An-Naazi'aat 79:30

An-Naazi'aat · from ayah 30

79:30

وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا ۟ؕوَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ دَحٰٮهَا

اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And after that He spread the earth.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:30

اِس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اس کے بعد زمین کو (ہموار) بچھا دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور زمین کو اس کے بعد بچھا دیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس کے بعد زمین پھیلائی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اُسی نے زمین کو اِس (ستارے: سورج کے وجود میں آجانے) کے بعد (اِس سے) الگ کر کے زور سے پھینک دیا (اور اِسے قابلِ رہائش بنانے کے لئے بچھا دیا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور زمین، اس کے بعد اسے بچھا دیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور زمین کو اس کے بعد ہموار کیا ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور زمین کو اس کے بعد بچھا دیا اس نے (نہایت ہی حکمت بھرے طریقے سے)

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس کے بعد زمین کو بچھایا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور زمین کو اس کے بعد بچھا دیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا

— محترمہ رفعت اعجاز

and thereafter spread out the earth,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and, after that, He spread out the earth.

— Muhammad Taqi Usmani

and, after that, He spread out the earth.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And after that He spread the earth,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And after that He spread the earth.

— Saheeh International

After this, He spread out the earth,

— Muhammad Sarwar

And the earth, He expanded it after that.

— Muhammad Habib Shakir

And the earth!- thereafter He stretched it out.

— Abdul Majid Daryabadi

And the earth, moreover, hath He extended (to a wide expanse);

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 79:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–33

موت وحیات کی سرگزشت جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀) 40۔ غافر :57) یعنی زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے اور جگہ ہے آیت (اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ ڲ بَلٰى ۤ وَهُوَ الْخَــلّٰقُ الْعَلِـيْمُ 81؀) 36۔ يس :81) کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کردیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النّٰزِعٰت 16 " اس کے بعد زمین کو بچھانے " کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آسمان کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین پیدا کی، بلکہ یہ ایسا ہی طرز بیان ہے جیسے ہم ایک بات کا ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں " پھر یہ بات غور طلب ہے " اس سے مقصود ان دونوں باتوں کے درمیان واقعاتی ترتیب بیان کرنا نہیں ہوتا کہ پہلے یہ بات ہوئی اور اس کے بعد دوسری بات، بلکہ مقصود ایک بات کے بعد دوسری بات کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے اگرچہ دونوں ایک ساتھ پائی جاتی ہوں۔ اس طرز بیان کی متعدد نظیریں خود قرآن مجید میں موجود ہیں۔ مثلاً سورة قلم میں فرمایا عتل بعد ذلک زنیم " جفا کار ہے اور اس کے بعد بد اصل " اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–36

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى نکال ایسے عذاب کو کہا جاتا ہے جس کو دیکھ کر دوسروں کو عبرت ہو اور سب سہم جائیں۔ نکال آخرت فرعون کے لئے آخرت کا عذاب ہے، اور نکال اولیٰ سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اس کی پوری قوم کے غرق دریا ہوجانے سے ان کو پہنچا۔ اگے پھر منکرین حشر ونشر کے اس استبعاد اور شبہ کا ازالہ ہے کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد کیسے دوبارہ زندہ کئے جاویں گے۔ اس میں حق تعالیٰ نے آسمان و زمین اور انکے اندر پیدا کی ہوئی عظیم مخلوقات کا ذکر کرکے انسان غافل کو اس پر متنبہ کیا ہے کہ جس ذات نے ایسی عظیم الشان مخلوقات کو ابتدائی وجود بغیر کسی مادہ و آلہ کے عظا فرمایا وہ اگر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 30–33

آسمان کی نشانیوں کے بعد یہ زمین اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی اور مقصود اس سے بھی، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، خدا کی قدرت اور اس کی پروردگاری کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس خدا نے زمین کو ہمارے لیے بچھایا، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا، اس کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے اس کے اندر پہاڑوں کو گاڑا، کیا تم کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا؟ جب اس نے یہ سارے کام کیے اور اس کو کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو ایک ہی پیدا کی ہوئی مخلوق کو دوبارہ پیدا کر دینا کیوں دشوار ہو جائے گا! ایک سوال اور اس کا جواب: ’وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحَاہَا‘ کے الفاظ سے ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 28–36

