An-Naba 78:10

An-Naba · from ayah 10

78:10

وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا ۟ۙوَّجَعَلۡنَا الَّيۡلَ لِبَاسًا

اور رات کو پردہ مقرر کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And made the night as clothing

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naba

All translations of 78:10

اور رات کو پردہ مقرر کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور رات کو ہم نے پرده بنایا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور رات کو پردے کا سبب ہم نے بنایا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور رات کو پردہ پوش کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے رات کو (اس کی تاریکی کے باعث) پردہ پوش بنایا (ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے رات کو لباس بنایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور رات کو پردہ پوش بنایا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

رات کو تمہارے لئے پردہ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم ہی نے بنایا رات کو ایک عظیم الشان لباس

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم ہی نے رات کو پردہ کی چیز بنادیا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور رات کو ہم نے بنا دیا ڈھانپ لینے والی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور رات کو پردہ مقرر کیا

— محترمہ رفعت اعجاز

and made the night a covering,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and made the night a covering,

— Muhammad Taqi Usmani

and made the night a covering,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We have made the night as a covering,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And have appointed the night as a cloak,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And made the night as clothing

— Saheeh International

made the night as a covering,

— Muhammad Sarwar

And We made the night to be a covering,

— Muhammad Habib Shakir

And We have made the night a covering.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 78:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–16

پہاڑیوں کی تنصیب، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں ؟ پھر خود فرماتا ہے کہ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے۔ حضرت قتادہ اور ابن زید نے اس نبا عظیم (بہت بڑی خبر) سے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا مراد لیا ہے۔ مگر حضرت مجاہد سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 10–11

سورة النَّبَا 8 یعنی رات کو اس غرض کے لیے تاریک بنادیا کہ اس میں تم روشنی سے محفوظ رہ کر زیادہ آسانی کے ساتھ نیند کا سکون حاصل کرسکو، اور دن کو اس مقصد سے روشن بنایا کہ اس میں تم زیادہ سہولت کے ساتھ اپنی معاش کے لیے کام کرسکو۔ زمین پر باقاعدگی کے ساتھ مسلسل رات اور دن کا الٹ پھیر کرتے رہنے کے بیشمار فوائد میں سے صرف اس ایک فائدے کی طرف اشارہ یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ یہ سب کچھ بےمقصد، یا اتفاقاً نہیں ہو رہا ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑی حکمت کام کر رہی ہے جس کا براہ راست تمہارے اپنے مفاد سے گہرا تعلق ہے۔ تمہارے وجود کی ساخت اپنے سکون و راحت کے لیے جس تاریکی کی طالب تھی وہ رات کو، اور اپنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–10

نیند بہت بڑی نعمت ہے یہاں حق تعالیٰ نے انسان کو جوڑے جوڑے بنانے کا ذکر فرمانے کے بعد اس کی راحت کے سب سامانوں میں سے خاص طور پر نیند کا ذکر فرمایا ہے۔ غور کیجئے تو یہ ایک ایسی عظیم الشان نعمت ہے کہ انسان کی ساری راحتوں کا مدار یہی ہے اور اس نعمت کو حق تعالیٰ نے پوری مخلوق کے لئے عام ایسا فرما دیا ہے کہ امیر، غریب، عالم، جاہل بادشاہ اور مزدور سب کو یہ دولت یکساں بیک وقت عطا ہوتی ہے، بلکہ دنیا کے حالات کا تجزیہ کریں تو غریبوں اور محنت کشوں کو یہ نعمت جیسی حاصل ہوتی ہے وہ مالداروں اور دنیا کے بڑوں کو نصیب نہیں ہوتی، ان کے پاس راحت کے سامان، راحت کا مکان، ہوا اور سردی گرمی کے اعتدال کی جگہ، نرم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا‘۔ رات کو تمہارے لیے لباس بنایا۔ رات کے لباس ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح لباس آدمی کو اپنے اندر چھپا لیتا اور سکون و اطمینان بخشتا ہے اسی طرح شب کی چادر بھی اس کو اپنے اندر چھپا لیتی ہے جس سے وہ خلل انداز ہونے والی چیزوں سے محفوظ ہو کر سکون حاصل کرتا اور ازسرنو میدان عمل میں اترنے کے لیے صلاحیت بہم پہنچاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 یعنی رات کا اندھیرا اور سیاہی ہر چیز کو اپنے دامن میں چھپا لیتی ہے، جس طرح لباس انسان کے جسم کو چھپا لیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–23

