78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 78:1–3

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

یہ لوگ کس چیز کی بابت دریافت کررہے ہیں ؟

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

اس بڑے واقعہ کی بابت،

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جس کے بارے میں یہ لوگ جھگڑ رہے ہیں،1۔

1۔ (اہل حق سے) (آیت) ” یتسآء لون “۔ یعنی یہ منکرین حشر اہل جاہلیت بطور طنز وتعریض سوال کررہے ہیں، سوالات اور سوالیہ فقروں سے خطبات کی ابتداء کرنا دوسری زبانوں کی طرح خطبات عرب میں حسن انشاء وخطابت کا ایک بہترین نمونہ سمجھا گیا ہے۔
Ayahs 78:4–5

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

ہرگز ایسا نہیں (کہ قیامت نہ آئے گی) ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے ،

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

اور پھر ہرگز ایسا نہیں (کہ قیامت نہ آئے گی) انہی کبھی معلوم ہوا جاتا ہے،2۔

2۔ زور وجوش کے موقع پر، فقروں کی یہ تکرار عربی حسن خطابت اور اسلوب بلاغت کا ایک خاص نمونہ ہے۔ اردومح اور ہ میں بھی تو زور وجوش کے موقع پر کہتے ہیں۔ ” اجی یہ دیکھیں گے، اور پھر دیکھیں گے۔ “
Ayahs 78:6–7

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو فرش

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو میخیں نہیں بنادیا ہے ؟3۔

3۔ (جو اپنے ثقل سے توازن پیدا کئے، اور زمین کو ڈانوا ڈول حرکت سے روکے ہوئے ہیں) پہاڑوں کی اس حیثیت کا ذکر قرآن مجید میں بار بار آچکا ہے۔ (آیت) ” الارض مھدا “۔ زمین کے فرش ہونے کا بھی ذکر پیشتر کئی بار آچکا ہے۔ اسی فرش پر تو ہم آپ سب چلتے پھرتے، دوڑتے، بیٹھتے، اٹھتے، سوتے، کھاتے پیتے ہیں۔
Ayahs 78:8–9

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

اور ہم ہی نے تم کو جوڑا جوڑا بنادیا

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور ہم ہی نے تمہاری نیند کو راحت (کا ذریعہ) بنادیا،4۔

4۔ (جو قیام حیات کیلئے لازمی ہے) ذکر یہاں خدائی نعمتوں کا اور حق تعالیٰ کی شان بندہ پروری کا ہورہا ہے۔ اسی سلسلہ میں نیند کا بھی ذکر ہے۔ اور نیند کا انسانی زندگی کے حق میں ایک نعمت عظیم ہونا بالکل ظاہر ہے۔ ضمنا اس حقیقت اور اہم حیاتیاتی حقیقت پر بھی روشنی پڑگئی کہ نیند ایک ایجابی شے ہے محض ایک سلبی کیفیت یاعدم بیداری کا نام نہیں۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
Ayahs 78:10–11

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور ہم ہی نے رات کو پردہ کی چیز بنادیا

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور ہم ہی نے دن کو معاش (کا وقت) بنادیا،5۔

5۔ حیات کی ابتدائی صورتوں میں، یعنی نباتات اور ادنی درجہ کے حیوانات میں تو غذا کا حاصل کرنا مخصوص ہی ہے دن کی روشنی کے ساتھ۔ رہا انسان تو اس کے بھی معاشی مشاغل کا عام اور اکثری وقت دن ہی کا اپنی تاریکی کی چادر سے ڈھانپ لیتی ہے۔ لباس کے معنی آرام وتسکین خاطر کے بھی کئے گئے ہیں۔ لباسا اے سکنا (ابن قتیبۃ) رات کا وقت جو خاطر کائنات نے انسان کے تھکے ہوئے جسم اور دماغ کے لئے سکون و راحت کا اور عبادات خلوت کا وقت بنایا ہے۔ ” روشن خیال “۔ ” مہذب “۔ دنیانے عین اسی کو اپنے تعیشات اور نفس پرستیوں کے لئے مخصوص کرلیا ہے۔ سینما اور تھیٹر اور ہال اور آپیراوغیرہا۔
Ayahs 78:12–13

