78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 78:1–30

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

وہ کس بات کے بارے سوال کرتے ہیں

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

بہت بڑی خبر کے بارے !

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جس میں یہ اختلاف رکھتے ہیں

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

دیکھو ! بہت جلد انہیں پتا چل جائے گا

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

پھر دیکھو ! بہت جلد یہ جان جائیں گے

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو میخیں

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

اور ہم نے تم کو جوڑا جوڑا پیدا کیا

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور ہم نے نیند کو تمہارے لئے آرام دہ بنایا

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور ہم نے رات کو پردہ بنادیا

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور دن کو ہم نے معاش کے لئے بنادیا

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنادیئے

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور ہم نے (سورج کو) روشن چراغ بنادیا

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور ہم نے برستے بادلوں سے موسلا دھار مینہہ برسایا

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

تاکہ ہم اس سے اناج اور سبزہ پیدا کریں

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور گھنے گھنے باغ

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

بیشک فیصلے کا دن مقرر ہے

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

جس دن صور میں پھونکا جائے گا پس تم گروہ در گروہ آموجود ہوگے

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور آسمان کھولا جائے گا تو دروازے بن جائیں گے

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

بیشک دوزخ گھات میں ہے

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

سرکشوں کا وہی ٹھکانہ ہے

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

اس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

وہاں نہ ٹھنڈک پائیں گے اور نہ کچھ پینے کے لئے

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

سوائے کھولتے پانی اور پیپ کے

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

پورا پورا بدلہ

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

یقینا یہ لوگ حساب کی امید ہی نہ رکھتے تھے

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

اور ہماری آیات کو جھوٹ سمجھتے (اور) سخت جھوٹ قرار دیتے تھے

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر ضبط کررکھا ہے

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

لہٰذا (مزہ) چکھو ہم تم پر عذاب ہی بڑھاتے جائیں گے

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور جانور چوٹیوں پر برف کتنی نعمتیں اس حوالے سے بنادیں اور پھر جوڑے جوڑے بنائے کہ مرد اور خاتون مل کر زندگی کو خوبصورت رنگ دیں اور یوں بقائے نسل کا سبب بھی بنیں۔ نیند۔ پھرنیند کو تمہارے دن بھر کی تھکان دور کرنے کا سبب بنادیا کہ بجائے خود ایک عجیب و غریب نعمت ہے جس کے بعد آدمی تروتازہ اٹھ کر پھر دن بھر کے کاموں کے لیے خود کو تیار پاتا ہے۔ اس نعمت کو اس فراوانی سے تقسیم کردیا کہ شاہ وگدا کو نواز دیا۔ مگر جن سے یہ نعمت سلب ہوجاتی ہے اور خواب آور گولیوں سے بھی نیند نہیں آتی وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ کتنی بڑی نعمت ہے پھر اس قادر مطلق نے رات بنادی جوہر شے کو چھپا کر نیند کے لیے ماحول فراہم کرتی ہے کہ تاریکی وخاموشی انسان وحیوان سب کے لیے سکون مہیا کرتی ہے اور پھر ہر رات کے معقول اور انتہائی مناسب وقفے کے بعد دن بنادیا کہ نیند بیشک نعمت ہے مگر حد سے بڑھ جائے تو زندگی معطل کردے لہذا نیند کا وقت مناسب اور معقول ہوناچاہیے کہ پھر دن نکال دیا جو کاروبار حیات کے لیے ضروری اور مناسب ماحول فراہم کرتا ہے۔ سورج کی مثال۔ یہ سارا نظام اس خوش اسلوبی سے چلتا ہے کہ خدانخواستہ اگر زمین اور سورج کے رشتے میں ذرہ برابر روزانہ فرق آتا جائے تو نظام حیات تباہ ہوجائے اسی طرح نبی کریم کو شمس منیرا فرمایا کہ جس طرح زمین کا تعلق سورج سے ہے دل کی زمین کا تعلق نبی سے ہو پھر وہ اتنا مضبوط ہوا اتنی حدت وحرات پائے کہ بادل بنیں اور برس کر دل کی کھیتی کو ثمرات سے بھردیں ۔ یہی حال شیخ کا ہے پھر اگر اس میں تھوری تھوڑی بھی خرابی آنے لگی تو فوری توبہ اور علاج ضروری ہے ورنہ جہاں دل اجڑجانے کا اندیشہ ہے یہ سب نظام خود اس بات کا شاہد ہے کہ یوم حساب اور یقینا یوم حسا ب کا وقت طے شدہ ہے جب صور پھونکاجائے گا تولوگ فوج درفوج جمع ہونا شروع ہوجائیں گے اپنے اپنے حال میں آسمان کھول دیے جائیں گے اور بہت دروازے بن جائیں گے اور پہاڑ اڑا کر ذروں میں تبدیل کردیے جائیں گے تو یقینا جہنم اور اس کے فرشتے تو حد سے گزرنے والوں کی تاک میں ہیں یعنی ان کا انتظار ہی کر رہے ہیں کہ انہوں نے نبی کی بتائی ہوئی حقوق وفرائض کی حدود سے تجاوز کیا اور ان پر عمل نہ کیا اب وہ دوزخ میں کئی حقبوں تک رہیں گے۔ حقبہ۔ حقبہ ایک ایسی دراز مدت ہے جو لاکھوں صدیوں پر محیط ہوگی بعض حضرات کے نزدیک دوزخ میں رہنے کے بعد کبھی انہیں چھٹکارا مل جائے گا ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے تم میں سے جو گناہوں کی پاداش میں جہنم میں ڈالا گیا وہ کئی حق بے اس میں رہنے کے بعد ہی نکالا جائے گا اس لیے کہ اٹھاسی لاکھ سال کا بنتا ہے تو بھی یہ مدت ختم تو ہوگی جبکہ کافر کے لیے خلود یعنی ہمیشہ کا رہنا ہے اور بعض حضرات کا ارشاد ہے کہ کفار ہی کے ہی کے لیے ہے اور یہ بھی میعاد ختم نہ ہوگی بلکہ ایک حق بے کے بعد دوسرا شروع ہوجائے گا جہنم میں نہ تو ٹھنڈک کایا آرام دہ موسم کا کوئی تصور ہوگا اور نہ کوئی شے پینے کو ملے گی کہ آگ کی ٹھنڈک کا سامان کرے بلکہ پینے کو بھی انہیں ایسا کھولتا ہوا پانی ملے گاجوچہرے کی کھال اتار دے گا اور اندرجائے گا تو انتڑیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا اور جہنمیوں کے زخموں سے بہنے والی پیپ دی جائے گی یعنی ان کے جرائم کا پورا پورا بدلہ دیاجائے گا۔ جزاء اعمال کی قسم سے ہوتی ہے۔ کہ جزا ازقسم اعمال ہوگی انہوں نے دنین کا نظام چھوڑ کر کفر کی راہ اپناء جو شے بیشمار لوگوں کو جہنم میں لانے اور ان کے بدنوں کو دوزخ میں جلانے کا سبب بنی اب ان کا بدلہ یہی ہے کہ ان زخموں سے بہنے والا خون اور پیپ ان کی غذا بن جائے کہ انہیں حساب کتاب پر اور قیامت اور آخرت پر توگمان بھی نہ گزرتا تھا اور میری آیات کو عقیدے اور عمل یعنی ضابطہ حیات کے طو رپرماننے سے بالکل انکار کردیابل کہ ایسا انکار کردیا جو لوگوں کو بھی اس رو میں بہالے گیا جبکہ ہم نے توہربات کا تحریری حساب رکھا ہے لہذا ان سے کہاجائے گا اب موج کرو اور یہ امید رکھو کہ تم پر عذاب بڑھتا ہی جائے گا جیسے اگر تم دنیا میں رہتے تو برائی اور کفر میں بڑھتے ہی چلے جاتے۔
Ayahs 78:31–40

