An-Naazi'aat 79:26

An-Naazi'aat · from ayah 26

79:26

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰی ۟ؕ۠اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰىؕ

جو شخص (خدا سے) ڈر رکھتا ہے اس کے لیے اس (قصے) میں عبرت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed in that is a warning for whoever would fear [Allah].

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:26

درحقیقت اِس میں بڑی عبرت ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ڈرے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو شخص (خدا سے) ڈر رکھتا ہے اس کے لیے اس (قصے) میں عبرت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک اس میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو ڈرے

— مولانا محمد جوناگڑہی

حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو اللہ کا خوف دل میں رکھتا ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اس میں سیکھ ملتا ہے اسے جو ڈرے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اس (واقعہ) میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو (اللہ سے) ڈرتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اس میں اس شخص کے لیے یقینا بڑی عبرت ہے جو ڈرتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس واقعہ میں سامان عبرت ہے اس شخص کے لیے جو (اللہ کی گرفت سے) ڈرتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک اس میں سبق ہے ان لوگوں کے لئے جو ڈر رکھنے والے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ اس میں بڑی بھاری عبرت (کا سامان) ہے ہر اس شخص کے لیے جو ڈرتا ہو

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک اس (واقعہ) میں بڑی عبرت ہے اس کے لئے جو خشیت رکھتا ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا اس میں عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو شخص اللہ سے ڈر رکھتا ہے اس کے لیے اس میں عبرت ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely there is a great lesson in it for whoever would fear (Allah).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed, there is a lesson for him who fears (Allah) .

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed, there is a lesson for him who fears (Allah) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

In this is a lesson for whoever fears.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! herein is indeed a lesson for him who feareth.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed in that is a warning for whoever would fear [Allah].

— Saheeh International

In this there is a lesson for those who have fear of God.

— Muhammad Sarwar

Most surely there is in this a lesson to him who fears.

— Muhammad Habib Shakir

Verily herein is lesson for him who feareth.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily in this is an instructive warning for whosoever feareth (Allah).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 79:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–26

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد ﷺ کو خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہوگیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان ﷺ آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہوگا۔ اسی لئے اس واقعہ کے خاتمہ پر فریاد ڈر والوں کے لئے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ تجھے خبر بھی ہے ؟ موسیٰ ؑ کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے۔ اس کا تفصیل سے بیان سورة طہ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 25–26

سورة النّٰزِعٰت 12 یعنی خدا کے رسول کو جھٹلانے کے اس انجام سے ڈر جو فرعون دیکھ چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–36

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى نکال ایسے عذاب کو کہا جاتا ہے جس کو دیکھ کر دوسروں کو عبرت ہو اور سب سہم جائیں۔ نکال آخرت فرعون کے لئے آخرت کا عذاب ہے، اور نکال اولیٰ سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اس کی پوری قوم کے غرق دریا ہوجانے سے ان کو پہنچا۔ اگے پھر منکرین حشر ونشر کے اس استبعاد اور شبہ کا ازالہ ہے کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد کیسے دوبارہ زندہ کئے جاویں گے۔ اس میں حق تعالیٰ نے آسمان و زمین اور انکے اندر پیدا کی ہوئی عظیم مخلوقات کا ذکر کرکے انسان غافل کو اس پر متنبہ کیا ہے کہ جس ذات نے ایسی عظیم الشان مخلوقات کو ابتدائی وجود بغیر کسی مادہ و آلہ کے عظا فرمایا وہ اگر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ وہ مقصد بیان ہوا ہے جس کے لیے یہ سرگزشت سنائی گئی ہے۔ فرمایا کہ اس میں ان لوگوں کے لیے بڑا درس عبرت ہے جو خدا کی پکڑ سے ڈرنے والے ہوں۔ بات اگرچہ عام صیغہ سے فرمائی گئی ہے لیکن اشارہ خاص طور پر قریش کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے اندر کچھ خوف خدا ہے تو وہ اس سے سبق حاصل کریں اور دانش مند وہی ہے جو دوسروں کے انجام سے سبق حاصل کرے نہ کہ خود اپنے اوپر سیلاب بلا گزر جانے کا انتظار کرے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