28۔ 1 ٹھیک ٹھاک کا مطلب اسے ایسی شکل صورت میں ڈھالنا ہے کہ جس میں کوئی تفاوت، کجی، شگاف اور خلل باقی نہ رہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–45

9: عرب کے کافر لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا جو انکار کرتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی مردے کے زندہ ہونے کو بہت مشکل سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کائنات کی دوسری چیزوں، مثلاً آسمان، کے مقابلے میں انسان کو پیدا کرنا زیادہ آسان ہے، اگر تم مانتے ہو کہ آسمان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 30–32

والارض ........................ ارسھا (32:79) ” اس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا ، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑ اس میں گاڑ دیئے “۔ دحوالارض کے معنی ہیں زمین کو تیار کرنا اور اس کے چھلکے کو بچھانا ہے۔ اس طرح کہ انسان اس کے اوپر چل بھی سکیں۔ اس کے اوپر جمع ہونے والی مٹی نباتات اگانے کے قابل ہو۔ اور اس کے اوپر پہاڑوں کا جمانا ، یہ سب امور اسی طرح انجام پائے کہ اللہ سطح زمین کو اس اس طرح سکون وقرار عطا کیا اور اس کے اوپر درجہ حرارت اس مقدار میں پیدا کیا کہ یہاں حیوانی اور نباتاتی زندگی ممکن ہوئی۔ اور اللہ نے زمین سے پانی نکالا ، چاہے اس سے مراد وہ پانی ہو جو چشموں کی صورت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 آسمان اور زمین میں پہلے کون پیدا کیا گیا ؟ اس کے متعلق ہم پیشتر کسی جگہ کلام کرچکے ہیں۔ غالباً سورة " فصلت " میں (تنبیہ) " دحٰی " کے معنی راغب نے کسی چیز کو اس کے مقر (جائے قرار) سے ہٹا دینے کے لکھے ہیں۔ تو شاید اس لفظ میں ادھر اشارہ ہو جو آجکل کی تحقیق ہے کہ زمین اصل میں کسی بڑے جرم سماوی کا ایک حصہ ہے جو اس سے الگ ہوگیا۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 30–34

آیت 31{ اَخْرَجَ مِنْہَا مَآئَ ہَا وَمَرْعٰٹہَا۔ } ”اس میں سے نکالا اس کا پانی اور اس کا چارہ۔“ یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں جتنا پانی موجود ہے اس کا منبع خود زمین ہے۔ آج سائنسی معلومات کی روشنی میں ہم اس کی وضاحت یوں کرسکتے ہیں کہ ابتدا میں زمین آگ کا ایک گولا تھی۔ جوں جوں یہ ٹھنڈی ہوتی گئی اس کے بخارات نکل کر فضا میں جمع ہوتے رہے۔ اس طرح زمین کے ارد گرد مختلف گیسوں پر مشتمل ایک غلاف سا بن گیا ‘ جسے آج ہم فضا atmosphere کہتے ہیں۔ پھر کسی مرحلے پر فضا میں ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ملاپ سے پانی بنا۔ یہ پانی فضا سے بارش کی شکل میں سالہا سال تک زمین پر برستا رہا۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 30–32

22 دَحٰی کا معنی اور زمین کا گول ہونا :۔ دحیٰ اور طحٰی دونوں ہم معنی بلکہ ایک ہی لفظ ہے۔ صرف مختلف علاقوں کے الگ الگ تلفظ کی وجہ سے یہ دو لفظ بن گئے ہیں۔ قرآن میں یہ دونوں الفاظ صرف ایک ایک بار ہی استعمال ہوئے ہیں اور ایک ہی معنی میں آئے ہیں۔ کہتے ہیں دحی المطر الحصی یعنی بارش کنکریوں کو دور دور تک بہا کرلے گئی۔ گویا ان دونوں الفاظ کا معنی دور دور تک بچھا دینا یا پھیلادینا ہے نیز دحی ٰکے مفہوم میں گولائی کا تصور پایا جاتا ہے۔ دحوۃ شتر مرغ کے انڈہ کو کہتے ہیں۔ اس سے بعض لوگوں نے زمین کے گول ہونے پر استدلال کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 30–33

