Explained with ayahs 15–26
معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے
اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد ﷺ کو خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہوگیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان ﷺ آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہوگا۔ اسی لئے اس واقعہ کے خاتمہ پر فریاد ڈر والوں کے لئے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ تجھے خبر بھی ہے ؟ موسیٰ ؑ کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے۔ اس کا تفصیل سے بیان سورة طہ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
سورة النّٰزِعٰت 12
یعنی خدا کے رسول کو جھٹلانے کے اس انجام سے ڈر جو فرعون دیکھ چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–36
فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى
نکال ایسے عذاب کو کہا جاتا ہے جس کو دیکھ کر دوسروں کو عبرت ہو اور سب سہم جائیں۔ نکال آخرت فرعون کے لئے آخرت کا عذاب ہے، اور نکال اولیٰ سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اس کی پوری قوم کے غرق دریا ہوجانے سے ان کو پہنچا۔ اگے پھر منکرین حشر ونشر کے اس استبعاد اور شبہ کا ازالہ ہے کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد کیسے دوبارہ زندہ کئے جاویں گے۔ اس میں حق تعالیٰ نے آسمان و زمین اور انکے اندر پیدا کی ہوئی عظیم مخلوقات کا ذکر کرکے انسان غافل کو اس پر متنبہ کیا ہے کہ جس ذات نے ایسی عظیم الشان مخلوقات کو ابتدائی وجود بغیر کسی مادہ و آلہ کے عظا فرمایا وہ اگر…
Read the full tafseer →’نَکَالٌ‘ کے معنی عبرت انگیز عذاب کے ہیں۔ یعنی جب اس نے سب کچھ دیکھ اور سن لینے کے بعد بھی اپنی سرکشی ہی پر اصرار کیا تو اللہ نے اس کو آخرت اور دنیا دونوں کے عذاب میں پکڑا۔ دنیا میں وہ سمندر کی موجوں کے حوالہ ہوا اور آخرت میں جہنم کے عذاب میں جھونک دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →25۔ 1 یعنی اللہ نے اس کی ایسی گرفت فرمائی کہ اسے دنیا میں آئندہ آنے والے فرمانوں کے لئے نشان عبرت بنادیا اور قیامت کا عذاب اس کے علاوہ ہے، جو اسے وہاں ملے گا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
8: دنیا کا عذاب یہ کہ اسے اور اس کے لشکر کو غرق کردیا گیا۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة شعراء : 61 تا 64 اور آخرت میں دوزخ کا عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
اس کفر ، سرکشی اور تکذیب اور گندی بات کے بعد اب اللہ کی عظیم قوتیں حرکت میں آتی ہیں۔
فاخذ ................ والاولی (25:79) ” آخر کار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں مبتلا کردیا “۔ یہاں آخرت کے عذاب کو دنیا کے عذاب پر مقدم کردیا گیا ، اس لئے کہ عذاب آخرت تو بہت ہی سخت اور شدید ہوگا۔ نافرمانوں اور سرکشوں کے لئے حقیقی عذاب تو عذاب آخرت ہوگا اور آخرت میں ایسے لوگ بڑی سختی اور بےرحمی سے پکڑے جائیں گے۔ پھر سورت کا موضوع ہی آخرت ہے۔ اس لئے عذاب آخرت کو مقدم کرنا ضروری ہوا۔ نیز لفظی ترنم اور قافیہ کے اعتبار سے بھی ” آخرت “ کو پہلے اور ” اولیٰ “ کو بعد میں ہونا چاہئے تھا ، یوں لفظی اور معنوی…
Read the full tafseer →7 یعنی یہاں پانی میں ڈوبا، وہاں آگ میں جلے گا۔
Read the full tafseer →آیت 25{ فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰی۔ } ”تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے آخرت اور دنیا کی سزا میں۔“
دنیا کی سزا کے طور پر تو اسے اپنے لائو لشکر سمیت غرق کردیا گیا۔ جہاں تک اس کی آخرت کی سزا کا تعلق ہے اس کا ذکر قرآن میں جابجا ہوا ہے کہ وہ بہت بھیانک ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
