فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ ۟ۙفَاِنَّمَا هِىَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ
وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, it will be but one shout,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ ۟ۙفَاِنَّمَا هِىَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ
وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, it will be but one shout,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat
حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی
وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی
(معلوم ہونا چاہئے) وه تو صرف ایک (خوفناک) ڈانٹ ہے
حقیقت تو یہ ہے کہ وہ بس ایک زور کی آواز ہوگی۔
تو وہ نہیں مگر ایک جھڑکی
پھر تو یہ ایک ہی بار شدید ہیبت ناک آواز کے ساتھ (کائنات کے تمام اَجرام کا) پھٹ جانا ہوگا،
پس وہ تو صرف ایک ہی ڈانٹ ہوگی۔
وہ بس ایک گرج دار آواز ہی ہوگی
وہ تو بس ایک ہی ڈانٹ ہوگی
سو (واضح رہے کہ) وہ تو بس ایک ڈانٹ ہوگی زور کی
تو وہ تو بس ایک ہی للکار ہوگی
حالانکہ یہ تو بس ایک ہی ڈانٹ ہوگی۔
وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی
Surely they will need no more than a single stern blast,
In fact, it will be only a single harsh voice,
In fact, it will be only a single harsh voice,
But it will be only a single Zajrah.
Surely it will need but one shout,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Indeed, it will be but one shout,
However, it will only take a single blast
But it shall be only a single cry,
It will be only one scaring shout,
But verily, it will be but a single (Compelling) Cry,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–14
فرشتے موت اور ستارے اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے، بعض کہتے ہیں والنازعات غرقاً سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں پہلی آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں مراد سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے موت اور ستارے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں مراد کشتیاں ہیں، اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
سورة النّٰزِعٰت 5 یعنی یہ لوگ اسے ایک امر محال سمجھ کر اس کو ہنسی اڑا رہے ہیں، حالانکہ اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے جس کو انجام دینے کے لیے کچھ بڑی لمبی چوڑی تیاریوں کی ضرورت ہو۔ اس کے لیے صرف ایک ڈانٹ یا جھڑکی کافی ہے جس کے ساتھ ہی تمہاری خاک یا راکھ، خواہ کہیں پڑی ہو، ہر طرف سے سمٹ کر ایک جگہ جمع ہوجائے گی اور تم یکایک اپنے آپ کو زمین کی پیٹھ پر زندہ موجود پاؤ گے۔ اس واپسی کو گھاٹے کی واپسی سمجھ کر چاہے تم اس سے کتنا ہی فرار کرنے کی کوشش کرو، یہ تو ہو کر رہنی ہے، تمہارے انکار یا فرار یا تمسخر سے یہ رک نہیں سکتی،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی…
Read the full tafseer →یعنی جو سخن سازیاں یہ کرنی چاہتے ہیں کر لیں اور جتنے محالات پیدا کر سکتے ہیں کر لیں لیکن یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ جب ان کو اٹھانا چاہے گا تو نہ اس کو کوئی اہتمام کرنا پڑے گا، نہ اس میں ایک لمحہ کی تاخیر واقع ہو گی۔ صرف ایک ہی ڈانٹ میں یہ قبروں سے نکل کر میدان حشر میں موجود ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12۔ 1 یعنی اگر واقعی ایسا ہوا جیسا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں، پھر دوبارہ زندگی ہمارے لئے سخت نقصان دہ ہوگی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
