Ayahs 78:1–3ترکیب ¦ عم اصلہ عن ما فادغمت النون فی المیم وحذفت الالف لیتمیز الخبر عن الاستفھام وکذلک فیم وبم۔ والاستفھام فی اللفظ وفی المعنی تفخیم القصۃ کما تقول ای شیء ترید اذا عظّمت شانہ عن النباء العظیم عن بدل من الاولی والف الاستفہام التی ینبغی ان تعادمحذوفۃ وعن الاولیٰ متعلقہ بیتساء لون وقیل عن الثانیۃ متعلقۃ بفعل محذوف غیر مستفھم عنہ ای یتساء لون عن النباء علی ھذا التقدیر عن النباء جواب الاستفھام کما فی قولہ تعالیٰ لمن الملک الیوم للہ الواحد القہار الذی ھم فیہ مختلفون الموصول صفۃ للنباء بعد وصفہ بکونہ عظیمًا۔
تفسیر ¦ اس سورت کو سورة تساؤل اور سورة نباء بھی کہتے ہیں۔ یہ بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس میں چالیس یا اکتالیس آیات دو رکوع ہیں۔ اس کی مناسبت سورة مرسلات سے مسئلہ معاد میں ہے اور ہجرت سے پہلے یہی مسئلہ زیادہ تر مبحوث عنہا تھا۔
شان نزول ¦ شان نزول اس کا یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ مکہ میں مبعوث ہوئے اور ان انسانی اعمال کی جزاء و سزا کے منکروں کو ایک آنے والے دن کی خبر دی کہ ایک دن آنے والا ہے جس میں یہ دنیا زیرو زبر ہوجائے گی اور انسان باردگر زندہ ہوں گے اور ان کے نیک و بد اعمال کی ان کو جزاء و سزا ملے گی (یہ خبر عقلمند کے نزدیک البتہ بڑی خبر ہے۔ کس لیے کہ شتر بےمہار ہو کر نفسانی خواہشوں کو پورا کرنے والوں اور پھر سلسلہ حیات کو اسی حیات پر تمام سمجھنے والوں کو ایک سخت پریشانی کا سبب اور نہایت فکر کی بات ہے) تب وہ کفار بار بار تعجب کی راہ سے حضرت نبی ﷺ سے دریافت کرتے تھے کہ کب وہ دن ہے اور یہ کیونکر ہوگا کہ بوسیدہ ہڈیاں پھر زندہ ہوں گی۔ ان کے اس سوال اور تعجب کا ان آیات میں ذکر کرتا ہے۔
فقال عم یتسالون کہ یہ لوگ کیا پوچھ رہے ہیں ؟ خدا تعالیٰ کو معلوم تھا کہ جس چیز کا وہ سوال کرتے تھے مگر یہ ایک محاورہ ہے کہ جب کوئی بڑی بات پوچھتا ہے یا چاہتا ہے تو کہتا ہے تو کیا پوچھتا ہے۔ کیا چاہتا ہے یعنی یہ پوچھنے اور چاہنے کی چیز نہیں۔ تسائول باہم سوال کرنا ایک دوسرے سے پوچھنا۔ یہ پوچھنے والے کون تھے ؟ بظاہر کفار تھے کہ تعجب و انکار و تمسخر کی راہ سے آپس میں چرچا کرتے اور پوچھتے تھے۔ فراء کہتے ہیں تسائول بات چیت کو بھی کہتے ہیں۔ گرچہ باہم سوال و جواب نہ ہو کما فی قولہ تعالیٰ واقبل بعضہم علی بعض یتساء لون قال قائل منہم انی کان لی قرین یقول ائنک لمن المصدقین اس تقدیر پر یہ معنی ہیں کہ وہ آپس میں کس چیز کا چرچا کرتے ہیں ؟ یعنی یہ چرچا کرنے اور تعجب و انکار کرنے کی بات نہیں بلکہ مان لینے کی چیز ہے۔ جمہور کے نزدیک یہ پوچھنے یا چرچا کرنے والے کفار تھے کس لیے کہ اس کے بعد کلاسیعلمون اور ھم فی مختلفون میں ضمیریں کفار کی طرف پھرتی ہیں۔ اس لیے یتسائلون کی ضمیر بھی ان ہی کی طرف پھر نی چاہیے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مسلمان و کفار باہم ایک دوسرے سے پوچھتے تھے۔ کفار مسلمانوں پر شبہات پیش کرتے تھے۔ وہ جواب دیتے تھے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ مسلمان و کفار سب آنحضرت ﷺ سے پوچھتے تھے ٗ مسلمان اس لیے کہ اور بھی یقین قوی ہوجاوے اور کفار تمسخر کی راہ سے یا شکوک و شبہات وارد کرنے کی غرض سے۔
پھر آپ ہی فرماتا ہے عن النباء العظیم الذی ھم فیہ مختلفون۔ اس بڑی چیز سے سوال کرتے ہیں کہ جس میں اختلاف کر رہے ہیں یعنی کیا وہ بڑی خبر پوچھ رہے ہیں ؟ جس کا پوچھنا اور تعجب کرنا لازم نہیں۔ لفظ عظیم اس طرف اشارہ کر رہا ہے کہ وہ تو ایک بڑی بھاری بات ہے۔ اس کی عظمت دلوں پر خود بخود اثر ڈال رہی ہے۔ بشرطیکہ دلوں پر حجاب ظلمانی اس اثر سے روکنے والے نہ ہوں اور جملہ ھم فیہ مختلفون بھی اسی طرف اشارہ کر رہا ہے کس لیے کہ اختلاف کرنا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ اس بڑی خبر کے بطلان پر بھی ان کے پاس کوئی برہان قاطع اور تسلی بخش دلیل نہیں بلکہ محض توہمات ہیں۔ پھر ان کے زور پر الہامی باتوں پر اس قدر انکار اور اصرار حماقت ہے۔
نبائِ عظیم کی تفسیر ¦ نباء کے معنی ہیں خبر۔ نباء عظیم بڑی خبر۔ وہ کیا ہے ؟ اس میں تین قول ہیں۔ اول قیامت اور اس پر چند دلیل ہیں : (1) یہ کہ بعد میں فرمایا ہے سیعلمون جس سے تہدید مراد ہے اور وہ تہدید قیامت میں زیادہ متحقق ہے (2) یہ کہ بعد کی آیات میں الم نجعل الارض مہادا الخ میں وہ دلائل بیان فرمائے ہیں جو اس کی قدرت و جبروت انعام و افضال کے نمونہ ہیں جن سے قیامت برپا کرنے پر اپنا قادر ہونا ثابت کرنا مقصود ہے۔ (3) یہ کہ لفظ عظیم ایک اور جگہ بھی قرآن میں قیامت پر اطلاق ہوا ہے بقولہ تعالیٰ الایظن اولئک انہم مبعوثون لیوم عظیم۔ یوم یقوم الناس لرب العالمین وقولہ تعالیٰ قل ھو نباء عظیم انتم عنہ معرضون۔ دوسرا قول یہ کہ نباء عظیم سے مراد قرآن شریف ہے اور اس میں ان کا اختلاف تھا۔ کوئی اس کو سحر کوئی شعر کوئی اگلوں کے قصے کہتا تھا اور نیز نباء جس کے معنی خبر کے ہیں ٗ قرآن سے زیادہ چسپاں ہیں۔ کس لیے کہ قرآن خبر دیتا ہے برخلاف قیامت کے کہ وہ مخبر عنہ ہے۔ تیسرا قول یہ کہ اس سے مراد آنحضرت ﷺ کی نبوت ہے اور وہ بڑی چیز ہے جس نے دنیا میں انقلاب عظیم پیدا کردیا۔ پہلے قانون اور رسم و رواج پلٹ دیے۔ پرانی بادشاہتیں غارت کرکے نئی قائم کردیں۔ ان ہی باتوں سے ان کفار کو جو دقیانوسی خیالات کے پابند اور پرانی لکیر کے فقیر تھے ٗ آنحضرت ﷺ کی نبوت میں اختلاف تھا ٗ اختلاف بمعنی انکار۔
مختلفون کی تفسیر ¦ قیامت کا اکثر عرب کو انکار تھا اور تعجب سے کہتے تھےء ذا متنا وکنا ترا باذلک رجع بعید۔ اور کچھ قائل بھی تھے۔ نصاریٰ معاد جسمانی کے منکر تھے ٗ صرف معاد روحانی کے قائل تھے بلکہ اب بھی ہیں۔ یہود کے بعض فرقے بالکل قیامت کے منکر تھے اور ہنود تناسخ کے پیرایہ میں سزاء و جزاء کے قائل ہیں۔ پھر قیامت کی کیفیت میں بھی سخت اختلاف تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ مر کر انسان کی روح جنوں یا فرشتوں میں مل جاتی ہے اور اسی کا نام قیامت ہے۔ پھر اس عالم میں اس جسم سابق میں آنا محال ہے اور نہ یہ آسمان و زمین فنا ہوں گے نہ عناصر بلکہ جس طرح یہ قدیم ہیں اسی طرح ابدی بھی ہیں۔ البتہ ان سے باہم ترکیب پا کر جو چیزیں پیدا ہوتی ہیں وہ حادث ہیں اور وہی فنا پذیر بھی ہیں۔ ان سب کے جواب میں فرماتا ہے کلا سیعلمون تمہارے خیالات صحیح نہیں ہیں عنقریب مرنے کے بعد تم کو معلوم ہوجاوے گا ٗ ثم ٗہم پھر کہتے ہیں کلا تمہارے خیالات صحیح نہیں۔ سیعلمون تم کو قیامت اور اس کی اصلی کیفیت عنقریب معلوم ہوجاوے گی ٗ کس لیے کہ دنیا روزے چند ہے۔ 1 ؎
