78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة النباء سورة نمبر 78 کل رکوع 2 آیات 40 الفاظ و کلمات 174 حروف 801 مقام نزول مکہ مکرمہ اس سورة میں قیامت، آخرت اس کو ماننے والوں کے لئے نجات او نہ ماننے والوں کو برے اعمال کے برے نتائج سے آگاہ اور خبردار کیا گیا ہے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ والوں کے سامنے اللہ کے اس کلام کو پیش کرکے یہ بتایا کہ بہت جلد ایک ایسا دن آنے والا ہے جب اس دنیا کو ختم کرکے ایک نیا جہاں تعمیر کیا جائے گا اور اس میں اولین و آخرین سب انسانوں کو جمع کر کے ان سے زندگی کے ہر معاملے کا حساب لیا جائے گا اور جس کے جیسے اعمال ہوں گے اس کے مطابق اس کو جنت یا جہنم کا مستحق قرار دیا جائے گا تو مکہ میں ہر طرف اسی پر بحثیں باتیں ہو رہی تھیں کوئی اس کو سچا اور کوئی اس کی تردید کر رہا تھا۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نونشانیاں پیش کرکے لوگوں سے پوچھا ہے کہ جس اللہ کی قدرت سے نظام کائنات چل رہا ہے کیا وہ اس بات کی قدرت نہیں رکھتا کہ اس پورے نظام کائنات کو ختم کرکے ایک نئی دنیا تعمیر کردے ؟ یقینا اللہ کی قدرت سے کوئی چیز بعید نہیں ہے۔ اسی بات کو اس سورة میں ارشاد فرمایا گیا ہے جس کا خلاصیہ یہ ہے۔ فرمایا یہ کسی چیز کے بارے میں بحثیں کر ہے ہیں۔ کیا اس بڑی خبر کے متعلق اختلافات کرر ہے ہیں جو بہت جلد ایک حقیقت کی شکل میں آنے والی ہے۔ یہ لوگ بہت جلد اس حقیقت (قیامت) کو دیکھ لیں گے۔ فرمایا کہ کیا ہم نے زمین کو فرش اور پہاڑوں کو اس زمین پر میخوں کی طرح گاڑ نہیں دیا ہے ؟ کیا تمہیں عورتوں مردوں کے جوڑوں کی شکل میں پیدا نہیں کیا ؟ کیا تمہاری نیند کو راحت و سکون کا ذریعہ اور رات کو لباس کی طرح راحت کو ذریعہ نہیں بنایا ؟ کیا دن کو معاش یعنی زندگی گزارنے کے سامان کو حاصل کرنے اور جدوجہد کرنے کا وقت نہیں بنایا ؟ کیا تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان نہیں بنائے اور کیا ہم نے اس میں دہکتا اور چمکتا سورج نہیں بنایا ؟ کیا ہم نے بادلوں سے لگاربارش کو نہیں برسایا جس کے پانی سے تم غلہ اور سبزیاں اگاتے اور کھیتوں، درختوں کو سینچے ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ اللہ نے فیصلے کا ایک دن مقرر کر رکھا ہے۔ جب صور میں پھونک ماری جائے گی تم فوج در فوج زمین سے نکل آئوگے۔ آسمان کھول دیا جائے گا جس میں ہر طرف دروازے ہی دروازے ہوں گے۔ پہاڑ ریت کی طرح اڑتے پھریں گے یہ فیصلے کا دن ہوگا ۔ فرمایا کہ بیشک جہنم ان نافرمانوں کی گھات میں لگی ہوئی ہے۔ وہ جہنم جو سرکش اور ظالموں کا ٹھکانا ہوگی۔ اس میں کسی طرح کی ٹھنڈک کا سامان نہ ہوگا۔ پینے کے لئے گرم کھولتے پانی اور پیپ کے سوا کچھ نہ ہوگا یہ اسی پانی کے عذاب کو چکھیں گے یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہوگا اور یہ اس بات کی سزا ہوگی کہ وہ اس حساب اور فیصلے کے دن کی توقع ہی نہ رکھتے تھے۔ ہماری آیات کو جھٹلاتے تھے۔ فرمایا کہ ہم نے ان کی ایک ایک بات کا ریکارڈ رکھا ہوا ہے۔ ان سے کہا جائے گا کہ اب تم اس کے عذاب کو چکھو۔ تمہارے لئے اسی عذاب میں اضافہ ہی کیا جائے گا کمی نہ ہوگی۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے خوف کے ساتھ زندگی گزاری ہوگی ان کو ہر طرح کی کامیابیاں عطا کی جائیں گی ۔ حسین ترین باغ، انگور، ہم عمر اور نوخیز لڑکیاں اور چھلکتے بھر پور شراب کے جام ہوں گے وہاں کوئی لغو، فضول اور گناہ کی بات سنائی نہ دے گی۔ یہ تمہارے رب کا انعام ہوگا۔ یہ اس رب العالمین کی طرف سے کرم ہوگا جو زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے۔ اس دن اس کے سامنے کسی کو بات کرنے کی ہمت نہ ہوگی۔ اس دن جبرئیل اور فرشتے صفیں باندھے اللہ کے سامنے کھرے ہوں گے۔ کوئی کسی کی سفارش اس کی اجازت کے بغیر نہ کرسکے گا اور وہ ٹھیک ہی سفارش کرے گا یعنی اہل ایمان کے لئے ہی سفارش کرے گا۔ فرمایا کہ یہ فیصلے اور قیامت کا دن بالکل برحق ہے۔ اب جس کا دل چاہے وہ اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ بنالے۔ فرمایا کہ ہم نے تمہیں اس عذاب سے پوری طرح آگاہ کردیا ہے جو بہت دور نہیں ہے بلکہ بالکل قریب ہی آلگا ہے۔ اس دن آدمی اپنے ہر اس عمل کو اپنی نگاہوں سے دیکھے گا جو اس نے اپنے ہاتھوں کے آگے بھیجا ہے۔ فرمایا یہ وہ ہیبت ناک دن ہوگا جب کافر کہہ اٹھے گا کاش میں اس دن کو دیکھنے سے پہلے ہی مٹی ہوگیا ہوتا۔

