An-Naazi'aat 79:27

An-Naazi'aat · from ayah 27

79:27

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ ؕ— بَنٰىهَا ۟ۙءَاَنۡتُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ‌ ؕ بَنٰٮهَا

بھلا تمہارا بنانا آسان ہے یا آسمان کا؟ اسی نے اس کو بنایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Are you a more difficult creation or is the heaven? Allah constructed it.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:27

کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟ اللہ نے اُس کو بنایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا تمہارا بنانا آسان ہے یا آسمان کا؟ اسی نے اس کو بنایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تمہارا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا آسمان کا؟ اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(انسانو) کیا تمہیں پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کو ؟ اس کو اللہ نے بنایا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تمہاری سمجھ کے مطابق تمہارا بنانا مشکل یا آسمان کا اللہ نے اسے بنایا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا (پوری) سماوی کائنات کا، جسے اس نے بنایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان ؟ اس نے اسے بنایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا تمہیں پیدا کرنا مشکل کام ہے یا آسمان کو ؟ جسے اس نے بنایا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تمہارا بنانا زیادہ دشوار ہے یا آسمان کا ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ سخت (اور مشکل) ہے یا آسمان کا اس کو اس (قادر مطلق) نے بنایا (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے)

— مولانا اسحاق مدنی

بھلا تمہارا (دوبارہ) پیدا کرنا زیادہ سخت ہے یا آسمان کا ؟۔ اسی نے اس کو بنایا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے لوگو ! ذرا سوچو !) کیا تمہاری تخلیق زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی ؟ اس نے اسے تخلیق کیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا تمہارا بنانا مشکل ہے یا آسمان کا ؟ اسی نے اس کو بنایا

— محترمہ رفعت اعجاز

Is it harder to create you or the heaven? But Allah built it,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is your creation more difficult or that of the sky? He has built it,

— Muhammad Taqi Usmani

Is your creation more difficult or that of the sky? He has built it,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Are you more difficult to create or is the heaven that He constructed

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Are ye the harder to create, or is the heaven that He built?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Are you a more difficult creation or is the heaven? Allah constructed it.

— Saheeh International

(People), is your creation harder for God than that of the heavens, which He created, raised and established

— Muhammad Sarwar

Are you the harder to create or the heaven? He made it.

— Muhammad Habib Shakir

Are ye harder to create or the heaven which He hath builded?

— Abdul Majid Daryabadi

What! Are ye the more difficult to create or the heaven (above)? (Allah) hath constructed it:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 79:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–33

موت وحیات کی سرگزشت جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀) 40۔ غافر :57) یعنی زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے اور جگہ ہے آیت (اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ ڲ بَلٰى ۤ وَهُوَ الْخَــلّٰقُ الْعَلِـيْمُ 81؀) 36۔ يس :81) کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کردیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النّٰزِعٰت 13 اب قیامت اور حیات بعد الموت کے ممکن اور مقضائے حکمت ہونے کے دلائل بیان کیے جا رہے ہیں۔ سورة النّٰزِعٰت 14 تخلیق سے مراد انسانوں کی دوبارہ تخلیق ہے اور آسمان سے مراد وہ پورا عالم بالا ہے جس میں بیشمار ستارے اور سیارے، بےحد و حساب شمسی نظام اور ان گنت کہکشاں پائے جاتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم جو موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو کوئی بڑی ہی امر محال سمجھتے ہو، اور بار بار کہتے ہو کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ہماری ہڈیاں تک بوسیدہ ہوچکی ہوں گی اس حالت میں ہمارے پراگندہ اجزائے جسم پھر سے جمع کردیے جائیں اور ان میں جان ڈال دی جائے، کبھی اس بات پر بھی غور کرتے ہو کہ اس عظیم کائنات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–36

