An-Naba 78:9

An-Naba · from ayah 9

78:9

وَّجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا ۟ۙوَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا

اور نیند کو تمہارے لیے (موجب) آرام بنایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And made your sleep [a means for] rest

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:9

اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور نیند کو تمہارے لیے (موجب) آرام بنایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے تمہاری نیند کو آرام کا سبب بنایا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہاری نیند کو تھکن دور کرنے کا ذریعہ ہم نے بنایا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تمہاری نیند کو آرام کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے تمہاری نیند کو (جسمانی) راحت (کا سبب) بنایا (ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے تمہاری نیند کو (باعث) آرام بنایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تمہاری نیند کو سکون کا باعث بنایا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تمہاری نیند کو رافع کلفت نہیں بنایا ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم ہی نے بنایا تمہارے لیے تمہاری نیند کو مکمل آرام (و راحت) کی چیز

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم ہی نے تمہاری نیند کو راحت (کا ذریعہ) بنادیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تمہاری نیند کو بنا دیا ہم نے تھکان دور کرنے والی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور نیند کو تمہارے لیے آرام کا ذریعہ بنایا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and made your sleep a means of repose,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and made your sleep a source of rest,

— Muhammad Taqi Usmani

and made your sleep a source of rest,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We have made your sleep as a thing for rest.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And have appointed your sleep for repose,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And made your sleep [a means for] rest

— Saheeh International

made sleep for you to rest,

— Muhammad Sarwar

And We made your sleep to be rest (to you),

— Muhammad Habib Shakir

And We have made your sleep as a rest.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 78:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–16

پہاڑیوں کی تنصیب، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں ؟ پھر خود فرماتا ہے کہ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے۔ حضرت قتادہ اور ابن زید نے اس نبا عظیم (بہت بڑی خبر) سے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا مراد لیا ہے۔ مگر حضرت مجاہد سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّبَا 7 انسان کو دنیا میں کام کرنے کے قابل بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس حکمت کے ساتھ اس کی فطرت میں نیند کا ایک ایسا داعیہ رکھ دیا ہے جو ہرچند گھنٹوں کی محنت کے بعد اسے چند گھنٹے سونے پر مجبور کردیتا ہے۔ اس کی تشریح ہم تفہیم القرآن، جلد سوم۔ الروم، حاشیہ 33 میں کرچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–10

نیند بہت بڑی نعمت ہے یہاں حق تعالیٰ نے انسان کو جوڑے جوڑے بنانے کا ذکر فرمانے کے بعد اس کی راحت کے سب سامانوں میں سے خاص طور پر نیند کا ذکر فرمایا ہے۔ غور کیجئے تو یہ ایک ایسی عظیم الشان نعمت ہے کہ انسان کی ساری راحتوں کا مدار یہی ہے اور اس نعمت کو حق تعالیٰ نے پوری مخلوق کے لئے عام ایسا فرما دیا ہے کہ امیر، غریب، عالم، جاہل بادشاہ اور مزدور سب کو یہ دولت یکساں بیک وقت عطا ہوتی ہے، بلکہ دنیا کے حالات کا تجزیہ کریں تو غریبوں اور محنت کشوں کو یہ نعمت جیسی حاصل ہوتی ہے وہ مالداروں اور دنیا کے بڑوں کو نصیب نہیں ہوتی، ان کے پاس راحت کے سامان، راحت کا مکان، ہوا اور سردی گرمی کے اعتدال کی جگہ، نرم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا‘۔ ’سبت‘ اور ’سبات‘ کے اصل معنی تو کانٹے کے ہیں لیکن یہاں یہ دفع کلفت اور راحت و سکون کے معنی میں ہے۔ نیند کو ’سبات‘ اس وجہ سے کہا کہ یہ حرکت و عمل کے تسلسل کو منقطع کر کے کلفت سے نجات دیتی اور راحت و سکون حاصل کرنے کا موقع بہم پہنچاتی ہے جس سے قویٰ تازہ دم ہو جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 7–9

7۔ 1 یعنی پہاڑوں کو زمین کے لئے میخیں بنایا تاکہ ساکن رہے، حرکت نہ کرے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–23

