An-Naazi'aat 79:12

An-Naazi'aat · from ayah 12

79:12

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ ۟ۘقَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ‌

کہتے ہیں کہ یہ لوٹنا تو (موجب) زیاں ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They say, "That, then, would be a losing return."

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:12

کہنے لگے "یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہوگی!"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہتے ہیں کہ یہ لوٹنا تو (موجب) زیاں ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہتے ہیں کہ پھر تو یہ لوٹنا نقصان ده ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہتے ہیں کہ : اگر ایسا ہوا تو یہ بڑے گھاٹے کی واپسی ہوگی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے یوں تو یہ پلٹنا تو نرا نقصان ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ کہتے ہیں: یہ (لوٹنا) تو اس وقت بڑے خسارے کا لوٹنا ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا یہ تو اس وقت خسارے والا لوٹنا ہوگا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہتے ہیں : یہ واپسی تو بڑے گھاٹے کی بات ہوگی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ لوٹایا جانا تو بڑے ہی خسارے کا ہوگا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہنے لگے تب تو یہ واپسی بڑی ہی گھاٹے کی ہوگی

— مولانا اسحاق مدنی

کہتے کہ کہ اس صورت میں واپسی بڑے خسارہ کی ہوگی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہتے ہیں : تب تو یہ لوٹنا بہت گھاٹے کا سودا ہوگا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہتے ہیں کہ یہ لوٹنا تو پھر نقصان کا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

They say: “That will then be a return with a great loss!”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They say, :If so, that will be a harmful homecoming.

— Muhammad Taqi Usmani

They say, :If so, that will be a harmful homecoming.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They say: "It would in that case, be a return with loss!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They say: Then that would be a vain proceeding.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They say, "That, then, would be a losing return."

— Saheeh International

They have said, "Such a resurrection will certainly be a great loss".

— Muhammad Sarwar

They said: That then would be a return occasioning loss.

— Muhammad Habib Shakir

They say: that then shall be a losing return.

— Abdul Majid Daryabadi

They say: "It would, in that case, be a return with loss!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 79:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

فرشتے موت اور ستارے اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے، بعض کہتے ہیں والنازعات غرقاً سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں پہلی آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں مراد سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے موت اور ستارے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں مراد کشتیاں ہیں، اسی طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–12

سورة النّٰزِعٰت 4 یعنی جب ان کو جواب دیا گیا کہ ہاں ایسا ہی ہوگا تو وہ مذاق کے طور پر آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یارو، اگر واقعی ہمیں پلٹ کر دوبارہ زندگی کی حالت میں واپس آنا پڑا تب تو ہم مارے گئے، اس کے بعد تو پھر ہماری خیر نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–24

پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’قَالُوْا تِلْکَ إِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ‘۔ یعنی مذاق اڑانے کے بعد ذرا سنجیدہ موڈ بنا کر یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر یہ بات جو یہ ملّا کہتے ہیں سچی نکلی تب تو یہ بڑی ہی نامرادی اور بڑے خسارے کا لوٹنا ہو گا! اگرچہ یہ بات سنجیدہ موڈ بنا کر کہتے وہ مذاق ہی کے طور پر لیکن یہ ان کے باطن کی غمازی بھی کرتی ہے کہ قیامت کی تکذیب پر ان کا دل مطمئن نہیں تھا۔ وہ اس کے دلائل کے وزن کو محسوس کرتے اور اس کے انکار کے عواقب سے ڈرتے لیکن زندگی کی لذتوں کو طلاق دے کر ان کی طبیعت ادھر آنے پر آمادہ نہیں ہوتی تھی اس وجہ سے اس خطرے کو ہنسی میں ٹالنے کی کوشش کرتے اور کہتے کہ قیامت ہوئی تو ہے تو یہ بہت بڑا خطرہ لیکن جب وقت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 12–13

12۔ 1 یعنی اگر واقعی ایسا ہوا جیسا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں، پھر دوبارہ زندگی ہمارے لئے سخت نقصان دہ ہوگی

