An-Naazi'aat 79:10

An-Naazi'aat · from ayah 10

79:10

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِ ۟ؕيَقُوۡلُوۡنَ ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ فِى الۡحَـافِرَةِ ؕ‏

(کافر) کہتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھر لوٹ جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They are [presently] saying, "Will we indeed be returned to [our] former state [of life]?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:10

یہ لوگ کہتے ہیں "کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے جائیں گے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(کافر) کہتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھر لوٹ جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہتے ہیں کہ کیا ہم پہلی کی سی حالت کی طرف پھر لوٹائے جائیں گے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ (کافر لوگ) کہتے ہیں کہ : کیا ہم پہلی والی حالت پر لوٹا دیئے جائیں گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کافر کہتے ہیں کیا ہم پھر الٹے پاؤں پلٹیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(کفّار) کہتے ہیں: کیا ہم پہلی زندگی کی طرف پلٹائے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ لوگ کہتے ہیں کیا بیشک ہم یقینا پہلی حالت میں لوٹائے جانے والے ہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ (کفار مکہ) کہتے ہیں : کیا ہم پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پوچھتے ہیں کیا ہم پھر پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(مگر یہ لوگ ہیں کہ تعجب اور استہزا کے طور پر) کہتے ہیں کہ کیا واقعی ہمیں پلٹا کر واپس لایا جائے گا اپنی پہلی حالت میں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

یہ کہتے ہیں کہ بھلا کی اہم بھی واپس ہوں گے پہلی حالت کی طرف ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ لوگ کہتے ہیں : کیا ہمیں لوٹا دیا جائے گا الٹے پائوں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

) (کافر) کہتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھر لوٹیں گے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

They say: “Shall we indeed be restored to life,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They (the infidels) say, :Are we going to be brought back to our former state (of Life) ?

— Muhammad Taqi Usmani

They (the infidels) say, :Are we going to be brought back to our former state (of Life) ?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They say: "Shall we indeed be brought back from Al-Hafirah"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Now) they are saying: Shall we really be restored to our first state

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They are [presently] saying, "Will we indeed be returned to [our] former state [of life]?

— Saheeh International

(The disbelievers) say, "Shall we be brought back to life again

— Muhammad Sarwar

They say: Shall we indeed be restored to (our) first state?

— Muhammad Habib Shakir

They say: shall we indeed be restored to the first state,

— Abdul Majid Daryabadi

They say (now): "What! shall we indeed be returned to (our) former state?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 79:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

فرشتے موت اور ستارے اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے، بعض کہتے ہیں والنازعات غرقاً سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں پہلی آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں مراد سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے موت اور ستارے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں مراد کشتیاں ہیں، اسی طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–12

سورة النّٰزِعٰت 4 یعنی جب ان کو جواب دیا گیا کہ ہاں ایسا ہی ہوگا تو وہ مذاق کے طور پر آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یارو، اگر واقعی ہمیں پلٹ کر دوبارہ زندگی کی حالت میں واپس آنا پڑا تب تو ہم مارے گئے، اس کے بعد تو پھر ہماری خیر نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–24

پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

کفار کے استہزاء کی تصویر: یہ تصویر ہے ان کے اس مذاق کی جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا ذکر سن کر وہ نہایت بے باکی سے کرتے۔ ’حَافِرَۃٌ‘ کے اصل معنی نقش قدم کے ہیں لیکن محاورے میں اگر کہیں کہ ’فلان رجع علی حافرتہٖ اوفی حافرتہٖ‘ تو اس کے معنی ہوں گے کہ فلاں شخص جس حال میں تھا اس سے نکل کر پھر الٹے پاؤں اسی میں واپس آ گیا۔ یعنی جب انھیں ڈرایا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد حساب کتاب کے لیے زندہ کیے جاؤ گے تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور ایک دوسرے سے بانداز استہزاء پوچھتے ہیں کہ کیوں جی! کیا مر جانے اور بوسیدہ ہڈیاں ہو جانے کے بعد پھر ہم زندگی کی حالت میں لوٹائے جائیں گے!