26۔ 1 یا میں نبی ﷺ کے لئے تسلی اور کفار مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نے گزشتہ لوگوں کے واقعات سے عبرت نہ پکڑی تو ان کا انجام بھی فرعون کی طرح ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 25–26

8: دنیا کا عذاب یہ کہ اسے اور اس کے لشکر کو غرق کردیا گیا۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة شعراء : 61 تا 64 اور آخرت میں دوزخ کا عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 25–26

اس کفر ، سرکشی اور تکذیب اور گندی بات کے بعد اب اللہ کی عظیم قوتیں حرکت میں آتی ہیں۔ فاخذ ................ والاولی (25:79) ” آخر کار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں مبتلا کردیا “۔ یہاں آخرت کے عذاب کو دنیا کے عذاب پر مقدم کردیا گیا ، اس لئے کہ عذاب آخرت تو بہت ہی سخت اور شدید ہوگا۔ نافرمانوں اور سرکشوں کے لئے حقیقی عذاب تو عذاب آخرت ہوگا اور آخرت میں ایسے لوگ بڑی سختی اور بےرحمی سے پکڑے جائیں گے۔ پھر سورت کا موضوع ہی آخرت ہے۔ اس لئے عذاب آخرت کو مقدم کرنا ضروری ہوا۔ نیز لفظی ترنم اور قافیہ کے اعتبار سے بھی ” آخرت “ کو پہلے اور ” اولیٰ “ کو بعد میں ہونا چاہئے تھا ، یوں لفظی اور معنوی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی اس قصہ میں بہت سی باتیں سوچنے اور عبرت پکڑنے کی ہیں۔ بشرطیکہ آدمی کے دل میں تھوڑا بہت ڈر ہو۔ (ربط) موسیٰ اور فرعون کا قصہ درمیان میں استطراداً آگیا تھا۔ آگے پھر اسی مضمون قیامت کی طرف عود کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 26{ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی۔ } ”یقینا اس میں عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے۔“ اشتقاقی اعتبار سے لفظ ”عبرت“ کا تعلق ”عبور“ سے ہے ‘ اور عبور کے معنی ہیں دریا وغیرہ کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جانا۔ اس حوالے سے لفظ عبرت کے معنی ایک چیز کو دیکھ کر اس سے ملتی جلتی کسی دوسری چیز کی حقیقت کو سمجھنے اور اس خاص معاملے میں سبق حاصل کرنے کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 یعنی جس طرح فرعون نے سرکشی کی راہ اختیار کی تھی۔ وہی کچھ تم کر رہے ہو۔ اس کا انجام دیکھ لو۔ اور اس واقعہ سے عبرت حاصل کرو کہ تمہیں بھی کہیں ایسے ہی انجام سے دو چار نہ ہونا پڑے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 25–26

11۔ یعنی جن کے دل میں خشیت ہے، وہی اس واقعہ سے عبرت ونصیحت کا پورا سبق حاصل کریں گے، (آیت) ” نکال الاخرۃ۔ یعنی آگ میں حرق۔ (آیت) ” والاولی “۔ یعنی پانی میں غرق “۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 25–26

فاخذہ اللہ نکال الاخرۃ والاولی، ” نکال “ ایسے عذاب کو کہا جاتا ہے جس کو دیکھ کر دوسروں کو عبرت حاصل ہو، ” آخرۃ “ اور ” اولی “ کا مطلب مفسر علام نے جو لیا ہے وہ تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان گزر چکا ہے، ملاحظہ فرما لیا جائے، بعض حضرات نے نکال الآخرۃ سے فرعون کے لئے عذاب آخرت مراد لیا ہے، اور نکال اولی سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اس کی پوری قوم کو غرق دریا ہوجانے سے پہنچا۔ (معارف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی . اس گرفت اور سزا میں اہل خشیت کیلئے نصیحت ہے۔ من یخشی سے مراد ہیں وہ لوگ جن میں اللہ سے ڈرنے کی صلاحیت ہے (بالفعل خشیت رکھنے والے اہل تقویٰ کیلئے تو نصیحت کی ضرورت ہی نہیں ہے) اس کے بعد آئندہ آیت میں کلام کا رخ بدل کر منکرین حشر کو خطاب فرمایا اور وجود حشر پر اللہ کے قادر ہونے کو موجودہ کائنات کی ایجاد کو ذکر کر کے ثابت کیا اور فرمایا :