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–15

5: مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں واقعی دوبارہ زندہ کیا گیا تو یہ ہمارے لیے گھاٹے کا سودا ہوگا، کیونکہ اس دوسری زندگی کے لیے ہم نے کوئی تیاری نہیں کر رکھی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قالوا .................... خاسرة (12:79) ” کہیں گے ” یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہے “۔ یہ ایک ایسی زندگی ہے جس کو انہوں نے کوئی اہمیت نہ دی۔ اس کے لئے کوئی توشہ انہوں نے جمع کرکے نہ بھیجا اور اب تو کمائی کی جگہ نہیں ہے لہٰذا خسارہ ہی خسارہ ان کا مقدر ہے۔ ایسے حالات میں قرآن کریم بتاتا ہے کہ قیام قیامت کا یہ ہنگامہ عظیم بسہولت برپا کردیا جائے گا اور اس کی حقیقت تو بس اتنی ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 10–12

11 یعنی " قبر کے گڑھے میں پہنچ کر کیا پھر ہم الٹے پاؤں زندگی کی طرف واپس کئے جائیں گے۔ ہم تو نہیں سمجھ سکتے کہ کھوکھری ہڈیوں میں دوبارہ جان پڑجائے گی۔ ایسا ہوا تو یہ صورت ہمارے لئے بڑے ٹوٹے اور خسارہ کی ہوگی۔ کیونکہ ہم نے اس زندگی کے لئے کوئی سامان نہیں کیا۔ " یہ تمسخر سے کہتے تھے۔ یعنی مسلمان ہماری نسبت ایسا سمجھتے ہیں حالانکہ وہاں مرنے کے بعد سرے سے دوسری زندگی ہی نہیں، نقصان اور خسارہ کا کیا ذکر۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 12–13

آیت 12{ قَالُوْا تِلْکَ اِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ۔ } ”کہتے ہیں : تب تو یہ لوٹنا بہت گھاٹے کا سودا ہوگا۔“ قیامت سے متعلق خبروں پر وہ لوگ طنزیہ انداز میں ایسے تبصرے کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 12–13

9 قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے کہ جو لوگ قیامت پر یقین نہیں رکھتے وہ اس دن بڑے خسارے میں رہیں گے۔ کافر ایسی ہی آیات کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے اگر واقعی ہمیں دوبارہ زندہ کیا گیا تو پھر تو ہم مارے گئے اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر ہمیں دوبارہ زندہ کرکے اس دنیا میں بھیجا گیا تو ہماری زمین اور مکانوں کے تو کئی وارث بن چکے ہوں گے۔ ایک ایک جائداد کے کئی مدعی ہوں گے اور جھگڑے ہی پڑے رہیں گے اس لحاظ سے تو یہ بڑے گھاٹے کا سودا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–12

4۔ (آیت) ” یقولون۔ قالوا “۔ یہ کہنے والے وہی رسول اللہ ﷺ کے معاصر منکرین حشر تھے۔ اور یہ فقرے انکار استیعاد کے لہجہ میں طنزوتعریض کی راہ سے کہتے تھے۔ ترجمانی اس میں آج کے بھی ” روشن خیال “۔ مادیین کی آگئی۔ (آیت) ” ء اذا ..... نخرہ “۔ مادہ پرست اور روحانیت سے ناآشنا قوموں نے انسان کے فناء وبقاء کو تمامتر اس کے جسم ظاہری کے فناوبقاء کا مرادف سمجھا ہے۔ (آیت) ” قلوب ..... خاشعۃ “۔ آیت میں (آیت) ” قلوب وابصار “۔ دونوں کی کیفیت بیان کرکے اہل کفر کے اضطراب باطنی وظاہری دونوں کی پوری تصویر سامنے کردی۔ (آیت) ” ابصارھا “۔ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ ابصار اصحابھا۔ معناہ ابصار اصحابھا (کشاف) اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–13

