An-Naazi'aat 79:29

An-Naazi'aat · from ayah 29

79:29

وَاَغْطَشَ لَیْلَهَا وَاَخْرَجَ ضُحٰىهَا ۪۟وَ اَغۡطَشَ لَيۡلَهَا وَاَخۡرَجَ ضُحٰٮهَا

اور اسی نے رات کو تاریک بنایا اور (دن کو) دھوپ نکالی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And He darkened its night and extracted its brightness.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:29

اور اُس کی رات ڈھانکی اور اُس کا دن نکالا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اسی نے رات کو تاریک بنایا اور (دن کو) دھوپ نکالی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسکی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو نکالا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس کی رات کو اندھیری بنایا ہے، اور اس کے دن کی دھوپ باہر نکال دی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس کی رات اندھیری کی اور اس کی روشنی چمکائی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اُسی نے آسمانی خلا کی رات کو (یعنی سارے خلائی ماحول کو مثلِ شب) تاریک بنایا، اور (اِس خلا سے) ان (ستاروں) کی روشنی (پیدا کر کے) نکالی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس کی رات کو تاریک کردیا اور اس کے دن کی روشنی کو ظاہر کردیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اس کی رات کو تاریک کردیا اور دن کو دھوپ نکالی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس اس کو ٹھیک ٹھاک کیا، اس کی رات ڈھانک دی اور اس کے دن کو بےنقاب کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس نے ڈھانک دیا اس کی رات کو (تاریکی کی چادر سے) اور نکالا اس کے (دن کے اجالے) کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس کی رات کو ڈھانپا اور اس کے دن کو ظاہر کیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اس کی رات کو اندھیرا کردیا اور اس کے دن کو ظاہر کردیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اسی نے رات تاریک بنائی اور دن کو دھوپ نکالی

— محترمہ رفعت اعجاز

and covered its night with darkness and brought forth from it its day;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and darkened its night, and brought forth its daylight,

— Muhammad Taqi Usmani

and darkened its night, and brought forth its daylight,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Its night He covers and He brings out its forenoon.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And He made dark the night thereof, and He brought forth the morn thereof.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And He darkened its night and extracted its brightness.

— Saheeh International

He has made its nights dark and its days bright.

— Muhammad Sarwar

And He made dark its night and brought out its light.

— Muhammad Habib Shakir

And He made dark its night, and brought forth its sunshine.

— Abdul Majid Daryabadi

Its night doth He endow with darkness, and its splendour doth He bring out (with light).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 79:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–33

موت وحیات کی سرگزشت جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀) 40۔ غافر :57) یعنی زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے اور جگہ ہے آیت (اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ ڲ بَلٰى ۤ وَهُوَ الْخَــلّٰقُ الْعَلِـيْمُ 81؀) 36۔ يس :81) کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کردیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–29

سورة النّٰزِعٰت 15 رات اور دن کو آسمان کی طرف منسوب کیا گیا ہے، کیونکہ آسمان کا سورج غروب ہونے سے ہی رات آتی ہے اور اسی کے طلوع ہونے سے دن نکلتا ہے۔ رات کے لیے ڈھانکنے کا لفظ اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے سورج غروب ہونے کے بعد رات کی تاریکی اس طرح زمین پر چھا جاتی ہے جیسے اوپر سے اس پر پردہ ڈال کر ڈھانک دیا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–36

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى نکال ایسے عذاب کو کہا جاتا ہے جس کو دیکھ کر دوسروں کو عبرت ہو اور سب سہم جائیں۔ نکال آخرت فرعون کے لئے آخرت کا عذاب ہے، اور نکال اولیٰ سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اس کی پوری قوم کے غرق دریا ہوجانے سے ان کو پہنچا۔ اگے پھر منکرین حشر ونشر کے اس استبعاد اور شبہ کا ازالہ ہے کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد کیسے دوبارہ زندہ کئے جاویں گے۔ اس میں حق تعالیٰ نے آسمان و زمین اور انکے اندر پیدا کی ہوئی عظیم مخلوقات کا ذکر کرکے انسان غافل کو اس پر متنبہ کیا ہے کہ جس ذات نے ایسی عظیم الشان مخلوقات کو ابتدائی وجود بغیر کسی مادہ و آلہ کے عظا فرمایا وہ اگر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَأَغْطَشَ لَیْْلَہَا وَأَخْرَجَ ضُحَاہَا‘۔ یعنی پہلے اس کے اندر رات ہی رات تھی۔ وہ، جیسا کہ سورۂ حٰم السجدہ میں اشارہ ہے، دھوئیں کی شکل میں تھا۔ لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی رات ڈھانک دی۔ اس کے حصہ کی روشنی نمودار کی، رات اور دن دونوں کو ایک نظام کا پابند بنا دیا۔ مطلب یہ ہے کہ جو خدا اس جہان پر رات طاری کر دینے پر قادر ہے، کیا اس کے لیے دنیا کے مرکھپ جانے کے بعد اس کو دوبارہ پیدا کرنا ناممکن ہوجائے گا؟ زیادہ مشکل پہلا کام ہے یا دوسرا؟