2: اصل عربی لفظ ”احقاب“ ہے جو ”حقبة“ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو استدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ مثلاً دیکھئے سورة مائدہ : 37۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–11

وجعلنا ........................ معاشا (9:78 تا 11) ” اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا ، اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا “۔ اللہ کی مہربانیوں پر ذرا غور کریں کہ اس نے انسانوں کو سکون اور تازگی عطا کرنے کے لئے نیند کی تخلیق کی۔ یہ نیند جب انسان پر طاری ہوتی ہے تو ایک وقت کے لئے اس کی قوت مدرکہ اور قوت عمل کو موقوف کردیتی ہے۔ اس وقفے میں انسان ایک ایسی حالت میں چلا جاتا ہے کہ جسے نہ حالت موت کہا جاسکتا ہے اور نہ حالت حیات۔ اس حالت میں جانے سے انسانی جسم اور اعصاب کی تمام تھکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔ اور وہ تازہ دم ہوکر اور از سرنو پیدا ہوکر زندگی کی جدوجہد اور مشغولیات اپنا لیتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 جیسے آدمی کپڑا اوڑھ کر اپنے بدن کو چھپا لیتا ہے۔ اسی طرح رات کی تاریکی مخلوق کی پردہ داری کرتی ہے اور جو کام چھپانے کے لائق ہوں عموماً رات کے اندھیرے میں کئے جاتے ہیں۔ اور حسی طور پر بھی شب کو کپڑا اوڑھنے کی ضرورت دن سے زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ نسبتاً وہ وقت خنکی اور ٹھنڈک کا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 7–13

{ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ } ”اور پہاڑوں کو میخیں ؟“ زمین کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پہاڑوں کو اس میں میخوں کی طرح گاڑ دیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 آرام کے لیے رات :۔ رات دن کی نسبت ٹھنڈی بھی ہوتی ہے اور تاریک بھی اور یہ دونوں باتیں نیند کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ دن کو بھی جب کسی وقت انسان کو سونے کی حاجت محسوس ہوتی ہے تو وہ کوئی تاریک گوشہ تلاش کرتا ہے۔ آنکھوں پر کپڑا رکھ لیتا ہے اور بسا اوقات رات کو بھی اسی غرض سے کپڑا اوڑھ لیتا ہے کہ اسے گہری نیند کا لطف میسر ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 10–11

5۔ حیات کی ابتدائی صورتوں میں، یعنی نباتات اور ادنی درجہ کے حیوانات میں تو غذا کا حاصل کرنا مخصوص ہی ہے دن کی روشنی کے ساتھ۔ رہا انسان تو اس کے بھی معاشی مشاغل کا عام اور اکثری وقت دن ہی کا اپنی تاریکی کی چادر سے ڈھانپ لیتی ہے۔ لباس کے معنی آرام وتسکین خاطر کے بھی کئے گئے ہیں۔ لباسا اے سکنا (ابن قتیبۃ) رات کا وقت جو خاطر کائنات نے انسان کے تھکے ہوئے جسم اور دماغ کے لئے سکون و راحت کا اور عبادات خلوت کا وقت بنایا ہے۔ ” روشن خیال “۔ ” مہذب “۔ دنیانے عین اسی کو اپنے تعیشات اور نفس پرستیوں کے لئے مخصوص کرلیا ہے۔ سینما اور تھیٹر اور ہال اور آپیراوغیرہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–13

