An-Naazi'aat 79:11

An-Naazi'aat · from ayah 11

79:11

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً ۟ؕءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً

بھلا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہو جائیں گے (تو پھر زندہ کئے جائیں گے)

— Fateh Muhammad Jalandhari

Even if we should be decayed bones?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:11

کیا جب ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گے؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہو جائیں گے (تو پھر زندہ کئے جائیں گے)

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا اس وقت جب کہ ہم بوسیده ہڈیاں ہو جائیں گے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا اس وقت جب ہم بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوچکے ہوں گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا ہم جب گلی ہڈیاں ہوجائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا جب ہم بوسیدہ (کھوکھلی) ہڈیاں ہو جائیں گے (تب بھی زندہ کیے جائیں گے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جبکہ ہم بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا جب کہ ہم کھنکھناتی ہڈیاں ہوچکیں گے ٖکہتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا جب کہ ہم ہوچکے ہوں گے کھوکھری بوسیدہ ہڈیاں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کہا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے (تو پھر واپس ہوں گے)

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہوچکے ہوں گے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر زندہ کئے جائیں گے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

even after we have been reduced to bones, hollow and rotten?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it when we are turned into decayed bones?

— Muhammad Taqi Usmani

Is it when we are turned into decayed bones?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Even after we are bones Nakhirah"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Even if we should be decayed bones?

— Saheeh International

after we have become bones and dust?"

— Muhammad Sarwar

What! when we are rotten bones?

— Muhammad Habib Shakir

When we have become bones decayed!

— Abdul Majid Daryabadi

"What! - when we shall have become rotten bones?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 79:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

فرشتے موت اور ستارے اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے، بعض کہتے ہیں والنازعات غرقاً سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں پہلی آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں مراد سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے موت اور ستارے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں مراد کشتیاں ہیں، اسی طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–12

سورة النّٰزِعٰت 4 یعنی جب ان کو جواب دیا گیا کہ ہاں ایسا ہی ہوگا تو وہ مذاق کے طور پر آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یارو، اگر واقعی ہمیں پلٹ کر دوبارہ زندگی کی حالت میں واپس آنا پڑا تب تو ہم مارے گئے، اس کے بعد تو پھر ہماری خیر نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–24

پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’ءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا نَّخِرَۃً‘ میں استفہام کا اعادہ ان کی افزونی حیرت کو ظاہر کرتا ہے کہ اول تو مرنے کے بعد ازسرنو زندہ کیے جانے کا تصور ہی عجیب ہے لیکن اس سے بھی عجب تر ماجرا یہ ہے کہ جب ہڈیاں بھی بوسیدہ ہو کر خاک میں مل جائیں گی تب لوگ زندہ کیے جائیں گے!۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ بھلا ایسی بعید از عقل و قیاس بات کون مان سکتا ہے!

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 یہ انکار قیامت کی مزید تاکید ہے کہ ہم کس طرح زندہ کردیئے جائیں گے جب کہ ہماری ہڈیاں بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–11

4: یعنی کیا ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کی حالت میں واپس لایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–11

یقولون ............................ نخرة (11:79 ) ” یہ لوگ کہیں گے ” کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے گئے ہیں ؟ جب کہ ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے تھے ؟ “۔ یہ گفتگو وہ اس وقت کررہے ہوگے ، جب پہلے پہل حشر کے میدان میں اٹھیں گے۔ کہا جاتا ہے۔ رجع فی حافرنہ ” یعنی اس راستے سے گیا جس سے آیا تھا “۔ یہ گفتگو وہ مدہوسی اور حیرانی میں کریں گے کہ آیا وہ دوبارہ اسی زندگی میں آگئے ہیں۔ وہ حیران ہوں گے کہ ہم بوسیدہ ہڈیاں ہونے کے باوجود کس طرح اندہ انسان بن گئے۔ نخرة (11:79) ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو اندر سے خالی ہوگئی ہوں اور ان کے اندر جب ہوا چلتی ہے تو سرسر کی آواز آرہی ہو۔ لیکن جب وہ ذرا ہوش میں آئیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 10–12

