هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰی ۟ۘهَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰىۘ
بھلا تم کو موسیٰ کی حکایت پہنچی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Has there reached you the story of Moses? -
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰی ۟ۘهَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰىۘ
بھلا تم کو موسیٰ کی حکایت پہنچی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Has there reached you the story of Moses? -
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat
کیا تمہیں موسیٰؑ کے قصے کی خبر پہنچی ہے؟
بھلا تم کو موسیٰ کی حکایت پہنچی ہے
کیا موسیٰ ؑ کی خبر تمہیں پہنچی ہے؟
(اے پیغمبر) کیا تمہیں موسیٰ کا واقعہ پہنچا ہے ؟
کیا تمہیں موسیٰ کی خبر آئی
کیا آپ کے پاس موسٰی ؑ کی خبر پہنچی ہے،
کیا تیرے پاس موسیٰ کی بات پہنچی ہے ؟
کیا آپ کو موسیٰ کی خبر پہنچی ہے ؟
کیا موسیٰ کی سرگزشت تمہیں پہنچی ہے ؟
کیا تمہارے پاس موسیٰ کا قصہ بھی پہنچا ؟
آپ کو موسیٰ ؑ کا بھی قصہ پہنچا ہے ؟۔
کیا آپ تک موسیٰ کی خبر پہنچی ہے ؟
بھلا تم کو موسیٰ کی حکایت پہنچی ہے ؟
Has Moses' story reached you?
Has there come to you the narrative about Musa?
Has there come to you the narrative about Musa?
Has there come to you the story of Musa
Hath there come unto thee the history of Moses?
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Has there reached you the story of Moses? -
(Muhammad), have you heard the story of Moses
Has not there come to you the story of Musa?
Hath there come Unto thee the story of Musa!
Has the story of Moses reached thee?
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 15–26
معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد ﷺ کو خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہوگیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان ﷺ آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہوگا۔ اسی لئے اس واقعہ کے خاتمہ پر فریاد ڈر والوں کے لئے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ تجھے خبر بھی ہے ؟ موسیٰ ؑ کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے۔ اس کا تفصیل سے بیان سورة طہ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ…
Read the full tafseer →سورة النّٰزِعٰت 6 چونکہ کفار مکہ کا قیامت اور آخرت کو نہ ماننا اور اس کا مذاق اڑانا دراصل کسی فلسفے کو رد کرنا نہیں تھا بلکہ اللہ کے رسول کو جھٹلانا تھا، اور جو چالیں وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف چل رہے تھے وہ کسی عام آدمی کے خلاف نہیں بلکہ اللہ کے رسول کی دعوت کو زک دینے کے لیے تھیں، اس لیے وقوع آخرت کے مزید دلائل دینے سے پہلے ان کو حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ سنایا جا رہا ہے تاکہ وہ خبردار ہوجائیں کہ رسالت سے ٹکرانے اور رسول کے بھیجنے والے خدا کے مقابلے میں سر اٹھانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی…
Read the full tafseer →تکذیب رسول کے نتیجہ میں جو عذاب آتا ہے اس کی شہادت: اوپر کے پیرے میں عذاب قیامت کی تصویر تھی۔ اب یہ اس عذاب کی تاریخی شہادت کا حوالہ ہے جس سے رسولوں کے جھٹلانے والوں کو اس دنیا میں سابقہ پیش آیا ہے۔ اس کے لیے حضرت موسیٰؑ اور فرعون کی سرگزشت کا انتخاب فرمایا ہے جو سب سے زیادہ مشہور و معروف شہادت ہے۔ ’ہَلْ اَتٰکَ‘ کا سوال محض سرگزشت کی عبرتوں کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہے اور واحد کا خطاب ضروری نہیں کہ آنحضرت ﷺ ہی سے ہو بلکہ ہم جگہ جگہ وضاحت کرتے آ رہے ہیں کہ یہ خطاب عام بھی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ سرگزشت کے آخر میں فرمایا بھی ہے کہ ’إِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّمَنْ یَخْشٰی‘ (بے شک اس سرگزشت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
