An-Naazi'aat 79:16

An-Naazi'aat · from ayah 16

79:16

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی ۟ۚاِذۡ نَادٰٮهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى‌ۚ‏

جب اُن کے پروردگار نے ان کو پاک میدان (یعنی) طویٰ میں پکارا

— Fateh Muhammad Jalandhari

When his Lord called to him in the sacred valley of Tuwa,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:16

جب اس کے رب نے اُسے طویٰ کی مقدس وادی میں پکارا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب اُن کے پروردگار نے ان کو پاک میدان (یعنی) طویٰ میں پکارا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب کہ انہیں ان کے رب نے پاک میدان طویٰ میں پکارا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جب ان کے پروردگار نے انہیں طوی کی مقدس وادی میں آواز دی تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جب اسے اس کے رب نے پاک جنگل طویٰ میں ندا فرمائی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جب ان کے رب نے طوٰی کی مقدّس وادی میں انہیں پکارا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جب اس کے رب نے اسے مقدس وادی طویٰ میں پکارا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب طویٰ کی مقدس وادی میں انہیں ان کے پروردگار نے پکارا تھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جب کہ اس کے رب نے وادی مقدس۔۔۔ طویٰ۔۔۔ میں اس کو پکارا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جب کہ ان کو پکارا ان کے رب نے اس مقدس وادی یعنی طویٰ (کے ایک پرکیف سماں) میں

— مولانا اسحاق مدنی

(یاد کر وہ وقت) جب انہیں ان کے پروردگار نے ایک پاک میدان (یعنی) طوی میں پکارا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جب اس کو پکارا تھا اس کے پروردگار نے طویٰ کی مقدس وادی میں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب ان کے رب نے ان کو پاک میدان طویٰ میں پکارا

— محترمہ رفعت اعجاز

When his Lord called him in the sacred valley of Tuwa,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Recall) when his Lord called to him in the blessed valley of Tuwa:

— Muhammad Taqi Usmani

(Recall) when his Lord called to him in the blessed valley of Tuwa:

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When his Lord called him in the holy valley of Tuwa,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

How his Lord called him in the holy vale of Tuwa,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

When his Lord called to him in the sacred valley of Tuwa,

— Saheeh International

when his Lord called him in the holy valley of Tuwa,

— Muhammad Sarwar

When his Lord called upon him in the holy valley, twice,

— Muhammad Habib Shakir

Recall what time his Lord called Unto him in the holy vale of Tuwa.

— Abdul Majid Daryabadi

Behold, thy Lord did call to him in the sacred valley of Tuwa:-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 79:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–26

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد ﷺ کو خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہوگیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان ﷺ آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہوگا۔ اسی لئے اس واقعہ کے خاتمہ پر فریاد ڈر والوں کے لئے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ تجھے خبر بھی ہے ؟ موسیٰ ؑ کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے۔ اس کا تفصیل سے بیان سورة طہ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النّٰزِعٰت 7 وادی مقدس طویٰ کے معنی بالعموم مفسرین نے یہ بیان کیے ہیں کہ " وہ مقدس وادی جس کا نام طویٰ تھا "۔ لیکن اس کے علاوہ اس کے دو معنی اور بھی بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ " وہ وادی جو دو مرتبہ مقدس کی گئی "، کیونکہ ایک دفعہ اس وقت مقدس کیا گیا جب پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے وہاں حضرت موسیٰ کو مخاطب فرمایا، اور دوسری دفعہ اسے تقدیس کا شرف اس وقت بخشا گیا جب حضرت موسیٰ مصر سے بنی اسرائیل کو نکال کر اس وادی میں لائے۔ دوسرے یہ کہ " رات کے وقت وادی مقدس میں پکارا "۔ عربی میں محاورہ ہے جاء بعد طوی، یعنی فلاں شخص میرے پاس رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد آیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–24

پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سرگزشت حیات کے اس ماجرے کی طرف اشارہ ہے جب وہ مدین سے واپس ہوتے ہوئے طور کے دامن میں پہنچے ہیں اور آگ کی چمک دیکھ کر آگ لینے یا راستہ معلوم کرنے کے لیے رات کے اندھیرے میں، وادئ طویٰ کی طرف گئے ہیں اور وہاں ان کو ایک درخت سے آواز آئی ہے کہ اے موسیٰ، میں تمہارا رب ہوں۔ میں نے تمہیں ایک کار عظیم کے لیے منتخب کیا تو تم فرعون کے پاس میرے رسول کی حیثیت سے جاؤ اور اس کو میرا پیغام پہنچاؤ۔ یہ سرگزشت یہاں چھوٹی چھوٹی کل بارہ آیتوں میں بیان ہوئی ہے لیکن قرآن کے ایجاز بیان کا اعجاز ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رسول ہونے سے لے کر فرعون کے غرق ہونے تک کے سارے مراحل اس میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ ؑ مدین سے واپسی پر آگ کی تلاش میں کوہ طور پر پہنچ گئے تھے تو وہاں ایک درخت کی اوٹ سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ الالسلام سے کلام فرمایا تھا، جیسا کہ تفصیل سورة طٰہٰ کے آغاز میں گزری۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–19

6: اس سے مراد صحرائے سینا کی وہ وادی ہے جس میں پہلی بار حضرت موسیٰ ؑ کو پیغمبر بنایا گیا۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة طہ : 9 تا 48 اور ان کے حواشی

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اذنادہ ........................ طوی (16:79) ” جب اس کے رب نے اسے طویٰ کی مقدس وادی میں پکارا تھا “۔ راجح قول یہ ہے کہ طویٰ وادی کا نام ہے ، جو شخص شمالی حجاز میں مدین کی طرف سے آئے ، یہ وادی طور کے دائیں جانب پڑتی ہے۔ یہ وقت جس میں اللہ کی جانب سے پکار آئی ، یہ ایک عظیم اور خوف زدہ کرنے والے لمحات ہیں اور عجیب کیفیات کا وقت ہوگا کہ اللہ جل شانہ بذات خود اپنے ایک بندے کو پکار رہا ہوگا اور سوچا جائے تو یہ ایک عظیم بات ہے۔ ان لمحات کی خوفناکیوں کے بیان سے انسانی الفاظ قاصر ہیں۔ اللہ کی عظیم بادشاہت اور حکومت کا یہ ایک راز ہے۔ نیز نفس انسانی کے رازوں میں سے بھی یہ ایک سربستہ رز ہے کہ اللہ نے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16{ اِذْ نَادٰٹہُ رَبُّـہٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی۔ } ”جب اس کو پکارا تھا اس کے پروردگار نے طویٰ کی مقدس وادی میں۔“ یہ واقعہ سورة الاعراف ‘ سورة طٰہ اور سورة القصص میں بہت تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہاں اس چھوٹی سورت میں اس کا ذکر نہایت اختصار کے ساتھ آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

12 نبوت سے سرفرازی :۔ یہ مقدس وادی، جس کا نام طویٰ ہے، کوہ طور کے دامن میں واقع ہے۔ مدین سے مصر یا مصر سے مدین جاتے ہوئے راستہ میں پڑتی ہے۔ اسی مقام پر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا دو دفعہ شرف حاصل ہوا تھا۔ پہلی دفعہ جب وہ اپنے اہل و عیال سمیت مصر جارہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حالات ہی ایسے پیدا کردیئے کہ آپ اس وادی میں آگ دیکھ کر وہاں پہنچ گئے اسی مقام پر اور اسی موقع پر آپ کو منصب نبوت سے نوازا گیا تھا۔ اور دوسری دفعہ جب تورات لینے کی غرض سے وہاں گئے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 16–17

7۔ (اور اس پر دین حق کی تبلیغ کریں) (آیت) ” الوادالمقدس طوی، فرعون “۔ ان سب پر حاشیے گزر چکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–24

فاذا ھم بالساھرۃ، ساھرۃ، سے مراد سطح زمین ہے، قیامت کے دن پوری زمین سطح اور چٹیل میدان ہوجائے گی، نہ کہیں نشیب و فراز ہوگا اور نہ آڑ پہاڑ، اس کے بعد کفار اور منکرین بعث کی ضد سے جو آنحضرت ﷺ کو ایذاء پہنچی تھی اس کا ازالہ فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے کیا گیا ہے کہ مخالفین سے ایذاء پہنچ جانا کچھ آپ ﷺ کے ساتھ خاص نہیں، انبیاء سابقین (علیہم السلام) کو بھی بڑی بڑی اذیتیں دی گئی تھیں انہوں نے صبر کیا آپ ﷺ بھی صبر کیجئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذ ناداہ ربہ بالواد المقدس طوی . حدیث موسیٰ کے مفہوم سے ظرف (اِذْ ) کا تعلق ہے یعنی تمہارے پاس موسیٰ سے تعلق رکھنے والی اس وقت کی بات تو آ ہی چکی ہے۔ جب اللہ نے ان کو وادی مقدس یعنی طویٰ میں نداء دی تھی۔ طویٰ ایک وادی کا نام ہے یا طَیٌّ سے مشتق ہے اور ثُنٰی کی طرح ہے اس وقت یہ نودِیَ یا المقدس کا مفعول مطلق ہوگا یعنی دوبارہ ندا دی یا اس وادی کا تقدس دوہرا تھا۔ بصورت اسمیت الوادی کا عطف بیان ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 15–16

