رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا ۟ۙرَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا
اس کی چھت کو اونچا کیا اور پھر اسے برابر کر دیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
He raised its ceiling and proportioned it.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz
رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا ۟ۙرَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا
اس کی چھت کو اونچا کیا اور پھر اسے برابر کر دیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
He raised its ceiling and proportioned it.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz
Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat
اُس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھر اُس کا توازن قائم کیا
اس کی چھت کو اونچا کیا اور پھر اسے برابر کر دیا
اس کی بلندی اونچی کی پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر دیا
اس کی بلندی اٹھائی ہوئی ہے، پھر اسے ٹھیک کیا ہے۔
اس کی چھت اونچی کی پھر اسے ٹھیک کیا
اس نے آسمان کے تمام کرّوں (ستاروں) کو (فضائے بسیط میں پیدا کر کے) بلند کیا، پھر ان (کی ترکیب و تشکیل اور افعال و حرکات) میں اعتدال، توازن اور استحکام پیدا کر دیا،
اس کی چھت کو بلند کیا، پھر اسے برابر کیا۔
اس کی چھت کو بلند کیا پھر اس میں توازن قائم کیا
اس کو اٹھایا، اس کے گنبد کو بلند کیا
اوپر اٹھایا اس کی چھت کو پھر اس کو برابر کیا (ہر اعتبار سے)
اس کی چھت کو بلند کیا اور اسے درست بنایا
اس کے گنبد کو بلند کیا پھر اسے ہر طرح سے درست کیا۔
اس کی چھت کو اونچا کیا پھر اسے برابر کردیا
and raised its vault high and proportioned it;
He has raised its height, then made it proper,
He has raised its height, then made it proper,
He raised its hei- ght, and has perfected it.
He raised the height thereof and ordered it;
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
He raised its ceiling and proportioned it.
high above?
He raised high its height, then put it into a right good state.
He hath raised the height thereof and perfected it.
On high hath He raised its canopy, and He hath given it order and perfection.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 27–33
موت وحیات کی سرگزشت جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57) 40۔ غافر :57) یعنی زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے اور جگہ ہے آیت (اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ ڲ بَلٰى ۤ وَهُوَ الْخَــلّٰقُ الْعَلِـيْمُ 81) 36۔ يس :81) کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کردیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
سورة النّٰزِعٰت 15 رات اور دن کو آسمان کی طرف منسوب کیا گیا ہے، کیونکہ آسمان کا سورج غروب ہونے سے ہی رات آتی ہے اور اسی کے طلوع ہونے سے دن نکلتا ہے۔ رات کے لیے ڈھانکنے کا لفظ اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے سورج غروب ہونے کے بعد رات کی تاریکی اس طرح زمین پر چھا جاتی ہے جیسے اوپر سے اس پر پردہ ڈال کر ڈھانک دیا گیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–36
فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى نکال ایسے عذاب کو کہا جاتا ہے جس کو دیکھ کر دوسروں کو عبرت ہو اور سب سہم جائیں۔ نکال آخرت فرعون کے لئے آخرت کا عذاب ہے، اور نکال اولیٰ سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اس کی پوری قوم کے غرق دریا ہوجانے سے ان کو پہنچا۔ اگے پھر منکرین حشر ونشر کے اس استبعاد اور شبہ کا ازالہ ہے کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد کیسے دوبارہ زندہ کئے جاویں گے۔ اس میں حق تعالیٰ نے آسمان و زمین اور انکے اندر پیدا کی ہوئی عظیم مخلوقات کا ذکر کرکے انسان غافل کو اس پر متنبہ کیا ہے کہ جس ذات نے ایسی عظیم الشان مخلوقات کو ابتدائی وجود بغیر کسی مادہ و آلہ کے عظا فرمایا وہ اگر…