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–26

(21۔ 26) پھر ایمان سے یا کہ موسیٰ سے اعراض کر کے ان کے خلاف کوشش کرنے لگایا، یا یہ کہ اپنے متعلقین کی طرف دوڑتا ہوا آیا اور اپنے لوگوں کو جمع کرے کے بلند آواز سے ان کے سامنے تقریر کی اور کہنے لگا کہ میں تمہارا رب ہوں، اور تمہارے بڑے بتوں کا بھی رب ہوں، سو تم ان کی عبادت کو مت چھوڑو، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا و آخرت کے عذاب میں پکڑا، یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کی پہلی اور دوسری بات پر سزا دی اور دونوں باتوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ تھا، پہلی بات تو اس کی یہ تھی ما علمت من الہ غیری اور دوسری بات یہ ہے انا ربکم الاعلی، اس واقعہ میں ڈرنے والے کے لیے بہت بڑی عبرت ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 25–26

فاخذہ اللہ نکال الاخرۃ و الاولی : یعنی آخرت کو آگ میں جلے گا اور دنیا میں غرق ہوا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ان فی ذالک لعبرۃ لمن یخشی۔ جو آدمی ڈرتا ہے اس کے لیے اس میں عبرت ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–27

1۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذہب الی فرعون انہ طغی۔ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے۔ یعنی نافرمانی کی۔ آیت فاراہ الاٰیۃ الکبری۔ پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔ یعنی اپنی لاٹھی اور اپنا ہاتھ آیت ثم ادبر یسعی۔ پھر کوشش کرتا ہوا واپس لوٹا یعنی پھر وہ فساد کے اعمال کرنے لگا۔ آیت فاخذہ اللہ نکال الاٰخرۃ والاولیٰ پھر اللہ نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لی ادنیا کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارے لیے اپنے علاوہ کسی اور کو معبود نہیں جانتا۔ اور آخرت کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارا بڑا رب ہوں۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان فِيْ ذٰلِكَ : بیشک اس میں ][ لَعِبْرَةً : یقینا ایک عبرت ہے ][ لِمَنْ يَّخْشٰى: اس کے لیے جو ڈرتا ہے (رب سے)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى 2ؕ (رح) 0026﴾ (بلاشبہ اس میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے) جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں اور عبرت کے قصے سن کر خوف کھاتے ہیں کہ کہیں ہمیں نافرمانی کی وجہ سے دنیا و آخرت میں بدحالی اور عذاب میں گرفتار نہ ہونا پڑے ایسے لوگوں کے لیے عبرت اور نصیحت ہے (اور جو لوگ نافرمانیوں میں لگ کر اپنی سمجھ کی پونجی کو کھو بیٹھے اور کسی بات سے متاثر نہیں ہوتے ایسے لوگ نافرمانی ہی میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں) جیسے فرعون نے سرکشی کی راہ اختیار کی اور برباد و ہلاک اور مستحق عذاب نار ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت اور فرعون سے مکالمہ اور فرعون کا اپنے لشکروں سمیت ڈوب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–26

ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

10:۔ ” ان فی ذلک “ اس میں خدا سے ڈرنے والوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جس طرح فرعون نے تکذیب کی اور دنیا ہی میں عبرتناک عذاب میں گرفتار کیا گیا اسی طرح اہل مکہ کا حشر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–26