(15۔ 16) کیا آپ کو حضرت موسیٰ کا قصہ پہنچا ہے جبکہ ان کو ان کے پروردگار نے ایک پاک میدان یعنی وادی طوی میں پکارا، انبیاء کا گزر اس وادی پر بکثرت ہوا اس واسطے اس کا یہ نام پڑگیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اذ نادہ ربہ بالواد المقدس طویً :”طوی“ طور سینا کے دامن میں واقع ایک وادی کا نام ہے۔ موسیٰ ؑ پر مدین سے واپسی پر پہلی وحی یہیں اتری۔ دیکھیے سورة طہ (12)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 15–16

ھل اتاک حدیث موسیٰ ۔۔۔ تا۔۔۔۔ لمن یخشٰی۔ ھل اتاک حدیث موسیٰ ، اذ نادی ربہ بالواد المقدس طوی۔ یعنی آپ تک وہ خبر آچکی ہے اور پہنچ چکی ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر نبی کریم کے لیے تسلی کا باعث ہے کیونکہ فرعون آپ کے زمانہ کے کفار سے زیادہ قوی تھا پھر ہم نے اسے پکڑ لیا اسی طرح یہ لوگ ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے ھل بمعنی ما ہے وہ خبر آپ کے پاس نہیں آئی بلکہ آپ کو اس کی خبر دی گئی ہے اس میں ڈرنے والوں کے لیے عبرت ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ کئی مواقع پر گزرچکا ہے جو کافی وشافی ہے۔ طوی میں تین قراتیں ہیں ابن محیصن، ابن عامر اور کو فیوں نے طوی کو تنوین سے پڑھا ہے، ابوعبید نے اسے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–16

46۔ ابوعبید فی فضائل وابن النباری فی الوقف والابتداء وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے سوال کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت فاذاہم بالساہرۃ کے بارے میں۔ تو فرمایا کہ زمین ساری کی ساری ہموار میدان ہے۔ اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ امیہ بن ابی الصلت نے کہا وفیہا لحم ساہرۃ وبھر یعنی اس میں زمین اور سمندری جانوروں کا گوشت ہے۔ قیامت کا میدان 47۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذاہم بالساہرہ میں الساہرہ سے مراد ہے زمین کی سطح اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ زمین ساری کی ساری میدان ہے کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں دیکھا صید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ : جب آواز دی ان (علیہ السلام) کو ان کے رب نے ][ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ : پاک کی ہوئی وادی میں ][ طُوًى: جو طوٰی (کہلاتی) ہے ] نوٹ۔ 2: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت فرمائی گئی تھی کہ تم اور ہارون، دونوں بھائی اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے اور خدا سے ڈرے۔ (طٰہٰ ۔ 44) ۔ اس نرم کلام کا ایک نمونہ تو یہاں آیت۔ 18 ۔ 19 ۔ میں دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مبلغ کو کسی بگڑے ہوئے آدمی کی ہدایت کے لیے کس حکمت کے ساتھ تبلیغ کرنی چاہیے۔ دوسرے نمونے سورة طٰہٰ ۔ آیات 49 تا 52، الشعرائ۔ 23 تا 28 ۔ اور القصص۔ 37 ۔ میں دیئے گئے ہیں۔ یہ منجملہ ان آیات…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–23

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے سے مصر میں رہتے تھے وہاں جو ان کی مظلومیت کا حال تھا اس کی تفصیلات پہلے گزر چکی ہیں ان پر فرعون اور آل فرعون کی طرف سے مظالم کے پہاڑ ٹوٹتے تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان ہی حالات میں وہاں پیدا ہوئے پھر فرعون کے محل میں پلے بڑھے جوان ہوئے ایک اسرائیلی یعنی ان کی قوم کے آدمی اور قبطی (فرعون کی قوم کے ایک فرد) کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے گزر رہے تھے اسرائیلی نے ان سے مدد طلب کی، انہوں نے قبطی کو ایک گھونسہ مار دیا گھونسہ کا لگنا تھا کہ وہ تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا وہیں اس کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–26

ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–19

ف 8: ” ھل اتک “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وادی مقدس طوی میں آواز دی اور نبوت سے سرفراز فرما کر فرعون کی طرف بھیجا اور کہا فرعون کے پاس جاؤ وہ نہایت سرکش اور طاغی ہوچکا ہے۔ اسے نرمی کے ساتھ توحید کی دعوت دو اور اسے ہدایت کی راہ دکھاؤ۔ ” فقل ھل لک “ اسے جا کر کہو کیا تیرا اس طرف میلان ہے کہ تو اللہ کی توحید اور اس کے دین کو قبول کر کے گناہوں سے پاک ہوجائے۔ یہ پہلا مرتبہ ہے مراد یہ ہے کہ معجزہ دیکھے بغیر ہی مان لے۔ ” واھدیک الی ربک فتخشی “ میں تجھے تیرے پروردگار کی راہ دکھاؤں تو تیرے دل میں خوف خدا پیدا ہو۔ یہ دونوں مرتبے دوسری جگہ بھی مذکور ہیں۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” لعلہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–26

(گذشتہ سے پیوستہ ) اس سورة مبارکہ میں حکما کے نقطہ نظر سے وقوع قیامت پر دلیل قائم کی گئی ہے ۔ کفار ومشرکین کہتے تھے کہ کیا مرنے کے بعد ہم پھر پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے ۔ یعنی اسی طرح جسم وروح کے ساتھ زندہ ہوجائیں گے جیسا کہ دنیوی زندگی میں تھے ۔ حالانکہ ہم مر کر عظاما نخرۃ بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اگر ایسا ہوا تو یہ بہت افسوس ناک بات ہوگی ۔ وہ لوگ بعث بعد الممات کو بالکل ناممکن خیال کرتے تھے۔ اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ بیان فرمایا ۔ اس واقعہ سے ایک طرف آپ کو تسلی دلانا مقصود ہے تو دوسری طرف قیامت کا مسئلہ بھی سمجھا دیا ۔ فرعون بھی قیامت کا انکار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذْ نَادٰىہُ رَبُّہٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى۝ 16 ۚ ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–26

ترکیب ¦ ھل استفہامیۃ او بمعنی قدر والجملۃ مستانفۃ لبیان مسئلۃ النبوۃ اذ متعلق بحدیث۔ لاباتاک لا ختلاف وقیتھما طویٰ قریٔ بالتنوین و ترکہ و ھما سبعیتان فمن صرفۃ جعلہ اسم وادٍ و مکانٍ وجعلہ نکرۃ ومن لم یصرفہ جعلہ بلدۃ وبقعۃ وجعلہ معرفۃ وھو وادٍ بین الشام وقلزم وھوبدل من الوادال اذھب ای قال اذھب وقیل ھو تفسیر للنداء تزکی قرء الجہور بالتخفیف وقرأنافع وابن کثیر بتشدید الرائے علی ادغام التاء فی الزای قال ابو عمر و بن العلاء علی الاول مسناہ تکون زکیاء مؤمنا وعلی الثافی الصدقۃ۔ والیٰ متعلقۃ بمحذوف وھو رغبۃ او توجہ وھو مبتدالک خبرہ واھدیک معطوف علی تزکی منصوب بان والفاء فی فتخشی لترتیب الخشیۃ علی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–16

ھَلْ اَتٰـکَ حَدِیْثُ مُوْسٰی۔ اِذْنَادٰہُ رَبُّـہٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی۔ (النازعات : 15، 16) (کیا آپ کو موسیٰ کی سرگزشت پہنچی ہے۔ جب اس کے رب نے اسے وادی مقدس طویٰ میں پکارا۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت سے استشہاد کفارِ مکہ قیامت کا انکار بھی کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کو ماننے سے بھی انکاری تھے۔ بلکہ ان کے انکارِآخرت میں شدت ہی اس لیے پیدا ہوئی تھی کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نبوت اور رسول کی حیثیت سے آپ کی کسی خبر کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس حوالے سے انھیں دو باتیں ارشاد فرمائی جارہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ تمہیں وقوع قیامت بعیدازعقل معلوم ہوتا ہے اور تمہارے خیال میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–26