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى نکال ایسے عذاب کو کہا جاتا ہے جس کو دیکھ کر دوسروں کو عبرت ہو اور سب سہم جائیں۔ نکال آخرت فرعون کے لئے آخرت کا عذاب ہے، اور نکال اولیٰ سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اس کی پوری قوم کے غرق دریا ہوجانے سے ان کو پہنچا۔ اگے پھر منکرین حشر ونشر کے اس استبعاد اور شبہ کا ازالہ ہے کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد کیسے دوبارہ زندہ کئے جاویں گے۔ اس میں حق تعالیٰ نے آسمان و زمین اور انکے اندر پیدا کی ہوئی عظیم مخلوقات کا ذکر کرکے انسان غافل کو اس پر متنبہ کیا ہے کہ جس ذات نے ایسی عظیم الشان مخلوقات کو ابتدائی وجود بغیر کسی مادہ و آلہ کے عظا فرمایا وہ اگر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آسمان و زمین کی نشانیوں سے استدلال: اب آگے کی سات آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور ربوبیت کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو آسمان و زمین کے ہر گوشے میں پھیلی ہوئی ہیں اور اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ اس دنیا کا خالق ایسی عظیم قدرت والا ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا کام بھی اس کے لیے مشکل نہیں ہے۔ جب وہ آسمان جیسی عظیم چیز کو پیدا کر سکتا ہے تو لوگوں کے مرکھپ جانے کے بعد ان کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا اس کے لیے کیا دشوار ہے؟ اسی طرح آسمان سے لے کر زمین تک اپنی ربوبیت کا جو اہتمام اس نے پھیلا رکھا ہے وہ اس بات کا شاہد ہے کہ وہ لوگوں کو غیر مسؤل نہیں چھوڑے گا بلکہ ایک دن لازماً سب کو اکٹھا کرے گا اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

27۔ 1 یہ کفار مکہ کو خطاب ہے اور مقصود تنبیہ ہے کہ جو اللہ اتنے بڑے آسمانوں اور ان کے عجائبات کو پیدا کرسکتا ہے، اس کے لئے تمہارا دوبارہ پیدا کرنا آسمان بنانے سے زیادہ مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–45

9: عرب کے کافر لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا جو انکار کرتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی مردے کے زندہ ہونے کو بہت مشکل سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کائنات کی دوسری چیزوں، مثلاً آسمان، کے مقابلے میں انسان کو پیدا کرنا زیادہ آسان ہے، اگر تم مانتے ہو کہ آسمان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ ایسا استفہام ہے جس کا جواب ایک ہی ہے اور ناقابل انکار اور ناقابل بحث و مباحثہ ہے۔ ءانتم ................ السمائ (27:79) ” تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی “۔ یقینا آسمانوں کی تخلیق بہت بڑا اور مشکل کام ہے۔ اس میں کوئی کلام نہیں ہے۔ نہ بحث کی گنجائش ہے۔ لہٰذا تمہیں جو اللہ نے مختصر قوت دی ہے ، اس پر تمہیں اس قدر ناز کیوں ہے حالانکہ آسمان اور کائنات کی دوسری قوتیں تم سے قوی تر ہیں۔ یہ تو ہے اس سوال کا ایک پہلو ، لیکن اس کی ایک جہت اور بھی ہے ، وہ یہ کہ تم اپنے دوبارہ اٹھائے جانے کو ایک مشکل کام تصور کرتے ہو ، جبکہ آسمانوں کی تخلیق تمہاری تخلیق سے مشکل ہے ، حالانکہ حشر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی تمہارا قید کرنا (اور وہ بھی ایک مرتبہ پیدا کر چکنے کے بعد) آسمان و زمین اور پہاڑوں کے پیدا کرنے سے زیادہ مشکل تو نہیں۔ جب اتنی بڑی بڑی چیزوں کا خالق اس کو مانتے ہو، پھر اپنی دوبارہ پیدائش میں کیوں تردد ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 27–29