فالمدبرات امرا، یعنی امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے ہیں، امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ سے روح کے معاملے میں تدبیر و تنفیذ مراد ہے اور اس کے علاوہ اور دیگر امور میں بھی تدبیر و تنفیذ مراد ہوسکتی ہے۔ خلاصہ : یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن بعد کا مضمون اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور تمام مردوں کو ازسرنو ضرور زندہ کیا جائے گا، نیز اس امر کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ اوصاف کن ہستیوں کے ہیں لیکن صحابہ ؓ اور تابعین اور اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ نفس اور روح سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا تلک اذا کرۃ خاسرۃ . اس کا عطف یَقُوْلُوْن پر ہے یا قَدْ مقدر ہے اور یَقُوْلُوْنَ کے فاعل سے حال ہے لیکن محمد بن کعب کا بیان کردہ شان نزول حال ہونے کی اجازت نہیں دیتا (کیونکہ حال اور ذوالحال کے زمانہ کا اتحاد ضروری ہے اور یہاں قول دوئم کا زمانہ قول اوّل کے زمانہ سے مؤخر ہے) تِلک سے اشارہ رجعت کی طرف ہے اور رجعت کا مفہوم لمردودون فی الحافرۃ سے مستفاد ہو رہا ہے (گویا مشار الیہ معنیً مذکور ہے) یعنی جب ایسا ہوگا جیسا محمد ﷺ کہتے ہیں تو یہ زندگی کی واپسی بڑے گھاٹے کی ہوگی ‘ نقصان رساں ہوگی اور ہم ایسی زندگی والے نقصان میں رہیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ چونکہ ہم دوسری زندگی کی تکذیب کرتے ہیں تو اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–13

(11۔ 13) کیا ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر کیسے دوبارہ زندہ کیے جائیں گے، حضور نے اس پر فرمایا ہاں، ضرور زندہ کیے جاؤ گے تو وہ بولے یہ بڑے نقصان والی واپسی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قالوا تلک اذاکرۃ خاسرۃ : ان کا یہ کہنا بطور مذاق ہے، یعنی اگر نبی ﷺ کے کہنے کے مطابق ہم دوبارہ پہلی حالت میں آئے تو ان کے مطابق تو ہمارے لئے یہ بہت خسارے کا اٹھنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قالواتلک اذا کرۃ خاسرہ۔ انہوں نے کہا، وہ تو خسارے والالوٹنا ہوگا یہ محض لوٹنے کی طرح نہیں ہوگا یہ حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء کی رائے ہے ربیع بن انس نے کہا، جس نے اس کو جھٹلایا تھا اس کے لیے نقصان کا باعث ہوئی، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ خسارے کی باری ہوگی معنی یہ ہے اس باری والے خسارہ پانی والے ہوں گے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، تجارۃ رابحہ یعنی تجارت کرنے والانفع اٹھانے والا ہوگا اس باری سے بڑھ کر کوئی چیز خسارہ دینے والی نہ ہوگی وہ جہنم کی طرف لے جانی والی ہے، قتادہ اور محمد بن کعب نے کہا، اگر ہم موت کے بعد زندہ لوٹے تو ہمیں آگ میں جمع کیا جائیگا انہوں نے یہ بات اس لیے کی تھی کیونکہ انہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–13

42۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ آیت قالوا تلک اذا کرۃ خاسرۃ کہتے ہیں یہ تو اس وقت خسارہ کا لوٹنا ہوگا۔ یعنی اگر ہم نئی پیدائش میں پیدا ہوئے تو ہم ضرور نقصان کی طرف لوٹیں گے۔ آیت فانما ہی زجرۃ واحدۃ اور بیشک وہ ایک ہی ہیبت ناک آواز ہوگی۔ یعنی ایک چیخ ہوگی آیت فاذا ہم بالساہرۃ پس وہ اسی وقت میدان میں آموجود ہوں گے تو وہ سارے کے سارے زمین کی ظاہری سطح پر ہوں گے۔ جبکہ اس سے پہلے وہ اندر تھے۔ 43۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) آیت قالوا تلک اذ اکرۃ خاسرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوٹنا نقصان والا ہوگا۔ پھر فرمایا کہ جب قوم کے دلوں میں دوبارہ اٹھنے کو محال سمجھا گیا تو اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالُوْا : انھوں نے کہا ][ تِلْكَ اِذًا : وہ تو پھر ][ كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ: خسارہ دینے والی باری ہوگی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–12

یہ قیامت کے دن کی حالت کا بیان ہوا۔ اس کے بعد منکرین قیامت کا قول نقل کیا۔ ﴿ يَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ۠ فِي الْحَافِرَةِؕ0010 ﴾ (وہ کہتے ہیں کیا ہم اپنی پہلی حالت پر واپس ہوں گے ؟ ) یہ استفہام انکاری ہے منکرین کہتے ہیں کہ ایسا ہونے والا نہیں کہ ہم پہلی حالت میں آجائیں یعنی موت سے پہلے جو ہماری حالت تھی مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندگی مل جائے گی اور پہلی حالت پر آجائیں ایسا ہونے والا نہیں۔ انہوں نے اپنے واپس ہونے کا استبعاد ظاہر کرنے کے لیے مزید کہا ﴿ ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ0011﴾ (کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اس وقت دوبارہ زندگی میں آئیں گے) ﴿قَالُوْا تِلْكَ اِذًا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–26

ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6:۔ ” قالوا تلک “ بطور استہزاء کہتے ہیں اگر ایسا ہو بھی گیا تو ہماری یہ واپسی خسارے اور نقصان کی ہوگی کیونکہ جب ہم دوبارہ زندہ ہوں گے تو ہمارے گھروں، باغوں اور جائیدادوں پر دوسرے لوگ قابض ہوچکے ہوں گے تو ہم سب مل کر ان میں کس طرح گذر بسر کرسکیں گے۔ (الشیخ (رح)) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ اگر بعث بعد الموت واقعی برحق ہے تو ہم تو بڑے خسارے میں رہے کیونکہ ہم نے اس کی تکذیب کی۔ ای ان صحت فنحن اذن خاسرون لتکذیبنا بھا (کبیر، ابو السعود، مدارک) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

(کوائف اور موضوع ) اس سورة کا نام سورة النزعت ہے۔ اور یہ اس کے پہلے لفظ سے لیا گیا ہے۔ اس کے دوسرے نام سبحت اور سبقت بھی ہیں جو اس سورة کی تیسر ی اور چوتھی آیات سے ماخوذ ہیں ۔ تا ہم زیادہ راحج نام نازعت ہی ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھیالیس 46 آیات ہیں ۔ اس کا مضمون پہلی سورة نبا کے ساتھ ملتا جلتا ہے ۔ ان سورتوں میں قیامت کا ہی ذکر ہے اس کے بعد بھی دور تک اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے جسکے لیے مختلف طریقے اختیار کئے ہیں ۔ (پہلی سورة کے ساتھ ربط) گذشتہ سورة میں ایک کسان کی ذہنیت کو پیش نظررکھ کر قیامت کا ذکر کیا گیا تھا ان یوم الفصل کان میقاتا زمین میں دانہ بونے کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ۝ 12 ۘ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ كر الْكَرُّ : العطف علی الشیء بالذّات أو بالفعل، ويقال للحبل المفتول : كَرٌّ ، وهو في الأصل مصدر، وصار اسما، وجمعه : كُرُورٌ. قال تعالی: ثُمَّ رَدَدْنا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ [ الإسراء/ 6] ، فَلَوْ أَنَّ لَنا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الشعراء/ 102] ، وَقالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–14

ترکیب ¦ یوم منصوب بالجواب المضمر والتقدیرلتبعثن یوم ترجف الراجفۃ اے فی الوقت الواسع الذی یحصل فیہ النفختان وقیل منصوب بمادل علیہ قلوب یومئذوا جفۃ ای یوم ترجف رجفت القلوب۔ والرجفۃ الحرکۃ والاضطراب یقال رجف یرجف اذا اضطرب ومنہ قولہ تعالیٰ یوم ترجف الارض والجبال وقیل الھدۃ النکرۃ والصوت الھائل من قولھم رجف الرعدیر جف رجفا ورجیفا ومنہ قولہ تعالیٰ فاخذتھم الرجفۃ فعلی ھذا الراجفۃ صیحۃ عظیمۃ تبتعھا الراوفۃ الجملۃ منصوب علی الحال من الراجفۃ والمعنی لتبعثن یوم النفخۃ الاولی حال کون النفخۃ الثانیۃ تابعۃ لھا والرادفۃ کل شیء جاء بعدہ شیء آخر یقال ردفہ ای جاء بعدہ۔ قلوب مبتداء یومئذ منصوب بواجفۃ وھی صفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–12