11 یعنی " قبر کے گڑھے میں پہنچ کر کیا پھر ہم الٹے پاؤں زندگی کی طرف واپس کئے جائیں گے۔ ہم تو نہیں سمجھ سکتے کہ کھوکھری ہڈیوں میں دوبارہ جان پڑجائے گی۔ ایسا ہوا تو یہ صورت ہمارے لئے بڑے ٹوٹے اور خسارہ کی ہوگی۔ کیونکہ ہم نے اس زندگی کے لئے کوئی سامان نہیں کیا۔ " یہ تمسخر سے کہتے تھے۔ یعنی مسلمان ہماری نسبت ایسا سمجھتے ہیں حالانکہ وہاں مرنے کے بعد سرے سے دوسری زندگی ہی نہیں، نقصان اور خسارہ کا کیا ذکر۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

آیت 10{ یَقُوْلُوْنَ ئَ اِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْْحَافِرَۃِ۔ } ”یہ لوگ کہتے ہیں : کیا ہمیں لوٹا دیا جائے گا الٹے پائوں ؟“ کہ کیا مرنے کے بعد ہمیں پھر سے زندہ کر دیاجائے گا ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 10–11

8 حافرہ کا لغوی معنی :۔ الحَافِرَۃَ : حفر بمعنی گڑھا کھودنا اور حفرۃ بمعنی گڑھا بھی اور قبر بھی۔ اور حافرۃ بمعنی کھودی ہوئی زمین بھی اور ابتدائی حالت بھی اور ردّ فی الحافرۃ بطور محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ یعنی جہاں سے چلا تھا وہیں واپس جانے والا۔ بقول شاعر : پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا، یعنی کفار مکہ یہ کہتے تھے کہ ہم قبر کے گڑھے میں پہنچ کر کیا پھر الٹے پاؤں زندگی کی طرف واپس کیے جائیں گے ؟ ہماری گلی سڑی ہڈیوں میں دوبارہ جان پڑجائے، یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–12

4۔ (آیت) ” یقولون۔ قالوا “۔ یہ کہنے والے وہی رسول اللہ ﷺ کے معاصر منکرین حشر تھے۔ اور یہ فقرے انکار استیعاد کے لہجہ میں طنزوتعریض کی راہ سے کہتے تھے۔ ترجمانی اس میں آج کے بھی ” روشن خیال “۔ مادیین کی آگئی۔ (آیت) ” ء اذا ..... نخرہ “۔ مادہ پرست اور روحانیت سے ناآشنا قوموں نے انسان کے فناء وبقاء کو تمامتر اس کے جسم ظاہری کے فناوبقاء کا مرادف سمجھا ہے۔ (آیت) ” قلوب ..... خاشعۃ “۔ آیت میں (آیت) ” قلوب وابصار “۔ دونوں کی کیفیت بیان کرکے اہل کفر کے اضطراب باطنی وظاہری دونوں کی پوری تصویر سامنے کردی۔ (آیت) ” ابصارھا “۔ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ ابصار اصحابھا۔ معناہ ابصار اصحابھا (کشاف) اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–13

فالمدبرات امرا، یعنی امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے ہیں، امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ سے روح کے معاملے میں تدبیر و تنفیذ مراد ہے اور اس کے علاوہ اور دیگر امور میں بھی تدبیر و تنفیذ مراد ہوسکتی ہے۔ خلاصہ : یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن بعد کا مضمون اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور تمام مردوں کو ازسرنو ضرور زندہ کیا جائے گا، نیز اس امر کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ اوصاف کن ہستیوں کے ہیں لیکن صحابہ ؓ اور تابعین اور اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ نفس اور روح سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ء اذا کنا عظاما نخرۃ . استفہام انکاری ہے ‘ انکار کے بعد انکار مزید تاکید کے لیے ہے یعنی کیا ہم کو اٹھایا جائے گا کیا ہم کو زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا ‘ جبکہ ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے۔ سعید بن منصور نے محمد بن کعب کا قول نقل کیا ہے کہ جب آیت : یَقُوْلُوْنَ ءَ اِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَۃِ نازل ہوئی تو کفار قریش کہنے لگے : اگر مرنے کے بعد ہم دوبارہ زندگی کی طرف لوٹے تو بڑے گھاٹے میں رہیں گے ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–13

(11۔ 13) کیا ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر کیسے دوبارہ زندہ کیے جائیں گے، حضور نے اس پر فرمایا ہاں، ضرور زندہ کیے جاؤ گے تو وہ بولے یہ بڑے نقصان والی واپسی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 10–11