14۔ 1 یہ قیامت کی منظر کشی ہے کہ ایک ہی نفخے سے سب لوگ ایک میدان میں جمع ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
5: مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں واقعی دوبارہ زندہ کیا گیا تو یہ ہمارے لیے گھاٹے کا سودا ہوگا، کیونکہ اس دوسری زندگی کے لیے ہم نے کوئی تیاری نہیں کر رکھی ہے۔
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ قرآن کریم میں بار بار آیا ہے۔ اور اس کی بہت تفصیلات دی گئی ہیں۔ اس سے قبل کی سورتوں میں اس کی تفصیلات گزر چکی ہیں۔ ہر جگہ اس قصے کا حصہ آیا ہے۔ مختلف انداز اور مختلف اسلوب بیان میں آیا ہے۔ ہر جگہ قصے کا وہ حصہ اور اس انداز میں آیا ہے ، جس کی ضرورت ہو اور جو موضوع ومحل کے مناسب ہو۔ اس قصے کے بیان میں قرآن کریم کا اسلوب بیان اپنے عروج پر ہوتا ہے اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز ہے کہ وہ قصے کو نہایت برمحل اور مناسب انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہاں یہ قصہ نہایت اختصار کے ساتھ آیا ہے ، اس کے مناظر جھلکیوں کی شکل میں بڑی تیزی سے گزرجاتے ہیں۔ کوہ طور کی وادی مقدس میں حضرت…
Read the full tafseer →1 یہ قصہ کئی جگہ مفصل گزر چکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت 14{ فَاِذَا ہُمْ بِالسَّاہِرَۃِ۔ } ”تو وہ سب کے سب ایک چٹیل میدان میں ہوں گے۔“ نفخہ ثانیہ کے بعد سب کے سب انسان زندہ ہو کر میدانِ حشر میں جمع ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →11 قصہ موسیٰ و فرعون :۔ قیامت کے ذکر میں فرعون کا ذکر آپ کو تسلی دینے کے خاطر لایا گیا ہے۔ یعنی یہ مکہ کے کافر تو فرعون کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے۔ وہ مصر کے بہت سے علاقہ کا واحد حکمران انتہائی مغرور اور سرکش بادشاہ تھا۔ اس نے بھی جب ہمارے بھیجے ہوئے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ ان کی دعوت کو تسلیم کرنے کی بجائے اکڑ بیٹھا تو ہم نے اسے اور اس کی آل کو سمندر میں غرق کردیا تھا۔ اور اب یہ کفار بھی اگر فرعون جیسا ہی کردار ادا کریں گے تو یہ اللہ کی گرفت سے کیونکر بچ سکیں گے ؟
Read the full tafseer →6۔ (جن کا سابقہ فرعون اور فرعونیوں سے ہوا تھا) قصہ کے یاد دلانے سے مقصود وہی۔ ایک مکذبین کی تخویف، دوسرے رسول اللہ ﷺ کی تسلی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ متعدد مقامات پر پہلے گزر چکا ہے۔ مثلا سورة الاعراف (پ 8) میں سورة طہ (پ 16) میں وغیرہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–24
فاذا ھم بالساھرۃ، ساھرۃ، سے مراد سطح زمین ہے، قیامت کے دن پوری زمین سطح اور چٹیل میدان ہوجائے گی، نہ کہیں نشیب و فراز ہوگا اور نہ آڑ پہاڑ، اس کے بعد کفار اور منکرین بعث کی ضد سے جو آنحضرت ﷺ کو ایذاء پہنچی تھی اس کا ازالہ فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے کیا گیا ہے کہ مخالفین سے ایذاء پہنچ جانا کچھ آپ ﷺ کے ساتھ خاص نہیں، انبیاء سابقین (علیہم السلام) کو بھی بڑی بڑی اذیتیں دی گئی تھیں انہوں نے صبر کیا آپ ﷺ بھی صبر کیجئے۔