اب اگلی آیات میں بعث بعد الموت کے حوالے سے مشرکین کے طنزیہ تبصروں کا تفصیلی جواب دیا جارہا ہے :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 مختصر طور پر قصہ فرعون بیان کرنے کے بعد اب پھر اصل مضمون یعنی عقیدہ آخرت کی طرف رجوع کرتے ہوئے کافروں سے سوال کیا جارہا ہے کہ کیا اس کائنات کو وجود میں لانا زیادہ مشکل کام ہے یا تمہیں پہلی بار یا دوسری بار پیدا کرنا ؟ یہاں لفظ سماء استعمال ہوا ہے جس سے مراد آسمان بھی ہوسکتا ہے اور تمام عالم بالا بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12۔ (خود اپنے ہی معیار سے جواب دو ) منکرین پر حجت قائم کی ہے کہ آسمان کا پیدا کرنے والا تو قادر مطلق کو تم خود تسلیم کرتے ہو، یہ بھی تمہیں تسلیم ہے کہ آسمان کی تخلیق انسان کی تخلیق سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے، پھر جب آسمان اس نے بنالیا، تو انسان کو دوبارہ پیدا کرتے اسے کیا دیر لگ سکتی ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–28

ترجمہ : اے بعث کے منکرو ! کیا تمہاری تخلیق زیادہ دشوار ہے یا آسمان کی ؟ (اانتم) دونوں ہمزوں کی تحقیق اور ثانی کو الف سے بدل کر اور ثانی کی تسہیل کے ساتھ اور مسہلہ اور دوسرے کے درمیان الف داخل کر کے اور ترک ادخال کے ساتھ، اللہ نے اس کو بنایا یہ آسمان کی تخلیق کی کیفیت کا بیان ہے، اس کو بلند وبالا بنایا یہ کیفیت بناء کا بیان ہے یعنی اس کی بلندی کو اونچا کیا، کہا گیا ہے کہ رفع سمکھا سے مراد رفع سقفھا ہے، یعنی اس کی چھت خوب اونچی اٹھائی، پھر اس کو ٹھیک ٹھاک کیا (یعنی) اس کو بلا نقص کے سپاٹ بنایا، اور اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کا دن نکالا یعنی اس کے آفتاب کا نور ظاہر کیا، اور لیل کی اضافت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ء انتم اشد خلقا ام السماء . اَلسَّمَآءُکی خبر محذوف ہے یعنی تخلیق کے اعتبار سے تم زیادہ سخت ہو یا آسمان زیادہ سخت ہے۔ یہ استفہام تقریری ہے۔ یعنی آسمان کی تخلیق زیادہ سخت ہے ‘ آسمان سے مراد ہے آسمان مع ان تمام چیزوں کے جو اس کے اندر ہیں کیونکہ مقام تفصیل میں زمین اور پہاڑوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ آسمان اور اس کی موجودات کی تخلیق تمہاری تخلیق سے زیادہ سخت ہے۔ تم کائنات سماوی کا جزء ہو اور جزء کی تخلیق کل کی تخلیق سے بداہتہً آسان ہوتی ہے ‘ پھر دوبارہ تخلیق تو خلق اوّل سے سہل ہی ہے۔ بنھا . اللہ نے آسمان کو بنایا۔ یہ جملہ السمآء کی صفت ہے (لیکن جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 27–33

(27۔ 33) اے مکہ والو ! بھلا تمہار دوسری دفعہ پیدا کرنا زیادہ سخت ہے یا آسمان کا بنانا، اللہ نے اس کی چھت کو بلند کیا۔ اور زمین پر درست کیا اور اس کی رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور اس کے دن اور اس کے سورج کو روشن بنایا اور اس کے ساتھ زمین کو پانی پر بچھایا، یا یہ کہ اس کے دو ہزار سال بعد بچھایا اور زمین سے اس کا جاری اور غیر جاری پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑوں کو اس کی میخیں بنایا، اور یہ پانی اور گھاس تمہارے اور تمہارے مویشیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 27–29

ء انتم اشد خلقاً …: شرع سورت میں قیامت حق ہونے کی دلیل کے طور پر فرشتوں کا اور ان چند امور کا ذکر فرمایا جو وہ سر انجام دیتے ہیں، یعنی ان فرشتوں کے رب کے لئے تمہیں دوبارہ زندہ کرنا کون سا مشکل کام ہے ؟ یہاں سے پھر قیامت کے دلائل کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ چناچہ آیت (27) سے (33) تک اللہ تعالیٰ نے اپنی کئی عظیم الشان مخلوقات کا ذکر فرمایا کہ اتنی قدرتوں والے پروردگار کے لئے تمہیں دوبارہ زندہ کرنے میں کیا دشواری ہوسکتی ہے ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 27–29