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 28–36

28۔ 1 ٹھیک ٹھاک کا مطلب اسے ایسی شکل صورت میں ڈھالنا ہے کہ جس میں کوئی تفاوت، کجی، شگاف اور خلل باقی نہ رہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–45

9: عرب کے کافر لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا جو انکار کرتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی مردے کے زندہ ہونے کو بہت مشکل سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کائنات کی دوسری چیزوں، مثلاً آسمان، کے مقابلے میں انسان کو پیدا کرنا زیادہ آسان ہے، اگر تم مانتے ہو کہ آسمان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واغطش ............ ضحھا (29:79) ” اور اس کی رات ڈھانکی اور اس کا دن نکالا “۔ اس انداز تعبیر میں لفظاً اور معنی شدت اور ترنم ہے۔ اور یہ انداز تعبیر اس سورت کی شدت اور قوت کے عین مطابق ہے۔ واغطش لیلھا (29:79) ” کے معنی ہیں رات کو سیاہ اور تاریک بنادیا۔ اور اخرج ضحھا (29:79) ” کے معنی ہیں ، دن کو روشن کیا۔ تاریکی اور روشنی کے لئے یہاں قرآن نے جو الفاظ چنے ہیں وہ سیاق کلام کے لئے بہت موزوں ہیں۔ روشنی اور تاریکی کا پے درپے آنا اور جانا ، رات کی تاریکی اور چاشت کی روشنی ہر شخص کا دیکھا ہوا منظر ہے۔ ہر دل اس سے متاثر ہوتا ہے۔ انسان بعض اوقات زیادہ مانوس ہونے کی وجہ سے گردش لیل ونہار سے وہ تاثر نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 28–29

10 یعنی آسمان کو خیال کرو کس قدر اونچا، کتنا مضبوط، کیسا صاف ہموار، اور کس درجہ مرتب و منظم ہے، کس قدر زبردست انتظام اور باقاعدگی کے ساتھ اس نے سورج کی رفتار سے رات اور دن کا سلسلہ قائم کیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں اس کا سماں کچھ اور ہے اور دن کے اجالے میں ایک دوسری ہی شان نظر آتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 27–29

اب اگلی آیات میں بعث بعد الموت کے حوالے سے مشرکین کے طنزیہ تبصروں کا تفصیلی جواب دیا جارہا ہے :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

21 لیل ونہار :۔ یعنی اس آسمان میں سورج پیدا کیا ہے۔ جب تک وہ اہل زمین کے سامنے رہتا ہے تو یہ ان کے لیے دھوپ کا وقت اور دن ہوتا ہے اور جب وہ غروب ہوجاتا ہے اور چھپا رہتا ہے تو یہ ان کے لیے رات کا وقت ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 28–29

13۔ اس میں اوپر اشارہ آگیا کہ رات اور دن کا دارومدار آفتاب ہی کے طلوع و غروب پر ہے۔ اور آفتاب کا تعلق آسمان سے ہے۔ (آیت) ” فسوھا “۔ آسمان کا انتظام ایسا درست وکامل رکھا کہ اس کے نظام میں کہیں کوئی رخنہ نہ مل سکے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