یَقُوْلُوْنَ ئَ اِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَۃِ ۔ ئَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا نَّخِرَۃً ۔ قَالُوْا تِلْکَ اِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ۔ (النازعات : 10 تا 12) (یہ لوگ پوچھتے ہیں کیا ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت کی طرف۔ کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے۔ کہتے ہیں اس صورت میں واپسی بڑے خسارہ کی ہوگی۔ ) الْحَافِرَۃِ کے اصل معنی نقش قدم کے ہیں، لیکن محاورے میں اگر کہیں کہ فُلاَنٌ رَجَعَ عَلیٰ حَافِرَتِہِ اَوْفِیْ حَافِرَتِہِ تو اس کے معنی ہوں گے کہ فلاں شخص جس حال میں تھا اس سے نکل کر پھر الٹے پائوں اسی میں واپس آگیا۔ کفار کے استہزاء کی تصویر نبی کریم ﷺ جب انھیں قرآن کریم پڑھ کر قیامت کی تفصیلات…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–14

فہم القرآن ربط کلام : موت کے بعد پہلا مرحلہ۔ پانچ قسمیں اٹھا کر ہر شخص کو یہ حقیقت یاد کروائی گئی ہے کہ نیک ہو یا بد اس نے موت کے مشکل ترین لمحات سے گزرنا ہے اور موت کے بعد ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب زمین کا چپہ چپہ کانپنے لگے گا کیونکہ اسے پے در پے جھٹکے لگیں گے اس طرح پوری زمین ہلا کر رکھ دی جائے گی یہاں تک کہ زمین چٹیل میدان میں تبدیل ہوجائے گی۔ اس دن لوگوں کے دل دہل جائیں گے اور ہر شخص یوں محسوس کرے گا جیسے اس کا کلیجہ منہ میں آکر پھنس گیا ہے۔ آنکھیں ڈری ڈری اور جھکی ہوں گی، چاہیے تو یہ کہ کافر قیامت پر ایمان لاتے لیکن وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم قبروں سے نکل کر پہلی حالت پر لوٹ جائیں گے ؟…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

12 : قَالُوْا (کہنے لگے) بعث کے منکرین تِلْکَ اِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ (اس صورت میں یہ واپسی بڑی خسارے کی ہوگی) تلک کا مشارٌ الیہ یعنی ہمارا واپس لوٹنا خسارہ والی واپسی ہے کرۃ رجعۃ کے معنی میں ہے۔ نمبر 2۔ ایسی واپسی کہ جس واپسی والے خسارہ میں ہونگے مطلب یہ ہے اگر یہ واپس لوٹنا صحیح ہے تو پھر ہم اپنی تکذیب کی وجہ سے نقصان اٹھانے والے ہیں اور یہ بات انہوں نے بطور استہزاء کہی ( ہم نقصان میں ہو نہیں سکتے اس لئے بعث نہیں)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11 ۔” ء اذا کنا عظاما نخرۃ “ نافع، ابن عامر، کسائی اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” ائنا “ استفہام کے ساتھ پڑھا ہے ” اذا “ اس کے چھوڑنے کے ساتھ۔ ان کی ضد ابو جعفرنے۔ باقی حرضات نے اس کے استفہام کے ساتھ اور حمزہ ، کسائی اور ابوبکر رحمہم اللہ نے۔ ” عظاما ناخرۃ “ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ” نخرۃ “ پڑھا ہے اور یہ دو لغتیں ہیں جیسے طمع اور طامع اور حذر اور حاذر اور ان دونوں کا معنی بوسیدہ اور ایک قوم نے ان دونوں میں فرق کیا ہے۔ پس انہوں نے کہا ” النخرۃ “ بوسیدہ اور ” الناخرۃ “ کھوکھلی جس میں ہوا گزرے تو سیٹی کی سی آواز آئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–14

6۔ 14۔ اوپر کی قسموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں پہلے صور سے دنیا کے اجڑ جانے اور دوسرے صور سے حشر کے ہوجانے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ حشر کا برپا ہونا ایسا یقینی ہے جس طرح قسم کھانے کے بعد کی کوئی بات یقین ہوتی ہے۔ راجفۃ سخت آواز کو کہتے ہیں یہاں مراد اس سے پہلا صور ہے رادفۃ وہ چیز ہے جو پہلی چیز کے بعد آئے یہاں اس سے مراد دوسرا صور ہے جو پہلے صور کے بعد پھونکا جائے گا۔ واجفۃ کے معنی خوف زدہ کے ہیں۔ حافرہ کے معنی قبر کے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ حشر کے منکر کہتے تھے کہ جب قبر میں بدن گل سڑ گیا اور ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں تو پھر کیا دوبارہ جی سکتے ہیں اور اگلے پچھلے سب جئے تو ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–14

(قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ) کہتے ہیں یہ لوٹنا خسارہ ہے۔ یعنی انہوں نے اللہ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ کر دے گا جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انہیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی۔ اللہ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (فانماھی زجرۃ واحدہ) وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔ یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق (بالساھرہ) روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کی جزاوسزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–16

(11) منکرین کے طنز و مذاق کا ایک نمونہ و مظہر : سو اپنے طنز و مذاق میں سنجیدگی کا انداز اختیار کر کے یہ لوگ کہتے کہ تب تو یہ واپسی بڑی گھاٹے کی ہوگی، کہ ہمارے دنیاوی مال و دولت کو تو دوروں نے اپنا لیا ہوگا، اور آخرت کے لیے ہم نے کچھ کیا نہیں ہوگا کہ ہم اسے مانتے ہی نہیں تھے۔ سو یہ سب کچھ وہ لوگ تمسخر و استہزاء کے طور پر کہتے تھے کہ ایسا نہیں ہونے کا۔ بلکہ یہ سب کچھ یونہی خیالی اور فرضی باتیں ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو منکر لوگ اس طرح کی بات سنجیدہ موڈ بنا کر کہتے لیکن اسی کے اندر ان کے باطن کی حالت و کیفیت کی عکاسی و غمازی بھی پائی جاتی ہے کہ قیامت کی تکذیب پر ان کا دل مطمئن نہیں تھا، وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–14

قیامت کے دن لوگوں کا اور کائنات کا حال تشریح : جیسا کہ اکثر اس بات کا ذکر ہوچکا ہے کہ قیامت کے قریب اکثر زلزلے آئیں گے۔ زلزلے تو اکثر آتے رہے ہیں جو اصل میں اس تباہی کا تصور دلاتے ہیں جو قیامت کے دن کائنات کو پیش آنے والی ہے۔ یہاں ماضی قریب میں آنے والے ایک ایسے زلزلے کا ذکر معروف سائنسدان کرتے ہیں۔ '' ایک زلزلہ 79 ؁ء عیسوی میں اٹلی میں آیا تھا جس کی طاقت آٹھ تھی۔ جس کی وجہ سے آتش فشاں پھوٹ پڑا اور دو بڑے شہر 1. Pompell. 2. Hercilaman. تہ وبالا ہوگئے۔ ایک شہر پر گردوغبار اور راکھ کی بارش ہوئی جبکہ دوسرے شہر پر گرم گرم کیچڑ کی بارش ہوئی دونوں شہر چند گھنٹوں میں مل یا میٹ ہوگئے۔ یہ واقعہ دونوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 8–12

ف 4 یعنی اس صورت میں تو ہمارا خسارہ ہی خسارہ ہے۔ یہ بات ازراہ مذاق کہتے۔ (جامع البیان)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:12) قالوا۔ اس کا عطف یقولون پر ہے (اور) وہ کہتے ہیں :۔ تلک اذا کرۃ خاسرۃ : تلک (اسم اشارہ واحد مؤنث) بمعنی وہ۔ مبتداء ہے۔ اذا حرف جزا ہے۔ تب، اس وقت۔ کرۃ خاسرۃ موصوف صفت مل کر مبتداء کی خبر۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر تو یہ (زندگی کی واپسی) بڑی گھاٹے کی ہوگی (یہ وہ استہزاء کہتے ہیں) ۔ خاسرۃ وخسر و خسران (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے گھاٹے والی۔ مندرجہ ذیل وہ مقولے ہیں جو کہ کافر لوگ قیامت کی وقوع پذیری اور منکرین حژر کی حالت زاری کی آیات سن کر ٹھٹھے کے طور پر کہتے ہیں۔:۔ (1) ء انا لمردودون فی الحافرۃ ۔ (2) ء اذا کنا عظاما نخرۃ۔ (3) تلک اذا کرۃ خاسرۃ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–12