یقولون انا لمردودون فی …:”کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو دوبارہ پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے ؟“ یہ کہنا رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے منکرین قیامت کا تھا، آج کے مادہ پرست بھی یہی کہتے ہیں، ان کے خیال میں ہڈیاں بوسیدہ ہونے کے بعد انسان کا دوبارہ زندہ ہونا ناممکن ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ء اذا کناعظامانخرۃ۔ کیا اس وقت جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے کہا جاتا ہے، نخرالعظم یعنی بوسیدہ ہوجائے اور ٹوٹ پھوٹ جائے کہا جاتا ہے، عظامانخرہ، اہل مدینہ اہل مکہ، اہل شام اور اہل بصرہ نے اسی طرح پڑھا ہے، ابوعبید نے اسی کو پسند کیا ہے کیونکہ وہ آثار جن میں ہڈیوں کا ذکر ہوتا ہے ہم نے ان میں غور کیا تو ہم نے نخرہ دیکھا، ناخرہ، نہ دیکھا ابوعمرو، ان کے بیٹے عبداللہ، حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعود، ابن زبیر، حمزہ، کسائی، اور ابوبکر نے ناخرہ پڑھا۔ فراء طبری اور ابومعاذ نحوی نے آیات کے سروں کی موافقت کی وجہ سے اسے ہی پسند کیا، صحاح میں ہے، ناخرہ اس ہڈی کو کہتے ہیں جس میں ہوا داخل ہو پھر اسے نکلے تو اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

33۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے۔ آیت ءاذا کنا عظاما ناخرہ۔ الف کے ساتھ۔ 34۔ طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو نخرہ۔ الف کے ساتھ پڑھتے تھے۔ 35۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس حرف کو یوں پڑھتے تھے آیت ءاذا کنا عظاما نخرۃ۔ 36۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن الزبیر ؓ کو سنا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے۔ آیت عظاما نخرۃ۔ میں ابن عباس ؓ کو یہ بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا اس طرح نہیں ہے۔ 37۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ کے طرق سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ءَاِذَا كُنَا : کیا جب ہم ہوگئے ][ عِظَامًا نَّخِرَةً : بُھر بُھری ہڈیاں ] ن خ ر [نَخَرًا : (س) بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہونا ] [ نَخِرَۃٌ صفت ہے۔ ریزہ ریزہ۔ بُھر بُھری۔ زیر مطالعہ آیت۔ 11 ۔ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–12

یہ قیامت کے دن کی حالت کا بیان ہوا۔ اس کے بعد منکرین قیامت کا قول نقل کیا۔ ﴿ يَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ۠ فِي الْحَافِرَةِؕ0010 ﴾ (وہ کہتے ہیں کیا ہم اپنی پہلی حالت پر واپس ہوں گے ؟ ) یہ استفہام انکاری ہے منکرین کہتے ہیں کہ ایسا ہونے والا نہیں کہ ہم پہلی حالت میں آجائیں یعنی موت سے پہلے جو ہماری حالت تھی مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندگی مل جائے گی اور پہلی حالت پر آجائیں ایسا ہونے والا نہیں۔ انہوں نے اپنے واپس ہونے کا استبعاد ظاہر کرنے کے لیے مزید کہا ﴿ ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ0011﴾ (کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اس وقت دوبارہ زندگی میں آئیں گے) ﴿قَالُوْا تِلْكَ اِذًا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–26

ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–11

5:۔ ” قُلُوب “ اس دن شدت ہول سے دلوں میں سخت اضطراب ہوگا اور آنکھیں مارے خوف کے جھکی ہوں گی۔ ” یقولونء انا لمردودون فی الحافرۃ “ یہ شکوی ہے۔ ” الحافرۃ “ پہلی حالت۔ الحافرۃ الحالۃ الاولی (مدارک) ۔ منکرین قیامت کہتے ہیں کیا ہم موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اسی پہلی حالت میں آجائیں گے۔ کیا جب ہم پرانی اور بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر بھی ایسا ہوگا ؟ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

(کوائف اور موضوع ) اس سورة کا نام سورة النزعت ہے۔ اور یہ اس کے پہلے لفظ سے لیا گیا ہے۔ اس کے دوسرے نام سبحت اور سبقت بھی ہیں جو اس سورة کی تیسر ی اور چوتھی آیات سے ماخوذ ہیں ۔ تا ہم زیادہ راحج نام نازعت ہی ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھیالیس 46 آیات ہیں ۔ اس کا مضمون پہلی سورة نبا کے ساتھ ملتا جلتا ہے ۔ ان سورتوں میں قیامت کا ہی ذکر ہے اس کے بعد بھی دور تک اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے جسکے لیے مختلف طریقے اختیار کئے ہیں ۔ (پہلی سورة کے ساتھ ربط) گذشتہ سورة میں ایک کسان کی ذہنیت کو پیش نظررکھ کر قیامت کا ذکر کیا گیا تھا ان یوم الفصل کان میقاتا زمین میں دانہ بونے کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ءَ اِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَۃً۝ 11 ۭ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–14