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 حافِرَۃ، پہلی حالت کو کہتے ہیں۔ منکرین قیامت کا قول ہے کہ کیا ہم پھر اس طرح زندہ کردیئے جائیں گے جس طرح مرنے سے پیشتر تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–11

4: یعنی کیا ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کی حالت میں واپس لایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–11

یقولون ............................ نخرة (11:79 ) ” یہ لوگ کہیں گے ” کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے گئے ہیں ؟ جب کہ ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے تھے ؟ “۔ یہ گفتگو وہ اس وقت کررہے ہوگے ، جب پہلے پہل حشر کے میدان میں اٹھیں گے۔ کہا جاتا ہے۔ رجع فی حافرنہ ” یعنی اس راستے سے گیا جس سے آیا تھا “۔ یہ گفتگو وہ مدہوسی اور حیرانی میں کریں گے کہ آیا وہ دوبارہ اسی زندگی میں آگئے ہیں۔ وہ حیران ہوں گے کہ ہم بوسیدہ ہڈیاں ہونے کے باوجود کس طرح اندہ انسان بن گئے۔ نخرة (11:79) ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو اندر سے خالی ہوگئی ہوں اور ان کے اندر جب ہوا چلتی ہے تو سرسر کی آواز آرہی ہو۔ لیکن جب وہ ذرا ہوش میں آئیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 10–12

11 یعنی " قبر کے گڑھے میں پہنچ کر کیا پھر ہم الٹے پاؤں زندگی کی طرف واپس کئے جائیں گے۔ ہم تو نہیں سمجھ سکتے کہ کھوکھری ہڈیوں میں دوبارہ جان پڑجائے گی۔ ایسا ہوا تو یہ صورت ہمارے لئے بڑے ٹوٹے اور خسارہ کی ہوگی۔ کیونکہ ہم نے اس زندگی کے لئے کوئی سامان نہیں کیا۔ " یہ تمسخر سے کہتے تھے۔ یعنی مسلمان ہماری نسبت ایسا سمجھتے ہیں حالانکہ وہاں مرنے کے بعد سرے سے دوسری زندگی ہی نہیں، نقصان اور خسارہ کا کیا ذکر۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

آیت 10{ یَقُوْلُوْنَ ئَ اِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْْحَافِرَۃِ۔ } ”یہ لوگ کہتے ہیں : کیا ہمیں لوٹا دیا جائے گا الٹے پائوں ؟“ کہ کیا مرنے کے بعد ہمیں پھر سے زندہ کر دیاجائے گا ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 10–11

8 حافرہ کا لغوی معنی :۔ الحَافِرَۃَ : حفر بمعنی گڑھا کھودنا اور حفرۃ بمعنی گڑھا بھی اور قبر بھی۔ اور حافرۃ بمعنی کھودی ہوئی زمین بھی اور ابتدائی حالت بھی اور ردّ فی الحافرۃ بطور محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ یعنی جہاں سے چلا تھا وہیں واپس جانے والا۔ بقول شاعر : پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا، یعنی کفار مکہ یہ کہتے تھے کہ ہم قبر کے گڑھے میں پہنچ کر کیا پھر الٹے پاؤں زندگی کی طرف واپس کیے جائیں گے ؟ ہماری گلی سڑی ہڈیوں میں دوبارہ جان پڑجائے، یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–12

4۔ (آیت) ” یقولون۔ قالوا “۔ یہ کہنے والے وہی رسول اللہ ﷺ کے معاصر منکرین حشر تھے۔ اور یہ فقرے انکار استیعاد کے لہجہ میں طنزوتعریض کی راہ سے کہتے تھے۔ ترجمانی اس میں آج کے بھی ” روشن خیال “۔ مادیین کی آگئی۔ (آیت) ” ء اذا ..... نخرہ “۔ مادہ پرست اور روحانیت سے ناآشنا قوموں نے انسان کے فناء وبقاء کو تمامتر اس کے جسم ظاہری کے فناوبقاء کا مرادف سمجھا ہے۔ (آیت) ” قلوب ..... خاشعۃ “۔ آیت میں (آیت) ” قلوب وابصار “۔ دونوں کی کیفیت بیان کرکے اہل کفر کے اضطراب باطنی وظاہری دونوں کی پوری تصویر سامنے کردی۔ (آیت) ” ابصارھا “۔ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ ابصار اصحابھا۔ معناہ ابصار اصحابھا (کشاف) اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–13