2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–11

وجعلنا ........................ معاشا (9:78 تا 11) ” اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا ، اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا “۔ اللہ کی مہربانیوں پر ذرا غور کریں کہ اس نے انسانوں کو سکون اور تازگی عطا کرنے کے لئے نیند کی تخلیق کی۔ یہ نیند جب انسان پر طاری ہوتی ہے تو ایک وقت کے لئے اس کی قوت مدرکہ اور قوت عمل کو موقوف کردیتی ہے۔ اس وقفے میں انسان ایک ایسی حالت میں چلا جاتا ہے کہ جسے نہ حالت موت کہا جاسکتا ہے اور نہ حالت حیات۔ اس حالت میں جانے سے انسانی جسم اور اعصاب کی تمام تھکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔ اور وہ تازہ دم ہوکر اور از سرنو پیدا ہوکر زندگی کی جدوجہد اور مشغولیات اپنا لیتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی دن بھر کی دوڑ دھوپ سے تھک کر جب آدمی نیند لیتا ہے تو سب تعب اور تکان دور ہوجاتا ہے گویا نیند تو نام ہی سکون و استراحت کا ہے، آگے نیند کی مناسبت سے رات کا ذکر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 7–13

{ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ } ”اور پہاڑوں کو میخیں ؟“ زمین کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پہاڑوں کو اس میں میخوں کی طرح گاڑ دیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 نیند کی حقیقت اور مقصد :۔ نیند بھی اللہ تعالیٰ کے معجزہ نما عجائب میں سے ہے۔ نیند کیا چیز ہے ؟ اس کی حقیقت آج تک انسان کے لیے ايک معمہ بنی ہوئی ہے۔ ہم صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ جب انسان کام کرتے کرتے تھک جاتا ہے تو اسے آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن محض کام چھوڑ دینے سے تھکاوٹ دور نہیں ہوتی جب تک نیند نہ آئے۔ نیند ایک اضطراری امر ہے جو تھکے ہوئے انسان کو لیٹنے پر مجبور کردیتی ہے پھر اس پر چھا جاتی ہے۔ کام کرتے کرتے انسان کے جسم سے جو خلیے جل کر تباہ ہوجاتے ہیں۔ نیند کی حالت میں ان کی جگہ نئے خلیے پیدا ہوتے ہیں۔ اور انسان کی نیند اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک تلافی مافات ہو نہ جائے۔ پھر جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–9

4۔ (جو قیام حیات کیلئے لازمی ہے) ذکر یہاں خدائی نعمتوں کا اور حق تعالیٰ کی شان بندہ پروری کا ہورہا ہے۔ اسی سلسلہ میں نیند کا بھی ذکر ہے۔ اور نیند کا انسانی زندگی کے حق میں ایک نعمت عظیم ہونا بالکل ظاہر ہے۔ ضمنا اس حقیقت اور اہم حیاتیاتی حقیقت پر بھی روشنی پڑگئی کہ نیند ایک ایجابی شے ہے محض ایک سلبی کیفیت یاعدم بیداری کا نام نہیں۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–13

نیند بہت بڑی نعمت ہے : اللہ تعالیٰ نے عورت و مرد کے جوڑے کا ذکر کرنے کے بعد جو کہ اسباب راحت میں ایک ہے، نیند کا ذکر فرمایا، اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ نیند ایک ایسی عظیم الشان نعمت ہے کہ انسان کی ساری راحتوں کا مدار اسی پر ہے اور اس نعمت کو اللہ تعالیٰ نے پوری مخلوق کے لئے ایسا عام فرما دیا ہے کہ امیر، غریب، عالم، جاہل، بادشاہ و فقیر سب کو یہ دولت یکساں اور مفت عطا ہوتی ہے، اگر دنیا کے حالات کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ غریبوں اور محنت کشوں کو یہ نعمت جیسی حاصل ہوتی ہے ویسی وہ مالداروں اور بڑے بڑے سرداروں اور بادشاہوں کو نصیب نہیں ہوتی، ان کے پاس راحت کے سامان تو ہیں مگر راحت نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و جعلنا نومکم سباتا . اور ہم نے نیند کو تمہارے اعمال (بیداری) کو قطع کردینے والی چیز بنایا تاکہ تمہارے جسمانی اعضاء کو آرام مل جائے۔ سَبْتٌ کا معنی ہے۔ قطع کرنا۔ 1 ؂ ...... 1 ؂ تمام اعضاء جسم اور دماغی قوّ تیں بیداری میں بیرونی کاموں میں مشغول رہتی ہیں۔ اس مسلسل حرکت کی وجہ سے تمام اعصاب تھک جاتے ہیں اور انسان کی عزیزی طاقت تحلیل ہوتی ہے۔ اس تحلیل کو روکنے ‘ تھکاوٹ کو دور کرنے اور اعضاء کو آرام پہنچانے کے لیے اللہ نے نیند مقرر کردی ہے۔ نیند کی حالت میں انسان کی بیرونی حرکات ختم ہوجاتی ہیں اور اعضاء کو آرام کا موقع ملتا ہے اور اندرونی طاقت محفوظ رہتی ہے اور دوران خون اعتدال پر آجاتا ہے لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–10