Read the full tafseer →ھل اتاک حدیث موسیٰ . استفہام تقریری ہے یعنی آچکی۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تکذیب قوم پر صبر آفرینی مقصود ہے اور کافروں کے لیے تباہی کی دھمکی ہے کہ تم پر بھی کہیں وہی مصیبت نہ آپڑے جو تم سے پہلے لوگوں پر پڑی تھی۔ یعنی تمہارے پاس موسیٰ کے واقعہ کی اطلاع پہنچ چکی ہے کہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(15۔ 16) کیا آپ کو حضرت موسیٰ کا قصہ پہنچا ہے جبکہ ان کو ان کے پروردگار نے ایک پاک میدان یعنی وادی طوی میں پکارا، انبیاء کا گزر اس وادی پر بکثرت ہوا اس واسطے اس کا یہ نام پڑگیا۔
Read the full tafseer →ھل اتک حدیث موسیٰ :”کیا تیرے پاس موسیٰ کی بات پہنچی ہے ؟“ قیامت اور اس کا انکار کرنے والوں کے ذکر کے ساتھ ہی موسیٰ ؑ اور فرعون کا ذکر فرمایا۔ اس سے ایک تو منکرین کو ڈرانا مقصود ہے کہ قح کا انکار کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے، دوسرا نبی ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے کہ آپ ان کافروں کے جھٹلانے پر رنجیدہ نہ ہوں، آپ سے پہلے لوگوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا تو ان کا یہ انجام ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ھل اتاک حدیث موسیٰ ۔۔۔ تا۔۔۔۔ لمن یخشٰی۔ ھل اتاک حدیث موسیٰ ، اذ نادی ربہ بالواد المقدس طوی۔ یعنی آپ تک وہ خبر آچکی ہے اور پہنچ چکی ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر نبی کریم کے لیے تسلی کا باعث ہے کیونکہ فرعون آپ کے زمانہ کے کفار سے زیادہ قوی تھا پھر ہم نے اسے پکڑ لیا اسی طرح یہ لوگ ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے ھل بمعنی ما ہے وہ خبر آپ کے پاس نہیں آئی بلکہ آپ کو اس کی خبر دی گئی ہے اس میں ڈرنے والوں کے لیے عبرت ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ کئی مواقع پر گزرچکا ہے جو کافی وشافی ہے۔ طوی میں تین قراتیں ہیں ابن محیصن، ابن عامر اور کو فیوں نے طوی کو تنوین سے پڑھا ہے، ابوعبید نے اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
46۔ ابوعبید فی فضائل وابن النباری فی الوقف والابتداء وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے سوال کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت فاذاہم بالساہرۃ کے بارے میں۔ تو فرمایا کہ زمین ساری کی ساری ہموار میدان ہے۔ اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ امیہ بن ابی الصلت نے کہا وفیہا لحم ساہرۃ وبھر یعنی اس میں زمین اور سمندری جانوروں کا گوشت ہے۔ قیامت کا میدان 47۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذاہم بالساہرہ میں الساہرہ سے مراد ہے زمین کی سطح اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ زمین ساری کی ساری میدان ہے کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں دیکھا صید…
Read the full tafseer →[هَلْ اَتٰىكَ : کیا پہنچی آپ ﷺ کے پاس ][ حَدِيْثُ مُوْسٰى: موسیٰ (علیہ السلام) کی بات ] نوٹ۔ 1: سابقہ آیات میں عذاب قیامت کی تصویر تھی۔ اب یہ اس عذاب کی تاریخی شہادت کا حوالہ ہے جس سے رسولوں کو جھٹلانے والوں کو اس دنیا میں سابقہ پیش آیا ہے۔ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت کا انتخاب فرمایا ہے جو سب سے زیادہ مشہور و معروف شہادت ہے۔ (تدبیر قرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے سے مصر میں رہتے تھے وہاں جو ان کی مظلومیت کا حال تھا اس کی تفصیلات پہلے گزر چکی ہیں ان پر فرعون اور آل فرعون کی طرف سے مظالم کے پہاڑ ٹوٹتے تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان ہی حالات میں وہاں پیدا ہوئے پھر فرعون کے محل میں پلے بڑھے جوان ہوئے ایک اسرائیلی یعنی ان کی قوم کے آدمی اور قبطی (فرعون کی قوم کے ایک فرد) کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے گزر رہے تھے اسرائیلی نے ان سے مدد طلب کی، انہوں نے قبطی کو ایک گھونسہ مار دیا گھونسہ کا لگنا تھا کہ وہ تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا وہیں اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