(گذشتہ سے پیوستہ ) اس سورة مبارکہ میں حکما کے نقطہ نظر سے وقوع قیامت پر دلیل قائم کی گئی ہے ۔ کفار ومشرکین کہتے تھے کہ کیا مرنے کے بعد ہم پھر پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے ۔ یعنی اسی طرح جسم وروح کے ساتھ زندہ ہوجائیں گے جیسا کہ دنیوی زندگی میں تھے ۔ حالانکہ ہم مر کر عظاما نخرۃ بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اگر ایسا ہوا تو یہ بہت افسوس ناک بات ہوگی ۔ وہ لوگ بعث بعد الممات کو بالکل ناممکن خیال کرتے تھے۔ اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ بیان فرمایا ۔ اس واقعہ سے ایک طرف آپ کو تسلی دلانا مقصود ہے تو دوسری طرف قیامت کا مسئلہ بھی سمجھا دیا ۔ فرعون بھی قیامت کا انکار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَۃً لِّمَنْ يَّخْشٰى۝ 26 ۭ ۧ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–26

ترکیب ¦ ھل استفہامیۃ او بمعنی قدر والجملۃ مستانفۃ لبیان مسئلۃ النبوۃ اذ متعلق بحدیث۔ لاباتاک لا ختلاف وقیتھما طویٰ قریٔ بالتنوین و ترکہ و ھما سبعیتان فمن صرفۃ جعلہ اسم وادٍ و مکانٍ وجعلہ نکرۃ ومن لم یصرفہ جعلہ بلدۃ وبقعۃ وجعلہ معرفۃ وھو وادٍ بین الشام وقلزم وھوبدل من الوادال اذھب ای قال اذھب وقیل ھو تفسیر للنداء تزکی قرء الجہور بالتخفیف وقرأنافع وابن کثیر بتشدید الرائے علی ادغام التاء فی الزای قال ابو عمر و بن العلاء علی الاول مسناہ تکون زکیاء مؤمنا وعلی الثافی الصدقۃ۔ والیٰ متعلقۃ بمحذوف وھو رغبۃ او توجہ وھو مبتدالک خبرہ واھدیک معطوف علی تزکی منصوب بان والفاء فی فتخشی لترتیب الخشیۃ علی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی۔ (النازعات : 26) (بیشک اس میں سبق ہے اس شخص کے لیے جو ڈرتا ہے۔ ) یہ ہے وہ اصل بات جو فرعون کی سرگزشت سے قریش کو سنانی مقصود ہے۔ یہ اپنی چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر فرعون بنے ظلم و ستم کو جاری رکھے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے آخری رسول کی کسی بات کو مان کردینے کے لیے تیار نہیں۔ اور ان کی معمولی دولت و ثروت کا نشہ روزبروز ان کے پندار میں اضافہ کررہا ہے۔ اور ان کی اذیت رسانیوں کا سلسلہ کسی جگہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ انھیں اس واقعہ کو غور سے دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں وہ اپنا انجام دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ اس سے سبق حاصل کرنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–26

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والوں میں فرعون بھی شامل تھا اس لیے اس کا دنیا میں برا انجام ہے۔ اہل مکہ قیامت کا بار بار مذاق اڑا رہے تھے اس پر انہیں انتباہ کرنے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والی کشمکش اور اس کے نتیجہ میں فرعون کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا حوالہ دے کر سمجھایا کہ کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کا علم ہے کہ جب طویٰ وادی میں اسے اس کے رب نے فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ ! کیونکہ وہ بڑا باغی بن چکا ہے جس کا بڑا سبب یہ ہے کہ وہ قیامت کا منکر ہے۔ اسے سمجھاؤ کہ کیا تو تیار ہے کہ شرک اور ظلم وستم سے بچنے کی کوشش کرے ؟ میں تیرے رب کی طرف سے تیری…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

26 : اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بیشک اس میں) جس کا ذکر ہوا لَعِبْرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی (ایسے شخص کیلئے بڑی عبرت ہے جو ڈرے) اللہ تعالیٰ سے

