اس میں ) گاڑ دیا۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ :۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کرکے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی ۔ (ابن کثیر) پہاڑوں کو معنی ثبات کے اعتبار سے اور جگہ قرآن مجید میں اوتادا فرمایا (یعنی میخیں سورة النباء آیت 6-7 میں ہے الم نجعل الارض مھدا والجبال…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–33

(ف 4) یعنی یہ انتظام نہ ہو تو تمہارا اور تمہارے جانوروں کا کام کیسے چلے ان تمام اشیاء کا پیدا کرنا تمہاری حاجت روائی اور راحت رسائی کے لیے ہیے چاہیے کہ اس منعم حقیقی کا شکر ادا کرتے رہو، اور سمجھو کہ جس قادر مطلق اور حکیم برحق نے ایسے زبردست انتظامات کیے ہیں کیا وہ تمہاری بوسیدہ ہڈیوں میں روح نہیں پھونک سکتا، لازم ہیے کہ آدمی اس کی قدرت کا اقرار کرے۔ اور اس کی نعمتوں کی شکر گزاری میں لگا رہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[12] یعنی جس اللہ کی قدرت اور پروردگاری کی یہ شانیں ہیں اس کے لئے تمہیں دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–38

زمین کب پیدا ہوئی ؟ 1: بعد ذلک دحھا سے نظام لیل ونہار کو پیدا کرنے کے بعد زمین کو پیدا کیا گیا ہے ۔ حالانکہ دوسرے مقامات میں بالتصریح فرمایا ہے کہ آسمان کی تخلیق زمین کی تخلیق کے آخر میں ہوئی ہے ۔ جواب یہ ہے کہ پیدا کرنے میں اور دحو میں لغتہ ایک باریک فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ دخو کے منی یہ ہیں کہ زمین کو اس طرح پاؤں تلے بچھادیا جائے کہ اس میں افادہ کی قابلیت اور استعداد ہو ۔ اس لئے معنی یہ ہوں گے کہ گو زمین کو پیدا تو پہلے کیا گیا ہے ۔ مگر مفید بعد میں بنایا گیا ہے ۔ جیسا کہ علم الحیات کے ماہرین کا خیال ہے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعد یہاں تربیت کے لئے نہ ہو ۔ بلکہ تربیت وتعقیب بیان کے لئے ہو ۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 29–39

ف 7۔ رات اور دن کو آسمان کی طرف اس لئے منسوب کیا کہ رات اور دن آفتاب کے طلوع اور غروب سے ہوتے ہیں اور آفتاب آسمان میں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور پہاڑوں کو اس پر قائم کردیا۔ ۔ 32 (ارسھا) کا اصل مادہ ر س و ہے اور اس کے معنی ہیں کہ اس کو قائم کردیا۔ اور سی ارسائٌ جس کے معنی لنگر باندھنے کے ہیں۔ اسی طرح ثابت رکھنے اور میخ ٹھونکنے کے آئے ہیں ، ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ھا ضمیر واحد مئونث غائب۔ اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ اس نے پہاڑوں کو زمین میں گاڑدیا ۔ گویا زمین پانی پر لنگر انداز کردی گئی۔ غور کرو کہ جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے وہ مذکر ہو یا مئونث اس میں وہ ساری صلاحیتیں رکھ ید جاتی ہیں جو ایکا نسان میں ہوتی ہیں یا ایک انسان میں ہونا ضروری قرار پاتی ہیں لیکن کیا ان سب کا صدور اسی وقت ہونا شروع ہوجاتا ہے ؟…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–36

فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَ‌ةِ وَالْأُولَىٰ (So, Allah seized him for the deterrent punishment in the Hereafter and the present world....79:25). The word nakal means an 'exemplary punishment' or 'an extremely severe punishment given to an offender to deter others against committing a similar offence or sin'. The phrase 'punishment of the 'akhirah' refers to the punishment of the Hereafter that will be meted out to Fir'aun (the Pharaoh). The phrase 'punishment of the 'al a' refers to the punishment meted out to Fir'aun (the Pharaoh) and his army in this world whereby they were…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–33

18 In these verses arguments have been given for the Resurrection and life after death from two aspects: first, that it is not at all difficult to establish these for the power of that God Who has made this vast and huge universe with such wonderful balance and this earth with such provisions. Second, that the pointers to the perfect wisdom of Allah which are clearly visible in the universe and the earth, point out that nothing is happening here purposelessly. The balance that exists between countless of the stars and planets and galaxies in the heavens testifies that all this has not…

Read the full tafseer →