Explained with ayahs 15–26
معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے
اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد ﷺ کو خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہوگیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان ﷺ آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہوگا۔ اسی لئے اس واقعہ کے خاتمہ پر فریاد ڈر والوں کے لئے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ تجھے خبر بھی ہے ؟ موسیٰ ؑ کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے۔ اس کا تفصیل سے بیان سورة طہ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
سورة النّٰزِعٰت 8
یہاں چند باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہیں
(1) حضرت موسیٰ کو منصب نبوت پر مقرر کرتے وقت جو باتیں ان کے اور اللہ کے درمیان ہوئی تھیں ان کو قرآن مجید میں حسب موقع کہیں مختصر اور کہیں مفصل بیان کیا گیا ہے۔ یہاں موقع اختصار کا طالب تھا، اس لیے ان کا صرف خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ سورة طہٰ ، آیات 9 تا 48، سورة شعراء آیات 10 تا 17، سورة نمل، آیات 7 تا 12، اور سورة قصص، آیات 29 تا 35 میں ان کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔
(2) فرعون کی جس سرکشی کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد بندگی کی حد سے تجاوز کر کے خالق اور خلق، دونوں کے مقابلے میں سرکشی کرنا ہے۔ خالق کے مقابلے میں اس سرکشی کا ذکر تو آگے آ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب
موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی…
Read the full tafseer →یہ وہ پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ اس نے بہت سر اٹھایا ہے۔ ’طَغٰی‘ سے مراد یہاں اس کے رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ اور بنی اسرائیلیوں کے ساتھ جبارانہ رویہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خدائی میں کسی کا یہ دعویٰ کہ وہ لوگوں کا رب اعلیٰ ہے سب سے بڑی بغاوت ہے۔ اس بغاوت کی سرکوبی کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی خاص سند کے ساتھ اس کے پاس بھیجا کہ وہ پہلے اس کو نرمی کے ساتھ راہ راست اختیار کرنے کی دعوت دیں، اگر سمجھ جائے تو فبہا ورنہ اس کے انجام سے اس کو آگاہ کر دیں۔
Read the full tafseer →17۔ 1 یعنی کفر و معصیت اور تکبر میں حد سے تجاوز کر گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
6: اس سے مراد صحرائے سینا کی وہ وادی ہے جس میں پہلی بار حضرت موسیٰ ؑ کو پیغمبر بنایا گیا۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة طہ : 9 تا 48 اور ان کے حواشی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
اذھب .................... فتخشیٰ (19:79) ” فرعون کے پاس جاوہ سرکش ہوگیا ہے ، اور اس سے کہہ کیا تو اس کے لئے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو ؟ “۔
اذھب .................... طغی (17:79) ”’ فرعون کے پاس جاﺅوہ سرکش ہوگیا ہے “۔ سرکشی ایسا گناہ ہے کہ اسے واقع ہی نہیں ہونا چاہئے اور اگر یہ سرزد ہوجائے تو اسے باقی نہیں رہنا چاہئے۔ یہ ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ اللہ سرکشی کو پسند نہیں کرتا ، سرکشی کے نتیجے میں بیشمار مکروہات جنم لیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بلند ترین انبیاء میں سے ایک ممتاز نبی کو صرف اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
3 یعنی اگر تجھے سنورنے کی خواہش ہو تو اللہ کے حکم سے سنوار سکتا ہوں اور ایسی راہ بتاسکتا ہوں جس پر چلنے سے تیرے دل میں اللہ کا خوف اور اس کی کامل معرفت جم جائے کیونکہ خوف کا ہونا بدون کمال معرفت کے متصور نہیں۔ معلوم ہوا حضرت موسیٰ کی بعثت کا مقصد فرعون کی اصلاح بھی تھی۔ محض بنی اسرائیل کو قید سے چھڑانا ہی نہ تھا۔
