An-Naazi'aat 79:14

An-Naazi'aat · from ayah 14

79:14

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِ ۟ؕفَاِذَا هُمۡ بِالسَّاهِرَةِ ؕ‏

اس وقت وہ (سب) میدان (حشر) میں آ جمع ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And suddenly they will be [alert] upon the earth's surface.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:14

اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس وقت وہ (سب) میدان (حشر) میں آ جمع ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہ (جس کے ﻇاہر ہوتے ہی) وه ایک دم میدان میں جمع ہو جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس کے بعد وہ اچانک ایک کھلے میدان میں ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جبھی وہ کھلے میدان میں آپڑے ہوں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر وہ (سب لوگ) یکایک کھلے میدانِ (حشر) میں آموجود ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس یک لخت وہ زمین کے اوپر موجود ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر وہ یکدم ایک میدان میں آموجود ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ دفعتہ وہ میدان میں آموجود ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس کے نتیجے میں یہ سب کے سب یکایک آموجود ہوں گے (حشر کے) اس (عظیم الشان) میدان میں

— مولانا اسحاق مدنی

جس سے لوگ فورا میدان میں آموجود ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو وہ سب کے سب ایک چٹیل میدان میں ہوں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس وقت وہ سب میدان حشر میں آ جمع ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

and lo, they will all be in the open plain.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and in no time they will be (brought) into the plain (of Hashr) .

— Muhammad Taqi Usmani

and in no time they will be (brought) into the plain (of Hashr) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When behold, they are at As-Sahirah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And suddenly they will be [alert] upon the earth's surface.

— Saheeh International

to bring them out of their graves and back to life on the earth's surface.

— Muhammad Sarwar

When lo! they shall be wakeful.

— Muhammad Habib Shakir

And lo! they all shall appear on the surface.

— Abdul Majid Daryabadi

When, behold, they will be in the (full) awakening (to Judgment).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 79:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

فرشتے موت اور ستارے اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے، بعض کہتے ہیں والنازعات غرقاً سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں پہلی آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں مراد سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے موت اور ستارے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں مراد کشتیاں ہیں، اسی طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 13–14

سورة النّٰزِعٰت 5 یعنی یہ لوگ اسے ایک امر محال سمجھ کر اس کو ہنسی اڑا رہے ہیں، حالانکہ اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے جس کو انجام دینے کے لیے کچھ بڑی لمبی چوڑی تیاریوں کی ضرورت ہو۔ اس کے لیے صرف ایک ڈانٹ یا جھڑکی کافی ہے جس کے ساتھ ہی تمہاری خاک یا راکھ، خواہ کہیں پڑی ہو، ہر طرف سے سمٹ کر ایک جگہ جمع ہوجائے گی اور تم یکایک اپنے آپ کو زمین کی پیٹھ پر زندہ موجود پاؤ گے۔ اس واپسی کو گھاٹے کی واپسی سمجھ کر چاہے تم اس سے کتنا ہی فرار کرنے کی کوشش کرو، یہ تو ہو کر رہنی ہے، تمہارے انکار یا فرار یا تمسخر سے یہ رک نہیں سکتی،

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–24

پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’سَاہِرَۃٌ‘ ہموار زمین اور کھلے میدان کو کہتے ہیں۔ یہاں اس سے میدان حشر مراد ہے۔ ’ایک ڈانٹ‘ سے اشارہ یہاں صور کے دوسرے نفخہ کی طرف ہے۔ اس کی وضاحت سورۂ زمر میں یوں فرمائی ہے: ’ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ أُخْرَی فَإِذَا ہُم قِیَامٌ یَنظُرُونَ‘ (الزمر ۳۹: ۶۸) (پھر اس صور میں دوبارہ پھونک ماری جائے گی تو وہ دفعۃً اٹھ کر تاکنے لگیں گے)۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 14–15

14۔ 1 یہ قیامت کی منظر کشی ہے کہ ایک ہی نفخے سے سب لوگ ایک میدان میں جمع ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–15

