Ayah 78:1عم . عَمَّ اصل میں عَنْ مَا تھا۔ مَا استفہامیہ اگر حرف جر کے بعد آتا ہے تو الف کو حذف کردیا جاتا ہے (اور مَا کو م
پڑھا جاتا ہے) جیسے : لِمَ ۔ فِیْمَ ۔ عَمَّ ۔ مِمَّ ۔ اس حذف کے دو سبب ہیں :
1 : کثرت استعمال ‘ 2) مَا استفہامیہ کا مَا موصولہ سے فرق۔
(عَنْ مَا کے الف کو حذف کردینے کے بعد نون کو میم میں ادغام کردیا جاتا ہے اور پھر) ع کو م کے ساتھ ملا کر عَمّ لکھا جاتا ہے کیونکہ حذف نون کے بعد ع تنہا رہ جاتا ہے۔ اسی طرح مَا کا الف حذف ہو کر م رہ جاتا ہے۔
اللہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ‘ اس لیے اس کے کلام میں استفہام سوالیہ نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کے متعلق سوال کیا جاتا ہے اس کی عظمت اور ہولناکی کو ظاہر کرنا مراد ہوتا ہے۔
یتساء لون . کیسی عظیم الشان ہولناک چیز کے متعلق اہل مکہ باہم سوال کرتے ہیں ‘ رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ کو جب
توحید کی دعوت دی اور مرنے کے بعد جی اٹھنے کی خبر بیان کی اور قرآن پڑھ کر سنایا تو وہ باہم پوچھنے اور کہنے لگے کہ کیسے ہیبت ناک واقعہ کی خبر محمد ﷺ دیتے ہیں۔ (بغوی) اسیطرح ابن جریر اور ابن حاتم نے حسن (رح) بصری کا قول نقل کیا ہے یا یہ معنی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اور مسلمانوں سے قیامت کے متعلق بطور استہزاء دریافت کرتے ہیں (اس وقت یَتَسَآءَ لُوْنَ بمعنی یَسْءَلُوْنَ کے ہوگا) جیسے یَتَدَاعُوْنَ ‘ یَدْعُوْنَ کے معنی میں ہے اور سوال بطور استہزاء ہوگا۔
Ayah 78:2عن النباء العظیم . وہ عظیم خبر کے متعلق پوچھتے ہیں۔ عَمَّ کا تعلق یا مذکور یَتَسَآءَ لُوْنَ سے ہے یا محذوف یتساء لون
سے۔ بر تقدیر اوّل عن النباء العظیم کا تعلق فعل (یتساء لون) محذوف سے ہوگا اور فعل محذوف وہی ہوگا جس کی تشریح فعل مذکور (یعنی یتساء لون مذکور) کر رہا ہے (ترجمہ اسی طرح ہوگا وہ کس قدر ہولناک چیز کے متعلق دریافت کرتے ہیں۔ نباء عظیم کے متعلق پوچھتے ہیں) اس وقت دوسرا جملہ (یعنی یتسآء لون عن النبا العظیم) لفظاً پہلے جملہ (یعنی عم یتسآء لون) کا جواب ہوگا اور معنوی اعتبار سے مسؤل عنہ یعنی قیامت کی عظمت کا بیان ہوگا۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ بھی استفہامیہ ہو اور حرف استفہام محذوف ہو ‘ اس صورت میں دوسرا جملہ پہلے جملے کی تاکید اور مسؤل عنہ کی عظمت و ہولناکی کا مکرر اظہار ہوجائے گا۔ مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ کیسی ہولناک چیز کے متعلق دریافت کرتے ہیں ‘ کیسی نباء عظیم کو پوچھتے ہیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ دوسرا استفہام (پہلے استفہام کی تاکید نہ ہو بلکہ) انکاری ہو۔ یعنی نباء عظیم کے متعلق پوچھنا زیبا نہیں۔ سوال کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ‘ اسکی حالت تو کھلی ہوئی ہے۔ اس کی شدت وضوح ناقابل سوال ہے۔ اس کو تو مان لینا ہی ضروری ہے۔ مجاہد اور اکثر علماء کے نزدیک نباء عظیم سے مراد قرآن ہے کیونکہ اللہ نے قرآن کو نباء عظیم فرمایا ہے۔ ارشاد ہوا ہے : قُلْ ھُوَ نَباٌ عظیم۔ قتادہ کے نزدیک حشر مراد ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا حشر کی خبر دینا (بجائے خود) نباء عظیم ہو۔
Ayah 78:3الذی ھم فیہ مختلفون . الذی بعد کو آنے والے صلہ سے مل کر نبأ کی صفت ہے۔ یتسآء لون کی ضمیر
کی طرح ھُمْ ضمیر جمع بھی کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔ یہ اس صورت میں ہوگا کہ سوال کو استہزائی یا انکاری قرار دیا جائے۔ اس حالت میں نباء عظیم کے متعلق کفار مکہ کے مختلف ہونے کے یہ معنی ہیں کہ کچھ لوگ نباء عظیم کی صداقت کے قطعی منکر ہیں اور کچھ تردد میں پڑے ہیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یتساء لون اور ھُمْ کی ضمیریں اہل مکہ کی طرف راجع ہوجائیں۔ اہل مکہ میں کچھ مؤمن تھے ‘ کچھ کافر ‘ نباء عظیم کے متعلق سوال کرنے والے دونوں گروہ تھے۔ ایک گروہ تصدیق کرتا تھا لیکن زیادتی یقین اور انکشاف حالات کے لیے سوال کرتا تھا ‘ دوسرا گروہ منکر تھا اور محض استہزاء کے لیے سوال کرتا تھا۔
Ayah 78:4کلا سیعلمون . کَلَّا سے اختلاف مذکور کو روکا گیا ہے کیونکہ اختلاف کی بناء انکار پر تھی۔ خواہ کل اہل مکہ منکر
تھے (اور قطعیت و تردد میں ایک دوسرے سے مختلف تھے) یا بعض منکر تھے اور بعض نہ تھے۔ یعنی ان کو اختلاف نہ کرنا چاہیے ‘ کافروں اور منکروں کو اس کی حقانیت عنقریب (دُنیا میں اور) قبر میں معلوم ہوجائے گی۔
Ayah 78:5ثم کلا سیعلمون . پھر قیامت کے دن ان کو صداقت معلوم ہوگی۔ تکرار جملہ مبالغہ کے لیے ہے اور اس سے
عذاب کی دھمکی دو مرتبہ ہوگئی۔ ایک بار قبر کے عذاب کی اور دوسری بار قیامت کے دن کی ‘ لفظ ثم بتارہا ہے کہ قیامت کے عذاب کی وعید قبر کی وعید سے زیادہ پرسطوت ہے۔
آئندہ آیات میں اللہ نے اپنی مصنوعات کا ذکر کر کے اپنی توحید پر ‘ قدرت حشر پر اور اپنی عطا کی ہوئی نعمتوں کے وجوب شکر پر استدلال کیا ہے تاکہ توحید و عبادت کے داعی کی دعوت کو لوگ مانیں اور اس کا اتباع کریں۔ فرمایا :
Ayah 78:6الم نجعل الارض مھادا . کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا۔ یہ استفہام تقریری ہے۔ یعنی استفہام کی
غرض یہ ہے کہ مخاطب کو اقرار و عبادت پر آمادہ کیا جائے یا استفہام انکاری ہے اور انکار نفی مفید ثبوت ہے (مطلب یہ ہے کہ کیا ہم نے نہیں بنایا) یعنی زمین کو فرش بنایا۔
Ayah 78:7والجبال اوتادا . اور کیا ہم نے پہاڑوں کو زمین کی میخیں نہیں بنایا تاکہ زمین میں ارتعاشی جنبش نہ ہو
Ayah 78:8و خلقنکم ازواجا . اور ہم نے تم کو مرد ‘ عورت الگ الگ صنف پیدا کیا۔
Ayah 78:9و جعلنا نومکم سباتا . اور ہم نے نیند کو تمہارے اعمال (بیداری) کو قطع کردینے والی چیز بنایا تاکہ
تمہارے جسمانی اعضاء کو آرام مل جائے۔ سَبْتٌ کا معنی ہے۔ قطع کرنا۔ 1
......