14۔ یعنی یہ سارے انتظامات انسان ہی کے لئے نہیں بلکہ اس کے خدمت گزار چوپایوں کی خدمت و سہولت کیلئے بھی ہیں۔ (آیت) ” بعد ذلک “۔ خوب خیال رکھا جائے کہ اس خاص آیت میں ذکر زمین کی آفرینش کا نہیں، صر اس کے بچھائے جانے کا ہے۔ (آیت) ” دحھا “۔ وحی کے معنی کسی چیز کو اس کے اصل مقر سے ہٹادینے کے ہیں۔ دحاھا اے ازالھا عن مقرھا (راغب) اس سے گویا اشارہ اس طبیعیاتی حقیقت کی طرف ہوگیا کہ کرۂ ارض کسی اور بڑے جرم سماوی کا ٹکڑا ہے جو اس سے کٹ کر ایک مستقل وجود میں آگیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–36

والارض بعد ذلک دحھا اس آیت میں زمین و پھیلانے اور ہموار کرنے کا ذکر ہے، خلق یعنی (پیدا کرنا) اور چیز ہے اور دحی (پھیلانا) اور چیز ہے، زمین کا مادہ تخلیق آسمان سے پہلے پیدا کیا البتہ زمین کو ہموار تخلیق آسمان کے بعد کیا اور پھیلانے کا مطلب صرف ہموار کرنا ہی نہیں ہے بلکہ زمین کو رہائش کے قابل بنانا اور اس پر رہنے بسنے والوں کے لئے تمام ضروریات زندگی کے اسباب مہیا کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والارض بعد ذلک دحھا . یعنی آسمان کو پیدا کرنے کے بعد اللہ نے زمین کو بچھایا ‘ پھیلایا۔ والارض سے پہلے دحٰی فعل محذوف ہے اور فعل محذوف کی تفسیر دحٰھا کر رہا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : بغیر اس کے کہ آسمان کی تخلیق سے پہلے زمین پھیلائی جائے۔ اللہ نے زمین کو پیدا کردیا پھر براہ راست آسمان کو بنانے کا ارادہ کیا اور دو روز میں سات آسمانوں کو ٹھیک ٹھیک بنایا ‘ پھر دو روز میں زمین کو بچھایا۔ غرض زمین مع اپنی موجودات کے چار روز میں بنائی گئی۔ بعض علماء نے کہا کہ بعد ذٰلک کا معنی ہے مَعَ ذٰلک ‘ یعنی اس کے ساتھ اللہ نے زمین کو بچھایا ‘ جیسے آیت میں آیا ہے : عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ ۔ بیضاوی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 27–33

(27۔ 33) اے مکہ والو ! بھلا تمہار دوسری دفعہ پیدا کرنا زیادہ سخت ہے یا آسمان کا بنانا، اللہ نے اس کی چھت کو بلند کیا۔ اور زمین پر درست کیا اور اس کی رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور اس کے دن اور اس کے سورج کو روشن بنایا اور اس کے ساتھ زمین کو پانی پر بچھایا، یا یہ کہ اس کے دو ہزار سال بعد بچھایا اور زمین سے اس کا جاری اور غیر جاری پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑوں کو اس کی میخیں بنایا، اور یہ پانی اور گھاس تمہارے اور تمہارے مویشیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 30–33

والارض بعد ذلک دحھا…: یہاں ایک سوال ہے کہ اس جگہ آسمان بنانے کے بعد زمین بچھانے کا ذکر فرمایا ہے، جب کہ سورة بقرہ کی آیت (29) اور رحم سجدہ کی آیات (9 تا 12) سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے زمین پیدا کی گئی پھر آسمان، ان دونوں کے درمیان تطبیق کیا ہوگی ؟ اہل علم نے اس کے متعدد جوابات ذکر فرمائے ہیں :(1) بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ پہلے زمین بنی پھر آسمان، البتہ زمین کو بچھانے۔ اس کا پانی اور چارہ نکالنے اور اس میں پہاڑ گاڑنے کا کام بعد میں ہوا۔ گویا زمین کی خلق (پیدائش) آسمان سے پہلے، البتہ ”حو“ (چھانا) بعد میں ہے۔ طبری نے یہ تفسیر علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے اور اسے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