5: مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں واقعی دوبارہ زندہ کیا گیا تو یہ ہمارے لیے گھاٹے کا سودا ہوگا، کیونکہ اس دوسری زندگی کے لیے ہم نے کوئی تیاری نہیں کر رکھی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 13–14

فانما ........................ الساھرة (14:79) ” حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے “۔ الزجر کے معنی ہیں تیز آواز۔ یعنی الصیحة۔ لیکن یہاں الصیحة کی بجائے الزجرة کا لفظ استعمال ہوا ہے کیونکہ یہ لفظ اس ورت کی فضا اور ماحول کے ساتھ زیادہ مناسب ہے۔ یہاں ماحول شدت اور سختی کا ہے۔ ساھرہ سفید اور چمکدار زمین کو کہتے ہیں۔ مراد میدان حشر ہے۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یہ میدان کہاں ہوگا۔ اس کے بارے میں ہماری معلومات مخبر صادق کی فراہم کردہ معلومات تک محدود ہیں۔ لہٰذا اس کے بارے میں ہم اس سے زیادہ کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتے کیونکہ مخبر صادق کے علاوہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 13–14

12 یعنی یہ لوگ اسے بہت مشکل کام سمجھ رہے ہیں حالانکہ اللہ کے ہاں یہ سب کام دم بھر میں ہوجائیں گے۔ جہاں ایک ڈانٹ پلائی، یعنی صور پھنکا اسی وقت بلا توقف سب الگے پچھلے میدان حشر میں کھڑے دکھائی دیں گے آگے اس کی ایک مختصر سی جھڑکی اور معمولی سی ڈانٹ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جو دنیا میں ایک بڑے متکبر کو دی گئی تھی۔ یا یوں کہیے کہ ان منکرین کو سنایا جا رہا ہے کہ تم سے پہلے بڑے زبردست منکروں کا کیا حشر ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 14–15

آیت 14{ فَاِذَا ہُمْ بِالسَّاہِرَۃِ۔ } ”تو وہ سب کے سب ایک چٹیل میدان میں ہوں گے۔“ نفخہ ثانیہ کے بعد سب کے سب انسان زندہ ہو کر میدانِ حشر میں جمع ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 یعنی جس کام کو یہ کافر خلاف عقل اور ناممکن العمل سمجھ رہے ہیں۔ اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ جب دوسری مرتبہ صور پھونکا یا ڈانٹ پلائی جائے گی تو اس وقت سب اگلے پچھلے لوگ بلا توقف میدان حشر کی طرف اکٹھے ہونا شروع ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–14

5۔ یعنی قادر مطلق کے لئے قیامت کے برپا کرنے میں دشواری ہی کیا ہے۔ اور اسے کوئی خاص اہتمام کرنا ہی کیا ہے ؟ اس کے حکم سے تو بس ادھر ایک دفعہ زور کی للکار پڑی، اور ادھر سب کچھ ہو ہوا گیا ! ھی۔ ضمیر صور کے نفخہ ثانی کی جانب ہے۔ وھی النفخۃ الثانیۃ (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–24

فاذا ھم بالساھرۃ، ساھرۃ، سے مراد سطح زمین ہے، قیامت کے دن پوری زمین سطح اور چٹیل میدان ہوجائے گی، نہ کہیں نشیب و فراز ہوگا اور نہ آڑ پہاڑ، اس کے بعد کفار اور منکرین بعث کی ضد سے جو آنحضرت ﷺ کو ایذاء پہنچی تھی اس کا ازالہ فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے کیا گیا ہے کہ مخالفین سے ایذاء پہنچ جانا کچھ آپ ﷺ کے ساتھ خاص نہیں، انبیاء سابقین (علیہم السلام) کو بھی بڑی بڑی اذیتیں دی گئی تھیں انہوں نے صبر کیا آپ ﷺ بھی صبر کیجئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاذا ھم بالساھرۃ . فاء عطف کے لیے ہے اور اذا مفاجاتی (اچانک اور ناگہاں کے معنی میں) ہے۔ اِذَا کے آنے سے ھم بالساھرۃ جو جملہ اسمیہ تھا جملہ فعلیہ کی قوت میں ہوگیا۔ اسی لیے اس کا عطف جملہ فعلیہ پر صحیح ہوگا۔ مطلب یہ ہوگا کہ دنیا میں یہ ایسی بات کہہ رہے ہیں مگر جب یہ زمین کے اوپر ایک میدان میں ہوں گے تو ناگہاں وہ وقت آ ہی جائے گا ‘ اس صورت میں جملہ فانماھی زجرۃ واحدۃ معترضہ ہوگا جو معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ جس لرزہ کے یہ منکر ہیں ‘ اس کو لانا اللہ کے نزدیک آسان ہے ‘ کچھ دشوار نہیں۔ السَّاھِرَۃ : رُوئے زمین۔ مراد یہ ہے کہ اچانک وہ زندہ ہو کر روئے زمین پر آجائیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بس وہ ایک ہی آواز ہوگی جس سے سب روئے زمین پر یا یہ کہ میدان حشر میں آموجود ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 13–14