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والوں میں فرعون بھی شامل تھا اس لیے اس کا دنیا میں برا انجام ہے۔ اہل مکہ قیامت کا بار بار مذاق اڑا رہے تھے اس پر انہیں انتباہ کرنے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والی کشمکش اور اس کے نتیجہ میں فرعون کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا حوالہ دے کر سمجھایا کہ کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کا علم ہے کہ جب طویٰ وادی میں اسے اس کے رب نے فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ ! کیونکہ وہ بڑا باغی بن چکا ہے جس کا بڑا سبب یہ ہے کہ وہ قیامت کا منکر ہے۔ اسے سمجھاؤ کہ کیا تو تیار ہے کہ شرک اور ظلم وستم سے بچنے کی کوشش کرے ؟ میں تیرے رب کی طرف سے تیری…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16 : اِذْنَادٰہُ رَبُّہٗ (جبکہ ان کو ان کے پروردگار نے پکارا) جب ان کو آواز دی بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ (ایک پاک میدان میں) مبارک پاکیزہ طُوًی (یعنی طویٰ میں) یہ میدان کا نام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15 ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ھل اتاک حدیث موسیٰ “ فرماتے ہیں تحقیق آیا ہے اے محمد ! ( ﷺ ) آپ کے پاس موسیٰ کا واقعہ ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–26

15۔ 26۔ اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر اہل مکہ کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرض سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہئے اسی طرح کی تنبیہ کے مطلب کو اللہ تعالیٰ نے سورة الم سجدہ میں ان لفظوں سے ادا فرمایا ہے۔ ولنذیقنھم من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى) جب ان کے رب نے انہیں پاک میدان طوی میں پکارا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے کلام کیا انہیں رسالت سے سرفراز فرمایا انہیں وحی کے ساتھ مبعوث کیا اور انہیں اپنے لیے چن لیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–16

(11) منکرین کے طنز و مذاق کا ایک نمونہ و مظہر : سو اپنے طنز و مذاق میں سنجیدگی کا انداز اختیار کر کے یہ لوگ کہتے کہ تب تو یہ واپسی بڑی گھاٹے کی ہوگی، کہ ہمارے دنیاوی مال و دولت کو تو دوروں نے اپنا لیا ہوگا، اور آخرت کے لیے ہم نے کچھ کیا نہیں ہوگا کہ ہم اسے مانتے ہی نہیں تھے۔ سو یہ سب کچھ وہ لوگ تمسخر و استہزاء کے طور پر کہتے تھے کہ ایسا نہیں ہونے کا۔ بلکہ یہ سب کچھ یونہی خیالی اور فرضی باتیں ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو منکر لوگ اس طرح کی بات سنجیدہ موڈ بنا کر کہتے لیکن اسی کے اندر ان کے باطن کی حالت و کیفیت کی عکاسی و غمازی بھی پائی جاتی ہے کہ قیامت کی تکذیب پر ان کا دل مطمئن نہیں تھا، وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–26

فرعون کا انکار اور تباہی تشریح : اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ پرانے قصے قران پاک میں بار بار بیان کئے جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے مگر ہر دفعہ کسی مختلف وجہ کے لیے بیان کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ یہاں آخرت کے انکار کرنے والوں کو سبق دینے کے لیے فرعون کا بیان سنایا گیا ہے۔ کہ اللہ کی سچائیوں کو ماننے سے جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کا حال دنیا و آخرت میں ایسے ہی خراب ہوتا ہے جیسا فرعون کا حال ہوا۔ پہلے غرق کردیا گیا مگر لاش انتہائی خوفناک حالات میں دنیا کے سامنے ڈال دی گئی جو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے اور اللہ کی قدرت اور حاکمیت کا یقین دلانے کے لیے لوگوں کے سامنے موجود رکھ دی گئی ہے جو یوں تو معمول کے بالکل خلاف ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اپنے گھروالوں کے ساتھ مدین سے مصر آرہے تھے اور ایک پہاڑ پر آگ جلتی دیکھ کر اس کی طرف گئے تھے۔ (طہ :1009 ۔ سورة قصص :29)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:16) اذ نادہ ربہ بالواد المقدس طوی : اذ ظرف زمان ہے دونوں میں اختلاف کے مدنظر اس کا تعلق حدیث سے ہے نہ کہ اتک سے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع موسیٰ ہے۔ نادی : نداء سے (باب افعال) مصدر سے ماضٰ کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے ۔ ب ظرفیت کے لئے ہے۔ الواد المقدس : موصوف صفت۔ مقدس وادی۔ طوی اس کا نام ہے جو الواد کا عطف بیان ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ آپ کے پاس موسیٰ سے تعلق رکھنے والی اس وقت کی بات تو آہی چکی ہوگی جب اللہ نے ان کو وادی مقدس (یعنی) طوی میں پکارا تھا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–26