ترکیب ¦ یوم منصوب بالجواب المضمر والتقدیرلتبعثن یوم ترجف الراجفۃ اے فی الوقت الواسع الذی یحصل فیہ النفختان وقیل منصوب بمادل علیہ قلوب یومئذوا جفۃ ای یوم ترجف رجفت القلوب۔ والرجفۃ الحرکۃ والاضطراب یقال رجف یرجف اذا اضطرب ومنہ قولہ تعالیٰ یوم ترجف الارض والجبال وقیل الھدۃ النکرۃ والصوت الھائل من قولھم رجف الرعدیر جف رجفا ورجیفا ومنہ قولہ تعالیٰ فاخذتھم الرجفۃ فعلی ھذا الراجفۃ صیحۃ عظیمۃ تبتعھا الراوفۃ الجملۃ منصوب علی الحال من الراجفۃ والمعنی لتبعثن یوم النفخۃ الاولی حال کون النفخۃ الثانیۃ تابعۃ لھا والرادفۃ کل شیء جاء بعدہ شیء آخر یقال ردفہ ای جاء بعدہ۔ قلوب مبتداء یومئذ منصوب بواجفۃ وھی صفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–12

یَقُوْلُوْنَ ئَ اِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَۃِ ۔ ئَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا نَّخِرَۃً ۔ قَالُوْا تِلْکَ اِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ۔ (النازعات : 10 تا 12) (یہ لوگ پوچھتے ہیں کیا ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت کی طرف۔ کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے۔ کہتے ہیں اس صورت میں واپسی بڑے خسارہ کی ہوگی۔ ) الْحَافِرَۃِ کے اصل معنی نقش قدم کے ہیں، لیکن محاورے میں اگر کہیں کہ فُلاَنٌ رَجَعَ عَلیٰ حَافِرَتِہِ اَوْفِیْ حَافِرَتِہِ تو اس کے معنی ہوں گے کہ فلاں شخص جس حال میں تھا اس سے نکل کر پھر الٹے پائوں اسی میں واپس آگیا۔ کفار کے استہزاء کی تصویر نبی کریم ﷺ جب انھیں قرآن کریم پڑھ کر قیامت کی تفصیلات…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–14

فہم القرآن ربط کلام : موت کے بعد پہلا مرحلہ۔ پانچ قسمیں اٹھا کر ہر شخص کو یہ حقیقت یاد کروائی گئی ہے کہ نیک ہو یا بد اس نے موت کے مشکل ترین لمحات سے گزرنا ہے اور موت کے بعد ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب زمین کا چپہ چپہ کانپنے لگے گا کیونکہ اسے پے در پے جھٹکے لگیں گے اس طرح پوری زمین ہلا کر رکھ دی جائے گی یہاں تک کہ زمین چٹیل میدان میں تبدیل ہوجائے گی۔ اس دن لوگوں کے دل دہل جائیں گے اور ہر شخص یوں محسوس کرے گا جیسے اس کا کلیجہ منہ میں آکر پھنس گیا ہے۔ آنکھیں ڈری ڈری اور جھکی ہوں گی، چاہیے تو یہ کہ کافر قیامت پر ایمان لاتے لیکن وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم قبروں سے نکل کر پہلی حالت پر لوٹ جائیں گے ؟…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 1 : ئَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا نَّخِرَۃً (کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے ہم پھر واپس ہونگے) نخرہؔ بوسیدہ۔ قراءت : حفص کے علاوہ کوفی قراء نے ناخرہ پڑھا ہے۔ معنی یہ ہے کیا ہم دوبارہ زندہ ہونگے اس کے بعد کہ ہم بوسیدہ ہڈیاں بن گئے ؟ نحو : اذاؔ فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور وہ نبعثؔ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10 ۔” یقولون “ یعنی منکرین بعث جب ان کو کہا جاتا تھا کہ تم موت کے بعد اٹھائے جائو گے۔ ” ء انا لمردو دون فی الحافرۃ “ یعنی پہلے حال کی طرف اور ابتداء امر کی طرف۔ پس ہم زندہ ہوجائیں گے موت کے بعد جیسا کہ ہم پہلے تھے ؟ عرب کہتے ہیں ” رجع فلان فی حاقرتہ “ یعنی جہاں سے آیا تھا وہاں لوٹ گیا اور حافرۃ ان کے نزدیک شے کی ابتداء کا نام ہے اور شئی کے اول کا اور ان میں بعض نے کہا ہے الحاضرۃ زمین کا اوپر والا حصہ جس میں ان کی قبریں کھودی جاتی ہیں اس کا نام حافرۃ رکھا گیا بمعنی محفورۃ۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” عیشۃ راضیۃ “ یعنی مرضیہ کی طرح اور کہا گیا ہے اس کا نام حافرۃ رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ حوافر کا مستقر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–14