فانماھی زجرۃ واحدۃ…: یعنی تمہارا دوبارہ اٹھایا جانا تمہیں کتنا ہی ناممن دکھائی دے، اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں۔ اس کی طرف سے ایک ڈانٹ یعنی صور میں ایک پھونک پڑنے کی دیر ہے کہ سب زندہ ہو کر قبروں سے نکل کر سطح زمین پر موجود ہوں گے۔”سھر“ (س) جاگنا اور ”الساھرۃ“ زمین کا اوپر کا حصہ، کیونکہ اسی پر انسانوں کا جاگنا اور سونا ہے۔ چٹیل میدان اور صحرا کو ”الساھرۃ“ اس لئے کہتے ہیں کہ وہاں خوف کی وجہ سے انسان بیدار رہتا ہے۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فاذا ھم بالساھرۃ۔ سب مخلوق روئے زمین پر ہوگی جبکہ پہلے وہ زمین کے اندر تھی فراء نے کہا، اسے یہ نام دیا گیا ہے کیونکہ اس میں حیوان سوتا اور جاگتا ہے عرب کھلے میدان اور اس کی زمین کو ساھرہ کہتے ہیں یہ نسبت کا معنی دے رہا ہے کیونکہ ایسی زمین میں خوف کی وجہ سے جاگا جاتا ہے تو اس زمین کی ایسی صفت بیان کردی جو اس چیز کی صفت تھی جو اس میں ہوئی ہے حضرت ابن عباس اور مفسرین نے امیہ بن خلف ابی صلت کے قول سے استدلال کیا ہے۔ وفیھا لحم ساھرہ وبحر۔ صحاح میں ہے یہ قول کیا جاتا ہے، ساھور یہ زمین کا سایہ ہے اور ساھرہ سے مراد روئے زمین ہے اسمعنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، فاذا ھم بالساھرہ، النازعات) اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–16

46۔ ابوعبید فی فضائل وابن النباری فی الوقف والابتداء وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے سوال کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت فاذاہم بالساہرۃ کے بارے میں۔ تو فرمایا کہ زمین ساری کی ساری ہموار میدان ہے۔ اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ امیہ بن ابی الصلت نے کہا وفیہا لحم ساہرۃ وبھر یعنی اس میں زمین اور سمندری جانوروں کا گوشت ہے۔ قیامت کا میدان 47۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذاہم بالساہرہ میں الساہرہ سے مراد ہے زمین کی سطح اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ زمین ساری کی ساری میدان ہے کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں دیکھا صید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَاِذَا هُمْ : پھر جب ہی وہ لوگ ][ بِالسَّاهِرَةِ : اس میدان میں ہوں گے ] س ھـ ر سَھَرًا رات بھر جاگتے رہنا۔ سَاھِرَۃٌ رات بھر جاگنے والی۔ پھر اس سے مراد لیتے ہیں سطح زمین۔ میدان۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–14

﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ0013 فَاِذَا هُمْ بالسَّاهِرَةِؕ0014 ﴾ (وہ بس ایک ہی سخت آواز ہوگی جس سے سب لوگ فوراً ہی میدان میں آموجود ہوں گے) اس میں منکرین کی تکذیب کی تردید ہے اس وقت طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں جھٹلانے پر تلے ہوئے ہیں، حالانکہ اس کا واقعہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی بھاری بات نہیں ہے جب اس کا حکم ہوگا تو ایک چیخ وجود میں آئے گی (یعنی دوسری مرتبہ کا صور پھونکا جانا) اس وقت بغیر کسی دیر و انتظار کے ایک میدان میں موجود ہوں جائیں گے جو حساب کتاب کی جگہ ہوگی۔ قال صاحب الروح الساھرة قیل وجہ الارض والفلاة وفی الکشاف الارض البیضاء ای التی لانبات فیھا المستویة سمیت بذلک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–26

ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–14

7:۔ ” فانماھی زجرۃ “۔ ” زجرۃ “ ایک زبردست ڈانٹ۔ ایک چیخ۔ مراد نفخہ ثانیہ ہے۔ ” الساھرۃ “ روئے زمین، سطح ارض۔ یہ بعث بعد الموت پر قدرت خداوندی کا بیان ہے۔ یہ نفخہ ثانیہ ایک ایسی آواز ہوگی کہ اس سے تمام مردے زندہ ہو کر اور قبروں سے نکل کر زمین کی سطح پر موجود ہوں گے اس طرح اللہ تعالیٰ ایک لمحہ میں ساری مخلوق کو دوبارہ زندہ فرما لے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

(کوائف اور موضوع ) اس سورة کا نام سورة النزعت ہے۔ اور یہ اس کے پہلے لفظ سے لیا گیا ہے۔ اس کے دوسرے نام سبحت اور سبقت بھی ہیں جو اس سورة کی تیسر ی اور چوتھی آیات سے ماخوذ ہیں ۔ تا ہم زیادہ راحج نام نازعت ہی ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھیالیس 46 آیات ہیں ۔ اس کا مضمون پہلی سورة نبا کے ساتھ ملتا جلتا ہے ۔ ان سورتوں میں قیامت کا ہی ذکر ہے اس کے بعد بھی دور تک اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے جسکے لیے مختلف طریقے اختیار کئے ہیں ۔ (پہلی سورة کے ساتھ ربط) گذشتہ سورة میں ایک کسان کی ذہنیت کو پیش نظررکھ کر قیامت کا ذکر کیا گیا تھا ان یوم الفصل کان میقاتا زمین میں دانہ بونے کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِذَا ہُمْ بِالسَّاہِرَۃِ۝ 14 ۭ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی مختلف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–14

ترکیب ¦ یوم منصوب بالجواب المضمر والتقدیرلتبعثن یوم ترجف الراجفۃ اے فی الوقت الواسع الذی یحصل فیہ النفختان وقیل منصوب بمادل علیہ قلوب یومئذوا جفۃ ای یوم ترجف رجفت القلوب۔ والرجفۃ الحرکۃ والاضطراب یقال رجف یرجف اذا اضطرب ومنہ قولہ تعالیٰ یوم ترجف الارض والجبال وقیل الھدۃ النکرۃ والصوت الھائل من قولھم رجف الرعدیر جف رجفا ورجیفا ومنہ قولہ تعالیٰ فاخذتھم الرجفۃ فعلی ھذا الراجفۃ صیحۃ عظیمۃ تبتعھا الراوفۃ الجملۃ منصوب علی الحال من الراجفۃ والمعنی لتبعثن یوم النفخۃ الاولی حال کون النفخۃ الثانیۃ تابعۃ لھا والرادفۃ کل شیء جاء بعدہ شیء آخر یقال ردفہ ای جاء بعدہ۔ قلوب مبتداء یومئذ منصوب بواجفۃ وھی صفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–14