(ف 3) اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر کفار کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرج سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہے یہ قصہ کئی جگہ مفصل گذرچکا ہے اور اسی طرح تنبیہ کے مطلب کو اللہ نے سورة الم سجدہ میں فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–25

ف 2: السبحت وہ ہیں جو سبک سیری مکینوں کی مانند ہیں ۔ اور فالسبقت وہ ہیں کہ تیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اور فالمدبرات سے مراد وہ کواکب ہیں جو اپنی طبعی خاصیتوں کی بنا پر دنیا پر اپنا مستقل اثر قائم کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح گویا ان نجوم کواکب کو انسانی زندگی کے بمنزلہ قرار دیا گیا ہے ۔ کہ بعض لوگ بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں اور ان کی ولادت اور موت کا مطلع ومغرب دور دور ہوتا ہے ۔ بعض وہ ہوتے ہیں جو تھوڑی عمر پاتے ہیں اور ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں ۔ بعض کی زندگی حوادث اور مقابلہ وتقدم سے مبرا ہوتی ہے ۔ اور وہ سبک سیر سیاروں کی طرح فضائے حیات میں تیر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) جبکہ اس کو اس کے پروردگار نے طویٰ نامی ایک مقدس میدان میں پکارا۔ طویٰ ایک وادی کا نام ہے جو طور کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے، سورة طہٰ میں تفصیل ملاحظہ ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–24

ف 4۔ کیونکہ ہم نے تو اس کے لئے کچھ سامان کیا نہیں، مقصود اس سے تمسخر تھا اہل حق کے اس عقیدہ کے ساتھ یعنی مسلمانوں کے عقیدہ پر تو ہم بڑے خسارہ میں ہوں گے جیسے کوئی شخص کسی کو خیر خواہی سے ڈرائے کہ اس راہ مت جانا، شری ملے گا اور مخاطب تکذیب کے طور پر کسی سے کہے کہ بھائی ادھر مت جانا شیر کھا جائے گا۔ مطلب یہ کہ قیامت کوئی چیز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب اس کے رب نے طویٰ کی مقدس وادی میں اس کو آواز دی ۔ 16 غرض موسیٰ (علیہ السلام) اپنے خسر کے یہاں مدت اجارہ پوری کرنے کے بعد جو آٹھ دس سال تھی بعد میں کچھ مزید وقت رہے یا نہیں سیرت نگار دونوں طرح کے دلائل دیتے ہیں لیکن ہمیں اس جگہ اس سے بحث نہیں بحث فقط یہ ہے کہ انجام کار موسیٰ (علیہ السلام) اپنی بیوی اور بچوں کو ساتھ لے کر مصر کی طرف واپس آنے کے لئے نکلے ظاہر ہے کہ یہ قافلہ کئی دن تک چل کر ہی مصر پہنچ سکتا تھا۔ یہ لوگ جب مصر کو روانہ ہوئے تو راستے میں ایک جگہ رات گزارنے کے لئے پڑائو کیا ، سردیوں کا موسم تھا آپ اور آپ کا خاندان سردی سے ٹھٹھر رہا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دور وادی میں ایک جگہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–24

The fifth quality of the angels: فَالْمُدَبِّرَ‌اتِ أَمْرً‌ا (then manage [ to do ] everything [ they are ordered to do,]...79:5). In other words, the last task of these angels of death will be as follows: Those who are commanded to reward and comfort the deserving souls, will gather means of reward and comfort for them; and those who are commanded to punish and cause pain to [ the evil souls ] will organize means for that. Reward and Punishment in the Grave The Surah thus far confirms that at the time of death, the angels will arrive and extract human souls. Then they will take them to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

6 As the denial of the Resurrection and Hereafter by the disbelievers of Makkah and their mockery of it was not, in fact, rejection of a philosophy but belying Allah's Messengers, and the tricks that they were employing against the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) were not against an ordinary man but were meant to frustrate the mission of Allah's Messenger, the story of the Prophet Moses and the Pharaoh is being related before giving additional arguments for the occurrence of the Hereafter so that they are warned of the consequences of fighting with the Messenger and resisting the…

Read the full tafseer →