Read the full tafseer →یہ آسمان کے اندر خدا کی عظیم قدرت و حکمت کے بعض پہلوؤں کی طرف اشارہ ہے تاکہ جو لوگ دوبارہ پیدا کیے جانے کو بعید از امکان سمجھ رہے ہیں وہ غور کریں کہ جس خدا کی قدرت کی یہ شانیں وہ ہر وقت دیکھ رہے ہیں اس کے لیے کسی کام کے ناممکن ہونے کا کیا سوال؟ ’سَمْکٌ‘ کے معنی چھت کے ہیں۔ فرمایا کہ اس نے آسمان کو بنایا، اس کی چھت کو بلند کیا اور پھر اس کو اس طرح ہموار کیا کہ کسی کے امکان میں نہیں کہ اس کے کسی کونے میں کسی خلل کی نشان دہی کر سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–36
28۔ 1 ٹھیک ٹھاک کا مطلب اسے ایسی شکل صورت میں ڈھالنا ہے کہ جس میں کوئی تفاوت، کجی، شگاف اور خلل باقی نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–45
9: عرب کے کافر لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا جو انکار کرتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی مردے کے زندہ ہونے کو بہت مشکل سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کائنات کی دوسری چیزوں، مثلاً آسمان، کے مقابلے میں انسان کو پیدا کرنا زیادہ آسان ہے، اگر تم مانتے ہو کہ آسمان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟
Read the full tafseer →رفع ................ فسوھا (28:79) ” اس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھر اس کا توازن قائم کیا “۔ سمک بلندی اور قدوقامت کو کہتے ہیں۔ آسمان بلند بھی ہے اور باہم جڑا ہوا بھی ہے اور اس کے اجزاء ایک دوسرے سے پیوست ہیں ۔ اسی کو فسوھا (28:79) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آسمانوں کے نظام پر ایک سرسری نظر ڈالنے اور ایک معمولی علم رکھنے والے کو بھی یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ آسمانوں کے نظام کے اندر مکمل ہم آہنگی ہے۔ ان عظیم اجسام کو جو چیز باہم جوڑ کر رکھ رہی ہے اور ان کی حرکات واثرات کے درمیان جو چیزتنظیم پیدا کرتی ہے۔ اس کا اگر تفصیلی مطالعہ کیا جائے ، تو ان الفاظ کے معانی بہت گہرے اور وسیع ہوجاتے ہیں اور یہ نظام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
10 یعنی آسمان کو خیال کرو کس قدر اونچا، کتنا مضبوط، کیسا صاف ہموار، اور کس درجہ مرتب و منظم ہے، کس قدر زبردست انتظام اور باقاعدگی کے ساتھ اس نے سورج کی رفتار سے رات اور دن کا سلسلہ قائم کیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں اس کا سماں کچھ اور ہے اور دن کے اجالے میں ایک دوسری ہی شان نظر آتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
اب اگلی آیات میں بعث بعد الموت کے حوالے سے مشرکین کے طنزیہ تبصروں کا تفصیلی جواب دیا جارہا ہے :
Read the full tafseer →20 آسمانوں کی تخلیق اور انہیں ہموار کرنا :۔ سَمَکَ : سَمَکَ بمعنی بلند کرنا، موٹا اور دبیز کرنا اور بمعنی چھت یا چھت کی موٹائی نیز ہر اونچی اور موٹی چیز کا قدوقامت، اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آسمان محض حد نگاہ کا نام نہیں جیسا کہ موجودہ ہیئت دانوں کا خیال ہے۔ بلکہ آسمان ایک ٹھوس اور موٹی یا دبیز چیز ہے جس میں دروازے بھی ہیں اور آسمان کی اونچائی زمین کے ہر مقام سے یکساں ہے۔ کیونکہ اس کی نچلی اور اوپر کی دونوں سطحوں کو ہموار بنادیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