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور ہم ہی نے تمہارے اوپر سات مضبوط (آسمان) بنائے ہیں

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور ہم ہی نے ایک روشن چراغ بنادیا ہے،6۔

6۔ (اسی آسمان میں) مراد آفتاب ہونا ظاہر ہے۔ آسمان اور آفتاب جیسی زبردست وعظیم الشان موجودات حق تعالیٰ کی محض مخلوق ہی ہیں ساری مخلوقات کی طرح بےبس، نہ کہ خود آفریدہ یا نعوذ باللہ شریک خدائی۔
Ayahs 78:14–16

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور ہم ہی نے بھرے بادلوں سے کثرت سے پانی برسایا

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

کہ ہم اس کے ذریعہ سے غلہ اور سبزی

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور گنجان باغ پیدا کریں،7۔

7۔ (تو کیا ایسا حکیم، ایسا صناع، ایسا قادر، قیامت لانے پر قادر نہیں ؟ ) حاصل یہ کہ اس ساری صنعت گری سے ہمارا کمال قدرت بالکل یاں ہے تو آخر حشر اجساد پر ہمارے قادر ہونے سے انکار کیوں ہے ؟ (آیت) ” لنخرج بہ “۔ ضمیرہ۔ ماء پانی کی جانب ہے۔ اے بذلک الماء وھو علی ظاھرہ عند السلف ومن اقتدی بھم وقالت الاشاعرۃ اے عندہ (روح)
Ayahs 78:17–18

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

بیشک فیصلہ کا دن ایک متعین وقت ہے

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

(یعنی) وہ دن جب صور پھونکا جائے گا تو تم لوگ گروہ گروہ ہو کر آؤ گے،8۔

8۔ مثلا موحد الگ، مشرک الگ، کافر الگ، متقی الگ، فاسق الگ وغیرہا۔
Ayahs 78:19–20

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور آسمان کھل جائے گا، سو اس میں دروازے ہی دروازے ہوجائیں گے

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور پہاڑ (جگہ سے) ہٹا دیئے جائیں گے، سو وہ ریت (کی طرح) ہوجائیں گے،9۔

9۔ صور کے نفخۂ اول کے وقت جب یہ سارا نظام تکوینی درہم وبرہم ہوگا۔ اس وقت کی شکست وریخت کی یہ تفصیلات بیان ہورہی ہیں۔ (آیت) ” وفتحت ..... ابوابا “۔ یعنی آسمان بالکل ہی کھل کر رہے گا۔
Ayahs 78:21–23

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

بیشک دوزخ ایک گھات کی جگہ ہے

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

سرکشوں کا ٹھکانا ہے

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

جس میں وہ قرنوں پڑے رہیں گے،10۔

10۔ (جن کا کوئی شمار نہیں) (آیت) ” ان ...... مرصادا یعنی دوزخ کے فرشتے اسی انتظار اور تاک میں لگے ہوئے ہیں کہ کافر آئے تو اسے عذاب کی گرفت میں لیں۔ (آیت) ” احقابا “۔ حقب کے معنی زمانہ طویل ومسلسل کے ہیں، وھو الدھر (مدارک) قال الفراء اصل الحقب من الترادف والتنابع (کبیر) احقاب کے بصیغہ جمع آجانے سے کوئی گنجائش دوزخ کے عدم خلود کے قائلوں کے لئے نہ رہی۔ ولم یرد بہ عدد محصور بل الابدکلما معنی حقب تبعہ اخر الی غیر نھایۃ ولا یستعمل الحقب الا اذا ارید تتابع الازمنۃ وتوالیھا (مدارک) عن قتادۃ وھو مالا انقطاع لہ (ابن کثیر) والصحیح انھا لاانقضاء لھا کما قال قتادۃ والربیع (ابن جریر) قال الحسن فو اللہ ما ھو الا انہ اذا مضی حقب دخل اخر ثم اخر الی الا بدفلیس للاحقاب عدۃ الاالخلود (معالم) قال الفراء اے دھورامتتابعۃ یتبع بعضا (کبیر) وھو علی ما روی عن الحسن زمان غیر محدود ونحوہ تفسیر بعض اللغویین لہ بالدھر (روح) ولمعنی ھنا حقبا بعد حقب کلما مضی حقب تبعہ اخر الی غیر نھایۃ ولایکاد یستعمل الحقب الا حیث یراد تتابع الازمنۃ (بحر)
Ayahs 78:24–26