والارض بعد ذالک دحاھا۔ یعنی اسے پھیلا دیا، یہ آیت اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے زمین کی تخلیق آسمان کی تخلیق کے بعد ہوئی ہے اس کے بارے میں گفتگو سورة بقرہ میں، ھوالذی خلق لکم مافی الارض جمیعا ثم استوی الی السماء، کے تحت گزرچکی ہے عرب کہتے ہیں، دحوت الشئی ادحوہ دحوا۔ جب تو اسے پھیلائے، شتر مرغ کے گھونسلے کو ادحی کہتے ہیں کیونکہ وہ زمین پر پھیلایا گیا ہوتا ہے، امیہ بن ابی صلت نے کہا : وبث الخلق فیھا اذا دحاھا، فھم قطانھا حتی التنادی۔ جب زمین کو پھیلادیا تو اس میں مخلوق کو پھیلادیا پس یہ روز قیامت تک اس کے مکین ہیں۔ مبرد نے یہ شعر پڑھاـ: دحاھا فلما راھا استوت، علی الماء ارسی علیھا الجبال۔ زمین کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

6۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والارض بعد ذلک دحی ہا یعنی اس کے ساتھ ساری زمین کو بچھا دیا۔ 7۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا اللہ کی کتاب میں دو آیتیں ہیں (ایسی ہیں) کہ ان میں سے ایک دوسرے کے خلاف ہے۔ ، تو انہوں نے فرمایا بیشک یہ تو نے اپنی رائے سے کہا ہے تو پڑھ اس نے پڑھا۔ آیت قلء انکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین (فصلت آیت 9) کہہ دو کیا تم اس کا انکار کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی یہاں تک پہنچا۔ ثم استویٰ الی السماء وہی دخان (فصلت آیت 11) پھر تو آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا اور اللہ تعالیٰ کا قول آیت والارض بعد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالْاَرْضَ : اور (اس نے بنایا) زمین کو ][ بَعْدَ ذٰلِكَ : اس کے بعد ][ دَحٰىهَا : اس نے پھیلایا اس کو ] د ح ی [دَحْیًا : (ف) کسی چیز کو پھیلانا۔ زیرمطالعہ آیت۔ 30 ۔] (آیت۔ 30) وَالْاَرْضَ کی نصب بنا رہی ہے کہ یہ فعل بَنٰیکا مفعول ہے۔ بَعْدَ ذٰلِکَ میں ذٰلِکَ کا اشارہ اَلسَّمَائُ کی طرف مانا جاسکتا ہے اور الْاَرْضَ کی طرف بھی۔ اگر اَلسَّمَائُ کی طرف مانا جائے تو مطلب ہوگا آسمان بنانے کے بعد زمین بنائی۔ اور اگر اَلْاَرْضَ کی طرف مانا جائے تو مطلب ہوگا زمین بنانے کے بعد اس کو پھیلا ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 28–30

﴿رَفَعَ سَمْكَهَا ﴾ (اسی کی چھت کو بلند فرمایا) ﴿ فَسَوّٰىهَاۙ0028﴾ (سو اسے بالکل درست بنایا) ﴿ وَ اَغْطَشَ لَيْلَهَا ﴾ (اور اس کی رات کو تاریک بنایا) ﴿ وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪0029﴾ (اور اس کے دن کو ظاہر فرمایا) رات اور دن کے وجود اور ظہور کا ظاہری سبب چونکہ آفتاب کا طلوع و غروب ہے اور وہ بلندی پر ہے اس لیے لیلھا وضحھا کی اضافت السماء کی ضمیر کی طرف کی گئی۔ ﴿ وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ0030 ﴾ (اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–46