نیند بہت بڑی نعمت ہے : اللہ تعالیٰ نے عورت و مرد کے جوڑے کا ذکر کرنے کے بعد جو کہ اسباب راحت میں ایک ہے، نیند کا ذکر فرمایا، اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ نیند ایک ایسی عظیم الشان نعمت ہے کہ انسان کی ساری راحتوں کا مدار اسی پر ہے اور اس نعمت کو اللہ تعالیٰ نے پوری مخلوق کے لئے ایسا عام فرما دیا ہے کہ امیر، غریب، عالم، جاہل، بادشاہ و فقیر سب کو یہ دولت یکساں اور مفت عطا ہوتی ہے، اگر دنیا کے حالات کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ غریبوں اور محنت کشوں کو یہ نعمت جیسی حاصل ہوتی ہے ویسی وہ مالداروں اور بڑے بڑے سرداروں اور بادشاہوں کو نصیب نہیں ہوتی، ان کے پاس راحت کے سامان تو ہیں مگر راحت نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و جعلنا اللیل لباسا . اور ہم نے رات کو لباس بنایا (یعنی ہمہ پوش) رات کی تاریکی ہر چیز کو چھپا لیتی ہے ‘ دیکھنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ تمام آوازوں میں سکون پیدا ہوجاتا ہے اور سونے والے آرام پاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–10

(6۔ 10) کیا ہم نے زمین کو فرش اور پہاڑوں کو زمین کی میخیں نہیں بنایا اور ہم نے ہی تمہیں مرد و عورت بنایا اور تمہارے سونے کو تمہارے جسموں کی راحت کی چیز بنایا اور ہم نے ہی رات کو سکونت یا یہ کہ پردہ کی چیز بنایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 9–11

وجعلنا نومکم سباتاً…”سباتاً“ اور ”سبت“ باب ”نصر“ اور ”ضرب“ سے مصدر ہیں، راحت و سکون، قطع کرنا۔ اپنی نید کو دیکھ لو جو موت کی طرح تمہاری تمام حرکات قطع کر کے تمہیں مکمل سکون کی وادی میں لے جاتی ہے۔ ہر روز مرنے اور جی اٹھنے کا یہ منظر دیکھ کر بھی تمہیں دوبارہ زندہ ہونے میں شک ہے ؟ علاوہ ازیں تمہارے جسم کی ٹوٹ پھوٹ اور تھکن دور کرنے کے لئے نیند کو راحت و سکون کا ذریعہ بنادیا۔ روشنی راحت میں خلل اندازہو سکتی تھی، اس لئے ہم نے رات کو تاریک بنادیا جو لباس کی طرح ہر چیز کو چھپا لیتی ہے۔ پھر ہماری مہربانی دیکھو کہ مسلسل رات نہیں رکھی، بلکہ روزی کی تلاش کے لے دن بنادیا۔ اگر رات ہی رہتی تو تم روزی کس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 10–11

وجعلنااللیل لباسا۔ وجعلناالنھار معاشا۔ ہم نے رات کو یوں بنایا کہ رات کی تاریکی تمہیں ڈھانپ لیتی ہے یہ طبری نے کہا ہے، ابن جبیر اور سدی نے کہا، اسے تمہارے لیے سکون کا باعث بنادیا اور دوسرے جملے میں اضمار ہے اصل میں وقت معاش تھا رزق کی تلاش میں آنے جانے کا وقت۔ اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کے ساتھ زندگی گزاری جاتی ہے، جیسے کھانے پینے اور دوسرے امور کی چیزیں اس اعتبار سے معاشا اسم زمان ہوگا، یہ بھی جائز ہے کہ وہ مصدر ہو اور عیش کے معنی میں ہو اور مضاف مقدر ہو۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–12

11۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وخلقنکم ازواجا اور ہم نے تم کو جوڑے جوڑے پیدا کیا یعنی دو ، دو ، آیت وجعلنا النہار معاشا۔ اور دن کو روزی کمانے کے لیے بنایا یعنی تم اللہ کے فضل کو تلاش کرتے رہو۔ آیت وجعلنا سراجا وہاجا۔ اور ایک جگمگاتا ہوا چراغ بنایا یعنی چمکتا ہوا۔ آیت وانزلنا من المعصرات اور ہم نے ہواؤں کو اتارا یعنی ہوا کو آیت ماء ثجاجا یعنی ایسا پانی جسے انڈیلا جائے تو وہ موسلا دھار برس پڑے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–13