ء انتم اشد خلقا۔۔۔ تا۔۔۔ ولانعامکم۔ ء انتم اشد خلقا ام السمائ۔ اس سے مراد اہل مکہ ہیں کیا تمہارے اندازے کے مطابق تمہاری موت کے بعد تمہیں پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان کو پیدا کرنا مشکل ہے پس جو آسمان پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لخلق السماوات والارض اکبر من خلق الناس۔ غافر 57) آسمانوں اور زمین کی تخلیق لوگوں کی تخلیق سے بڑھ کر ہے، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، اولیس الذی خلق السماوات والارض بقادر علی ان یخلق مثلھم۔ یاسین 81) کیا وہ ذات پاک جو آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمانے والی ہے وہ اس بات پر قادر نہیں کہ وہ ان کی مثل کو پیدا کردے، اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–27

1۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذہب الی فرعون انہ طغی۔ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے۔ یعنی نافرمانی کی۔ آیت فاراہ الاٰیۃ الکبری۔ پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔ یعنی اپنی لاٹھی اور اپنا ہاتھ آیت ثم ادبر یسعی۔ پھر کوشش کرتا ہوا واپس لوٹا یعنی پھر وہ فساد کے اعمال کرنے لگا۔ آیت فاخذہ اللہ نکال الاٰخرۃ والاولیٰ پھر اللہ نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لی ادنیا کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارے لیے اپنے علاوہ کسی اور کو معبود نہیں جانتا۔ اور آخرت کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارا بڑا رب ہوں۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ءَانتم اَشَدُّ : کیا تم لوگ زیادہ شدید ہو ][ خَلْقًا : بلحاظ تخلیق کرنے کے ][ اَمِ السَّمَاۗءُ ۭ: یا یہ آسمان ][ بَنٰىهَا : اسی نے بنایا جس کو ] ترکیب : (آیت۔ 27) بَنٰچھَا میں فعل بَنٰی کی ضمیر مفعولی ھَا۔ اَلسَّمَائُ کے لیے ہے۔ نوٹ۔ 1: سورة البقرہ کی آیت۔ 29 ۔ اور حٰمٓ السجدہ کی آیات۔ 9 تا 12 ۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ سات آسمان زمین کی پیدائش کے بعد بنائے گئے۔ اور النّٰزعٰت کی آیت۔ 30 ۔ سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین آسمان کے بعد بچھائی گئی۔ اس کے جواب کئی طرح دئیے گئے ہیں۔ احقر کو ابوحیان کی تقریر پسند ہے یعنی ضروری نہیں کہ سابقہ آیات میں ثُمَّ اور زیر مطالعہ آیت میں بَعْدَ ذٰلِکَ ترافیٔ زمان (زمانے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جو لوگ قیامت کے منکر تھے ان سے خطاب کر کے فرمایا کہ تم اپنی دوبارہ تخلیق کو مشکل سمجھ رہے ہو یہ بتاؤ کہ تمہاری تخلیق زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی تخلیق، ذرا سی سمجھ والا آدمی بھی یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ بظاہر آسمان کی تخلیق زیادہ مشکل ہے (یعنی انسان سوچے تو یہ ہی سمجھ میں آئے گا حالانکہ قادر مطلق کے لیے ہر معمولی اور بڑی سے بڑی چیز پیدا کرنا مشکل نہیں) جب اللہ تعالیٰ نے آسمان جیسی چیز کو پیدا فرما دیا تو تمہارا پیدا کرنا کیا مشکل ہے ؟ اس کے بعد آسمان کی بلندی کا اور رات و دن کا تذکرہ فرمایا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–46