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

اس میں نہ کسی ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ کسی پینے کی چیز کا

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

ہاں البتہ گرم پانی اور پیپ (ملے گا

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

(یہ) مناسب حال بدلہ ہے،11۔

11۔ (ہر ایک کے درجہ کفر وفسق کے متناسب) موافقا لحالھم (مدارک) اے ھذا الذی صاروا الیہ من ھذہ العقوبۃ وفق اعمالھم الفاسدۃ التی کانوا یعملونھا فی الدنیا قالہ مجاھد وقتادۃ وغیر واحد (ابن کثیر) (آیت) ” لایذوقون ..... شرابا “۔ یعنی نہ کوئی ایسی خنکی نصیب ہوگی جو باعث راحت بن سکے اور نہ کوئی پینے ہی کی ایسی چیز جو پیاس بجھا سکے۔ (آیت) ” غساقا “۔ غساق کے ایک معنی نہایت شدید سردی کے ہیں۔ اے ابردالبرد (لسان) قال ابن عباس ؓ الغساق الزمھریر یحرقھم ببرہ (معالم) ھو الشئی البارد الذی لایطاق وھو الذی یسمی بالزمھریر (کبیر) یہ معنی لے کر وعید کا مفہوم یہ ہوگا کہ کسی کو کھولتا ہوا پانی ملے گا، اور کسی کو غضب کی بےپناہ سردی، غرض اہل افراط اور اہل تفریط دونوں کو انتہائی شدید سزا اپنے اپنے حسب حال۔
Ayahs 78:27–30

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

یہ لوگ حساب (قیامت) کا (مطلق) اندیشہ نہیں رکھتے تھے،

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

اور ہماری نشانیوں کو برابر جھٹلایاہی کرتے تھے

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر منضبط کر رکھا ہے

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

سو مزہ چکھو کہ ہم تمہیں عذاب بڑھا تے ہی چلے جائیں گے،12۔

12۔ منکرین مکذبین کے عذاب روز افزوں کا بیان ہورہا ہے۔ (آیت) ” وکل ..... کتبا “۔ یعنی ہر شے تمہارے نامہ اعمال میں منضبط کر رکھی گئی ہے۔ سو خود تمہارے معیار سے بھی صحت وتحقیق کا خاص اہتمام ہے، اور کسی عمل کی کمی کا کوئی احتمال نہیں۔ (آیت) ” انھم ..... حسابا “۔ ان کا اصلی اور بنیادی جرم ان کی یہی آخرت بیزاری تھی۔ (آیت) ” وکذبوا بایتنا کذابا “۔ کذابا کی قید واقعی ہے احترازی نہیں۔ یعنی ان کافروں کی حالت کا بیان ہے کہ وہ آخرت فراموشی کے ساتھ طرح طرح کی تکذیبوں میں بھی مبتلا تھے۔ یہ مراد نہیں کہ بغیر اتنی تکذیبوں کے مجرم نہ قرار پائیں۔ جرم کفر تو کسی بھی عقیدہ دینی میں شک وتردد سے لازم آجاتا ہے۔ (آیت) ” فذوقوا “ اوپر سے صیغہ غائب کا چلا آرہا تھا۔ یہاں یک بیک بقاعدۂ التفات صیغہ حاضر میں تبدیل ہوگیا۔ اس سے مقصود شدت غضب کا اظہار ہے۔ الالتفات شاھد علی شدۃ الغضب (مدارک) وھی ایۃ فی غایۃ الشدۃ ...... وبمجینھا علی طریقۃ الالتفات شاھدا علی ان الغضب قدتبالغ (کشاف) حدیث نبوی میں آیا ہے کہ یہ آیت عذاب کی شدید ترین آیت ہے۔ وفی الحدیث ھذہ الایۃ اشد ما فی القران علی اھل النار (مدارک) وفی الحدیث ھذہ الایۃ اشد ما فی القرآن علی اھل النار (مدارک) عن عبداللہ بن عمرؓ وقال لم ینزل علی اھل النار ایۃ اشد من ھذہ الایۃ (ابن کثیر)
Ayahs 78:31–36