فالمدبرات امرا، یعنی امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے ہیں، امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ سے روح کے معاملے میں تدبیر و تنفیذ مراد ہے اور اس کے علاوہ اور دیگر امور میں بھی تدبیر و تنفیذ مراد ہوسکتی ہے۔ خلاصہ : یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن بعد کا مضمون اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور تمام مردوں کو ازسرنو ضرور زندہ کیا جائے گا، نیز اس امر کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ اوصاف کن ہستیوں کے ہیں لیکن صحابہ ؓ اور تابعین اور اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ نفس اور روح سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یقولونء انا لمردودون فی الحافرۃ . یہ کلام سابق کی علت ہے کیونکہ وہ دنیا میں حشر آخرت کے منکر تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہم کو پہلی زندگی میں واپس کیا جائے گا یعنی مرنے کے بعد پھر زندہ کیا جائے گا۔ ءَ اِنَّا میں استفہام انکاری ہے (یعنی نہیں لوٹایا جائے گا) بعض قراءتوں میں ہمزۂ استفہام لفظاً محذوف ہے مگر معنیً مراد ہے۔ الحافرہ۔ پہلی زندگی۔ رَجَعَ فلانٌ فی الحافرۃ کا معنی یہ ہے کہ فلاں شخص اپنے اسی طریق پر لوٹ گیا جس پر آیا تھا اور جس کو اپنی مرضی سے اس نے کھودا تھا (گویا حافرۃ بمعنی محفورۃٌ کے ہے ‘ کھودا ہوا) جیسے عِیْشَۃٌ رَّاضِیَۃٌ یعنی مَرْضِیَّۃٌ۔ یا یوں کہو کہ قابل کو مقبول سے تشبیہ دی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–10

(6۔ 10) ان تمام چیزوں کی قسمیں کھا کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دونوں مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور ان دونوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا۔ چناچہ فرما رہے ہیں کہ جس دن ہلا دینے والی چیز ہر ایک چیز کو ہلا دے گی یعنی نفخہ اولی ہوگا اور پھر اس کے بعد نفخہ ثانیہ ہوگا۔ قیامت کے دن دل خوف زدہ ہوں گے اور ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی مگر یہ مکہ کے کافر کہتے ہیں کیا ہم دنیاوی حالت کی طرف پھر واپس ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 10–11

یقولون انا لمردودون فی …:”کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو دوبارہ پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے ؟“ یہ کہنا رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے منکرین قیامت کا تھا، آج کے مادہ پرست بھی یہی کہتے ہیں، ان کے خیال میں ہڈیاں بوسیدہ ہونے کے بعد انسان کا دوبارہ زندہ ہونا ناممکن ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–10

ابصارھا خاشعہ۔ یہ سابقہ مبتدا کی ضمیر ہے جس طرح یہ قول، ولعبد مومن خیر من مشرک (البقرہ 221) مومن غلام مشرک سے بہتر ہے، خاشعہ کا معنی جھکی ہوئی ذلیل ورسوا، یہ صورت اس ہولناکی کی وجہ سے ہوگی جسے وہ دیکھ رہی ہوگی اس کی مثل، خاشعۃ ابصارھم ترھقھم ذلہ۔ المعارج 44) ہے یعنی یہ بعث کو جھٹلانے والے اور اس کا انکار کرنے والے کہیں گے جب انہیں کہا جاتا ہے تمہیں دوبارہ اٹھایاجائے گا تو وہ انکار کرتے ہوئے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کیا ہم اپنی موت کے بعد پہلی حالت کی طرف لوٹ جائیں گے تو جس طرح ہم موت سے پہلے زندہ تھے اسی طرح پھر زندہ ہوجائیں گے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، انا لمبعوثون…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

30۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیتء انا لمردودون فی الحافرۃ یعنی نئی پیدائش میں اٹھیں گے۔ 31۔ عبد بن حمید نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیتء انا لمردودون فی الحافرۃ سے مراد ہے کیا ہم دوبارہ زندہ ہوں گے۔ 32۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیتء انا لمردودون فی الحافرۃء اذا کنا عظاما نخرہ۔ نازل ہوئی تو کفار قریش نے کہا اگر ہم کو موت کے بعد زندہ کیا گیا تو کو ضرور اٹھایا جائے گا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت تلک اذا کرۃ خاسرۃ۔ تو یہ لوٹنا اس وقت خسارے کا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَقُوْلُوْنَ : وہ لوگ کہتے ہیں ][ ءَانا لَمَرْدُوْدُوْنَ : کیا بیشک ہم ضرور لوٹائے جانے والے ہیں ][ فِي الْحَافِرَةِ : اسی قدم میں (اُلٹے پائوں)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–12

یہ قیامت کے دن کی حالت کا بیان ہوا۔ اس کے بعد منکرین قیامت کا قول نقل کیا۔ ﴿ يَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ۠ فِي الْحَافِرَةِؕ0010 ﴾ (وہ کہتے ہیں کیا ہم اپنی پہلی حالت پر واپس ہوں گے ؟ ) یہ استفہام انکاری ہے منکرین کہتے ہیں کہ ایسا ہونے والا نہیں کہ ہم پہلی حالت میں آجائیں یعنی موت سے پہلے جو ہماری حالت تھی مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندگی مل جائے گی اور پہلی حالت پر آجائیں ایسا ہونے والا نہیں۔ انہوں نے اپنے واپس ہونے کا استبعاد ظاہر کرنے کے لیے مزید کہا ﴿ ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ0011﴾ (کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اس وقت دوبارہ زندگی میں آئیں گے) ﴿قَالُوْا تِلْكَ اِذًا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–26

ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–11

5:۔ ” قُلُوب “ اس دن شدت ہول سے دلوں میں سخت اضطراب ہوگا اور آنکھیں مارے خوف کے جھکی ہوں گی۔ ” یقولونء انا لمردودون فی الحافرۃ “ یہ شکوی ہے۔ ” الحافرۃ “ پہلی حالت۔ الحافرۃ الحالۃ الاولی (مدارک) ۔ منکرین قیامت کہتے ہیں کیا ہم موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اسی پہلی حالت میں آجائیں گے۔ کیا جب ہم پرانی اور بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر بھی ایسا ہوگا ؟ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

(کوائف اور موضوع ) اس سورة کا نام سورة النزعت ہے۔ اور یہ اس کے پہلے لفظ سے لیا گیا ہے۔ اس کے دوسرے نام سبحت اور سبقت بھی ہیں جو اس سورة کی تیسر ی اور چوتھی آیات سے ماخوذ ہیں ۔ تا ہم زیادہ راحج نام نازعت ہی ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھیالیس 46 آیات ہیں ۔ اس کا مضمون پہلی سورة نبا کے ساتھ ملتا جلتا ہے ۔ ان سورتوں میں قیامت کا ہی ذکر ہے اس کے بعد بھی دور تک اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے جسکے لیے مختلف طریقے اختیار کئے ہیں ۔ (پہلی سورة کے ساتھ ربط) گذشتہ سورة میں ایک کسان کی ذہنیت کو پیش نظررکھ کر قیامت کا ذکر کیا گیا تھا ان یوم الفصل کان میقاتا زمین میں دانہ بونے کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَقُوْلُوْنَ ءَ اِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِي الْحَافِرَۃِ۝ 10 ۭ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–14

ترکیب ¦ یوم منصوب بالجواب المضمر والتقدیرلتبعثن یوم ترجف الراجفۃ اے فی الوقت الواسع الذی یحصل فیہ النفختان وقیل منصوب بمادل علیہ قلوب یومئذوا جفۃ ای یوم ترجف رجفت القلوب۔ والرجفۃ الحرکۃ والاضطراب یقال رجف یرجف اذا اضطرب ومنہ قولہ تعالیٰ یوم ترجف الارض والجبال وقیل الھدۃ النکرۃ والصوت الھائل من قولھم رجف الرعدیر جف رجفا ورجیفا ومنہ قولہ تعالیٰ فاخذتھم الرجفۃ فعلی ھذا الراجفۃ صیحۃ عظیمۃ تبتعھا الراوفۃ الجملۃ منصوب علی الحال من الراجفۃ والمعنی لتبعثن یوم النفخۃ الاولی حال کون النفخۃ الثانیۃ تابعۃ لھا والرادفۃ کل شیء جاء بعدہ شیء آخر یقال ردفہ ای جاء بعدہ۔ قلوب مبتداء یومئذ منصوب بواجفۃ وھی صفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–12