1 تمام اعضاء جسم اور دماغی قوّ تیں بیداری میں بیرونی کاموں میں مشغول رہتی ہیں۔ اس مسلسل حرکت کی وجہ سے تمام اعصاب تھک جاتے ہیں اور انسان کی عزیزی طاقت تحلیل ہوتی ہے۔ اس تحلیل کو روکنے ‘ تھکاوٹ کو دور کرنے اور اعضاء کو آرام پہنچانے کے لیے اللہ نے نیند مقرر کردی ہے۔ نیند کی حالت میں انسان کی بیرونی حرکات ختم ہوجاتی ہیں اور اعضاء کو آرام کا موقع ملتا ہے اور اندرونی طاقت محفوظ رہتی ہے اور دوران خون اعتدال پر آجاتا ہے لیکن اندرونی آلات ہضم وبقاء ہر وقت کام کرتے ہیں ان میں نیند سے سکون نہیں آتا۔ 12
Ayah 78:10و جعلنا اللیل لباسا . اور ہم نے رات کو لباس بنایا (یعنی ہمہ پوش) رات کی تاریکی ہر چیز کو چھپا
لیتی ہے ‘ دیکھنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ تمام آوازوں میں سکون پیدا ہوجاتا ہے اور سونے والے آرام پاتے ہیں۔
Ayah 78:11و جعلنا النھار معاشا . اور ہم نے دن کو حصول معاش کا سبب بنایا۔ اللہ نے اپنی مہربانی سے بندوں کو
جو رزق تقسیم کیا ہے ‘ بندے اس کو حاصل کرنے کے لیے (عموماً ) دن میں محنت کرتے ہیں۔ ضروریات زندگی اور لوازم بقاء حیات کو حاصل کرنے کے لیے دن میں ادھر ادھر گھومتے پھرتے ہیں۔
Ayah 78:12و بنینا فوقکم سبعا شددا . اور تمہارے اوپر ہم نے سات مضبوط یعنی آسمان بنائے جن پر گردش زمانہ کا
کوئی اثر نہیں پڑتا۔
Ayah 78:13و جعلنا ساجا وھاجا . اور ہم نے روشن چراغ پیدا کیا یا جَعَلْنَا کا اوّل مفعول محذوف ہے یعنی سورج
کو ہم نے روشن چراغ بنایا۔ وَھَّاجًا کا معنی ہے جگمگاتا۔ بھڑکتا ہوا۔ مقاتل نے کہا : وھج کا معنی ہے ایسی روشنی جس میں گرمی بھی ہو۔ اللہ نے سورج میں نور بھی پیدا کیا اور گرمی بھی۔
Ayah 78:14وانزلنا من المحصرات ماء ثجاجا . اور ہم نے بادلوں کو نچوڑنے والی ہواؤں سے یا بادلوں سے مسلسل
برسنے والا پانی برسایا۔ المحصرات وہ ہوائیں جو بادلوں سے پانی نچوڑتی ہیں۔ مجاہد ‘ مقاتل اور کلبی کا یہی قول ہے ‘ عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول آیا ہے لیکن ابو العالیہ اور ضحاک نے کہا : المعصرات سے مراد بادل ہیں۔ والبی کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ فراء نے کہا : معصرات وہ بادل ہیں جو بارش سے بھرے ہوں ‘ برسنے والے ہوں ‘ مگر ابھی برسے نہ ہوں۔ جیسے المرأۃ المعصرۃُ ۔ وہ عورت جس کے حیض کا زمانہ آگیا ہو اور ابھی حیض جاری نہ ہوا ہو۔ ابن کیسان نے کہا المعصرات ‘ برسنے والے بادل۔ و فِیْہ تعصِرون کے محاورہ سے یہ لفظ ماخوذ ہے۔ حسن بصری ‘ سعید بن جبری ‘ زید بن اسلم اور مقاتل بن حبان کے نزدیک المعصرات سے آسمان مراد ہیں۔ 1 مجاہد کے قول پر من المعصرات میں مِنْ سببیہ ہوگا (یعنی پانی بادلوں سے برستا ہے اور ہوائیں بادل اٹھا کر لاتی ہیں) باقی اقوال پر مِنْ ابتدائیہ ہوگا (بادلوں سے یا آسمان سے پانی برستا ہے) ثَجَّاجًا کا ترجمہ مجاہد نے کیا ‘ خوب برسنے والا۔ قتادہ نے کہا : مسلسل برسنے والا۔ ابن زید نے کہا : بکثرت۔ مآل سب کا ایک ہی ہے۔
Ayah 78:15لنخرج بہ حبا و نباتا
. تاکہ ہم اس سے یعنی اس پانی سے غلہ اور گھاس
آدمیوں کے لیے غلہ جیسے گیہوں ‘ جو اور جانوروں کے کھانے کے لیے گھاس۔
Ayah 78:16و جنت الفافا
اور گھنے باغ پیدا کر
دیں ‘
الفاف ‘ گھنے درخت ‘ باہم لپٹے ہوئے۔ یہ لَفٌّ کی جمع ہے جیسے جَذَعٌ کی جمع اَجْذَاعٌ یا لفیف کی جمع ہے جیسے شریف کی جمع اشراف یا ایسی جمع ہے جس کا کوئی واحد نہیں جیسے او ضاعٌ اگر لف کی جمع قرار دیا جائے گا تو یہ صیغہ جمع الجمع کا ہوگا کیونکہ لفٌّ‘ لِفَّافَۃٌ کی جمع ہے۔ اگر درخت گھنے ہوں تو ان کو الفاف کہا جاتا ہے۔ جنۃ الفاف بولا جاتا ہے۔
جب ثابت ہوگیا کہ جو ان چیزوں کو ابتداءً عدم سے وجود میں لاسکتا ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے اور اس عظیم الشان سنسار کی ہستی بغیر اس کے کہ اس کا خالق حکیم ہو ‘ ممکن نہیں اور کائنات میں کسی چیز کا وجود بیکار اور منافی حکمت نہیں ہے (اور لامحالہ اس کائنات سے فائدہ اندوزی کی باز پرس انسان سے ہونی چاہیے) تو سننے والے کو یہ شوق پیدا ہوا کہ فیصلہ کا وقت اور اس کی تفصیل معلوم کرے اس لیے گزشتہ کلام سے پیدا ہونے والے سوال کے جواب میں فرمایا۔
......
1 گویا مقاتل سے دو روایتیں آئی ہیں ٗ ایک روایت کے اعتبار سے مقاتل ٗ مجاہد کے ساتھ ہیں اور دوسری روایت کے لحاظ سے حسن بصری (رح) کے ساتھ۔ 12
Ayah 78:17ان یوم الفصل کان میقاتا . یعنی حق کو باطل سے جدا کرنے کا دن اللہ کے علم یا حکم میں عذاب وثواب کی
ایک مقرر میعاد اور معین وقت ہے یا اوقات دنیوی کے ختم ہونے کی حد ہے یا مخلوق کے ختم ہونے کی حد ہے۔
Ayah 78:18یوم ینفخ فی الصور . جس روز صور پھونکی جائے گی ‘ یہ یوم الفصل سے بدل یا عطف بیان ہے یا میقاتاً
سے بدل ہے یا کان کی دوسری خبر ہے ‘ مسدد کی باسناد صحیح روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : صور سینگ کی شکل کی ہوگی جس میں پھونکا جائے گا۔ حضرت ابن عمر ؓ سے بھی ایسی ہی روایت آئی ہے۔ سورة الحاقہ میں اس کا بیان گز چکا ہے۔ وہب کا قول ہے کہ صور کی ساخت سفید موتی کی ہوگی ‘ جس میں چمک شیشہ کی طرح ہوگی۔ ہر زوج کی تعداد کے برابر اس میں سوراخ ہوں گے۔ سورة المدثر میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
فتاتون افواجا . یعنی صور پھونکتے ہی تم قبروں سے نکل کر جماعت در جماعت ہو کر حساب کے مقام پر آؤ گے۔ حضرت
ابوذر ؓ نے فرمایا : ہم سے سچے نبی ﷺ نے سچ فرمایا کہ قیامت کے دن حشر کے موقع پر لوگوں کے تین گروہ ہوں گے۔ ایک گروہ ان لوگوں کا ہوگا جو کھانے سے سیر ‘ لباس پوش اور سواریوں پر سوار ہوں گے۔ دوسرا گروہ پیادہ دوڑتا ہوگا ‘ تیسرے گروہ کو منہ کے بل گھسیٹ کر لایا جائے گا۔ (نسائی ‘ حاکم ‘ بیہقی)
حضرت معاذ بن جبل ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت : یوم ینفخ فی الصور تلاوت کرنے کے بعد فرمایا : وقت حشر میری امت کے دس گروہ ہوں گے۔ ایک قطار کی صورتیں بندوں کی طرح ہوں گی۔ یہ قدریہ ہوں گے۔ ایک قطار سوروں کی شکل پر ہوگی۔ یہ مرجیہ ہوں گے۔ ایک قطار سوروں اور کتوں جیسی ہوگی یہ حروریہ ہوں گے۔ ایک گروہ کی صورت گدھوں کی طرح ہوگی۔ یہ رافضی ہوں گے ‘ ایک گروہ کی شکل چھوٹی چیونٹیوں کی طرح ہوگی یہ متکبروں کا گروہ ہوگا۔ ایک قطار چوپایوں کی شکل کی ہوگی۔ یہ سود خوار ہوں گے۔ ایک گروہ درندوں کی صورت کا ہوگا۔ یہ زندیق ہوں گے۔ ایک گروہ کا حشر منہ کے بل ہوگا یہ مصور اور دوسروں کی عیب چینی کرنے والے اور دوسروں پر طنز و طعن کرنے والے ہوں گے۔ ایک گروہ ناز و ادا سے ٹہلنے والوں کا ہوگا۔ یہ لوگ مقرب ہوں گے۔ ایک گروہ وہ ہوگا جو شکم سیر ہوگا یہ دائیں طرف والے ہوں گے۔ ابن عساکر نے اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد لکھا ہے۔ یہ حدیث منکر ہے ‘ اس کی اسناد میں کچھ مجہول راوی ہیں۔
خطیب نے (السراج المنیر میں) ان الفاظ کے ساتھ حدیث کو نقل کیا ہے ‘ میری امت کی دس اصناف کا حشر دس گروہوں کی صورت میں ہوگا۔ بعض کی صورتیں بندروں کی ہوں گی یہ چغل خور ہوں گے۔ بعض سوروں کی شکل پر ہوں گے یہ حرام خور ہوں گے۔ بعض سرنگوں ہوں گے ‘ ٹانگیں اوپر چہرے اور آنکھیں نیچے ان کو اسی طرح گھسیٹا جائے گا یہ سود خوار ہوں گے ‘ کچھ لوگ نابینا ہوں گے ‘ اِدھر ادھر سرگرداں ہوں گے ‘ یہ وہ لوگ ہوں گے جو فیصلہ میں ظلم کرتے تھے۔ بعض گونگے ‘ بہرے اور بےعقل ہوں گے ‘ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے اعمال پر مغرور تھے ‘ بعض لوگوں کی زبانیں سینہ پر لٹکتی ہوں گی اور ان کے منہ سے لہو ‘ پیپ بہتا ہوگا ‘ جس سے مجمع میں تعفن پیدا ہوگا۔ یہ وہ علماء اور واعظ ہوں گے جن کا کردار ‘ گفتار کے خلاف تھا ‘ بعض لوگوں کے ہاتھ پاؤں کٹے ہوں گے۔ یہ پڑوسیوں کو دکھ دینے والے ہونگے ٗ بعض لوگوں کو آتشی تختوں پر صلیب دی گئی ہوگی ‘ یہ وہ لوگ ہونگے جو حاکم سے جا کر لوگوں کی چغلیاں کھاتے تھے۔ بعض لوگوں کی بدبو مردار سے زیادہ سڑی ہوئی ہوں گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو نفسانی خواہشات اور لذات میں مزے اڑاتے تھے اور اللہ کے (مالی) حق کو اپنے مالوں کے ساتھ روکے رکھتے تھے (زکوٰۃ ‘ عشر وغیرہ ادا نہیں کرتے تھے) بعض لوگوں کو تارکول کی لمبی چادریں پہنائی جائیں گی۔ یہ رعونت ‘ فخر اور غرور کرنے واے ہوں گے۔ حضرت براء بن عازب ؓ نے بھی بروایت حضرت معاذ ؓ ایسی ہی حدیث بیان کی جس کو ثعلبی نے نقل کیا ہے۔ 1 حاشیہ ص : 182 پر .......
