Ayahs 78:1–5یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں ؟ چناچہ فرمایا (عَنِ النَّبَاِ الْعَظِيْمِ ۙالَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ ) یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اور ان کی مخالفت پھیل گئی، حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہوسکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آجائیں یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں اور اسلیے فرمایا (كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ ۙثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ ) یعنی عنقریب جب ان پر عذاب نازل ہوگا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے تو انہیں معلوم ہوجائے گا اس وقت انہیں جہنم کی آد میں دھکے دے کر ڈالا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا (ھذہ النار التی کنتم بھا تکذبون۔ الطور 14) یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔
Ayah 78:6پھر اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں اور ان دلائل کا ذکر کیا ہے جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسیے رسول لے کر آئے ہیں۔ فرمایا کیا ہم نے تمہیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا ؟ پس ہم نے تمہارے لیے (الْاَرْضَ مِهٰدًا) زمین کو ہموار اور نرم۔ یعنی تمہارے لیے اور تمہارے مصالح، مثلا کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔
Ayah 78:7(وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا) اور پہاڑوں کو میخیں۔ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ وہ تمہیں لے کر متحرک نہ ہوجائے اور ڈھلک نہ جائے۔
Ayah 78:8(وَّخَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًا) یعنی ایک ہی جنس میں سے تمہیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے تب مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔
Ayahs 78:9–11(وَّجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا) یعنی تمہارے نیند کو تمہاری راحت اور تمہارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا جو اگر بڑھ جائیں تو تمہارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے رات کو یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انہیں نفع مند راحت حاصل ہو۔
Ayah 78:12(وَّبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا) یعنی تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں اللہ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا۔
Ayah 78:13چناچہ فرمایا (وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا) اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔ چراغ کا زکر کرکے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وھاج۔ یعنی اس کی حرارت کا ذکر کرکے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔
Ayah 78:14وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْــصِرٰتِ مَاۗءً ثَجَّاجًا) یعنی ہم نے بادل سے اتارا بہت زیادہ پانی۔
Ayah 78:15لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا) تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں مثلا، گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ جسے آدمی کھاتے ہیں (ونباتا) اور سبزہ۔ یہ تمام نباتات کو شامل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے۔
Ayah 78:16(وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا) اور گھنے باغات۔ ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ پھل ہیں پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں جن کی مقدار کا اندازہ کیا جاسکتا ہے نہ انہیں شمار کیا جاسکتا ہے تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمہاری موت کے بعد تمہارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے ؟
Ayah 78:17اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہوگا جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو (میقاتا) مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔
Ayahs 78:18–23(يَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا) جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے لے آئیں گے جن سے دل دہل جائیں گے اور جنہیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے پہاڑ چل پڑیں گے حتی کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا جس میں ظلم نہ ہوگا۔ جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کررکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانہ اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے الحقب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسی سال کا عرصہ ہے۔
Ayah 78:24جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے (لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابًا) وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے ان کی پیاسی ہی کو دور کرے۔
Ayahs 78:25–26(اِلَّا حَمِيْمًا) یعنی وہ کھولتا ہوا گرم پانی ہوگا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ (وَّغَسَّاقًا) اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہوگی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنہوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے اللہ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
Ayah 78:27اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا ہے جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے ہیں چناچہ فرمایا (اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ حِسَابًا) یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا، اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔
Ayah 78:28(وَّكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا) یعنی انہوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انہوں نے ان کی مخالفت کی۔