5: مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں واقعی دوبارہ زندہ کیا گیا تو یہ ہمارے لیے گھاٹے کا سودا ہوگا، کیونکہ اس دوسری زندگی کے لیے ہم نے کوئی تیاری نہیں کر رکھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فانما ........................ الساھرة (14:79) ” حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے “۔ الزجر کے معنی ہیں تیز آواز۔ یعنی الصیحة۔ لیکن یہاں الصیحة کی بجائے الزجرة کا لفظ استعمال ہوا ہے کیونکہ یہ لفظ اس ورت کی فضا اور ماحول کے ساتھ زیادہ مناسب ہے۔ یہاں ماحول شدت اور سختی کا ہے۔ ساھرہ سفید اور چمکدار زمین کو کہتے ہیں۔ مراد میدان حشر ہے۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یہ میدان کہاں ہوگا۔ اس کے بارے میں ہماری معلومات مخبر صادق کی فراہم کردہ معلومات تک محدود ہیں۔ لہٰذا اس کے بارے میں ہم اس سے زیادہ کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتے کیونکہ مخبر صادق کے علاوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
12 یعنی یہ لوگ اسے بہت مشکل کام سمجھ رہے ہیں حالانکہ اللہ کے ہاں یہ سب کام دم بھر میں ہوجائیں گے۔ جہاں ایک ڈانٹ پلائی، یعنی صور پھنکا اسی وقت بلا توقف سب الگے پچھلے میدان حشر میں کھڑے دکھائی دیں گے آگے اس کی ایک مختصر سی جھڑکی اور معمولی سی ڈانٹ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جو دنیا میں ایک بڑے متکبر کو دی گئی تھی۔ یا یوں کہیے کہ ان منکرین کو سنایا جا رہا ہے کہ تم سے پہلے بڑے زبردست منکروں کا کیا حشر ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت 12{ قَالُوْا تِلْکَ اِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ۔ } ”کہتے ہیں : تب تو یہ لوٹنا بہت گھاٹے کا سودا ہوگا۔“ قیامت سے متعلق خبروں پر وہ لوگ طنزیہ انداز میں ایسے تبصرے کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
9 قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے کہ جو لوگ قیامت پر یقین نہیں رکھتے وہ اس دن بڑے خسارے میں رہیں گے۔ کافر ایسی ہی آیات کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے اگر واقعی ہمیں دوبارہ زندہ کیا گیا تو پھر تو ہم مارے گئے اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر ہمیں دوبارہ زندہ کرکے اس دنیا میں بھیجا گیا تو ہماری زمین اور مکانوں کے تو کئی وارث بن چکے ہوں گے۔ ایک ایک جائداد کے کئی مدعی ہوں گے اور جھگڑے ہی پڑے رہیں گے اس لحاظ سے تو یہ بڑے گھاٹے کا سودا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
5۔ یعنی قادر مطلق کے لئے قیامت کے برپا کرنے میں دشواری ہی کیا ہے۔ اور اسے کوئی خاص اہتمام کرنا ہی کیا ہے ؟ اس کے حکم سے تو بس ادھر ایک دفعہ زور کی للکار پڑی، اور ادھر سب کچھ ہو ہوا گیا ! ھی۔ ضمیر صور کے نفخہ ثانی کی جانب ہے۔ وھی النفخۃ الثانیۃ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–13
فالمدبرات امرا، یعنی امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے ہیں، امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ سے روح کے معاملے میں تدبیر و تنفیذ مراد ہے اور اس کے علاوہ اور دیگر امور میں بھی تدبیر و تنفیذ مراد ہوسکتی ہے۔ خلاصہ : یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن بعد کا مضمون اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور تمام مردوں کو ازسرنو ضرور زندہ کیا جائے گا، نیز اس امر کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ اوصاف کن ہستیوں کے ہیں لیکن صحابہ ؓ اور تابعین اور اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ نفس اور روح سے…