پھر فرمایا کہ ہم نے تمہارے لیے نیند کو آرام کی چیز بنا دیا ضروریات زندگی حاصل کرنے کے لیے محنت اور مشقت کرتے ہو جب تھک جاتے ہو تو سو جاتے ہو نیند کرنے کی وجہ سے تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے اور تازہ دم ہو کر پھر کام کرنے کے لائق ہوجاتے ہو۔ اس مضمون کو سباتاً سے تعبیر فرمایا۔ سبات قطع یعنی کاٹنے پر دلالت کرتا ہے۔ نیند کئی اعتبار سے سبات ہے، جب کوئی شخص سو جاتا ہے تو اس کے اعضاء کی اختیاری حرکت اور مشغولیت ختم ہوجاتی ہے اور جو تھکان ہوگئی تھی وہ بھی منقطع ہوجاتی ہے۔ رات کو آرام کے لیے اور دن کو طلب معاش کے لیے بنایا راتوں کو گھروں میں آرام کرنے کے بعد دن کو باہر نکلتے ہیں اپنی اپنی حاجات پوری کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا : گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔ (ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–16

4:۔ ” اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ “۔ دنیوی نعمتوں کا بیان ہے۔ دنیوی تکلیفوں کا ذکر مقایسۃً ترک کردیا گیا ہے۔ ” مِہَادًا “ فراش، بستر۔ ” اَوْتَاد “ وتد کی جمع ہے یعنی میخیں۔ جس طرح میخوں سے کسی چیز کو محکم کردیا جاتا ہے اسی طرح پہاڑوں سے زمین کو بوجھل کر کے مستحکم کردیا گیا ہے تاکہ وہ ہل جل کر باسیوں کے لیے تشویش اور ابتری کا باعث نہ بنے۔ ” اَزْوَاجًا “ یعنی نر و مادہ۔ ” سُبَاتًا “ ترک اعمال سے راحت و آرام کا باعث۔ ” لِبَاسًا “ پردہ اور ستر۔ رات ان چیزوں کی پردہ پوشی کرتی ہے جن کو آدمی ظاہر کرنا پسند نہیں کرتا۔ ” مَعَاشًا “ ظرف زمان۔ روزی کمانے کا وقت۔ ” سَبْعًا شِدَادًا “ شدیدۃ کی جمع مضبوط اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–11

(لیل و نہار کے فوائد) فرمایا وجعلنا نومکم سباتا ہم نے تمہارے لیے نیند کو آرام کا ذریعہ بنایا۔ سات گہرے سکون اور آرام کو کہتے ہیں ۔ سکون انسان کو نیند کے ذریعے میسر آتا ہے تا کہ اس کی تھکاوٹ دور ہوجائے انسان فطری طور پر کمزور ہے جیسا فرمایا خلق الا نسان ضعیفا یعنی انسان مسلسل دو وقت تک کا م نہیں کرسکتا ۔ بلکہ وقفہ وقفہ سے آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے نیند کو پیدا کیا ۔ تاکہ جب انسان کام کاج کرکے تھک جائے تو کچھ دیر کے لیے سو جائے ، آرام کرے ۔ اور پھر تازہ دم ہو کر دوبارہ کام میں لگ جائے ۔ فرمایا وجعلنا الیل لباسا اور ہم نے رات کو انسان کے لیے بمنزلہ لباس کے بنایا جس طرح لباس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا۝ 10 ۙ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–16