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

25 ۔” فاخذہ اللہ نکال الآخرۃ والاولیٰ “ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کو سزا دی۔ پس اس کو پہلے اور پچھلوں کے لئے عبرت بنادیا۔ یعنی دنیا میں غرق کرکے اور آخرت میں آگ کے ذریعے اور مجاہد اور مفسرین رحمہم اللہ کی ایک جماعت نے کہا ہے الآخرۃ اور الاولیٰ سے فرعون کے دو کلمے ” ماعلمت لکم من الہ غیری “ اور اس کا قول ” اناربکم الاعلیٰ “ ہے اور ان دونوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ تھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–26

15۔ 26۔ اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر اہل مکہ کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرض سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہئے اسی طرح کی تنبیہ کے مطلب کو اللہ تعالیٰ نے سورة الم سجدہ میں ان لفظوں سے ادا فرمایا ہے۔ ولنذیقنھم من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى) بیشک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، لہذا جب وہ فرعون کی سزا پر غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوجائے گی جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلی کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا وآخرت میں سزا ملتی ہے جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہوجاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آجائے وہ ایمان نہیں لاتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

( 20) مقصد عبرت کی تذکیر و یاد دہانی۔ ارشاد فرمایا گیا اور اس سرگزشت کے سنانے کے اصل مقصد یعنی عبرت پذیری کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ اس میں بڑا سامان عبرت ہے ہر اس شخص کے لیے جو ڈرتا ہو اپنے رب کی گرفت اور پکڑ سے کہ اس سے فائدہ بہرحال وہی اٹھا سکتا ہے، ورنہ یہ سامان عبرت و بصیرت سب کے لئے عام ہے، معلوم ہوا کہ خوف اور خشیت خداوندی صلاح و فلاح کی اصل و اساس ہے، اور اس سے محرومی فساد و تباہی کی جڑ بنیاد۔ والعیاذ باللہ۔ کیونکہ غافل اور لاپرواہ و بےفکر انسان کی آنکھ کھلتی ہی نہیں، تو پھر اس کو کوئی سامان عبرت نظر آئے تو کیسے ؟ سو غفلت اور لاپرواہی محرومیوں کی محرومی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–26

فرعون کا انکار اور تباہی تشریح : اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ پرانے قصے قران پاک میں بار بار بیان کئے جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے مگر ہر دفعہ کسی مختلف وجہ کے لیے بیان کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ یہاں آخرت کے انکار کرنے والوں کو سبق دینے کے لیے فرعون کا بیان سنایا گیا ہے۔ کہ اللہ کی سچائیوں کو ماننے سے جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کا حال دنیا و آخرت میں ایسے ہی خراب ہوتا ہے جیسا فرعون کا حال ہوا۔ پہلے غرق کردیا گیا مگر لاش انتہائی خوفناک حالات میں دنیا کے سامنے ڈال دی گئی جو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے اور اللہ کی قدرت اور حاکمیت کا یقین دلانے کے لیے لوگوں کے سامنے موجود رکھ دی گئی ہے جو یوں تو معمول کے بالکل خلاف ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 25–29

ف 15 رات اور دن کو آسمان کی طرف منسوب کیا گیا کیونکہ دونوں کا تعلق سورج کے طلوع و غروب سے ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:26) ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی : فی زلک ای فیما ذکر من قصہ فرعون وما فعل بہ۔ یعنی جو قصہ فرعون (اوپر) مذکور ہوا ۔ جو اس نے کیا اور جو اس کے ساتھ کیا گیا (روح المعانی) لام مبالغہ کے لئے ہے۔ عبرۃ اسم ان۔ فی ذلک اس کی خبر۔ بیشک اس میں ہر ڈرنے والے کے لئے بڑی عبرت ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–26

(ف 3) اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر کفار کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرج سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہے یہ قصہ کئی جگہ مفصل گذرچکا ہے اور اسی طرح تنبیہ کے مطلب کو اللہ نے سورة الم سجدہ میں فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–28