ف 8: ” ھل اتک “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وادی مقدس طوی میں آواز دی اور نبوت سے سرفراز فرما کر فرعون کی طرف بھیجا اور کہا فرعون کے پاس جاؤ وہ نہایت سرکش اور طاغی ہوچکا ہے۔ اسے نرمی کے ساتھ توحید کی دعوت دو اور اسے ہدایت کی راہ دکھاؤ۔ ” فقل ھل لک “ اسے جا کر کہو کیا تیرا اس طرف میلان ہے کہ تو اللہ کی توحید اور اس کے دین کو قبول کر کے گناہوں سے پاک ہوجائے۔ یہ پہلا مرتبہ ہے مراد یہ ہے کہ معجزہ دیکھے بغیر ہی مان لے۔ ” واھدیک الی ربک فتخشی “ میں تجھے تیرے پروردگار کی راہ دکھاؤں تو تیرے دل میں خوف خدا پیدا ہو۔ یہ دونوں مرتبے دوسری جگہ بھی مذکور ہیں۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” لعلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
(گذشتہ سے پیوستہ ) اس سورة مبارکہ میں حکما کے نقطہ نظر سے وقوع قیامت پر دلیل قائم کی گئی ہے ۔ کفار ومشرکین کہتے تھے کہ کیا مرنے کے بعد ہم پھر پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے ۔ یعنی اسی طرح جسم وروح کے ساتھ زندہ ہوجائیں گے جیسا کہ دنیوی زندگی میں تھے ۔ حالانکہ ہم مر کر عظاما نخرۃ بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اگر ایسا ہوا تو یہ بہت افسوس ناک بات ہوگی ۔ وہ لوگ بعث بعد الممات کو بالکل ناممکن خیال کرتے تھے۔ اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ بیان فرمایا ۔ اس واقعہ سے ایک طرف آپ کو تسلی دلانا مقصود ہے تو دوسری طرف قیامت کا مسئلہ بھی سمجھا دیا ۔ فرعون بھی قیامت کا انکار…
Read the full tafseer →ہَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى 15 ۘ هَلْ : حرف استخبار، إما علی سبیل الاستفهام، وذلک لا يكون من اللہ عزّ وجلّ : قال تعالی: قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنا[ الأنعام/ 148] وإمّا علی التّقریر تنبيها، أو تبكيتا، أو نفیا . نحو : هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً [ مریم/ 98] . وقوله : هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] ، فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ [ الملک/ 3] كلّ ذلک تنبيه علی النّفي . وقوله تعالی: هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ وَالْمَلائِكَةُ [ البقرة/ 210] ، لْ يَنْظُرُونَ إِلَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ترکیب ¦ ھل استفہامیۃ او بمعنی قدر والجملۃ مستانفۃ لبیان مسئلۃ النبوۃ اذ متعلق بحدیث۔ لاباتاک لا ختلاف وقیتھما طویٰ قریٔ بالتنوین و ترکہ و ھما سبعیتان فمن صرفۃ جعلہ اسم وادٍ و مکانٍ وجعلہ نکرۃ ومن لم یصرفہ جعلہ بلدۃ وبقعۃ وجعلہ معرفۃ وھو وادٍ بین الشام وقلزم وھوبدل من الوادال اذھب ای قال اذھب وقیل ھو تفسیر للنداء تزکی قرء الجہور بالتخفیف وقرأنافع وابن کثیر بتشدید الرائے علی ادغام التاء فی الزای قال ابو عمر و بن العلاء علی الاول مسناہ تکون زکیاء مؤمنا وعلی الثافی الصدقۃ۔ والیٰ متعلقۃ بمحذوف وھو رغبۃ او توجہ وھو مبتدالک خبرہ واھدیک معطوف علی تزکی منصوب بان والفاء فی فتخشی لترتیب الخشیۃ علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ھَلْ اَتٰـکَ حَدِیْثُ مُوْسٰی۔ اِذْنَادٰہُ رَبُّـہٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی۔ (النازعات : 15، 16) (کیا آپ کو موسیٰ کی سرگزشت پہنچی ہے۔ جب اس کے رب نے اسے وادی مقدس طویٰ میں پکارا۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت سے استشہاد کفارِ مکہ قیامت کا انکار بھی کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کو ماننے سے بھی انکاری تھے۔ بلکہ ان کے انکارِآخرت میں شدت ہی اس لیے پیدا ہوئی تھی کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نبوت اور رسول کی حیثیت سے آپ کی کسی خبر کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس حوالے سے انھیں دو باتیں ارشاد فرمائی جارہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ تمہیں وقوع قیامت بعیدازعقل معلوم ہوتا ہے اور تمہارے خیال میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والوں میں فرعون بھی شامل تھا اس لیے اس کا دنیا میں برا انجام ہے۔ اہل مکہ قیامت کا بار بار مذاق اڑا رہے تھے اس پر انہیں انتباہ کرنے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والی کشمکش اور اس کے نتیجہ میں فرعون کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا حوالہ دے کر سمجھایا کہ کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کا علم ہے کہ جب طویٰ وادی میں اسے اس کے رب نے فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ ! کیونکہ وہ بڑا باغی بن چکا ہے جس کا بڑا سبب یہ ہے کہ وہ قیامت کا منکر ہے۔ اسے سمجھاؤ کہ کیا تو تیار ہے کہ شرک اور ظلم وستم سے بچنے کی کوشش کرے ؟ میں تیرے رب کی طرف سے تیری…
Read the full tafseer →15 : ھَلْ اَتٰکَ حَدِیْثُ مُوْسٰی ( کیا آپ کو موسیٰ کا قصہ پہنچا ہے) یہ استفہام تقریری ہے۔ جو تنبیہ کو شامل ہے۔ کہ یہ ایسی چیز ہے جس سے بچنا چاہیے اور مخاطب کو مشرف باد کر کے صبردلانا مقصود ہے (یعنی آپ کو اطلاع پہنچ ہی چکی ہے)
Read the full tafseer →14 ۔” فاذاھم بالساھرۃ “ یعنی زمین کے اوپر یعنی وہ زمین کے پیٹ میں ہونے کے بعد زمین کے اوپر آجائیں گے۔ اورعرب چٹیل میدان اور زمین کے اوپری حصہ کا نام ساھرہ رکھتے ہیں۔ بعض اہل لغت نے کہا ہے تو ان کو دیکھے گا کہ انہوں نے زمین کا نام ساھرہ رکھا ہے اس لئے کہ یہ حیوانات کی نیند اور بیداری ہے۔ سفیان (رح) فرماتے ہیں وہ شام کی زمین ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ جہنم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
15۔ 26۔ اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر اہل مکہ کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرض سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہئے اسی طرح کی تنبیہ کے مطلب کو اللہ تعالیٰ نے سورة الم سجدہ میں ان لفظوں سے ادا فرمایا ہے۔ ولنذیقنھم من…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی اپنے نبی محمد مصطفیٰ سے فرماتا ہے۔ (هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى) یہ ایک عظیم معاملے کے بارے میں استفہام ہے جس کا وقوع متحقق ہوچکا ہے یعنی کیا آپ کے پاس حضرت موسیٰ کا قصہ پہنچا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
(11) منکرین کے طنز و مذاق کا ایک نمونہ و مظہر : سو اپنے طنز و مذاق میں سنجیدگی کا انداز اختیار کر کے یہ لوگ کہتے کہ تب تو یہ واپسی بڑی گھاٹے کی ہوگی، کہ ہمارے دنیاوی مال و دولت کو تو دوروں نے اپنا لیا ہوگا، اور آخرت کے لیے ہم نے کچھ کیا نہیں ہوگا کہ ہم اسے مانتے ہی نہیں تھے۔ سو یہ سب کچھ وہ لوگ تمسخر و استہزاء کے طور پر کہتے تھے کہ ایسا نہیں ہونے کا۔ بلکہ یہ سب کچھ یونہی خیالی اور فرضی باتیں ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو منکر لوگ اس طرح کی بات سنجیدہ موڈ بنا کر کہتے لیکن اسی کے اندر ان کے باطن کی حالت و کیفیت کی عکاسی و غمازی بھی پائی جاتی ہے کہ قیامت کی تکذیب پر ان کا دل مطمئن نہیں تھا، وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