Read the full tafseer →آیت 17{ اِذْہَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی۔ } ”کہ جائو فرعون کے پاس ‘ وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔“
حضرت موسیٰ علیہ السلام اس حکم کے تحت اللہ تعالیٰ کے رسول کی حیثیت سے فرعون کے پاس گئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
13 فرعون کے پاس جانے کا حکم :۔ نبوت عطا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر جو ذمہ داری لگائی وہ آپ کے لیے بڑی کڑی آزمائش تھی۔ آپ کے ہاتھ سے اتفاقاً ایک قبطی کی موت واقع ہوگئی تھی ایک خیر خواہ کی اطلاع پر کہ آپ کے قتل کے مشورے فرعونی پارلیمنٹ میں ہو رہے ہیں آپ عارضی طور پر مدین کی جانب چلے گئے اس وجہ سے فرعون کی حکومت آپ کو مجرم سمجھتی تھی۔ آپ کا نام ریکارڈ پر موجود تھا۔ علاوہ ازیں فرعون ایک انتہائی مغرور اور سرکش حکمران تھا جسے اس قسم کا پیغام پہنچانا بذات خود جان جوکھوں کا کام تھا۔ ان خطرات کا موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کے دوران اظہار بھی کیا تھا اور یہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
7۔ (اور اس پر دین حق کی تبلیغ کریں) (آیت) ” الوادالمقدس طوی، فرعون “۔ ان سب پر حاشیے گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–24
فاذا ھم بالساھرۃ، ساھرۃ، سے مراد سطح زمین ہے، قیامت کے دن پوری زمین سطح اور چٹیل میدان ہوجائے گی، نہ کہیں نشیب و فراز ہوگا اور نہ آڑ پہاڑ، اس کے بعد کفار اور منکرین بعث کی ضد سے جو آنحضرت ﷺ کو ایذاء پہنچی تھی اس کا ازالہ فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے کیا گیا ہے کہ مخالفین سے ایذاء پہنچ جانا کچھ آپ ﷺ کے ساتھ خاص نہیں، انبیاء سابقین (علیہم السلام) کو بھی بڑی بڑی اذیتیں دی گئی تھیں انہوں نے صبر کیا آپ ﷺ بھی صبر کیجئے۔
Read the full tafseer →اذھب الی فرعون انہ طغی . یہ نادیٰ کا بیان ہے یعنی موسیٰ کے جانے سے کچھ پہلے اللہ نے ان سے کہا کہ
فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ وہ حد سے آگے بڑھ چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(17۔ 20) کہ تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑا تکبر اور کفر اختیار کیا ہے اور اس سے کہو کہ اے فرعون کیا تجھے اس بات کی خواہش ہے کہ تو درست ہوجائے اور توحید خداوندی کا قائل ہوجائے اور میں تجھ کو تیرے پروردگار کی طرف بلاؤں تو تو اس سے ڈرنے لگے اور اسلام قبول کرے، پھر موسیٰ نے اس کو بڑی نشانی یعنی عصا اور ید بیضا دکھایا تو اس نے اس کے اللہ کی جانب سے ہونے کو جھٹلایا اور اسے قبول نہیں کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
19(1) اذھب الی فرعون…: فرعون کے پاس جانے کا حکم دینے کے ساتھ اسے دی جانے والی دعوت بھی سکھلائی، دعوت کے الفاظ میں اختصار کے باوجود نرمی اور ترغیب و ترہیب واضح طور پر نمایاں ہیں۔ سورة طہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہ اورن ؑ کو فرمایا تھا :(فقولا لہ قولاً لیناً لعلہ یتذکراویخشی) (طہ : 33)”فرعون سے نرم بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈر جائے۔“
(2) انہ طغی :”یقیناً وہ حد سے بڑھ گیا ہے۔“ فرعون کا حد سے بڑھنا ایک تو بندگی کی حد سے بڑھ کر یہ کہنا تھا کہ میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں، دوسرا خلق خدا پر اس کی طغیانی یہ تھی کہ اس نے قوم کو طبقوں میں تقسیم کر کے اپنا غلام بنا رکھا تھا۔ خصوصاً بنی…