اعلان خداوندی بقدرت کاملہ وعاجزی و پستی کائنات پیش عظمت الہی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء ........ الی ........... الا عشیۃ اوضحہا “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں خداوندعالم نے اپنی شان حاکمیت عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہوئے قیامت اور قیامت کے احوال بیان فرمائے تھے، اور یہ کہ کائنات کا یہ سارا نظام دم کے دم میں درہم برہم ہوجائے گا، زمین و آسمان اور پہاڑ چاند سورج اور ستارے غرض سب ہی ختم کردیئے جائیں گے اور دلوں کا اضطراب وبے چینی کا عالم ناقابل تصور ہوگا تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کاملہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اور یہ کہ کائنات کی کوئی طاقت اور قوت خداوند عالم کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 27–29

11:۔ ” ءانتم اشد “ یہ دعوائے سورت یعنی حشر و نشر پر عقلی دلیل ہے خطاب منکرین اہل مکہ سے ہے ” سمک “ کے معنی اونچائی اور بلندی کے ہیں۔ قیامت کے دن مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے کو ناممکن بتانے والو یہ تو بتاؤ کہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا زمین و آسمان اور ساری کائنات کو پیدا کرنا ؟ اللہ نے آسمان کو پیدا فرمایا اس کو ایک خاص مقدار میں زمین سے بلند کیا اور اس کو برابر اور ہموار بنایا کہ اس میں کہیں کوئی شگاف اور نشیب و فراز نہیں۔ ” واغطش لیلہا “ اور اس کی رات کو ڈھانپ دیا یعنی رات کو اندھیرے میں چھپا دیا اور اس کے دن کو روشن اور ظاہر فرما دیا۔ ” لیلہا “ اور ” ضحہا “ کی ” السماء “ کی طرف…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–36

(بعث بعد الموت ) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا ہے ۔ اور منکر ین قیامت کا رد فرمایا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہء انا لمردودون فی الحافرۃ کیا ہم الٹے پاؤں پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے یعنی کیا ہمیں دنیا والی ویسی ہی زندگی مل جائے گی ۔ جو جسم اور روح سے مرکب ہوتی ہے ۔ حالانکہ ہماری یہ حالت ہوچکی ہوگی ” کنا عظاما نخرۃ کہ بوسیدہ ہڈیاں ہوچکے ہونگے۔ تو ان حالات میں دوبارہ لوٹنا تو بڑا خسارے کا سود اہوگا ۔ حالا ن کہ مشرکین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انسانوں اور باقی مخلوق سب کو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے ۔ جب انہیں انسان کی پہلی دفعہ پیدائش کا انکار نہیں ہے۔ آسمان کے پیدا کرنے کا بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ءَ اَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاۗءُ۝ 0 ۭ بَنٰىہَا۝ 27 ۪ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–33

ترکیب ¦ انتم مبتداء اشد خبرہ خلقا تمیز منہ السماء مبتداء والخبر محذوف ای اشدو التردید بین الجملتین بالھمزۃ وام بناھا الجملۃ مستانفۃ وقیل حال من المحذوف قال الزجاج والفراء ولکسائی تم الکلام عند قولہ بناھا لاتہ من صلۃ السماء والتقدیر ام السماء التی بناھا بحذف التی رفع سمکہا مستانف لبیان البناء۔ او صفۃ سمک بر داشتن وسقف خانہ (وعع اض 2) یقال سمک اللہ السماء سمکا سموک بلند شدن یقال سنام سامک ای عال مرتفع۔ سمک بالتحریک ماہی۔ سماک سموک ج۔ از صراح۔ اغطش اغطاش تاریک کردن شب راو تاریک شدن متعدی و لازم۔ ص۔ والارض منصوب بفعل محذوف ای وحی الارض وکذا الجبال ای وارسی الجبال قریٰ بالرفع علی الابتداء متاعا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–29

