78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 78:1

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

کیا بات پوچھتے ہیں لوگ آپس میں1

1 یعنی لوگ کس بات کا کھوج لگانے اور کس چیز کی تحقیق و تفتیش میں مشغول ہیں۔ کیا ان میں ایسی استعداد ہے کہ بہت پوچھ پاچھ کرنے سے وہ چیز ان کی سمجھ میں آجائے گی۔ ہرگز نہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ کفار جو از راہ انکار و استہزاء آپس میں ایک دوسرے سے نیز پیغمبر اور مومنین سے سوال کرتے ہیں کہ ہاں صاحب ! وہ قیامت کب آئے گی ؟ ابھی کیوں نہیں آجاتی ؟ جانتے ہو یہ کس چیز کی نسبت سوال کر رہے ہیں ؟ وہ بہت عظیم الشان چیز ہے جس کا علم ان کو عنقریب ہوجائے گا۔ جب اپنی آنکھ سے اس کے ہولناک مناظر دیکھیں گے۔
Ayahs 78:2–3

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

پوچھتے ہیں اس بڑی خبر سے

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جس میں وہ مختلف ہیں2

2 یعنی قیامت کی خبر جس میں لوگوں کا اختلاف ہے، کوئی اس کے آنے پر یقین رکھتا ہے، کوئی منکر ہے کوئی شک میں پڑا ہے، کوئی کہتا ہے بدن اٹھے گا، کوئی کہتا ہے کہ سب عذاب وثواب روح پر گزرے گا بدن سے کچھ تعلق نہیں۔ الیٰ غیر ذٰلک من الاختلافات۔
Ayahs 78:4–5

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

ہرگز نہیں اب جان لیں گے

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

پھر بھی ہرگز نہیں اب جان لیں گے3

3 یعنی پیغمبروں نے ابتداء دنیا سے آج تک بہت کچھ سمجھایا، مگر لوگ اپنے اختلافات اور پوچھ پاچھ سے ہرگز باز آنے والے نہیں۔ اب قریب ہے کہ وہ ہولناک منظر ان کے سامنے آجائے اس وقت جان لیں گے کہ قیامت کیا چیز ہے اور ان کے سوالات و اختلافات کی حیثیت کیا تھی۔
Ayah 78:6

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا ہم نے نہیں بنایا زمین کو بچھونا4

4 جس پر سکون و اطمینان سے آرام کرتے اور کروٹیں بدلتے ہیں۔
Ayah 78:7

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو میخیں5

5 جیسا کسی چیز میں میخ لگا دینے سے وہ چیز اپنی جگہ سے نہیں ملتی۔ ایسے ہی ابتداء میں زمین جو کانپتی اور لرزتی تھی، اللہ نے پہاڑ پیدا کر کے اس کے اضطراب اور کپکپی کو دور کیا۔ گویا زمین کو ایک طرح کا سکون پہاڑوں سے حاصل ہوا۔
Ayah 78:8

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

اور تم کو بنایا ہم نے جوڑے جوڑے6

6 یعنی مرد کے سکون و راحت کے لئے عورت کو اس کا جوڑا بنایا۔ (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ) 30 ۔ الروم :21) یا ازواج سے مراد طرح طرح کی اشکال والوان وغیرہ ہوں۔
Ayah 78:9

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور بنایا نیند کو تمہاری تھکان دفع کرنے کے لیے7

7 یعنی دن بھر کی دوڑ دھوپ سے تھک کر جب آدمی نیند لیتا ہے تو سب تعب اور تکان دور ہوجاتا ہے گویا نیند تو نام ہی سکون و استراحت کا ہے، آگے نیند کی مناسبت سے رات کا ذکر کرتے ہیں۔
Ayah 78:10

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور بنایا رات کو اوڑھنا8

8 جیسے آدمی کپڑا اوڑھ کر اپنے بدن کو چھپا لیتا ہے۔ اسی طرح رات کی تاریکی مخلوق کی پردہ داری کرتی ہے اور جو کام چھپانے کے لائق ہوں عموماً رات کے اندھیرے میں کئے جاتے ہیں۔ اور حسی طور پر بھی شب کو کپڑا اوڑھنے کی ضرورت دن سے زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ نسبتاً وہ وقت خنکی اور ٹھنڈک کا ہوتا ہے۔
Ayah 78:11

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور بنایا دن کمائی کرنے کو9

9 یعنی عموماً کاروبار اور کمائی کے دھندے دن میں کئے جاتے ہیں جن کا مقصد یہ ہی ہے کہ اپنی اور اپنے بال بچوں کی حوائج کی طرف سے دل کو سکون و اطمینان نصیب ہو۔ آگے رات دن کی مناسبت سے آسمانوں اور سورج کا ذکر فرماتے ہیں۔ یا یوں کہو کہ زمین کے مقابل آسمان کا بیان ہے۔
Ayah 78:12

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور چنی ہم نے تم سے اوپر سات چنائی مضبوط10

10 یعنی سات آسمان بہت مضبوط بنائے۔ جن میں آج تک اس قدر مدت گزرنے کے باوجود کوئی رخنہ نہیں پڑا۔
Ayah 78:13