Read the full tafseer →اذھب الی فرعون انہ طغی۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے رب نے انہیں ندا کی کہ فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی کی ہے تو کلام سے ایک جز کو حذف کردیا گیا کیونکہ ندا بھی ایک قول ہے گویا ان کے رب نے انہیں ارشاد فرمایا فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی کی۔ یعنی اس نے نافرمانی میں حد سے تجاوز کیا، حضرت حسن بصری سے مروی ہے کہ فرعون ہمدان کا رہنے والاچھوٹے قد کا مضبوط آدمی تھا مجاہد نے کہا، اصطخر کا رہنے والا تھا، حضرت حسن بصری سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ اصفہان کا رہنے والا تھا، جسے ذو ظفر کہتے ہیں اس کی لمبائی چار بالشت تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–27
1۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذہب الی فرعون انہ طغی۔ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے۔ یعنی نافرمانی کی۔ آیت فاراہ الاٰیۃ الکبری۔ پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔ یعنی اپنی لاٹھی اور اپنا ہاتھ آیت ثم ادبر یسعی۔ پھر کوشش کرتا ہوا واپس لوٹا یعنی پھر وہ فساد کے اعمال کرنے لگا۔ آیت فاخذہ اللہ نکال الاٰخرۃ والاولیٰ پھر اللہ نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لی ادنیا کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارے لیے اپنے علاوہ کسی اور کو معبود نہیں جانتا۔ اور آخرت کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارا بڑا رب ہوں۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن…
Read the full tafseer →[اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ : (اور کہا کہ) آپ (علیہ السلام) جائیں فرعون کی طرف ][ انهٗ طَغٰى: بیشک اس نے سرکشی کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے سے مصر میں رہتے تھے وہاں جو ان کی مظلومیت کا حال تھا اس کی تفصیلات پہلے گزر چکی ہیں ان پر فرعون اور آل فرعون کی طرف سے مظالم کے پہاڑ ٹوٹتے تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان ہی حالات میں وہاں پیدا ہوئے پھر فرعون کے محل میں پلے بڑھے جوان ہوئے ایک اسرائیلی یعنی ان کی قوم کے آدمی اور قبطی (فرعون کی قوم کے ایک فرد) کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے گزر رہے تھے اسرائیلی نے ان سے مدد طلب کی، انہوں نے قبطی کو ایک گھونسہ مار دیا گھونسہ کا لگنا تھا کہ وہ تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا وہیں اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔
(ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
ف 8: ” ھل اتک “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وادی مقدس طوی میں آواز دی اور نبوت سے سرفراز فرما کر فرعون کی طرف بھیجا اور کہا فرعون کے پاس جاؤ وہ نہایت سرکش اور طاغی ہوچکا ہے۔ اسے نرمی کے ساتھ توحید کی دعوت دو اور اسے ہدایت کی راہ دکھاؤ۔ ” فقل ھل لک “ اسے جا کر کہو کیا تیرا اس طرف میلان ہے کہ تو اللہ کی توحید اور اس کے دین کو قبول کر کے گناہوں سے پاک ہوجائے۔ یہ پہلا مرتبہ ہے مراد یہ ہے کہ معجزہ دیکھے بغیر ہی مان لے۔ ” واھدیک الی ربک فتخشی “ میں تجھے تیرے پروردگار کی راہ دکھاؤں تو تیرے دل میں خوف خدا پیدا ہو۔ یہ دونوں مرتبے دوسری جگہ بھی مذکور ہیں۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” لعلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
(گذشتہ سے پیوستہ )
اس سورة مبارکہ میں حکما کے نقطہ نظر سے وقوع قیامت پر دلیل قائم کی گئی ہے ۔ کفار ومشرکین کہتے تھے کہ کیا مرنے کے بعد ہم پھر پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے ۔ یعنی اسی طرح جسم وروح کے ساتھ زندہ ہوجائیں گے جیسا کہ دنیوی زندگی میں تھے ۔ حالانکہ ہم مر کر عظاما نخرۃ بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اگر ایسا ہوا تو یہ بہت افسوس ناک بات ہوگی ۔ وہ لوگ بعث بعد الممات کو بالکل ناممکن خیال کرتے تھے۔ اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ بیان فرمایا ۔ اس واقعہ سے ایک طرف آپ کو تسلی دلانا مقصود ہے تو دوسری طرف قیامت کا مسئلہ بھی سمجھا دیا ۔ فرعون بھی قیامت کا انکار…