فَاِنَّمَا ھِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ۔ فَاِذَا ھُمْ بِالسَّاھِرَۃِ ۔ (النازعات : 13، 14) (وہ تو بس ایک ہی ڈانٹ ہوگی۔ اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے۔ ) یہ لوگ جتنے چاہیں الفاظ کے طوطے مینا اڑا لیں اور جتنی چاہیں سخن سازیاں کرلیں۔ لیکن کوئی حقیقت پھبتیوں اور فقرہ بندیوں کے طومار سے نہیں رکتی۔ قیامت تو ایک بہت بڑی حقیقت ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کا بہت بڑا فیصلہ ہے۔ اسے تو بہرحال برپا ہونا ہے اور اسے برپا کرنے والی ذات بےپناہ قدرتوں کی مالک ہے۔ جب اسے منظور ہوگا تو اس کے وقوع کے لیے صرف ایک ڈانٹ کافی ہوگی۔ اس سے مراد نفخہ ثانیہ ہے۔ یعنی حضرت اسرافیل (علیہ السلام) جب دوسری دفعہ صور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–14

فہم القرآن ربط کلام : موت کے بعد پہلا مرحلہ۔ پانچ قسمیں اٹھا کر ہر شخص کو یہ حقیقت یاد کروائی گئی ہے کہ نیک ہو یا بد اس نے موت کے مشکل ترین لمحات سے گزرنا ہے اور موت کے بعد ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب زمین کا چپہ چپہ کانپنے لگے گا کیونکہ اسے پے در پے جھٹکے لگیں گے اس طرح پوری زمین ہلا کر رکھ دی جائے گی یہاں تک کہ زمین چٹیل میدان میں تبدیل ہوجائے گی۔ اس دن لوگوں کے دل دہل جائیں گے اور ہر شخص یوں محسوس کرے گا جیسے اس کا کلیجہ منہ میں آکر پھنس گیا ہے۔ آنکھیں ڈری ڈری اور جھکی ہوں گی، چاہیے تو یہ کہ کافر قیامت پر ایمان لاتے لیکن وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم قبروں سے نکل کر پہلی حالت پر لوٹ جائیں گے ؟…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14 : فَاِذَا ھُمْ بِالسَّاھِرَۃِ (جس سے سب لوگ فوراً ہی میدان میں آموجود ہوں گے) اسی وقت وہ سطح زمین پر زندہ ہوجائیں گے۔ حالانکہ وہ زمین کے پیٹ میں مردہ تھے۔ ایک قول یہ ہے الساہرہؔ سے شام سے بیت المقدس کی جانب زمین کا حصہ مراد ہے۔ نمبر 2۔ بیت المقدس نمبر 3۔ ارض مکہ نمبر 4۔ جہنم۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13 ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فانماھی “ یعنی آخری نفخہ۔ ” زجرۃ “ چیخ۔ ” واحدۃ “ جس کو وہ سنیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–14

6۔ 14۔ اوپر کی قسموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں پہلے صور سے دنیا کے اجڑ جانے اور دوسرے صور سے حشر کے ہوجانے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ حشر کا برپا ہونا ایسا یقینی ہے جس طرح قسم کھانے کے بعد کی کوئی بات یقین ہوتی ہے۔ راجفۃ سخت آواز کو کہتے ہیں یہاں مراد اس سے پہلا صور ہے رادفۃ وہ چیز ہے جو پہلی چیز کے بعد آئے یہاں اس سے مراد دوسرا صور ہے جو پہلے صور کے بعد پھونکا جائے گا۔ واجفۃ کے معنی خوف زدہ کے ہیں۔ حافرہ کے معنی قبر کے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ حشر کے منکر کہتے تھے کہ جب قبر میں بدن گل سڑ گیا اور ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں تو پھر کیا دوبارہ جی سکتے ہیں اور اگلے پچھلے سب جئے تو ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–14

(قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ) کہتے ہیں یہ لوٹنا خسارہ ہے۔ یعنی انہوں نے اللہ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ کر دے گا جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انہیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی۔ اللہ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (فانماھی زجرۃ واحدہ) وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔ یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق (بالساھرہ) روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کی جزاوسزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–16