ئَ اَنْـتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآئُ بَنٰـھَا۔ رَفَعَ سَمْکَھَا فَسَوّٰھَا۔ وَاَغْطَشَ لَیْلَھَا وَاَخْرَجَ ضُحٰھَا۔ (النازعات : 27 ۃ ا 29) (کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی، اللہ نے اس کو بنایا۔ اس کی چھت اونچی اٹھائی، پھر اس کو ٹھیک ٹھاک کیا۔ اور اس کی رات ڈھانکی اور اس کا دن نکالا۔ ) مظاہرقدرت سے قیامت پر استدلال پیشِ نظر تین آیتیں اور اس کے بعد چار آیتیں دو باتوں پر دلالت کر رہی ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ کی قدرت پر اور دوسرے اس کے فیضانِ ربوبیت پر۔ قدرت کا اظہار اس طرح فرمایا گیا ہے کہ سب سے پہلے آسمان کی تخلیق کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ نیلگوں چھت اور گنبدبے در جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–33

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکرین کی سب سے بڑی دلیل کا جواب۔ قیامت کا انکار کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل یہ رہی ہے کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتا ہے تو پھر اسے کس طرح زندہ کیا جاسکتا ہے ان کے نزدیک یہ بات ناممکنات میں سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی سوچ رکھنے والے اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں پر توجہ نہیں دیتے ؟ ان کی سوچ صرف اپنی حد تک رہتی ہے اور وہ دنیا کے اسباب پر ہی نظر رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ساری دنیا کے انسان مل کر بھی چھوٹی سے چھوٹی جاندار چیز پیدا نہیں کرسکتے اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں پر توجہ دیں تو انہیں یقین آجائے گا کہ واقعی اللہ تعالیٰ کا فرمان برحق ہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

27 : ئَ اَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآ ئُ بَنٰھَا (کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ سخت ہے یا آسمان کا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بنایا) ئَ انتم کیا تم ای منکرین بعث اشدخلقا تمہارا پیدا کرنا مشکل ہے۔ نحو : ام السماءؔ یہ مبتداء ہے اس کی خبر اشد خلقا محذوف ہے۔ پھر تخلیق کی کچھ کیفیت ذکر فرمائی فرمایا اس کو اللہ تعالیٰ نے بنایا۔ پھر بناء کی وضاحت اس طرح فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

26 ۔” ان فی ذلک “ جو فرعون نے کیا جب جھٹلایا اور نافرمانی کی۔ ” لعبرۃ “ نصیحت۔ ” لمن یخشیٰ “ اللہ عزوجل سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–33

27۔ 33۔ سورة عم یتساء لون میں جس طرح حشر کے منکر لوگوں کے قائل کرنے کو ان کی آنکھوں کے سامنے کی چند چیزوں کا ذکر فرمایا تھا حشر کے ذکر کے بعد یہاں بھی چند عجائبات کا ذکر اسی غرض سے فرمایا ہے کہ ان عجائبات کو آنکھوں سے دیکھنے کے بعد کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس قدرت سے انکار کرے کہ ایک دفعہ ان سب عجائبات کو پیدا کرکے دوسری دفعہ ان میں سے جو کچھ وہ چاہے اس کا پیدا کرنا اس کی قدرت سے کچھ بعید ہے۔ ان آیتوں کو سورة حم السجدہ کی آیتوں سے ملا کر پڑھنے سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ پہلے زمین کو بنایا پھر آسمان کو پیدا کیا پھر زمین پھیلائی اور پر آسمان کو یکساں اور برابر کیا۔ سمک کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک وتعالی، آخرت کو اور اجساد کے دوبارہ زندہ کرنے کو بعید سمجھنے والوں کے لیے واضح دلیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ (ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاۗءُ ) اے انسانو ! کیا تمہیں بنانا زیادہ شدید ہے یا آسمان کا ؟ جو بڑے بڑے اجرام، طاقت ور مخلوق اور انتہائی بلندیوں والا ہے۔ (بَنٰىهَا) اسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(21) بعض آفاقی دلائل کا ذکر وبیان : ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کے قلب و ضمیر کو جھنجوڑتے ہوئے ان سے بطور استفہام وسوال ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ سخت اور مشکل ہے، اے منکرو ! یا اس عظیم الشان آسمان کاـ؟ " اور ظاہر ہے کہ زیادہ سخت اور مشکل تو آسمان کو پیدا کرنا ہے کہ وہ عالم اکبر اور تم سے کہیں بڑھ کر عظمت و شان والا ہے، تو جب اس عالم اکبر کو اس قادر مطلق نے اس قدر خوبی اور عمدگی کے ساتھ پیدا فرمایا دیا ہے اور وہ تمہارے سامنے اور تمہارے سروں پر تنا ہوا موجود ہے تو پھر تمہارا پیدا کردینا اور وہ بھی دوسری مرتبہ پیدا کرنا اس کے لیئے آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ پس زمین…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 27–46