اعلان خداوندی بقدرت کاملہ وعاجزی و پستی کائنات پیش عظمت الہی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء ........ الی ........... الا عشیۃ اوضحہا “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں خداوندعالم نے اپنی شان حاکمیت عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہوئے قیامت اور قیامت کے احوال بیان فرمائے تھے، اور یہ کہ کائنات کا یہ سارا نظام دم کے دم میں درہم برہم ہوجائے گا، زمین و آسمان اور پہاڑ چاند سورج اور ستارے غرض سب ہی ختم کردیئے جائیں گے اور دلوں کا اضطراب وبے چینی کا عالم ناقابل تصور ہوگا تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کاملہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اور یہ کہ کائنات کی کوئی طاقت اور قوت خداوند عالم کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 30–33

12:۔ ” والارض “ اور پھر اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو بچھا دیا۔ زمین سے پانی کے چشمے جاری کردئیے اور اس میں سے ہر قسم کا سبزہ پیدا کیا اور اس پر پہاڑ رکھ دئیے۔ یہ ساری چیزیں تمہارے لیے اور تمہارے چوپایوں کے مفاد کے لیے ہیں۔ کل ذلک متاعا لخلقہ ولما یحتاجون الیہ من الانعام التی یاکلونھا و یرکبونہا مدۃ احتیاجہم الیھا الخ (ابن کثیر ج 4 ص 469) ۔ جس قادر و توانا اور قیوم و دانا نے یہ ساری کائنات پیدا فرما لی۔ اس کے لیے تمہیں دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں۔ ” والارض بعد ذلک دحہا “ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں کو پہلے اور زمین کو اس کے بعد پیدا کیا گیا حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–36

(بعث بعد الموت ) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا ہے ۔ اور منکر ین قیامت کا رد فرمایا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہء انا لمردودون فی الحافرۃ کیا ہم الٹے پاؤں پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے یعنی کیا ہمیں دنیا والی ویسی ہی زندگی مل جائے گی ۔ جو جسم اور روح سے مرکب ہوتی ہے ۔ حالانکہ ہماری یہ حالت ہوچکی ہوگی ” کنا عظاما نخرۃ کہ بوسیدہ ہڈیاں ہوچکے ہونگے۔ تو ان حالات میں دوبارہ لوٹنا تو بڑا خسارے کا سود اہوگا ۔ حالا ن کہ مشرکین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انسانوں اور باقی مخلوق سب کو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے ۔ جب انہیں انسان کی پہلی دفعہ پیدائش کا انکار نہیں ہے۔ آسمان کے پیدا کرنے کا بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىہَا۝ 30 ۭ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ بعد البُعْد : ضد القرب، ولیس لهما حدّ محدود، وإنما ذلک بحسب اعتبار المکان بغیره، يقال ذلک في المحسوس، وهو الأكثر، وفي المعقول نحو قوله تعالی: ضَلُّوا ضَلالًابَعِيداً [ النساء/ 167] ( ب ع د ) البعد کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–33

ترکیب ¦ انتم مبتداء اشد خبرہ خلقا تمیز منہ السماء مبتداء والخبر محذوف ای اشدو التردید بین الجملتین بالھمزۃ وام بناھا الجملۃ مستانفۃ وقیل حال من المحذوف قال الزجاج والفراء ولکسائی تم الکلام عند قولہ بناھا لاتہ من صلۃ السماء والتقدیر ام السماء التی بناھا بحذف التی رفع سمکہا مستانف لبیان البناء۔ او صفۃ سمک بر داشتن وسقف خانہ (وعع اض 2) یقال سمک اللہ السماء سمکا سموک بلند شدن یقال سنام سامک ای عال مرتفع۔ سمک بالتحریک ماہی۔ سماک سموک ج۔ از صراح۔ اغطش اغطاش تاریک کردن شب راو تاریک شدن متعدی و لازم۔ ص۔ والارض منصوب بفعل محذوف ای وحی الارض وکذا الجبال ای وارسی الجبال قریٰ بالرفع علی الابتداء متاعا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 30–33

وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحٰھَا۔ اَخْرَجَ مِنْھَا مَـآئَ ھَا وَمَرْعٰھَا۔ وَالْجِبَالَ اَرْسٰھَا۔ مَتَاعًا لَّـکُمْ وَ لِاَنْعَامِکُمْ ۔ (النازعات : 30 تا 33) (اور اس کے بعد زمین کو بچھایا۔ اس زمین سے پانی نکالا اور چارہ نکالا۔ اور اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں۔ سامان تمہارے لیے اور تمہارے چارپایوں کے لیے۔ ) فیضانِ ربوبیت سے قیامت پر استدلال اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے مظاہر ذکر فرمانے کے بعد اب اپنے فیضانِ ربوبیت کا ذکر فرما رہا ہے۔ مظاہرقدرت سے کائنات کو بالعموم اور انسان کو بالخصوص ازسرنو زندہ کرنے پر استدلال کیا گیا ہے یعنی جس پروردگار کی قدرت کے یہ مظاہر ہیں جنھیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–33

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکرین کی سب سے بڑی دلیل کا جواب۔ قیامت کا انکار کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل یہ رہی ہے کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتا ہے تو پھر اسے کس طرح زندہ کیا جاسکتا ہے ان کے نزدیک یہ بات ناممکنات میں سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی سوچ رکھنے والے اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں پر توجہ نہیں دیتے ؟ ان کی سوچ صرف اپنی حد تک رہتی ہے اور وہ دنیا کے اسباب پر ہی نظر رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ساری دنیا کے انسان مل کر بھی چھوٹی سے چھوٹی جاندار چیز پیدا نہیں کرسکتے اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں پر توجہ دیں تو انہیں یقین آجائے گا کہ واقعی اللہ تعالیٰ کا فرمان برحق ہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

30 : وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحٰہَا (اور اس کے بعد زمین کو بچھایا) دحٰھاؔ پھیلایا۔ زمین پیدائش کے وقت پھیلی ہوئی نہ تھی۔ آسمان کی پیدائش کے دو ہزار سال بعد مکہ مکرمہ سے زمین کو پھیلا دیا۔ پھر پھیلانے کی تفسیر فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

29 ۔” واغطش “ تاریک کیا۔ ” لیلھا “ اور غطش اور غبش تاریکی ہیں۔ ” واخرج ضحاھا “ ان کے دن اور نور کو واضح اور ظاہر کیا اور ان دونوں کی آسمان کی طرف نسبت کی ہے اس لئے کہ ظلمت ونور دونوں آسمان سے اترتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–33

27۔ 33۔ سورة عم یتساء لون میں جس طرح حشر کے منکر لوگوں کے قائل کرنے کو ان کی آنکھوں کے سامنے کی چند چیزوں کا ذکر فرمایا تھا حشر کے ذکر کے بعد یہاں بھی چند عجائبات کا ذکر اسی غرض سے فرمایا ہے کہ ان عجائبات کو آنکھوں سے دیکھنے کے بعد کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس قدرت سے انکار کرے کہ ایک دفعہ ان سب عجائبات کو پیدا کرکے دوسری دفعہ ان میں سے جو کچھ وہ چاہے اس کا پیدا کرنا اس کی قدرت سے کچھ بعید ہے۔ ان آیتوں کو سورة حم السجدہ کی آیتوں سے ملا کر پڑھنے سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ پہلے زمین کو بنایا پھر آسمان کو پیدا کیا پھر زمین پھیلائی اور پر آسمان کو یکساں اور برابر کیا۔ سمک کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا) یعنی آسمان کی تخلیق کے بعد زمین کو اس نے بچھا دیا۔ یعنی اس کے اندر اس کے منافع ودیعت کردیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 30–31

(24) بچھونہ ارضی میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی نے بچھایا زمین کو اس قدر پر حکمت طریقے سے، اور اسی نے زمین کے اندر سے اس کا پانی بھی نکالا اور اس کا چارہ بھی " قسما قسما کے، اور طرح طرح کے حیرت بیکراں اور عنایت بےنہایت کا، سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس یہ سب کچھ نہ تو از خود ہوسکتا ہے اور نہ ہی یہ مختلف خداؤں کی کارگزاریوں کا نتیجہ ہوسکتا ہے، نہ ہی یہ بےمقصد اور حکمت سے خالی ہوسکتا ہے، سو اس طرح ان نشانہائے قدرت سے اس وحدہ لاشریک کے وجود باوجود، اس کی وحدانیت ویکتائی، حکمت و رحمت کی بیکرانی، اور امکان و ضرورت قیامت سب کا بیک وقت ثبوت مل جاتا ہے۔ سبحان اللہ۔ کیا کہنے اس کلام معجز…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 27–46