(6۔ 10) کیا ہم نے زمین کو فرش اور پہاڑوں کو زمین کی میخیں نہیں بنایا اور ہم نے ہی تمہیں مرد و عورت بنایا اور تمہارے سونے کو تمہارے جسموں کی راحت کی چیز بنایا اور ہم نے ہی رات کو سکونت یا یہ کہ پردہ کی چیز بنایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 9–11

وجعلنا نومکم سباتاً…”سباتاً“ اور ”سبت“ باب ”نصر“ اور ”ضرب“ سے مصدر ہیں، راحت و سکون، قطع کرنا۔ اپنی نید کو دیکھ لو جو موت کی طرح تمہاری تمام حرکات قطع کر کے تمہیں مکمل سکون کی وادی میں لے جاتی ہے۔ ہر روز مرنے اور جی اٹھنے کا یہ منظر دیکھ کر بھی تمہیں دوبارہ زندہ ہونے میں شک ہے ؟ علاوہ ازیں تمہارے جسم کی ٹوٹ پھوٹ اور تھکن دور کرنے کے لئے نیند کو راحت و سکون کا ذریعہ بنادیا۔ روشنی راحت میں خلل اندازہو سکتی تھی، اس لئے ہم نے رات کو تاریک بنادیا جو لباس کی طرح ہر چیز کو چھپا لیتی ہے۔ پھر ہماری مہربانی دیکھو کہ مسلسل رات نہیں رکھی، بلکہ روزی کی تلاش کے لے دن بنادیا۔ اگر رات ہی رہتی تو تم روزی کس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وجعلنا نومکم سباتا۔ جعلنا، یہ صیرنا کے معنی میں ہے اس وجہ سے یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے سباتا، یہ دوسرا مفعول ہے یعنی ہم نے نیند کو تمہارے بدنوں کی راحت بنادیا ہے اسی سے یوم السبت ہے جس کا معنی آرام کا دن ہے یعنی بنی اسرائیل کو کہا گیا اس روز آرام کرو اس میں کوئی کام نہ کرو، ابن انباری نے اس کا انکار کیا اور کہا، راحت کو سبات نہیں کہا جاتا، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا اصل معنی لمبا ہوتا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے، سبتت المراۃ شعرھا جب عورت اپنے بالوں کو لمبا کرے۔ السبات لمبا کرنا ہے، رجل مسبوت الخلق، لمباآدمی، جب کوئی آدمی آرام کا ارادہ کرتا ہے تو وہ لمبا ہوجاتا ہے تو آرام کو سبت کہہ دیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–12

11۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وخلقنکم ازواجا اور ہم نے تم کو جوڑے جوڑے پیدا کیا یعنی دو ، دو ، آیت وجعلنا النہار معاشا۔ اور دن کو روزی کمانے کے لیے بنایا یعنی تم اللہ کے فضل کو تلاش کرتے رہو۔ آیت وجعلنا سراجا وہاجا۔ اور ایک جگمگاتا ہوا چراغ بنایا یعنی چمکتا ہوا۔ آیت وانزلنا من المعصرات اور ہم نے ہواؤں کو اتارا یعنی ہوا کو آیت ماء ثجاجا یعنی ایسا پانی جسے انڈیلا جائے تو وہ موسلا دھار برس پڑے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ : اور ہم نے بنایا تمہاری نیند کو ][ سُبَاتًا : آرام کے لیے ] نوٹ 3: آیت۔ 9 ۔ میں حق تعالیٰ نے انسان کی راحت کے سب سامانوں میں سے خاص طور پر نیند کا ذکر فرمایا ہے۔ غور کیجیے تو یہ ایک عظیم الشان نعمت ہے۔ اور اس نعمت کو حق تعالیٰ نے پوری مخلوق کے لیے ایسا عام فرما دیا ہے کہ امیر، غریب، عالم، جاہل، بادشاہ اور مزدور سب کو یہ دولت بیک وقت عطا ہوتی ہے۔ بلکہ دنیا کے حالات کا تجزیہ کریں تو غریبوں اور محنت کشوں کو یہ نعمت جیسی حاصل ہوتی ہے وہ مالداروں اور دنیا کے بڑوں کو نصیب نہیں ہوتی۔ نیند کی نعمت گدوں، تکیوں یا کوٹھی بنگلوں کی فضا کے تابع نہیں ہے، یہ تو حق تعالیٰ کی ایک…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–13