واغطش لیلھا، اغطش بمعنی اظلم اور اخرج کا مطلب ہے ابرز، اور نھار کی جگہ ضحھا اس لئے کہا کہ چاشت کا وقت سب سے اچھا اور عمدہ ہے مطلب یہ ہے کہ دن کو سورج کے ذریعہ روشن کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واغطش لیلھا . اور آسمان سے پیدا ہونے والی رات کو تاریک بنایا۔ غَطَشَ الَّیْلُ : رات اندھیری ہوگئی۔ آسمان کی طرف رات کی اضافت اس لیے کی کہ سورج آسمان پر ہے اور سورج کی حرکت سے رات پیدا ہوتی ہے۔ واخرج ضحھا . اور آسمان سے سورج کی روشنی نمودار کی اور دن کو اس سے پیدا کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 27–33

(27۔ 33) اے مکہ والو ! بھلا تمہار دوسری دفعہ پیدا کرنا زیادہ سخت ہے یا آسمان کا بنانا، اللہ نے اس کی چھت کو بلند کیا۔ اور زمین پر درست کیا اور اس کی رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور اس کے دن اور اس کے سورج کو روشن بنایا اور اس کے ساتھ زمین کو پانی پر بچھایا، یا یہ کہ اس کے دو ہزار سال بعد بچھایا اور زمین سے اس کا جاری اور غیر جاری پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑوں کو اس کی میخیں بنایا، اور یہ پانی اور گھاس تمہارے اور تمہارے مویشیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 27–29

ء انتم اشد خلقاً …: شرع سورت میں قیامت حق ہونے کی دلیل کے طور پر فرشتوں کا اور ان چند امور کا ذکر فرمایا جو وہ سر انجام دیتے ہیں، یعنی ان فرشتوں کے رب کے لئے تمہیں دوبارہ زندہ کرنا کون سا مشکل کام ہے ؟ یہاں سے پھر قیامت کے دلائل کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ چناچہ آیت (27) سے (33) تک اللہ تعالیٰ نے اپنی کئی عظیم الشان مخلوقات کا ذکر فرمایا کہ اتنی قدرتوں والے پروردگار کے لئے تمہیں دوبارہ زندہ کرنے میں کیا دشواری ہوسکتی ہے ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 27–29

ء انتم اشد خلقا۔۔۔ تا۔۔۔ ولانعامکم۔ ء انتم اشد خلقا ام السمائ۔ اس سے مراد اہل مکہ ہیں کیا تمہارے اندازے کے مطابق تمہاری موت کے بعد تمہیں پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان کو پیدا کرنا مشکل ہے پس جو آسمان پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لخلق السماوات والارض اکبر من خلق الناس۔ غافر 57) آسمانوں اور زمین کی تخلیق لوگوں کی تخلیق سے بڑھ کر ہے، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، اولیس الذی خلق السماوات والارض بقادر علی ان یخلق مثلھم۔ یاسین 81) کیا وہ ذات پاک جو آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمانے والی ہے وہ اس بات پر قادر نہیں کہ وہ ان کی مثل کو پیدا کردے، اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

4۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واغطش لیلہا یعنی عشاء کو تاریک بنادیا آیت واخرج ضحاہا یعنی اس کے سورج کو ظاہر کیا۔ 5۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت واغطش لیلہا یعنی اس کی رات کو تارک کردیا۔ آیت واخرج ضحٰہا۔ یعنی اس کے دن کو ظاہر کیا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاَغْطَشَ لَيْلَهَا : اور اس نے تاریک کیا اس کی رات کو ][ وَاَخْرَجَ ضُحٰىهَا : اور اس نے نکالا اس کی روشنی کو ] غ ط ش [غَطَشاً : (س) کمزور نظر والا ہونا۔] [اِغْطَاشًا : (افعال) تاریک کرنا۔ زیرمطالعہ آیت۔ 29 ۔]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 28–30

﴿رَفَعَ سَمْكَهَا ﴾ (اسی کی چھت کو بلند فرمایا) ﴿ فَسَوّٰىهَاۙ0028﴾ (سو اسے بالکل درست بنایا) ﴿ وَ اَغْطَشَ لَيْلَهَا ﴾ (اور اس کی رات کو تاریک بنایا) ﴿ وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪0029﴾ (اور اس کے دن کو ظاہر فرمایا) رات اور دن کے وجود اور ظہور کا ظاہری سبب چونکہ آفتاب کا طلوع و غروب ہے اور وہ بلندی پر ہے اس لیے لیلھا وضحھا کی اضافت السماء کی ضمیر کی طرف کی گئی۔ ﴿ وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ0030 ﴾ (اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–46