17 فرعون کا رعایا میں پروپیگنڈا :۔ میدان مقابلہ میں مات کھانے کے بعد بہت سے لوگ درپردہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے لگے تو فرعون بہت سیخ پا ہوگیا۔ اس نے ایک دوسرا پینترا بدلا اور لوگوں سے کہنے لگا تم لوگ میرے مقابلہ میں اس شخص کی پیروی کرنے لگے ہو جو میرے مقابلہ میں ایک کمزور اور حقیر انسان ہے جبکہ میں تمہارا سب سے بڑا حکمران ہوں۔ تمہارے تمام وسائل معاش بھی میرے ہاتھ میں ہیں۔ فرعون نے اپنے آپ کو ان معنوں میں رب الاعلیٰ نہیں کہا تھا کہ وہ اپنے آپ کو خالق کائنات سمجھتا تھا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کو کائنات کا خالق ومالک سمجھتا تھا۔ وہ اپنے آپ کو لوگوں کا معبود بھی نہیں کہتا تھا بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
11۔ یعنی جن کے دل میں خشیت ہے، وہی اس واقعہ سے عبرت ونصیحت کا پورا سبق حاصل کریں گے، (آیت) ” نکال الاخرۃ۔ یعنی آگ میں حرق۔ (آیت) ” والاولی “۔ یعنی پانی میں غرق “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
فاخذہ اللہ نکال الاخرۃ والاولی، ” نکال “ ایسے عذاب کو کہا جاتا ہے جس کو دیکھ کر دوسروں کو عبرت حاصل ہو، ” آخرۃ “ اور ” اولی “ کا مطلب مفسر علام نے جو لیا ہے وہ تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان گزر چکا ہے، ملاحظہ فرما لیا جائے، بعض حضرات نے نکال الآخرۃ سے فرعون کے لئے عذاب آخرت مراد لیا ہے، اور نکال اولی سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اس کی پوری قوم کو غرق دریا ہوجانے سے پہنچا۔ (معارف)
Read the full tafseer →فاخذہ اللہ نکال الاخرۃ والاولی . لغت میں نَکَال کے معنی ہے ضعف اور عجز یا ایسی چیز جو کسی کو کسی کام سے روک دے اور عاجز بنا دے۔ چوپایہ کے پاؤں میں بندھی ہوئی رسّی اور لگام کے دہانہ کو بھی نکل اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ چوپائے کو روک دیتی ہے (آزاد نہیں رہنے دیتے) نکال ‘ تنکیل کا اسم ہے (یعنی عبرت۔ ایسی سزا جو دوسروں کو اس جرم کے اقدام سے روک دے) کہا جاتا ہے : نکلت بہٖ میں نے اس کو ایسی سخت سزا دی کہ دوسروں کے لیے عبرت بن گئی۔ آیت میں نکال یا مصدر محذوف کی صفت ہے جو پہلے فعل کی تاکید کر رہا ہے یعنی میں نے اس کی گرفت کی ‘ عبرت انگیز گرفت ‘ دیکھنے اور سننے والوں کو اس جیسی حرکت کرنے سے روک دینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
(21۔ 26) پھر ایمان سے یا کہ موسیٰ سے اعراض کر کے ان کے خلاف کوشش کرنے لگایا، یا یہ کہ اپنے متعلقین کی طرف دوڑتا ہوا آیا اور اپنے لوگوں کو جمع کرے کے بلند آواز سے ان کے سامنے تقریر کی اور کہنے لگا کہ میں تمہارا رب ہوں، اور تمہارے بڑے بتوں کا بھی رب ہوں، سو تم ان کی عبادت کو مت چھوڑو، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا و آخرت کے عذاب میں پکڑا، یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کی پہلی اور دوسری بات پر سزا دی اور دونوں باتوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ تھا، پہلی بات تو اس کی یہ تھی ما علمت من الہ غیری اور دوسری بات یہ ہے انا ربکم الاعلی، اس واقعہ میں ڈرنے والے کے لیے بہت بڑی عبرت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
فاخذہ اللہ نکال الاخرۃ و الاولی : یعنی آخرت کو آگ میں جلے گا اور دنیا میں غرق ہوا۔
Read the full tafseer →فاخذہ اللہ نکال الاخرۃ والاولی۔ اس کا پہلا قول ماعلمت لکم من الہ غیری۔ القصص 38) میں اپنے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں پاتا، اس کا دوسرا قول ہے، اناربکم الاعلی، النازعات) میں تمہارا بڑا رب ہوں، یہ حضرت ابن عباس، مجاہد اور عکرمہ کا نقطہ نظر ہے ان دونوں کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، معنی یہ بنا پہلی بات پر مہلت دی اور دوسری پر اسے پکڑ لیا اور دونوں پر عذاب دیا مجاہد نے کہا، یہ اس کی پہلی عمر اور آخری عمر کا عذاب ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا دوسرا قول انا ربکم الاعلی، ہے اور پہلاقول اس کا حضرت موسیٰ کو جھٹلانا ہے یہ قتادہ سے بھی مروی ہے۔ نکال زجاج کے قول کے مطابق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–27
1۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذہب الی فرعون انہ طغی۔ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے۔ یعنی نافرمانی کی۔ آیت فاراہ الاٰیۃ الکبری۔ پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔ یعنی اپنی لاٹھی اور اپنا ہاتھ آیت ثم ادبر یسعی۔ پھر کوشش کرتا ہوا واپس لوٹا یعنی پھر وہ فساد کے اعمال کرنے لگا۔ آیت فاخذہ اللہ نکال الاٰخرۃ والاولیٰ پھر اللہ نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لی ادنیا کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارے لیے اپنے علاوہ کسی اور کو معبود نہیں جانتا۔ اور آخرت کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارا بڑا رب ہوں۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن…
Read the full tafseer →[فَاَخَذَهُ اللّٰهُ : تو پکڑا اس کو اللہ نے ][ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى: دنیا اور آخرت کی عبرتناک سزا میں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
﴿فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى ٞۖ0024﴾ (اور اپنا دعویٰ دہرا دیا کہ میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں یعنی سب سے بڑا رب ہوں) لیکن اس کی ہر تدبیر ناکام ہوئی اور بالآخر ہلاک ہوا دنیا میں بھی سزا پائی، یعنی اپنے لشکروں سمیت سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا اور آخرت میں بھی دوزخ میں داخل ہوگا بلکہ دوزخ میں داخل ہوتے وقت اپنی قوم سے آگے آگے ہوگا۔ سورة ٴ ہود میں فرمایا ﴿ يَقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ﴾ (قیامت کے دن اپنی قوم سے آگے ہوگا سو انہیں دوزخ میں پہنچا دے گا) ۔
سورة القصص میں فرمایا ﴿وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً 1ۚ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ هُمْ مِّنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔
(ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
9:۔ ” فاراہ الایۃ الکبری “۔ مراد تمام آیات و معجزات ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے تمام معجزات کا اس کو مشاہدہ کرایا مگر اس کے باوجود اس نے جھٹلایا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی۔ ” ثم ادبر یسعی ” ہدایت سے اعراض کیا اور زمین میں شر و فساد پھیلانے کی کوشش کرتا رہا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے دعوت توحید کے مقابلے میں اس نے اپنی رعیت کو جمع کیا اور ان میں اعلان کیا کہ میں تمہار اسب سے بڑا رب ہوں مجھ سے بڑا کوئی نہیں، اس لیے تم موسیٰ کی باتوں کی طرف توجہ نہ کرنا۔ ” فاخذہ اللہ “ ’ نکال ‘ منصوب بنزع خافض ہے ای بنکال الاخرۃ (قرطبی) ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا اور آخرت کی سزا میں پکڑ لیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
(گذشتہ سے پیوستہ )
اس سورة مبارکہ میں حکما کے نقطہ نظر سے وقوع قیامت پر دلیل قائم کی گئی ہے ۔ کفار ومشرکین کہتے تھے کہ کیا مرنے کے بعد ہم پھر پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے ۔ یعنی اسی طرح جسم وروح کے ساتھ زندہ ہوجائیں گے جیسا کہ دنیوی زندگی میں تھے ۔ حالانکہ ہم مر کر عظاما نخرۃ بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اگر ایسا ہوا تو یہ بہت افسوس ناک بات ہوگی ۔ وہ لوگ بعث بعد الممات کو بالکل ناممکن خیال کرتے تھے۔ اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ بیان فرمایا ۔ اس واقعہ سے ایک طرف آپ کو تسلی دلانا مقصود ہے تو دوسری طرف قیامت کا مسئلہ بھی سمجھا دیا ۔ فرعون بھی قیامت کا انکار…