Ayah 78:19و قتحت السماء فکانت ابوابا . آسمان کو شگافتہ کردیا جائے گا ‘ اس میں دروازے ہوجائیں گے
ابوابًا میں مضاف محذوف ہے یعنی آسمان دروازوں والا ہوجائے گا یا بطور مبالغہ آسمان کو ابواب قرار دیا یعنی آسمان میں اتنے زیادہ شگاف ہوجائیں گے کہ پورا آسمان دروازے ہی دروازے بن جائے گا۔
Ayah 78:20و سیرت الجبال فکانت سرابا . اور پہاڑوں کو زمین سے اٹھا کر فضاء میں ذرّوں کی طرح پھیلا دیا
جائے گا اور پہاڑ بےحقیقت ہوجائیں گے۔ اصل لغت میں سربٌ کا معنی ہے جانا۔ (صحاح جوہری) بیابان میں جو ریت چمکتی ہے اس کو سراب اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ دیکھنے میں پانی کی طرح نظر آتی ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ پہاڑ بےحقیقت ہوجائیں گے ‘ ان کے اجزاء ریزہ ریزہ ہو کر پراگندہ ہوجائیں گے۔
جب آیت فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا میں تمام لوگوں کا حساب فہمی کے لیے محشر میں آنا ذکر کیا گیا تو سننے والے کو ان کے تفصیلی احوال جاننے کا شوق پیدا ہوا ‘ اس لیے آئندہ آیت میں سب سے پہلے طاغین کا ذکر کیا کیونکہ عموماً انسانی ذہن بشارت سے زیادہ تخویف سے اثر پذیر ہوتا ہے ‘ اس لیے فرمایا :
Ayah 78:21ان جھنم کانت مرصادا للطغین . رَصَد : گھات لگانے کی تیاری اور گھات کا مقام۔ مطلب یہ ہے کہ
جہنم کے پُل پر عذاب اور رحمت کے فرشتے گزرنے والوں کی تاک میں لگے رہیں گے۔ عذاب کے فرشتے تو کافروں کی گھات میں رہیں گے کہ ان کو پکڑ کر دوزخ میں پھینک دیں اور عذاب دیں اور رحمت کے فرشتے ایمان والوں کی تاک میں ہوں گے کہ پل صراط سے گزرتے وقت مؤمنوں کو جہنم کی لپٹ اور پل پر (دو طرفہ) لگے ہوئے آنکڑوں سے محفوظ رکھیں۔ اس تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم سب لوگوں کی گزرگاہ ہوگی۔ تمام آدمی اس پر سے گزریں گے جیسا کہ آیت : وَاِنْ مِّنْکُمْ الاَّ وَرِادُھَا میں آیا ہے اس صورت میں مرصاد کا معنی ہوگا گھات کا راستہ یا مرصاد کا مفہوم التزامی ہوگا۔ راستہ ‘ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرصاد سے مراد ہے کافروں کے لیے تیار کیا ہوا۔ ارصدت الشئی میں نے وہ چیز تیار کی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مرصاد مبالغہ کا صیغہ ہو ‘ یعنی کافروں کو تاکنے اور ان کی گھات لگانے میں بڑی کوشش کرنے والا تاکہ کوئی کافر بچ کر نکل نہ جائے۔ بیہقی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے ‘ صراط تلوار کی دھار کی طرح بہت تیز (اور باریک) ہوگی اور ملائکہ ایماندار مردوں اور عورتوں کی حفاظت کرتے ہونگے۔ جبرئیل میری کمر پکڑے ہوں گے اور میں کہتا ہوں گا : الٰہی بچا ! الٰہی بچا اور پھل کر گرنے والے اور گرنے والیاں بہت ہوں گے۔ ابن مبارک ‘ بیہقی اور ابن ابی الدنیا نے حضرت عبید ؓ بن عمیر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہنم پر صراط تلوار کی دھار کی طرح ہوگی ‘ اس کے دو طرفہ آنکڑے اور کانٹے ہوں گے (آنکڑوں کے ذریعہ سے) لوگوں کو اچک لیا جائے گا۔
............
1 ابن عساکر کی روایت کردہ حدیث میں بعض فرقوں کے نام آئے ہیں ‘ ہم ان کی مجمل خصوصیات بیان کرتے ہیں : اوّل قدریہ : یہ گروہ اپنے اعمال کا خالق خود انسان کو کہتا ہے۔ خدا کو خالق اعمال نہیں جانتا۔ دوسرا مرجیہ : یہ گروہ قائل ہے کہ اگر ایمان صحیح ہے تو پھر اعمال کی بدی ضرر رساں نہ ہوگی ‘ تمام ممنوعات تصدیق قلبی کی موجودگی میں معاف ہیں ‘ گویا اس کے نزدیک اعمال کی کوئی اہمیت نہیں ‘ بنیادی عقیدہ کی درستگی ضروری ہے۔ حروریہ : خارجیوں کا ایک گروہ تھا مقام حرورا میں جنہوں نے لشکر کشی کی تھی ‘ اس گروہ کے نزدیک اعمال ایمان کے اجزاء تقویمی ہیں ‘ صغیرہ گناہ کرنے کے بعد بھی آدمی کافر ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ حضرت علی ‘ حضرت عثمان غنی اور حضرت امیر معاویہ ؓ کو کافر کہتے ہیں اور ان حضرات پر طرح طرح کی تہمتیں لگاتے ہیں۔ رافضیہ گروہ کا مسلک خارجیہ کے خلاف ہے۔ ان کے نزدیک صدیق اکبر ؓ اور فاروق اعظم بلکہ چند صحابہ کو چھوڑ کر تمام صحابہ ایماندار نہ تھے۔ خلافت جو حضرت علی ؓ کا حق تھا ‘ انہوں نے غصب کرلیا تھا۔ جماع حجت نہیں خلافت اور امامت خداداد ہے۔ نص خدا یا نص پیغمبر یا نص امام پر اس کا مدار ہے۔ جس طرح نبوت پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح امامت کی تصدیق بھی ضروری ہے ‘ وغیرہ۔
قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے (صرف ایک) آنکڑے سے قبائل مضروربیعہ سے بھی زیادہ لوگ پکڑ لیے جائیں گے اور ملائکہ اس کے کنارہ پر کھڑے کہتے ہوں گے : الٰہی بچا ! الٰہی بچا۔ (بیہقی نے عبید بن عمیر ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ صراط تلوار کی دھار کی طرح (باریک اور تیز) ہوگی اور پھسلواں ‘ لغزش گاہ ہوگی۔ ملائکہ اور انبیاء کھڑے کہہ رہے ہوں گے : الٰہی بچا ‘ الٰہی بچا اور (کچھ) فرشتے (کافروں کو) آنکڑوں سے پکڑ رہے ہوں گے۔ بیہقی نے بروایت مقسم حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جہنم کے پل پر سات جگہ لوگوں کو روکا جائیگا۔ پہلی جگہ بندہ سے لا اِلٰہ الاّ اللہ کی شہادت پوچھی جائے گی ‘ اگر اس نے شہادت پوری دی ہوگی تو دوسرے مقام تک گزر جائے گا وہاں اس سے نماز کی بازپرس ہوگی اگر اس نے نماز بھی ٹھیک ادا کی ہوگی تو تیسرے مقام تک گزر جائے گا وہاں زکوٰۃ کی پرسش ہوگی ‘ اگر زکوٰۃ بھی پوری دی ہوگی تو چوتھے مقام تک گزر جائے گا ‘ وہاں روزہ کے متعلق پوچھ گچھ ہوگی ‘ اگر روزے ٹھیک ادا کیے ہوں گے تو پانچویں مقام تک چلا جائے گا۔ وہاں حج کے متعلق سوال کیا جائے اور اگر ٹھیک طور پر حج ادا کیا ہوگا تو چھٹے مقام تک چلا جائے گا ‘ وہاں عمرہ پوچھا جائے گا اگر یہ بھی کرچکا ہوگا تو ساتویں مقام تک پہنچ جائے گا۔ وہاں بندوں کے حقوق کے متعلق دریافت کیا جائے گا۔ اگر اس مقام سے بھی نکل گیا تو خیر ‘ ورنہ کہا جائے گا ‘ دیکھو اس کے پاس کچھ نوافل ہیں ؟ نوافل سے اس کے (فرض) اعمال کو پورا کردیا جائے گا اور سب امور سے فارغ ہوجائے گا تو اس کو جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔
Ayah 78:22الطاغی (الطاغین کا واحد) گناہوں میں حد سے بڑھ جانے والا۔ آدمی طغیان کی حد میں صرف اس وقت داخل ہوتا ہے جب کفر و انکار پر اس کو یقین ہوجائے۔ اگر صریحاً (کہہ کر) کفر پر یقین ہوگا تو اس کو کافر کہا جائے گا اور اگر اس کے عقیدہ پر کفر لازم آتا ہے اور عقیدہ کا تقاضا کفر ہو تو وہ بدعتی ‘ رافضی یا قدریہ یا مرجیہ ہوگا۔
مابا . جائے رجوع (واپسی کا مقام) یہ کانت کی دوسری خبر ہے (یعنی جہنم طاغیوں کا ٹھکانا ہے) ۔
Ayah 78:23لبثین فیھا احقابا . طاغی دوزخ میں صدیوں تک رہیں گے۔ احقاب ‘ حقب کی جمع ہے۔ ایک حقب اسّی
برس کا ہوگا اور ہر سال بارہ مہینہ کا اور ہر مہینہ تیس دن کا اور ہر دن (اس دنیا کے) ہزار برس کا۔ بقول بغوی یہ تفصیل حضرت علی ؓ سے اور بقول ہناد حضرت ابوہریرہ سے منقول ہے۔ مجاہد نے کہا : الاحقاب 43 حقبہ کا۔ ہر حقبہ ستّر خریف کا ‘ ہر خریف سات سو سال کا ‘ ہر سال 360 دن کا اور ہر دن (دنیا کے) ہزار برس کا۔ مقاتل بن حبان نے کہا : ایک حقب سترہ ہزار برس کا ہوگا۔
ایک شبہ احقاب کی مدت کچھ بھی بیان کی جائے۔ بہرحال متناہی ہوگی اور آیات محکمات بتارہی ہیں کہ کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ اللہ نے فرمایا ہے : و فی العذاب ھم خالدون۔ اسی پر اجماع بھی ہے۔ سدی نے مرہ بن عبداللہ کا قول نقل کیا ہے کہ اگر دوزخیوں کو معلوم ہوجائے کہ ان کو دنیا کے سنگریزوں کے شمار کے برابر دوزخ میں رہنا ہے تو ان کو اس سے خوشی ہوگی اور اگر جنتیوں کو معلوم ہوجائے کہ ان کو دنیا کے سنگریزوں کے شمار کے برابر جنت میں رہنا ہے تو اس سے ان کو رنج ہوگا (پس یہ حدیث بھی دلالت کر رہی ہے کہ دوزخیوں کے لیے دوزخ ابدی اور لازوال ہے) ۔
ازالہ اہل تفسیر نے مذکورہ شبہ کو دور کرنے کے لیے ان آیات کی تاویل کی ہے۔ کسی نے کہا : یہ آیت منسوخ ہے اس کی ناسخ آیت فلن نزیدکم الاّ عذاباً ہے کیو کہ زیادتی عذاب کی خبر سے عذاب کی تناہی ختم ہوگئی اور خلود کا مفہوم حاصل ہوگیا۔ میں کہتا ہوں آیت : ان جھنّم کانت .... خبر ہے اور خبر میں نسخ کا احتمال ہی نہیں ہوتا (حکم منسوخ ہوتا ہے ‘ خبر منسوخ نہیں ہوتی) حسن بصری (رح) نے یہ تاویل کی کہ اللہ نے دوزخیوں کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کی بلکہ لٰبثین فیھا احقابًا فرمایا اور احقاب کا سلسلہ غیر متناہی ہے) پس خدا کی قسم ! جب ایک حقب گزر جائے گا تو دوسرا حقب آجائے گا اور یہ سلسلہ ابد تک جاری رہے گا۔ احقاب کی کوئی منقطعہ مدت نہ ہوگی۔ اسی قول کی روشنی میں بیضاوی نے احقاباً کی تشریح میں دھور امتتابعۃ کہا ہے اور صراحت کی ہے کہ اس آیت میں دوزخ سے نکل آنے پر کوئی (قولی) دلالت نہیں۔ اگرچہ بطور مفہوم انقطاع مدت سمجھا جاتا ہے مگر منطوق (صریحی) عدم انقطاع پر دلالت کرتا ہے (جیسے خالدین فیھا ابدًا فرمایا) اور مفہوم منطوق کا مزاحم نہیں بن سکتا۔ (منطوق کے مقابلہ میں مفہوم محض ناقابل اعتبار ہے) میں کہتا ہوں بلاشبہ مفہوم ‘ منطوق کا مزاحم نہیں ہوسکتا ‘ اسی لیے ہم کافروں کے لیے خلود عذاب کے قائل ہیں اور اسی بناء پر اجماع بھی اسی پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ آیت : ان جھنّم کانت ..... کی تاویل کرنے کی ضرورت پڑی۔ مگر اس کی یہ تاویل تو بڑی کمزور ہے کہ احقاب سے مراد غیر متناہی احقاب اور پیہم غیر منقطع مدتیں ہیں کیونکہ احقاب کا لفظ جب اسی لیے لایا گیا ہے کہ خلاف مراد کا وہم جاتا رہے اور کوئی شخص عدم خلود نہ سمجھنے لگے تو یہ فائدہ لفظ ایّامًا سے بھی حاصل ہوسکتا تھا۔ جب کہ ایّامًا سے غیر متناہی ایّام مراد لیے جائیں (جیسے احقاب غیر متناہی خلود پر دلالت کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایام غیر متناہی بھی عدم انقطاع مدت پر دلالت کرتے ہیں) اگر لا لٰبثین فیھا ایّامًا کہا جاتا تو کبھی بھی ذہن کا تبادر مفہوم خلود کی جانب نہیں ہوتا بلکہ مفہوم خروج کی جانب ہوتا ہے ‘ پھر کوئی وجہ نہیں کہ احقابًا کہنے سے مفہوم خروج کی جانب ذہن کا تبادر نہ ہو اور خلود کی جانب ہو۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ احقابًا ‘ حقبٌ کی جمع ہے اور (مفعول فیہ نہیں بلکہ) حال ہے۔ حقب الرجل۔ اس آدمی کا رزق رک گیا (وہ رزق سے محروم ہوگیا) حقب العالمُ ۔ دنیا میں بارش نہیں ہوئی۔ اس وقت یہ مطلب ہوگا کہ طاغین دوزخ کے اندر ایسی حالت میں رہیں گے کہ کچھ (کھانے کی چیز) کھانے کو نہیں ملے گی۔ آئندہ آیت : لا یذوقون فیھا بردًا ولا شرابًا اسی کی تشریح ہے۔
میں کہتا ہوں یہ تفسیر ان آثار کے خلاف ہے جو علی ؓ اور دوسرے اکابر سے مروی ہیں اور چونکہ تشریح مراد میں رائے کو کوئی دخل نہیں اسلئے اس سلسلہ میں جو اقوال صحابہ ؓ مروی ہیں وہ حدیث مرفوع کے حکم میں ہیں (اور یہ کہنا پڑیگا کہ ضرور ان صحابہ ؓ نے حضور ﷺ سے ایسا ہی سنا تھا)
Ayah 78:24لا یذوقون فیھا بردا ولا شرابا . یہ لابثین سے حال یا احقابًا کی صفت ہے
یا احقابًا ‘ لا یذوقرن کا مفعول فیہ (زمانۂ فعل) ہے یعنی اس حالت پر وہ دوزخ میں رہیں گے اور لاتعداد برسوں تک سوائے حمیم اور غساق کے اور کچھ نہ چکھیں گے گویا عدم فروق کے ساتھ ان کی دوزخ کے اندر سکونت حقب در حقب ہوں گی اور ان احقاب کے گزرنے کے بعد کیا ہوگا ‘ تو شاید وہ مزید شدید ترین عذاب میں احقاب عدم ذوق گزرنے کے بعد مبتلا کردیئے جائیں۔ ظاہر یہ ہے کہ لا یذوقون حال مرادف ہے۔ لابثین حال اوّل ہے اور یہ اس سے حال ہے۔
میرے نزدیک صحیح توجیہ یہ ہے کہ مذکورہ شبہ کا مبنی صرف یہ ہے کہ الطاغین سے صرف کفار مراد لیے گئے ہیں۔ بدعتیوں کو اس لفظ کے تحت داخل نہیں کیا گیا ‘ اس لیے شبہ کو دفع کرنے کے لیے اتنی دور از کار توجیہات کرنی پڑیں۔ ہم ” الطاغین “ کے لفظ کو اہل بدعت پر محمول کرتے ہیں (جن کے عقائد پر کفر لازم آتا ہے وہ خود مدعی اسلام ہیں ‘ اس لیے ان کا حکم کافروں جیسا نہیں ‘ نہ ان کا عذاب دائمی ہے بلکہ ان کے عذاب کی مدت بہت لمبی ہے جس کی تعبیر لفظ احقابًا سے کی ہے) اب آیات میں کوئی تعارض باقی نہیں رہتا (آیات محکمات میں کافروں کے لیے دوامی عذاب کی صراحت ہے اور اس آیت میں اہل بدعت کے لیے عذاب طویل کی نص) میرے اس قول کی تائید بزار کی نقل کردہ روایت سے بھی ہوتی ہے جس کے راوی حضرت ابن عمر ؓ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خدا کی قسم ! کوئی بھی دوزخ سے نہ نکلے گا تاوقتیکہ احقاب تک اس میں نہ رہ چکا ہو۔ حقب کچھ اوپر اسّی سال کا ہوگا اور ہر سال تمہاری گنتی کے 360 دن کا۔ یہ حدیث بتارہی ہے کہ مدت مذکور گزرنے کے بعد طاغین دوزخ سے نکل آئیں گے۔