اعلان خداوندی بقدرت کاملہ وعاجزی و پستی کائنات پیش عظمت الہی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء ........ الی ........... الا عشیۃ اوضحہا “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں خداوندعالم نے اپنی شان حاکمیت عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہوئے قیامت اور قیامت کے احوال بیان فرمائے تھے، اور یہ کہ کائنات کا یہ سارا نظام دم کے دم میں درہم برہم ہوجائے گا، زمین و آسمان اور پہاڑ چاند سورج اور ستارے غرض سب ہی ختم کردیئے جائیں گے اور دلوں کا اضطراب وبے چینی کا عالم ناقابل تصور ہوگا تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کاملہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اور یہ کہ کائنات کی کوئی طاقت اور قوت خداوند عالم کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 27–29

11:۔ ” ءانتم اشد “ یہ دعوائے سورت یعنی حشر و نشر پر عقلی دلیل ہے خطاب منکرین اہل مکہ سے ہے ” سمک “ کے معنی اونچائی اور بلندی کے ہیں۔ قیامت کے دن مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے کو ناممکن بتانے والو یہ تو بتاؤ کہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا زمین و آسمان اور ساری کائنات کو پیدا کرنا ؟ اللہ نے آسمان کو پیدا فرمایا اس کو ایک خاص مقدار میں زمین سے بلند کیا اور اس کو برابر اور ہموار بنایا کہ اس میں کہیں کوئی شگاف اور نشیب و فراز نہیں۔ ” واغطش لیلہا “ اور اس کی رات کو ڈھانپ دیا یعنی رات کو اندھیرے میں چھپا دیا اور اس کے دن کو روشن اور ظاہر فرما دیا۔ ” لیلہا “ اور ” ضحہا “ کی ” السماء “ کی طرف…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–36

(بعث بعد الموت ) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا ہے ۔ اور منکر ین قیامت کا رد فرمایا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہء انا لمردودون فی الحافرۃ کیا ہم الٹے پاؤں پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے یعنی کیا ہمیں دنیا والی ویسی ہی زندگی مل جائے گی ۔ جو جسم اور روح سے مرکب ہوتی ہے ۔ حالانکہ ہماری یہ حالت ہوچکی ہوگی ” کنا عظاما نخرۃ کہ بوسیدہ ہڈیاں ہوچکے ہونگے۔ تو ان حالات میں دوبارہ لوٹنا تو بڑا خسارے کا سود اہوگا ۔ حالا ن کہ مشرکین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انسانوں اور باقی مخلوق سب کو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے ۔ جب انہیں انسان کی پہلی دفعہ پیدائش کا انکار نہیں ہے۔ آسمان کے پیدا کرنے کا بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَغْطَشَ لَيْلَہَا وَاَخْرَجَ ضُحٰىہَا۝ 29 ۠ غْطَشَ قال تعالی: أَغْطَشَ لَيْلَها[ النازعات/ 29] ، أي : جعله مظلما، وأصله من الْأَغْطَشُ ، وهو الذي في عينه شبه عمش، ومنه قيل : فلاة غَطْشَى: لا يهتدی فيها، والتَّغَاطُشُ : التّعامي عن الشیء . ( غ ط ش ) أَغْطَشَ لَيْلَها[ النازعات/ 29] اور اس نے رات کو تاریک بنایا ۔ یہ اصل میں رجل اغطش سے ہے جس کے معنی کمزور نظر اور چندھے آدمی کے ہیں ۔ فلاۃ غطشی اس صحرا کو کہتے ہیں جس میں راستہ نہ ملتا ہو ۔ التغاطش کسی چیز سے آنکھیں بند کرلینا ۔ غفلت ۔ برتنا ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–33