Read the full tafseer →فَاَخَذَہُ اللہُ نَكَالَ الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰى 25 ۭ
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ترکیب ¦ ھل استفہامیۃ او بمعنی قدر والجملۃ مستانفۃ لبیان مسئلۃ النبوۃ اذ متعلق بحدیث۔ لاباتاک لا ختلاف وقیتھما طویٰ قریٔ بالتنوین و ترکہ و ھما سبعیتان فمن صرفۃ جعلہ اسم وادٍ و مکانٍ وجعلہ نکرۃ ومن لم یصرفہ جعلہ بلدۃ وبقعۃ وجعلہ معرفۃ وھو وادٍ بین الشام وقلزم وھوبدل من الوادال اذھب ای قال اذھب وقیل ھو تفسیر للنداء تزکی قرء الجہور بالتخفیف وقرأنافع وابن کثیر بتشدید الرائے علی ادغام التاء فی الزای قال ابو عمر و بن العلاء علی الاول مسناہ تکون زکیاء مؤمنا وعلی الثافی الصدقۃ۔ والیٰ متعلقۃ بمحذوف وھو رغبۃ او توجہ وھو مبتدالک خبرہ واھدیک معطوف علی تزکی منصوب بان والفاء فی فتخشی لترتیب الخشیۃ علی…
Read the full tafseer →فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰی۔ (النازعات : 25)
(پس اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑا۔ )
عبرت انگیز گرفت
فرعون نے جب دو پیغمبروں کی دلآویز شخصیات، اللہ تعالیٰ کے پیغام کے جلال اور بیسیوں معجزات دیکھ لینے کے بعد بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت اور اللہ تعالیٰ کے پیغام کو ماننے سے انکار کردیا اور ساتھ ساتھ بنی اسرائیل پر ظلم کے شکنجے کو مزید کستا چلا گیا تو آخر اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور اس کو دنیا اور آخرت کے عذاب میں پکڑ لیا۔ دنیا کا عذاب تو وہ ہے جو بحرقلزم میں ڈبو کردیا گیا۔ وہ چیختا رہا کہ اب میں بنی اسرائیل کے رب کو ماننے کے لیے تیار ہوں، اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والوں میں فرعون بھی شامل تھا اس لیے اس کا دنیا میں برا انجام ہے۔
اہل مکہ قیامت کا بار بار مذاق اڑا رہے تھے اس پر انہیں انتباہ کرنے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والی کشمکش اور اس کے نتیجہ میں فرعون کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا حوالہ دے کر سمجھایا کہ کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کا علم ہے کہ جب طویٰ وادی میں اسے اس کے رب نے فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ ! کیونکہ وہ بڑا باغی بن چکا ہے جس کا بڑا سبب یہ ہے کہ وہ قیامت کا منکر ہے۔ اسے سمجھاؤ کہ کیا تو تیار ہے کہ شرک اور ظلم وستم سے بچنے کی کوشش کرے ؟ میں تیرے رب کی طرف سے تیری…
Read the full tafseer →فرعون کی پکڑ :
25 : فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰی (پس اللہ تعالیٰ نے اس کو آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں پکڑا) یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو آخرت کی سزا دی۔ النکالؔ یہ تنکیل کے معنی میں السلام کی طرح ہے۔ جو التسلیم کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ مصدریت کی وجہ سے منصوب ہے۔ کیونکہ اخذ یہ نکلؔ کے معنی میں ہے گویا اس طرح کہا نکل اللہ بہٖ نکال الاٰخرۃ ای الاحراق اللہ تعالیٰ نے اس کو آخرت کی سز اجلنے کی صورت میں دی۔ والاوْلٰی سے مراد دنیا میں ڈبونا۔ نمبر 2۔ اس کی دونوں باتوں کی سزا اس کا پہلا کلمہ ماعلمتُ لکم من الٰہٍ غیری ( القصص۔ 38) اور دوسرا کلمہ انا ربکم الاعلٰی تھا۔ ان کے…
Read the full tafseer →24 ۔” فقال انا ربکم الا علی “ پس میرے سے اوپر کوئی رب نہیں ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کی مراد یہ تھی کہ بت بھی رب ہیں اور میں تمہارا اور ان کا رب ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
15۔ 26۔ اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر اہل مکہ کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرض سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہئے اسی طرح کی تنبیہ کے مطلب کو اللہ تعالیٰ نے سورة الم سجدہ میں ان لفظوں سے ادا فرمایا ہے۔ ولنذیقنھم من…