جس نے کائنات بنائی وہ تمہیں بھی بنا سکتا ہے تشریح : یہاں ایک تو انسان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا خود اس کو بھی اللہ نے ہی بنایا ہے اور اس کے رہن سہن کے لیے پوری کائنات بنائی ہے۔ جو یقینا انسان کی پیدائش سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام ہے اگر وہ اللہ کی قدرت حکمت اور بڑائی پر غور کرے تو وہ اللہ کی دی گئی اس خبر کو ہرگز معمولی یا جھوٹ نہ سمجھے کہ '' قیامت آنے والی ہے۔ قیامت کے بعد حساب کا دن ضرور آئے گا ''۔ ان آیات میں اس یقین دہانی کے علاوہ فطرت اور کائنات کے مضبوط ' معقول اور بہترین انتظامات کا ذکر بھی بڑی خوبصورتی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–46

آیات 27 تا 46۔ اسرار ومعارف۔ اگر انہیں دوبارہ زندہ ہونے کا اعتبار نہیں آتا اور اسے مشکل جانتے ہیں تو موجودہ حیات پہ غورکریں کہ بندہ کو دوبارہ بنانامشکل ہے یا آسمانوں کی تخلیق جن کو ان کے بیشمار امور اور مخلوق کے ساتھ بنادیا اور ایسا بنایا کہ کہیں کوئی خامی باقی نہ رہی بلکہ وہ شب وروز کی آمدورفت اور سورج کے طلوع و غروب کے باعث پورے نظام حیات کو چلانے کا سبب بن گیا اس کے بعد زمین کو بچھادیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ برابر بچھی ہوئی ہے اور اس میں زندگی کے اسباب نہریں دریا اور سبزہ پیدا کردیے ہیں اور اس بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیے جو بیشمار نعمتوں کا سبب ہیں اور جن سب امور کے نتیجے میں تم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 25–29

ف 15 رات اور دن کو آسمان کی طرف منسوب کیا گیا کیونکہ دونوں کا تعلق سورج کے طلوع و غروب سے ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:27) ء انتم اشد خلقا ام السماء بنھا : (آیت میں کلام کا رخ بدل کر منکرین حشر سے خطاب ہے) ۔ ء استفہامیہ ہے انتم مبتداء ہے اشد اس کی خبر۔ خلقا تمیز۔ السماء مبتداء خبر محذوف کی۔ ای اشد (یعنی زیادہ مشکل) یعنی تخلیق کے اعتبار سے تم زیادہ سخت ہو یا آسمان زیادہ سخت ہے۔ یہ استفہام تقریری ہے۔ یعنی آسمان کی تخلیق زیادہ سخت ہے۔ آسمان سے مراد ہے آسمان مع ان تمام چیزوں کے جو اس کے اندر ہیں کیونکہ مقام تفصیل میں زمین اور پہاڑوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ آسمان اور اس کے موجودات کی تخلیق تمہاری تخلیق سے زیادہ سخت ہے۔ تم کائنات سماوی کا جزو ہو اور جزء کی تخلیق کل کی تخلیق سے بداہۃ آسان ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

عجائبات قدرت خداوندی۔ (ف 1) یعنی تمہارا پیدا کرنا اور وہ بھی ایک مرتبہ کرچکنے کے بعد آسمان و زمین اور پہاڑوں کے پیدا کرنے سے زیادہ مشکل تو نہیں جب اتنی بڑی بڑی چیزوں کا خالق اس کو مانتے ہو پھر دوبارہ پیدائش میں کیوں تردد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–28