1 ؎ عم دراصل عن ماتھا الف کو تحفیف اور کثرۃ استعمال کی وجہ سے حذف کیا قاعدہ ہے کہ الف ما کو ان حروفِ جر کے بعد حذف کردیتے ہیں۔ عن۔ تا۔ لام۔ وفی۔ وعلیٰ ۔ والی وحتّٰی 12 منہ
2 ؎ الضمیر یرجع الی اہل مکۃ کانوا یتساء لون عن البعث ای تعین البعث بکونہ متسائلا دون امر النبوۃ والقرآن علی ما قیل لا قتضاء قولہ تعالیٰ الم نجعل الارض او یتساء لون الرسول والمومنین عنہ استھزاء ًا و للناس یعنی المسلمین والکافرین 12 حقانی
1 قراء الجمہور عم بحذف الالف وقریٔ باثبا تھا وھو قلیل وقریٔ بھاء السکتۃ عوضاعن الالف عمہ 12 منہ
Ayahs 78:4–53 ؎ سیعلمون قرر المجھہور بالیاء التحیۃ فی الفعلین وقری بالتا۔ علی الخطاب وقرأ الضماک الاولی بالفوقیۃ والثانی بالتحقیقۃ۔ 12 منہ
Ayahs 78:6–16ترکیب ¦ الاستفہام لتتقریر ای جعلنا الارض مفعول اول و مھادا مفعول ثان لجعلنا والجعل بمعنی الخلق وفیہ معنی التقدیر والتسوید وقیل بمعنی التصییر والمھاد جمع مھد بمعنی الفراش قراء الجمہور بالجمع وقری مفرداً اوتادا جمع وتد (میخ) وخلقناکم معطوف علی المضارع المنفی داخل فی حکم ازواجاً حال ای متجنسین متشابھین جمع زوج سباتا قال الزجاج السبات ان ینقطع عن الحرکۃ والروح فی بدنہ وحاصل المعنی الراحۃ ای جعلنا نو مکم راحۃ لکم معاشا منصوب علی الظرفیۃ المعاش مصدر میمی معنی المعیشتہ شداد جمع شدیدۃ ای قویتہ محکمۃ وھا جاوا لوہاج المضیئی من قولھم وھج الجوھرای تلا لا المعصرات فیھا قولان اولا وھواحدی الروایتین عن ابن عباس وقول مجاہدو مقاتل وقتادہ والکلبی انھا الریاح التی تثیر السحاب ومن بمعنی الباء والمعنی انزلنا بالریاح المثیرۃ للسحاب الثانی وھوا لروایۃً الثانیۃ عن ابن عباس اختیار ابی العالیۃ والربیع والضحاک انھا السحاب بوجوہ منھا انہ قال المورج المعصرات السحائب بلغۃ قریش ماء موصوف ثجاجا صفۃ الجموع مفعول انزلنا الثجاج شدۃ الانصباب یقال ثج الماء ای سال بکثرۃ وثجہ ای اسالہ فیکون لازماً ومتعدیا الفافا ای بساتین ملتفۃ قال صاحب الکشاف انہ لا واحدلہ کالاوزاع و الاخیاف الجماعات المتفرقۃ والجماعات المختلطۃ والاخرون اثبتوالہ واحد ثم اختلفوا فیہ فقال الاخفش والکسائی واحد ھالف بکسر اللام وقیل بضمھا وقال المبرد واحد ھا لفاوجمعہ لف وجمع لف الفاف وقیل جمع لفیف کشریف واشراف والمعنی ان کل جنۃ فیھا الاشجار المتجمعۃ المتقاربۃ یقال امرأ لفاء اذا کانت غلیظۃ الساق مجتمعۃ اللحم ینبغ من تقار بہ ان یتلاصق۔
تفسیر ¦ اس دن یا اس خبر کی عظمت بیان فرما کر اس کے بعد چند دلائل بیان فرماتا ہے جو اس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا کافی ثبوت کرتی ہیں اور جن سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ وہ قادر مطلق اور حکیم برحق اس عالم کو درہم برہم کرکے ایک دوسرا اور عالم پیدا کرنے پر قادر ہے اور اس عالم کو فنا کرکے دوسرے عالم کے پیدا کرنے میں جو کچھ اس کی حکمت ہے اس کی کیفیات و خصوصیات تک عقول بشریہ کو رسائی نہیں۔ پھر ایسی چیزوں سے سوال کرنا محض نادانی ہے اور یہ وہ چیزیں ہیں جن کے بنانے میں ذرا بھی کسی کو شرکت نہیں یا یوں کہو کہ وہ دن جس کی وہ خبر پوچھتے اور اس کے آنے کی جلدی کرتے ہیں ٗ وہ یوم الفصل ہے جیسا کہ بعد میں بیان ہوتا ہے ان یوم الفصل الخ جس دن مطیعوں اور نافرمانوں میں بالکل امتیاز ہوجائے گا نہ مکان میں شرکت نہ کھانے پینے کے کسی سامان میں شرکت باقی رہے گی۔ نہ اسباب تعیش و موجبات راحت میں برخلاف دنیا کے کہ یہاں ان سب چیزوں میں مومن و کافر مطیع و عاصی سب شریک ہیں پھر یہاں وہ دن کیونکر آسکتا ہے۔ اس لیے جلدی کرنا اور سوال کرنا عبث ہے اور نیز یوم الفصل کی حقیقت بھی فی الجملہ بیان کردی گئی کہ وہاں نہ یہ آسمان ہوں گے جو آج تم پر قائم ہیں نہ یہ آفتاب ہوگا۔ نہ یہ زمین ہوگی نہ یہ پہاڑ ہوں گے جن کے نفع میں سب شریک ہیں۔ نہ ان بدلیوں سے پانی برسے گا۔ باغوں اور نباتات کی روئیدگی کے اور ہی سامان ہوں گے۔ نہ یہ رات اور دن ہوں گے جن میں رات کو پڑ کر بیخبر سوتے اور دن کو روزی تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ ان کے سوال کا بھی فی الجملہ جواب دینا مقصود تھا۔ اس لیے اس کے بعد یہ نو چیزیں بیان کرتا ہے جن پر دنیا اور اس کی زندگی مربوط ہے۔ فقال (1) الم نجعل الارض مہادا کہ کیا ہم نے زمین کو تمہارے رہنے چلنے پھرنے کے لیے فرش نہیں بنایا ؟ ضرور بنا دیا۔ اگر زمین ہوا کی طرح خفیف اور پانی کی طرح نرم اور آگ کی طرح گرم ہوتی تو تم کہیں اس پر بس سکتے تھے ؟ ہرگز نہیں۔ پھر ہمارے اس انعام میں مومن و کافر سب ہی تو شریک ہیں۔ برخلاف دار آخرت کے کہ وہاں مطیعون کے رہنے کی اور جگہ ہے نافرمانوں کی اور اس سے یہ بھی تم غور کرسکتے ہو کہ جس قادر مطلق نے کرہ ٔ ارض کو ایسا بنایا ہے وہ اس کو فنا نہیں کرسکتا ؟ اور نئی زمین نہیں بنا سکتا۔ ضرور بنا سکتا ہے۔ یہ دنیا کے گھر کا فرش ہے جس پر ہوا میں اڑنے اور ہلنے جلنے کے لیے (2) والجبال اوتادا کیا ہم نے پہاڑوں کو میخیں نہیں بنا دیا ؟ ضرور بنا دیا جس سے یہ فرش ہلتا نہیں۔ اس میں بھی کافر و مومن سب شریک ہیں اور پہاڑوں سے جو کچھ نفع ہیں سب ان سے حصہ پا رہے ہیں برخلاف یوم الفصل کے۔ پھر کیا وہ قادر مطلق جس نے پہاڑوں میں ثقل پیدا کرکے زمین کو ڈگمگانے اور ہلنے جلنے سے محفوظ رکھا وہ ایک روز اس کو ہلا نہیں سکتا۔ واذارجت الارض رجا۔
حکمائِ حال کے نزدیک زمین حرکت کرتی ہے جیسا کہ اور ستارے اپنے مدار پر گھومتے ہیں یہ بھی دورہ تمام کرتی ہے۔ ان کے نزدیک بھی ان آیات سے انعامِ الٰہی اور اس کی حکمت بالغہ کا کافی ثبوت ہے۔ کس لیے کہ اب اس طرح حرکت کرتی ہے کہ اس پر رہنے والوں کو کچھ بھی لغزش نہیں جیسا کہ کشتی میں پتھر ڈال دینے سے وہ ادھر ادھر ڈگمگاتی نہیں اور ایک خاص انداز پر چلتی ہے۔ زمین کے فرش بنانے اور پہاڑوں کو میخیں بنانے سے ان کے نزدیک یہی مراد ہے اور یہ اس کا بڑا انعام اور قدرت کاملہ کا نمونہ ہے۔