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

بیشک پرہیزگاروں کے لئے کامیابی ہے

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

یعنی باغ ہیں اور انگور

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

اور نوخاستہ ہم عمر عورتیں

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

اور لبالب جام (شراب)

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

وہاں نہ کوئی بیہودہ بات سنیں گے، اور نہ جھوٹ

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

یہ بدلہ ہوگا (کافی) انعام تیرے پروردگار کی طرف سے،13۔

13۔ اہل جنت کے انعامات کا بیان ہورہا ہے۔ انہیں وہ ساری کی ساری مادی لذتیں اور نعمتیں بھی حاصل رہیں گی جن سے وہ دنیا میں برابر لذت گیر ہوتے رہتے تھے، جنت میں جانے سے کوئی نعمت سلب نہیں ہوجائے گی۔ (آیت) ” حدآ ئق “۔ (سرسبزباغ) (آیت) ” اعنابا (انگور) (آیت) ” کو اعب اترابا “۔ (نوجوان، نوخیز۔ ہمسن بیویاں) (آیت) ” کا سادھاقا (لبالب جام) یہ سب ایک کامل ومکمل مرقع عیش کا نقشہ پیش کررہے ہیں۔ (آیت) ” لایسمعون .... کذبا “۔ یہاں یہ بتادیا کہ وہاں کے پاکیزہ اور ستھرے عیش کو دنیا کی بہودہ رنگ رلیوں پر قیاس نہ کیا جائے۔ وہاں کسی قسم کی رکاکت وابتذال کا تو تو بھی نہ پر نے پائے۔ خالص لطف و سرور ہی حاصل رہے گا۔ (آیت) ” جزآء .... حسابا “۔ ” جزآء “۔ اور ” عطآء “۔ اور ” حسابا “۔ تین مختلف کلمے لا کریہاں تین مختلف کیفیتوں کی طرف اشارہ کردیا .....(آیت) ” جزآء “۔ کا مفہوم مزدواجرت کا ہے۔ یعنی اس کے حصول کیلئے کچھ کرنا چاہئے، اور عمل صالح سے اس کا استحقاق پیدا کرنا چاہیے۔ (آیت) ” عطآء “۔ اشارہ بخشش و رحمت پروردگار کی جانب ہے۔ یعنی امیدوار فضل وکرم کے رہیں۔ اور سارا بھروسہ اپنے عمل پر نہ کربیٹھیں۔ حساب میں یہ پہلوآ گیا کہ جو کچھ بھی ملے گا۔ اندھا دھند اور بےقاعدہ نہیں، امتیاز مراتب کے ساتھ اخلاص نیت وغیرہ کو ملحوظ رکھ کر ملے گا۔
Ayah 78:37

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

پروردگار آسمانوں اور زمین کا اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے اس کا خدائے رحمن کسی کی مجال اس سے عرض ومعروض کی نہیں،14۔