13۔ اس میں اوپر اشارہ آگیا کہ رات اور دن کا دارومدار آفتاب ہی کے طلوع و غروب پر ہے۔ اور آفتاب کا تعلق آسمان سے ہے۔ (آیت) ” فسوھا “۔ آسمان کا انتظام ایسا درست وکامل رکھا کہ اس کے نظام میں کہیں کوئی رخنہ نہ مل سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ترجمہ : اے بعث کے منکرو ! کیا تمہاری تخلیق زیادہ دشوار ہے یا آسمان کی ؟ (اانتم) دونوں ہمزوں کی تحقیق اور ثانی کو الف سے بدل کر اور ثانی کی تسہیل کے ساتھ اور مسہلہ اور دوسرے کے درمیان الف داخل کر کے اور ترک ادخال کے ساتھ، اللہ نے اس کو بنایا یہ آسمان کی تخلیق کی کیفیت کا بیان ہے، اس کو بلند وبالا بنایا یہ کیفیت بناء کا بیان ہے یعنی اس کی بلندی کو اونچا کیا، کہا گیا ہے کہ رفع سمکھا سے مراد رفع سقفھا ہے، یعنی اس کی چھت خوب اونچی اٹھائی، پھر اس کو ٹھیک ٹھاک کیا (یعنی) اس کو بلا نقص کے سپاٹ بنایا، اور اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کا دن نکالا یعنی اس کے آفتاب کا نور ظاہر کیا، اور لیل کی اضافت…
Read the full tafseer →رفع سمکھا . السمک ‘ بلندی۔ یعنی اللہ نے زمین سے آسمان کی بلندی کی ایک مقدار مقرر کی یا وہ بلندی جو آسمان کے نیچے اور زمین سے فوق ہے ‘ اس کو بنایا۔ فسواھا . پھر اس کو ہموار ‘ بلا شگاف بنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
(27۔ 33) اے مکہ والو ! بھلا تمہار دوسری دفعہ پیدا کرنا زیادہ سخت ہے یا آسمان کا بنانا، اللہ نے اس کی چھت کو بلند کیا۔ اور زمین پر درست کیا اور اس کی رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور اس کے دن اور اس کے سورج کو روشن بنایا اور اس کے ساتھ زمین کو پانی پر بچھایا، یا یہ کہ اس کے دو ہزار سال بعد بچھایا اور زمین سے اس کا جاری اور غیر جاری پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑوں کو اس کی میخیں بنایا، اور یہ پانی اور گھاس تمہارے اور تمہارے مویشیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ء انتم اشد خلقاً …: شرع سورت میں قیامت حق ہونے کی دلیل کے طور پر فرشتوں کا اور ان چند امور کا ذکر فرمایا جو وہ سر انجام دیتے ہیں، یعنی ان فرشتوں کے رب کے لئے تمہیں دوبارہ زندہ کرنا کون سا مشکل کام ہے ؟ یہاں سے پھر قیامت کے دلائل کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ چناچہ آیت (27) سے (33) تک اللہ تعالیٰ نے اپنی کئی عظیم الشان مخلوقات کا ذکر فرمایا کہ اتنی قدرتوں والے پروردگار کے لئے تمہیں دوبارہ زندہ کرنے میں کیا دشواری ہوسکتی ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ء انتم اشد خلقا۔۔۔ تا۔۔۔ ولانعامکم۔ ء انتم اشد خلقا ام السمائ۔ اس سے مراد اہل مکہ ہیں کیا تمہارے اندازے کے مطابق تمہاری موت کے بعد تمہیں پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان کو پیدا کرنا مشکل ہے پس جو آسمان پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لخلق السماوات والارض اکبر من خلق الناس۔ غافر 57) آسمانوں اور زمین کی تخلیق لوگوں کی تخلیق سے بڑھ کر ہے، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، اولیس الذی خلق السماوات والارض بقادر علی ان یخلق مثلھم۔ یاسین 81) کیا وہ ذات پاک جو آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمانے والی ہے وہ اس بات پر قادر نہیں کہ وہ ان کی مثل کو پیدا کردے، اس…
Read the full tafseer →1۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت رفع سمکہا اس کی چھت بلند کی یعنی اس کو بنایا۔ آیت واغطش لیلہا اور اس کی رات اندھیری کردی۔ یعنی اس کی رات خوب تاریک کردیا۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت رفع سمکھا یعنی اس کی عمارت کو بلند کیا بغیر ستور کے آیت واغطش لیلہا یعنی اس کی رات کو تاریک کردیا۔ آیت واخرج ضحہا اور اس کے دن کو ظاہر کیا۔ یعنی اس کو ظہر کیا آیت والارض بعد ذلک دحہا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی اس کو پھیلا دیا۔ آیت اخرج منہا ماء ہا ومرعاہا۔ والجبال ارساہا۔ متاعا لکم ولانعامکم۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح)…