پھر فرمایا کہ ہم نے تمہارے لیے نیند کو آرام کی چیز بنا دیا ضروریات زندگی حاصل کرنے کے لیے محنت اور مشقت کرتے ہو جب تھک جاتے ہو تو سو جاتے ہو نیند کرنے کی وجہ سے تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے اور تازہ دم ہو کر پھر کام کرنے کے لائق ہوجاتے ہو۔ اس مضمون کو سباتاً سے تعبیر فرمایا۔ سبات قطع یعنی کاٹنے پر دلالت کرتا ہے۔ نیند کئی اعتبار سے سبات ہے، جب کوئی شخص سو جاتا ہے تو اس کے اعضاء کی اختیاری حرکت اور مشغولیت ختم ہوجاتی ہے اور جو تھکان ہوگئی تھی وہ بھی منقطع ہوجاتی ہے۔ رات کو آرام کے لیے اور دن کو طلب معاش کے لیے بنایا راتوں کو گھروں میں آرام کرنے کے بعد دن کو باہر نکلتے ہیں اپنی اپنی حاجات پوری کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–16

4:۔ ” اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ “۔ دنیوی نعمتوں کا بیان ہے۔ دنیوی تکلیفوں کا ذکر مقایسۃً ترک کردیا گیا ہے۔ ” مِہَادًا “ فراش، بستر۔ ” اَوْتَاد “ وتد کی جمع ہے یعنی میخیں۔ جس طرح میخوں سے کسی چیز کو محکم کردیا جاتا ہے اسی طرح پہاڑوں سے زمین کو بوجھل کر کے مستحکم کردیا گیا ہے تاکہ وہ ہل جل کر باسیوں کے لیے تشویش اور ابتری کا باعث نہ بنے۔ ” اَزْوَاجًا “ یعنی نر و مادہ۔ ” سُبَاتًا “ ترک اعمال سے راحت و آرام کا باعث۔ ” لِبَاسًا “ پردہ اور ستر۔ رات ان چیزوں کی پردہ پوشی کرتی ہے جن کو آدمی ظاہر کرنا پسند نہیں کرتا۔ ” مَعَاشًا “ ظرف زمان۔ روزی کمانے کا وقت۔ ” سَبْعًا شِدَادًا “ شدیدۃ کی جمع مضبوط اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–9

(خود تخلیق انسانی قیا مت پر دلیل ہے ) پہلی سورة میں فرمایا تھا الم نخلقکم من ماء مھین کیا ہم نے تمہیں حقیر قطرے آب سے پیدا نہیں کیا ؟ اس جگہ قدرت خداوندی کا ذکر کر کے وقوع قیامت پر دلیل قائم کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق اور علیم کل ہے وہ یقینا قیامت بر پاکر سکتا ہے جس نے انسان کو حقیر قطرہ آپ سے پلٹیاں دے دے کر سمیع وبصیر پیدا کیا ، وہ دوبارہ زندہ کرکے محاسبہ کیوں نہیں کرسکتا ۔ (تخلیق ازواج) اس کے بعد فرمایا وخلقنکم ازواجا اور ہم نے تمہیں جوڑے جوڑے پیدا کیا ۔ جوڑے سے مراد مرد و زن کا جوڑا بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی دو صنف پیدا کیے ۔ اور اس سے مومن کافر ، نیکی اور بدی کا جوڑا بھی ہو سکتا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُـبَاتًا۝ 9 ۙ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ نوم النّوم : فسّر علی أوجه كلّها صحیح بنظرات مختلفة، قيل : هو استرخاء أعصاب الدّماغ برطوبات البخار الصاعد إليه، وقیل : هو أن يتوفّى اللہ النّفس من غير موت . قال تعالی: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ الآية [ الزمر/ 42] . وقیل : النّوم موت خفیف، والموت نوم ثقیل، ورجل نؤوم ونُوَمَة : كثير النّوم، والمَنَام : النّوم . قال تعالی: وَمِنْ آياتِهِ مَنامُكُمْ بِاللَّيْلِ [ الروم/ 23] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–16