Read the full tafseer →( فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى) پس اللہ نے اس کو دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑ لیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے لیے دلیل، تنبیہ اور اس کو بیان کرنے والی بنایا۔
Read the full tafseer →(19) تکذیب رسل کا نتیجہ و انجام، ہلاکت و تباہی، والعیاذ باللہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " آخر کار اللہ نے اس کو پکڑا "۔ یعنی صدیوں کی ڈھیل اور مہلت کے بعد آخر کار جب یہ امر پوری طرح ظاہر ہوگیا کہ اب اس کے اندر خیر و بھلائی کی کوئی رمق باقی نہیں رہ گئی تو قدرت کی طرف سے اس پر عذاب کا ایک ایسا کوڑا برسا دیا گیا جس سے وہ اپنے آخری اور انتہائی ہولناک انجام سے ہمکنار ہو کر ہمیشہ کے لئے " فی النار والسقر " ہوگیا۔ والعیاذ باللہ۔ پس " فاخذہ اللہ " میں پائے جانے والے اس حرف فاء نے صدیوں پر محیط اس طویل تاریخ کو اپنے اندر سمیٹ لیا۔ سبحانہ اللہ، اور اتنے بڑے کافر کو اتنے طویل عرصے تک ڈھیل دینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
فرعون کا انکار اور تباہی
تشریح : اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ پرانے قصے قران پاک میں بار بار بیان کئے جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے مگر ہر دفعہ کسی مختلف وجہ کے لیے بیان کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ یہاں آخرت کے انکار کرنے والوں کو سبق دینے کے لیے فرعون کا بیان سنایا گیا ہے۔ کہ اللہ کی سچائیوں کو ماننے سے جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کا حال دنیا و آخرت میں ایسے ہی خراب ہوتا ہے جیسا فرعون کا حال ہوا۔ پہلے غرق کردیا گیا مگر لاش انتہائی خوفناک حالات میں دنیا کے سامنے ڈال دی گئی جو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے اور اللہ کی قدرت اور حاکمیت کا یقین دلانے کے لیے لوگوں کے سامنے موجود رکھ دی گئی ہے جو یوں تو معمول کے بالکل خلاف ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة نازعات۔
آیات 1 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
ف 15 رات اور دن کو آسمان کی طرف منسوب کیا گیا کیونکہ دونوں کا تعلق سورج کے طلوع و غروب سے ہے۔
Read the full tafseer →(79:25) فاضذہ اللہ نکال الاخرۃ والاولی۔عاقبت کا ہے۔ بمعنی آخر کار۔ نکال بمعنی تنکیل فعل محذوف کا مفعول مطلق برائے تاکید ہے بمعنی عبرتناک سزا دینا۔ یعنی اللہ نے اس کو پکڑا اور اس کو سخت عبرت بنادیا۔ بان اغرقہ فی الدنیا ویدخلہ فی النار فی الاخرۃ (دنیا میں اس کو اللہ نے دریا میں غرق کردیا اور آخرت میں اس کو جہنم میں داخل کریگا۔ (الخازن)
الاولی : اول کا مؤنث ہے۔ قرآن مجید میں جہاں آخرۃ کے مقابلہ میں اس کا استعمال ہوا ہے وہاں اس سے مراد عالم دنیا ہے کیونکہ وہ آخرت سے پہلے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن
النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
(ف 3) اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر کفار کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرج سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہے یہ قصہ کئی جگہ مفصل گذرچکا ہے اور اسی طرح تنبیہ کے مطلب کو اللہ نے سورة الم سجدہ میں فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
[9] یہ فرعون کی اس تدبیر کی طرف اشارہ ہے جو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لئے سب سے آخر میں اختیار کی تھی۔ سورة زخرف میں مذکور ہے کہ جب مصر پر کوئی آفت آتی تو فرعون موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کرتا کہ وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ یہ بلا ٹل جائے۔ اگر ان کی دعا سے یہ بلا ٹل گئی تو وہ ان کی بات مان لے گا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے جب وہ بلا ٹل جاتی