6۔ 14۔ اوپر کی قسموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں پہلے صور سے دنیا کے اجڑ جانے اور دوسرے صور سے حشر کے ہوجانے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ حشر کا برپا ہونا ایسا یقینی ہے جس طرح قسم کھانے کے بعد کی کوئی بات یقین ہوتی ہے۔ راجفۃ سخت آواز کو کہتے ہیں یہاں مراد اس سے پہلا صور ہے رادفۃ وہ چیز ہے جو پہلی چیز کے بعد آئے یہاں اس سے مراد دوسرا صور ہے جو پہلے صور کے بعد پھونکا جائے گا۔ واجفۃ کے معنی خوف زدہ کے ہیں۔ حافرہ کے معنی قبر کے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ حشر کے منکر کہتے تھے کہ جب قبر میں بدن گل سڑ گیا اور ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں تو پھر کیا دوبارہ جی سکتے ہیں اور اگلے پچھلے سب جئے تو ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً ) یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(10) منکرین کے استہزاء و انکار کا نمونہ و مظہر : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیا ہمیں واقعی پلٹا کر پہلی حالت میں لایا جائے گا ؟ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا، اس لیے وہ تعجب اور مذاق و استہزاء کے طور پر اس طرح کہتے تھے اور یہی نتیجہ اور انجام ہوتا ہے انکار آخرت کا، کہ اس سے انسان لاپروا، غیر ذمہ دار اور غیر سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ جبکہ مومن صادق اس سے ڈرتا رہتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ یَسْتَعْجِلُ بِہَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُونَ بِہَا وَالَّذِیْنَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْہَا وَیَعْلَمُونَ أَنَّہَا الْحَقُّ أَلَا إِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُونَ فِیْ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–14

قیامت کے دن لوگوں کا اور کائنات کا حال تشریح : جیسا کہ اکثر اس بات کا ذکر ہوچکا ہے کہ قیامت کے قریب اکثر زلزلے آئیں گے۔ زلزلے تو اکثر آتے رہے ہیں جو اصل میں اس تباہی کا تصور دلاتے ہیں جو قیامت کے دن کائنات کو پیش آنے والی ہے۔ یہاں ماضی قریب میں آنے والے ایک ایسے زلزلے کا ذکر معروف سائنسدان کرتے ہیں۔ '' ایک زلزلہ 79 ؁ء عیسوی میں اٹلی میں آیا تھا جس کی طاقت آٹھ تھی۔ جس کی وجہ سے آتش فشاں پھوٹ پڑا اور دو بڑے شہر 1. Pompell. 2. Hercilaman. تہ وبالا ہوگئے۔ ایک شہر پر گردوغبار اور راکھ کی بارش ہوئی جبکہ دوسرے شہر پر گرم گرم کیچڑ کی بارش ہوئی دونوں شہر چند گھنٹوں میں مل یا میٹ ہوگئے۔ یہ واقعہ دونوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 8–12

ف 4 یعنی اس صورت میں تو ہمارا خسارہ ہی خسارہ ہے۔ یہ بات ازراہ مذاق کہتے۔ (جامع البیان)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:11) ء اذا کنا عظاما نخرۃ : یہ جملہ بھی استفہام انکاری ہے انکار کے بعد انکار مزید تاکید کے لئے ہے۔ ء ہمزہ استفہامیہ ہے اذا ظرف زمان ہے زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے اور کبھی زمانہ ماضی کے لئے بھی آتا ہے جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ واذا رأوا تجارۃ او لہوا ن انفضوا الیہا (62:11) جب انہوں نے سودا بکتا دیکھا یا تماشہ ہوتا دیکھا تو جھٹک کر اسی طرف چل دئیے۔ اور اگر قسم کے بعد واقع ہو تو زمانہ حال کے لئے آتا ہے جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ والنجم اذا ھوی (53:1) اور قسم ہے تارے کی جب وہ گرنے لگے۔ کنا ماضی جمع متکلم (بمعنی مضارع۔ ہم ہوں گے) ۔ عظاما نخرۃ : موصوف و صفت مل کر کان کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–12