ترکیب ¦ انتم مبتداء اشد خبرہ خلقا تمیز منہ السماء مبتداء والخبر محذوف ای اشدو التردید بین الجملتین بالھمزۃ وام بناھا الجملۃ مستانفۃ وقیل حال من المحذوف قال الزجاج والفراء ولکسائی تم الکلام عند قولہ بناھا لاتہ من صلۃ السماء والتقدیر ام السماء التی بناھا بحذف التی رفع سمکہا مستانف لبیان البناء۔ او صفۃ سمک بر داشتن وسقف خانہ (وعع اض 2) یقال سمک اللہ السماء سمکا سموک بلند شدن یقال سنام سامک ای عال مرتفع۔ سمک بالتحریک ماہی۔ سماک سموک ج۔ از صراح۔ اغطش اغطاش تاریک کردن شب راو تاریک شدن متعدی و لازم۔ ص۔ والارض منصوب بفعل محذوف ای وحی الارض وکذا الجبال ای وارسی الجبال قریٰ بالرفع علی الابتداء متاعا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–29

ئَ اَنْـتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآئُ بَنٰـھَا۔ رَفَعَ سَمْکَھَا فَسَوّٰھَا۔ وَاَغْطَشَ لَیْلَھَا وَاَخْرَجَ ضُحٰھَا۔ (النازعات : 27 ۃ ا 29) (کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی، اللہ نے اس کو بنایا۔ اس کی چھت اونچی اٹھائی، پھر اس کو ٹھیک ٹھاک کیا۔ اور اس کی رات ڈھانکی اور اس کا دن نکالا۔ ) مظاہرقدرت سے قیامت پر استدلال پیشِ نظر تین آیتیں اور اس کے بعد چار آیتیں دو باتوں پر دلالت کر رہی ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ کی قدرت پر اور دوسرے اس کے فیضانِ ربوبیت پر۔ قدرت کا اظہار اس طرح فرمایا گیا ہے کہ سب سے پہلے آسمان کی تخلیق کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ نیلگوں چھت اور گنبدبے در جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–33

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکرین کی سب سے بڑی دلیل کا جواب۔ قیامت کا انکار کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل یہ رہی ہے کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتا ہے تو پھر اسے کس طرح زندہ کیا جاسکتا ہے ان کے نزدیک یہ بات ناممکنات میں سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی سوچ رکھنے والے اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں پر توجہ نہیں دیتے ؟ ان کی سوچ صرف اپنی حد تک رہتی ہے اور وہ دنیا کے اسباب پر ہی نظر رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ساری دنیا کے انسان مل کر بھی چھوٹی سے چھوٹی جاندار چیز پیدا نہیں کرسکتے اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں پر توجہ دیں تو انہیں یقین آجائے گا کہ واقعی اللہ تعالیٰ کا فرمان برحق ہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

29 : وَ اَغْطَشَ لَیْلَھَا وَاَخْرَجَ ضُحٰھَا (اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو ظاہر کیا) اغطش۔ اندھیرے والا بنایا اخراج ضحی کا معنی اس کے سورج کی روشنی کو ظاہر کردیا۔ آیت میں سورج اور لیل کی اضافت آسمان کی طرف کی گئی ہے کیونکہ رات آسمان کا سایہ اور سورج آسمان کا چراغ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–33

27۔ 33۔ سورة عم یتساء لون میں جس طرح حشر کے منکر لوگوں کے قائل کرنے کو ان کی آنکھوں کے سامنے کی چند چیزوں کا ذکر فرمایا تھا حشر کے ذکر کے بعد یہاں بھی چند عجائبات کا ذکر اسی غرض سے فرمایا ہے کہ ان عجائبات کو آنکھوں سے دیکھنے کے بعد کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس قدرت سے انکار کرے کہ ایک دفعہ ان سب عجائبات کو پیدا کرکے دوسری دفعہ ان میں سے جو کچھ وہ چاہے اس کا پیدا کرنا اس کی قدرت سے کچھ بعید ہے۔ ان آیتوں کو سورة حم السجدہ کی آیتوں سے ملا کر پڑھنے سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ پہلے زمین کو بنایا پھر آسمان کو پیدا کیا پھر زمین پھیلائی اور پر آسمان کو یکساں اور برابر کیا۔ سمک کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاَغْطَشَ لَيْلَهَا) یعنی اللہ تعالیٰ رات کو تاریک کرتا ہے تو یہ تاریکی آسمان کے تمام کناروں تک پھیل جاتی ہے اور روئے زمین کو تاریک کردیتی ہے۔ (وَاَخْرَجَ ضُحٰىهَا) یعنی جب اللہ تعالیٰ سورج کو لے کر آتا ہے تو روئے زمین پر عظیم روشنی ظاہر کرتا ہے تو لوگ اپنے دینی اور دنیاوی کاموں کے لیے پھیل جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(23) سلسلہ روز و شب میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور مظاہر قدرت میں سے ایک عظیم الشان مظہر یعنی سلسلہ روز و شب میں دعوت غور و فکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی نے ڈھانک دیا اس کی رات کو اور اسی نے نکالا اس کے دن کو "۔ یہاں پر رات اور دن کو جو آسمان کی طرف منسوب کر کے فرمایا گیا یعنی " لیلھا " اور " ضحھا " تو یہ اس لیے کہ رات اور دن کے ظہور و بروز کا تعلق سورج کے طلوع و غروب ہی سے ہوتا ہے، اور وہ آسمان ہی کے اعتبار سے ہوتا ہے، اس لیے اس کو اس طرح تعبیر فرمایا گیا ہے، پس اسی قادر مطلق نے رات اور دن دونوں کو ایک نہایت ہی پر حکمت نظام کا پابند بنادیا، سو اس خدائے قادر وقیوم کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 27–46