Read the full tafseer →[رَفَعَ سَمْكَهَا : اور اس نے بلند کیا اس کی اٹھان کو ][ فَسَوّٰىهَا : پھر اس نے ہموار کیا اس کو ] س م ک [سَمْکاً : (ن) بلند کرنا۔ اونچا اٹھانا۔] [ سَمْکٌ اسم ذات ہے۔ چھت۔ ہر اونچی چیز کا قدوقامت۔ ابھار۔ زیر مطالعہ آیت۔ 28 ۔] (آیت۔ 28 ۔ 29) سَمْکَھَا۔ سَوّٰچھَا۔ لَیْلَھَا۔ ضُحٰچھَا۔ ان سب میں بھی ھَا کی ضمیریں اَلسَّمَائُ کے لیے ہیں۔ نوٹ۔ 2: ان آیات میں (یعنی آیات۔ 27 تا 33 میں) قیامت اور حیات بعدالموت کے لیے دو حیثیتوں سے استدلال کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ اس خدا کی قدرت سے حیات بعدالموت کا برپا کرنا ہرگز بعید نہیں ہے جس نے یہ وسیع اور عظیم کائنات اس حیرت انگریز توازن کے ساتھ اور یہ زمین اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
﴿رَفَعَ سَمْكَهَا ﴾ (اسی کی چھت کو بلند فرمایا) ﴿ فَسَوّٰىهَاۙ0028﴾ (سو اسے بالکل درست بنایا) ﴿ وَ اَغْطَشَ لَيْلَهَا ﴾ (اور اس کی رات کو تاریک بنایا) ﴿ وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪0029﴾ (اور اس کے دن کو ظاہر فرمایا) رات اور دن کے وجود اور ظہور کا ظاہری سبب چونکہ آفتاب کا طلوع و غروب ہے اور وہ بلندی پر ہے اس لیے لیلھا وضحھا کی اضافت السماء کی ضمیر کی طرف کی گئی۔ ﴿ وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ0030 ﴾ (اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
اعلان خداوندی بقدرت کاملہ وعاجزی و پستی کائنات پیش عظمت الہی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء ........ الی ........... الا عشیۃ اوضحہا “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں خداوندعالم نے اپنی شان حاکمیت عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہوئے قیامت اور قیامت کے احوال بیان فرمائے تھے، اور یہ کہ کائنات کا یہ سارا نظام دم کے دم میں درہم برہم ہوجائے گا، زمین و آسمان اور پہاڑ چاند سورج اور ستارے غرض سب ہی ختم کردیئے جائیں گے اور دلوں کا اضطراب وبے چینی کا عالم ناقابل تصور ہوگا تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کاملہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اور یہ کہ کائنات کی کوئی طاقت اور قوت خداوند عالم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
11:۔ ” ءانتم اشد “ یہ دعوائے سورت یعنی حشر و نشر پر عقلی دلیل ہے خطاب منکرین اہل مکہ سے ہے ” سمک “ کے معنی اونچائی اور بلندی کے ہیں۔ قیامت کے دن مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے کو ناممکن بتانے والو یہ تو بتاؤ کہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا زمین و آسمان اور ساری کائنات کو پیدا کرنا ؟ اللہ نے آسمان کو پیدا فرمایا اس کو ایک خاص مقدار میں زمین سے بلند کیا اور اس کو برابر اور ہموار بنایا کہ اس میں کہیں کوئی شگاف اور نشیب و فراز نہیں۔ ” واغطش لیلہا “ اور اس کی رات کو ڈھانپ دیا یعنی رات کو اندھیرے میں چھپا دیا اور اس کے دن کو روشن اور ظاہر فرما دیا۔ ” لیلہا “ اور ” ضحہا “ کی ” السماء “ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
(بعث بعد الموت ) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا ہے ۔ اور منکر ین قیامت کا رد فرمایا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہء انا لمردودون فی الحافرۃ کیا ہم الٹے پاؤں پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے یعنی کیا ہمیں دنیا والی ویسی ہی زندگی مل جائے گی ۔ جو جسم اور روح سے مرکب ہوتی ہے ۔ حالانکہ ہماری یہ حالت ہوچکی ہوگی ” کنا عظاما نخرۃ کہ بوسیدہ ہڈیاں ہوچکے ہونگے۔ تو ان حالات میں دوبارہ لوٹنا تو بڑا خسارے کا سود اہوگا ۔ حالا ن کہ مشرکین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انسانوں اور باقی مخلوق سب کو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے ۔ جب انہیں انسان کی پہلی دفعہ پیدائش کا انکار نہیں ہے۔ آسمان کے پیدا کرنے کا بھی…
Read the full tafseer →رَفَعَ سَمْكَہَا فَسَوّٰىہَا 28 ۙ رفع الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] ( رع ) الرفع کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] اور ہم نے طو ر پہاڑ کو تمہارے اوپر لاکر کھڑا کیا ۔ اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] وہ قادر مطلق ہے جس نے آسمان کو بدوں کسی سہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