یَقُوْلُوْنَ ئَ اِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَۃِ ۔ ئَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا نَّخِرَۃً ۔ قَالُوْا تِلْکَ اِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ۔ (النازعات : 10 تا 12) (یہ لوگ پوچھتے ہیں کیا ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت کی طرف۔ کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے۔ کہتے ہیں اس صورت میں واپسی بڑے خسارہ کی ہوگی۔ ) الْحَافِرَۃِ کے اصل معنی نقش قدم کے ہیں، لیکن محاورے میں اگر کہیں کہ فُلاَنٌ رَجَعَ عَلیٰ حَافِرَتِہِ اَوْفِیْ حَافِرَتِہِ تو اس کے معنی ہوں گے کہ فلاں شخص جس حال میں تھا اس سے نکل کر پھر الٹے پائوں اسی میں واپس آگیا۔ کفار کے استہزاء کی تصویر نبی کریم ﷺ جب انھیں قرآن کریم پڑھ کر قیامت کی تفصیلات…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–14

فہم القرآن ربط کلام : موت کے بعد پہلا مرحلہ۔ پانچ قسمیں اٹھا کر ہر شخص کو یہ حقیقت یاد کروائی گئی ہے کہ نیک ہو یا بد اس نے موت کے مشکل ترین لمحات سے گزرنا ہے اور موت کے بعد ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب زمین کا چپہ چپہ کانپنے لگے گا کیونکہ اسے پے در پے جھٹکے لگیں گے اس طرح پوری زمین ہلا کر رکھ دی جائے گی یہاں تک کہ زمین چٹیل میدان میں تبدیل ہوجائے گی۔ اس دن لوگوں کے دل دہل جائیں گے اور ہر شخص یوں محسوس کرے گا جیسے اس کا کلیجہ منہ میں آکر پھنس گیا ہے۔ آنکھیں ڈری ڈری اور جھکی ہوں گی، چاہیے تو یہ کہ کافر قیامت پر ایمان لاتے لیکن وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم قبروں سے نکل کر پہلی حالت پر لوٹ جائیں گے ؟…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10 : یَقُوْلُوْنَ (کہتے ہیں) یعنی منکرین بعث دنیا میں استہزاء کرتے ہوئے اور بعث کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ئَ اِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَۃِ (کیا ہم پہلی حالت میں پھر واپس ہونگے) یہ استفہام انکاری ہے یعنی کیا ہم موت کے بعد اول حالت کی طرف لوٹائے جائیں گے پھر ہم پہلے کی طرح زندہ ہوجائیں گے ؟ الحافرہؔ پہلی حالت۔ جو شخص کسی کام میں مصروف ہو پھر اس سے فارغ ہوجائے پھر کچھ وقت بعد دوبارہ اسی کام کی طرف لوٹ جائے تو عرب کہتے ہیں رجع الی حافر تہٖ ای الی حالتہ الا ولٰی اور عرب کہتے ہیں النقد عند الحافرۃ یعنی پہلی حالت میں اور وہ صفقہ ہے۔ اولاً کفار نے بعث کا انکار کیا پھر استبعاد میں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 9–10

8 ۔” قلوب یومئذ واجفۃ “ ڈرنے والے کانپنے والے پریشان اور چلنے میں وجیف نام رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ سخت مضطرب ہوگا۔ کہا جاتا ہے ” وجف القلوب ووجف وجوفا ووجیفا ووجوبا ووجیبا “ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کانپنے والے اور سدی (رح) فرماتے ہیں اپنی جگہوں سے ہٹے ہوئے اس کی نظیر۔ ” اذالقلوب لدی الحناجر “ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–14