یہ فرش بنا کر اس کو یوں ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ (3) وخلقنا کم ازواجاً تم کو اے بنی آدم جوڑے جوڑے پیدا کیا۔ مرد کا جوڑا عورت اور عورت کا مرد بنایا تاکہ اس فرش پر رہیں اور اولاد جنیں اور پھولیں پھلیں۔ اس نعمت میں بھی کافر و مومن سب ہی شریک ہیں۔ ازواج کے معنی اور بھی عام ہیں کہ صفات کے لحاظ سے ایک کے مقابلہ دوسرا ہے۔ بادشاہ ہے تو فقیر بھی ہے۔ غنی ہے تو مفلس بھی ہے۔ نیک ہے تو بدکردار بھی ہے۔ حسین ہے تو بدشکل بھی ہے۔ کالے ہیں تو گورے بھی ہیں۔ عقلمند ہیں تو احمق بھی ہیں۔ علی ہذا القیاس۔ اس میں اس کی قدرت کاملہ کا اظہار ہے کہ جس نے ایک ہی فرش پر ایک ہی مادہ سے کیسی مختلف چیزیں بنا دیں اور نیز انسان کو اس کی فطرت اور آفرینش میں مجبوری بھی دکھا دی اور ثابت کردیا کہ انسان کو جو ہم نے قدرت دی ہے وہ محدود ہے۔ اپنے اندر بھی فطری چیزوں میں تغیر نہیں کرسکتا۔ پھر کیا وہ قادر مطلق تم کو باردگر پیدا نہیں کرسکتا اور تمہارا یہ اختلاف تو صاف صاف کہہ رہا ہے کہ تمہارے مختلف اعمال کی جزاء و سزا کا ایک اور گھر ہے۔ پھر اس دنیا کے فرش پر تم کو کس طرح سلایا۔ (4) وجعلنا نومکم سباتا اور ہم نے تمہاری نیند کو تمہارے لیے راحت بنا دیا۔ اگر رات کو یا دن کو انسان اچھی طرح نہ سوئے اور نوم غریق نہ آوے جس کو سبات کہتے ہیں یا سرے سے نیند ہی نہ آوے اور جو آوے تو غریق نہ ہو بلکہ نیم خوابی سی ہو تو پھر دیکھئے حضرت انسان کی کیا حالت ہوتی ہے ؟
اس میں بھی کافر و مومن سب شریک ہیں۔ برخلاف یوم الفصل کے کہ وہاں مجرموں کو نیند کہاں۔ بیقراری اور سوزش میں نیند کب آتی ہے ؟ دنیا کی یہ بےفکری کی نیند یاد کرکے رویا کریں گے۔ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ نعمت ہے۔ اس کا شکریہ کرو بقدر ضرورت اس سے کام لو پھر طلب معاش یا یاد الٰہی میں وقت گزارو نہ یہ کہ سو سو کر عمر گزار دو اور نیز یہ موت کا بھی ایک نمونہ ہے کہ ابھی تو باتیں کرتے تھے یا چٹ پٹ سو گئے دنیا سے غفلت ہوگئی۔ گویا مرگئے۔
پھر جو تم کو ہر روز مارتا اور ہر روز جلاتا ہے۔ پھر کیا وہ موت کی نیند کے بعد اس خواب سے بیدار نہ کرے گا ؟ جس پر کہیں گے من بعثنا من مرقدنا ضرور کرے گا اور اصل بیداری وہی ہوگی اس جہان کی بیداری بھی خواب ہے بلکہ خواب پریشان۔ (5) وجعلنا الیل لباسا اور ہم نے رات کو اوڑھنا بنا دیا یعنی پردہ ‘ رات پردہ دار ہے۔ اس پردہ میں کوئی برائی کرتا ہے ٗ کوئی بھلائی ٗ چورچوری کرتا ہے۔ زناکار چھپ کر زنا کرتا ہے۔ عابد و زاہد نماز تہجد اور مراقبہ و ذکر میں بیٹھا ہوا ہے اور نیند کا وقت بھی رات ہی ہے۔ ستر کی وجہ سے رات کو لباس کہنا استعارہ ہے۔
فائدہ : کسی نے ابن عباس ؓ سے دریافت کیا کہ نکاح دن میں بہتر یا رات میں ؟ آپ نے فرمایا ٗ رات میں کس لیے کہ رات کو بھی قرآن میں لباس کہا ہے اور عورت کو وھن لباس لکم اس لیے عورت اور اس کے نکاح کو رات ہی مناسب ہے۔ ایک لباس کو دوسرے سے مناسبت ہے۔ یہ اس کی پانچویں نعمت ہے پھر جس نے تم کو یوں راحت سے سلایا اور جگا کر بھوکا نہیں رکھا بلکہ (6) وجعلنا النہار معاشا اور ہم نے دن کو تمہاری روزی کے لیے بنایا۔ اس میں بھی کافر و مومن سب شریک ہیں۔ برخلاف اس دن کے کہ نیک بہشتوں میں آرام کرتے ہوں گے۔ بد جہنم میں جلتے ہوں گے ٗ روزی تلاش کرنا کجا اہل دنیا کی فطرت میں ہے کہ رات کو سوتے اور دن کو معاش کے کاروبار میں مصروف ہوتے ہیں اگر ہمیشہ رات رہتی یا ہمیشہ دن رہتا تو عافیت کا دائرہ تنگ ہوجاتا۔ آفتاب اور دیگر سیارات کی گردش یا کہو زمین کی آفتاب کے گرد حرکت جیسا کہ حکمائِ جدید کا خیال ہے اس طرح اور اس نظام سے کہ رات اور دن پیدا ہوں اس کی قدرت اور حکمت کی دلیل ہے۔ پھر جو ان اجرام کو ایک خاص ارادے پر حرکت دے رہا ہے۔ کیا اس کے نزدیک باردگر پیدا کرنا مشکل ہے ؟ ہرگز نہیں۔
یہ دنیا کی حاصل کار باتیں تھیں یعنی رات کو سونا اور دن کو روزی کے دھندے میں لگنا اس میں غافل عمر تمام کر جاتے ہیں۔ ان دو مشغلوں کے سوا دار آخرت کی فکر تک نہیں۔ اب اس گھر کی چھت کا حال بیان فرماتا ہے (6) وبنینا فوتکم سبعاً شداداً کہ ہم نے تمہارے اوپر سات چھت مستحکم بنائیں جو زمانے کے گزرنے سے ہرگز پرانی نہیں ہوتیں اور نہ ان میں کوئی قصور و فتور واقع ہوتا ہے۔ اب تک ویسے ہی ہیں۔ اس کاریگر کی یہ کاریگری قابل غور ہے۔ وہ سات چھت کیا ہیں۔ سات آسمان کہ جن میں سات ستارے دورہ کرتے ہیں اور ان ستاروں کی تاثیر حرارت و برودت ‘ روشنی و تاریکی سے سب نیک و بد فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بخلاف یوم الفصل کے کہ وہاں نیکوں کے لیے جنت میں چھت کی جگہ بلند مرتبہ لوگوں کے مکان ہیں جن کی روشنی ان پر پڑتی ہوگی اور وہ بلند مرتبہ حضرات انبیاء علیہم الالسلام و اولیاء کرام ان ماتحتوں کی ترقی میں مدد کریں گے اور بدوں کو جہنم کے طبقات احاطہ کئے ہوں گے اور یہی ان کی چھت ہوگی اور کفار اپنے ظلمات کفر میں اپنے سے اوپر والوں کو اور بھی زیادہ عذاب میں مبتلا سمجھیں گے۔
حکماء حال کے نزدیک سبع شداد سات ستارے ہیں جو یکے بعد دیگر قائم ہیں اور اپنے مدار پر حرکت کرتے ہیں اور جس فضا میں یہ حرکت کرتے ہیں۔ وہ ان کے آسمان ہیں مگر کوئی دوربین اب تک ایسی نہیں پیدا ہوئی جو اس قدر دور دراز کی فضا کو جس میں اجرام لطیف ہیں محسوس کرسکے۔ پھر آسمان کا انکار محض مکابرہ ہے۔
اب اس دنیا کے گھر کا چراغ بھی ضرور تھا۔ اس لیے فرماتا ہے (8) وجعلنا سراجاوھاجا اور ہم نے چمکتا ہوا چراغ بھی بنا دیا۔ دن کو آفتاب رات کو ماہتاب اور ستارے جن کے نور سے نیک و بد برابر نفع اٹھاتے ہیں۔ برخلاف یوم الفصل کے کہ جنت میں آفتاب کی روشنی کی ضرورت نہ ہوگی اور جہنم میں سرے سے کوئی روشنی نہ ہوگی۔ اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا اور نیز یہ بھی اس کی قدرت کاملہ کی برہان ہے کہ آفتاب میں یہ نور دیا اور پھر ان ستاروں کے انوار میں یہ فرق پیدا کردیا کہ کسی کی روشنی گرم ہے تو کسی کی سرد۔ پھر کیا وہ حکیم اس جہان میں نیکوں اور بدوں کو جزاء و سزا نہیں دے سکتا ؟ ضرور دے سکتا ہے اور دے گا۔ یوں ہی معطل نہ چھوڑے گا۔
اس کے بعد اس جہان میں جو بندوں کی راحت کا سبب ہے اس کو بھی بیان فرماتا ہے کہ ایسا گھر بنا کر ہم تم کو اس تدبیر سے کھانا کھلاتے ہیں۔ فقال (9) وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا کہ ہم بادلوں سے پانی کا ریلہ اتارتے ہیں۔ بادلوں سے پانی کا برسنا اور وہ بھی اس طرح سے کہ چھوٹی چھوٹی بوندیں برستی ہیں۔ اس کی حکمت وقدرت کی دلیل ہے۔ حکماء نے کہا ہے کہ آفتاب کی حرارت سے زمین سے بخارات اوپر چڑھتے ہیں اور ہوا کے بارد طبقہ میں جا کر جم جاتے ہیں۔ پھر ان سے پانی برستا ہے۔ یہ ٹھیک مگر اس سلسلہ اسباب میں جو کچھ کاریگریاں ہیں ان کو تو دیکھو جہاں عقل حیرت میں آکر یہی کہہ دیتی ہے کہ تو ہی مسبب الاسباب ہے تیرے ہی ہاتھ میں ہر کام کی ڈوریاں ہیں پھر یہ پانی بیکار نہیں بلکہ اس لیے ہے لنخرج بہ حباً ونباتا وجنات الفافا کہ اس سے ہم اناج پیدا کرتے ہیں جو اے ابن آدم ! تمہارے کھانے میں آتا ہے اور نبات بھی پیدا کرتے ہیں یعنی جڑی بوٹیاں کہ جن میں تمہارے چارپایوں کی بھی غذا ہیں اور دوا میں تمہارے بھی کام آتی ہیں اور کچھ ان میں سے خوشبو اور مصالحہ کا کام دیتی ہیں اور جنات الفافا اور گھنے باغ اگاتے ہیں جن میں طرح طرح کے میوے پیدا ہوتے ہیں اور ان کی سبزی و شادابی تمہاری عشرت و فرحت کا سبب ہے۔ اب دیکھو ایک پانی ہے۔ اس سے کیا کیا مختلف چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ اس کی قدرت کی دلیل ہے۔ اس میں بھی کافر و مومن برابر نفع اٹھاتے ہیں۔ کوئی امتیاز نہیں برخلاف اس جہان کے کہ وہاں نیکوں کے اعمال و اعتقادات و احوال ‘ باغ و انہار اور میوے بن کر سامنے آویں گے اور بدوں کے اعمالِ بد اور عقائدِ فاسدہ زقوم و مائٍ حمیم بن کر ظاہر ہوں گے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس جہان میں تمام منافع میں شرکت ہے۔ امتیاز کلی نہیں بلکہ اس جہان کی فنا وتخریب کے بعد ایک اور جہان ہوگا جہاں بدوں کو نیکوں کے ساتھ کسی راحت اور نفع میں شرکت نہ ہوگی پس وہ دن فیصلہ کا ہے اور وہیں جزاء و سزائے کامل ہے اور وہی فصل یعنی امتیاز کلی کا بھی دن ہے۔
فائدہ : ان آیات میں جس طرح اس عالم کے منافع میں شرکت عمومی بیان کی گئی کہ جو یوم الفصل کے برخلاف ہے۔ اسی لیے یہ جہاں دار جزاء و سزا ہو بھی نہیں سکتا بلکہ ایک اور جہان کا انتظار کرنا چاہیے جس کی تمام انبیاء (علیہم السلام) خبر دیتے چلے آئے ہیں اور جس کی اول منزل ہر ہر فرد انسانی کے لیے موت ہے اور سب کے لیے اس جہاں کی تخریب 1 ؎ جس کو آیندہ بیان فرماتا ہے اور جس کی نسبت سوالات کرنا اور تعجب کرنا عقل کی کوتاہی ہے۔ اسی طرح ان آیات میں اس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ اور نعمت شاملہ کا بھی ہر فرد انسانی کے لیے ثبوت ہے جس سے یہ بتلایا جاتا ہے کہ تم اس محسن اور قادر مطلق و حکیم برحق کی نافرمانی کرتے ہو اور ان نعمتوں میں اور معبودوں کو شریک ٹھہرا کر ملزم 2 ؎ بنتے ہو توہمات فاسدہ کے گھوڑے دوڑاتے ہو۔ یہ کمال ناسپاسی اور پوری نمک حرامی ہے جس کی سزا ابدی جہنم ہے اور نیز ان آیات میں حیات و موت اور بقاء و فنا کا بھی نقشہ دکھایا ہے، مثلاً آفتاب طلوع کرتا ہے پھر نصف النہار پر اپنے کمال کو پہنچتا ہے۔ پھر ڈھلنا شروع ہوتا ہے آخر غروب ہوجاتا ہے اور دنیا میں روشنی کی جگہ اندھیرا چھا جاتا ہے یہی حال انسان کا ہے کہ پیدا ہوتا ہے اور جوانی کی حد تک پہنچ کر ڈھلنا شروع ہوتا ہے۔
1 ؎ یعنی اس جہان کا برباد ہونا دوسرے جہاں کے لیے سب کے لیے یہی منزل ہے۔ 12 منہ
2 ؎ بھلا کوئی بتلائے تو سہی کہ ان نو چیزوں میں سے کونسی کسی اور معبود نے بنائی ہے یا بنانے میں مدد دی ہے۔ پھر وہی معبود واحد قابل پرستش ہے۔
آخر ایک روز زمین کے پردے میں یہ چمکتا ہوا مہتاب غروب ہوجاتا ہے اور اس کے وجود عارضی پر ایک عدم کی اندھیری رات چھا جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا۔ پھر جس طرح ایک مدت معین کے بعد آفتاب باردگر طلوع کرتا ہے۔ اسی طرح یہ مہ پارہ بھی نئی دنیا اور دوسرے جہان میں پھر طلوع کرے گا اور اس طرح پانی سے سبزہ اگنے میں بھی حیات و موت کا نمونہ ہے۔ پانی کے قطرے سے یہ پیدا ہوتا ہے جو اس کے ماں باپ کی ٹپکتی بدلیوں سے برسا تھا۔ پھر اس سے ایک بوٹا اگا اور کیا کیا جوانی اور لڑکپن کی بہاریں آئیں۔ آخر پژمردہ ہوتا چلا اور سوکھ کر زمین پر گر پڑا اور ہوا میں اس کے ریزے ریزے اڑتے پھرے۔ اسی طرح رات اور دن خواب و بیداری بھی نمونہ ہیں۔
Ayahs 78:17–30ترکیب ¦ کان میقاتا الجملتہ خبران یوم الفصل اسمہا۔ یوم ینفخ بدل من یوم الفصل اوعطف بیان۔ الصورا ماجمع الصورۃ فالنفخ فی الصور عبارۃ عن نفخ الارواح فی الاجسادوا ماھی عبارۃ عن قرن ینفخ فیہ افواجا حال من فاعل تاتون وھی جمع فوج ای جماعات جماعات والفاء فی فتاتون فصیحۃ وفتحت معطوف علی ینفخ وصیغۃ الماضی علی تحقق الوقوع وقیل عطف علی فتاتون۔ مرصادا خبر کانت والمرصاد اسم للمکان الذی یرصدفیہ کالمضمار للمکان الذی یضمرفیہ الخیل وکذالمنھاج۔ وقیل مفعال من الرصد والمعفال من انبیۃ المبالغۃ کالمھمار علیٰ ھذا ان جھنم ترصدا عداء اللہ وتشھق علیھم للطاغین ان قلنا ان جھنم مرصاد للکفار فقط فکان قولہ للطاغین من تمام ما قبلہ ای جھنم کانت مرصاد اللطاغین ثم قولہ مآباً بدل من قولہ مرصاد اوان قلنا انھا مرصاد للکفار وللمؤمنین ثم قولہ علیٰ مرصاد او کان للطاغین ماٰبا کلاما مبتدئً ماٰبا خبرثان لکانت للطاغین منعلق بہ او بمحذوف او بکانت الماٰب المرجع یقال آب یؤب اذا رجع۔ لابثین منصوب علی الحال المقدرۃ من الضمیر المستکن فی الطاغین واحقابا منصوب علی الظرفیۃ وھی جمع حقب بضمتین وھو الدھر والا حقاب الدھور وتقدیر الحقب عند اھل اللغۃ ثما نون سنۃ واصل الحقب الترادف والتتابع یقال احقب اذا ردف لایذوقون الجملۃ حال من الضمیر فی لابثین اوصفۃ لاحقا با اومستانفۃ لبیان ما اشملت علیہ من انھم لایذوقون فی جہنم او فی الاحقاب برداً والاشرابا ربردخن کی آب یا ہواء) وقیل النوم والشراب الماء جزاء وفاقا ای موافقا لاعمالھم وافاقا صفۃ الجزاء اما علی حذف المضاف ای ذا وفاق واما علی المبالغۃ ونصب جزا علی انہ مفعول مطلق من فعل محذوف قال الفراء والا خفش جازیناھم جزاء وافق اعمالھم وقال الزجاج جو زوا جزا وفاقا۔ قال الفراء الوفاق جمع الوفق والوفق والموافق واحد انھم کانوا الجملۃ مستانفقہ وتعلیل لا ستحقاقھم الجزاء المذکور۔ وکل شیء منصوب علی الاشتغال ای احصینا کل شیء وقریٔ بالرفع علی انہ مبتداء ما بعدہ خبرہ کتابا فی نصبہ اوجہ احدھا انہ تمیزمن احصینا والثانی انہ حال ای مکتوبافی اللواح والثالث انہ مصدرمن بمعنی الاحصاء والتجوز اما فی المصدر اوفی الفعل اذیراد بالا حصاء والکتب الضبط۔
تفسیر ¦ اس کے بعد قیامت کے چند احوال بیان فرماتا ہے : (1) ان یوم الفصل کان میقاتا کہ فیصلے کا دن موقت و معین ہے۔ اس وقت سے پہلے تمہارے انکار و اصرار کی وجہ سے آ نہیں سکتا۔ کس لیے کہ اس وقت کے لیے چند چیزیں لازم ہیں۔ اول یہ کہ ارواح کا باردیگر ابدان سے تعلق۔ دوم یہ کہ جب تک یہ تمام کارخانہ دنیا درہم برہم نہ ہو اور اس کے گھر کی چھت اور فرش اور قندیل اور اس کے سامان رزق و راحت جن کا آج فائدہ عام ہے ٗ منقطع نہ کردیے جاویں اور تمام آنے والی روحیں اس گھر میں آکر فائدہ نہ اٹھا لیں۔ اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی۔ میقاتا کے یہ بھی معنی ہیں کہ یوم الفصل میقات یعنی حد ہے اس عالم کے تمام ہونے کی یا وقت ہے ان چیزوں کا کہ جن کا اللہ نے وعدہ کیا ہے یا وقت ہے اجتماع خلائق اور معاملات کے فیصلہ کا۔