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

بیشک پرہیزگاروں کے لئے کامیابی ہے

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

باغات اور انگور

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

اور ہم عمر نوجوان دو شیزئیں

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

اور مشروبات کے چھلکتے ہوئے گلاس

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

نہ اس میں بیہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

یہ آپ کے پروردگار کی طرف سے صلہ ہے ، بہت بڑا انعام

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

وہ جو آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں کے درمیان ہے سب کا پالنہار ہے۔ بڑا رحم کرنے والا کسی کو اس سے بات کرنے کا یارانہ ہوگا

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

جس دن روح (الامین) اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے کوئی بول نہ سکے گا سوائے اس کے جس کو اس بڑے رحم کرنے والے نے اجازت بخشی اور اس نے بات بھی درست کی ہو

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

یہ دن برحق ہے پس جو چاہے اپنے پروردگار کے پاس ٹھکانا بنالے

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

ہم نے تم کو عنقریب آنے والے عذاب سے آگا ہ کردیا ہے۔ جس دن ہر شخص ان اعمال کو دیکھ لے گا جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے اور کفار کہے گا اے کاش ! میں مٹی ہوجاتا

آیات 31 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ بے شک اللہ کی خلوص سے اطاعت کرنے والوں کے لیے یوم حشر مرادیں پانے کا دن ہے کہ انگوروں کے خوشوں سے لدے باغوں میں داخل ہوں گے اور نوخیز ہم عمربیبیاں ہوں گی اور چھلکتے جام ہوں گے ۔ حور۔ حور جنت کی مخلوق ہے جو نوخیز عورت ہوگی ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اگر جنت کی حور اپنی ہتھیلی ظاہر کرے تو سورج ماند پڑجائے مگر یاد رہے یہ نوخیز بیبیاں دنیا کی بیبیاں بھی ہوں گی جو جنت میں داخل ہوں گی تب مرد اور عورت سب نوجوان کردیے جائیں گے اور ہمیشہ نوجوان رہیں گے اصل عزت و عظمت انکو نصیب ہوگی جو دنیا میں آئیں اور اللہ اور اس کے نبی پر ایمان لائیں اور دنیا کی مشکلات دکھ درد سہہ کر اطاعت کا حق ادا کیا حوریں ان کی کنیزیں ہوں گی جو مردوں پر حلال ہوں گی انہوں نے دنیا میں مکلف زندگی نہیں گزاری لہذا وہ عورت کی عظمت کے مقابل نہ ہوں گی بلکہ خادمائیں ہوں گی۔ جنت میں نہ کوئی فضول بات کرے گا اور نہ غلط بات ہوگی بلکہ وہ تو پروردگار کی طرف سے اجر کی بات ہے جو اس کی عطا سے بےحساب بڑھادیاجائے گا کہ وہ پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور ساری مخلوق کا اس کی رحمت لامحدود ہے وہاں کسی کے بولنے کی گنجائش نہ رہے گی اتنادے گا کہ زبانیں گنگ ہوجائی گی جس روز جبرائیل امین اور فرشتے حاضر بارگاہ ہوکرجس کے بارے حکم ہوگا اس کی بات اور اس کا حساب پیش کرتے جائیں گے اور بالکل درست پیش کریں گے یہ انصاف کا دن ہوگا لہذا لوگو اگر خواہش رکھتے ہو تو اپنے رب کی اطاعت کرلو ہم نے تمہیں اس انجام کی خبر کردی کہ جب ہر کوئی اپنے کردار اور اس کے نتائج کو بچشم خود دیکھ لے گا اور جب حساب کتاب کے بعدجانور وغیرہ مٹی میں ملادیے جائیں گے تو کافر بھی حسرت بھرے لہجے میں کہے گا اے کاش مجھے مٹی کردیاجاتا اور عذاب آخرت سے بچ جاتا لہذا اس حسرت سے بچنے کے لیے آج وہ طریق حیات اختیار کروجو اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہے۔