جس نے کائنات بنائی وہ تمہیں بھی بنا سکتا ہے تشریح : یہاں ایک تو انسان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا خود اس کو بھی اللہ نے ہی بنایا ہے اور اس کے رہن سہن کے لیے پوری کائنات بنائی ہے۔ جو یقینا انسان کی پیدائش سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام ہے اگر وہ اللہ کی قدرت حکمت اور بڑائی پر غور کرے تو وہ اللہ کی دی گئی اس خبر کو ہرگز معمولی یا جھوٹ نہ سمجھے کہ '' قیامت آنے والی ہے۔ قیامت کے بعد حساب کا دن ضرور آئے گا ''۔ ان آیات میں اس یقین دہانی کے علاوہ فطرت اور کائنات کے مضبوط ' معقول اور بہترین انتظامات کا ذکر بھی بڑی خوبصورتی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–46

آیات 27 تا 46۔ اسرار ومعارف۔ اگر انہیں دوبارہ زندہ ہونے کا اعتبار نہیں آتا اور اسے مشکل جانتے ہیں تو موجودہ حیات پہ غورکریں کہ بندہ کو دوبارہ بنانامشکل ہے یا آسمانوں کی تخلیق جن کو ان کے بیشمار امور اور مخلوق کے ساتھ بنادیا اور ایسا بنایا کہ کہیں کوئی خامی باقی نہ رہی بلکہ وہ شب وروز کی آمدورفت اور سورج کے طلوع و غروب کے باعث پورے نظام حیات کو چلانے کا سبب بن گیا اس کے بعد زمین کو بچھادیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ برابر بچھی ہوئی ہے اور اس میں زندگی کے اسباب نہریں دریا اور سبزہ پیدا کردیے ہیں اور اس بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیے جو بیشمار نعمتوں کا سبب ہیں اور جن سب امور کے نتیجے میں تم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 16 اس سے معلوم ہوا کہ زمین کا پھیلانا، یا بچھانا آسمان کی پیدائش کے بعد ہوا ہے لیکن اس کی پیدائش آسمان سے پہلے ہوچکی تھی جیسا کہ سورة فصلت میں ہے : ثم استویٰ الی السماء۔ پھر زمین کو پیدا کرنے کے بعد) اللہ تعالیٰ آسمان کی طرف بلند ہوا۔ (آیت :11) چناچہ حضرت ابن عباس ؓ کے سامنے ایک شخص نے ان دونوں آیتوں میں تعافی کا اشکال پیش کیا تو انہوں نے یہی جواب دیا۔ مگر بعض نے ” ثم استویٰ الی السماء، میں کلمہ ثم کو تراخی پر محمول کیا ہے یعنی آسمان کی خلق زمین کی خلق سے زیادہ تعجب خیز ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں بعد ذلک سے تاخر بلحاظ زمانہ مراد نہ ہو، بلکہ تاخر بلحاظ خبر ہو جیسا کہ فرمایا : عتل بعدذلک…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:30) والارض بعد ذلک دحھا : الارض (آیت ہذا میں) اور الجبال آیت 32 میں منسوب ہیں کیونکہ ان سے قبل ان کے مفعل محذوف ہیں۔ ای دحی الارض اور ارسی الجبال۔ دونوں اپنے فعل محذوف کے مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ فعل محذوف کی تفسیر (ہر دو جملہ میں) دحھا۔ الکشاف میں ہے :۔ ونصب الارض والجبال باضمار دحی وارسی وھو الاضمار علی شریطۃ التفسیر : الارض اور الجبال کا نصب دحی اور ارسی کے اضمار (محذوف ہونا) سے ہے۔ اور یہ اضمار شرائط تفسیر کے مطابق ہے۔ (الکشاف) بعد ذلک یعنی آسمان کی تخلیق کے بعد اور اس کی چھت کو بلند و بالا کرنے اور اس کو راست کرنے کے بعد۔ دحھا : دحی یدحوا، دحو (باب نصر) مصدر سے ماضی کا صیغہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–30