6۔ 14۔ اوپر کی قسموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں پہلے صور سے دنیا کے اجڑ جانے اور دوسرے صور سے حشر کے ہوجانے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ حشر کا برپا ہونا ایسا یقینی ہے جس طرح قسم کھانے کے بعد کی کوئی بات یقین ہوتی ہے۔ راجفۃ سخت آواز کو کہتے ہیں یہاں مراد اس سے پہلا صور ہے رادفۃ وہ چیز ہے جو پہلی چیز کے بعد آئے یہاں اس سے مراد دوسرا صور ہے جو پہلے صور کے بعد پھونکا جائے گا۔ واجفۃ کے معنی خوف زدہ کے ہیں۔ حافرہ کے معنی قبر کے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ حشر کے منکر کہتے تھے کہ جب قبر میں بدن گل سڑ گیا اور ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں تو پھر کیا دوبارہ جی سکتے ہیں اور اگلے پچھلے سب جئے تو ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

منکرین قیامت، دنیا کے اندر، استہزا کے طور پر حیات بعد الموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں (ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِي الْحَافِرَةِ ) یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا ؟ یہ استفہام انکاری ہے جوا نتہائی تعجب اور اس کو محال سمجنے پر مبنی ہے انہوں نے حیات بعد الموت کا انکار کیا پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے پھر اسی پر جم گئے وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 9–10

(9) ان کی نگاہوں کے حال کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی " یعنی ان دلوں کے اہل و اصحاب کی آنکھیں " ای ابصار اصحابھا " (روح، ابن کثیر، کشاف، مدارک، جامع اور صفوہ وغیرہ) اور ان بدبختوں کا یہ حال اس لیے ہوگا کہ قیامت کی وہ حقیقت کبری جس کو یہ لوگ ناممکن سمجھے تھے، اور زندگی بھر اس کا انکار کرتے رہے تھے وہ اس روز اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ ان کے سامنے موجود ہوگی، پس جو لوگ قیامت کے اس یوم حساب کے منکر اور اس کے تقاضوں کے نچنت و غال رہے ہوں گے ان کا حال اس روز بہت برا ہوگا۔ ان کے دل خوف کے مارے کانپ رہے ہوں گے اور ان کے اس خوف کے آثار ان کے چہروں مہروں پر جھلک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–14

قیامت کے دن لوگوں کا اور کائنات کا حال تشریح : جیسا کہ اکثر اس بات کا ذکر ہوچکا ہے کہ قیامت کے قریب اکثر زلزلے آئیں گے۔ زلزلے تو اکثر آتے رہے ہیں جو اصل میں اس تباہی کا تصور دلاتے ہیں جو قیامت کے دن کائنات کو پیش آنے والی ہے۔ یہاں ماضی قریب میں آنے والے ایک ایسے زلزلے کا ذکر معروف سائنسدان کرتے ہیں۔ '' ایک زلزلہ 79 ؁ء عیسوی میں اٹلی میں آیا تھا جس کی طاقت آٹھ تھی۔ جس کی وجہ سے آتش فشاں پھوٹ پڑا اور دو بڑے شہر 1. Pompell. 2. Hercilaman. تہ وبالا ہوگئے۔ ایک شہر پر گردوغبار اور راکھ کی بارش ہوئی جبکہ دوسرے شہر پر گرم گرم کیچڑ کی بارش ہوئی دونوں شہر چند گھنٹوں میں مل یا میٹ ہوگئے۔ یہ واقعہ دونوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 8–12

ف 4 یعنی اس صورت میں تو ہمارا خسارہ ہی خسارہ ہے۔ یہ بات ازراہ مذاق کہتے۔ (جامع البیان)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:10) یقولون : (یعنی کافر آیات بالا متعلقہ وقوع آخرت و مناظر آخرت سن کر استہزائ) کہتے ہیں۔ ء انا المردودون فی الحافرۃ : یہ جملہ استفہامیہ انکاریہ ہے۔ بھلا پھر ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت کی طرف۔ ء ہمزہ استفہامیہ ہے انا حرف مشبہ بالفعل ہے یہ ان حرف تحقیق اور حرف مشبہ بالفعل اور نا ضمیر جمع متکلم سے مرکب ہے۔ لمردودون میں لام تاکید کا ہے۔ مردودون : رد (باب نصر) مصدر سے ۔ اسم مفعول جمع مذکر ہے۔ واپس پھیرے گئے ۔ لوٹائے گئے۔ جب کوئی شخص اسی راستے سے پلٹ جائے جس پر وہ چل کر آیا تھا تو عرب کہتے ہیں رجع فلان فی حافرتہ ای طریقۃ التی جاء فحفر۔ یعنی جس راستہ کو وہ پہلے اپنے قدموں سے کھود آیا ہے اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–12