Read the full tafseer →فانماھی زجرۃ واحدۃ . یعنی نفخۂ دوئم تو بس ایک جھڑکی ہوگا۔ صحاح میں ہے کہ زجر کا معنی ہے آواز سے نکال دینا۔ زجرتہ فانزجر : میں نے اس کو جھڑک کر نکال دیا ‘ وہ نکل گیا۔ اس آیت کا بھی یہی مفہوم ہے۔ صور میں جو آواز پھونکی جائے گی ‘ اس سے لوگ قبروں سے باہر نکال دیئے جائیں گے۔ لفظ زجر کا استعمال کبھی صرف آواز میں ہوتا ہے جیسے والزاجرات زجرًا میں وہ ملائکہ مراد ہیں جو ابر کو ڈانٹ کی آواز سے ہنکاتے ہیں (نکالتے نہیں ہیں) کبھی صرف نکال دینے کا معنی مراد ہوتا ہے جیسے : ازدجر یعنی اس نے نکال دیا ‘ روک دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
(11۔ 13) کیا ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر کیسے دوبارہ زندہ کیے جائیں گے، حضور نے اس پر فرمایا ہاں، ضرور زندہ کیے جاؤ گے تو وہ بولے یہ بڑے نقصان والی واپسی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فانماھی زجرۃ واحدۃ…: یعنی تمہارا دوبارہ اٹھایا جانا تمہیں کتنا ہی ناممن دکھائی دے، اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں۔ اس کی طرف سے ایک ڈانٹ یعنی صور میں ایک پھونک پڑنے کی دیر ہے کہ سب زندہ ہو کر قبروں سے نکل کر سطح زمین پر موجود ہوں گے۔”سھر“ (س) جاگنا اور ”الساھرۃ“ زمین کا اوپر کا حصہ، کیونکہ اسی پر انسانوں کا جاگنا اور سونا ہے۔ چٹیل میدان اور صحرا کو ”الساھرۃ“ اس لئے کہتے ہیں کہ وہاں خوف کی وجہ سے انسان بیدار رہتا ہے۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →فانما ھی زجرۃ واحدہ۔ اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ اس پر دوبارہ اٹھانا آسان ہے، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے نفخۃ واحدہ قرات نقل کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
42۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ آیت قالوا تلک اذا کرۃ خاسرۃ کہتے ہیں یہ تو اس وقت خسارہ کا لوٹنا ہوگا۔ یعنی اگر ہم نئی پیدائش میں پیدا ہوئے تو ہم ضرور نقصان کی طرف لوٹیں گے۔ آیت فانما ہی زجرۃ واحدۃ اور بیشک وہ ایک ہی ہیبت ناک آواز ہوگی۔ یعنی ایک چیخ ہوگی آیت فاذا ہم بالساہرۃ پس وہ اسی وقت میدان میں آموجود ہوں گے تو وہ سارے کے سارے زمین کی ظاہری سطح پر ہوں گے۔ جبکہ اس سے پہلے وہ اندر تھے۔ 43۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) آیت قالوا تلک اذ اکرۃ خاسرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوٹنا نقصان والا ہوگا۔ پھر فرمایا کہ جب قوم کے دلوں میں دوبارہ اٹھنے کو محال سمجھا گیا تو اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →[فَانمَا ھِيَ : پھر وہ تو بس ][ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ: ایک (ہی) جھڑکی ہوگی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ0013 فَاِذَا هُمْ بالسَّاهِرَةِؕ0014 ﴾ (وہ بس ایک ہی سخت آواز ہوگی جس سے سب لوگ فوراً ہی میدان میں آموجود ہوں گے) اس میں منکرین کی تکذیب کی تردید ہے اس وقت طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں جھٹلانے پر تلے ہوئے ہیں، حالانکہ اس کا واقعہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی بھاری بات نہیں ہے جب اس کا حکم ہوگا تو ایک چیخ وجود میں آئے گی (یعنی دوسری مرتبہ کا صور پھونکا جانا) اس وقت بغیر کسی دیر و انتظار کے ایک میدان میں موجود ہوں جائیں گے جو حساب کتاب کی جگہ ہوگی۔ قال صاحب الروح الساھرة قیل وجہ الارض والفلاة وفی الکشاف الارض البیضاء ای التی لانبات فیھا المستویة سمیت بذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