Ayahs 78:1–40

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

وہ آپس میں کس چیز کے متعلق پوچھ رہے ہیں۔

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

(کیا) اس عظیم واقعہ کے متعلق

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جسمیں یہ لوگ مختلف باتیں کر رہے ہیں ؟

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

ہر گز نہیں۔ وہ بہت جلد مان لیں گے۔

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

ہرگز نہیں وہ بہت جلد جان لیں گے۔

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو فرش،

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

پہاڑوں کی میخیں

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

اور تمہیں جوڑے جوڑے نہیں بنایا ؟

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

کیا ہم نے تمہاری نیند کو راحت (کاذریعہ) ،

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

رات کو لباس

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور دن کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا ؟

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

کیا ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان،

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

ان میں چمکتا دھکتا سورج

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور بادلوں سے بہت زیادہ برسنے والا پانی نہیں برسایا ؟

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

تاکہ ہم اس کے ذریعہ غلہ، سبزی

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور پتوں میں لپٹے ہوئے گنجان باغ بنا دیں۔

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

بیشک (اللہ کی طرف سے) فیصلے کا ایک دن مقرر ہے

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

جس دن سور میں پھونک ماری جائے گی تو تم گروہ در گروہ بن کر آؤ گے۔

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اس دن آسمان کو کھول دیا جائیے گا اور اس میں دروازے ہی دروازے بن جائیں گے۔

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

پہاڑ اس طرح چلائے جائیں گے کہ وہ چمکتا ریت بن جائیں گے۔

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

بیشک جہنم گھات میں لگی ہوئی ہے

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

جو سرکشی اختیار کرنے والوں کا ٹھکانا ہوگی

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

جسمیں وہ ایک لمبے عرصے تک (ہمیشہ) رہیں گے۔

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

ان میں ٹھنڈک اور راحت کا کوئی سامان نہ ہوگا۔

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

ان کو سوائے گرم کھولتے پانی اور بہتی پیپ کے کچھ نہ دیاجائے گا۔

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

یہ ان کے (اعمال کا) پورا پورا بدلہ ہوگا

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

کیونکہ وہ آخرت کے حساب کا ڈر نہ رکھتے تھے

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

اور ہماری آیات کو جھٹلاتے تھے۔

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

حالانکہ ہم نے ان کے (تمام اعمال کو) محفوظ کر رکھا تھا۔

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

ان سے کہا جائے گا کہ تم (عذاب کا جہنم کا) مزہ چکھو۔ اب تمہارے اوپر ہم عذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

(اس کے برخلاف) یقینا پرہیزگاروں کو کامیابی نصیب ہوگی۔

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

باغ، انگور،

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

نوجوان ہم عمر عورتیں،

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

لبریز چھلکتے جام ہوں گے۔

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

وہاں نہ تو کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ سنیں گے۔

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

یہ آپ کے اس رب کی طرف سے کامل انعام ہوگا۔

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

جو آسمان، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے نہایت رحم کرنے والا ہے۔ کسی کی مجال نہ ہوگی کہ کوئی اس سے کلام کرسکے۔

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

(یہ وہ دن ہوگا) جب ہر جان دار اور فرشتے (اس کے سامنے) صفیں باندھے کھڑے ہوں گے۔ اس دن رحمن کی اجازت کے بغیر کوئی کلام نہ کرسکے گا ( سوائے اس کے) جو حق بات کہتا ہو۔