(ف 1) یعنی کافر کہتے ہیں کہ کیا مر کر پھر ہم الٹے زندگی کی طرف واپس کیے جائیں گے ہم تو نہیں سمجھ سکتے کہ گلی ہوئی ہدیوں میں دوبارہ جان پڑجائے گی ایسا ہوا تو یہ صورت ہمارے لیے بڑے ٹوٹے اور نقصان دینے والی ہوگی، کیونکہ ہم نے اس زندگی ک لیے کوئی سامان نہیں کیا، یہ تمسخر سے کہتے تھے یعنی مسلمان ہماری نسبت ایسا سمجھتے ہیں حالانکہ وہاں مرنے کے بعد سرے سے دوسری زندگی ہی نہیں نقصان اور خسارہ کا ذکر

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–15

[4] یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس سے بےپروا رہے اور جب انہیں اس سے ڈرایا جاتا تو نہایت ڈھٹائی سے اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ وہ لوگ جو دنیا میں اس سے ڈرتے رہے وہ اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–25

ف 2: السبحت وہ ہیں جو سبک سیری مکینوں کی مانند ہیں ۔ اور فالسبقت وہ ہیں کہ تیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اور فالمدبرات سے مراد وہ کواکب ہیں جو اپنی طبعی خاصیتوں کی بنا پر دنیا پر اپنا مستقل اثر قائم کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح گویا ان نجوم کواکب کو انسانی زندگی کے بمنزلہ قرار دیا گیا ہے ۔ کہ بعض لوگ بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں اور ان کی ولادت اور موت کا مطلع ومغرب دور دور ہوتا ہے ۔ بعض وہ ہوتے ہیں جو تھوڑی عمر پاتے ہیں اور ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں ۔ بعض کی زندگی حوادث اور مقابلہ وتقدم سے مبرا ہوتی ہے ۔ اور وہ سبک سیر سیاروں کی طرح فضائے حیات میں تیر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) منکرین قیامت کہتے ہیں کیا ہم پہلی حالت پر پھر واپس ہوں گے۔ یعنی کیا الٹے پائوں پھر زندگی کی طرف لوٹیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

ف 3۔ یعنی کیا بعد الموت پھر حیات ثانیہ ہوگی ؟ مقصود استبعاد ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ کہیں گے کیا ہم کو اپنے راستہ پر الٹے پائوں لوٹایا جائے گا ؟ ۔ 10 (مرد و دون) اسم مفعول جمع مذکر مرفوع مردود واحد لوٹائے جانے والے (الحافرۃ) اصل مادہ حر ہے معنی اس کے ہیں پہلی حالت ، الٹے پائوں ، زمین حفر سے جس کے معنی زمین کھونے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مئونث ، عرب میں ” حافرہ “ الٹے پائوں لوٹنے اور پہلی حالت پر پلٹنے کے لئے ضرب المثل ہوگیا ہے۔ انسان جس راستہ آیا الٹے پائوں اسی راستہ پر پلٹا تو چلنے کے باعث قدموں کے نشان سے جو زمین کھدی اسی نسبت سے (حافرہ) کہلائی یا فعل کو فاعل سے تشبیہ دے کر (حافرہ) کہہ دیا۔ بعض نے لکھا ہے کہ (حافرہ) کے معنی روئے زمین کے ہیں جس میں ان کی قبریں کھودی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–24

The fifth quality of the angels: فَالْمُدَبِّرَ‌اتِ أَمْرً‌ا (then manage [ to do ] everything [ they are ordered to do,]...79:5). In other words, the last task of these angels of death will be as follows: Those who are commanded to reward and comfort the deserving souls, will gather means of reward and comfort for them; and those who are commanded to punish and cause pain to [ the evil souls ] will organize means for that. Reward and Punishment in the Grave The Surah thus far confirms that at the time of death, the angels will arrive and extract human souls. Then they will take them to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–12

4 That is, when they were told that they would surely be raised back to life after death, they started mocking it, saying to one another, "Well, if we have really to be restored to our former state of life, then we would certainly be doomed. "

Read the full tafseer →