(ف 1) یعنی کافر کہتے ہیں کہ کیا مر کر پھر ہم الٹے زندگی کی طرف واپس کیے جائیں گے ہم تو نہیں سمجھ سکتے کہ گلی ہوئی ہدیوں میں دوبارہ جان پڑجائے گی ایسا ہوا تو یہ صورت ہمارے لیے بڑے ٹوٹے اور نقصان دینے والی ہوگی، کیونکہ ہم نے اس زندگی ک لیے کوئی سامان نہیں کیا، یہ تمسخر سے کہتے تھے یعنی مسلمان ہماری نسبت ایسا سمجھتے ہیں حالانکہ وہاں مرنے کے بعد سرے سے دوسری زندگی ہی نہیں نقصان اور خسارہ کا ذکر

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–15

[4] یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس سے بےپروا رہے اور جب انہیں اس سے ڈرایا جاتا تو نہایت ڈھٹائی سے اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ وہ لوگ جو دنیا میں اس سے ڈرتے رہے وہ اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–25

ف 2: السبحت وہ ہیں جو سبک سیری مکینوں کی مانند ہیں ۔ اور فالسبقت وہ ہیں کہ تیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اور فالمدبرات سے مراد وہ کواکب ہیں جو اپنی طبعی خاصیتوں کی بنا پر دنیا پر اپنا مستقل اثر قائم کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح گویا ان نجوم کواکب کو انسانی زندگی کے بمنزلہ قرار دیا گیا ہے ۔ کہ بعض لوگ بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں اور ان کی ولادت اور موت کا مطلع ومغرب دور دور ہوتا ہے ۔ بعض وہ ہوتے ہیں جو تھوڑی عمر پاتے ہیں اور ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں ۔ بعض کی زندگی حوادث اور مقابلہ وتقدم سے مبرا ہوتی ہے ۔ اور وہ سبک سیر سیاروں کی طرح فضائے حیات میں تیر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(12) کہتے ہیں اگر ایسا ہوا تو یہ واپسی بڑی نقصان دہ اور بڑی خسارے کی ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے تھے اگر آویں تو ایک ایک مکان کے ہزار ہزار مدعی ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–24

ف 4۔ کیونکہ ہم نے تو اس کے لئے کچھ سامان کیا نہیں، مقصود اس سے تمسخر تھا اہل حق کے اس عقیدہ کے ساتھ یعنی مسلمانوں کے عقیدہ پر تو ہم بڑے خسارہ میں ہوں گے جیسے کوئی شخص کسی کو خیر خواہی سے ڈرائے کہ اس راہ مت جانا، شری ملے گا اور مخاطب تکذیب کے طور پر کسی سے کہے کہ بھائی ادھر مت جانا شیر کھا جائے گا۔ مطلب یہ کہ قیامت کوئی چیز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ کہتے ہیں کہ تب تو یہ واپسی نقصان دہ ہوگی ؟ ۔ 12 یہ ازراہ تعجب اور مذاق ہے کہ اگر ایسا ہوگیا تو پھر ہمیں تو خسارہ ہی خسارہ ہوگا کیونکہ یہ تو ساری زندگی اس کو جھٹلاتے رہے اور اس کے لئے ہم نے کوئی تیاری نہیں کی۔ بلاشبہ ان کی یہ بات صحیح ہوگی لیکن اگر صحیح بات بطور مذاق کہی جائے تو کیا وہ صحیح ہوگی ؟ اور کیا اس کو کہا جائے گا کہ انہوں نے تو اس کو تسلیم کرلیا اور اگر کوئی شخص زندگی میں اس طرح کا مذاق کرتا ہو اور ازراہ استہزاء کہتا ہو تو اس کے کہنے کا اعتبار کرلیا جائے گا ؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ دوہرا مجرم ہوگا ایک حقیقت کو نہ تسلیم کرنے کا اور دوسرا استہزاء و مذاق کرنے کا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–24

The fifth quality of the angels: فَالْمُدَبِّرَ‌اتِ أَمْرً‌ا (then manage [ to do ] everything [ they are ordered to do,]...79:5). In other words, the last task of these angels of death will be as follows: Those who are commanded to reward and comfort the deserving souls, will gather means of reward and comfort for them; and those who are commanded to punish and cause pain to [ the evil souls ] will organize means for that. Reward and Punishment in the Grave The Surah thus far confirms that at the time of death, the angels will arrive and extract human souls. Then they will take them to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–12

4 That is, when they were told that they would surely be raised back to life after death, they started mocking it, saying to one another, "Well, if we have really to be restored to our former state of life, then we would certainly be doomed. "

Read the full tafseer →