(ف 1) یعنی کافر کہتے ہیں کہ کیا مر کر پھر ہم الٹے زندگی کی طرف واپس کیے جائیں گے ہم تو نہیں سمجھ سکتے کہ گلی ہوئی ہدیوں میں دوبارہ جان پڑجائے گی ایسا ہوا تو یہ صورت ہمارے لیے بڑے ٹوٹے اور نقصان دینے والی ہوگی، کیونکہ ہم نے اس زندگی ک لیے کوئی سامان نہیں کیا، یہ تمسخر سے کہتے تھے یعنی مسلمان ہماری نسبت ایسا سمجھتے ہیں حالانکہ وہاں مرنے کے بعد سرے سے دوسری زندگی ہی نہیں نقصان اور خسارہ کا ذکر

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–15

[4] یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس سے بےپروا رہے اور جب انہیں اس سے ڈرایا جاتا تو نہایت ڈھٹائی سے اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ وہ لوگ جو دنیا میں اس سے ڈرتے رہے وہ اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–25

ف 2: السبحت وہ ہیں جو سبک سیری مکینوں کی مانند ہیں ۔ اور فالسبقت وہ ہیں کہ تیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اور فالمدبرات سے مراد وہ کواکب ہیں جو اپنی طبعی خاصیتوں کی بنا پر دنیا پر اپنا مستقل اثر قائم کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح گویا ان نجوم کواکب کو انسانی زندگی کے بمنزلہ قرار دیا گیا ہے ۔ کہ بعض لوگ بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں اور ان کی ولادت اور موت کا مطلع ومغرب دور دور ہوتا ہے ۔ بعض وہ ہوتے ہیں جو تھوڑی عمر پاتے ہیں اور ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں ۔ بعض کی زندگی حوادث اور مقابلہ وتقدم سے مبرا ہوتی ہے ۔ اور وہ سبک سیر سیاروں کی طرح فضائے حیات میں تیر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) کیا جب ہم گلی ہوئی بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر واپس ہوں گے - یعنی کیا موت کے بعد پھر حیات واپس ہوگی اور خاص کر جب ہڈیاں گل جائیں اور بوسیدہ اور کھوکھری ہوجائیں تو پھر زندہ ہونا بہت مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

ف 3۔ یعنی کیا بعد الموت پھر حیات ثانیہ ہوگی ؟ مقصود استبعاد ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا جب ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی ؟ ۔ 11 (نجرۃ) اس کا اصل مادہ ن خ ر ہے اور اس مادہ کا یہ ایک لفظ اس جگہ استعمال ہوا ہے اس کے علاوہ نہ تو اس لفظ کا استعمال ہوا ہے اور نہ ہی اس کے مادہ کا کوئی دوسرا لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے۔ (نخرۃ) صیغہ صفت نخر مصدر باپ سمع ، بوسیدہ ، چور چور ، نخرۃ منخر مفخور ناک کا نتھنا ، (نخرۃ) ہوا کا تیز چلنا۔ نخر بوسیدہ ، چور چور ہڈیاں۔ ناخر اور ناخرۃ بوسیدہ ، چور چور ہڈیاں۔ نخوری ، فراخ ذہن ، فراخ شکم ، نخرار شریف ، بزرگ ، طبع ست نخارۃ جمع۔ نخر اور نخیر منمنانا ، ناک میں سے آواز نکالنا۔ نخر اٹکل ناک میں ڈال کر کھجانا۔ بوسیدہ ہونا۔ ریزہ ریزہ ہوجانا۔ وہ بات جس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–24

The fifth quality of the angels: فَالْمُدَبِّرَ‌اتِ أَمْرً‌ا (then manage [ to do ] everything [ they are ordered to do,]...79:5). In other words, the last task of these angels of death will be as follows: Those who are commanded to reward and comfort the deserving souls, will gather means of reward and comfort for them; and those who are commanded to punish and cause pain to [ the evil souls ] will organize means for that. Reward and Punishment in the Grave The Surah thus far confirms that at the time of death, the angels will arrive and extract human souls. Then they will take them to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–12

4 That is, when they were told that they would surely be raised back to life after death, they started mocking it, saying to one another, "Well, if we have really to be restored to our former state of life, then we would certainly be doomed. "

Read the full tafseer →