میقات کے لفظ میں ان کے سوالات کا جواب بھی ہے کہ کیوں جلدی کرتے ہو اور کس لیے تعجب کی راہ سے پوچھتے ہو۔ آخر ہر ایک بات کی حد بھی تو ہوتی ہے۔ دنیا کا حادث ہونا جب تم کو ان نو دلائلِ مذکورہ بالا سے ثابت ہوگیا تو یہ جان لینا کچھ بھی مشکل نہیں کہ ہر حادث کی انتہاء اور حد بھی ہے۔ ایک روز یہ کارخانہ تمام بھی ہونا ہے۔ پس وہی قیامت ہے اور وہ اس دنیا کی انتہائی حد ہے۔
(2) یوم ینفخ فی الصور اس دن صور پھونکا جاوے گا۔ پہلے صور پھونکنے سے تمام دنیا الٹ پلٹ ہو کر نیست و نابود ہوجاوے گی جیسا کہ اس صور اول کے حالات بعد کی آیات میں آتے ہیں اور چونکہ وہ حالات اور واقعات ہولناک ہیں ٗ اس لیے ان کو بعد میں جداگانہ بیان فرماتا ہے۔ اس کے بعد باردیگر صور پھونکا جاوے گا اور صور ایک بگل یا ترہئی کیسی مجوف چیز ہے۔ حضرت اسرافیل اس میں پھونک ماریں گے جس کی سخت آواز کی تاثیر سے یہ عالم خراب ہوگا۔ اس کے بعد باردگر پھونکیں گے تو اس کی تاثیر سے تمام ارواح اپنے اپنے اجسام سے متعلق ہوجاویں گی اور اجسام گو ریزے ریزے ہوگئے تھے مگر وہ ریزے باقی تھے جمع ہوجاویں گے۔ تب ہر ایک باردگر زندہ ہوگا اور فتاتون افواجا تم سب کے سب جوق جوق تخت رب العلمین کی طرف عدالت کے لیے آؤ گے۔ افواجا کے معنی کی قرآن مجید میں بہت جگہ تشریح آئی ہے۔ ایک جگہ آیا ہے یوم یحشر اعداء اللہ الی النار فھم یوزعون ایک جگہ ہے واذا النفوس زوجت ایک جگہ ہے یوم ندعوا کل اناس بامامہم اور احادیث میں بھی تفصیل و تشریح بہت کچھ ہے۔ پس نیکوں کی جدا جماعت ہوگی۔ بدوں کی جدا۔ پھر نیکوں میں سے نمازیوں کی جدا۔ صدقات و خیرات دینے والوں کی جدا۔ صابروں کی جدا تو شاکروں کی جدا۔ رات میں چھپ کر عبادت کرنے والوں کی جدا۔ مجاہدین کی جدا۔ اشاعت علم و دین کرنے والوں کی جدا۔
بدوں میں مشرکوں کی جدا۔ پھر مشرکوں میں سے آفتاب پرستوں کی جدا۔ اصنام پرستوں کی جدا۔ ارواح غیر مرئیہ سے مدد مانگنے والوں کی جدا ٗ توہمات پرستوں کی جدا۔ حضرات انبیاء و اولیاء (علیہم السلام) کے پوجنے والوں کی جدا۔ ملائکہ کے پوجنے والوں کی جدا۔ جنوں بھوتوں سے مدد مانگنے والوں کی جدا۔ پھر زناکاروں کی جدا تو ظالموں کی جدا۔ دغا بازوں ٗ جھوٹ بولنے والوں ٗ کم تولنے والوں کی جدا جماعت ہوگی۔ ہر ایک جماعت کا نشان ہوگا اور اس پر لکھا ہوگا کہ یہ فلاں جماعت ہے۔ ہر ایک جماعت عدالت میں حاضر ہوگی اور اپنے اعمال کا بدلہ پاوے گی۔
اس کے بعد صور اول کی کیفیات بیان فرماتا ہے (3) وفتحت السماء فکانت ابوابا اور آسمان کھولے جاویں گے تو اس میں دروازے ہوجاویں گے۔ اس کے معنی میں مفسرین کے کئی اقوال ہیں۔ اول یہ کہ صور پھونکنے سے آسمان میں دراڑیں پڑجاویں گی۔ جن کو دروازوں سے تعبیر کیا ہے اور یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی مستحکم گول چھت گرتی ہے تو پہلے اس میں دراڑیں پڑجاتی ہیں۔ دوم یہ کہ ملائکہ کے لشکر نازل ہونے کے لیے جو دنیا کے خراب کرنے کو آئیں گے۔ آسمان میں بہت دروازے ہوجاویں گے۔ یہ دنیا کی چھت گرنے کا حال تھا جس کو سبعا شداداً سے تعبیر کیا تھا۔ اس کے بعد فرش کے اٹھائے جانے کا حال بیان فرماتا ہے (4) و سیرت الجبال فکانت سرابا کہ پہاڑ اڑائے جاویں گے اور ریزہ ریزہ ریتے کی مانند ہوجاویں گے۔ یہ وہ پہاڑ تھے جو زمین کی میخیں تھیں پھر جب وہ نہ ر ہے تو زمین کہاں ؟ ان دونوں کے ضمن میں باقی اور چیزوں کی فنا بھی بیان ہوگئی۔ کس لیے کہ جب آسمان و زمین نہ رہیں گے تو ان کے اندر رہنے والے کہاں ؟
اس کے بعد پھر صور دوم کے بعد کے حالات بیان فرماتا ہے جو دربار الٰہی میں پیش ہونے کے بعد ظاہر ہوں گے۔ سب سے اول بدوں کے حالات بیان فرماتا ہے جو دنیا میں اس دن کو بھول بیٹھے تھے اور شہوت و لذات میں فریفتہ ہو کر حق سبحانہ سے باغی ہوگئے تھے۔ اب دربارِ الٰہی اور عدالت ربانی سے ان کے لیے کیا حکم ہوتا ہے۔ فقال (5) ان جہنم کانت مرصاواً اللطاغین مآبا کہ جہنم سرکشوں یعنی بدکاروں ٗ مشرکوں ٗ کافروں کی تاک میں ہوگی۔ منتظر ہوگی کہ کب میرے منہ کا لقمہ ہوتے ہیں۔ آخر اس میں ڈالے جاویں گے اور یہی ان کا ٹھکانا ہوگا اور ٹھکانا بھی ایک دو گھڑی کے لیے نہیں بلکہ (6) لابثین فیہا احقابا۔ سالہائے دراز اور قرنوں اور مدتوں اس میں جلیں گے۔ کافر و مشرک تو ابدالآباد وہاں رہیں گے اور ایماندار گنہگار ایک زمانے کے بعد نکل آئیں گے۔ افسوس حیات دنیا تو چند روزہ تھی۔ دس بیس پچاس ساٹھ ستر اسی۔ سو دو سو برس جہاں لذات و شہوات کے مزے اڑائے تھے ٗ اس کے بدلے یہاں ہزاروں ٗ لاکھوں برس بلا میں مبتلا ہونا پڑا۔ کیا برا سودا کیا اور کیا بری کمائی کرکے آئے۔ گھڑی دو گھڑی کے ایسے مزے پر پھٹکار جس کے بدلے برسوں گو ناگوں عذاب اور تکالیف بھگتنی پڑیں۔ کوئی عاقل ایسا نہیں کرے گا مگر اس جہاں میں غفلت اور شیطانی تخیلات کے پردے عقلوں پر پڑے ہوئے ہیں جن کے اٹھانے کو حضرات انبیاء (علیہم السلام) دنیا میں آئے اور کتاب الٰہی ساتھ لائے۔
پھر اس جہنم میں کیا ہوگا ؟ لایذوقون فیہا برداً اولا شرابا الا حمیما وغساقا کہ وہاں ان بدبختوں کو کوئی ٹھنڈک میسر نہ آئے گی۔ نہ ٹھنڈا پانی نہ سرد ہوا نہ سرد مکان نہ سرد لباس نہ سرد کھانے نہ ٹھنڈک دینے والی چیزیں آنکھوں کے سامنے ہوں گی۔
بعض علماء فرماتے ہیں برد سے مراد نیند ہے۔ عرب میں برد کا اطلاق نوم پر بھی ہوتا ہے کہ اس مصیبت میں ان کو نیند نہ آوے گی اور استعارہ کے طور پر چکھنے کی نفی کرکے یہ بتلا دیا کہ ذرا بھی ٹھنڈک میسر نہ آئے گی۔ دل بھر کر تو کجا نہ بدن کی ٹھنڈک ٗ نہ دل کی ٹھنڈک ٗ نہ آنکھوں کی ٹھنڈک نہ کانوں کی۔ لفظ کو عام رکھنا بہتر ہے اور شراب سے مراد پانی ہے کہ اور تو کیا جو دنیا میں ہلکی چیز ہے یعنی پانی جو قیدی اور خونی کو بھی پلا دیا جاتا ہے۔ وہاں ان کو وہ بھی نصیب نہ ہوگا بلکہ اس کے بدلے الاحمیما کھولتا ہوا پانی جو منہ جھلس دے ٗ وہ ملے گا اور کھانے کو وغساقا جہنمیوں کے زخموں کی پیپ حمیم اور غساق کے معنی میں مفسرین نے بہت کچھ کلام کیا ہے۔
اور یہ کس لیے جزا وفاقا یہ ان کا پورا بدلہ ہوگا۔ شہوت و حب جاہ و مال کی آگ جو دل میں بھڑکا کرتی تھی وہی تو یہ آگ ہے۔ اب اس سزا اور کامل جزا کے مستحق ہونے کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ ان کو یہ سزا کیوں دی گئی۔ فقال انہم کانوا لایرجون حسابا کہ وہ حساب کی توقع نہ رکھتے تھے۔ واضح ہو کہ نفس انسانیہ کو دو قوتیں عطا ہوئی ہیں۔
اول ¦ قوت نظریہ کہ حقیقت الامر کو ٹھیک ٹھیک دریافت کرے۔