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

یہ دن برحق ہے۔ جو چاہے اپنے پروردگار کے پاس (اپنا) ٹھکانا بنا لے۔

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

بیشک ہم نے تمہیں قریب آنے والے عذاب سے آگاہ کردیا ہے۔ وہ دن جب آدمی اپنے اعمال کو دیکھے گا جو اسکے ہاتھوں نے آگے بھیجئے ہیں تو کافر کہے گا کاش میں (اس دن کے آنے سے پہلے ہی) مٹی ہوگیا ہوتا۔

لغات القرآن۔ عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔ باغات۔ اعناب۔ انگور۔ کو اعب۔ نوجوان عورتیں۔ اتراب۔ ہم عمر۔ کاس دھاق۔ چھلکتے جام۔ لغو۔ فضول باتیں۔ لا یملکمون۔ مالک نہ ہوں گے۔ لا یتکلمون۔ وہ کلام نہ کریں گے۔ اذن۔ اجازت دی ہوگی۔ صواب۔ ٹھیک ٹھیک ۔ اتخذ۔ بنایا۔ ماب۔ ٹھکانا۔ انذرنا۔ ہم نے آگاہ کردیا۔ ینظر۔ دیکھے گا۔ المرائ۔ آدمی۔ یلیتنی۔ اے کاش کہ میں۔ تراب۔ مٹی۔ تشریح : قریش مکہ میں سے کچھ لوگ بتوں کو اپنا سفارشی ماننے کے باوجود کسی حد تک اللہ کی ذات اور آخرت کا ایک دھندلا سا تصور رکھتے تھے۔ لیکن عقیدہ کی گندگیوں نے انہیں اور ان کی عقلوں کو اس طرح اپاہج بنا کر رکھ دیا تھا کہ جب نبی کریم ﷺ ان کے سامنے ان آیات کی تلاوت کرتے جن میں قیامت کے ہولناک دن کا ذکر ہوتا تو وہ نہ صرف ان کا مذاق اڑاتے بلکہ بڑی ڈھٹائی سے کہتے کہ ہم اور ہماری عقلیں اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گل سڑ کر چورہ چورہ ہوجائیں گے اور ہمارے جسم کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے تو ان ذرات کو کون جمع کرکے پھر سے انسان بنا دے گا ؟ اور سات آسمان، بلند وبالا پہاڑ، زمین اور اس میں بسنے والی مخلوق، چاند ، سورج اور ستارے یہ پورا نظام کائنات کس طرح ختم ہوسکتا ہے ؟ ہمیں قیامت کا گمان تو ہے مگر اس پر یقین نہیں آتا۔ کوئی کہتا کہ اصل میں زندگی تو بس اسی دنیا کی زندگی ہے ہم اسی زمین سے پیدا ہوتے ہیں اور اسی میں مرکھپ جاتے ہیں۔ ہمیں جو موت آتی ہے وہ دراصل گردش زمانہ کا نتیجہ ہے۔ کوئی کہتا کہ قیامت کا آنا ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ تھیں وہ بھانت بھانت کی بولیاں جو ہر وقت بولتے رہتے تھے اور وہ سب کسی ایک بات پر متفق نہیں تھے۔ مکہ کے گلی کوچوں میں اسی بات پر بحثیں ہوتی رہتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا وہ لوگ اسی بڑی اور عظیم الشان خبر یعنی قیامت کے بارے میں باتیں بنا رہے ہیں جو بہت جلد واقعہ ہونے والی ہے جس کا آنا شک و شبہ سے بالا تر ہے جس کی حقیقت بہت جلد ان کے سامنے آنے والی ہے۔ قیامت کے بارے میں طرح طرح کی باتیں اور کسی ایک رائے پر متفق نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ایک شدید کشمکش اور الجھن میں مبتلا ہیں جو بہت جلد دور ہونے والی ہے۔ اگر ایسے لوگ ذرا بھی نظام کائنات پر غور کرتے تو اس حقیقت کو سمجھ لینا بہت آسان ہوجاتا اور ان کی ساری الجھنیں دور ہوجاتیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے زمین کو راحت کا ذریعہ نہیں بنایا ؟ کیا ہم نے زمین کے اوپر بلند وبالا پہاڑوں کے بوجھ رکھ کر اور میخوں کی طرح گاڑ کر ہلنے اور حرکت کرنے سے محفوط نہیں بنا دیا ہے ؟ کیا ہم نے ہر چیز کو ایک دوسرے کا جوڑا عورت، مرد، مادہ اور نر نہیں بنا دیا ہے جس سے تخلیق اور پیدائش کا نظام قائم ہے ؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے نیند کو راحت کا ذریعہ بنا دیا جس سے وہ تازہ دم ہو کر پھر سے کام کاج کے قابل بن جاتے ہیں۔ کیا ہم نے ہی رات کو لباس کی طرح آرام دینے والا اور دن کو روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بنا دیا ؟ کیا وہ اپنے سروں پر سات آسمانوں کے مضبوط نظام کو نہیں دیکھتے جس کی وجہ سے نظام کائنات قائم ہے۔ کیا وہ اس سورج کو نہیں دیکھتے جس کو ہم نے دھکتا ہوا روشن چراغ بنایا ہے ؟ جس سے حرات اور روشنی حاصل ہوتی ہے۔ کیا وہ ان برسنے والی بارشوں کو نہیں دیکھتے جو برسنے کے بعد غلہ، اناج، سبزہ، سبزی، لہلہاتے کھیت اور باغوں کو ایک نئی رونق اور تازگی دیتی ہیں ؟ فرمایا کہ یہ ہے وہ نظام کائنات جسے اللہ چلا رہا ہے وہ قدر مطلب ہے۔ وہی اللہ جس نے ان تمام چیزوں کو اور انسانوں کو پیدا کیا ہے وہ دوسری مرتبہ ان کو پیدا کیوں نہیں کرسکتا ؟ فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے آنے میں شک کریں یا نہ کریں اللہ نے اس کا ایک دن مقرر کردیا ہے۔ وہ فیصلے کا دن ہوگا جیسے ہی صور میں پھونک ماری جائے گی تمام نظام کائنات درہم برہم ہوجائے گا۔ ہر شخص اور ہر جان دار پر موت طاری ہوجائے گی اور جب دوسری مرتبہ صور میں پھونک ماری جائے گی تو پھر سارے انسان اور جان دار دوبارہ جی اٹھیں گے۔ لوگ اپنے مدفن سے گروھوں کی شکل میں دوڑتے ہوئے اللہ کی طرف آنا شروع ہوجائیں گے۔ آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں گے اور بلند وبالا مضبوط پہاڑ چمکتے ریت کی طرح اڑتیپھریں گے۔ فرمایا کہ لوگو ! جہنم اور اس کے فرشتے بھی اسی طرح تمہارے آنے کے منتظر ہیں کہ تمہیں جہنم تک پہنچا دیں جس میں ہر شخص کو ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے۔ وہ جہنم جس میں ٹھنڈک اور راحت کا کوئی سامان نہ ہوگا۔ اس میں کھولتا گرم پانی اور بہتی پیپ کے سوا کچھ بھی نصیب نہ ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اس بات کی امید ہی نہ تھی کہ ایک دن ان سے ان کی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب لیا جائے گا اور وہ ہمیشہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے رہے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے ان کی ایک ایک بات اور عمل کو محفوط رکھا ہوا تھا۔ جس کی ان کو یہ سزا دی جا رہی ہے۔ ان سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ یعنی عذبا کا مزہ چکھیں اور اس طرح ہم عذاب پر عذاب بڑھاتے ہی چلے جائیں گے۔ ان لوگوں کے برخلاف جنہوں نے تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گزاری ہوگی ان کو ہر طرح کی کامیابیاں عطا کی جائیں گی۔ خوبصورت ہرے بھرے انگوروں کے باغات، ہم عمر بیویاں، شراب کے لبریز اور چھلکتے جام دئیے جائیں گے۔ وہاں ہر طرف سلامتی ہی سلامتی ہوگی۔ کوئی لغو، فضول، جھوٹ اور بےہودہ بات نہ سنیں گے۔ یہ درحقیقت اللہ کی طرف سے انکے بہترین اعمال کا بدلہ ہوگا۔ قیامت کے دن روح القدس جبرئیل امین اور تمام فرشتے آسمانوں، زمین اور اس کے درمیان کی ہر چیز کے پروردگار کے سامنے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے اس دن رب العالمین کی اجازت کے بغیر کسی کو بات تک کرنے کی ہمت نہ ہوگی جو بات بھی کی جائے گی وہ برحق اور سچی بات ہی کی جائے گی اس کے سوا کسی کو کوئی بات کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ یہ ہے وہ سچا اور برحق دن جس کا اللہ نے وعدہ کیا تھا۔ فرمایا کہ ہم نے پہلے ہی اس عذاب سے لوگوں کو آگاہ اور خبردار کردیا تھا کہ ہر انسان اپنے آگے بھیجئے ہوئے ہر عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ اس دن ہر کافر کی زبان پر یہی ہوگا کہ کاش میں آج کا دن دیکھنے سے پہلے ہی خاک میں مل گیا ہوتا۔