جس نے کائنات بنائی وہ تمہیں بھی بنا سکتا ہے تشریح : یہاں ایک تو انسان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا خود اس کو بھی اللہ نے ہی بنایا ہے اور اس کے رہن سہن کے لیے پوری کائنات بنائی ہے۔ جو یقینا انسان کی پیدائش سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام ہے اگر وہ اللہ کی قدرت حکمت اور بڑائی پر غور کرے تو وہ اللہ کی دی گئی اس خبر کو ہرگز معمولی یا جھوٹ نہ سمجھے کہ '' قیامت آنے والی ہے۔ قیامت کے بعد حساب کا دن ضرور آئے گا ''۔ ان آیات میں اس یقین دہانی کے علاوہ فطرت اور کائنات کے مضبوط ' معقول اور بہترین انتظامات کا ذکر بھی بڑی خوبصورتی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–46

آیات 27 تا 46۔ اسرار ومعارف۔ اگر انہیں دوبارہ زندہ ہونے کا اعتبار نہیں آتا اور اسے مشکل جانتے ہیں تو موجودہ حیات پہ غورکریں کہ بندہ کو دوبارہ بنانامشکل ہے یا آسمانوں کی تخلیق جن کو ان کے بیشمار امور اور مخلوق کے ساتھ بنادیا اور ایسا بنایا کہ کہیں کوئی خامی باقی نہ رہی بلکہ وہ شب وروز کی آمدورفت اور سورج کے طلوع و غروب کے باعث پورے نظام حیات کو چلانے کا سبب بن گیا اس کے بعد زمین کو بچھادیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ برابر بچھی ہوئی ہے اور اس میں زندگی کے اسباب نہریں دریا اور سبزہ پیدا کردیے ہیں اور اس بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیے جو بیشمار نعمتوں کا سبب ہیں اور جن سب امور کے نتیجے میں تم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 25–29

ف 15 رات اور دن کو آسمان کی طرف منسوب کیا گیا کیونکہ دونوں کا تعلق سورج کے طلوع و غروب سے ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:29) واغطش لیلہا واخرج ضحھا : اغطش ماضی واحد مذکر غائب۔ اغطاش (افعال) مصدر سے جس کے معنی تاریک ہونا اور تاریک کرنا کے ہیں۔ ضحی کے معنی دھوپ کے پھیلنے اور دن کے چڑھنے کے ہیں۔ نیز وقت چاشت کو ضحی کہتے ہیں۔ وہ وقت جب دھوپ چڑھ جائے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اس نے تاریک کیا اس کی رات کو اور ظاہر کیا اس کے دن کو۔ ھا ہر دو جگہ آسمان کے لئے ہے۔ رات کی سیاہی اور سن کے اجالے کو آسمان کی طرف منسوب کیا کیونکہ اس کا تعلق آدتاب کے طلوع اور غروب سے ہے جو اجران سماویہ میں سے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–30

(ف 1) ابن عباس سے منقول ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے فرمائی گئی تھی مگر یکساں اور ہموار نہ کی گئی تھی ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–31