(11) منکرین کے طنز و مذاق کا ایک نمونہ و مظہر : سو اپنے طنز و مذاق میں سنجیدگی کا انداز اختیار کر کے یہ لوگ کہتے کہ تب تو یہ واپسی بڑی گھاٹے کی ہوگی، کہ ہمارے دنیاوی مال و دولت کو تو دوروں نے اپنا لیا ہوگا، اور آخرت کے لیے ہم نے کچھ کیا نہیں ہوگا کہ ہم اسے مانتے ہی نہیں تھے۔ سو یہ سب کچھ وہ لوگ تمسخر و استہزاء کے طور پر کہتے تھے کہ ایسا نہیں ہونے کا۔ بلکہ یہ سب کچھ یونہی خیالی اور فرضی باتیں ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو منکر لوگ اس طرح کی بات سنجیدہ موڈ بنا کر کہتے لیکن اسی کے اندر ان کے باطن کی حالت و کیفیت کی عکاسی و غمازی بھی پائی جاتی ہے کہ قیامت کی تکذیب پر ان کا دل مطمئن نہیں تھا، وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–14

قیامت کے دن لوگوں کا اور کائنات کا حال تشریح : جیسا کہ اکثر اس بات کا ذکر ہوچکا ہے کہ قیامت کے قریب اکثر زلزلے آئیں گے۔ زلزلے تو اکثر آتے رہے ہیں جو اصل میں اس تباہی کا تصور دلاتے ہیں جو قیامت کے دن کائنات کو پیش آنے والی ہے۔ یہاں ماضی قریب میں آنے والے ایک ایسے زلزلے کا ذکر معروف سائنسدان کرتے ہیں۔ '' ایک زلزلہ 79 ؁ء عیسوی میں اٹلی میں آیا تھا جس کی طاقت آٹھ تھی۔ جس کی وجہ سے آتش فشاں پھوٹ پڑا اور دو بڑے شہر 1. Pompell. 2. Hercilaman. تہ وبالا ہوگئے۔ ایک شہر پر گردوغبار اور راکھ کی بارش ہوئی جبکہ دوسرے شہر پر گرم گرم کیچڑ کی بارش ہوئی دونوں شہر چند گھنٹوں میں مل یا میٹ ہوگئے۔ یہ واقعہ دونوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:14) فاذا ہم بالساھرۃ : فاء عطف کے لئے ہے اور اذا مفاجاتیہ ہے۔ (اچانک اور ناگہاں کے معنی میں) ہے۔ اذا کے آنے سے ہم بالساھرۃ جو جملہ اسمیہ تھا جملہ فعلیہ کی قوت میں ہوگیا۔ اسی لئے اس کا عطف جملہ فعلیہ پر صحیح ہوگیا۔ مطلب یہ ہوگا کہ :۔ دنیا میں یہ ایسی باتیں کہہ رہے ہیں مگر جب یہ زمین کے اوپر ایک میدان میں ہوں گے تو ناگہاں وہ وقت آہی جائے گا۔ اس صورت میں فانما ہی زجرۃ واحدۃ جملہ معترضہ ہوگا۔ جو معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ جس لرزہ کے یہ منکر ہیں اس کو لانا اللہ کے نزدیک آسان ہے کچھ دشوار نہیں ہے۔ (تفسیر مظہری) الساھرۃ : سھر (باب سمع) مصدر سے جس کے معنی نیند…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–14

(ف 2) یعنی یہ لوگ اسے بہت مشکل کام سمجھ رہے ہیں حالانکہ اللہ کے ہاں یہ سب کام دم بھر میں ہوجائیں گی جہاں ایک صورت پھونکا اسی وقت بلاتوقف سب اگلے پچھلے میدان حشر میں کھڑے دکھائی دیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–15

[4] یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس سے بےپروا رہے اور جب انہیں اس سے ڈرایا جاتا تو نہایت ڈھٹائی سے اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ وہ لوگ جو دنیا میں اس سے ڈرتے رہے وہ اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–25