(ف 1) ابن عباس سے منقول ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے فرمائی گئی تھی مگر یکساں اور ہموار نہ کی گئی تھی ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–31

[10] یعنی سورج غروب ہونے کے بعد رات کی تاریکی اس طرح زمین پر چھا جاتی ہے جیسے اوپر سے زمین پر پردہ ڈال کر اسے ڈھانک دیا گیا ہو۔ [11] رات اور دن کو آسمان کی طرف اس لئے منسوب کیا گیا ہے کہ ان کا دار و مدار آفتاب کے طلوع و غروب پر ہے اور آفتاب کا تعلق آسمان سے ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–38

زمین کب پیدا ہوئی ؟ 1: بعد ذلک دحھا سے نظام لیل ونہار کو پیدا کرنے کے بعد زمین کو پیدا کیا گیا ہے ۔ حالانکہ دوسرے مقامات میں بالتصریح فرمایا ہے کہ آسمان کی تخلیق زمین کی تخلیق کے آخر میں ہوئی ہے ۔ جواب یہ ہے کہ پیدا کرنے میں اور دحو میں لغتہ ایک باریک فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ دخو کے منی یہ ہیں کہ زمین کو اس طرح پاؤں تلے بچھادیا جائے کہ اس میں افادہ کی قابلیت اور استعداد ہو ۔ اس لئے معنی یہ ہوں گے کہ گو زمین کو پیدا تو پہلے کیا گیا ہے ۔ مگر مفید بعد میں بنایا گیا ہے ۔ جیسا کہ علم الحیات کے ماہرین کا خیال ہے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعد یہاں تربیت کے لئے نہ ہو ۔ بلکہ تربیت وتعقیب بیان کے لئے ہو ۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 29–39

ف 7۔ رات اور دن کو آسمان کی طرف اس لئے منسوب کیا کہ رات اور دن آفتاب کے طلوع اور غروب سے ہوتے ہیں اور آفتاب آسمان میں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور اس کے بعد زمین کو بسنے کے قابل بنا دیا ۔ 30 توحید الٰہی کے نشانات کا ذکر جہاں بھی قرآن کریم میں کیا گیا خواہ مخواہ نہیں کیا گیا بلکہ اس سے کچھ استدلال کرنے کے لئے ان کا بیان شروع کیا۔ توحید الٰہی کے نشانات میں سے ہر ایک وہ چیز ہے جس کا خالق تلاش کرنے کے بعد بھی کوئی میسر نہ آئے اور عقل انسانی اس بات کو تسلیم کرے کہ اس کا خالق اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ کسی دوسرے کے خلاق ہونے کی وہاں قطعاً کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ مثلاً آپ نے ایک گھر تعمیر کیا اور کہا جاتا ہے کہ یہ گھر میں نے تعمیر کیا لیکن اس سے مراد دراصل تعمیر کرانا ہے نہ کہ اس کا بنانا۔ دوسرے لفظوں میں جس شخص نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–36

فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَ‌ةِ وَالْأُولَىٰ (So, Allah seized him for the deterrent punishment in the Hereafter and the present world....79:25). The word nakal means an 'exemplary punishment' or 'an extremely severe punishment given to an offender to deter others against committing a similar offence or sin'. The phrase 'punishment of the 'akhirah' refers to the punishment of the Hereafter that will be meted out to Fir'aun (the Pharaoh). The phrase 'punishment of the 'al a' refers to the punishment meted out to Fir'aun (the Pharaoh) and his army in this world whereby they were…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16 "After that He spread out the earth" does not mean that Allah created the earth after the creation of the heavens, but it is a style of expression just like our saying after making mention of something: "Then this is noteworthy." The object is not to express the sequence of occurrence between the two things but to draw attention from the first to the second thing although both may exist together. Several instances of this style are found in the Qur'an, e.g. in Surah Al-Qalam it is said: "(He is) oppressive, and after that, ignoble by birth." This dces not mean that first he became…

Read the full tafseer →