Read the full tafseer →اِذْہَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰى 17 ۡ ۖ
ذهب
الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ويستعمل ذلک في الأعيان والمعاني، قال اللہ تعالی: وَقالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] ،
( ذ ھ ب ) الذھب
ذھب ( ف) بالشیء واذھبتہ لے جانا ۔ یہ اعیان ومعانی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں ۔
إلى
إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ترکیب ¦ ھل استفہامیۃ او بمعنی قدر والجملۃ مستانفۃ لبیان مسئلۃ النبوۃ اذ متعلق بحدیث۔ لاباتاک لا ختلاف وقیتھما طویٰ قریٔ بالتنوین و ترکہ و ھما سبعیتان فمن صرفۃ جعلہ اسم وادٍ و مکانٍ وجعلہ نکرۃ ومن لم یصرفہ جعلہ بلدۃ وبقعۃ وجعلہ معرفۃ وھو وادٍ بین الشام وقلزم وھوبدل من الوادال اذھب ای قال اذھب وقیل ھو تفسیر للنداء تزکی قرء الجہور بالتخفیف وقرأنافع وابن کثیر بتشدید الرائے علی ادغام التاء فی الزای قال ابو عمر و بن العلاء علی الاول مسناہ تکون زکیاء مؤمنا وعلی الثافی الصدقۃ۔ والیٰ متعلقۃ بمحذوف وھو رغبۃ او توجہ وھو مبتدالک خبرہ واھدیک معطوف علی تزکی منصوب بان والفاء فی فتخشی لترتیب الخشیۃ علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
اِذْھَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّـہٗ طَغٰی۔ فَقُلْ ھَلْ لَّـکَ اِلٰٓی اَنْ تَزَکّٰی۔ وَاَھْدِیَکَ اِلٰی رَبِّکَ فَتَخْشٰی۔ (النازعات : 17 تا 19)
(کہ تم فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہوگیا ہے۔ اور اس سے کہو کیا تم میں کچھ اپنے کو سدھارنے کا جذبہ ہے ؟ کیا میں تمہیں تمہارے رب کی راہ دکھائوں کہ تم اس سے ڈرنے لگو۔ )
فرعون کی سرکشی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہمدردانہ دعوت
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو منصب نبوت پر مقرر کرتے وقت جو حکم دیا گیا یہ اس کا بیان ہے۔ وہ حکم یہ تھا کہ تم فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ فرعون کی سرکشی کے دو پہلو تھے۔ ایک تو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تھا۔ یعنی وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والوں میں فرعون بھی شامل تھا اس لیے اس کا دنیا میں برا انجام ہے۔
اہل مکہ قیامت کا بار بار مذاق اڑا رہے تھے اس پر انہیں انتباہ کرنے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والی کشمکش اور اس کے نتیجہ میں فرعون کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا حوالہ دے کر سمجھایا کہ کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کا علم ہے کہ جب طویٰ وادی میں اسے اس کے رب نے فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ ! کیونکہ وہ بڑا باغی بن چکا ہے جس کا بڑا سبب یہ ہے کہ وہ قیامت کا منکر ہے۔ اسے سمجھاؤ کہ کیا تو تیار ہے کہ شرک اور ظلم وستم سے بچنے کی کوشش کرے ؟ میں تیرے رب کی طرف سے تیری…
Read the full tafseer →17 : اِذْھَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ (کہ تم فرعون کے پاس جائو) یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو فرعون کے پاس جا۔ اِنَّہٗ طَغٰی (اس نے بڑی شرارت اختیار کی) وہ کفر و فساد میں حد سے تجاوز کرچکا ہے۔
Read the full tafseer →16 ۔” اذناداہ ربہ بالواد المقدس طویٰ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
15۔ 26۔ اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر اہل مکہ کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرض سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہئے اسی طرح کی تنبیہ کے مطلب کو اللہ تعالیٰ نے سورة الم سجدہ میں ان لفظوں سے ادا فرمایا ہے۔ ولنذیقنھم من…