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور بنایا ایک چراغ چمکتا ہوا11

11 یعنی آفتاب جس میں روشنی اور گرمی دونوں وصف موجود ہیں۔
Ayah 78:14

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور اتارا نچڑنے والی بدلیوں سے پانی کا ریلا12

12 نچڑنے والی بدلیاں یا نچوڑنے والی ہوائیں۔
Ayahs 78:15–16

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

تاکہ ہم نکالیں اس سے اناج اور سبزہ

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور باغ پتوں میں لپٹے ہوئے13

13 یعنی نہایت گنجان اور گھنے باغ، یا یہ مراد ہو کہ ایک ہی زمین میں مختلف قسم کے درخت اور باغ پیدا کئے۔ (تنبیہ) قدرت کی عظیم الشان نشانیاں بیان فرما کر بتلا دیا کہ جو خدا ایسی قدرت و حکمت والا ہے، کیا اسے تمہارا دوسری مرتبہ پیدا کردینا اور حساب و کتاب کے لئے اٹھانا کچھ مشکل ہوگا ؟ اور کیا اس کی حکمت کے یہ بات منافی نہ ہوگی کہ اتنے بڑے کارخانہ کو یوں ہی غلط ملط بےنتیجہ پڑا چھوڑ دیا جائے۔ یقینا دنیا کے اس طویل سلسلہ کا کوئی صاف نتیجہ اور انجام ہونا چاہیے اسی کو ہم " آخرت " کہتے ہیں۔ جس طرح نیند کے بعد بیداری اور رات کے بعد دن آتا ہے، ایسے ہی سمجھ لو کہ دنیا کے خاتمہ پر آخرت کا آنا یقینی ہے۔
Ayah 78:17

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

بیشک دن فیصلے کا ہے ایک وقت ٹھہرا ہوا14

14 فیصلہ کا دن وہ ہوگا جس میں نیک کو بد سے بالکلیہ الگ کردیا جائے کہ کسی قسم کا اشتراک و اجتماع باقی نہ رہے ہر نیکی اپنے معدن میں اور ہر بدی اپنے مرکز پر جا پہنچے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کامل امتیاز وافتراق اس دنیا میں نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ یہاں رہتے ہوئے زمین، آسمان، چاند، سورج، رات دن، سونا جاگنا، بارش، بادل، باغ، کھیت، اور بیوی بچے تمام نیکوں اور بدوں میں مشترک ہیں ہر کافر اور مسلم ان سامانوں سے یکساں منتفع ہوتا ہے۔ اس لئے ضرور ہے کہ " یوم الفصل " ایک دن موجودہ نظام عالم کے ختم کئے جانے کے بعد ہو۔ اس کا تعین اللہ کے علم میں ٹھہرا ہوا ہے۔
Ayah 78:18

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

جس دن پھونکی جائے صور پھر تم چلے آؤ جُٹ کے جٹ15

15 یعنی کثرت سے الگ الگ جماعتیں اور ٹولیاں بن کر جن کی تقسیم ان کے ممتاز عقائد و اعمال کی بناء پر ہوگی۔
Ayah 78:19

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور کھولا جائے آسمان تو ہوجائیں اس میں دروازے16

16 یعنی آسمان پھٹ کر ایسا ہوجائے گا گویا دروازے ہی دروازے ہیں۔ شاید اس کی طرف اشارہ ہے جو دوسری جگہ فرمایا۔ (وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا) 25 ۔ الفرقان :25)
Ayah 78:20

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہوجائیں گے چمکتا ریتا1

1 جیسے چمکتی ریت پر دور سے پانی کا گمان ہوجاتا ہے، ایسے ہی ان پر پہاڑوں کا گمان ہوگا۔ حالانکہ واقع میں وہ پہاڑ نہیں رہیں گے محض ریت کے تودے رہ جائیں گے۔
Ayahs 78:21–22

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

بیشک دوزخ ہے تاک میں

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

شریروں کا ٹھکانا2

2 یعنی دوزخ شریروں کی تاک میں ہے اور ان ہی کا ٹھکانا ہے،
Ayah 78:23

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

رہا کریں اس میں قرنوں3

3 جن کا کوئی شمار نہیں۔ قرن پہ قرن گزرتے چلے جائیں گے۔ اور ان کی مصیبت کا خاتمہ نہ ہوگا۔
Ayahs 78:24–25

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

نہ چکھیں وہاں کچھ مزہ ٹھنڈک کا اور نہ پینا ملے کچھ

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

مگر گرم پانی اور بہتی پیپ4

4 یعنی نہ ٹھنڈک کی راحت پائیں گے، نہ کوئی خوشگوار چیز پینے کو ملے گی۔ ہاں گرم پانی ملے گا جس کی سوزش سے منہ جھلس جائیں گے اور آنتیں کٹ کر پیٹ سے باہر آپڑیں گیں اور دوسری چیز پیپ ملے گی جو دوزخیوں کے زخموں سے نکل کر بہے گی۔ اعاذنا اللہ منھا و من سائر انواع العذاب فی الدنیا والاخرۃ۔
Ayahs 78:26–28