ترکیب ¦ انتم مبتداء اشد خبرہ خلقا تمیز منہ السماء مبتداء والخبر محذوف ای اشدو التردید بین الجملتین بالھمزۃ وام بناھا الجملۃ مستانفۃ وقیل حال من المحذوف قال الزجاج والفراء ولکسائی تم الکلام عند قولہ بناھا لاتہ من صلۃ السماء والتقدیر ام السماء التی بناھا بحذف التی رفع سمکہا مستانف لبیان البناء۔ او صفۃ سمک بر داشتن وسقف خانہ (وعع اض 2) یقال سمک اللہ السماء سمکا سموک بلند شدن یقال سنام سامک ای عال مرتفع۔ سمک بالتحریک ماہی۔ سماک سموک ج۔ از صراح۔ اغطش اغطاش تاریک کردن شب راو تاریک شدن متعدی و لازم۔ ص۔ والارض منصوب بفعل محذوف ای وحی الارض وکذا الجبال ای وارسی الجبال قریٰ بالرفع علی الابتداء متاعا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ئَ اَنْـتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآئُ بَنٰـھَا۔ رَفَعَ سَمْکَھَا فَسَوّٰھَا۔ وَاَغْطَشَ لَیْلَھَا وَاَخْرَجَ ضُحٰھَا۔ (النازعات : 27 ۃ ا 29) (کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی، اللہ نے اس کو بنایا۔ اس کی چھت اونچی اٹھائی، پھر اس کو ٹھیک ٹھاک کیا۔ اور اس کی رات ڈھانکی اور اس کا دن نکالا۔ ) مظاہرقدرت سے قیامت پر استدلال پیشِ نظر تین آیتیں اور اس کے بعد چار آیتیں دو باتوں پر دلالت کر رہی ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ کی قدرت پر اور دوسرے اس کے فیضانِ ربوبیت پر۔ قدرت کا اظہار اس طرح فرمایا گیا ہے کہ سب سے پہلے آسمان کی تخلیق کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ نیلگوں چھت اور گنبدبے در جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکرین کی سب سے بڑی دلیل کا جواب۔ قیامت کا انکار کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل یہ رہی ہے کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتا ہے تو پھر اسے کس طرح زندہ کیا جاسکتا ہے ان کے نزدیک یہ بات ناممکنات میں سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی سوچ رکھنے والے اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں پر توجہ نہیں دیتے ؟ ان کی سوچ صرف اپنی حد تک رہتی ہے اور وہ دنیا کے اسباب پر ہی نظر رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ساری دنیا کے انسان مل کر بھی چھوٹی سے چھوٹی جاندار چیز پیدا نہیں کرسکتے اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں پر توجہ دیں تو انہیں یقین آجائے گا کہ واقعی اللہ تعالیٰ کا فرمان برحق ہے کہ…
Read the full tafseer →قدرت باری تعالیٰ : 28 : رَفَعَ سَمْکَھَا فَسَوّٰھَا (اس کی چھت کو بلند کیا اور اس کو درست بنایا) اس کی چھت کو اونچا بنایا۔ ایک قول یہ ہے بلندی کی سمت کو پانچ سو سال کے سفر کے برابر اونچائی عنایت فرمائی۔ پھر اس کو درست کیا۔ اس کو ہموار بلاشقوق وفطور کے بنایا۔
Read the full tafseer →27 ۔ پھر منکرین بعث کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” ء انتم اشد خلقا ام السمائ “ یعنی کیا تمہیں موت کے بعد پیدا کرنا تمہارے نزدیک زیادہ سخت ہے اور تمہاری تقدیر میں یا آسمان ؟ اور وہ دونوں اللہ کی قدرت میں ایک ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے ” لخلق السموات والارض اکبر من خلق الناس “ ہے۔ پھر بیان کیا کہ کس نے آسمان کو پیدا کیا تو فرمایا ” بناھا “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
27۔ 33۔ سورة عم یتساء لون میں جس طرح حشر کے منکر لوگوں کے قائل کرنے کو ان کی آنکھوں کے سامنے کی چند چیزوں کا ذکر فرمایا تھا حشر کے ذکر کے بعد یہاں بھی چند عجائبات کا ذکر اسی غرض سے فرمایا ہے کہ ان عجائبات کو آنکھوں سے دیکھنے کے بعد کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس قدرت سے انکار کرے کہ ایک دفعہ ان سب عجائبات کو پیدا کرکے دوسری دفعہ ان میں سے جو کچھ وہ چاہے اس کا پیدا کرنا اس کی قدرت سے کچھ بعید ہے۔ ان آیتوں کو سورة حم السجدہ کی آیتوں سے ملا کر پڑھنے سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ پہلے زمین کو بنایا پھر آسمان کو پیدا کیا پھر زمین پھیلائی اور پر آسمان کو یکساں اور برابر کیا۔ سمک کے…