Ayah 78:25الا جمیعا و غساقا
الحمیم : بہت ہی گرم پانی۔ حدیث میں آیا ہے کہ لوہے کے چمٹوں سے پکڑ کر سخت گرم پانی ان کو پیش کیا جائے گا۔ جب وہ پانی ان کے منہ کے قریب آئے گا تو چہرے بھن جائیں گے اور پیٹوں میں اترے گا تو پیٹ کے اندرونی احشاء پارہ پارہ ہوجائیں گے۔
(ترمذی و بیہقی بروایت حضرت ابو درداء ؓ
الغساق کیا ہے ؟ ہناد نے مجاہد کا قول بیان کیا ہے کہ غساق (انتہائی سرد) جس کی شدت برودت کی وجہ سے دوزخی اس کو پی نہ سکیں گے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جس طرح آگ گرمی کی وجہ سے جلاتی ہے۔ غساق سردی کی وجہ سے ان کو سوختہ کر دے گا۔ مقاتل نے کہا : غساق وہ چیز ہے جس کی سردی آخری حد تک پہنچی ہوئی ہو۔ ہناد نے ابو العالیہ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت میں پینے کی چیزوں سے گرم ترین پانی کا استثناء کیا گیا ہے اور سرد سے غساق کا ‘ ہناد کی روایت ہے کہ عطیہ کے نزدیک غساق کا معنی ہے دو زخیوں کا بہتا ہوا لہو ‘ ابراہیم نخعی اور ابی رزین کا بھی یہی قول مروی ہے۔ اس قول پر لفظ غساق ‘ غَسَقَتْ کا مصدر ہوگا۔ اس کا معنی ہوگا بہنا۔ غسقت بہہ گیا۔ ابن ابی حاتم اور ابن ابی الدنیا نے کعب کا قول نقل کیا ہے کہ غساق جہنم میں ایک چشمہ ہے۔ جس میں سانپ ‘ بچھو ‘ ہر زہریلے جانور کا زہر بہہ کر جمع ہوگا اور آدمی کو لا کر اس میں ایک ہی مرتبہ غوطہ دیا جائے گا تو کھال ہڈیوں سے گرجائے گی۔ جلد اور گوشت ٹخنوں پر آ گرے گا اور وہ اپنے گوشت کو اس طرح کھینچتا پھرے گا جیسے آدمی اپنے (وسیع) کپڑے کو کھینچتا ہے۔ بہرحال ان تمام اقوال پر اگر غساق کو سرد قرار دیا جائے تو اس کا استثناء برد سے ہوگا ورنہ حمیم و غساق دونوں کا استثناء شرابًا سے ہے ‘ اس وقت برد سے مراد ہوگا ‘ برد جہنم جو حرارت نار سے جدا چیز ہوگی یا برد سے مراد ہے نیند۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ استثناء منقطع ہے (مستثنیٰ منہ محذوف ہے) اور شراب سے مراد ہے وہ پینے کی چیز جس سے پیاس کو تسکین ہو۔ بیضاوی نے لکھا کہ آیات کے آخری سروں کی رعایت سے غساقًا کو حمیمًا کے بعد ذکر کیا۔
Ayah 78:26جزاء و فاقا . جزاءً ا فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے اور وفاق بمعنی وافق ہے (اگر اس کو صیغۂ صفت قرار دیا
جائے) یا بمعنی موافق ہے (اگر اس کو باب مفاعلت کا مصدر کہا جائے) یعنی ان کو ایسا بدلہ دیا جائے گا جو ان کے اعمال اور بیہودگیوں کے موافق ہوگا۔ مقاتل نے کہا وفاقًا کا یہ مطلب ہے کہ عذاب گناہ کے مطابق ہوگا اور شرک سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں (لہٰذا جزآءً ا وفاقًا کا معنی ہوا سخت ترین عذاب) یہ اس تقدیر پر ہوگا کہ الطاغین سے کفار مراد ہوں ‘ جیسی کہ دوسرے علماء نے تفسیر کی ہے۔ پس ان جھنّم کانت .... پورا جملہ جزاء پر ہی دلالت کر رہا ہے کسی دوسرے معنی کا اس میں احتمال ہی نہیں ہے ‘ اس کے بعد جزاء وفاقا مفہوم جملہ کی تاکید ہوگئی اور یہ تاکید لنفسہٖ ہوئی جیسے کوئی کہے : لہ علی الف درھم اعترافًا کہ اس کے مجھ پر ہزا ردرہم ہیں۔ میں اس کا پختہ اقرار کرتا ہوں (لہ علی الف درھم کا مفہوم سوائے اعتراف قرض کے اور کچھ نہیں ‘ اس کے بعد اعترافاً کہنا محض مفہوم سابق کی تاکید ہے اور کچھ نہیں۔ اسی طرح ان جھنم کانت .... یعنی غساقًا تک پورا جملہ سوائے سزا کے اور کوئی مفہوم نہیں رکھتا۔ پھر اس کے بعد جزاءً وفاقا کا فائدہ سوائے مفہوم سابق کی تاکید کے اور کچھ نہیں) ہاں ! ہماری رائے کے موافق اگر الطاغین سے مراد اہل بدعت ہوں تو جزاءً ا وفاقًا پہلے جملے کی تاکید لنفسہٖ نہ ہوگی بلکہ تاکید لغیرہ ہوجائے گی اور نئے معنی کا فائدہ دے گی اور تاسیس (نئے معنی کی افادیت) تاکید محض سے اولیٰ ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ اہل بدعت کے عقائد جس قدر حق سے دور ہوں گے اسی کے موافق ان کے عذاب کی نوعیت اور کیفیت ہوگی اور جہنم کے اندر بعض کا قیام زیادہ ہوگا اور بعض کا کم۔ بعض کا عذاب شدید تر ہوگا ‘ بعض کا ان سے خفیف اور یہ قیام جہنم اور عذاب (زیادہ سے زیادہ) احقاب کی میعاد تک پہنچے گا اور کم سے کم ایک حقب ہوگا۔
Ayah 78:27انھم کانوا لا یرجون حسابا . اس لیے کہ ان کو حساب کا اندیشہ نہ تھا ‘ نہ ان کو حساب کا یقین تھا۔ یہ کلام گزشتہ
سزا کی علّت ہے۔ کافروں کو تو حشر ‘ حساب اور سزا و جزا کا یقین ہی نہیں ہوتا ‘ رہے بدعتی تو ان میں سے بعض گروہوں کے اندر یہ صفت (انکار حساب) موجود ہے ‘ جیسے مرجیہ نہ حساب کا عقیدہ رکھتے ہیں ‘ نہ سزا کا اور رافضی کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ کے شیعہ (متبع) اور دوستوں کو کسی صغیرہ و کبیرہ گناہ کا عذاب نہ ہوگا۔
Ayah 78:28و کذبوا بایتنا کذابا . اور ہماری آیات کی وہ پوری پوری تکذیب کرتے تھے۔ تمام بدعتیوں میں یہ وصف موجود
ہے۔ جیسا کہ ہم المرسلات میں ذکر کرچکے ہیں۔ دیکھو رافضی تمام مناقب صحابہ کے منکر ہیں اور سب کو مرتد یا منافق قرار دیتے ہیں۔ ہاں تین صحابیوں کو اس حکم (ارتداد و نفاق) سے مستثنیٰ کہتے ہیں ‘ ان کا خیال ہے کہ حضرت عمر ؓ بن خطاب اور دوسرے خلفاء کے ہاتھ میں جب اقتدار اعلیٰ آیا تو انہوں نے زمین پر فساد بپا کردیا ‘ ان کا یہ بھی گمان ہے کہ صحابہ کا دور بدترین دور تھا اور صحابہ ؓ کی جماعت بدترین جماعت تھی حالانکہ (صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ : کنتم خیر امۃ اور الذین ان مکنّاھم فی الارض اقاموا الصلٰوۃ ... اور (اصحاب حدیبیہ کے متعلق فرمایا) لقد ؓ عن المؤمنین اور (اصحاب حدیبیہ کے متعلق فرمایا) اذیبایعونک تحت الشجرۃ فعلم مافی قلوبھم اور السابقون الاولون من المھاجرین و الانصار اور ان کے علاوہ بکثرت آیات ہیں (جن میں صحابہ کی مدح ہے) ۔