دوسری ¦ قوت عملیہ کہ اس صحیح دریافت کے موجب عمل بھی کرے جن کی یہ دونوں قوتیں درست ہیں وہ سعادت مند ہیں اور جن کی یہ دونوں قوتیں فاسدہ ہیں وہ شقی ہیں۔ سو ان کفار کی قوت عملیہ کا فاسد ہونا تو اس جملہ سے بیان فرما دیا اور اسی لیے کسی گناہ کا نام نہیں لیا کہ اس کی وجہ سے ان کو یہ دن نصیب ہوا۔ حالانکہ بہت سے گناہ تھے بلکہ عموماً قوت عملیہ کا فساد ظاہر فرمایا اور وہ اس لیے کہ انسان جب اپنے اعمال پر باز پرس اور حساب کا اعتقاد نہیں رکھتا تو نفس کی خواہشوں کے پورا کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتا۔ کوئی گناہ ہو اس کے نزدیک کچھ بھی بڑی بات نہیں اور کسی نیک کام کی مشقت بھی سر پر نہیں رکھتا۔ باز پرس اور حساب ہی کا خیال انسان کو ہر ایک بدی سے روک دیتا ہے اور نیکی کو عمل میں لانے پر تحریک کرتا ہے۔ جن قوموں میں یہ اعتقاد نہیں وہ برائی میں کوتاہی نہیں کرتیں۔ نیکیوں سے دور رہتی ہیں۔ عیسائیوں میں یہ خیال پیدا ہوگیا کہ ہمارے تمام گناہوں کے عوض حضرت مسیح (علیہ السلام) کفارہ ہوگئے۔ اب ہم سے کچھ بھی بازپرس نہیں ہوگی ٗ پھر شراب خوری اور زناکاری اور عیاری کا کونسا کام ہے جو ان سے رہ گیا ہے۔
قوت نظریہ کا فساد اس جملہ سے ثابت کرتا ہے وکذبوا بآیتنا کذابا اور ہماری آیات کو عام ہے کہ آیات قرآنیہ ہوں یا آیات قدرت ہوں سب کو جھٹلایا اور خوب ہی جھٹلایا یعنی حق کے منکر اور باطل پر مصر تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رواءت و فساد میں حد سے بڑھ گئے تھے۔ اس لیے جزا وفاقا کے مستحق ہوئے۔
اس کے بعد پھر صور دوم کے بعد کے حالات بیان فرماتا ہے جو دربار الٰہی میں پیش ہونے کے بعد ظاہر ہوں گے۔ سب سے اول بدوں کے حالات بیان فرماتا ہے جو دنیا میں اس دن کو بھول بیٹھے تھے اور شہوت و لذات میں فریفتہ ہو کر حق سبحانہ سے باغی ہوگئے تھے۔ اب دربارِ الٰہی اور عدالت ربانی سے ان کے لیے کیا حکم ہوتا ہے۔ فقال (5) ان جہنم کانت مرصاواً اللطاغین مآبا کہ جہنم سرکشوں یعنی بدکاروں ٗ مشرکوں ٗ کافروں کی تاک میں ہوگی۔ منتظر ہوگی کہ کب میرے منہ کا لقمہ ہوتے ہیں۔ آخر اس میں ڈالے جاویں گے اور یہی ان کا ٹھکانا ہوگا اور ٹھکانا بھی ایک دو گھڑی کے لیے نہیں بلکہ (6) لابثین فیہا احقابا۔ سالہائے دراز اور قرنوں اور مدتوں اس میں جلیں گے۔ کافر و مشرک تو ابدالآباد وہاں رہیں گے اور ایماندار گنہگار ایک زمانے کے بعد نکل آئیں گے۔ افسوس حیات دنیا تو چند روزہ تھی۔ دس بیس پچاس ساٹھ ستر اسی۔ سو دو سو برس جہاں لذات و شہوات کے مزے اڑائے تھے ٗ اس کے بدلے یہاں ہزاروں ٗ لاکھوں برس بلا میں مبتلا ہونا پڑا۔ کیا برا سودا کیا اور کیا بری کمائی کرکے آئے۔ گھڑی دو گھڑی کے ایسے مزے پر پھٹکار جس کے بدلے برسوں گو ناگوں عذاب اور تکالیف بھگتنی پڑیں۔ کوئی عاقل ایسا نہیں کرے گا مگر اس جہاں میں غفلت اور شیطانی تخیلات کے پردے عقلوں پر پڑے ہوئے ہیں جن کے اٹھانے کو حضرات انبیاء (علیہم السلام) دنیا میں آئے اور کتاب الٰہی ساتھ لائے۔
پھر اس جہنم میں کیا ہوگا ؟ لایذوقون فیہا برداً اولا شرابا الا حمیما وغساقا کہ وہاں ان بدبختوں کو کوئی ٹھنڈک میسر نہ آئے گی۔ نہ ٹھنڈا پانی نہ سرد ہوا نہ سرد مکان نہ سرد لباس نہ سرد کھانے نہ ٹھنڈک دینے والی چیزیں آنکھوں کے سامنے ہوں گی۔
بعض علماء فرماتے ہیں برد سے مراد نیند ہے۔ عرب میں برد کا اطلاق نوم پر بھی ہوتا ہے کہ اس مصیبت میں ان کو نیند نہ آوے گی اور استعارہ کے طور پر چکھنے کی نفی کرکے یہ بتلا دیا کہ ذرا بھی ٹھنڈک میسر نہ آئے گی۔ دل بھر کر تو کجا نہ بدن کی ٹھنڈک ٗ نہ دل کی ٹھنڈک ٗ نہ آنکھوں کی ٹھنڈک نہ کانوں کی۔ لفظ کو عام رکھنا بہتر ہے اور شراب سے مراد پانی ہے کہ اور تو کیا جو دنیا میں ہلکی چیز ہے یعنی پانی جو قیدی اور خونی کو بھی پلا دیا جاتا ہے۔ وہاں ان کو وہ بھی نصیب نہ ہوگا بلکہ اس کے بدلے الاحمیما کھولتا ہوا پانی جو منہ جھلس دے ٗ وہ ملے گا اور کھانے کو وغساقا جہنمیوں کے زخموں کی پیپ حمیم اور غساق کے معنی میں مفسرین نے بہت کچھ کلام کیا ہے۔
اور یہ کس لیے جزا وفاقا یہ ان کا پورا بدلہ ہوگا۔ شہوت و حب جاہ و مال کی آگ جو دل میں بھڑکا کرتی تھی وہی تو یہ آگ ہے۔ اب اس سزا اور کامل جزا کے مستحق ہونے کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ ان کو یہ سزا کیوں دی گئی۔ فقال انہم کانوا لایرجون حسابا کہ وہ حساب کی توقع نہ رکھتے تھے۔ واضح ہو کہ نفس انسانیہ کو دو قوتیں عطا ہوئی ہیں۔
اول ¦ قوت نظریہ کہ حقیقت الامر کو ٹھیک ٹھیک دریافت کرے۔
دوسری ¦ قوت عملیہ کہ اس صحیح دریافت کے موجب عمل بھی کرے جن کی یہ دونوں قوتیں درست ہیں وہ سعادت مند ہیں اور جن کی یہ دونوں قوتیں فاسدہ ہیں وہ شقی ہیں۔ سو ان کفار کی قوت عملیہ کا فاسد ہونا تو اس جملہ سے بیان فرما دیا اور اسی لیے کسی گناہ کا نام نہیں لیا کہ اس کی وجہ سے ان کو یہ دن نصیب ہوا۔ حالانکہ بہت سے گناہ تھے بلکہ عموماً قوت عملیہ کا فساد ظاہر فرمایا اور وہ اس لیے کہ انسان جب اپنے اعمال پر باز پرس اور حساب کا اعتقاد نہیں رکھتا تو نفس کی خواہشوں کے پورا کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتا۔ کوئی گناہ ہو اس کے نزدیک کچھ بھی بڑی بات نہیں اور کسی نیک کام کی مشقت بھی سر پر نہیں رکھتا۔ باز پرس اور حساب ہی کا خیال انسان کو ہر ایک بدی سے روک دیتا ہے اور نیکی کو عمل میں لانے پر تحریک کرتا ہے۔ جن قوموں میں یہ اعتقاد نہیں وہ برائی میں کوتاہی نہیں کرتیں۔ نیکیوں سے دور رہتی ہیں۔ عیسائیوں میں یہ خیال پیدا ہوگیا کہ ہمارے تمام گناہوں کے عوض حضرت مسیح (علیہ السلام) کفارہ ہوگئے۔ اب ہم سے کچھ بھی بازپرس نہیں ہوگی ٗ پھر شراب خوری اور زناکاری اور عیاری کا کونسا کام ہے جو ان سے رہ گیا ہے۔
قوت نظریہ کا فساد اس جملہ سے ثابت کرتا ہے وکذبوا بآیتنا کذابا اور ہماری آیات کو عام ہے کہ آیات قرآنیہ ہوں یا آیات قدرت ہوں سب کو جھٹلایا اور خوب ہی جھٹلایا یعنی حق کے منکر اور باطل پر مصر تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رواءت و فساد میں حد سے بڑھ گئے تھے۔ اس لیے جزا وفاقا کے مستحق ہوئے۔