ترکیب ¦ الاستفہام لتتقریر ای جعلنا الارض مفعول اول و مھادا مفعول ثان لجعلنا والجعل بمعنی الخلق وفیہ معنی التقدیر والتسوید وقیل بمعنی التصییر والمھاد جمع مھد بمعنی الفراش قراء الجمہور بالجمع وقری مفرداً اوتادا جمع وتد (میخ) وخلقناکم معطوف علی المضارع المنفی داخل فی حکم ازواجاً حال ای متجنسین متشابھین جمع زوج سباتا قال الزجاج السبات ان ینقطع عن الحرکۃ والروح فی بدنہ وحاصل المعنی الراحۃ ای جعلنا نو مکم راحۃ لکم معاشا منصوب علی الظرفیۃ المعاش مصدر میمی معنی المعیشتہ شداد جمع شدیدۃ ای قویتہ محکمۃ وھا جاوا لوہاج المضیئی من قولھم وھج الجوھرای تلا لا المعصرات فیھا قولان اولا وھواحدی الروایتین عن ابن…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–17

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا۔ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ وَّخَلَقْنٰـکُمْ اَزْوَاجًا۔ وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا۔ وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا۔ وَّجَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا۔ وَّبَنَیْنَا فَوْقَـکُمْ سَبْعًا شِدَادًا۔ وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا۔ وَّاَنْزَلْـنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَـآئً ثَجَّاجًا۔ لِّـنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَا تًا۔ وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا۔ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا۔ (النبا : 6 تا 17) (کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو گہوارہ بنایا۔ اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ اور تم کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔ اور ہم نے تمہاری نیند کو دافعِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–11

فہم القرآن ربط سورت : المرسلات میں ان لوگوں کی تردید کی گئی ہے جو قیامت کی تکذیب کرتے ہیں۔ سورت النّباء میں بتایا گیا ہے کہ قیامت بڑی ہولناک چیز ہے اور اس کا برپا ہونا ہر صورت یقینی ہے لیکن قیامت کا انکار کرنے والے اس کے باوجود اس کے بارے میں قیل وقال کرتے ہیں عنقریب ان لوگوں کو اس کی حقیقت کا علم ہوجائے گا۔ قرآن مجید کے مرکزی مضامین میں تیسرا بڑا مضمون قیام قیامت ہے جو اس دنیا کا آخری دن ہوگا۔ جس نے قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کی وہ کامیاب ہوگا اور جس نے قرآن مجید کی ہدایت سے انحراف کیا وہ اپنے کیے کی سزا پائے گا۔ اس دنیا کا انجام آخرت ہے اس لیے چند سورتوں کے سوا المرسلات سے لے کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10 : وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا (اور ہم ہی نے رات کو پردہ کی چیز بنایا) ایسا پردہ جو تمہیں لوگوں کی آنکھوں سے اس وقت چھپا لیتا ہے جب تم لوگوں کو اطلاع دیئے بغیر کوئی کام کرنا چاہتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9 ۔” وجعلنا نومکم سباتا “ یعنی تمہارے بدنوں کے لئے راحت۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں سبات یہ ہے کہ حرکت ختم ہوجائے اور اس میں روح نہ ہو اور کہا گیا ہے اس کا معنی ہم نے تمہاری نیند کو تمہارے اعمال کو کاٹنے والا بنادیا اس لئے کہ سبت کی اصل کاٹنا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–11

6۔ 11۔ اوپر ذکر تھا کہ حشر اور قیامت کی باتوں کو خلاف عقل خیال کرکے اسلام لانے سے پہلے مکہ کے لوگ ان باتوں میں آنحضرت ﷺ سے طرح طرح کی حجتیں کرتے تھے۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دنیا کے چند عجائبات کا ذکر فرمایا ہے جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہیں اور جن کی حالت کے دیکھنے سے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل دنگ ہے کسی کی عقل میں نہیں آسکتا ہے کہ اتنی بڑی سات زمینوں کو پانی پر بچھونے کی طرح کیونکر بچھایا ہے۔ اور ان کے ٹکنے اور جم جانے کے لئے اتنے اتنے بڑے پہاڑوں کی میخیں ان میں کو نکر ٹھونکی ہیں کہ جس طرح خیمہ کی میخیں ٹھونک دینے سے خیمہ خوب مضبوط اور چورس ہوجاتا ہے۔ اسی طرح پہاڑوں کی میخوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–11

(وَّجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا) یعنی تمہارے نیند کو تمہاری راحت اور تمہارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا جو اگر بڑھ جائیں تو تمہارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے رات کو یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انہیں نفع مند راحت حاصل ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(8) لباس شب میں سامان غور و فکر : سو لباس شب قدرت کا ایک عظیم الشان اور بےمثال انعام و احسان ہے، جس سے اس نے محض اپنی رحمت و عنایت سے بندوں کو نوازا ہے، چناچہ یہاں پر اس بارہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے بنایا رات کو ایک عظیم الشان لباس، ایسا عظیم الشان لباس کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن نہیں ہے، جو ایسے عظیم الشان طریقے سے تمہاری پردہ داری کرتا ہے کہ تمہارے کتنے ہی ایسے اہم کام ہوتے ہیں جو تم دن کے اجالے میں نہیں کرسکتے، وہ تاریکی و شب کے اس عظیم الشان اور بےمثل پردے میں ہی انجام دیتے ہو، اور جس طرح لباس انسان کو اپنے اندر چھپا لیتا ہے اور اس کو سکون و اطمینان بخشتا ہے، اسی طرح شب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–16

اللّٰہ کی نعمتوں کا تذکرہ تشریح : رب رحمن و رحیم قیامت کے دن اور مرنے کے بعد زندہ کرنے کی بار بار وضاحت فرماتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بندوں سے بےحد پیار کرتے ہیں۔ کیوں نہ ہو ہمیں اسی نے خود پیدا کیا ہے ہماری بہتری بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اسی لیے تو خبردار کر رہا ہے کہ ہم وقت پر اس دن کی تیاری کرلیں بجائے سزا پانے کے اللہ کی طرف سے شاباش اور بہترین انعامات حاصل کریں۔ اسی سلسلے میں ہمیں اس دنیا کی ان تمام نعمتوں کی یاد دہانی کرواتا ہے جو اس نے ہمیں دے رکھی ہیں جو اس کی قدرت کا بہترین ثبوت ہیں مثلاً زمین کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ذکر پہلے بھی کئی مرتبہ ہوچکا ہے۔ زمین انسانی زندگی کے لیے بنیادی حیثیت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة النبا۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 9–10

ف 7 یعنی جس طرح آدمی کپڑے پہن کر اپنے آپ کو چھپا لینا ہے اسی طرح رات کی تاریکی تمہاری پردہ پوشی کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(78:10) وجعلنا الیل لباسا : اور ہم نے رات کو اوڑھنا بنادیا۔ الیل ، لباسا مفعول اول و ثانی ہیں جعلنا کے۔ رات کو لباس اس واسطے کہا کہ یہ پردہ دار ہے اس پردہ میں کوئی برائی کرتا ہے کوئی بھلائی ، چور چوری کرتا ہے ، زنا کار چھپ کر زنا کرتا ہے عابد و زاہد نماز تہجد اور مراقبہ و ذکر میں بیٹھا ہوا ہے۔ اور نیند کا وقت بھی رات ہی ہے۔ ستر کی وجہ سے رات کو لباس کہنا استعارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–40

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–11

(ف 1) اوپر ذکر تھا کہ حشر اور قیامت کی باتوں میں طرح طرح کی حجتیں کرتے تھے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دنیا کے چند عجائبات کا ذکر فرمایا کہ اگر ان کو ہماری قدرت میں انکار ہے تو ہمارے کارخانہ کو ذراغور کی نظر سے دیکھیں دیکھو کیا ہم نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا نہیں بنایا تمہارا مرنا جینا کاروبار سب اسی کے ـذریعہ سے ہے اسی طرح دیکھو کہ کیا ہم نے پہاڑوں کو میخوں کی مانند گڑا ہوا نہیں بنایا اور ان کفار سے ہم کہتے ہیں کہ دیکھو تمہارے نرومادہ کو جو ہم نے جوڑا بنایا ہے کیا یہ ہماری قدرت کی دلیل نہیں ہے اور تمہاری راحت کا سامان نیند کو بنایا کہ سونے کے بعد سب محنت ومشقت جاتی رہتی ہے اور رات…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–17