ترکیب ¦ الاستفہام لتتقریر ای جعلنا الارض مفعول اول و مھادا مفعول ثان لجعلنا والجعل بمعنی الخلق وفیہ معنی التقدیر والتسوید وقیل بمعنی التصییر والمھاد جمع مھد بمعنی الفراش قراء الجمہور بالجمع وقری مفرداً اوتادا جمع وتد (میخ) وخلقناکم معطوف علی المضارع المنفی داخل فی حکم ازواجاً حال ای متجنسین متشابھین جمع زوج سباتا قال الزجاج السبات ان ینقطع عن الحرکۃ والروح فی بدنہ وحاصل المعنی الراحۃ ای جعلنا نو مکم راحۃ لکم معاشا منصوب علی الظرفیۃ المعاش مصدر میمی معنی المعیشتہ شداد جمع شدیدۃ ای قویتہ محکمۃ وھا جاوا لوہاج المضیئی من قولھم وھج الجوھرای تلا لا المعصرات فیھا قولان اولا وھواحدی الروایتین عن ابن…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–17

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا۔ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ وَّخَلَقْنٰـکُمْ اَزْوَاجًا۔ وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا۔ وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا۔ وَّجَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا۔ وَّبَنَیْنَا فَوْقَـکُمْ سَبْعًا شِدَادًا۔ وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا۔ وَّاَنْزَلْـنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَـآئً ثَجَّاجًا۔ لِّـنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَا تًا۔ وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا۔ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا۔ (النبا : 6 تا 17) (کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو گہوارہ بنایا۔ اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ اور تم کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔ اور ہم نے تمہاری نیند کو دافعِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–11

فہم القرآن ربط سورت : المرسلات میں ان لوگوں کی تردید کی گئی ہے جو قیامت کی تکذیب کرتے ہیں۔ سورت النّباء میں بتایا گیا ہے کہ قیامت بڑی ہولناک چیز ہے اور اس کا برپا ہونا ہر صورت یقینی ہے لیکن قیامت کا انکار کرنے والے اس کے باوجود اس کے بارے میں قیل وقال کرتے ہیں عنقریب ان لوگوں کو اس کی حقیقت کا علم ہوجائے گا۔ قرآن مجید کے مرکزی مضامین میں تیسرا بڑا مضمون قیام قیامت ہے جو اس دنیا کا آخری دن ہوگا۔ جس نے قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کی وہ کامیاب ہوگا اور جس نے قرآن مجید کی ہدایت سے انحراف کیا وہ اپنے کیے کی سزا پائے گا۔ اس دنیا کا انجام آخرت ہے اس لیے چند سورتوں کے سوا المرسلات سے لے کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9 : وَّ جَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا (اور ہم ہی نے تمہارے سونے کو راحت کی چیز بنایا) سباتاؔ تمہارے اعمال کو قطع کردینے والی اور تمہارے ابدان کیلئے راحت بنایا۔ السبتؔ قطع کرنا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–11

6۔ 11۔ اوپر ذکر تھا کہ حشر اور قیامت کی باتوں کو خلاف عقل خیال کرکے اسلام لانے سے پہلے مکہ کے لوگ ان باتوں میں آنحضرت ﷺ سے طرح طرح کی حجتیں کرتے تھے۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دنیا کے چند عجائبات کا ذکر فرمایا ہے جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہیں اور جن کی حالت کے دیکھنے سے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل دنگ ہے کسی کی عقل میں نہیں آسکتا ہے کہ اتنی بڑی سات زمینوں کو پانی پر بچھونے کی طرح کیونکر بچھایا ہے۔ اور ان کے ٹکنے اور جم جانے کے لئے اتنے اتنے بڑے پہاڑوں کی میخیں ان میں کو نکر ٹھونکی ہیں کہ جس طرح خیمہ کی میخیں ٹھونک دینے سے خیمہ خوب مضبوط اور چورس ہوجاتا ہے۔ اسی طرح پہاڑوں کی میخوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–11

(وَّجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا) یعنی تمہارے نیند کو تمہاری راحت اور تمہارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا جو اگر بڑھ جائیں تو تمہارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے رات کو یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انہیں نفع مند راحت حاصل ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 8–9

(7) نعمت نیند میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے تمہاری نیند کو تمہارے لیے مکمل آرام کی چیز بنایا۔ تاکہ دن بھر کے کام کاج اور محنت و مشقت سے تمہاری جو قوت اور انرجی صرف اور ختم ہوتی رہتی ہے، وہ نیند کی صورت میں ملنے تمہارے اس آرام سے تمہیں واپس مل سکے، اور اس طرح تم پھر تازہ دم ہوجاؤ، سو تم روزانہ اس نعمت سے متمتع ہوتے ہو، مگر اس منعم و کریم کے اس کرم و احسان کو یاد نہیں کرتے، جس نے تمہاری طرف سے کسی اپیل و درخواست اور تقاضا اور سوال کے بغیر تم کو ازخود نیند کی اس عظیم الشان نعمت سے نوازا اور محض اپنے فضل و کرم سے نوزا اور سرفراز فرمایا سبحانہ و تعالیٰ ، واضع رہے کہ " سبت "…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–16

اللّٰہ کی نعمتوں کا تذکرہ تشریح : رب رحمن و رحیم قیامت کے دن اور مرنے کے بعد زندہ کرنے کی بار بار وضاحت فرماتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بندوں سے بےحد پیار کرتے ہیں۔ کیوں نہ ہو ہمیں اسی نے خود پیدا کیا ہے ہماری بہتری بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اسی لیے تو خبردار کر رہا ہے کہ ہم وقت پر اس دن کی تیاری کرلیں بجائے سزا پانے کے اللہ کی طرف سے شاباش اور بہترین انعامات حاصل کریں۔ اسی سلسلے میں ہمیں اس دنیا کی ان تمام نعمتوں کی یاد دہانی کرواتا ہے جو اس نے ہمیں دے رکھی ہیں جو اس کی قدرت کا بہترین ثبوت ہیں مثلاً زمین کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ذکر پہلے بھی کئی مرتبہ ہوچکا ہے۔ زمین انسانی زندگی کے لیے بنیادی حیثیت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 9–10

ف 7 یعنی جس طرح آدمی کپڑے پہن کر اپنے آپ کو چھپا لینا ہے اسی طرح رات کی تاریکی تمہاری پردہ پوشی کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:9) وجعلنا نومکم سباتا : واؤ عاطفہ، جعلنا ماضی جمع متکلم جعل (باب فتح) مصدر۔ بمعنی بنانا، کرنا۔ پیدا کرنا۔ نومکم مضاف مضاف الیہ مل کر جعلنا کا مفعول اول : سباتا مفعول ثانی ہے۔ نوم آرام۔ راحت ، سکون۔ تکان کا رفع کرنا۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ السبت کے اصل معنی ہیں قطع کرنا ۔ اور اسی سے کہا جاتا ہے سبت السیر اسم نے تسمیہ کو کاٹا۔ سبت شعرہ اس نے اپنے بال مونڈے سبت انفہ اس نے اس کی ناک کاٹ ڈالی آیت وجعلنا نومکم سباتا میں سبات کے معنی ہیں حرکت و عمل کو چھوڑ کر آرام کرنا۔ اور یہ رات کی اس صفت کی طرف اشارہ ہے جو کہ آیت لتسکنوا فیہ (28:73) (تاکہ تم رات میں راحت کرو) میں مذکور ہے یعنی رات کو راحت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–11

(ف 1) اوپر ذکر تھا کہ حشر اور قیامت کی باتوں میں طرح طرح کی حجتیں کرتے تھے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دنیا کے چند عجائبات کا ذکر فرمایا کہ اگر ان کو ہماری قدرت میں انکار ہے تو ہمارے کارخانہ کو ذراغور کی نظر سے دیکھیں دیکھو کیا ہم نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا نہیں بنایا تمہارا مرنا جینا کاروبار سب اسی کے ـذریعہ سے ہے اسی طرح دیکھو کہ کیا ہم نے پہاڑوں کو میخوں کی مانند گڑا ہوا نہیں بنایا اور ان کفار سے ہم کہتے ہیں کہ دیکھو تمہارے نرومادہ کو جو ہم نے جوڑا بنایا ہے کیا یہ ہماری قدرت کی دلیل نہیں ہے اور تمہاری راحت کا سامان نیند کو بنایا کہ سونے کے بعد سب محنت ومشقت جاتی رہتی ہے اور رات…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–17