Read the full tafseer →(اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى) فرعون کے پاس جاؤ، وہ سرکش ہو رہا ہے۔ اسے نہایت نرم بات اور پر لطف خطاب کے ذریعے سے اس کی سرکشی، شرک اور نافرمانی سے روکو شاید کہ وہ (یتذکر او یخشی۔ طہ 44) نصیحت پکڑے یا ڈرے۔
Read the full tafseer →( 14) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے پیغام حق کی تبلیغ کا حکم و ارشاد : سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف نبوت و رسالت سے سرفراز فرمانے کے بعد جس پیغام حق کی ہدایت فرمائی گئی وہ یہ تھا کہ " جاؤ فرعون کی طرف یقینا وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے " اور حدود بندگی سے نکل کر خدائی کا دعویدار بن گیا ہے جو کہ سب سے بڑی سرکشی ہے، جس کے نتیجے میں بالآخر اس کو ایک نہایت ہی ہولناک عذاب میں پکڑا گیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ کی خدائی میں کسی کا یہ دعوی کرنا کہ وہ لوگوں کا رب اعلی ہے، سب سے بڑی بغاوت و سرکشی ہے، سو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی خاص سند کے ساتھ اس بغاوت کی سرکوبی کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
فرعون کا انکار اور تباہی
تشریح : اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ پرانے قصے قران پاک میں بار بار بیان کئے جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے مگر ہر دفعہ کسی مختلف وجہ کے لیے بیان کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ یہاں آخرت کے انکار کرنے والوں کو سبق دینے کے لیے فرعون کا بیان سنایا گیا ہے۔ کہ اللہ کی سچائیوں کو ماننے سے جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کا حال دنیا و آخرت میں ایسے ہی خراب ہوتا ہے جیسا فرعون کا حال ہوا۔ پہلے غرق کردیا گیا مگر لاش انتہائی خوفناک حالات میں دنیا کے سامنے ڈال دی گئی جو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے اور اللہ کی قدرت اور حاکمیت کا یقین دلانے کے لیے لوگوں کے سامنے موجود رکھ دی گئی ہے جو یوں تو معمول کے بالکل خلاف ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة نازعات۔
آیات 1 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی بندگی کی حدود سے نکل کر خدائی تک کا دعویٰ کرنے لگا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(79:17) اذھب الی فرعون انہ طغی : یہ جملہ نداء کی تفسیر ہے یا اس سے قبل وقال محذوف ہے۔ اور (اس سے) کہا کہ فرعون کی طرف جاؤ ۔۔ الخ۔
طغی : طغیان (باب فتح) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے جب نگاہ اپنی حد سے نکل جاتی ہے تو بہکنے لگتی ہے اور اسی طرح پانی جب اپنی حد سے متجاوز ہوتا ہے تو طغیانی آجاتی ہے۔ طغی کا استعمال ان دونوں معنوں میں اسی اعتبار سے ہے۔
انہ طغی : ای تجاوز الحد فی الکفر والفساد۔ کفر اور فساد میں حد سے نکل گیا ہے۔
طغیان مصدر سے جب فعل وادی ہوتا ہے تو باب نصر سے آتا ہے طغی یطغوا طغیان۔ اور جب فعل یائی ہوتا ہے تو فتح اور سمع دونوں سے آتا ہے ۔ طغی یطغی طغیان وطغی یطغی طغیان۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن
النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
(ف 3) اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر کفار کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرج سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہے یہ قصہ کئی جگہ مفصل گذرچکا ہے اور اسی طرح تنبیہ کے مطلب کو اللہ نے سورة الم سجدہ میں فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
[5] یعنی کوہ طور کے پاس۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–25