[9] یہ فرعون کی اس تدبیر کی طرف اشارہ ہے جو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لئے سب سے آخر میں اختیار کی تھی۔ سورة زخرف میں مذکور ہے کہ جب مصر پر کوئی آفت آتی تو فرعون موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کرتا کہ وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ یہ بلا ٹل جائے۔ اگر ان کی دعا سے یہ بلا ٹل گئی تو وہ ان کی بات مان لے گا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے جب وہ بلا ٹل جاتی تو وہ اپنے وعدے سے پھرجاتا۔ اس کی باربار کی اس روش کا یہ اثر ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی سچائی کا اثر مصر کے لوگوں میں بڑھنے لگا۔ اس سے گھبرا کر فرعون نے قوم کے تمام بااثر افراد کو جمع کیا اور ان کے اندر اپنا اثر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 26–29

سنۃ اللہ 1: ان آیتوں میں بطور تذکیر بسنتہ اللہ کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ارشاد فرمایا ہے کہ ان کو طویٰ کی مقدس وادی میں اللہ تعالیٰ نے مخاطب کیا اور کہا کہ ارض مصر میں فرعون باغی و سرکش ہوگیا ہے ، اس کی سرکوبی کے لئے روانہ ہوجاؤ۔ اور اس سے اولاً یہ کہو کہ کیا تم پاکبازی کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہو اور تمہاری یہ خواہش ہے کہ میں تم کو راہ راست پر گامزن کردوں ۔ اگر مان لے تو فبہا ورنہ بنی اسرائیل کو اس کے چنگل سے چھڑا لاؤ اور اس کی قوت وتدبیر کا مقابلہ کرو ۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے معجزات وخوارق پیش کئے اور کہا کہ میں اللہ کا سچا رسول (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(27) بھلا تمہارا بنانا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا اللہ تعالیٰ نے اس آسمان کو بنایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 27–28

ف 6۔ ظاہر ہے کہ تمہارے دوسری بار پیدا کرنے سے آسمان کا پیدا کرنا زیادہ سخت ہے، پھر جب اس کو پیدا کردیا تو تمہارا مکرر پیدا کردینا کیا مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا تمہارا پیدا کرنا مشکل ہے اتنے بڑے آسمانوں کا بنانا ؟ ۔ 27 فرعون کے قصہ سے پہلے قیامت کے دلائل ہی کا ذ کر ہوتا چلا آ رہا تھا اور درمیان میں ایک منکر قیامت کا تذکرہ کردیا گیا تاکہ منکرین قیامت کی حالت سے بھی لوگوں کو روشناس کرایا جائے اور موجودہ دور کے منکرین ایک گزشتہ منکر قیامت کا قصہ پڑھ کر شاید عبرت حاصل کریں کیونکہ یہ قصہ بلاشبہ عبرتناک ہے اور خصوصاً اس وقت اس کی مزید وضاحت خود بخود ہوجاتی ہے جب اللہ تعالیٰ نے اس کو (نکال) عبرت کے نام سے موسوم کیا ہے۔ اس قصہ کے بیان کے بعد مضمون دوبارہ اپنے اصل موضوع کی طرف پھیر دیا گیا ہے اور فرمایا جا رہا ہے کہ انسان اکثر عقل و فکر سے کام لینا پسند…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–36

فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَ‌ةِ وَالْأُولَىٰ (So, Allah seized him for the deterrent punishment in the Hereafter and the present world....79:25). The word nakal means an 'exemplary punishment' or 'an extremely severe punishment given to an offender to deter others against committing a similar offence or sin'. The phrase 'punishment of the 'akhirah' refers to the punishment of the Hereafter that will be meted out to Fir'aun (the Pharaoh). The phrase 'punishment of the 'al a' refers to the punishment meted out to Fir'aun (the Pharaoh) and his army in this world whereby they were…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13 Now arguments are being given for the possibility of Resurrection and life after death and their being the very demand and requirement of wisdom. 14 Here, creation implies the recreation of men, and the heaven the entire firmament which contains countless stars and planets, and innumerable solar systems and galaxies. means to say: "You think that your resurrection after death is something extremely improbable and you express wonder saying: `How is it possible that when our very bones will have decayed and become rotten the scattered particles of our bodies will be reassembled and made…

Read the full tafseer →