کِذابًا مصدر ہے ‘ تکذیب کا ہم معنی۔ یہ استعمال عمومی ہے یا کذابًا باب مفاعلت کا مصدر ہے یعنی مکاذبۃ یعنی وہ کافروں کی نظر میں جھوٹے ہیں اور ان کی نظر میں مسلمان جھوٹے ہیں یا کذابًا مبالغہ کا صیغہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ دوسرے کذابوں کی طرح بڑے جھوٹے ہیں۔
مسئلہ ہماری تفسیر کے موافق آیت سے اہل بدعت کے عذاب پر روشنی پڑتی ہے ‘ رہے مسلمان اہل کبائر ‘ تو ان کے قیام جہنم کی انتہائی مدت میعاد دنیا کے برابر ہوگی یعنی سات ہزار برس اور ان کو حمیم نہیں پلایا جائے گا ‘ نہ اس طرح کا کوئی دوسرے عذاب ہوگا۔ ابن ابی حاتم اور ابن شاہین نے حضرت علی ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمام امتوں کے (مؤمن) اہل کبائر اگر بغیر توبہ کے مرگئے تو ان میں سے جو لوگ جہنم میں داخل ہوں گے۔ ان کی آنکھیں نیلی نہ ہوں گی ‘ چہرے کالے نہ ہوں گے۔ شیطانوں کے ساتھ زنجیروں سے ان کو باندھا نہ جائے گا۔ نہ ان کے گلے میں زنجیروں کے طوق ڈالے جائیں گے ‘ نہ ان کو حمیم پلایا جائے گا ‘ نہ ان کو قطران کا لباس پہنایا جائے گا۔ اللہ نے ان کے اجسام کے لیے دوام جہنم حرام کردیا ہے اور سجدہ کی وجہ سے ان کے چہروں کو آگ پر حرام کردیا ہے ‘ ان میں سے بعض لوگوں کو آگ صرف قدموں تک ہی پکڑے گی ‘ بعض کو (صرف) ایڑیوں تک ‘ بعض کو کمر تک ‘ بعض کو گلے تک گناہوں اور عملوں کی مقدار کے بقدر آگ گرفت کرے گی۔ بعض اس میں سال بھر رہ کر نکل آئیں گے ‘ سب سے لمبی مدت قیام جہنم کی ان کے لیے دنیا کی عمر کے برابر ہوگی۔ یعنی ابتداء آفرنیش دنیا سے لے کر فناء دنیا تک (جتنی مدت ہوگی اتنی ہی ان کے جہنم میں رہنے کی مدت ہوگی) ۔ (الحدیث)
حاکم نے نوادر الاصول میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ان کو گرزوں سے نہیں مارا جائے گا اور طبقۂ جہنم میں نہیں پھینکا جائے گا ‘ ان میں سے کچھ لوگ ایک ساعت جہنم میں رہ کر نکل آئیں گے ‘ کچھ ایک دن رہ کر نکل آئیں گے ‘ کچھ سال بھر رہیں گے۔ ان کی سب سے لمبی مدت قیام اتنی ہوگی جتنی دنیا کے روز آفرنیش سے فناء دنیا تک ہوگی اور یہ سات ہزار (برس کی) ہوگی۔ میں کہتا ہوں حدیث میں سال سے مراد یہی دنیوی سال ہے کیونکہ اسی سے ان کا قیام جہنم مدت دنیا کے مساوی ہوگا۔ بعض روایات میں یہ بھی مرفوعاً آیا ہے جس کے راوی ابن سعید ہیں کہ بعض ایماندار اہل کباہر کو گناہوں کی سزا میں آگ دکھ پہنچائے گی اور اللہ ان پر موت طاری کر دے گا ‘ لیکن جب اذن شفاعت ہوگا اور ان کی معافی ہوجائے گی تو اللہ ان کو پھر زندہ کر دے گا۔ مگر کافروں کی حالت اس کے خلاف ہوگی وہ دوزخ کے اندر نہ مریں گے ‘ نہ جئیں گے۔
Ayah 78:29و کل شی ءٍ . یہ فعل محذوف کا مفعول ہے جس کی تشریح آئندہ فعل میں کی گئی ہے۔ یعنی طاغیوں کے ہر عمل اور ہر
بیہودگی کو ہم نے گھیر لیا ہے (احاطۂ عددی کرلیا ہے) ۔
احصینہ کتابا . کتابًا یا تمییز ہے یا حال ہے اور کتاب (مصدر) بمعنی مکتوب ہے یا مفعول مطلق ہے جیسے ضربتھُم
سوطًا میں نے ان کو ضرب تازیانہ لگائی یعنی میں نے ان کے ہر عمل کا اس طرح احصاء کرلیا ہے جیسے تحریر احصاء کرلیتی ہے یا کتاباً فعل محذوف کا مفعول ہے یعنی ہم نے ان کے اعمال کو احاطہ کرلیا ہے اور لوح محفوظ میں یا کرامًا کاتبین کے اعمال ناموں میں لکھ رکھا ہے ‘ کہا گیا ہے کہ یہ جملہ معترضہ ہے۔ میرے نزدیک وفاقًا کی علت ہے جیسے : انھم کانوا لا جرجون حسابًا۔ جزاءً ا کی علت ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ ہم ان کو اس لیے سزا دیں گے کہ وہ حساب کا انکار اور تکذیب کرتے تھے اور یہ سزا ان کے اعمال کے موافق ہوگی کیونکہ ان کے اعمال اور بیہودگیاں ہم نے لکھی ہیں ‘ کوئی چیز بغیر لکھے نہیں رہی ‘ اسی کے مطابق ان کو سزا ملے گی۔
Ayah 78:30فذوقوا . فاء سببی ہے اور بطور التفات (کلام کے رخ کو موڑنا) الطاغین کو خطاب ہے یعنی چونکہ ہم نے ان کے
اعمال کا احاطہ کرلیا ہے اس لیے ان سے کہیں گے کہ عذاب کا مزہ چکھو۔
فلن نزیدکم الا عذابا . اے طاغیو ! جب تک تم دوزخ میں ہو ‘ ہم تمہارا عذاب بڑھاتے ہی رہیں گے۔ ابن
ابی حاتم ‘ ابن مردویہ اور ابن ابی بریدہ اسلمی ؓ نے مرفوعاً اور طبرانی اور بیہقی نے بعث میں موقوفًا لکھا ہے کہ (حضور ؓ نے فرمایا) دوزخیوں کے حق میں یہ آیت قرآن کی تمام آیات سے زیادہ سخت ہے۔ واللہ اعلم۔
جب اللہ نے طاغین کا ذکر فرما دیا تو اب متقیوں کا بیان شروع کیا اور فرمایا :
Ayah 78:31ان للمتقین مفازا
متقیوں کے لیے بڑی کامیابی ہوگی ‘
مفازًا (مصدر) کامیابی اور دوزخ سے نجات یا (اسم ظرف) مقام کامیابی۔
Ayah 78:32حدائق و اعنابا
چمنستان اور انگور
Ayah 78:33وکواکب اترابا
اور نوجوان۔ نوخیز شباب ‘ ہمجولی لڑکیاں
کواعب ‘ نوخیز شباب لڑکیاں ‘ یہ کا عبٌ کی جمع ہے۔ اترابًا ہمجولی ‘ ہم سن۔
Ayah 78:34وکاسا دھاقا
اور چھلکتے جام ہوں گے۔
دھاقًا : لبریز ‘۔ حضرت ابن عباس ؓ حسن بصری (رح) ‘ قتادہ یا پے در پے ‘ سعید بن جبیر ‘ یا صاف۔ عکرمہ۔
Ayah 78:35لا یسمعون فیھا لغوا ولا کذابا . یہ جملہ متقین کی ضمیر سے حال ہے اور فیہا کی ضمیر مفازاً کی طرف
راجع ہے مفازًا سے مراد ہے حدائق اور جنتیں یا کاسًا کی صفت ہے اور فیہا کی ضمیر کاسًا کی طرف راجع ہے یعنی دنیوی شراب پینے کے وقت جس طرح لغو اور بیہودہ باتیں سنی جاتی ہیں ‘ اسی طرح جنت کی شراب پینے کے وقت نہیں سنی جائیں گی۔ لغوًا : بیہودہ بات۔ کذابًا : بمعنی تکذیب یعنی کوئی کسی کی تکذیب نہیں کرے گا۔ جنت میں کذب کا وجود ہی نہیں ہوگا۔ کسائی کی قراءت میں کذابًا بلا تشدید ہے۔ اس صورت میں یہ مصدر ہوگا۔ بعض کا قول ہے کہ کذاب بمعنی کذب ہے ‘ بعض علماء نے کذَاب کو کذِّاب کا ہم معنی کہا ہے۔
Ayah 78:36جزاء من ربک عطاء ا . جزاءً ا اور عطآءً ا دونوں مصدر ہیں۔ فعل محذوف کے مفعول مطلق ہیں ‘
جملہ سابقہ کی تاکید کے لیے ہیں جیسے : جزاءً ا اوفاقًا میں ہم نے بیان کردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو کامل جزاء اور کامل عطاء دی جائے گی۔ (یہ فقیر کہتا ہے ‘ شاید یہ مطلب ہے کہ متقیوں کو جو کچھ ملے گا وہ بظاہر ان کے اعمال صالحہ کی جزاء ہوگی مگر حقیقت میں محض عطاء الٰہی ہوگی ‘ کیونکہ اعمال بذات خود موجب جزاء نہیں ہیں) ۔