اس کے بعد یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ہم نے ان کی شقاوت کے اصول بیان کردیے ورنہ جزئیات اعمال اور ہر ایک بات جو وہ کرتے تھے اور ہر ایک اعتقاد باطل جس کے وہ پابند تھے۔ وہ بھی ہمیں سب معلوم ہیں کس لیے و کل شیئٍ احصیناہ کتابا کہ ہر شے کو ہم نے گھیر رکھا ہے۔ ہر ایک چیز ہمارے احاطہ علم میں ہے اور علم بھی کیسا کہ اس کو دفتر غیب میں لکھ رکھا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ جزئیات کا علم بتفاصیلہا وخصوصیاتہا و کیفیاتہا وکمیاتہا حق سبحانہ کو حاصل ہے۔ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جس طرح ان کے اعمال و اقوال و اعتقادات ایک ایک ہم کو معلوم ہیں۔ اسی طرح ہر ایک کے مناسب وقتاً فوقتاً جو جو سزائیں ہوں گی وہ بھی ہم کو معلوم ہیں۔ اس لیے جزائِ وفاق دیا جانا صحیح ہے۔ گویا اس جزائِ وفاق کی یہ بھی ایک دلیل ہے جس میں ضمناً منکروں کے شبہ کا بھی رد ہے کہ خدا کو ہمارے ہر روز کے کام اور خیالات کیونکر معلوم ہیں اور معلوم ہیں تو اس وقت کیونکر یاد رہیں گے۔ پھر جب یہ نہیں تو جزاء وفاق کا دعویٰ غلط ہے۔ خلاصہ جواب یہ ہے کہ ہم کو ہر شے معلوم ہے اور معلوم بھی کس طرح کہ ہم نے اس کا احصاء کرلیا ہے جو کمال علمی اور علم کا اعلیٰ مرتبہ ہے اور احصاء بھی اس قسم کا ہے کہ وہ دفتر غیب میں درج ہے۔ جہاں نسیان و ذہول کا گزر بھی ممکن نہیں۔ وہ کچھ ایسا لکھنا نہیں کہ جیسا دنیا کے دفتروں میں قلم سے کاغذ پر لکھا جاتا ہے جس میں تلف ہوجانے کا خطرہ باقی رہتا ہے بلکہ وہ ایک ثبوت علمی ہے اور عالم غیب میں چھپ جانا اور نقش ہوجانا ہے اور وہ لوح علمی ہمیشہ اس کے حضور میں رہتی ہے۔
جب یہ ہے تو ہر ایک عمل بد اور قول بد اور اعتقاد فاسد پر ہم وقتاً فوقتاً ایک سزا اس کے مناسب دیں گے۔ فلن نزید کم الا عذابا اور یہ بھی ہے کہ جوں جوں بیمار کا زمانہ مرض دراز ہوتا جاتا ہے ٗ تکلیف پر تکلیف بڑھتی جاتی ہے۔ اسی طرح جہنمیوں کے عذاب کی کیفیت ہوگی۔ لمحہ بہ لمحہ عذاب اور دکھ بڑھتا جاوے گا اور اس میں اس طرف بھی تعریض ہے کہ اے منکر و ‘ بد کارو ‘ جس طرح باوجود پند و نصیحت کے تم دم بدم سرکشی اور بدی میں بڑھتے جاتے ہو ٗ آگے ہی پائوں رکھتے ہو پیچھے نہیں ہٹاتے۔ اسی طرح تمہیں دم بدم عذاب زیادہ ہوتا جاوے گا۔ کس لیے کہ ہم کہہ چکے ہیں جزاء وفاقا اعمال کے موافق جزا دی جاوے گی فلن نزیدکم جو فا کے ساتھ کلام صادر ہوا گویا اسی تمام کلام سابق کو مدلل کرکے نتیجے کے طور پر ثابت کردیا۔ یہ کمال بلاغت ہے۔
Ayahs 78:31–37ترکیب ¦ مفازا اسم ان وللمتقین خبرھا والمفاز مصدر میمی بمعنی الفوز والظفر بالمطلوب والنجاۃ من الھلاک ولذا یطلق المفازۃ علی الفلاۃ 1 ؎ تفاولاً بالخلاص منھا وقیل الفوز النجاۃ والھلاک ایضا فا طلاق المفازۃ علی الافلاۃ حقیقی حدائق بدل من مفازاً بدل الاشتمال اوبدل الکل علی طریق المبالغۃ وھی جمع حدیقۃ ہی کل بستان 2 ؎ محوط علیہ من قولھم احد قوابہ ای احاطوابہ وکذا واعنابا معطوف علی حدائق وھی جمع عنب (انگور) وکواعب عطف علی اعناباوھی جمع کا عبۃ وھی الناہدۃ 3 ؎ التی تکعب ثدیہا ای استدرات مع ارتفاع اترا باصفۃ کو اعب وھی جمع ترب بالکسر ھمزا ویقال ھذہ ترب ھذہ دھن اتراب صراح وکاسا موصوف دھا قاصفۃ عطف علی کو اعب الک اس جام باشراب مونث جمعہ کو ئوس۔ واذالم تکن فیھا خمر فلیس بک اس دھاق بالکسر جام پر ادھاق پر کردن جام۔ اوبر ریختن آب را (صراح) لایسمعون الجملۃ حال من لضمیر فی خبران ویجوزان یکون مستانفاوالضمیر فی فیھا یرجع الی الک اس ای لایجری بینھم لغو فی الک اس التی یشربونھا بخلاف کاس الدنیا وقیل یرجع الی الجنۃ ای لایسمعون فی الجنۃ مایکرھونہ کذابا التخفیف ای کذبا وبالتشدید ای تکذیبا من واحد لغیرہ بخلاف مایقع فی الدنیا عند شرب الخمر جزاء منصوب علی انہ مصدر ای جازاھم جزاء من ربک صفۃ لہ عطا بدل منہ حسابا مصدر اقیم مقام الوصف ادھاق علی مصدریۃً مبالغۃ اوھو علی حذف مضاف وفی معناہ کلام طویل قیل معناہ کافیا ماخوذ من قولھم اعطانی ما احسبنی ای ماکفانی وقیل معناہ بقدر ماو جب لہ فیما وعدہ من الاضعاف ماخوذ من قولھم حسبت الشیء اذا اعددتہ وقدرتہ وقیل معناہ کثیرا۔ والاول ارحج وفی القاموس حسبک درھم کفاک وشیء حساب کاف ومنہ عطا حسابا رب المسموٰات الخ بالرفع علی الابتداء وفی خبرہ وجہان احدھما الرحمن فیکون ما بعدہ خبرآ آخرا اومستانفا والثانی الرحمن نعمت ولا یملکون الخبر ویجوزان یکون رب خبر مبتداء محذوف ای ھو رب لسموات الرحمن وما بعد مبتداء وخبر ویقراء رب والرحمن بالجر بدلا من ربک لایملکون الجملۃ مستانفۃ لما تفیدہ الربوبیۃ العامۃ من العظمۃ والکبریاء۔
تفسیر ¦ دارِ آخرت میں اشرار و بدکاروں کی جو حالت ہوگی اس کو بیان کرکے ابرار و صلحاء کا حال بیان فرماتا ہے تاکہ بیان پورا ہوجاوے یا یوں کہو کہ بدکاروں کے حق میں بیان فرماتا تھا کہ ان کو عذاب دم بدم زیادہ ہوگا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پرہیزگاروں کو جوہر دن نئے عیش و کامرانی میں دیکھیں گے اور بھی دل جلیں گے گویا یہ روحانی عذاب ہوگا۔ اس لیے پرہیزگاروں کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ان للمتقین مفازا کہ ضرور بالضرور پرہیزگاروں کو وہاں ہر طرح کی کامیابی اور سعادت اور حیات جاودانی اور کامرانی حاصل ہے۔ اس میں کچھ شبہ نہ کرنا چاہیے ٗ متقی کون ہے ؟ جو عقائد درست کرنے کے بعد بری چیزوں سے بچے اور جن کا حکم ہے ان کو کرے۔ پھر تقویٰ کے چند مراتب ہیں۔ اول مرتبہ توحید اور ایمان ہے۔ اس مرتبہ میں ہر مومن متقی ہے۔ گو وہ گنہگار ہی کیوں نہ ہو۔ دوم مرتبہ ایمان کے بعد اعمال صالحہ کو عمل میں لانا ‘ برے افعال سے بچنا۔ اس مرتبہ میں گنہگار ایماندار کو متقی لکھا جاوے گا۔ جب تک کہ کبائر سے نہ بچے اور فرائض و واجبات کا پابند نہ ہو۔ تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ ماسویٰ اللہ کسی کی محبت اس کے دل پر نہ ہو۔ یہ اولیاء اللہ کا مرتبہ ہے اور تقویٰ کا انتہا درجہ ہے کہ ماسواء اللہ کوئی چیز ان کے قلوب صافیہ تک نہیں پہنچتی۔ وہ اس کے سوا سب سے بچتے ہیں۔ قرآن مجید میں لفظ متقی کو مطلق رکھا ہے کیا تعجب ہے کہ اس کی رحمت گنہگارو ایمانداروں کو بھی مفاز یعنی کامیابی سے حصہ دے۔
جس طرح متقی میں اطلاق تھا اسی طرح مفازا میں بھی کوئی تخصیص نہیں بلکہ ہر قسم کی کامیابی مراد ہے۔ روحانی ہو یا جسمانی لیکن کی عام رغبتیں ان چند چیزوں کی طرف زیادہ ہوتی ہیں اس لیے اس کامیابی کے خزانے میں سے ان چند جواہر 1 ؎ کو بیان فرماتا ہے۔ فقال حدائق باغ رہنے کو ملیں گے۔ زبان عرب میں حدیقہ اس باغ کو کہتے ہیں جس کی چار دیواری ہو اور ہم جلیسوں اور یاروں کے ساتھ اسی میں رہنے سے لطف بھی ہوتا ہے۔ یہ وہ باغ ہیں جو دنیا میں توحید و ایمان سے لگائے تھے اور اعمال صالحہ سے سینچے گئے تھے اور معارف سے آراستہ کئے گئے تھے۔ یہ لفظ بھی عام تھا ٗ باغ کہنے میں جو کچھ نعمتیں باغوں میں ہوتی ہیں سب ہی آگئی تھیں۔ پر کوئی یہ نہ سمجھے کہ ان باغوں میں شاید وہ چیزیں نہ ہوں جو ہم کو مرغوب ہوتی ہیں اور نئی قسم کی چیزیں ہوں۔ دنیا میں اقالیم کے لحاظ سے باغوں کا حال مختلف ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ دوسرے جہاں کے باغ اس لیے اپنی مہربانی سے اس خطرہ کو بھی دور کرتا ہے اور ان باغوں میں جو دل پسند چیزیں ہوں گی ان کا ذکر فرماتا ہے۔ فقال واعنابا 2 ؎ وہاں انگور بھی بکثرت اور عمدہ ہوں گے۔ انگور ایک ایسا میوہ ہے جو غذا کا کام بھی دے سکتا ہے اور اس سے شراب بنتی ہے اور نیز باغ میں انگور ٹٹیوں پر ہوتا ہے۔ اس کا سایہ اور بھی لطف دیتا ہے۔ اس عمدہ باغ میں جہاں کھانے پینے کے یہ سامان ہوں اگر ماہ روہم نشین نہ ہوں تو کچھ بھی لطف نہیں۔ اس لیے فرماتا ہے وکواعب اترابا کہ وہاں نوجوان عورتیں بھی ہوں گی جن کی جوانی کی پستان ابھی ابھری ہوں گی یہ نوعمری اور سادگی معشوقوں میں اور بھی لطف تازہ کرتی ہے۔ پھر ان کی نو عمری اور نئی جوانی کے ساتھ اگر اہل جنت بڑی عمر کے ہوں تو بھی لطف نہ ہو۔ انسان اپنے ہم عمروں سے رغبت کیا کرتا ہے اور وہیں اس کا دل کھلتا ہے۔ نوجوان لڑکی بوڑھے مرد سے کبھی لطف صحبت نہیں پاتی۔ اس لیے اترا با کا لفظ بھی ارشاد فرما دیا کہ یہ متقی بھی ان کے ہم سن یعنی نوجوان ہوں گے۔ پھر یہ سب کچھ ہو اور دل میں حجاب ہو اور چوچلے اور اچھل کود نہ ہو تو سوئی سوئی سی صحبت رہتی ہے۔ اس لیے اس کا بھی سامان کردیا جائے گا۔ وکاسادھاقا کہ جام شراب کے دور چلیں گے جن سے ایک فرحت و سرور تازہ ہوگا۔ دہاق کے معنی بھرے ہوئے کے بھی ہیں یعنی لبریز پیالے اس سے اور بھی لطف ہوتا ہے اور پے در پے کے یہی معنی ہیں کہ یکے بعد دیگر اس جام کا تسلسل جاری رہے گا۔ یہ وہ شراب محبت الٰہی ہے جو دنیا میں ساقی کوثر کے میخانے سے عطا ہوئی تھی۔
1 ؎ فلاۃ صحرا خالی از آب و خورش۔ 12 منہ 2 ؎ وہ باغ جس کی دیوار نہ ہو۔ 12 منہ
3 ؎ یعنی پستان ابھری ہوئی۔ 12 منہ 4 ؎ ہم سن و ہم عمر۔ 12 منہ
شراب کے ساتھ اگر اس کی خرابیاں بھی ہوں جیسا کہ دنیا کی شراب میں ہوتی ہیں۔ بیہوشی اور درد سر اور اہل مجلس کی بیہودہ بکواس یا مارپیٹ تو کچھ بھی مزہ نہیں۔ اس لیے فرماتا ہے لایسمعون فیہا لغوا ولاکذابا کہ وہاں ایذا اور مارپیٹ تو کیا کوئی لغو بات سننے میں نہ آئے گی اور نہ جھوٹی بات۔ نہ کوئی دل کو رنج دینے والی بات کہ اس کو کوئی جھٹلاوے اور رنج ہو۔ اس میں اشارہ ہے کہ علم و ادراک اور اخلاق پر کوئی برا اثر پیدا نہ ہوگا۔ یہ دنیا کی شراب محبت الٰہی کا ظہور ہے جس کے نشے میں احوال و مقامات کے ابکار اور ان کے ثمرات کے پھل کھاتے اور وقار و تہذیب کو عمل میں لاتے ہیں۔ دنیا کی شراب اور یہاں کی اور نعمتوں اور آخرت کی شراب اور وہاں کی نعمتوں میں شرکت اسمی ہے
1 ؎ جس میں سے چند جواہر بیان فرماتا ہے جام شراب کے دو چلے گئیں یکے بعد دیگر اس جام کا تسلسل جاری رہے گا یہ وہ شراب محبت الٰہی ہے جو دنیا میں ساقی کوثر کے مے خانہ سے عطا ہوئی تھی۔ حقانی۔ 12
2 ؎ حضرت مسیح ( علیہ السلام) کے قول سے بھی جنت میں انگور کا شیرہ پینا ثابت ہے پھر عیسائی کیوں کہتے ہیں کہ وہاں لذات جسمانیہ نہیں۔ 12 منہ
ورنہ ان کی حقیقت اور ان کی اور ” چہ نسبت خاک را با عالم پاک “ یہاں کی فانی اور ظلمانی چیزوں پر نام کی شرکت سے وہاں کی چیزوں کا قیاس کرکے اعتراض کرنا بےفہمی ہے۔ اس لیے فرماتا ہے جزاء من ربک کہ یہ سب نعمتیں بدلہ ہیں۔ بندوں کے اعمال و عقائد و معارف کا تیرے رب کی طرف سے اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو یہاں بوئے گا وہی وہاں کاٹے گا جیسا کرے گا ویسا پاوے گا بغیر تقویٰ اختیار کئے ان نعمتوں کی ہوس کرنا اور اپنی اضافی نسبتوں کو وسیلہ سمجھنا کہ ہم فلاں کی اولاد ‘ فلاں کے شاگرد ‘ فلاں کے مرید ہیں کچھ مفید نہیں۔ اب دنیا میں متقی بننے کی راہیں کھلی ہوئی ہیں۔
کوشش کرو اور تقویٰ کا سرمایہ حاصل کرو۔ جزا کو رب کی طرف سے کہنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ گو اعمال کی جزا ہے مگر جزا بھی کسی تنگ دل تنگ حوصلہ شخص کی طرف سے نہیں بلکہ اے محمد ﷺ تیرے رب یعنی پرورش کرنے والے کی طرف سے جس کی بخشش اور جود کے دریا رواں ہیں جو ایک ذرا سے کام کے بدلے میں سینکڑوں حصہ بڑھ کر دے گا اور اس دنیا کی چند روزہ کوشش میں نعمائِ باقیہ و صافیہ عطا فرماوے گا۔ اس لیے فرماتا ہے عطاء کہ یہ سب کچھ گو جزا یا اعمال کے بدلے میں ہے مگر اس قدر اور ایسی چیزیں دراصل عطا یعنی بخشش ہے اور بخشش بھی کیسی حسابا کافی اور پوری اور بہت کچھ اور یہ اس لیے کہ یہ انعام و افضال اس کی طرف سے ہیں جو رب السموات والارض وما بینہما آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر کی چیزوں کا پرورش کرنے والا ہے۔ ہر ایک چیز کو بغور دیکھے تو اس کے وجود اور ذات اور اس کے بقاء میں سینکڑوں عنایات ہیں۔ بغیر کسی سابقہ واسطہ یا عمل کے۔ درختوں کو پتے عطا فرمائے۔ ان کی جڑوں میں زمین سے غذا حاصل کرنے کی قوت دی۔ پھر رنگا رنگ کے پھول دیے جو نہایت خوشنما ہیں جن کے نقل کرنے میں بڑے بڑے صناع اور کاریگر نقاش حیران ہیں۔ پھر جب اس عالم میں بےکسی عمل اور کوشش کے اس نے ہر ایک شے پر یہ عطا و فضل کیا تو اس جہاں میں اس کی عطا کا کیا ٹھکانا ہے جس کے لیے ذراسا عمل کا ہی بہانہ ہے۔
اب یہ شبہ کرنا کہ نعمائِ آخرت کو جزاء کہنا جو بدلہ ہوتا ہے اور پھر اس کو عطا کہنا جو بےبدل ہوتی ہے تعارض ہے۔ محض کم فہمی ہے۔ جزا اور لحاظ سے ہے تو عطا اور لحاظ سے۔
رب السموات الخ کے بعد اور بھی صفت جود کا اظہار کرتا ہے۔ الرحمن کہ وہ عطا کس کی طرف سے ہے۔ رحمن کی طرف سے جس کی رحمت کا کچھ حساب نہیں۔ ہر ذرہ پر بیشمار رحمتیں ہیں جن کا کسی کو بھی استحقاق نہیں لایملکون منہ خطابا اور کوئی اپنے استحقاق کی بابت اس سے کچھ بھی نہیں کہہ سکتا جس کو جو کچھ دیا محض فضل ہی فضل ہے جس کو نہیں دیا وہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ چیزیں مجھے کیوں نہیں دیں کیونکہ اس کو کسی کا دینا نہیں آتا جو وہ اپنا حق جتلاوے اور گلہ کرے۔ فائدہ : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ لایملکون کی ضمیر کفار کی طرف پھرتی ہے کہ کفار قیامت میں اس سے کچھ کلام نہ کرسکیں گے یعنی وہ متقیوں پر رحمن ہوگا ان کو شرف کلام حاصل ہوگا مگر یہ نعمتیں دیکھ کر کفار کو اس کی ہیبت و جبروت دیکھ کر کلام کرنے کی قدرت نہ ہوگی مگر اول معنی بہت ٹھیک ہیں اور اس جملہ سے شفاعت کا انکار نہیں ثابت ہوتا۔ کس لیے نفی جو ہے تو استحقاق جتلانے میں کلام کرنے کی ہے اور شفاعت میں استحقاق نہیں جتلایا جاتا بلکہ وہ بھی فضل و کرم پر موقوف ہے اور فضل و کرم کا دروازہ بڑا وسیع ہے۔ ہر مومن اس سے وہاں کلام کرے گا بلکہ عذر و معذرت کے لیے کفار بھی کلام کریں گے۔ صرف نفی کلام استحقاقی کی ہے حاصل یہ ہے کہ رحمن بھی ہے اور اس کے ساتھ یہ ہیبت و جبروت بھی ہے کہ کوئی بات نہیں کرسکتا بےاذن کے۔