[9] یہ فرعون کی اس تدبیر کی طرف اشارہ ہے جو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لئے سب سے آخر میں اختیار کی تھی۔ سورة زخرف میں مذکور ہے کہ جب مصر پر کوئی آفت آتی تو فرعون موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کرتا کہ وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ یہ بلا ٹل جائے۔ اگر ان کی دعا سے یہ بلا ٹل گئی تو وہ ان کی بات مان لے گا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے جب وہ بلا ٹل جاتی تو وہ اپنے وعدے سے پھرجاتا۔ اس کی باربار کی اس روش کا یہ اثر ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی سچائی کا اثر مصر کے لوگوں میں بڑھنے لگا۔ اس سے گھبرا کر فرعون نے قوم کے تمام بااثر افراد کو جمع کیا اور ان کے اندر اپنا اثر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 26–29

سنۃ اللہ 1: ان آیتوں میں بطور تذکیر بسنتہ اللہ کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ارشاد فرمایا ہے کہ ان کو طویٰ کی مقدس وادی میں اللہ تعالیٰ نے مخاطب کیا اور کہا کہ ارض مصر میں فرعون باغی و سرکش ہوگیا ہے ، اس کی سرکوبی کے لئے روانہ ہوجاؤ۔ اور اس سے اولاً یہ کہو کہ کیا تم پاکبازی کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہو اور تمہاری یہ خواہش ہے کہ میں تم کو راہ راست پر گامزن کردوں ۔ اگر مان لے تو فبہا ورنہ بنی اسرائیل کو اس کے چنگل سے چھڑا لاؤ اور اس کی قوت وتدبیر کا مقابلہ کرو ۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے معجزات وخوارق پیش کئے اور کہا کہ میں اللہ کا سچا رسول (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(26) بلا شبہ اس فرعون کے واقعہ میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو ڈرتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے ۔ حضرت موسیٰ کے اس واقعہ میں نبی کریم ﷺ کی تسلی بھی ہے اور منکرین کے لئے تخویف بھی ہے۔ یہ واقعہ بیچ میں آگیا تھا اب آگے پھر قیامت کے دلائل مذکور ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–26

ف 5۔ دنیوی عذاب تو غرق ہے اور اخروی عذاب حرق یعنی آگ میں جلنا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ اس میں خوف خدا رکھنے والوں کے لئے بڑی ہی عبرت ہے ۔ 26 فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کے اس قصہ میں جو قرآن کریم نے بار بار بیان کیا ہے بڑی ہی عبرت ہے اور اسی طرح فرعون کی ہزیمت ہوئی اور جس طرح اس کو تباہ و برباد کیا گیا اور جس طرح بےبس بنا کر اس کو غرق کیا گیا ان ساری باتوں میں بہت عبرت ہے۔ جس دل میں اللہ تعالیٰ کا ڈر اور خوف ہو وہ تو سنتے ہی کانپ جاتے ہیں اور جو دل اس نعمت عظمیٰ سے بےبہرہ ہیں وہ کسی قیمت پر ہدایت قبول نہیں کریں گے۔ ان کی آنکھ صرف اس وقت کھلے گی جب اللہ تعالیٰ کا ڈر انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گا اور اس کے غصب کی بجلیاں گرا کر انہیں بھسم کردیں گی۔ لیکن افسوس کہ فرعون وقت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–36

فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَ‌ةِ وَالْأُولَىٰ (So, Allah seized him for the deterrent punishment in the Hereafter and the present world....79:25). The word nakal means an 'exemplary punishment' or 'an extremely severe punishment given to an offender to deter others against committing a similar offence or sin'. The phrase 'punishment of the 'akhirah' refers to the punishment of the Hereafter that will be meted out to Fir'aun (the Pharaoh). The phrase 'punishment of the 'al a' refers to the punishment meted out to Fir'aun (the Pharaoh) and his army in this world whereby they were…

Read the full tafseer →