تو وہ اپنے وعدے سے پھرجاتا۔ اس کی باربار کی اس روش کا یہ اثر ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی سچائی کا اثر مصر کے لوگوں میں بڑھنے لگا۔ اس سے گھبرا کر فرعون نے قوم کے تمام بااثر افراد کو جمع کیا اور ان کے اندر اپنا اثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–25
ف 2: السبحت وہ ہیں جو سبک سیری مکینوں کی مانند ہیں ۔ اور فالسبقت وہ ہیں کہ تیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اور فالمدبرات سے مراد وہ کواکب ہیں جو اپنی طبعی خاصیتوں کی بنا پر دنیا پر اپنا مستقل اثر قائم کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح گویا ان نجوم کواکب کو انسانی زندگی کے بمنزلہ قرار دیا گیا ہے ۔ کہ بعض لوگ بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں اور ان کی ولادت اور موت کا مطلع ومغرب دور دور ہوتا ہے ۔ بعض وہ ہوتے ہیں جو تھوڑی عمر پاتے ہیں اور ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں ۔ بعض کی زندگی حوادث اور مقابلہ وتقدم سے مبرا ہوتی ہے ۔
اور وہ سبک سیر سیاروں کی طرح فضائے حیات میں تیر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں…
Read the full tafseer →(25) پس اللہ تعالیٰ نے اس کو آخرت اور دنیا دونوں کے عذاب میں گرفتار کیا۔ دنیوی عذاب تو دریا میں غرق کرنا ہے اور آخرت کا عذاب جہنم میں جانا ہے بعض حضرات نے فرمایا اولی اور آخرت سے مراد ماعلمت لکم من الہ غیری اور ناربکم الاعلیٰ کے دونوں کلمے مراد ہیں اور ان دونوں کلموں کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہے مطلب یہ ہے کہ پہلے قول اور دوسرے قول کی سزا میں پکڑا گیا اور گرفتار کیا گیا۔
ہم نے اپنی تیسیر میں حضرت حسن اور حضرت قتادہ ؓ کی تفسیر اختیار کی ہے ۔ واللہ اعلم
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ف 5۔ دنیوی عذاب تو غرق ہے اور اخروی عذاب حرق یعنی آگ میں جلنا ہے۔
Read the full tafseer →پھر اللہ نے فرعون کو دنیا اور آخرت دونوں عذابوں میں مبتلا کر دیا
۔ 25 زیر نظر آیت اختصار ہے اس سارے معاملات و بیانات کا جو میدان میں زینت کے روز موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان پیدا ہوئے اور اس شکست کے بعد جس کو قرآن کریم نے دنیا کا عذاب قرار دیا ہے اور اس کے بعد دریائے نیل میں غرق ہونے کا واقعہ جس میں فرعون اور اس کے سارے لائو لشکر کو غرق کردیا گیا اور قرآن کریم نے اس کو آخرت کے عذاب سے تعبیر کیا ہے۔ تفصیل اس کی عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الاعراف ، جلد چہارم سورة ہود اور جلد ششم سورة الشعرا اور سورة القصص میں گزر چکی ہے یعنی دنیا کے عذاب سے وہ ذلت و رسوائی مراد ہے جو اس کو مجمع عام میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–36
فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ (So, Allah seized him for the deterrent punishment in the Hereafter and the present world....79:25). The word nakal means an 'exemplary punishment' or 'an extremely severe punishment given to an offender to deter others against committing a similar offence or sin'. The phrase 'punishment of the 'akhirah' refers to the punishment of the Hereafter that will be meted out to Fir'aun (the Pharaoh). The phrase 'punishment of the 'al a' refers to the punishment meted out to Fir'aun (the Pharaoh) and his army in this world whereby they were…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
12 "...who fears": who fears the consequences of denying God's Messenger, which the Pharaoh experienced in the past.
Read the full tafseer →