حسابًا . یہ عطاءً ا کی صفت ہے پوری پوری ‘ کامل عطاء۔ اَحْسَبْتُ فُلَانًا کے معنی یہ ہیں کہ میں نے اس کو اتنا دیا جو اس کے لیے کافی تھا ‘ یہاں تک کہ اس نے بس کہہ دیا۔ ابن عتبہ نے کہا : عطاءً ا حسابًا : یعنی عطاء کثیر۔ برقول ابن عتبہ حسابًا تاکید لنفسہٖ ہوگا جیسے اللہ اکبر دعوۃ الحق اور لہ علی الف درھم اعترافًا۔ بعض علماء نے کہا : حسابًا کا معنی ہے ‘ اعمال کے موافق۔ بقدر اعمال ‘ قاموس میں ہے : ھذا بحسبہٖ یہ شمار میں اس کے برابر ہے ‘ اس صورت میں جزاءً ا وفاقًا کے مقابلہ میں جزاءً ا عطاءً ا حسابًا ہوگا ‘ مطلب یہ نکلے گا کہ اہل طغیان کو ان کے اعمال اور بیہودگیوں کے بقدر سزا ملے گی اور اہل تقویٰ کو ان کے اعمال کے مطابق جزاء۔ میں کہتا ہوں (جزاء اعمال کے مطابق نہیں) بلکہ اللہ کی مشیت اور فضل کے مطابق ملے گی کیونکہ اللہ نے خود فرمایا ہے : کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃِ ماءَۃُ حَبَّۃٍ ۔ وَ اللہ ُ یُضَاعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ اللہ ُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ اور اہل عمل کے اخلاص اور ان کے مراتب قرب کے اعتبار سے جزاء ملے گی کیونکہ مقربین کو تھوڑے عمل کا بھی اتنا اجر ملے گا کہ ابرار کو زیادہ عمل کا بھی نہیں ملے گا۔ بخاری اور مسلم نے صحیحین میں حضرت ابوسعید ؓ خدری کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے صحابیوں کو گالیاں نہ دو اگر تم میں سے کوئی (کوہ) احد کے برابر سونا بھی (راہ خدا میں) خرچ کر دے تو صحابیوں کے ایک مد بلکہ آدھے مد کے برابر نہ ہوگا (مُد بقدر ایک سیر) اور یہ تفاوت اہل قرب کے آپس میں بھی درجات قرب کے فرق کے لحاظ سے ہوگا۔ مجدد صاحب (رح) نے لکھا ہے کہ تمام صحابہ ؓ اور بکثرت تابعین اور کچھ تبع تابعین یعنی مقربین کمالات نبوت کی وجہ سے دوامی تجلی ذات میں ڈوبے ہوئے تھے لیکن ان تینوں قرون (دوروں) کے بعد جن کے خیر ہونے کی شہادت (احادیث میں) آچکی ہے اس دولت عظمی کی روشنی بجھ گئی اور اس کے نشانات بھی مٹ گئے۔ پھر ہجرت سے ہزار سال کے بعد اللہ نے بعض بزرگوں کو پیدا کیا اور ان کو اوّلین کی طرح کمالات عطا فرمائے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خود فرمایا تھا کہ میری امت بارش کی طرح ہے جس میں نہیں جانا جاسکتا کہ اس کا اوّل حصہ بہتر ہے یا آخر حصہ۔ ترمذی بروایت انس ؓ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں اس امت کے اوّل و آخر کو یکساں قرار دیا کہ معلوم نہیں اس کا اوّل دور بہتر ہے یا آخر دور۔
حضرت جعفر بن محمد کے دادا کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خوش ہوجاؤ ‘ بشارت سن لو کہ میری امت کی حالت بارش کی طرح ہے جس میں معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا اوّل بہتر ہے یا آخر ‘ یا باغ کی طرح ہے جس سے ایک گروہ ایک سال اور دوسرا گروہ دوسرے سال پھل کھاتا ہے ‘ ممکن ہے کہ آخر (میں پھل کھانے والا) گروہ سب سے زیادہ لمبا چوڑا اور گہرا ہو اور سب سے زیادہ نیکیوں والا ہو۔ (الحدیث) بیہقی اور رزین نے نے ایک صحابی کی روایت سے جنہوں نے خود حضور ؓ سے سنا تھا ‘ نقل کیا ہے کہ اس امت کے آخر میں ایک قوم آئے گی ‘ جس کا اجر اوائل امت کی طرح ہوگا۔ (بیہقی فی دلائل النبوۃ)
اس تفسیر پر جزاءً ا من ربک عطاءً ا حسابًا تاکید لغیرہ ہوگا جیسا کہ ہم نے جزاءً ا وفاقًا میں بیان کردیا۔
Ayah 78:37رب السموت والارض وما بینھما . کو فیوں کی قراءت میں ربّ جر کے ساتھ ہے اور باقی قراء کے نزدیک ربُّ رفع کے ساتھ۔
الرحمن . عاصم اور ابن عامر کی قراءت میں جر کے ساتھ اور باقی اہل قراءت کے نزدیک رفع کے ساتھ ہے۔ بر قراءت جر رب اور الرحمن دونوں ربک کی صفت ہوں گے یا بدل ہوں گے اور بر قراءت رفع ربُّ السمٰوٰت مبتداء ہوگا اور الرحمن اس کی صفت اور لا یملکون خبر یا رب السمٰوٰت خبر ہے اور مبتداء محذوف ہے یعنی وہ ربّ السموات ہے اور الرحمن ربُّ کی صفت ہے یا ھُوَ (محذوف) مبتداء ‘ ربُّ السمٰوٰت پہلی خبر ‘ الرحمن دوسری خبر اور لا یملکون تیسری خبر ہے ‘ وغیرہ۔
لا یملکون منہ خطابا . یعنی زمین و آسمان والوں میں سے کوئی بھی الرحمن سے خطاب کرنے کی قدرت نہیں رکھے گا۔ کلبی نے کہا : اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی شفاعت نہ کرسکے گا۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ کوئی اللہ پر اعتراض نہ کرسکے گا کہ بعض کو بعض سے زیادہ اجر کیوں دیا کیونکہ سب خدا کے بندے ہیں ‘ اس کی ملک ہیں ‘ کسی کو ثواب کا استحقاق نہیں۔ ثواب اللہ کی مہربانی ہے۔ حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہاری زندگی کا زمانہ گزشتہ امتوں کے زمانہ کے مقابلہ میں (ایسا ہے جیسا) عصر سے مغرب کا وقت ‘ تمہاری مثال یہود و نصاریٰ کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسی کسی نے کام ختم کرنے کے لیے مزدور رکھے اور کہا : جو شخص دوپہر تک کام کرے گا اس کو ایک قیراط ملے گا ‘ چناچہ یہودیوں نے ایک ایک قیراط کی شرط پر کام کیا ‘ پھر اس نے کہا جو دوپہر سے عصر تک کام کرے گا اس کو ایک قیراط ملے گا۔ نصاریٰ نے دوپہر سے عصر تک ایک ‘ ایک قیراط کی شرط پر کام کیا۔ پھر اس نے کہا : جو شخص نماز عصر سے مغرب تک کام کرے گا اس کو دو ‘ دو قیراط ملیں گے ‘ پس اب تم ہی وہ لوگ ہو جو عصر سے مغرب تک کام کرو گے ‘ خوب سن لو ‘ تمہارے لیے دوہرا اجر ہے۔ اس پر یہودی اور عیسائی ناراض ہوگئے اور کہنے لگے کام ہمارا زیادہ ہے اور عطیہ ہم کو کم ملا۔ اللہ نے فرمایا : کیا میں نے تمہارے حق میں سے کچھ مار لیا ؟ یہود و نصاریٰ نے کہا : نہیں۔ اللہ نے فرمایا : تو پھر میری مہربانی ہے ‘ میں نے جس کو چاہا دیا۔ (بخاری)
میں کہتا ہوں کہ حضور ﷺ نے جو گزشتہ اقوام کے مقابلہ میں اس امت کی میعاد زندگی عصر سے مغرب تک قرار دی ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس امت کی عمریں کوتاہ اور عمل زیادہ ہوں گے اور دو قیراط سے مراد مطلق کثرت ہے جیسے آیت : ارجع البصر کر تین میں کثرت مراد ہے ‘ صرف دوگنا مراد نہیں ہے۔ ہماری اس تفسیر پر یہ آیت گزشتہ آیت : جزاءً ا من ربک عطآءً ا حسابًا سے مربوط ہوجائے گی۔