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

بدلہ ہے پورا

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

ان کو توقع نہ تھی حساب کی

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

اور جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو مکرا کر5

5 یعنی جس چیز کی امید ان کو نہ تھی وہ ہی سامنے آئی۔ اور جس بات کو جھٹلاتے تھے آنکھوں سے دیکھ لی۔ اب دیکھیں کیسے جھٹلاتے اور مکرتے ہیں۔
Ayah 78:29

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

اور ہر چیز ہم نے گن رکھی ہے لکھ کر6

6 یعنی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے اور اسی علم محیط کے موافق دفاتر میں باقاعدہ مندرج ہے۔ کوئی نیک و بد عمل اس کے احاطہ سے باہر نہیں۔ رتی رتی کا بھگتان کیا جائے گا۔
Ayah 78:30

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

اب چکھو کہ ہم نہ بڑھاتے جائیں گے تم پر مگر عذاب7

7 یعنی جیسے تم تکذیب و انکار میں برابر بڑھتے چلے گئے اور اگر بےاختیار موت نہ آجاتی تو ہمیشہ بڑھتے ہی چلے جاتے۔ اب بڑے عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔ ہم بھی عذاب بڑھاتے ہی چلے جائیں گے۔ جس میں کبھی تخفیف نہ ہوگی۔
Ayahs 78:31–33

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

بیشک ڈروالوں کو ان کی مراد ملنی ہے

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

باغ ہیں اور انگور

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

اور نوجوان عورتیں ایک عمر کی سب8

8 یعنی نو ساختہ عورتیں جن کی جوانی پورے ابھار پر ہوگی، اور سب ایک ہی سن و سال کی ہوں گی۔
Ayah 78:34

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

اور پیالے چھلکتے ہوئے9

9 یعنی شراب طہور کے لبریز جام۔
Ayah 78:35

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

نہ سنیں گے وہاں بک بک اور نہ مکرانا10

10 یعنی جنت میں بیہودہ بکواس یا جھوٹ فریب کچھ نہ ہوگا۔ نہ کوئی کسی سے جھگڑے گا کہ جھوٹ بولنے اور مکرنے کی ضرورت پیش آئے۔
Ayah 78:36

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

بدلہ ہے تیرے رب کا دیا ہوا حساب سے11

11 یعنی رتی رتی کا حساب ہو کر بدلہ ملے گا اور بہت کافی بدلہ ملے گا،
Ayah 78:37

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے بڑی رحمت والاف 12 قدرت نہیں کہ کوئی اس سے بات کرے13

12 یہ بدلہ بھی محض بخشش اور رحمت سے ہے ورنہ ظاہر ہے، اللہ پر کسی کا قرض یا جبر نہیں۔ آدمی اپنے عمل کی بدولت عذاب سے بچ جائے یہ ہی مشکل ہے، رہی جنت، وہ تو خالص اس کے فضل و رحمت سے ملتی ہے اس کو ہمارے عمل کا بدلہ قرار دینا یہ دوسری ذرہ نوازی اور عزت افزائی ہے۔ 13 یعنی باوجود اس قدر لطف و رحمت کے عظمت و جلال ایسا ہے کہ کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا۔
Ayah 78:38

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

جس دن کھڑی ہو روح اور فرشتے قطار باندھ کر14 کوئی نہیں بولتا مگر جس کو حکم دیا رحمان نے اور بولا بات ٹھیک15

14 روح فرمایا جانداروں کو یا " روح القدس " ( جبرائیل) مراد ہوں اور بعض مفسرین کے نزدیک وہ روح اعظم مراد ہے جس سے بیشمار روحوں کا انشعاب ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔ 15 یعنی اس کے دربار میں جو بولے گا اس کے حکم سے بولے گا۔ اور بات بھی وہ ہی کہے گا، جو ٹھیک اور معقول ہو مثلاً کسی غیر مستحق کی سفارش نہ کرے گا۔ مستحق سفارش کے وہ ہی ہیں جنہوں نے دنیا میں سب باتوں سے زیادہ سچی اور ٹھیک بات کہی تھی یعنی لا الہٰ الا اللہ۔
Ayah 78:39

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

وہ دن ہے برحق پھر جو کوئی چاہے بنا رکھے اپنے رب کے پاس ٹھکانا1

1 یعنی وہ دن آنا تو ضروری ہے۔ اب جو کوئی اپنی بہتری چاہے اس وقت کی تیاری کر رکھے۔
Ayah 78:40

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

ہم نے خبر سنا دی تم کو ایک آفت نزدیک آنے والی کی جس دن دیکھ لے گا آدمی جو آگے بھیجا اس کے ہاتھوں نے2 اور کہے گا کافر کسی طرح میں مٹی ہوتا3

2 یعنی سب اچھے برے، اگلے پچھلے اعمال سامنے ہوں گے۔ 3 یعنی مٹی ہی رہتا آدمی نہ بنتا کہ آدمی بن کر ہی اس حساب و کتاب کی مصیبت میں گرفتار ہونا پڑا۔