ف 2: السبحت وہ ہیں جو سبک سیری مکینوں کی مانند ہیں ۔ اور فالسبقت وہ ہیں کہ تیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اور فالمدبرات سے مراد وہ کواکب ہیں جو اپنی طبعی خاصیتوں کی بنا پر دنیا پر اپنا مستقل اثر قائم کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح گویا ان نجوم کواکب کو انسانی زندگی کے بمنزلہ قرار دیا گیا ہے ۔ کہ بعض لوگ بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں اور ان کی ولادت اور موت کا مطلع ومغرب دور دور ہوتا ہے ۔ بعض وہ ہوتے ہیں جو تھوڑی عمر پاتے ہیں اور ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں ۔ بعض کی زندگی حوادث اور مقابلہ وتقدم سے مبرا ہوتی ہے ۔ اور وہ سبک سیر سیاروں کی طرح فضائے حیات میں تیر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) کہ جس سے سب لوگ اسی وقت دفعتہ میدان میں آموجود ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اول تو استعجاب اور استصعاب ظاہر کرتے ہیں کہ دوبارہ زندہ ہونا بڑا مشکل ہے پھر مذاق کے طور پر کہتے ہیں کہ یہ واپسی ہم کو بہت نقصان دہ ہوگی کیونکہ ہم نے تو اس کے لئے کوئی کام کیا نہیں۔ حضرت حق تعالیٰ نے مشکل اور صعب ہونے کا جواب دیا کہ یہ سب کام تو ایک جھڑکی اور سخت آواز ہے ادھر نفخہ ثانیہ ہوا اور لوگ جمع ہوگئے ، آگے نبی کریم صلی علیہ وسلم کی تسلی اور مکذبین کے ڈرانے کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ارشاد ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–24

ف 4۔ کیونکہ ہم نے تو اس کے لئے کچھ سامان کیا نہیں، مقصود اس سے تمسخر تھا اہل حق کے اس عقیدہ کے ساتھ یعنی مسلمانوں کے عقیدہ پر تو ہم بڑے خسارہ میں ہوں گے جیسے کوئی شخص کسی کو خیر خواہی سے ڈرائے کہ اس راہ مت جانا، شری ملے گا اور مخاطب تکذیب کے طور پر کسی سے کہے کہ بھائی ادھر مت جانا شیر کھا جائے گا۔ مطلب یہ کہ قیامت کوئی چیز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

14 (ساھرۃ) میدان ، زمین ، روئے زمین ، سھر سے جس کے معنی نیند اڑ جانے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مئونث مگر اس کا استعمال زمین اور روئے زمین کے معنی میں ہوتا ہے۔ امام رازی تفسیر کبیر میں تحریر کرتے ہیں کہ (ساھرۃ) سفید ہموار زمین کو کہتے ہیں اس نام سے اس کے موسوم ہونے کی دو وجھیں ہیں : (1) اس پر چلنے اولا خوف سے سوتا نہیں۔ (2) اس میں سراب رواں ہوتا ہے۔ یہ عرب کے محاورہ عین ساھرۃ چشمہ رواں سے ماخوذ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں ایک تیسری وجہ بھی ہے (3) وہ یہ کہ زمین کا (ساھرۃ) اس لئے نام پڑا کہ شدت خوف کے باعث اس میں انسان کی نیند اڑ جاتی ہے تو وہ زمین کہ جس کے اندر قیامت کے موقع پر کافر جمع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–24

The fifth quality of the angels: فَالْمُدَبِّرَ‌اتِ أَمْرً‌ا (then manage [ to do ] everything [ they are ordered to do,]...79:5). In other words, the last task of these angels of death will be as follows: Those who are commanded to reward and comfort the deserving souls, will gather means of reward and comfort for them; and those who are commanded to punish and cause pain to [ the evil souls ] will organize means for that. Reward and Punishment in the Grave The Surah thus far confirms that at the time of death, the angels will arrive and extract human souls. Then they will take them to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–14

5 That is, "They are mocking it as an impossibility, whereas it is not at all a difficult task for Allah for the performance of which He may have to make lengthy preparations. For it only a single shout or cry is enough at which your dust of ash will gather together from wherever it lay, and you will suddenly find yourself alive on the back of the earth. Thinking this return to be a return to loss, you may try to escape from it however hard you may, but it will inevitably take place; it cannot be averted by your denial, escape or mockery."

Read the full tafseer →