[5] اللہ تعالیٰ کا اپنی ربوبیت، قدرت اور حکمت کی عظیم الشان نشانیوں کو بیان کرنے سے مقصود اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس قادر مطلق نے ان ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت قیامت برپا کرنے سے کیسے عاجز ہوسکتی ہے۔ اس پورے کارخانے میں جو کمال درجے کی حکمت و دانائی صریحاً کارفرما ہے اس کو دیکھتے ہوئے کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ اس کارخانے کا ایک ایک جز اور ایک ایک فعل تو بامقصد ہو مگر پورا کارخانہ بےمقصد ہو ؟ اس کارخانے میں اس سے زیادہ لغو اور بےمقصد بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان کو یہاں وسیع اختیارات تو دے دئیے جائیں مگر جب اپنا کام پورا کر کے یہاں سے رخصت ہو تو اسے یونہی چھوڑ دیا جائے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–12

ف 1: سبعا شدادا سے مراد کئی نظام کواکب ہیں جو اپنی ساخت کے اعتبار سے نہایت محکم اور مضبوط ہیں ۔ سبع کا لفظ یہاں عدد کے لئے نہیں ۔ بلکہ تکثیر کے لئے ہے ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–12

ف 6۔ جب بعد فراق دنیا کے ان پر عذاب واقع ہوگا، تب حقیقت اور حقیقت قیامت کی منکشف ہوجائے گی، یہ لوگ اس کو ممتنع و محال سمجھتے ہیں حالانکہ اس کو ممتنع سمجھنے سے ہماری قدرت کا انکار لازم آتا ہے اور ہماری قدرت کا انکار نہایت عجیب ہے کیونکہ (آگے دیکھو ترجمہ)

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور ہم نے رات کو پردہ کی چیز بنایا ۔ 10 (لباساً ) منصوب مفعول رات لباس کی طرح ہے ، کیوں اور کیسے ؟ اس لئے کہ دونوں عیب پوش ہیں ، سکون بخش ہیں ، آرام دہ ہیں۔ اس لئے رات کو لباس بنانے کا مطلب ہے لباس کی طرح بنانا۔ ذرا شب و روز کے تسلسل پر غور کرو۔ رات آتی ہے ساری کائنات پر اندھیرے کا پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی چیز اس میں لپٹ کر رہ جاتی ہے۔ جو کام دن کے اجالے میں تم نہیں کرسکتے وہ رات کی اس تاریکی میں تم بلاتکلف انجام دے سکتے ہو۔ دن بھر کی تگ و دو کے بعد تم گھر واپس آتے ہو اور اپنے گھر رات بسر کرتے ہو تمہیں رات کے تاریک سناٹوں میں جو آرام ملتا ہے اور جو میٹھی نیند تم سو سکتے ہو وہ آرام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا (and made the night a covering... 78:10) This points to the fact that man naturally feels sleepy when light decreases and darkness prevails, when there is tranquility all around and there is absence of noises. The verse under comment additionally signifies that Allah did not only give man sleep, but created in the entire world conditions that are suitable for sleep. That is to say: [ 1] darkness of night; [ 2] the state of sleep is imposed on all humans and animals simultaneously, so that they sleep at the same time. In this way, there will be peace and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

8 That is, "The night has been made dark so that protected from light, you could enjoy a peaceful sleep- more easily and made the day bright for the reason that you could work for your livelihood with greater ease and facility. Reference has been made to only one benefit out of countless benefits of the continuous alternation of night and day regularly on the earth to tell that all this is not happening without a purpose or accidentally, but there is supreme wisdom underlying it, which has a deep connection with your own immediate interests. The darkness that was needed for the peace and rest…

Read the full tafseer →