Read the full tafseer →(رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا) یعنی اس نے اس کی چھت اور صورت کو بلند کیا پھر اسے برابر کردیا۔ یعنی اس کو محکم اور مضبوط بنا کر جو عقل کو حیران اور خرد کو گم کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →(22) تخلیق آسمان میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور آسمان کی اس عظیم الشان اور بےمثال چھت میں دعوت غور و فکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی نے اس کو بنایا اور اوپر اٹھایا اس کی چھت کو "۔ اور نہایت عمدگی سے اٹھایا، اور یہ سب کچھ اس قادر مطلق نے بلا شرکت غیرے انجام دیا کہ اس سب کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف تنہا وہی وحدہ لا شریک ہے۔ سو جب اس قادر مطلق نے اس عظیم الشان چھت کو بنا لیا اور اس کو اس قدر پر حکمت طریقے سے بلند کردیا اور تمہارے سروں پر اس کو ایسے بےمثال طریقے سے تن دیا، تو آخر اس کے لئے اس انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
جس نے کائنات بنائی وہ تمہیں بھی بنا سکتا ہے تشریح : یہاں ایک تو انسان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا خود اس کو بھی اللہ نے ہی بنایا ہے اور اس کے رہن سہن کے لیے پوری کائنات بنائی ہے۔ جو یقینا انسان کی پیدائش سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام ہے اگر وہ اللہ کی قدرت حکمت اور بڑائی پر غور کرے تو وہ اللہ کی دی گئی اس خبر کو ہرگز معمولی یا جھوٹ نہ سمجھے کہ '' قیامت آنے والی ہے۔ قیامت کے بعد حساب کا دن ضرور آئے گا ''۔ ان آیات میں اس یقین دہانی کے علاوہ فطرت اور کائنات کے مضبوط ' معقول اور بہترین انتظامات کا ذکر بھی بڑی خوبصورتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
آیات 27 تا 46۔ اسرار ومعارف۔ اگر انہیں دوبارہ زندہ ہونے کا اعتبار نہیں آتا اور اسے مشکل جانتے ہیں تو موجودہ حیات پہ غورکریں کہ بندہ کو دوبارہ بنانامشکل ہے یا آسمانوں کی تخلیق جن کو ان کے بیشمار امور اور مخلوق کے ساتھ بنادیا اور ایسا بنایا کہ کہیں کوئی خامی باقی نہ رہی بلکہ وہ شب وروز کی آمدورفت اور سورج کے طلوع و غروب کے باعث پورے نظام حیات کو چلانے کا سبب بن گیا اس کے بعد زمین کو بچھادیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ برابر بچھی ہوئی ہے اور اس میں زندگی کے اسباب نہریں دریا اور سبزہ پیدا کردیے ہیں اور اس بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیے جو بیشمار نعمتوں کا سبب ہیں اور جن سب امور کے نتیجے میں تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
ف 15 رات اور دن کو آسمان کی طرف منسوب کیا گیا کیونکہ دونوں کا تعلق سورج کے طلوع و غروب سے ہے۔
Read the full tafseer →(79:28) رفع سمکھا فسوھا : سمکھا مضاف مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب السماء کے لئے ہے۔عاطفہ ہے تراخی فی الوقت کے لئے ہے پھر ، اس کے بعد۔ السمک چھت کو کہتے ہیں اور سم کہ (باب نصر) کے معنی بلند کرنے کے ہیں۔ سوی ماضی واحد مذکر غائب تسویۃ (تفعیل) مصدر سے بمعنی اس نے پورا پورا بنایا۔ اس نے برابر کیا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اس نے اس کی (آسمان کی) چھت کو بلند کیا۔ پھر اس (آسمان) کو درست کیا۔ یعنی اس طرح راست کیا کہ اس میں کوئی شکن کوئی جھول ۔ کوئی شگاف نہ رہنے دیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →(ف 2) یعنی آسمان کو خیال کرو کس قدر اونچا کتنا مضبوط کیسا صاف ہموار، اور کس درجہ مرتب ومنظم ہے کس قدر زبردست انتظام اور باقاعدگی کے ساتھ اس کے سورج کی رفتار سے رات دن کا سلسلہ قائم کیا ہے رات کی اندھیری میں اس کا سماں کچھ اور ہے اور دن کے اجالے مین ایک دوسری ہی شان نظر آتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