ف 2: السبحت وہ ہیں جو سبک سیری مکینوں کی مانند ہیں ۔ اور فالسبقت وہ ہیں کہ تیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اور فالمدبرات سے مراد وہ کواکب ہیں جو اپنی طبعی خاصیتوں کی بنا پر دنیا پر اپنا مستقل اثر قائم کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح گویا ان نجوم کواکب کو انسانی زندگی کے بمنزلہ قرار دیا گیا ہے ۔ کہ بعض لوگ بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں اور ان کی ولادت اور موت کا مطلع ومغرب دور دور ہوتا ہے ۔ بعض وہ ہوتے ہیں جو تھوڑی عمر پاتے ہیں اور ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں ۔ بعض کی زندگی حوادث اور مقابلہ وتقدم سے مبرا ہوتی ہے ۔
اور وہ سبک سیر سیاروں کی طرح فضائے حیات میں تیر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں…
Read the full tafseer →(17) کہ تم فرعون کے پاس جائو کیونکہ وہ حد سے تجاوز کر گیا ہے - یعنی شرارت میں حد سے بہت آگے نکل گیا ہے اور بڑی شرارت پر اترآیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–24
ف 4۔ کیونکہ ہم نے تو اس کے لئے کچھ سامان کیا نہیں، مقصود اس سے تمسخر تھا اہل حق کے اس عقیدہ کے ساتھ یعنی مسلمانوں کے عقیدہ پر تو ہم بڑے خسارہ میں ہوں گے جیسے کوئی شخص کسی کو خیر خواہی سے ڈرائے کہ اس راہ مت جانا، شری ملے گا اور مخاطب تکذیب کے طور پر کسی سے کہے کہ بھائی ادھر مت جانا شیر کھا جائے گا۔ مطلب یہ کہ قیامت کوئی چیز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →اے موسیٰ فرعون کے پاس جا کر وہ حد سے بہت ہی تجاوز کر گیا ہے
۔ 17 اس واقعہ کی تفصیلات پیچھے سورة الاعراف ، سورة ہود اور سورة الشعراء میں گزر چکی ہیں اس لئے اس جگہ اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ فرمایا آپ کو اس طرف متوجہ کرنے کے لئے یہ روشنی دکھائی گئی اب آپ آگئے ہیں تو ہمارا پیغام سن لیں کہ آپ مصر جا رہے ہیں اپنے خاندان والوں کے پاس لیکن ہماری ہدایت یہ ہے کہ آپ اب جائیں فرعون وقت کے پاس کہ اس نے ساری حدود کو پھلانگ دیا ہے اور اب میرے پروگرام میں ہے کہ آپ کے ذریعہ قوم بنی اسرائیل کو نئی زندگی بخشی جائے ۔ فرعون کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی ہدایت کرو اور اگر وہ آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
The fifth quality of the angels:
فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا (then manage [ to do ] everything [ they are ordered to do,]...79:5). In other words, the last task of these angels of death will be as follows: Those who are commanded to reward and comfort the deserving souls, will gather means of reward and comfort for them; and those who are commanded to punish and cause pain to [ the evil souls ] will organize means for that.
Reward and Punishment in the Grave
The Surah thus far confirms that at the time of death, the angels will arrive and extract human souls. Then they will take them to the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
7 According to general opinion among the commentators "the sacred . valley of 'Tuwa" means "the sacred valley which was named Tuwa". But, besides this, two other meanings of it also have been given: (1) "The valley that was blessed and made sacred twice" . for it was first made sacred when Allah spoke to Moses in it for the first time, and it was blessed and made sacred for the second time when the Prophet Moses led the children of Israel out of Egypt and brought them into it; and (2) "called out to him in the sacred valley in the night," and this is according to the meaning of tuwa in the…
Read the full tafseer →