[10] یعنی سورج غروب ہونے کے بعد رات کی تاریکی اس طرح زمین پر چھا جاتی ہے جیسے اوپر سے زمین پر پردہ ڈال کر اسے ڈھانک دیا گیا ہو۔ [11] رات اور دن کو آسمان کی طرف اس لئے منسوب کیا گیا ہے کہ ان کا دار و مدار آفتاب کے طلوع و غروب پر ہے اور آفتاب کا تعلق آسمان سے ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 26–29

سنۃ اللہ 1: ان آیتوں میں بطور تذکیر بسنتہ اللہ کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ارشاد فرمایا ہے کہ ان کو طویٰ کی مقدس وادی میں اللہ تعالیٰ نے مخاطب کیا اور کہا کہ ارض مصر میں فرعون باغی و سرکش ہوگیا ہے ، اس کی سرکوبی کے لئے روانہ ہوجاؤ۔ اور اس سے اولاً یہ کہو کہ کیا تم پاکبازی کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہو اور تمہاری یہ خواہش ہے کہ میں تم کو راہ راست پر گامزن کردوں ۔ اگر مان لے تو فبہا ورنہ بنی اسرائیل کو اس کے چنگل سے چھڑا لاؤ اور اس کی قوت وتدبیر کا مقابلہ کرو ۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے معجزات وخوارق پیش کئے اور کہا کہ میں اللہ کا سچا رسول (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(29) اور اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو ظاہر کیا اور کھول نکالی اس کی دھوپ۔ منکرین بعث کو مخاطب کرکے فرمایا تمہارا دوبارہ پیدا کرنا زیادہ سخت اور مشکل ہے یا آسمانوں کا بنانا زیادہ مشکل ہے یعنی فی نفسہ اور فی حدذاتہ ان دونوں باتوں میں کونسی بات زیادہ مشکل ہے ۔ اگرچہ قدرت کے نزدیک کچھ بھی مشکل نہیں مگر تم بتائو فی نفسہ کون سب بات زیادہ سخت ہے اگر آسمانوں کا بنانا اور ان کی درستی اور ان کا نظام زیادہ مشکل ہے تو پھر جو یہ کام کرسکتا ہے اس کو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ سورة یٰسین میں فرمایا اولیس الذی خلق السموت والارض بقادر علی ان یخلق مثلھم۔ اور سورة مومن میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 29–39

ف 7۔ رات اور دن کو آسمان کی طرف اس لئے منسوب کیا کہ رات اور دن آفتاب کے طلوع اور غروب سے ہوتے ہیں اور آفتاب آسمان میں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس کی رات کو تاریک بنایا اور دن کو روشن کر دیا ۔ 29 (اعطش) اس نے تاریک کردیا اغطاش سے جس کے معنی تاریک ہونے اور تاریک کردینے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب (ضحھا) اس کے دن چڑھے۔ اس کی دھوپ کا پھیلنا اور رون ہونا ضحی مضاف ھا ضمیر واحد مئونث غائب مضاف الیہ۔ دن رات کا تعلق آفتاب کے طلوع و غروب سے ہے اور وہ ہم زمین والوں کے لئے ہمارے سروں کے اوپر ہم کو نظر آتا ہے۔ اس کے آنے جانے سے اندھیرے اور اجالے کا تعلق ہے چونکہ اس کی نسبت بحیثیت دیکھنے کے آسمان سے متعلق دکھائی دیتی ہے اس لئے اس کے اندھیرے اور اجالے کو بھی اسی کے ساتھ نسبت دی گئی ہے اور اس کی صورت اصل یہی ہے کہ ہم باوجود تسلیم کرنے کے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–36

فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَ‌ةِ وَالْأُولَىٰ (So, Allah seized him for the deterrent punishment in the Hereafter and the present world....79:25). The word nakal means an 'exemplary punishment' or 'an extremely severe punishment given to an offender to deter others against committing a similar offence or sin'. The phrase 'punishment of the 'akhirah' refers to the punishment of the Hereafter that will be meted out to Fir'aun (the Pharaoh). The phrase 'punishment of the 'al a' refers to the punishment meted out to Fir'aun (the Pharaoh) and his army in this world whereby they were…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–29

15 The night and the day have been attributed to the heaven, for the night falls when the sun of the heavens sets and the day dawns when it rises. The word "cover" has been used for the night in the sense that after the sun has set the darkness of the night so spreads over the earth as though it has covered it from above by a curtain.

Read the full tafseer →