[9] یہ فرعون کی اس تدبیر کی طرف اشارہ ہے جو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لئے سب سے آخر میں اختیار کی تھی۔ سورة زخرف میں مذکور ہے کہ جب مصر پر کوئی آفت آتی تو فرعون موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کرتا کہ وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ یہ بلا ٹل جائے۔ اگر ان کی دعا سے یہ بلا ٹل گئی تو وہ ان کی بات مان لے گا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے جب وہ بلا ٹل جاتی تو وہ اپنے وعدے سے پھرجاتا۔ اس کی باربار کی اس روش کا یہ اثر ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی سچائی کا اثر مصر کے لوگوں میں بڑھنے لگا۔ اس سے گھبرا کر فرعون نے قوم کے تمام بااثر افراد کو جمع کیا اور ان کے اندر اپنا اثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
سنۃ اللہ 1: ان آیتوں میں بطور تذکیر بسنتہ اللہ کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ارشاد فرمایا ہے کہ ان کو طویٰ کی مقدس وادی میں اللہ تعالیٰ نے مخاطب کیا اور کہا کہ ارض مصر میں فرعون باغی و سرکش ہوگیا ہے ، اس کی سرکوبی کے لئے روانہ ہوجاؤ۔ اور اس سے اولاً یہ کہو کہ کیا تم پاکبازی کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہو اور تمہاری یہ خواہش ہے کہ میں تم کو راہ راست پر گامزن کردوں ۔ اگر مان لے تو فبہا ورنہ بنی اسرائیل کو اس کے چنگل سے چھڑا لاؤ اور اس کی قوت وتدبیر کا مقابلہ کرو ۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے معجزات وخوارق پیش کئے اور کہا کہ میں اللہ کا سچا رسول (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →(28) اس کی بلندی کو اونچا کیا اور اس کو درست کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 6۔ ظاہر ہے کہ تمہارے دوسری بار پیدا کرنے سے آسمان کا پیدا کرنا زیادہ سخت ہے، پھر جب اس کو پیدا کردیا تو تمہارا مکرر پیدا کردینا کیا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے ان کی بلندی کو اونچا کیا اور پھر ان کو بےعیب بنایا ۔ 28 (سمکھا) کا اصل س م ک ہے اور اس مادہ کا صرف یہ ایک ہی لفظ اس جگہ استعمال ہوا ہے۔ اس مادہ سے کوئی لفظ یا یہ لفظ کسی دوسری جگہ قرآن کریم میں نہیں آیا۔ اس کا ابھار ، اس کی چھت ، اس کی بلندی ، سمک مضاف ھا ضمیر واحد مئونث غائب مضاف الیہ سمک اصل میں سمک یمسک کا مصدر ہے۔ اس کے معنی بلند کرنے کے ہیں۔ چھت بھی چونکہ بلند ہوتی ہے اس لئے اس کو بھی سمک کہتے ہیں۔ (سوھا) اکو برابر کیا۔ اس کو پورا پورا بنایا۔ اس میں ھا ضمیر واحد مئونث غائب ہے۔ اس کی مزید وضاحت سورة الشمس میں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی تخلیق میں اپنی قدرت کے کرشموں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–36
فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ (So, Allah seized him for the deterrent punishment in the Hereafter and the present world....79:25). The word nakal means an 'exemplary punishment' or 'an extremely severe punishment given to an offender to deter others against committing a similar offence or sin'. The phrase 'punishment of the 'akhirah' refers to the punishment of the Hereafter that will be meted out to Fir'aun (the Pharaoh). The phrase 'punishment of the 'al a' refers to the punishment meted out to Fir'aun (the Pharaoh) and his army in this world whereby they were…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
15 The night and the day have been attributed to the heaven, for the night falls when the sun of the heavens sets and the day dawns when it rises. The word "cover" has been used for the night in the sense that after the sun has set the darkness of the night so spreads over the earth as though it has covered it from above by a curtain.
Read the full tafseer →