7:۔ ” فانماھی زجرۃ “۔ ” زجرۃ “ ایک زبردست ڈانٹ۔ ایک چیخ۔ مراد نفخہ ثانیہ ہے۔ ” الساھرۃ “ روئے زمین، سطح ارض۔ یہ بعث بعد الموت پر قدرت خداوندی کا بیان ہے۔ یہ نفخہ ثانیہ ایک ایسی آواز ہوگی کہ اس سے تمام مردے زندہ ہو کر اور قبروں سے نکل کر زمین کی سطح پر موجود ہوں گے اس طرح اللہ تعالیٰ ایک لمحہ میں ساری مخلوق کو دوبارہ زندہ فرما لے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
(کوائف اور موضوع ) اس سورة کا نام سورة النزعت ہے۔ اور یہ اس کے پہلے لفظ سے لیا گیا ہے۔ اس کے دوسرے نام سبحت اور سبقت بھی ہیں جو اس سورة کی تیسر ی اور چوتھی آیات سے ماخوذ ہیں ۔ تا ہم زیادہ راحج نام نازعت ہی ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھیالیس 46 آیات ہیں ۔ اس کا مضمون پہلی سورة نبا کے ساتھ ملتا جلتا ہے ۔ ان سورتوں میں قیامت کا ہی ذکر ہے اس کے بعد بھی دور تک اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے جسکے لیے مختلف طریقے اختیار کئے ہیں ۔ (پہلی سورة کے ساتھ ربط) گذشتہ سورة میں ایک کسان کی ذہنیت کو پیش نظررکھ کر قیامت کا ذکر کیا گیا تھا ان یوم الفصل کان میقاتا زمین میں دانہ بونے کے…
Read the full tafseer →فَاِنَّمَا ہِيَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ 13 ۙ زجر الزَّجْرُ : طرد بصوت، يقال : زَجَرْتُهُ فَانْزَجَرَ ، قال : فَإِنَّما هِيَ زَجْرَةٌ واحِدَةٌ [ النازعات/ 13] ، ثمّ يستعمل في الطّرد تارة، وفي الصّوت أخری. وقوله : فَالزَّاجِراتِ زَجْراً [ الصافات/ 2] ، أي : الملائكة التي تَزْجُرُ السّحاب، وقوله : ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ [ القمر/ 4] ، أي : طرد ومنع عن ارتکاب المآثم . وقال : وَقالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ [ القمر/ 9] ، أي : طرد، واستعمال الزّجر فيه لصیاحهم بالمطرود، نحو أن يقال : اعزب وتنحّ ووراءک . ( زج ر ) الزجر ۔ اصل میں آواز کے ساتھ دھتکارنے کو کہتے ہیں زجرتہ میں نے اسے جھڑکا ، روکا ۔ انزجر ( جھڑکنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
ترکیب ¦ یوم منصوب بالجواب المضمر والتقدیرلتبعثن یوم ترجف الراجفۃ اے فی الوقت الواسع الذی یحصل فیہ النفختان وقیل منصوب بمادل علیہ قلوب یومئذوا جفۃ ای یوم ترجف رجفت القلوب۔ والرجفۃ الحرکۃ والاضطراب یقال رجف یرجف اذا اضطرب ومنہ قولہ تعالیٰ یوم ترجف الارض والجبال وقیل الھدۃ النکرۃ والصوت الھائل من قولھم رجف الرعدیر جف رجفا ورجیفا ومنہ قولہ تعالیٰ فاخذتھم الرجفۃ فعلی ھذا الراجفۃ صیحۃ عظیمۃ تبتعھا الراوفۃ الجملۃ منصوب علی الحال من الراجفۃ والمعنی لتبعثن یوم النفخۃ الاولی حال کون النفخۃ الثانیۃ تابعۃ لھا والرادفۃ کل شیء جاء بعدہ شیء آخر یقال ردفہ ای جاء بعدہ۔ قلوب مبتداء یومئذ منصوب بواجفۃ وھی صفۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فَاِنَّمَا ھِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ۔ فَاِذَا ھُمْ بِالسَّاھِرَۃِ ۔ (النازعات : 13، 14) (وہ تو بس ایک ہی ڈانٹ ہوگی۔ اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے۔ ) یہ لوگ جتنے چاہیں الفاظ کے طوطے مینا اڑا لیں اور جتنی چاہیں سخن سازیاں کرلیں۔ لیکن کوئی حقیقت پھبتیوں اور فقرہ بندیوں کے طومار سے نہیں رکتی۔ قیامت تو ایک بہت بڑی حقیقت ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کا بہت بڑا فیصلہ ہے۔ اسے تو بہرحال برپا ہونا ہے اور اسے برپا کرنے والی ذات بےپناہ قدرتوں کی مالک ہے۔ جب اسے منظور ہوگا تو اس کے وقوع کے لیے صرف ایک ڈانٹ کافی ہوگی۔ اس سے مراد نفخہ ثانیہ ہے۔ یعنی حضرت اسرافیل (علیہ السلام) جب دوسری دفعہ صور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
فہم القرآن ربط کلام : موت کے بعد پہلا مرحلہ۔ پانچ قسمیں اٹھا کر ہر شخص کو یہ حقیقت یاد کروائی گئی ہے کہ نیک ہو یا بد اس نے موت کے مشکل ترین لمحات سے گزرنا ہے اور موت کے بعد ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب زمین کا چپہ چپہ کانپنے لگے گا کیونکہ اسے پے در پے جھٹکے لگیں گے اس طرح پوری زمین ہلا کر رکھ دی جائے گی یہاں تک کہ زمین چٹیل میدان میں تبدیل ہوجائے گی۔ اس دن لوگوں کے دل دہل جائیں گے اور ہر شخص یوں محسوس کرے گا جیسے اس کا کلیجہ منہ میں آکر پھنس گیا ہے۔ آنکھیں ڈری ڈری اور جھکی ہوں گی، چاہیے تو یہ کہ کافر قیامت پر ایمان لاتے لیکن وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم قبروں سے نکل کر پہلی حالت پر لوٹ جائیں گے ؟…
Read the full tafseer →موسیٰ ( علیہ السلام) کا نبوت ملنا : 13 : فَاِنَّمَا ھِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ (تو وہ بس ایک ہی سخت آواز ہوگی) یہ محذوف کے متعلق ہے ای لا تحسبوا تلک الکرۃ صعبۃ علی اللہ عزوجل۔ اس واپسی کو اللہ تعالیٰ کیلئے مشکل مت خیال کرو۔ وہ اس کی قدرت کے سامنے آسان اور معمولی ہے پس وہ تو ایک سخت آواز ہے اور بس۔ زجرۃؔ سے ثا نیہ مراد ہے۔ یہ زجر البعیر سے لیا گیا ہے جب اونٹ کو ڈانٹا جائے۔
Read the full tafseer →12 ۔” قالوا “ یعنی منکرین۔ ” تلک اذا کرۃ خاسرۃ “ خسارے کا لوٹنا۔ یعنی اگر ہم موت کے بعد لوٹ آئے تو ہم اس سے خسارہ میں ہوں گے جو ہمیں موت کے بعد پہنچے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
6۔ 14۔ اوپر کی قسموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں پہلے صور سے دنیا کے اجڑ جانے اور دوسرے صور سے حشر کے ہوجانے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ حشر کا برپا ہونا ایسا یقینی ہے جس طرح قسم کھانے کے بعد کی کوئی بات یقین ہوتی ہے۔ راجفۃ سخت آواز کو کہتے ہیں یہاں مراد اس سے پہلا صور ہے رادفۃ وہ چیز ہے جو پہلی چیز کے بعد آئے یہاں اس سے مراد دوسرا صور ہے جو پہلے صور کے بعد پھونکا جائے گا۔ واجفۃ کے معنی خوف زدہ کے ہیں۔ حافرہ کے معنی قبر کے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ حشر کے منکر کہتے تھے کہ جب قبر میں بدن گل سڑ گیا اور ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں تو پھر کیا دوبارہ جی سکتے ہیں اور اگلے پچھلے سب جئے تو ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
(قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ) کہتے ہیں یہ لوٹنا خسارہ ہے۔ یعنی انہوں نے اللہ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ کر دے گا جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انہیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی۔ اللہ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (فانماھی زجرۃ واحدہ) وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔ یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق (بالساھرہ) روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کی جزاوسزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