Ayah 78:38یوم یقوم الروح والملٰئکۃ صفا . یوم کا تعلق لا یملکون سے ہے یعنی جس روز روح و ملائکہ کا قیام ہوگا ‘ اس روز اللہ سے کوئی خطاب نہ کرسکے گا یا لا یتکلمون سے متعلق ہے ‘ یعنی اس روز سوائے اس کے جس کو خدا اذن دے اور کوئی اللہ سے کلام نہیں کرسکے گا ‘ اوّل صورت زیادہ ظاہر ہے۔
روح کے متعلق علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ ابن جریر ؓ نے حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے کہ روح چوتھے آسمان پر ہے ‘ تمام آسمانوں سے ‘ پہاڑوں سے اور ملائکہ سے بڑا ہے۔ بغوی نے اتنا اور بھی بیان کیا ہے کہ وہ روزانہ بارہ ہزار تسبیح (سبحان اللہ) پڑھتا ہے اور اس کی ہر ایک تسبیح سے اللہ ایک فرشتہ کو پیدا کردیتا ہے۔ قیامت کے دن روح تنہا ایک صف ہوگا۔
اس آیت کے ذیل میں ابو الشیخ نے ضحاک کا قول بیان کیا ہے کہ روح اللہ کا صاحب ہے ‘ اس کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ تمام فرشتوں سے بڑا ہے ‘ اگر منہ کھول دے تو سارے ملائکہ اس میں سما جائیں۔ فرشتے اس کی ہیبت سے اس کی طرف نظر نہیں اٹھاتے اور اوپر کو نہیں دیکھتے۔ ابو الشیخ نے حضرت علی کا قول نقل کیا ہے کہ روح ایک فرشتہ ہے جس کے ستّر ہزار منہ ہیں ‘ ہر منہ میں ستّر ہزار زبانیں ہیں۔ ہر زبان میں ستّر ہزار بولیاں ہیں اور ان تمام بولیوں میں وہ اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے۔
ابو الشیخ نے باسناد عطاء حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ روح ایک فرشتہ ہے ‘ جس کے دس ہزار بازو ہیں۔ باسناد ابوطلحہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول مروی ہے کہ وہ جسمانیت میں سب فرشتوں سے بڑا ہے۔ بغوی نے عطاء کی روایت میں اتنا اور نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن تنہا روح ایک صف میں اور باقی ملائکہ ایک صف میں کھڑے ہوں گے۔ پس اس کی جسمانیت ان سب کے برابر ہوگی۔
ابو الشیخ نے مقاتل بن حبان کا قول نقل کیا ہے کہ روح ‘ اشرف الملائکہ ہے۔ تمام ملائکہ سے زیادہ خدا کا مقرب ہے۔ صاحب وحی ہے۔
اسی آیت کے ذیل میں ضحاک کا قول بروایت ابو الشیخ آیا ہے کہ روح جبرئیل ( علیہ السلام) ہیں۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ حضرت جبرئیل قیامت کے دن اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور اللہ کے خوف سے ان کے شانے لرز رہے ہوں گے اور عرض کرتے ہوں گے : تو پاک ہے ‘ سوائے تیرے کوئی معبود نہیں۔ ہم نے اور مشرق سے لے کر مغرب تک کسی نے تیری عبادت کا حق ادا نہیں کیا۔ آیت : یوم یقوم الروح و الملٰئکۃ صفًّا کا یہی مطلب ہے۔ ابو نعیم نے مجاہد کا اور ابن مبارک نے ابو صالح مولیٰ ام ہانی کا قول نقل کیا ہے کہ روح آدمی کی شکل کی ایک اور مخلوق ہے ‘ جو آدمی نہیں ہے۔ بغوی نے اتنا زائد بیان کیا کہ وہ ایک قطار میں ہوگی اور ملائکہ ایک قطار میں ‘ ان کی بھی ایک جماعت ہوگی اور ان کی بھی ایک جماعت۔ بغوی نے یہی قول قتادہ کا نقل کیا ہے۔ ابو الشیخ نے باسناد مجاہد حضرت ابن عباس کی حدیث مرفوعاً نقل کی ہے کہ اللہ کی فوجوں میں سے روح ایک فوج (جماعت) ہے جو ملائکہ نہیں ‘ اس کے سر بھی ہیں اور ہاتھ ‘ پاؤں بھی ‘ پھر یہ آیت تلاوت کی : یوم یقوم الروح والملآئکۃ صفًّا۔ اور فرمایا : ایک ان کی جماعت ہوگی اور ایک ان کی۔
بغوی نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے روح کو اولاد آدم کی شکل پر پیدا کیا ہے ‘ جو فرشتہ آسمان سے اترتا ہے اس کے ساتھ روح کا ایک شخص ضرور ہوتا ہے۔ ابن مبارک اور ابو الشیخ نے بیہقی کا قول : یوم یقوم الروح والملائکۃ صفّا کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن ربّ العالمین کے سامنے دو قطاریں کھڑی ہوں گی ‘ ایک ملائکہ کی دوسری روح کی۔ بغوی نے حسن بصری کا قول نقل کیا ہے کہ روح اولاد آدم ہے (یعنی آیت میں روح سے مراد آدمی ہیں) بروایت قتادہ ابن عباس کا بھی یہی قول ہے۔ قتادہ نے کہا : اس کو ابن عباس چھپایا کرتے تھے (یعنی یہ ابن عباس کے اسرار میں سے ہے) ۔
صفًّا ‘ یقومون کے فاعل سے حال ہے یا فعل محذوف کا مصدر (مفعول مطلق) ہے یعنی وہ صف بستہ ہوں گے۔
لا یتکلمون . لَا یَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا کی تاکید ہے کیونکہ جب روح و ملائکہ جو تمام مخلوق سے افضل اور اللہ کے
سب سے زیادہ مقرب ہیں ‘ اللہ کے سامنے بول نہیں سکتے تو دوسروں کا ذکر ہی کیا ہے۔
الا من اذن لہ الرحمن . یعنی کوئی بول نہ سکے گا ‘ سوائے اس کے جس کو بولنے یا شفاعت کرنے کی اللہ اجازت
دے دے۔ یہ لا یتکلمون کی ضمیر فاعل یا لا یملکون کی ضمیر فاعل سے حال ہے۔ اوّل لفظی قرب کی وجہ سے زیادہ ظاہر ہے اور دوسرا معنی کے لحاظ سے زیادہ مناسب ہے کیونکہ شفاعت کرنے اور بولنے کی اجازت روح و ملائکہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔
و قال صوابا . اور وہ صحیح اور حق بات کہے اور اس پر اعتقاد بھی رکھتا ہو ‘ قول سے بطور کنایہ اعتقاد مراد ہے کیونکہ اعتقاد کا
اظہار قول سے ہی ہوتا ہے۔ قَالَ کا عطف ہے اَذِنَ پر۔ یعنی دنیا میں اس نے اعترافِ حق کیا ہو اور جھوٹی بات نہیں کہی ہو اور سب سے بڑا جھوٹ کفر ہے کیونکہ کسی تاویل سے بھی کفر کا سچ ہونا ممکن نہیں ‘ کفر کے بعد اہل بدعت کے قول کا درجہ ہے کیونکہ قرآن ان کی تکذیب کر رہا ہے ‘ بعض لوگوں نے قول صواب لا الٰہ الاّ اللہ کو قرار دیا ہے۔ پس کفارکو تو بولنے اور معذرت پیش کرنے کی بھی اجازت نہ ہوگی اور اہل بدعت کو شفاعت کی اجازت نہ ہوگی (کیونکہ دنیا میں وہ شفاعت کے منکر تھے ‘ اس سے اشارہ معتزلہ کی طرف ہے) ۔
Ayah 78:39ذلک الیوم . یہ دن یعنی مذکورۂ بالا احوال والا دن۔
الحق . حق ہی ہے ‘ بلا ریب حقانیت اور صداقت پر یہ دن مقصور ہے (یعنی الحق خبر ہے اور خبر پر الف لام مفید
قصر ہوتا ہے ‘ پس مطلب یہ ہوگا کہ قیامت کا دن یقیناً حق ہی ہے) ۔
فمن شاء اتخذ الی ربہ مابا . مآب ‘ جائے رجوع۔ اللہ کے قرب تک۔ پہنچانے والا راستہ یعنی جو چاہے
طاعات ‘ اتباع انبیاء اور مجذوب و سالک اہل ہدایت کی پیروی کر کے اللہ کے قرب کا راستہ اختیار کرے۔ فمن میں فاء سببی ہے کیونکہ اللہ تک پہنچانے والا راستہ اختیار کرنے کا سبب قیامت کا برحق ہونا ہے۔ الی ربہٖ ماٰبًا کے متعلق ہے یا حال ہے۔