[5] اللہ تعالیٰ کا اپنی ربوبیت، قدرت اور حکمت کی عظیم الشان نشانیوں کو بیان کرنے سے مقصود اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس قادر مطلق نے ان ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت قیامت برپا کرنے سے کیسے عاجز ہوسکتی ہے۔ اس پورے کارخانے میں جو کمال درجے کی حکمت و دانائی صریحاً کارفرما ہے اس کو دیکھتے ہوئے کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ اس کارخانے کا ایک ایک جز اور ایک ایک فعل تو بامقصد ہو مگر پورا کارخانہ بےمقصد ہو ؟ اس کارخانے میں اس سے زیادہ لغو اور بےمقصد بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان کو یہاں وسیع اختیارات تو دے دئیے جائیں مگر جب اپنا کام پورا کر کے یہاں سے رخصت ہو تو اسے یونہی چھوڑ دیا جائے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–12

ف 1: سبعا شدادا سے مراد کئی نظام کواکب ہیں جو اپنی ساخت کے اعتبار سے نہایت محکم اور مضبوط ہیں ۔ سبع کا لفظ یہاں عدد کے لئے نہیں ۔ بلکہ تکثیر کے لئے ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) اور ہم ہی نے تمہاری نیند کو راحت کی چیز بنایا۔ یعنی سونے سے ہر قسم کی تکان دور ہوجاتی ہے اور تازہ دم ہوکر اٹھ جاتے ہو اور ازسر نو اپنا کام شروع کردیتے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–12

ف 6۔ جب بعد فراق دنیا کے ان پر عذاب واقع ہوگا، تب حقیقت اور حقیقت قیامت کی منکشف ہوجائے گی، یہ لوگ اس کو ممتنع و محال سمجھتے ہیں حالانکہ اس کو ممتنع سمجھنے سے ہماری قدرت کا انکار لازم آتا ہے اور ہماری قدرت کا انکار نہایت عجیب ہے کیونکہ (آگے دیکھو ترجمہ)

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور ہم نے تمہارے لئے نیند کو آرام کا باعث بنایا ۔ 9 (سباتاً ) آرام ، راحت ، تکان کا رفع کرنا۔ اصل میں اس کے معنی راحت کے ہیں اس سے سبت بسیت (نصر) ضم مضارع آتا ہے اس لئے اس آیت میں ہے کہ (وجعلنا نومکم سباتا) اور ہم نے تمہارے لیے نیند کو تمہاری تکان رفع کرن کے لئے بنایا ہے۔ ابن العربی نے سبات کے معنی قطع کرنے کے کئے ہیں اور سبت کے معنی قطع کرنے کے ہیں گویا جب سو گیا تو لوگوں سے منقطع ہوگیا۔ زجاج کہتے ہیں سبات یہ ہے کہ حرکت سے منقطع ہوجائے اور روح بدن میں موجود ہو پس معنی یہ ہیں کہ ہم نے تمہاری نیند کو تمہارے لئے راحت بنایا۔ (تاج العروس) راغب لکھتے ہیں کہ سبات بمعنی قطع عمل ہے یہ رات کی اس صفت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا (and made your sleep a source of rest,...78:9). The word subat is derived from sabt which means to cut off. Sleep is something that cuts off the worries and tensions one may have, and thus gives him such a rest that cannot be attained from anything else. Therefore, some scholars translate the word subat as 'rest'. Sleep Is a Great Gift After mentioning in verse [ 8] that Allah has created mankind in pairs, Allah Ta’ ala states in verse [ 9] that among the means of their comfort, He created sleep, which is a great divine gift. Sleep is a great source of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

7 The explanation of the wisdom for which Allah Almighty has placed a desire for sleep in man's nature in order to make him fit for work in the world, and which impels him to a few hours' sleep after every few hours of work, has been given in E.N. 33 of Surah Ar-Rum.

Read the full tafseer →