فرعون کا انکار اور تباہی تشریح : اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ پرانے قصے قران پاک میں بار بار بیان کئے جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے مگر ہر دفعہ کسی مختلف وجہ کے لیے بیان کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ یہاں آخرت کے انکار کرنے والوں کو سبق دینے کے لیے فرعون کا بیان سنایا گیا ہے۔ کہ اللہ کی سچائیوں کو ماننے سے جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کا حال دنیا و آخرت میں ایسے ہی خراب ہوتا ہے جیسا فرعون کا حال ہوا۔ پہلے غرق کردیا گیا مگر لاش انتہائی خوفناک حالات میں دنیا کے سامنے ڈال دی گئی جو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے اور اللہ کی قدرت اور حاکمیت کا یقین دلانے کے لیے لوگوں کے سامنے موجود رکھ دی گئی ہے جو یوں تو معمول کے بالکل خلاف ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →ف 7 اس مقام پر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے سے مقصود آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے۔ کہ ان کافروں کی تکلیف اور ایذا رسانی پر گھبرائیں نہیں۔ آپ ﷺ سے پہلے موسیٰ ( علیہ السلام) کو بھی اس قسم کے حالات سے سابقہ پیش آچکا ہے۔ (گذانی فتح البیان)
Read the full tafseer →(797:15) ہل اتک حدیث موسیٰ : (قیامت کا ذکر ہو رہا تھا کہ اچانک روئے سخن فرعون کی طرف چلا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کفار مکہ انکار قیامت پر سختی سے ڈٹے ہوئے تھے کسی دلیل سے وہ متاثر نہیں ہو رہے تھے اس لئے ان کے سامنے ایک ایسے شخص کا دردناک انجام پیش کیا جا رہا ہے جو کہ وہ بھی قیامت کا منکر تھا اور اسی وجہ سے وہ سرکشی اور طغیان میں اتنا دور نکل گیا تھا کہ خدائی دعوی کیا کرتا تھا۔ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ اے میرے رسول کے ساتھ ٹکر لینے والو اور اس کی باتوں کا انکار کرنے والو ! تم سے پہلے فرعون جیسے مطلق العنان حکمران نے میرے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اسی طرح ٹکر لی تھی وہ بھی ان کی تکذیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
(ف 3) اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر کفار کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرج سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہے یہ قصہ کئی جگہ مفصل گذرچکا ہے اور اسی طرح تنبیہ کے مطلب کو اللہ نے سورة الم سجدہ میں فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
[4] یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس سے بےپروا رہے اور جب انہیں اس سے ڈرایا جاتا تو نہایت ڈھٹائی سے اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ وہ لوگ جو دنیا میں اس سے ڈرتے رہے وہ اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–25