14۔ کسی مقرب سے مقرب مخلوق کی بھی یہ مجال نہیں کہ بلا اذن خود بخود اس ذات پاک کے حضور میں کلام بھی کرسکے۔ دیوی دیوتاؤں کے عقیدہ پر ایک اور ضرب۔ اور حق تعالیٰ کی شان تنزیہ کا مزید اثبات۔ (آیت) ” رب السموت والارض “۔ آسمان و زمین جنہیں جاہل قومیں دیوی دیوتا سمجھ رہی ہیں۔ حق تعالیٰ ان سب کا مالک وپروردگا ہے۔ (آیت) ” وما بینھما “۔ جاہلی قوموں نے زمین و آسمان کی درمیانی فضا کو بھی اپنے معبودوں سے بھر رکھا تھا، قرآن مجید نے اس جزئیہ کا ذکر کرکے اس عقیدہ پر بھی ضرب لگادی۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
Ayah 78:38

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

اس دن جب کہ روح اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے، کوئی نہ بول سکے گا بجز اس کے کہ جس کو خدائے رحمن اجازت دے اور وہ کہے بھی ٹھیک (بات) ،15۔

15۔ (حق تعالیٰ کے حضور میں ادب وخشوع کے لوازم کے ساتھ (آیت) ” الروح “۔ روح سے اس سیاق میں مراد زی روح مخلوقات لی گئی ہے۔ (آیت) ” لا ..... الرحمن “۔ مسیحیوں اور بعض باطل مذہب والوں کے ہاں مرکزی عقیدہ شفاعت کا ہے۔ اور ” خدا کا بیٹا “۔ تو گویا شفیع ہی کے مستقل منصب پر فائز ہے۔ قرآن مجید اس باطل عقیدہ پر مختلف عنوانات سے مختلف مقامات میں ضرب لگاتا گیا ہے۔ (آیت) ” وقال صوابا “۔ یعنی اجازت حاصل کرنیکے بعد جب بولنا ہوگا، وہ بھی محدود ومقید ہوگا۔ یہ نہیں کہ جو کچھ اور جس طرح وہ چاہے بولنے لگ جائے۔
Ayah 78:39

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

یہ یقینی دن ہے سو جو چاہے اپنے پروردگار کے پاس اپنا ٹھکانا بنا رکھے،16۔

16۔ یعنی جو چاہے ایمان تصدیق اختیار کرکے اور اچھے عمل کر کرکے اچھے ٹھکانے کیلئے اپنا استحقاق پیدا کرلے۔ (آیت) ” اتخذا “۔ اس سے صاف اشارہ اس طرف ہوگیا کہ جو کوئی اس راہ کو ڈھونڈے گا اسے وہ مل کررہے گی ، (آیت) ” ذلک “۔ اشارہ اسی یوم قیامت کی جانب ہے۔ اور اشارہ بعید مشار الیہ کی عظمت کے اظہار کیلئے ہے۔ للایذان لعلو درجتہ وبعد منزلتہ فی الھول والفخامۃ (روح)
Ayah 78:40

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

ہم نے تمہیں تنبیہ کردی ہے ایک نزدیک والے عذاب کی (جو) اس دن (واقع ہوگا) جب ہر شخص دیکھ لے گا اس کو جو کچھ کہ وہ آگے بھیج چکا ہے اور کافر کہے گا کاش میں مٹی ہوجاتا ! ،17

17۔ (اور اس عذاب و عقاب سے بچ گیا ہوتا ! ) کافروں کی زبان پر یہ کلمہ میدان حشر میں انتہائی حسرت کے موقع پر آئے گا۔ (آیت) ” ینظر .... یدہ “۔ یعنی اپنے اعمال کو اپنے سامنے موجود حاظرپائے گا۔ (آیت) ” الکفر “۔ کافر یہاں بطور اسم جنس ہے۔ (آیت) ” المرء “۔ مرء سے مراد کافر شخص ہے۔ المرء الکافر (مدارک)