(11) منکرین کے طنز و مذاق کا ایک نمونہ و مظہر : سو اپنے طنز و مذاق میں سنجیدگی کا انداز اختیار کر کے یہ لوگ کہتے کہ تب تو یہ واپسی بڑی گھاٹے کی ہوگی، کہ ہمارے دنیاوی مال و دولت کو تو دوروں نے اپنا لیا ہوگا، اور آخرت کے لیے ہم نے کچھ کیا نہیں ہوگا کہ ہم اسے مانتے ہی نہیں تھے۔ سو یہ سب کچھ وہ لوگ تمسخر و استہزاء کے طور پر کہتے تھے کہ ایسا نہیں ہونے کا۔ بلکہ یہ سب کچھ یونہی خیالی اور فرضی باتیں ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو منکر لوگ اس طرح کی بات سنجیدہ موڈ بنا کر کہتے لیکن اسی کے اندر ان کے باطن کی حالت و کیفیت کی عکاسی و غمازی بھی پائی جاتی ہے کہ قیامت کی تکذیب پر ان کا دل مطمئن نہیں تھا، وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
قیامت کے دن لوگوں کا اور کائنات کا حال تشریح : جیسا کہ اکثر اس بات کا ذکر ہوچکا ہے کہ قیامت کے قریب اکثر زلزلے آئیں گے۔ زلزلے تو اکثر آتے رہے ہیں جو اصل میں اس تباہی کا تصور دلاتے ہیں جو قیامت کے دن کائنات کو پیش آنے والی ہے۔ یہاں ماضی قریب میں آنے والے ایک ایسے زلزلے کا ذکر معروف سائنسدان کرتے ہیں۔ '' ایک زلزلہ 79 ء عیسوی میں اٹلی میں آیا تھا جس کی طاقت آٹھ تھی۔ جس کی وجہ سے آتش فشاں پھوٹ پڑا اور دو بڑے شہر 1. Pompell. 2. Hercilaman. تہ وبالا ہوگئے۔ ایک شہر پر گردوغبار اور راکھ کی بارش ہوئی جبکہ دوسرے شہر پر گرم گرم کیچڑ کی بارش ہوئی دونوں شہر چند گھنٹوں میں مل یا میٹ ہوگئے۔ یہ واقعہ دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی آخرت کو محال نہ سمجھا بس…
Read the full tafseer →(79:13) فانما ہی زجرۃ واحدۃ۔ کفار کے استہزائیہ مقولوں کے جواب میں ارشاد الٰہی ہوتا ہے۔ فانما ہی زجرۃ واحدۃ۔ ای لا تحسبوا تلک الکرۃ صعبۃ علی اللہ عزوجل فانھا سہلۃ ھینۃ فی قدرتہ فما ہی الا صحیۃ واحدۃ (فانما ہی زجرۃ واحدۃ) یرید النفخۃ الثانیۃ (مدارک) یعنی زندگی کی واپسی کو خدائے عزوجل کے لئے مشکل خیال نہ کرو۔ کیونکہ اس کی قدرت کاملہ کے لئے یہ بہت ہی سہل اور آسان ہے وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہے۔ مراد اس سے نفخۃ الثانیہ ہے۔ انما : بیشک ، تحقیق، سوائے اس کے نہیں۔ وہ تو صرف (یہ) ہے ان حرف مشبہ بالفعل ہے اور ما کافہ ہے جو حصر کے لئے آتا ہے اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے۔ اور زجرۃ واحدۃ خبر ان ہے۔ زجرۃ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(ف 2) یعنی یہ لوگ اسے بہت مشکل کام سمجھ رہے ہیں حالانکہ اللہ کے ہاں یہ سب کام دم بھر میں ہوجائیں گی جہاں ایک صورت پھونکا اسی وقت بلاتوقف سب اگلے پچھلے میدان حشر میں کھڑے دکھائی دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
[4] یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس سے بےپروا رہے اور جب انہیں اس سے ڈرایا جاتا تو نہایت ڈھٹائی سے اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ وہ لوگ جو دنیا میں اس سے ڈرتے رہے وہ اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–25