ف 2: السبحت وہ ہیں جو سبک سیری مکینوں کی مانند ہیں ۔ اور فالسبقت وہ ہیں کہ تیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اور فالمدبرات سے مراد وہ کواکب ہیں جو اپنی طبعی خاصیتوں کی بنا پر دنیا پر اپنا مستقل اثر قائم کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح گویا ان نجوم کواکب کو انسانی زندگی کے بمنزلہ قرار دیا گیا ہے ۔ کہ بعض لوگ بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں اور ان کی ولادت اور موت کا مطلع ومغرب دور دور ہوتا ہے ۔ بعض وہ ہوتے ہیں جو تھوڑی عمر پاتے ہیں اور ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں ۔ بعض کی زندگی حوادث اور مقابلہ وتقدم سے مبرا ہوتی ہے ۔ اور وہ سبک سیر سیاروں کی طرح فضائے حیات میں تیر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں…
Read the full tafseer →(15) اے پیغمبر کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ پہنچا ہے - یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی وہ بات جو فرعون کے ساتھ پیش آئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–24
ف 4۔ کیونکہ ہم نے تو اس کے لئے کچھ سامان کیا نہیں، مقصود اس سے تمسخر تھا اہل حق کے اس عقیدہ کے ساتھ یعنی مسلمانوں کے عقیدہ پر تو ہم بڑے خسارہ میں ہوں گے جیسے کوئی شخص کسی کو خیر خواہی سے ڈرائے کہ اس راہ مت جانا، شری ملے گا اور مخاطب تکذیب کے طور پر کسی سے کہے کہ بھائی ادھر مت جانا شیر کھا جائے گا۔ مطلب یہ کہ قیامت کوئی چیز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →کیا آپ کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر پہنچی تھی ۔ 15 سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا نسب چند واسطوں سے سیدنا یعقوب (علیہ السلام) تک پہنچتا ہے۔ ان کے والد ماجد کا نام عمران اور والدہ محترمہ کا نام یو کا بد لکھا ہے۔ عمران کے گھر موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ایسے زمانہ اور اس حال میں کوئی جب کہ فرعون وقت نے اسرائیل لڑکوں کے قتل کا فیصلہ کیا تھا۔ اس لئے آپ کی والدہ ماجدہ اور دوسرے اہل خاندان ان کی ولادت کے متعلق سخت پریشان ہوگئے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی بیوی آسیہ کے عمران کی بیوی یو کا بد کے ساتھ خاندانی تعلق ہونے کے باعث بڑے گہرے مراسم تھے۔ آسیہ نے یوکا بد کا ہاتھ بٹایا اور دونوں کے درمیان ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
The fifth quality of the angels: فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا (then manage [ to do ] everything [ they are ordered to do,]...79:5). In other words, the last task of these angels of death will be as follows: Those who are commanded to reward and comfort the deserving souls, will gather means of reward and comfort for them; and those who are commanded to punish and cause pain to [ the evil souls ] will organize means for that. Reward and Punishment in the Grave The Surah thus far confirms that at the time of death, the angels will arrive and extract human souls. Then they will take them to the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
6 As the denial of the Resurrection and Hereafter by the disbelievers of Makkah and their mockery of it was not, in fact, rejection of a philosophy but belying Allah's Messengers, and the tricks that they were employing against the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) were not against an ordinary man but were meant to frustrate the mission of Allah's Messenger, the story of the Prophet Moses and the Pharaoh is being related before giving additional arguments for the occurrence of the Hereafter so that they are warned of the consequences of fighting with the Messenger and resisting the…
Read the full tafseer →