Ayah 78:29(وَكُلَّ شَيْءٍ ) اور ہر چیز کو۔ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ اچھی یا بری چیز ( اَحْصَيْنٰهُ كِتٰبًا) ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کررکھا ہے پس مجرم یہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انہوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کردے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ووضع الکتاب فتری المجرمین مشفقین۔۔۔ تا۔۔۔۔ ربک احدا۔ الکھف۔ 49) اور اعمال نامے کھول کر رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا جو کچھ اس کتاب میں درج ہوگا وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر اس نے اس کو درج کررکھا ہے اور جو اعمال انہوں نے کیے ہیں ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔
Ayah 78:30(فَذُوْقُوْا) پس چکھو۔ اس دردناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو۔ (فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا) ہم تم پر عذاب ہی بڑھاتے جائیں گے پس ہر آن ان کا عذاب بڑھتا رہے گا اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔ آمین۔
Ayah 78:31جہاں اللہ تعالیٰ نے مجرموں کا حال بیان کیا وہاں اہل تقوی کے انجام کا ذکر بھی فرمایا (اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًا) یعنی جو لوگ اپنے رب کی ناراضی سے ڈر گئے، اس کی اطاعت کا دمن تھام لیا اور اس کی نافرمانی سے باز آگئے ان کے لیے کامیابی، نجات اور جہنم سے دوری ہے۔ اس کامیابی میں ان کے لیے (حَدَاۗىِٕقَ ) باغ ہیں۔
Ayah 78:32(حَدَاۗىِٕقَ ) ان باغات کو کہا جاتا ہے جن میں خوبصورت درختوں اور پھلوں کی تمام اقسام جمع ہوں۔ (وَاَعْنَابًا) اور انگور ہیں۔ ان باغات کے بیچوں بیچ ندیاں بہہ رہی ہوں گی اللہ نے انگور کے شرف اور ان باغات میں ان کی کثرت کی بنا پر ان کا خاص طور پر ذکر فرمایا ان باغات میں انکی چاہت اور طلب کے مطابق بیویاں ہوں گی۔
Ayah 78:33(وَّكَوَاعِبَ ) اس سے مراد ابھرے ہوئے پستانوں والی کنواری لڑکیاں ہیں جن کے پستان ان کے شباب ان کی قوت اور ان کی تازگی کے باعث ڈھیلے نہیں پڑے۔ ( اَتْرَابًا) ہم عمر عورتیں۔ ہم عمر عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باہم محبت والفت رکھنے والی اور باہم اچھی معاشرت والی ہوتی ہیں۔ وہ عمر جس میں وہ ہوں گی تینتیس سال ہے اور یہ متعدل ترین شباب کی عمر ہے۔
Ayah 78:34(وَّكَاْسًا دِهَاقًا) یعنی شراب کے چھلکتے ہوئے جام ہوں گے پینے والوں کی لذت کے لیے۔
Ayah 78:35(لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا كِذّٰبًا) یعنی وہ ایسا کلام نہیں سنین گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ جھوٹ۔ یعنی گناہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (لایسمعون فیھا لغوا ولا تاثیما۔ الا قیلا سلما سلما۔ الواقعہ۔ 25، 26) ۔ وہ جنت میں کوئی بےہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات صرف سلام ہی سلام کی بات سنیں گے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو یہ ثواب جزیل عطا کیا ہے۔
Ayah 78:36(جَزَاۗءً مِّنْ رَّبِّكَ ) ان کے لیے بدلہ ہے تمہارے رب کی طرف سے (عَطَاۗءً حِسَابًا) یہ انعام کثیر۔ یعنی ان کے اعمال کے سبب سے جن کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا اور ان اعمال کو اپنی تکریم واکرام تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔
Ayah 78:37یعنی جس نے انہیں یہ عطیات عطا کیے وہ ان کا رب ہے (رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کی تدبیر کی۔ (الرحمن) جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ پس اس نے ان کی نشونما کی ان پر رحم کیا اور ان کو لطف و کرم سے نوازا حتی کہ انہوں نے بہت کچھ پا لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اپنی عظمت اور اپنی عظیم بادشاہی کا ذکر فرمایا۔ اس روز تمام مخلوق خاموش ہوگئی کوئی بات نہیں کرے گا (لَا يَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًا) اس سے بات چیت کرنے کا انہیں اختیار نہیں ہوگا۔
Ayah 78:38(اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا) یعنی کوئی شخص بات نہیں کرسکے گا مگر دو شرطوں کے ساتھ۔ اول جیسے اللہ تعالیٰ بات کی اجازت دے۔ ثانی۔ اور وہ جو بات کرے وہ ٹھیک ہو۔
Ayah 78:39اس لیے کہ (ذٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ ۚ ) یہ دن ہی سچا (دن) ہے۔ جس میں باطل رائج ہوسکتا ہے نہ جھوٹ فائدہ دے سکتا ہے یہ وہ دن ہے (یقوم الروح) جس میں روح الامین کھڑا ہوگا۔ روح سے مراد جبرائیل ہیں جو تمام فرشتوں میں افضل ہیں۔ (والملائکۃ) اور تمام فرشتے بھی کھڑے ہوں گے (صفا) صف باندھے، اللہ کے حضور سرافگندہ ہو کر (لایتکلمون) وہ کلام نہیں کرسکیں گے۔ سوائے اس بات کے جس کی اللہ اجازت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ترغیب وترہیب اور تبشیر وانداز کے بعد فرمایا ( فَمَنْ شَاۗءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا) پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنا لے۔ یعنی عمل اور اچھی بات کرلے جو قیامت کے دن اس کیط رف لوٹے گی۔
Ayah 78:40(اِنَّآ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِيْبًا) بلاشبہ ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرایا ہے، کیونکہ وہ عذاب قریب آگیا ہے اور جو چیز آرہی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے۔ (يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ ) اس دن آدمی ان (اعمال) کو دیکھ لے گا جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے۔ یعنی یہی وہ چیز ہے جو اسے ہم وفکر میں ڈالے گی اور وہ اس سے گھبرائے گا۔ پس اسے اس دنیا میں دیکھنا چاہیے کہ اس نے دائمی گھر کے لیے کیا آگے بھیجا ہے ؟ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یا ایھا الذین آمنواتقواللہ والتنظر نفس ماقدمت لغد واتقواللہ ان اللہ خبیر بماتعملون۔ الحشر۔ 18) اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ تعالیٰ ہر اس عمل کی خبر رکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔ اگر وہ اپنے اعمال میں کوئی بھلائی پائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرے اور اگر بھلائی کے سوا کچھ اور پائے تو وہ صرف اپنے ہی نفس کو ملامت کرے، اسی لیے کفار شدت حسرت و ندامت کی وجہ سے موت کی تمنا کریں گے (وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَــنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا) اور کافر کہے گا کاش میں مٹی ہوتا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں کفر اور ہر قسم کے شر سے عافیت عطا کرے۔ بلاشبہ وہ بہت جو اور نہایت کرم والا ہے۔