ف 2: السبحت وہ ہیں جو سبک سیری مکینوں کی مانند ہیں ۔ اور فالسبقت وہ ہیں کہ تیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اور فالمدبرات سے مراد وہ کواکب ہیں جو اپنی طبعی خاصیتوں کی بنا پر دنیا پر اپنا مستقل اثر قائم کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح گویا ان نجوم کواکب کو انسانی زندگی کے بمنزلہ قرار دیا گیا ہے ۔ کہ بعض لوگ بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں اور ان کی ولادت اور موت کا مطلع ومغرب دور دور ہوتا ہے ۔ بعض وہ ہوتے ہیں جو تھوڑی عمر پاتے ہیں اور ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں ۔ بعض کی زندگی حوادث اور مقابلہ وتقدم سے مبرا ہوتی ہے ۔ اور وہ سبک سیر سیاروں کی طرح فضائے حیات میں تیر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں…
Read the full tafseer →(13) بس وہ واقعہ تو ایک ہی سخت آواز ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–24
ف 4۔ کیونکہ ہم نے تو اس کے لئے کچھ سامان کیا نہیں، مقصود اس سے تمسخر تھا اہل حق کے اس عقیدہ کے ساتھ یعنی مسلمانوں کے عقیدہ پر تو ہم بڑے خسارہ میں ہوں گے جیسے کوئی شخص کسی کو خیر خواہی سے ڈرائے کہ اس راہ مت جانا، شری ملے گا اور مخاطب تکذیب کے طور پر کسی سے کہے کہ بھائی ادھر مت جانا شیر کھا جائے گا۔ مطلب یہ کہ قیامت کوئی چیز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →پس سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ایک سخت آواز ہو گی ۔ 13 فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! اگر یہ لوگ اس طرح کے مذاق کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں آخر کب تک یہ مذاق کریں گے ؟ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ کہا جاتا ہے کہ گنجی دھوئے گی کیا اور نچوڑے گی کیا ؟ چار دن کی زندگی تو ان کو دی گئی ہے اور وہ بھی مہلت ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دے دی ہے اور اس دی گئی مہلت کے بل بوتے وہ اس طرح کی باتیں بنا رہے ہیں جب قیامت کا وقت آئیگا تو و اچانک دھمکے گی اور پھر ان کی قیامت تو اس وقت ہی آگئی جب ان کو موت نے آ کر دبوچ لیا پھر کیا ان کو معلوم نہیں ہے کہ موت کو آتے کتنی دیر لگتی ہے کہ ابھی مذاق کر رہے تھے اور ابھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
The fifth quality of the angels: فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا (then manage [ to do ] everything [ they are ordered to do,]...79:5). In other words, the last task of these angels of death will be as follows: Those who are commanded to reward and comfort the deserving souls, will gather means of reward and comfort for them; and those who are commanded to punish and cause pain to [ the evil souls ] will organize means for that. Reward and Punishment in the Grave The Surah thus far confirms that at the time of death, the angels will arrive and extract human souls. Then they will take them to the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
5 That is, "They are mocking it as an impossibility, whereas it is not at all a difficult task for Allah for the performance of which He may have to make lengthy preparations. For it only a single shout or cry is enough at which your dust of ash will gather together from wherever it lay, and you will suddenly find yourself alive on the back of the earth. Thinking this return to be a return to loss, you may try to escape from it however hard you may, but it will inevitably take place; it cannot be averted by your denial, escape or mockery."
Read the full tafseer →